Baaghi TV

Tag: لاہور

  • 3500 سے زائد مقدمات میں پیش ہونیوالے جعلی وکیل کی ضمانت خارج،گرفتار

    3500 سے زائد مقدمات میں پیش ہونیوالے جعلی وکیل کی ضمانت خارج،گرفتار

    لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ جعلی وکیل کی ضمانت خارج کر دی

    پولیس نے ملزم راجہ عابد خان کو احاطہ عدالت سے ہی حراست میں لے لیا ،جسٹس فاروق حیدر نے پنجاب بار کونسل کی درخواست پر سماعت کی، دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پنجاب بار کونسل نے انکوائری کرنے کے بعد تھانہ سول لائنز لاہور میں جعلی وکیل کے خلاف 2023 میں مقدمہ درج کروایا، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کی رپورٹ کے مطابق، جعلی وکیل 1959 کیسوں میں بطور وکیل راولپنڈی بنچ میں پیش ہوتا رہا، ملزم کے 46 کیس پی ایل ڈی، وائی ایل آر، پی ایل جے سمیت دیگر شماروں میں رپورٹ ہو چکے ہیں، ملزم اسلام آباد ہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ، گلگت بلتستان ہائیکورٹ میں بھی بطور وکیل پیش ہوا،ملزم 2009 سے 2023 تک مختلف ٹرائل کورٹس میں تقریباً 1500 مقدمات میں بطور وکیل پیش ہوا، ملزم نے سیشن کورٹ لاہور سے ضمانت حاصل کی،عدالت جعلی وکیل کی ضمانت کالعدم قرار دے،

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • پیر افضل قادری وفات پا گئے

    پیر افضل قادری وفات پا گئے

    تحریک لبیک کے سابق رہنما، امیر عالمی تنظیم اہلسنت پیر محمد افضل قادری وفات پا گئے ہیں

    پیر محمد افضل قادری کئی دنوں سے علیل تھے اور مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے،وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے،اہلِ خانہ نے پیر محمد افضل قادری کے گجرات میں وفات کی تصدیق کی ہے،

    پیر محمد افضل قادری کی نمازِ جنازہ کل دن 2 بجے مراڑیاں میں ادا کی جائے گی ،نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں افراد شریک ہوں گے، بعد ازاں مقامی قبرستان میں انکی تدفین کی جائے گی،

  • وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے

    شاعرہ ،افسانہ نگار اور صحافی صبا ممتاز بانو 12 مارچ 1971ء کولاہور میں پیدا ہوئیں ،
    افسانہ
    ۔۔۔۔۔
    پنچھی
    ۔۔۔۔۔
    رات نے ہر چیز کو تاریکی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ دھیمی دھیمی سی ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو مانو کو مدہوش کیے دے رہی تھی۔ پلکوں کو ہجر اب گوارا نہیں تھا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے خود کو نیند کے سپرد کر دیا۔
    شب کے راجا نے دن کے راجا کے دستا ر بندی کی تو تیرگی کی چادر تلے خاموشی بھی سمٹ گئی۔ ضیائے آفتاب نے ہر چیز کو برہنہ کردیا۔ شعاعوں نے راحت کی مچان پر لیٹی مانو سے آنکھ مچولی شروع کردی تو اس کے بدن نے آفتاب کے حرارت بھرے لمس کو محسوس کرتے ہوئے انگڑائی لی۔ پلکیں رات بھر کے وصال کے بعد تازہ دم ہو چکی تھیں۔ اس نے چھت کی منڈیروں پر نگاہ ڈالی۔ کوئی بھی تو نہیں تھا۔ آج بھی کوئی پرندہ نہیں تھا۔
    اس نے مایوس ہو کر مٹی کے کونڈے کی طرف دیکھا۔ پانی شفاف تھا۔ روٹی کے ٹکڑوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی البتہ ان کی چمک ضرور ماند پڑ گئی تھی۔ سب کچھ ویسے کا ویسا تھا۔ اس کا دل بھر آیا۔ کوئی بھولا بھٹکا افقی مسافر بھی ادھر نہیں آیا تھا۔ اگر آیا ہوتا تو یہ پانی اور یہ روٹی کے ٹکڑے یوں چپ تو نہ سادھے ہوتے۔
    اس نے اپنے گھر کے ساتھ والے باغ پر نگاہ ڈالی۔ وہاں بھی ایک رات میں کچھ نہیں بدلا تھا۔ گلاب کے مہکتے ہوئے پھول، مٹی کی سوندھی خوشبواور اس باغ میں تنہا کھڑا ایک درخت، یہ سب تو رات کو بھی تھے۔۔۔ اس کی عادت تھی کہ وہ نیند محل میں جانے سے پہلے اور آنے کے بعد اپنے گھر سے ملحقہ اس باغ کو ضرور دیکھتی تھی۔ جس میں ایک بڑا سا درخت اسے اپنی جانب پکارتا ہوا لگتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی شاہین آکر اس پر بیٹھ جاتاتو اسے لگتا کہ کائنا ت اس کی مٹھی میں آ گئی ہو۔ کہاں سے آتا تھا وہ۔ کدھر کو جاتا تھا وہ۔؟ اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو کچھ دیر دیکھتے۔ پھر مانو سونے کے لیے اپنی چار پائی کی طرف چل دیتی اور وہ اپنے ٹھکانے کی طرف۔ اسے کسی کے ہاتھ آنے کا شوق نہیں تھا اور مانو کو اسے ہاتھ لگانے کا شوق نہیں تھا۔ کبھی کبھی وہ صبح کے وقت بھی آ جاتا تھا مگراب وہ اس درخت پر موجود نہیں تھا۔ مانو نے اس کے تصور سے دل کو شاد کیا۔
    سپیدی سحر میں یہ باغ حسن کی جاگیر لگ رہا تھا۔ پھولوں کی روشوں میں خراماں خراماں چلتی ہوئی ہوا کے راج پر صرف پھول ہی نہیں جھوم رہے تھے۔ یہ جشن مسرت چند کتے بھی منا رہے تھے جو ہوا کی اٹھکیلیوں پر پاگل سے ہو ئے جا رہے تھے۔ کوئی گول چکر میں پھیرے لے رہا تھا اور کوئی باغ کے اس کونے سے اس کونے تک دوڑ لگا رہا تھا۔
    ‘‘یاالٰہی، ہوا ان کے بدن میں بھی مستی دوڑا دیتی ہے، یہ دیوانگی، یہ جذب و جنوں ان پر بھی بے خودی کی کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ کیسے مستیاں کرتے ہیں یہ۔ کیسے شوخیاں کرتے ہیں؟’‘ سوچتے سوچتے اس نے مست ہوا میں آنچل کو لہرایا۔ سورج راجا کو ہٹنے کا اشارہ کیا۔ پھر کائیں کائیں کرتے ہوئے کووؤں کو پکارا۔ چہکتی ہوئی فاختاؤں کو آواز دی۔ کسی نے بھی تو نہیں سنا۔ وہ دکھ کی لہروں کو اپنے وجود میں سمیٹے ہوئے نیچے اتر آئی۔ شانو آٹا گوندھ رہی تھی۔ پلکوں پر بیٹھے ہوئے آنسو اسے دیکھتے ہی نیچے لڑھک گئے۔
    ”کیا ہوا، رو کیوں رہی ہو۔“ اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    ”ساعت کرن آنچل بھی لہرایا، ان کو پکارا بھی۔ مگر وہ پھر بھی نہیں آئے۔ ‘‘وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”پگلی کہیں کی۔ ارے کیا ہوا۔؟ نہیں آتے تو نہ آئیں، ان کو دانہ دنکا بھی ڈالتے ہیں۔ روٹی چاول بھی رکھتے ہیں۔ پانی کا برتن بھی رکھا ہے۔ پھر بھی نہیں آتے۔ تو ہم کیا کریں۔‘‘ شانو نے اسے تسلی دی۔
    ”شانو۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔ بابا کہا کرتے تھے۔ پرندے خدا کے دوست ہوتے ہیں۔ ان کو دوست بنا کر رکھوگے تو سب ٹھیک رہےگا۔ بابایہ بھی کہا کرتے تھے۔ چھوٹی سی یہ مخلوق بڑی سی مخلوق کی خدا تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔‘‘ مانو نے بابا کی بات شانو کو یاد دلائی۔
    ”بابا ٹھیک کہا کرتے تھے لیکن یہ چھوٹی سی مخلوق بڑی نخریلی ہو گئی ہے۔ ہماری بات نہیں سنتی تو ہم کیا کریں۔’‘ شانو نے ہمیشہ کی طرح اسے تسلی دی۔
