Baaghi TV

Tag: لبنان

  • اسرائیل نے  لبنان کے موبائل فون نیٹ ورکس ہیک کر لیے

    اسرائیل نے لبنان کے موبائل فون نیٹ ورکس ہیک کر لیے

    بیروت: اسرائیل نے لبنان کے موبائل فون نیٹ ورکس ہیک کر لیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق پیر کے روز اسرائیل نے لبنان میں بمباری شروع کی تو اس سے پہلے متعدد موبائل فون صارفین کو پیغامات موصول ہوئے کہ ان کا گھر بموں سے اڑایا جانے والا ہے یہ پیغامات جنوبی لبنان کے دیہات اور بیروت کے کچھ حصے میں مقیم صارفین کو موصول ہوئےموبائل فون پر بم حملوں کی اطلاع ملنے کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیل نے ان مقامات پر بمباری کر دی،جس میں کم از کم 400 افراد شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے موبائل فون نیٹ ورک ہیک کرنے کا عمل اتنا وسیع تھا کہ جہاں بعض لوگوں کو ٹیکسٹ پیغامات ملے وہیں کئی صارفین کو موبائل فونز پر فون کال بھی کی گئی اور انہیں گھر خالی کرنے کے لیے کہا گیا۔ یہاں تک کہ لبنان کے وزیر اطلاعات کو بھی ایسی ہی ایک فون کال موصول ہوئی، کئی مقامی ریڈیو نیٹ ورکس بھی ہیک کر کے اسرائیلی فوج نے پیغامات نشر کیے۔

    الیکشن کمیشن اب کس قانون کے تحت کام کرے؟ ای سی پی ذرائع

    دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 492 ہو گئی جبکہ 1645 افراد زخمی ہو گئے۔

    لبنان کی وزرات صحت کے مطابق جاں بحق افراد میں 38 بچے اور 58 خواتین شامل ہیں،لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا کہنا تھا کہ بیروت پر اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر علی کرکی محفوظ رہے، لبنان پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر 200 کے قریب راکٹ داغ دیے، حزب اللہ کی جانب سے شمالی علاقے کی اسرائیلی فوجی چوکیوں اور حیفہ شہر میں رافیل ڈیفنس انڈسٹری کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔

    لاہور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف مقدمہ درج

    جبکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ میں موجود 40 ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی جنگی طیاروں نے صرف آدھے گھنٹے میں لبنان کے شہر نبطیہ پر 80 فضائی حملے کیے جس میں حزب اللہ کے اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے سرائیل کی جانب سے کیا گیا حملہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ تھا جس میں اسرائیل نے لبنان کے شمالی اور جنوبی حصے پر ایک وقت میں حملہ کیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا خط حق بجانب ہے، چیف جسٹس کا رویہ نامناسب ہے: …

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    بیروت: اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں عراقی گروہ بھی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اسرائیل اور لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا،عراقی گروہ بھی شامل ہو گئے، عراقی گروپ آئی آر آئی نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغ دیے جب کہ اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کردی۔

    "العربیہ ” کے مطابق ایران کے وفادار عراقی دھڑوں کی جانب سے اتوار کو اعلان کرنے کے بعد کہ انہوں نے اسرائیل میں ایک "اہم ہدف” کو نشانہ بنایا ہے، اسرائیل نے عراق سے بھیجے گئے ڈرونز کو جو طبریا اور بیسان پہنچ گئے تھے کو تباہ کردیا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار میں سے دو ڈرون مار گرائے، ایک ڈرون نے شمالی وادی اردن میں اسرائیلی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا اسرائیلی فضائیہ نے ایک کروز میزائل کو بھی ناکارہ بنا دیا۔

    کمیونسٹ نظریے کے حامی انورا کمارا سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے عراق سے داغے گئے ڈرون کا سراغ لگایا اور ڈرون نے شام کی سمت سے اسرائیلی سرحد عبور کی جس کے بعد اس پر کئی انٹرسیپٹر میزائل داغے گئے، فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔

    دوسری جانب ایران کے وفادار عراقی دھڑوں نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کے ذریعے آج پانچویں مرتبہ اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے، دھڑوں نے کہا کہ انہوں نے وادی اردن کے علاقے میں ایک اسرائیلی ٹارگٹ پر "الارفد” ڈرون کے ساتھ حملہ کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری کارروائیاں مزید بڑھیں گی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے عراق سے آنے والے دو مشکوک فضائی اہداف کو بغیر کسی جانی نقصان کے روک دیا۔ اس نے گولان کے اوپر سے ایک میزائل اور ایک ڈرون کو روکا جو عراق سے اڑے تھے۔

    صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر پیجر پھٹنے سے کریش ہوا،ایرانی رکن پارلیمنٹ …

    ادھر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حزب اللہ نے نئے اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کا پہلی بار استعمال کیا ہے، حزب اللہ کے مطابق وقفے وقفے سے 100 سے زائد راکٹ ساحلی شہر حیفا کی طرف داغے گئے ہیں،اس کے علاوہ یمن کے حوثی گروپ نے بھی اسرائیل پر میزائلوں سے حملوں کا اعلان کیا ہے، حزب اللہ نے اسرائیلی شہر حیفہ پر 85 راکٹ حملے کیے گئے، راکٹ حملوں سے کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔

    حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ لبنان پر حملوں میں استعمال ہونے والے رمات ڈیوڈ ائیر بیس اور اسرائیلی ٹیک کمپنی رفائیل کو نشانہ بنایا گیا،اس کے علاوہ حیفہ شہر میں کئی گھر اور گاڑیاں بھی ان راکٹوں کا نشانہ بنی ہیں، 24 گھنٹوں میں لبنان پر اسرائیل نے 400 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    کمیونسٹ نظریے کے حامی انورا کمارا سری لنکا کے نئے صدر منتخب

  • امریکا کااسرائیل اور لبنان  کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار

    امریکا کااسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار

    واشنگٹن:امریکا نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی نیشنل سکیورٹی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ اسرائیل پر واضح کرچکے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتے کہ خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ کسی بھی طرح اسرائیل کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتا ہے اسرائیلی وزیراعظم کہتے ہیں کہ شمالی اسرائیلی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کی واپسی تک آپریشن جاری رہے گا تاہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو جن لوگوں کو واپس ان علاقوں میں لانا چاہتے ہیں کشیدگی میں اضافہ ان کے حق میں بھی بہتر نہیں ہو سکتا۔

    کربی نے کہا لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی صورتحال چند روز قبل کے مقابلے میں اس وقت بہت ہی خراب ہو چکی ہے، لیکن ہمیں اب بھی یقین ہے کہ اس صورتحال کے باوجود بھی مسائل کے سفارتی حل کیلئے وقت اور مواقع ضرور موجود ہوں گے اور ہم اسی پر کام کر رہے ہیں، اسرائیل سمیت خطے میں تنازعے اور کشیدگی میں اضافے کیلئے کوشاں ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیل اور لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، جمعے کے روز بیروت پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 45 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ اس سے قبل کمیونیکیشن ڈیوائسز میں دھماکوں کے نتیجے میں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے اراکین سمیت 39 سویلینز جاں بحق جبکہ 4 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

  • لبنان کو غزہ کی طرح کھنڈرات میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا،انتونیوگوتریس

    لبنان کو غزہ کی طرح کھنڈرات میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا،انتونیوگوتریس

    نیو یارک: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ لبنان کو ایک اور غزہ بننے نہیں دیا جاسکتا اور اس کے لیے جنگ کو ہرصورت روکنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیاکو لبنان کو غزہ کی طرح کھنڈرات میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے اور اس کے لیے لبنان، اسرائیل جنگ کو ہر صورت روکنا ہوگا غزہ جنگ طویل ہوگئی ہے، بدترین تباہی کے ساتھ شہری تکلیف میں ہیں، جنھوں نے غزہ جنگ شروع کی وہی اس کے ذمہ دار ہیں، غزہ کے لوگوں کی زیادہ مدد نا کرنے پر افسردہ ہوں اور اس کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں ہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر برطانیہ میں سعودی سفیر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ 1973 کے بعد علاقائی جنگ چھڑنے کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے۔

    اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

    دوسری جانب لبنان سے اسرائیل پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا گیا جس میں اسرائیل کے اندر اہم مقامات کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے اب تک استعمال نہ کیے جانے والے راکٹوں نے سرحد سے اندر 50 کلومیٹر تک علاقے میں اہداف کو نشانہ بنایا، ساحلی شہر حیفا اور رمات ڈیوڈ ایئربیس بھی حزب اللہ کے راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق لبنان سے ہونے والے راکٹوں کے حملے کے باعث 74 مقبوضہ بستیوں میں سائرن بجنے لگے، اسرائیلی دفاعی نظام کئی راکٹس نہ روک سکا۔

    افغان طالبان کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود رابطے ضروری ہیں،منیر اکرم

    دوسری جانب اسرائیل نے لبنان میں حملوں کا دائرہ کئی شہروں تک پھیلا دیا، اسرائیل نے حزب اللہ کے 400 لانچرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہےاسرائیل نے شہریوں کو حزب اللہ کی جانب سے حیفہ اور دیگر شمالی علاقوں پر حملے سے خبردار کر دیا ہے، اسرائیل کی جانب سے لبنان میں 290 اہداف پر 4 سو سے زائد حملے کیے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے لبنان پر چڑھائی کرنے سے متعلق اطلاعات کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے۔

    اسرائیل لبنان کشیدگی،امریکا کا اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کاحکم

  • اسرائیل لبنان کشیدگی،امریکا کا اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کاحکم

    اسرائیل لبنان کشیدگی،امریکا کا اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کاحکم

    لبنان: اسرائیل نے ہفتے کے روز لبنان میں 290 کے اہداف پر 400 سے زائد حملے کیے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ہفتے کے روز لبنان میں 290 کے اہداف پر 400 سے زائد حملے کیے، جس کے جواب میں حزب اللہ کی جانب سے 90 راکٹ داغے گئے، ادھر اسرائیل نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے حیفہ اور دیگر شمالی علاقوں پر آئندہ چوبیس گھنٹے میں بڑا جوابی حملہ متوقع ہے، جس کے لیے اسرائیل نے اپنے شہریوں کو چوکس رہنے کا حکم جاری کیا ہے۔

    لبنان اسرائیل کشیدگی کے پیشِ نظر امریکا نے اپنے شہریوں کو لبنان فوری طور پر چھوڑنے کا مشورہ دے دیا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں کشیدگی کی وجہ سے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے وہ فوری طور پر لبنان چھوڑ دیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرمپ کوائن جاری کردئیے

    اس سے قبل اسرائیل نے لبنان پر 2 بڑے حملے کیے تھے جس میں حزب اللہ کی رضوان فورس کے سربراہ ابراہیم عقیل اور دیگر 16 کمانڈروں سمیت 37 افراد شہید ہوئے تھے۔

    ژوب میں انسداد دہشت گردی فورس کی گاڑی پرحملہ،ایک اہلکار شہید جبکہ تین زخمی

  • لبنان پیجر دھماکے،بھارت بھی ملوث نکلا،تہلکہ خیز انکشاف

    لبنان پیجر دھماکے،بھارت بھی ملوث نکلا،تہلکہ خیز انکشاف

    لبنان پیجر دھماکوں میں نیاانکشاف سامنے آیا ہے، پیجر دھماکوں میں بھارت کا بھی ہاتھ نکلا، ہندو نژاد نارویجین شہری نورٹا کا مالک نکلا

    ناروے کے تاجر رنسن جوز کی کمپنی نورٹا گلوبل نے پیجر لبنان میں حزب اللہ کو بھجوائے تھے، رنسن جوزکی بھارتی ریاست کیرالہ میں پیدا ہوا تھا، وہاں سے ایم بی اے کرنے کے وہ بعد ناروے چلا گیا تھا ۔ کیرالہ کے معروف اخبار منورما کی ایک رپورٹ کے مطابق رنسن کے والد ہوزے موتھیدم منانتھاوڑی میں ایک دکان میں درزی کا کام کرتے تھے، انہیں علاقے میں ‘ٹیلر ہوزے’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔رنسن جوز کا تعلق بھارت سے ہے، بھارت اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی میں مدد کر رہا ہے، پیجر دھماکوں میں بھی بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ہو سکتا ہے، کیونکہ جس کمپنی نے پیجر بھجوائے اسکا مالک بھارتی ہے،

    لبنان میں پیجر دھماکوں کے بعد نورٹا گلوبل جو صوفیہ، بلغاریہ میں رجسٹرڈ کمپنی ہے، نے اپنی ویب سائٹ کو بھی حذف کر دیا، نورٹا آفس بھی اس کے رجسٹرڈ پتے پر اب موجود نہیں ہے،بھارتی مالک رنسن جوز نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے اور کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے،ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، کیرالہ پولیس اور مرکزی حکومت کی ایجنسیوں نے کیرالہ میں رنسن کے آبائی گاؤں اونڈیانگڈی میں تحقیقات شروع کر دی ہے، رنسن، درزی موتھیداتھ جوز اور گریسی کا بیٹا، اپنی بیوی کے ساتھ ناروے میں رہتا ہے، اس کا بھائی برطانیہ میں کام کرتا ہے اور اس کی بہن آئرلینڈ میں نرس ہے۔ اس کے چچا تھانچاچن نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ خاندان گزشتہ تین دنوں سے ان سے رابطہ نہیں کر پا رہا تھا، ناروے کی انٹیلی جنس ایجنسی اور اوسلو پولیس ابھی تک اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔رنسن جوزکی نورٹا گلوبل کے علاوہ اوسلو میں ڈی این میڈیا گروپ میں بھی پانچ برسوں سے کام کر رہے ہیں، خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جوز چند سال قبل اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ناروے گئے تھے۔ اوسلو واپس جانے سے پہلے اس نے مختصر طور پر لندن میں کام کیا۔ ڈی این میڈیا نے اخبار ورڈنز گینگ کو بتایا کہ وہ منگل سے بیرون ملک کام کے دورے پر ہیں اور وہ ان تک نہیں پہنچ سکے۔جوزکی اہلیہ کا بھی گزشتہ کئی دنوں سے رابطہ نہیں ہے، بتایا جاتا ہے کہ بلغاریہ میں واقع نورٹا گلوبل کی بنیاد کیرالہ کے وائناڈ میں پیدا ہوئے رنسن ہوزے نے رکھی تھی۔

