Baaghi TV

Tag: لاہور

  • بسنت کے موقع پر لاہور میں کتنی گاڑیاں داخل ہونے کا امکان ہے؟

    لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول پر لاکھوں گاڑیاں کے داخل ہونے کا امکان ہے۔

    بسنت کے موقع پر شہرِ لاہور میں تقریبا 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں10 ہزار پولیس اہلکار اور 2500 ٹریفک وارڈنز تعینات ہوں گے چیف ٹریفک آفیسر نے پورے پاکستان کو لاہور میں بسنت منانے دعوت بھی دی ہےشہر کے داخلی راستوں کے علاوہ ریڈ زون میں سیف سٹی کیمروں سے براہِ راست مانیٹرنگ کی جائے گی ٹریفک انتظامات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔

    چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اطہر وحید کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری جبکہ ریڈ زون کی چھتوں پر کیمرے نصب کر کے آپریشنل کیے جائیں گے جن کی مدد سے براہ راست مانیٹرنگ ہوگی،ایس پی آپریشنز سیف سٹی محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ریسکیو اور پولیس سمیت 15 محکموں کی مشترکہ ٹیمیں متحرک رہیں گی، شہری قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو بسنت فیسٹیول مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔

    دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران موٹرسائیکل پر پابندی ہوگی، شہری فری ٹرانسپورٹ استعمال کریں،بسنت کے دوران شہری کم سے کم گاڑیوں کو سڑکوں پر لائیں اور فری حکومتی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ آلودگی میں مزید کمی لائی جا سکے، موٹر سا ئیکل پر پابندی ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ ان تمام اقدامات کا مقصد بسنت کو محفوظ، منظم اور آلودگی سے پاک ماحول میں منانا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر سموگ کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ اور جی ایس میپنگ کے ذریعے آلودگی پر مؤثر کنٹرول کیا جا رہا ہے، لاہور میں فضائی آلودگی کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 173 ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ بہتری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شر یف کے انسدادِ سموگ اقدامات اور عوامی تعاون کا نتیجہ ہے جس کے باعث مقامی آلودگی پر مؤثر حد تک قابو پایا جا سکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتی سیاسی عزم اور عوامی تعاون سے ماحولیاتی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ آلودگی کے اسباب کے خاتمے کے لیے جامع ملٹی سیکٹورل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے، تمام صنعتی چمنیوں کی ای پی اے کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، سموگ کنٹرول روم مکمل طور پر فعال ہے اور ڈرونز و سی سی ٹی وی کی مدد سے کڑی مانیٹرنگ جاری ہے، بھٹوں، صنعتی یونٹس اور گاڑیوں کے اخراج پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے اور خلاف ورزیو ں پر قانونی کارروائیاں کی جائے گی جبکہ فیلڈ ٹیمیں بھی مکمل طور پر متحرک ہیں حکومت کا ہدف پورا سال بہتر اے کیو آئی برقرار رکھنا ہے، انہوں نے بزرگوں اور بیمار شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لبرٹی چوک کا دورہ کیا اور شہریوں سے براہِ راست ملاقات کی۔

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لبرٹی چوک پہنچ گئیں، جہاں انہیں دیکھتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں،مریم نواز نے اپنی گاڑی روک کر شہریوں کو ہاتھ ہلایا اور ان سے گفتگو کی ،چھوٹے بچوں کو پیار دیااس دوران انہوں نے موٹر سائیکل سوار وں کو حفاظتی اقدامات اپنانے کی ہدایت کی اور ایک موٹر سائیکل سوار کو سیفٹی راڈ لگانے کا کہا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی نہیں، تاہم سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں موٹر سائیکل بند کر دی جائے گی، حفاظتی اقدامات کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے وزیراعلیٰ کی موجودگی پر شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی اور شہریوں نے پنجاب حکومت کے مختلف منصوبوں کو سراہا۔