    ”مگر جب بابا تھے تب تو ہمارے گھر میں بہت پرندے آتے تھے۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں چھوڑتے تھے۔ ایک دفعہ تو امی کا چھوٹو پرس بھی کھانے کی چیز سمجھ کر لے گئے تھے۔۔۔‘‘ مانو کو بھولی بھٹکی کوئی بات یاد آ گئی۔
    ”ہاں۔ پھر وہ گھر کے قریب جھاڑیوں میں اٹکا ہوا مال تھا۔ وہ سمجھے تھے کہ یہ کوئی کھانے پینے کی چیز ہے۔‘‘ شانو نے لقمہ دیا۔
    ”یقینا اس کوے کی نگاہ کمزور ہوگی۔’‘ مانو کی اداسی اب ہنسی میں ڈھل گئی تھی۔
    ”ابا کا بس چلتا تو اس کو بھی عینک لگوا دیتے۔’‘ شانو کی رگ ظرافت بھی پھڑک چکی تھی۔
    ”کچھ بھی تھا شانو، ابا ہوتے تھے تو پرندے صبح دم ہی آکر بیٹھ جاتے اور شام کو جاتے تھے۔ اب یہاں دن سے شام ہو جاتی ہے۔ میں ان کی راہ تکتی رہتی ہوں لیکن کوئی نہیں آتا۔ کوئی بھی تو نہیں آتا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”ارے وہ گھر بھی تو دوسرا تھا نا۔ اس گھر میں ہم اوپر والے حصے میں ہی آباد تھے۔ وہیں کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، ان کی دوستی ہو گئی تھی ہم سے۔ یہاں ہم نیچے رہتے ہیں اور وہ دوستی کیا کریں، ان کو تو ہماری شکل بھی یاد نہیں ہوگی۔’‘ شانو نے منطقی بات کی۔
    ”ہاں۔ تب ہمارا بسیر ا چھت پر تھا۔ وہ تو ہمارے ہاتھ سے اچک کر کھا لیتے تھے۔ اب تو ہم صرف ان کو کھانا ڈالنے ہی اوپر جاتے ہیں۔‘‘ مانو کی سمجھ میں شانو کی یہ بات آ گئی تھی۔
    ”چلو شکر ہے کہ تم نے بھی کوئی بات مانی لیکن کل پھر صبح اٹھتے ہی تم نے مجھ سے پو چھنا ہے کہ شانو ہمارے گھر میں پرندے کیوں نہیں آتے۔’‘ شانو نے منہ بناکر کہا۔
    ”ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو لیکن اپنا کھانا تو کھا لیا کریں نا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”کھا لیں گے۔ کھا لیں گے۔‘‘ شانو نے بڑی بہن مانو کو تسلی دی۔
    مانو کو گرمی میں چھت پر سونے کی عادت تھی۔ اسے تاروں سے بھرا آسمان امید کا جہان دکھتا تھا۔ افق پر بھولے بھٹکے پرندوں کو سفر کرتے دیکھ کر اسے ایسا لگتا جیسے وہ خود بھی کسی قافلے سے بچھڑ ی کوئی ڈار ہو جو اپنے غول کی تلاش میں ہو۔ ایک آہ، ایک کونج اس کے سینے سے نکلتی۔
    ”یہ انسان کا جسم مجھے کس نے اوڑھایا ہے۔ یہ بدن تو کسی پرواز پر تھا۔’‘
    کبھی کوئی درد بھری آواز کو وہ آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتی ہوئی سنتی تو فریاد کی بستی پر مصلے بچھا دیتی اور اس کا دل اس پر بیٹھ کر دعا گو ہو جاتا۔ میرے رب، مسافر قافلے سے بچھڑ جائے تو منزل کو کھو دیتا ہے۔ نیلگوں آسمان کی وسعتوں پر اڑنے والے قافلوں کو بھٹکنے سے بچا۔ دھرتی ان کی کونج کا درد نہیں سہار سکتی۔ یہ اونچی پروازوں کے راہی ہیں۔ ‘‘
    دونوں یادوں کے جنگل میں بسیرا ڈالے بیٹھی تھیں کہ دانی آ گیا۔ مانو نے دانی کو دیکھا تو سب بھول بھال اسے گود میں اٹھا لیا۔ اسے بانہوں سے پکڑا، جھولا دیا اور پھر نیچے اتار دیا۔ دانی خوشی سے دم ہلاتا ہوا چھت پر چلا گیا۔
    ”جتنے چکر یہ چھت کے لگاتا ہے۔ ہم لگائیں تو تھک ہی جائیں۔’‘ شانو نے دانی کو پھرتی سے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر کہا۔
    ”بھئی اس کا واش روم جو اوپر ہے۔ اوپر نہ جائے تو کیا کرے۔’‘ مانو نے دانی کی حمایت کی۔
    ”ساری رات میرے ساتھ سکون سے سوتا ہے۔ صبح ہوتے ہی اس کی دھینگا مشتی شروع ہو جاتی ہے۔’‘
    شانو نے دانی کی شکایت کی۔
    ”ارے جا۔ میرا پتر شرارتی ضرور ہے مگر بدمعاش نہیں ہے۔ رات بھر تمہارے ساتھ سوتا ہے۔ کبھی اس نے چھیڑا تمہیں۔’‘ دانی کی شکایت پر مانو تو برس ہی پڑی۔
    ”چھیڑ کر دیکھا تو تھا ایک دن اس نے۔’‘ شانو نے کہا تو مانو نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
    ”پھر۔؟’‘مانو کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”پھر کیا، اسے پتا چل گیا کہ میں بلی نہیں ویسے کبھی ساتھ سلا کر دیکھو نا۔’‘ شانو نے کہا۔
    ”جس دن میرا میاں گھر نہ ہوا تو میں سلا لوں گی۔’‘ مانو نے فوراً جواب دیا۔
    دونوں کو بھورے سفید دھاری دار بلے سے بہت پیار تھا۔ اس گھر کی رونق تھا یہ بلا۔ وہ بھی سمجھتا تھا کہ اس گھر کے مردوں سے زیادہ عورتیں اس کی رفیق ہیں۔ اسی لیے ان سے ہی فرمائشیں کرتا تھا۔ وہ بھی اسے چوکے پر بٹھاتیں۔ تحت پر سلاتیں۔ شیمپو سے نہلاتیں اور تھک جاتا تو دباتیں۔ دانی کا اس گھر میں راج تھا۔

    ”اگر دانی نہ ہوتا تو میں تو مر ہی جاتی۔ اس میں لگی رہتی ہوں تو غم کا احساس نہیں ہوتا۔ ‘‘ مانو نے سوچا۔
    پرندوں اور جانوروں سے پیار اسے ورثے میں ملا تھا۔ ابا ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اس کے دل میں بھی ان کے لیے جیسے کوئی انجانی سی کشش اٹکی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ پرندوں کے پیچھے بھاگتی تھیں تو کبھی جانوروں کے لیے ہلکان ہو تی تھیں۔ مانو اور شانو دونوں کی کائنات ان میں سمٹی ہوئی تھی۔ اس کائنات میں آسماں پر پرندے رقص کرتے تھے اور زمین پر جانور دھما چوکڑی مچاتے تھے۔ وہ ان دونوں کے بیچ کوئی ایسی مخلوق کی طرح جی رہی تھیں جن کی زندگی کا واحد مقصد ہی ان کا خیال رکھنا اور ان سے پیار کرنا رہ گیا تھا۔

    پرندوں کو پکارتے پکارتے سمے بیت رہا تھا۔ مانو کی فریاد انہوں نے نہیں سنی۔ شانو کو کوئی غم نہیں تھا۔ اس کا دانی اس کے پاس تھا۔ اس کو بس دانی سے لگاؤ تھا۔ مانونے اب کھانا پینا گلی کے کتوں کو ڈالنا شروع کر دیا تھا لیکن وہ پرندوں کے لیے رات کو کچھ نہ کچھ ضرور لے جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دل بہل تو گیا تھا مگرکبھی کبھی مانو کی اداسی پھر عود کر آتی تو شانو اس کی گود میں دانی کو ڈال دیتی اور ہنستے ہوئے کہتی۔

    ”چھوڑو یار، دانی کو جھلاؤ۔’‘ وہ بھی ہر غم بھلاکر دانی کو پیار کرنے لگتی۔
    وقت کا ایک اور دن ڈھل گیا تھا۔ رات کی سیاہی نے ہر چیز کو دھندلاکر دیا تھا۔ مانو چھت پر سونے چلی گئی۔ شانو تسبیح پر کوئی ورد کرنے لگی۔ ماہتاب کی چمک مانو کے چہرے کو فروزاں کیے دے رہی تھی۔ اس نے چھٹکی ہو ئی چاندنی میں اردگرد کے منظر کو دیکھا۔ چاندنی کا حسن ہر چیز سے جھلک رہا تھا۔ اس سحر آفریں ماحول میں نیند کا خمار ایسا چڑھا کہ سارے منظر تحلیل ہو گئے۔ وہ نیند کے آسمان پر تحت نشین ہو گئی۔ رات میٹھی سی نیند میں گزر گئی۔

    چاند راجا کی سلطنت درہم برہم ہو گئی۔ سورج راجا ابھی تحت دن پر براجمان ہوا ہی تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوے روٹی کے ٹکڑے لیے منڈیروں پر چڑھے بیٹھے تھے۔ چھت کائیں کائیں کی آواز سے گونج رہی تھی۔ فاختائیں دانہ دنکا کھا رہی تھیں۔ چوں چوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پرندے گھر کو آ گئے تھے۔ مانو کے دل میں مسرت کی لہریں پھوٹنے لگیں۔ وہ خوشی سے ہمکتی ہوئی نیچے آئی۔ شانو رو رہی تھی۔ دانی رات کو گھر نہیں لوٹا تھا۔ جانے راستہ بھول گیا تھا یا پھر گھر چھوڑ گیا تھا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دے دیا جو مقام اس کا ہے
    دل کی بستی میں نام اس کا ہے
    زندگی کی یہی صداقت ہے
    جس کی دنیا نظام اس کا ہے
    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے
    کتنے سالوں کے بعد میرے لیے
    آج آیا سلام اس کا ہے
    کب بھلایا اسے صباؔ میں نے
    ذکر تو صبح و شام اس کا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غم زدہ زندگی ہماری ہے
    چاہے دنیا بہت ہی پیاری ہے
    تم نہیں مانتے تو مت مانو
    میری ہر سانس بس تمہاری ہے
    چھوڑ کر ایسے وہ گئے ہم کو
    کیا جئیں گے کہ وار کاری ہے
    جو سہا میں نے وہ سہو گے تم
    وقت کی بھی تو ایک باری ہے
    بس سنبھلنا قدم قدم ہوگا
    زندگی ایک رازداری ہے
    اب ترے ہجر کا صباؔ ہر وقت
    میری آنکھوں سے خون جاری ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خواب اپنے لہو لہو کر کے
    رو دئے تیری جستجو کر کے
    کیسے پاتے تھے کیف و سرشاری
    آنکھوں آنکھوں سے گفتگو کر کے
    کس قدر پر سکون ہوتے تھے
    اپنے جسموں کو سرخ رو کر کے
    عشق بے سود تو نہیں اپنا
    سوچنا میری آرزو کر کے
    لوٹ آؤ کہ ہو گئے بے بس
    یاد تیری میں ہاؤ ہو کر کے
    ساتھ میرے نہ چل سکا کچھ دیر
    زندگی میری مشکبو کر کے
    خود کشی تیرے پیار میں کر لی
    پھر صباؔ دل نے آرزو کر کے

  • نواز شریف کے بیٹے حسن و حسین لاہور پہنچ گئے

    نواز شریف کے بیٹے حسن و حسین لاہور پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے دونوں بیٹے لاہور پہنچ گئے ہیں،

    نواز شریف اپنے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے استقبال کے لئے خود ایئر پورٹ گئے تھے، حسن و حسین نواز کے لاہور ایئر پورٹ پہنچنے پر نواز شریف نے انکا استقبال کیا بعد ازاں سخت سیکورٹی میں انہیں رائیونڈ لے جایا گیا،حسن و حسین نواز چھ برس بعد لاہور پہنچے ہیں، انہوں نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی ،وہ 14 مارچ کو عدالت میں پیش ہوں‌گے،حسن اور حسین نواز نے ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس میں درخواستیں دائر کی تھیں جس میں وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی استدعا کی گئی تھی،احتساب عدالت نے 7 سال قبل دونوں ملزمان کو ان ریفرنسز میں اشتہاری قرار دیا تھا۔اب احتساب عدالت نے دونوں کے وارنٹ معطل کر رکھے ہیں

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

  • سستے آٹے کے نام پر روزے داروں کی حکومت نے نکلوائیں چیخیں

    سستے آٹے کے نام پر روزے داروں کی حکومت نے نکلوائیں چیخیں

    رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گیا، آج پہلا روزہ ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب بھر میں نگہبان راشن پیکج کی ترسیل کا عمل جاری ہے تو وہیں آج سستے آٹے کے ٹرکوں نے روزے میں عوام کی چیخیں نکلوا دیں

