Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • چہروں سے پتہ چلتا  آپ بے بس، دعا کرتے ہیں کہ مغوی  گھر واپس آئے،عدالت

    چہروں سے پتہ چلتا آپ بے بس، دعا کرتے ہیں کہ مغوی گھر واپس آئے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ ، تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس امجد رفیق نے درخواست پر سماعت کی،سیکریٹری داخلہ پنجاب نورالامین مینگل، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران و دیگر عدالت میں پیش ہوئے،سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ پیر والے دن عدالتی حکم پر جیو فینسنگ کا ڈیٹا حاصل کیا گیا، جیو فینسنگ کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کہ ایجنسیوں کے نمبر سامنے آتے ہی نہیں یا آجاتے ہیں؟ جس پر سیکریٹری داخلہ پنجاب نے عدالت میں کہا کہ اگر کال وٹس ایپ پر کی جائے تو نمبر آجاتا ہے، ریگولر نمبر پر کی جائے تو نہیں آتے،ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹر شہباز گل کے بھائی کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔

    جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ آپ کے چہروں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بے بس ہیں، ہم اللّٰہ سے دعا کرتے ہیں کہ مغوی خیر و عافیت سے گھر واپس آئے،عدالت نے پولیس کو شہباز گل کے بھائی کو بازیاب کروانے کا حکم دے دیا،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہباز گل کے بھائی غلام شبیر کو اسلام آباد جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا، شہباز گل کے بھائی کی جان کو خطرہ ہے، عدالت بازیاب کروانے کا حکم دے,لاہور ہائی کورٹ نے مزید سماعت 18 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے لیےنامزد

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے لیےنامزد

    اسلام آباد،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس عالیہ نیلم کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے لیےنامزد کردیا گیا،جسٹس عالیہ نیلم کے نام کی منظوری متفقہ طور پر دی گئی

    پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہوں گی،جسٹس عالیہ نیلم نے
    1995 میں پنجاب یونیورسٹی سےایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ہے،جسٹس عالیہ نیلم نے یکم فروری 1996 کو بطور وکیل اندراج کیا۔

    عدالتی تاریخ میں پہلی بار سینئر ترین جج کو چیف جسٹس مقرر کرنے کی بجائے ٹاپ تھری ججز میں سے چیف جسٹس کا انتخاب ہوا،جوڈیشل کمیشن کے ممبران کی اکثریت حاصل کرنے والے امیدوار کوچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نامزد کیا گیا،لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کےلیے 3 ناموں پر غور کیا گیا تھا،جن میں جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عالیہ نیلم شامل تھے

    لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد سپریم کورٹ کے جج تعینات کئے گئے تھے ، جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں اب خاتون چیف جسٹس کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے.

  • شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کیس،عدالت کا وزیراعلیٰ کو طلب کرنے کا عندیہ

    شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کیس،عدالت کا وزیراعلیٰ کو طلب کرنے کا عندیہ

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا

    لاہور ہائیکورٹ میں شہباز گل کے بھائی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے شہباز گل کے بھائی غلام شبیر کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل سمیت متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب کو کل طلب کرلیا،عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ مسترد کر دی،

    دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شہباز گل کے بھائی غلام شبیر کو اسلام آباد جاتے ہوئے پولیس نے حراست میں لیا، پولیس غلام شبیر سے متعلق کچھ نہیں بتا رہی، شہباز گل کے بھائی کی جان کو خطرہ ہے، عدالت بازیاب کروانے کا حکم دے،لاہور ہائیکورٹ نے مغوی کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کل مغوی کو اور تفصیلی رپورٹ پیش کریں، اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعلی کو بھی طلب کیا جائیگا، جبری گمشدگیاں آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں پنجاب حکومت اس حوالے سے اپنا پالیسی بیان دے، یہ کیا طریقہ ہے کہ کیسز سے ضمانت ملے تو اسے اٹھا لو