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

  • پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس پر عوامی تحفظ، ریاستی رِٹ اور قانون کی عمل داری کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے گزشتہ چند برسوں میں اس ادارے میں جو مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، ان کے پس منظر میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ڈاکٹر عثمان انور کے دورِ قیادت میں پولیس اصلاحات محض کاغذی دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر ان کے اثرات نمایاں ہوئے۔ صوبے بھر میں نئے تھانوں کا قیام، پرانے تھانوں کی مرمت اور انہیں عوام دوست، صاف ستھرا اور باوقار ماحول فراہم کرنا ایک ایسا قدم تھا جس نے پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، تھانہ کلچر میں بہتری دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

    تاہم، ان تمام اقدامات میں سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو پولیس شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے کیے گئے اقدامات ہیں شہداء کی فیملیز کی مالی معاونت، فلاح و بہبود اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے کیے گئے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس فورس کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان سمجھ کر لیڈ کیا۔ اسی طرح پنجاب پولیس کے ماتحت عملے کی ترقیوں اور کیریئر اسٹرکچر میں بہتری نے فورس کے مورال کو بلند کیا۔

    ریاستی رِٹ کے استحکام اور حکومتِ پنجاب کی عمل داری کو مضبوط بنانے میں بھی پولیس کے کردار کو مؤثر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کو زمینی حقائق میں بدلنے میں ڈاکٹر عثمان انور نے ایک کلیدی کردار ادا کیا اسی تسلسل میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا کردار بھی غیر معمولی رہا۔

    ڈی جی سیف سٹی احسن یونس کی قیادت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے پنجاب کو ایک کنٹرول روم سے مانیٹر کرنے کا نظام قائم ہونا ایک انقلابی قدم تھا۔ سیف سٹی کیمروں، ڈیٹا اینالیسس اور فوری رسپانس میکانزم نے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد دی بلکہ پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس ضمن میں ڈی جی سیف احسن یونس کا کردار بھی قابلِ قدر رہا، جنہوں نے اس نظام کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ ممکن ہے تین سالہ دور میں بعض فیصلے تنقید کی زد میں آئے ہوں، لیکن مجموعی طور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پنجاب پولیس نے بہتری کی سمت میں واضح پیش رفت کی، اب جبکہ پنجاب پولیس کو نئی قیادت میسر ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اصلاحات کا یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا، پولیس شہداء، فورس کے جوانوں اور عوام کے اعتماد کو مرکز میں رکھ کر اگر یہی سمت برقرار رہی تو پنجاب پولیس واقعی ایک جدید، باوقار اور عوام دوست ادارے کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر سکے گی۔

  • بسنت فیسٹیول:لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    بسنت فیسٹیول:لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ بسنت منانے کے حوالے سے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس ملک اویس خالد نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا، عدالت نے مزید سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی،عدالت نے بسنت میں ریڈ وزن والے پارکوں میں میڈیکل سہولیات کیمپ قائم کرنے کا حکم دے دیا، بسنت کے فیسٹول کے دوران تمام فریقین عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، ایمرجنسی صورتحال میں تمام سہولیات کو فعال رکھا جائے، اے ڈی سی جی نے تین اسپتال موبلائزڈ کرنے کی رپورٹ پیش کی۔

    فیلڈ مارشل نے مسئلہ کشمیر پرجس عزم کا اظہار کیا،وہ سچ کردکھایا

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق بسنت کے تہوار کو شہریوں کے لیے محفوظ بنانے کے مقصد سے لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے بھرپور آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز کی ہدایت پر شہر بھر میں بسنت سیفٹی مہم زور و شور سے جاری ہے۔

    آگاہی مہم میں اسسٹنٹ کمشنرز، لاہور پولیس، ٹریفک پولیس، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں بھرپور انداز میں حصہ لے رہی ہیں۔ اندرون شہر کے علاوہ ٹھوکر نیاز بیگ، جلو موڑ، رائے ونڈ، صدر، کینٹ اور ماڈل ٹاؤن سمیت شہر کے تمام علاقوں میں مہم جاری ہے۔