    لاہور کے مختلف علاقوں میں سستے آٹے کے ٹرک لگ گئے ہیں، سستے آٹے کے ٹرک دیکھ کر شہری آٹا خریدنے پہنچ گئے تا ہم شہریوں کو جا کر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں آٹاسستا نہیں مل سکتا، شہریوں نے یوٹیلٹی سٹور کے بھی چکر لگائے مگر وہاں‌بھی شہریوں کو آٹا اسی نرخ پر مل رہا جو عام مارکیٹ کا ہے، شہریوں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے،

    لاہور کے علاقوں میں سسٹے آٹے کے ٹرک لگے تو روزے داروں کی ٹرک کے سامنے لمبی لائنیں سامنے آئی،ہاتھ میں شناختی کارڈ تھامے 8171 پر اپنی تصدیق کے منتظر ،تا ہم تصدیق نہ ہونے پر شہری مایوس واپس لوٹنے پر مجبور پو گئے، ٹرک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 10 کلو کا سستا آٹا 648 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے،سستا آٹا صرف بے نظیر اور احساس پروگرام میں رجسٹرڈ لوگوں کو ہی دیا جا رہا ہے ، شہریوں کاکہنا ہے کہ وہ غریب لوگ جو رجسٹرڈ نہیں ،آمدن کم ہے اسے آٹا نہیں دیں رہے،روزے میں لائنوں میں لگ کر غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں ، جو لائن میں لگ رہا وہ لاہور کا ہی شہری اورریلیف کا مستحق ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا راشن پیکج بھی لاہور میں ن لیگی کارکنان کو دیا جا رہا عوام تک پہنچ رہا،وہ کارکنان جن کی فہرستیں انتخابات سے قبل بنا لی گئی تھیں انہیں کے گھروں تک راشن پہنچایا جا رہا ، سستے آٹے کے لئے لائن میں لگے شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم مختلف علاقوں میں رہتے ہمیں تو ابھی تک لاہور میں رہتے ہوئے راشن پیکج نہیں ملا.

  • راشن بیگ پر نواز شریف کی تصویر کیوں؟ صحافی کا وزیراعلیٰ پنجاب سے سوال

    راشن بیگ پر نواز شریف کی تصویر کیوں؟ صحافی کا وزیراعلیٰ پنجاب سے سوال

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر پنجاب بھر میں رمضان کے لئے راشن پیکج کی ترسیل کا عمل جاری ہے، رواں برس راشن بیگ گھرگھر پہنچائے جا رہے ہیں،راشن بیگ پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی تصویر بھی پرنٹ کی گئی ہے، آج صحافی نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے اس تصویر بارے سوال پوچھ لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صحافیوں سے بات چیت کر رہی تھی، اسی دوران ایک صحافی نے مریم نواز سے سوال پوچھا کہ راشن بیگ پر نوازشریف کی تصویر ہے، لوگ تنقید کر رہےہیں؟ صحافی کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کس کی ہے؟ نواز شریف کی.

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ مضان میں پوری دنیا میں قیمتیں نیچے جاتی ہیں، ہمارے ہاں بڑھ جاتی ہیں، رمضان میں عوام کو ریلیف ملے گا، گورننس کے مسائل حل کرنے میں وقت لگے گا، چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ٹیم متحرک ہےجس کی ضرورت پڑے گی ٹرانسفر پوسٹنگ کریں گے، جتنی ضرورت ہے، اتنا خرچہ کریں گے، سیاست کی آڑ میں ملک غیرمستحکم کرنے کے لیے کچھ بھی ہوا تو برداشت نہیں کریں گے،کل ایک خاتون کی ویڈیو دیکھی جس نے پولیس وین پر حملہ کر کے لوگوں کو چھڑایا، ایسا کون سے ملک میں ہوتا ہے.