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر  فریقین کو نوٹسز جاری

    بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے پی ٹی آئی پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی ، لارجر بینچ میں جسٹس شاہد کریم، جسٹس شہرام سرور چوہدری ، جسٹس جواد حسن اور جسٹس رسال حسین شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لینے کا اقدام غیر قانونی تھا،درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائےالیکشن ایکٹ کےسیکشنز 215 ،209 اور 208 سمیت دیگر کو آئین سےمتصادم قرار دیا جائے۔

    ریٹائرڈ ججز کی بطور الیکشن ٹربیونل تعینات کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکا جائے، پاکستان تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان دوبارہ الاٹ کیا جائے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن ایکٹ کی پارٹی کا انتخابی نشان واپس لینے والی شقیں چیلنج کریں، وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 17 کہتا ہے سیاسی جماعت پر دو حوالوں سے پابندی لگائی جا سکتی ہے، پاکستان کی سالمیت اور بقا کی بنا پر کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے سپریم کورٹ میں تقرری پر الوداعی تقریب

    بعدازاں عدالت عالیہ نے بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتےہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

  • حساس ادارے سے متعلق جج کے خطوط سپریم کورٹ بھجوانے کا حکم

    حساس ادارے سے متعلق جج کے خطوط سپریم کورٹ بھجوانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے حساس ادارےکے آفیسر کی جانب سے سرگودھا کے جج کو فون کرنے سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا۔

    باغی ٹی وی : حساس ادارے آئی ایس آئی کی جانب سےانسداد دہشت گردی (اے ٹی سی) سرگودھا کے جج کو ہراساں کرنے کے ازخود نوٹس پر لاہور ہائیکورٹ نے آر پی او سرگودھا، ریجنل آفیسر سی ٹی ڈی سمیت دیگر پولیس افسران کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس نے ازخود نوٹس کیس کو جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں ارسال کردیا،عدالت نے آر پی او سرگودھا، ریجنل آفیسر سی ٹی ڈی، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے 27 جون تک وضاحت طلب کرلی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے کیس آئندہ سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں مقرر کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے اے ٹی سی جج کے خطوط سپریم کورٹ کے بینچ میں بھجوانے کا بھی حکم دیا، جبکہ جسٹس شاہد کریم 27 جون سے کیس پر سماعت کریں گے۔

    دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنا اقوام متحدہ اور اس کے تمام ارکان …

    واضح رہے کہ اے ٹی سی سرگودھا کے جج نے حساس ادارے کی جانب سے ہراساں کرنے اور عدالت کے باہر فائرنگ پر لاہور ہائیکورٹ کو خط لکھا تھا جس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے خطوط پر از خود نوٹس لیا تھا، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ حساس ادارے کے افسر نے ان سے ملنے کی درخواست کی تھی۔

    گلوکار ملکو کا نام پی این آئی ایل لسٹ سے نکلوانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ …

    لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کو 7 جون کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد عباس کی جانب سے ایک خصوصی رپورٹ موصول ہوئی، جس میں انہوں نے کہا کہ 25 مئی کو اے ٹی سی سرگودھا کے جج کی حیثیت سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے پہلے ہی دن انہیں ایک پیغام پہنچایا گیا کہ حساس ادارے کے کچھ حکام ان کے چیمبر میں ملنا چاہتے تھے، تاہم جج نے ملنے سے انکار کردیا، تب سے انہیں اور ان کی فیملی کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جارہا ہے، رات کے وقت کچھ نامعلوم افراد نے ان کی رہائش گاہ کے باہر سوئی گیس میٹر کو نقصان پہنچایا۔

    بجٹ پر تحفظات:بلاول بھٹو نے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کی دعوت قبول کرلی