    نواز شریف اورمریم نواز سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    شہریوں کو پتنگ بازی کے دوران حفاظتی اقدامات اختیار کرنے، سیفٹی وائر کے استعمال اور دھاتی ڈور سے مکمل اجتناب کی تلقین کی جا رہی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے مختلف مقامات پر سیفٹی راڈز کی تنصیب اور تقسیم بھی کی جا رہی ہے۔

    تمام تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے آگاہی کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ مساجد کے پیش اماموں کے ذریعے بسنت سیفٹی ایس او پیز سے متعلق اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں جبکہ شہر کے اہم مقامات پر آگاہی بینرز اور پیغامات آویزاں کیے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے خطرناک اور کمزور عمارتوں کی چھتوں پر پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے سخت نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دھاتی ڈور اور دیگر غیر محفوظ سرگرمیوں سے دور رکھیں۔

    بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کامیاب قرار

    ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز نے واضح کیا ہے کہ بسنت کو خونی کھیل بنانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ، اونچی آواز میں موسیقی اور خطرناک سرگرمیوں سے اجتناب کریں اور محفوظ بسنت منانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

  • لاہور: جنرل اسپتال کی چوتھی منزل سے لڑکی نے چھلانگ لگا دی

    لاہور: جنرل اسپتال کی چوتھی منزل سے لڑکی نے چھلانگ لگا دی

    لاہور کے جنرل اسپتال کی او پی ڈی کی چوتھی منزل سے 25 سالہ لڑکی نے چھلانگ لگا دی۔

    متاثرہ لڑکی عائشہ ولد محمد نواز کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے پولیس کے مطابق عائشہ اس وقت میڈیکل یونٹ 2 میں زیرِ علاج تھی،مریضہ گرنے کے نتیجے میں زخمی ہوگئیں جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے سرجیکل ایمرجنسی میں منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس نے بتایا کہ لڑکی نے ذہنی توازن درست نہ ہونے کی وجہ سے چھلانگ لگائی۔ خوش قسمتی سے اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    بسنت کے دنوں میں لاہور کا موسم کیسا رہے گا؟

    پی ایس ایل 11: کھلاڑیوں کی ریٹینشن اور ریلیز کی فہرستیں جاری کر دیں

  • بسنت کے دنوں میں لاہور کا موسم کیسا رہے گا؟

    بسنت کے دنوں میں لاہور کا موسم کیسا رہے گا؟

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ بسنت کے دنوں میں لاہور میں پتنگ بازی کے لیے موزوں ہوائیں چلیں گی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 6 اور7 فروری کو لاہور میں موسم خشک اور آسمان صاف رہے گا جبکہ 8 فروری کو مطلع جزوی طور پر ابر آلود ہوگا، 10 سے 15 کلومیٹرکی رفتار سے مغربی ہوائیں چلیں گی بسنت کے دنوں میں لاہور کا کم سےکم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ رہنےکا امکان ہے، پتنگ باز بجلی کی تاروں سے بچ کر پتنگ اڑائیں۔

    واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں بسنت کا اعلان کر رکھا ہے اور اس حوالے سے عوام میں بے حد جوش و خروش دیکھا جا رہا ہےپتنگ اور ڈور کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں لیکن اس کے باوجود لاہور کے شہری بڑی تعداد میں پتنگ بازی کا سامان خرید رہے ہیں۔

  • بسنت فیسٹیول: آئی جی پنجاب پولیس کا ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کا حکم

    بسنت فیسٹیول: آئی جی پنجاب پولیس کا ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کا حکم