    اب تک 12 لاکھ سے زائد گھرانوں کو ان کی دہلیز پر راشن پہنچایا جاچکا ہے، صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین
    دوسری جانب رمضان ریلف پیکج کی مانیٹرنگ کے حوالے سے بنائی گئی وزارتی کمیٹی کا سول سیکرٹریٹ میں پہلا اجلاس منعقد ہوا، صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی -صوبائی وزراء مجتبی شجاع الرحمن، بلال یاسین، عظمیٰ بخاری،عاشق حسین کرمانی اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے-اجلاس میں رمضان پیکج پر عملدرآمد، اشیاء ضروریہ کی دستیابی،قیمتوں اور مانیٹرنگ کے عمل کا جائزہ لیا گیا-صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر رمضان پیکج کے تحت عوام کو ریلیف انکی دہلیز پر دیا جا رہا ہے-اب تک 12 لاکھ سے زائد گھرانوں کو ان کی دہلیز پر راشن پہنچایا جاچکا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں 36 ماڈل اور 15رمضان بازاروں میں عوامی کو معیاری اشیاء سستے داموں ملیں گی جبکہ ماڈل اور رمضان بازاروں میں قائم زرعی فیئر پرائس شاپس پر 13 اشیاء 25فیصد رعایتی نرخوں پر ملیں گی، رمضان بازار آج سے فنکشنل ہوجائیں گے، صوبائی وزیر نے کہا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی تربیت کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ ماہ مقدس میں عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے شوگر ملز اور دیگر ایسوسی ایشنز سے بات کی جائے گی، چوہدری شافع حسین نے کہا کہ خود ساختہ مہنگائی کو ہر قیمت پر روکنا ہے، ریٹ لسٹوں کو دکانوں کی نمایاں جگہوں پر آویزاں ہونا چاہیے، صوبائی وزیر صنعت و تجارت کی اشیاء ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی-صوبائی وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمان نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار لوگوں کی دہلیز پر راشن پہنچایا جارہا ہے، راشن تقسیم کے اہداف کے حصول کے لئے محنت اور لگن سے کام کیا جائے، صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے کہا کہ منڈیوں میں نیلامی کے عمل کی مکمل مانیٹرنگ کی جائے-متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے اشیاء ضروریہ کی دستیابی،سپلائی، مانیٹرنگ اور دیگر امور پر بریفنگ دی، اجلاس کو بتایا گیا کہ رمضان پیکیج کے مستحقین کا 75فیصد ڈیٹا کی تصدیق ہوچکی ہے.

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پاکستان میں تعینات کینیڈا کی ہائی کمشنرکی ملاقات

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

  • پیشہ ور گداگروں اور بھکاریوں کےخلاف گرینڈ آپریشن،60 مقدمات درج

    پیشہ ور گداگروں اور بھکاریوں کےخلاف گرینڈ آپریشن،60 مقدمات درج

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خصوصی احکامات پر پیشہ ور بھکاریوں کےخلاف گرینڈ آپریشن جاری ہے،ڈویژنل اور سرکل افسران کو اپنی نگرانی میں کارروائی کا حکم دیا گیا ہے، سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر کا کہنا ہے کہ سگنلز پر پیشہ ور بھکاریوں اور گداگروں کو فوری ہٹایا جارہا ہے، شہر کی مصروف اور اہم شاہراہوں کو گداگروں سے صاف کیا جائےگا، جعلی معذوری کا روپ دھار کر بھیک مانگنے والوں کیخلاف مقدمات درج ہونگے،  04 روز 60 پیشہ وار گداگروں کے خلاف کارروائی، مقدمات درج کروا دئیے گئے  ،300 سے زائد بچوں اور بزرگوں کو وارننگ دیتے ہوئے چھوڑ دیا گیا،

    عمارہ اطہر کا کہنا تھا کہ شہری ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی میں ٹریفک پولیس کا ساتھ دیں، آپ کی محنت کی کمائی دھوکہ بازوں کیلئے نہیں، گداگروں کی سرگرمیوں سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر بلکہ حادثات کا اندیشہ بھی رہتا ہے، ٹریفک سگنلز کو گداگری جیسی لعنت سے پاک کیا جائے گا، حوصلہ شکنی سے نہ صرف معاشرے میں بہتری بلکہ ٹریفک کی روانی بھی بہتر ہوگی،غریب ہونا جرم نہیں مگرا پنے آپ کو دوسرں کیلئے محتاج بنانا اخلاقاً جرم ہے، بھیس بدل کر بھیک مانگنے والوں کےخلاف مقدمات درج کروائے جائیں، عادی گداگر ہمدردی کےلئے جعلی معذروی کا سہارا لیتے ہیں، سی ٹی او لاہور نے گداگری جیسے معاشرتی ناسور کے خاتمے ٹریفک پولیس کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے.