  • ریٹائرڈ ججز کی بطور الیکشن ٹربیونل تعینات کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    ریٹائرڈ ججز کی بطور الیکشن ٹربیونل تعینات کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ ججز کو بطور الیکشن ٹربیونل تعینات کرنے کے آرڈیننس کے خلاف دائر درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 26 جون تک ملتوی کر دی۔

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ میں ریٹائرڈ ججز کو بطور الیکشن ٹربیونل تعینات کرنے کے آرڈیننس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے سنی اتحاد کونسل کے رہنما سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت لاہور ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ ججز کی بطور الیکشن ٹریبونل تعیناتی آرڈیننس کے خلاف دائر درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرلیا ۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے نامزد ججز بطور ٹربیونل تعینات کرنے کا فیصلہ دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ نے حکم جاری کیا کہ الیکشن کمیشن ہائیکورٹ کے نامزد کردہ جج بطور ٹربیونل تعینات کرنے کا پابند ہے، الیکشن آرڈیننس 2024 لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کمزور کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

    دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنا اقوام متحدہ اور اس کے تمام ارکان …

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ریٹائرڈ ججز کو بطور الیکشن ٹربیونل قائم کرنے والے الیکشن آرڈیننس 2024 کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور آرڈیننس کے تحت پنجاب میں ریٹائرڈ ججز کی بطور الیکشن ٹریبونل تعیناتی کو غیر آئینی قرار دیا جائے،درخواست کے حتمی فیصلے تک، ریٹائرڈ ججز کو بطور الیکشن ٹریبونل قائم کرنے سے روکا جائے،لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 26 جون تک ملتوی کر دی۔

    گلوکار ملکو کا نام پی این آئی ایل لسٹ سے نکلوانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ …

  • لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے سپریم کورٹ میں تقرری پر الوداعی تقریب

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے سپریم کورٹ میں تقرری پر الوداعی تقریب

    لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کے سپریم کورٹ آف پاکستان میں تقرر کے بعد الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کے اعزاز میں رسمی الوداعی تقریب ہائی کورٹ کے ججز لاؤ نج میں منعقد کی گئی، جس میں جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عالیہ نیلم سمیت لاہور ہائیکورٹ پرنسپل سیٹ پر تعینات تمام ججز نے شرکت کی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے علاقائی بنچز پر فرائض انجام دینے والے ججز بذریعہ ویڈیو لنک الوداعی تقریب میں شریک تھے رسمی الوداعی تقریب کے بعد چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کو گلدستہ پیش کرکے رخصت کیا گیا۔

    یہاں ایک دوسرے پرگالم گلوچ ہوتی ہے،ہم چاہتے ہیں احترام ہو،چیف جسٹس

    بھارت میں زہریلی شراب پینے سے 25 افراد ہلاک ،68 کی حالت غیر

    دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنا اقوام متحدہ اور اس کے تمام ارکان …

  • گلوکار ملکو کا نام  پی این آئی ایل لسٹ سے نکلوانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    گلوکار ملکو کا نام پی این آئی ایل لسٹ سے نکلوانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    لاہور: گلوکار محمد اشرف عرف ملکو نے اپنا نام پی این آئی ایل لسٹ سے نکلوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : گلوکار ملکو کی جانب سے نے درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی، لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہےدرخواست گزار کا موقف ہے کہ ان کا نام مارچ 2024 کو پی این آئی لسٹ میں ڈالا گیا جبکہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہےگلوکار ملکو کو میوزک کنسرٹ کے لیے برطانیہ جانا تھا ان کا نام غیر قانونی طور پر پی این آئی ایل لسٹ میں شامل کیا گیا، ملکو نے استدعا کی کہ عدالت ان کا نام پی این آئی ایل لسٹ سے نکالنے کا حکم دے۔