    لاہور :انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم نے بسنت کے محفوظ اور پُرامن انعقاد کے لیے ضابطۂ اخلاق کی سختی سے پابندی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ صرف رجسٹرڈ پتنگ فروشوں کو ہی منظور شدہ پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے لاہور پولیس کو ہدایت کی کہ پتنگوں اور ڈور کی خرید و فروخت، نیز بسنت سے متعلق حکومتی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    راؤ عبدالکریم نے واضح کیا کہ بسنت کے موقع پر ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، فحاشی اور غیر اخلاقی رویوں پر قانون فوری حرکت میں آئے گاصوبہ بھر میں انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے، جبکہ لاہور میں بھی سخت حکومتی شرائط اور قوانین کے تحت صرف مخصو ص دنوں میں ہی بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت صوبہ بھر میں انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 150 مقدمات درج کیے گئے اور 157 ملزمان کو گرفتار کیا گیا کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 39 ہزار 667 غیر منظور شدہ پتنگیں اور 248 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں غیر قانونی پتنگوں اور ڈوروں کے کاروبار میں ملوث 67 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 7 ہزار سے زائد پتنگیں اور 41 ڈور چرخیاں برآمد ہوئیں،رواں سال صوبہ بھر میں دھاتی ڈور اور غیر قانونی پتنگوں کے کاروبار میں ملوث 3 ہزار 998 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ان کے قبضے سے 3 لاکھ 25 ہزار سے زائد پتنگیں اور 7 ہزار 374 ڈور چرخیاں برآمد کی گئی ہیں۔

  • لاہور:بسنت کی تیاریاں،ٹریفک پولیس نے خصوصی اقدامات شروع کر دیئے

    لاہور:بسنت کی تیاریاں،ٹریفک پولیس نے خصوصی اقدامات شروع کر دیئے

    بسنت کی آمد کے موقع پر لاہور میں ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت اور سڑکوں پر روانی کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق، بسنت کی تقریبات کے دوران شہریوں کی موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈ لگانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 7 لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز شہریوں کی موٹرسائیکلوں پر نصب کیے جا چکے ہیں،شہر کے مختلف انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر بھی ٹریفک پولیس کی ٹیمیں تعینات ہیں تاکہ موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگائے جا سکیں اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھا جا سکے،بسنت کے دنوں میں سڑکوں پر آمد و رفت اور گہما گہمی کے پیش نظر جامع ٹریفک پلان ترتیب دیا جا رہا ہے۔

    ڈاکٹر اطہر وحید نے مزید کہا کہ زونل افسران کی نگرانی میں تمام ڈویژنل ایس پیز اور سرکل افسران لمحہ بہ لمحہ ٹریفک کی صورتحال کی رپورٹ فراہم کریں گے، سیف سٹی میں تعینات ٹریفک سٹاف جدید ٹیکنالوجی اور کیمروں کی مدد سے ٹریفک جام کے مقامات کی نشاندہی کرے گا اور فوری ایکشن لیا جائے گا،زیادہ رش والے اوقات میں ٹریفک ریسپانس یونٹ فوری رپورٹ کے ذریعے مسائل کے حل کو یقینی بنائے گا۔ 6، 7اور 8 فروری کو ملک بھر سے لاہور بسنت کی خوشیوں میں شریک ہونے آئیں گے۔

    سی ٹی او لاہور نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ بسنت ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ وہ بسنت کے رنگوں سے محفوظ اور خوشگوار انداز میں محظوظ ہو سکیں۔

    سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد پنجاب حکومت نے بڑا قدم اٹھالیا، بسنت کے دوران لاہور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جاری تمام ترقیاتی کام روکنے کا فیصلہ کرلیا گیا، شہر بھر میں تمام پراجیکٹ سائٹس کو "نو گو ایریا” قرار دے دیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی پراجیکٹ سائٹس میں صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی، تمام پراجیکٹ سائٹس کو مکمل کور کرنے اور لائٹس یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی ہے پنجاب میں مین ہولز کے ایس او پیز سے متعلق قانون سازی مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف انجینئر ٹیپا کا کہنا ہے کہ بھاٹی چوک سے موہنی روڈ تک 2 دن میں کام مکمل کرلیا جائے گا۔

    ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ واسا کے ترقیاتی کام بسنت کے دوران روک دیے جائیں گے، لاہور میں واسا مین ہولز کی تعداد 3 لاکھ 37 ہزار جبکہ صوبہ بھر میں 12 لاکھ سے زائد ہے۔

    بسنت کے موقع پر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات شروع کر دیے ہیں،کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق 6، 7 اور 8 فروری کو ہونے والے بسنت کے تہوار کے لیے ڈرون کیمروں کے ذریعے چھتوں کی انسپیکشن جاری ہے، جبکہ ہر اس چھت کا رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے جہاں پتنگ بازی کی میزبانی کی جائے گی۔

    کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ کوئیک ریسپانس ٹیمیں ہر میزبان مقام اور روف ٹاپ پر این او سی کی جانچ کریں گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی،انتظامیہ کے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق صرف وہی چھتیں پتنگ بازی کے لیے رجسٹرڈ ہو سکیں گی جو طے شدہ ضوابط پر پورا اتریں گی،ایس او پیز کے تحت مخصوص تعداد سے زائد افراد کے اکٹھ کے لیے این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا،شہریوں کی جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کا خیال رکھیں۔

    مشنر مریم خان کے مطابق بسنت کے ضابطہ اخلاق اور قوانین سے متعلق تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم بھی جاری ہے تاکہ نوجوان نسل میں ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیا جا سکے ریڈ زون سمیت لاہور کے تمام علاقوں میں سیل پوائنٹس کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک 2 ہزار 276 سے زائد سیلرز کو این او سی جاری کیے جا چکے ہیں باشعور اور ذمہ دار شہری، مؤثر انتظامی کاوشوں کے ساتھ مل کر بسنت جیسے خوبصورت تہوار کے محفوظ اور مثبت احیا کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

  • لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک

    لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پنجاب کے زیادہ تر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا، تاہم نارووال، سیالکوٹ اور جہلم میں بارش متوقع ہے جبکہ مری، گلیات اور گردونواح میں بارش کے ساتھ برفباری کا امکان ہےاس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے اضلاع ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، کوہستان، دیر اور سوات میں بھی چند مقامات پر بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہےگلگت بلتستان میں بھی بعض علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے۔

    دوسری جانب لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک ہو گئی ہے۔ عالمی سطح پر آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور ساتویں نمبر پر آ گیا ہے۔ شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 184 ریکارڈ کیا گیا ہے ڈی ایچ اے فیز ایٹ میں سب سے زیادہ اے کیو آئی 423 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ وحدت روڈ کے علاقے میں 348 اور ٹھوکر نیاز بیگ میں 324 اے کیو آئی ریکارڈ ہوا۔

  • قصور،شیخوپروہ،فیصل آباد اور ملتان میں پتنگ سازی کی اجازت،پتنگ بازی ممنوع

    قصور،شیخوپروہ،فیصل آباد اور ملتان میں پتنگ سازی کی اجازت،پتنگ بازی ممنوع

    قصور
    پنجاب کابینہ نے لاہور کے ساتھ مذید چار اضلاع میں پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے کی اجازت دے دی ہے
    لاہور، فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں اب رجسٹرڈ مینوفیکچررز پتنگ اور ڈور تیار کر سکیں گے لیکن صرف لاہور میں رجسٹرڈ ٹریڈرز کے ذریعے فروخت کی اجازت ہوگی
    یہ فیصلہ پنجاب کابینہ نے بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے محفوظ انتظامات کے لئے کیا ہے
    اس فیصلے پر عوام میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا
    کچھ شہریوں نے اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا اور نوجوانوں میں مصروفیت بڑھے گی تاہم اکثر لوگوں نے اس اقدام کی مخالفت کی اور کہا کہ پتنگ بازی کے دوران حادثات اور بچوں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے لہٰذا اس فعل کو محدود اور سخت نگرانی کے ساتھ ہونا چاہیے
    کابینہ کی جانب سے پابندیاں واضح کی گئی ہیں کہ سامان صرف رجسٹرڈ افراد ہی تیار اور فروخت کر سکیں گے اور بسنت کے مقررہ دنوں تک ہی استعمال کی اجازت ہوگی
    واضع رہے کہ لاہور، فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں بسنت منانے کی اجازت نہیں ہے بلکہ اُن اضلاع میں صرف پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے جو بعد میں لاہور میں بسنت کے لیے استعمال ہو گا لہذہ ان شہروں کی عوام محتاط رہے