لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول پر لاکھوں گاڑیاں کے داخل ہونے کا امکان ہے۔
بسنت کے موقع پر شہرِ لاہور میں تقریبا 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں10 ہزار پولیس اہلکار اور 2500 ٹریفک وارڈنز تعینات ہوں گے چیف ٹریفک آفیسر نے پورے پاکستان کو لاہور میں بسنت منانے دعوت بھی دی ہےشہر کے داخلی راستوں کے علاوہ ریڈ زون میں سیف سٹی کیمروں سے براہِ راست مانیٹرنگ کی جائے گی ٹریفک انتظامات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اطہر وحید کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری جبکہ ریڈ زون کی چھتوں پر کیمرے نصب کر کے آپریشنل کیے جائیں گے جن کی مدد سے براہ راست مانیٹرنگ ہوگی،ایس پی آپریشنز سیف سٹی محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ریسکیو اور پولیس سمیت 15 محکموں کی مشترکہ ٹیمیں متحرک رہیں گی، شہری قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو بسنت فیسٹیول مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔
دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران موٹرسائیکل پر پابندی ہوگی، شہری فری ٹرانسپورٹ استعمال کریں،بسنت کے دوران شہری کم سے کم گاڑیوں کو سڑکوں پر لائیں اور فری حکومتی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ آلودگی میں مزید کمی لائی جا سکے، موٹر سا ئیکل پر پابندی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ ان تمام اقدامات کا مقصد بسنت کو محفوظ، منظم اور آلودگی سے پاک ماحول میں منانا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر سموگ کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ اور جی ایس میپنگ کے ذریعے آلودگی پر مؤثر کنٹرول کیا جا رہا ہے، لاہور میں فضائی آلودگی کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 173 ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ بہتری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شر یف کے انسدادِ سموگ اقدامات اور عوامی تعاون کا نتیجہ ہے جس کے باعث مقامی آلودگی پر مؤثر حد تک قابو پایا جا سکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی سیاسی عزم اور عوامی تعاون سے ماحولیاتی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ آلودگی کے اسباب کے خاتمے کے لیے جامع ملٹی سیکٹورل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے، تمام صنعتی چمنیوں کی ای پی اے کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، سموگ کنٹرول روم مکمل طور پر فعال ہے اور ڈرونز و سی سی ٹی وی کی مدد سے کڑی مانیٹرنگ جاری ہے، بھٹوں، صنعتی یونٹس اور گاڑیوں کے اخراج پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے اور خلاف ورزیو ں پر قانونی کارروائیاں کی جائے گی جبکہ فیلڈ ٹیمیں بھی مکمل طور پر متحرک ہیں حکومت کا ہدف پورا سال بہتر اے کیو آئی برقرار رکھنا ہے، انہوں نے بزرگوں اور بیمار شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔