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مساج سنٹر پر جعلی صحافیوں کے چھاپے اور بلیک میلنگ کے حوالہ سے درخواست پر سماعت

    حیدرآباد پولیس نے بھتہ خوری میں ملوث جعلی صحافی کو بے نقاب کردیا

     شہر قائد کراچی میں جعلی صحافیوں کا ٹولہ جرائم اور چوری میں ملوث نکلا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پاکستان میں تعینات کینیڈا کی ہائی کمشنرکی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پاکستان میں تعینات کینیڈا کی ہائی کمشنرکی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف سے پاکستان میں تعینات کینیڈا کی ہائی کمشنر لیسلی اسکینلینLeslie Scanlon کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان ریجن نیل سٹیوارڈ فرسٹ سیکرٹری علیشا سوسا اورٹریڈ کمشنر علی خان بھی شامل تھے ،وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کو کینیڈ ا کی ہائی کمشنر لیسلی اسکنلین نے پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی،کینیڈین ہائی کمشنر نے مریم نوازشریف کی وزارت اعلی کو پنجاب کے عوام کےخوش کن تبدیلی قرار دیا،ملاقات میں کینیڈا اورپنجاب کے درمیان معاشی تعلقات کے فروغ کے امکانا ت پر تبادلہ خیال کیا گیا،کینیڈا کی اعلی تعلیمی اداروں میں پنجاب کے طلباء کے لئے سکالر شپ بڑھانے کا جائزہ لیا گیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ کینیڈا کے ساتھ معاشی تعلقات کو بلند ترین سطح پر لے جانا چاہتے ہیں۔کینیڈامیں مقیم سکھ کمیونٹی کو درشن اور مذہبی سیاحت کیلئے آمد پر خیر مقدم کیا جائے گا۔کینیڈین ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف سے ملکر خوشی ہوئی،پنجاب کو اچھا لیڈر مل گیا۔

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    برطانوی ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات،مبارکباد دی

  • لاہور: کھانا نا دینے پرخاتون پر شوہر اور سسرال والوں کا تشدد، وزیر اعلیٰ پنجاب کا نوٹس

    لاہور: کھانا نا دینے پرخاتون پر شوہر اور سسرال والوں کا تشدد، وزیر اعلیٰ پنجاب کا نوٹس

    لاہور: گلشن راوی میں خاتون پر شوہر اور سسرال والوں نے تشدد کیا جس کا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی جس میں خاتون کو گھر سےگلی میں نیچےگرتےدیکھا گیا، ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ خاتون پر تشدد کیا گیا اور پھر ساس اور شوہر نے اسے گھر کی بالائی منزل سے دھکا دے دیا،ویڈیو میں خاتون کے محلے والوں کو بھی فوراً آتے دیکھا گیا، بعدازاں انہیں اسپتال لے جایا گیا۔
    https://x.com/MaryamNSharif/status/1766513456474132601?s=20
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس حوالے سے ٹوئٹ میں بتایا کہ گلشن راوی میں پیش آنے والے واقعے میں خاتون پر شوہر، ساس اور دیور نے تشدد کیا اور پھر انہیں گھر کی دوسری منزل سے دھکا دے کر نیچے پھینک دیا،خاتون پر یہ ظلم محض معیاری کھانا نہ دینے پر کیا گیا، وزیر اعلیٰ پنجاب کے مطابق مرکزی ملزموں میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

    سعودی عرب کا گوادر کے بارش متاثرین کے لیے امداد کا اعلان

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا تھا کہ خواتین کے ساتھ زیادتی اور انہیں ہراساں کرنا میری ریڈ لائن ہے، خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    دوران پرواز دونوں پائلٹ کم و بیش 28 منٹ تک سوتے رہے

    گوادر سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مزید بارش

  • لاہور میں ہیوی ٹریفک کے اوقات کار مقرر

    لاہور میں ہیوی ٹریفک کے اوقات کار مقرر

    لاہور: شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کےلئے رات گیارہ بجے سےپہلےہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : پابندی کے مطابق صبح 06 بجے سے پہلے تمام ہیوی ٹریفک شہر لاہور سے باہر نکل جائے گی، اس سے پہلے ہیوی ٹریفک کے شہر سے نکلنے کے لئے آخری وقت صبح 07 بجے مقرر تھا، سی ٹی او لاہور کے حکم پر رات کے وقت سڑکوں پر اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔

    سیف سٹی کیمروں کی مدد سے اوورسپیڈنگ اور خطرناک ڈرائیونگ کرنے والوں کو خصوصی طور پر مانیٹر کیا جائے گا،سٹی ٹریفک آفیسر عمارہ اطہر نے بتایا ہے کہ ہاٹ سپاٹ ایکسڈنٹ پوائنٹس کی شناخت کرتے ہوئے خصوصی اقدامات کردئیے گئے، انہوں نے بتایا کہ تیز رفتاری اور خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کرنے والوں پر مقدمات کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