    ناسا کی متعدد یونیورسٹی اور اداروں کے اشتراک سے مصنوعی ستارہ خلا میں لانچ کرنے …

    بلاول بھٹو زرداری کی لنڈی کوتل میں صحافی خلیل جبران کے قتل کی مذمت

    مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کیلئے گرینڈ آپریشن …

  • چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف شکایت درج

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف شکایت درج

    لاہور: ‏چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد کے خلاف شکایت درج کرا دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ‏لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد کے خلاف جوڈیشل کونسل میں شکایت بھجوادی گئی، ‏جوڈیشل کونسل کو شکایت رفاقت علی تنولی نے بذریعہ رجسٹری بھجوائی،شکایت میں کہا گیا کہ ‏جسٹس ملک شہزاد ملک میرے بیٹے کے بہمانہ قتل کے انصاف کے عمل میں رکاوٹ بنے، ‏جسٹس شہزاد ملک نے اپنے آفس اور عہدے کا غلط استعمال کیا، ‏جسٹس شہزاد ملک نے مس کنڈیکٹ کیا کونسل برطرف کرے۔

    ‏درخواست گزار رفاقت علی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف شکایت اندراج کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‏جسٹس شہزاد ملک کے خلاف 29 مئی کو شکایت جوڈیشل کونسل کو رجسٹری ارسال کی۔

    یو اے ای میں چھٹی صدی عیسوی کا قدیم گمشدہ شہر دریافت

    آن لائن منگوائی گئی آئسکریم میں کنکھجورا نکل آیا

    اسلام آباد اور لورالائی کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

  • لاہور ہائیکورٹ کا ایس پی ماڈل ٹاون  اور اے ایس پی عبداللہ کو معطل کرنیکا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا ایس پی ماڈل ٹاون اور اے ایس پی عبداللہ کو معطل کرنیکا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نےغلام شبیر کو بازیاب نہ کرنے کےخلاف درخواست کاتحریری فیصلہ جاری کیا ہے
    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ غلام شبیر کو بازیاب نہ کرنے کےخلاف درخواست پر جسٹس امجد رفیق نے دوصفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب ،ایس پی ماڈل ٹاون اخلاق اور اے ایس پی عبداللہ کو معطل کریں،آئی جی سینئیر پولیس افسر کو تعینات کرے جومغوی کی بازیابی کی رپورٹ پیش کرے،عدالتی فیصلے پر ایس پی نے عدالت سے غیرمشروط معافی مانگی،ایس پی نے آئندہ سماعت تک مغوی کی ہرصورت بازیابی کے لئے عدالت کویقین دہانی کرائی، عدالت نےمغوی کی بازیابی کےلئے ایس پی کے بیان پراسے ایک اور موقع دے دیا،آئی جی پنجاب ایس پی اخلاق کی مغوی کی برآمدگی کی کوشش اورنگرانی کےلئے سینئیرافسرتعینات کرے، مغوی کو بازیابی کے لئے گھر سے فیصل آباد اور اسلام تک جدید آلات کااستعمال کرکے ڈھونڈا جائے ،مغوی کوجیوفینسنگ،سی سی ٹی وی کیمروں،سیف سٹی، موٹروے اور دیگر ذرائع سے اگلی سماعت تک ٹریس کیا جائے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مغوی کی بازیابی کےلئے میڈیا کا ذرائع بھی استعمال کیا جائے،عدالت نے10جون کو مغوی کی بازیابی کا حکم دیا،تحریری فیصلے می کہا گیا کہ اے ایس پی مغوی کی بازیابی کے لئے عدالت کو مطمئن نہ کرسکا۔عدالتی حکم پرایس پی اخلاق نے پیش ہو کر عدالت کے سامنے سرد مہری کامظاہرہ کیا ،ایس پی نے معصومیت سے کہا کہ اگر درخواست گزار پولیس سے تعاون کرے تو مغوی کوب ازیاب کرانے کی کوشش کی جائے گی، پولیس افسروں کا رویہ واضع طور پرعدالتی حکم عدولی ہے،پولیس نے 4 دنوں میں مغوی کی بازیابی کے لئے کوشش ہی نہیں کی۔