    دوسری جانب بلغاریہ کے قومی سلامتی کے ادارے کا کہنا ہے کہ فرم کے مالک نے تجارتی سامان کی خرید و فروخت سے منسلک کوئی لین دین نہیں کیا اور یہ دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق قوانین کے تحت آتا ہے،حزب اللہ نے پیجرز دھماکوں کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا تھا لیکن ابھی تک اسرائیلی حکومت نے ان حملوں پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا

    علاوہ ازیں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیراستعمال مواصلاتی آلات کے دھماکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں،غزہ کی پٹی اور لبنان میں اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں کے درمیان کشیدگی ایک وسیع علاقائی تنازع کا باعث بن سکتی ہے ،اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ووکلر ترک کا کہنا ہے کہ شہریوں میں تشدد کے ذریعے دہشت پھیلانا جنگی جرم ہے یہ حملے جنگ میں ایک نئی پیشرفت کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جہاں مواصلاتی آلات بازاروں، گلیوں اور گھروں میں پھٹنے والے ہتھیار بن جاتے ہیں دھماکوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے جن لوگوں نے ان حملوں کا حکم دیا اور یہ کیے، ان کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے

    اسرائیل کا پیجرز میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    واضح رہے کہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پیجرز اور واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے، جبکہ 287 افراد زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ان دھماکوں کے بعد لبنانی عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور حزب اللہ نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کا مقصد مواصلاتی آلات جیسے پیجرز اور واکی ٹاکیز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں پیجرز پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی طرف سے عربی میں جعلی پیغام بھیجا گیا جس کو پڑھنے کیلئے آن کرتے ہی پیجرز دھماکے ساتھ پھٹ گئے

    امریکی اخبار کے مطابق لبنان میں الیکٹرانک آلات کے ذریعے حزب اللہ پر حملے کو آپریشن لبنان کا نام دیا گیا ہے اور اسکے لئے ڈیڑھ برس سے تیاری جاری تھی،آپریشن لبنان کے لئے اسرائیل کے 12 موجودہ اور سابق دفاعی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو حملے کے حوالہ سے بریفنگ دی گئی تھی یہ آپریشن لبنان پیچیدہ اور طویل عمل تھا جس کے لئے مناسب وقت کا انتظار کیا گیا،اسرائیلی خفیہ ایجنسی شن باتھ نے پانچ ہزار پیجرز کے اندر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، حزب اللہ نے 6 ماہ پہلے بوڈاپسٹ سے درآمد کیا تھا،امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائس کے دھماکوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے، اسرائیل نے ایک جعلی کمپنی قائم کی جس نے وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائسز کی بین الاقوامی صنعت کار ہونے کا روپ دھارا، بوڈاپیسٹ میں قائم بی ای سی کنسلٹنگ اسرائیلی محاذ کا حصہ تھی، اس آپریشن میں شامل اسرائیلی انٹیلی جنس کے ارکان کی شناخت چھپانے کے لیے کم از کم دو اضافی کمپنیاں قائم کی گئی تھیں۔

    لبنان کےانٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے قیام کے سال 2021سے لے کر اب تک عام گاہکوں کے لئے بھی عام پیجرز تیار کئے اور انہیں فروخت کیا،2022 میں پیجرز کو کم تعداد میں لبنان بھیجا گیا اور اس کے بعد آرڈرز میں اضافہ ہوا ،پیجر مینوفیکچرنگ سپلائی چین کے ساتھ کام کرنے والوں نے پانچ ہزار سے زیادہ پیجرز کے اندر ایک سے دو گرام دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، اس کے بعد اسرائیلی ٹروجن ہارسز لبنان کو برآمد کیے گئے تھے ،ان پیجرز کو فعال کرنے کے احکامات منگل کو دئے گئے، اور اس کے لئے پیجرز پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا عربی میں جعلی پیغام بھیجا گیا تھا جس کو دیکھنے کے لئے کھولتے ہی دھماکہ ہو گیا

    امریکی اخبار کے مطابق لبنان دھماکوں میں استعمال ہونے والے پیجرز تائیوان یا ہنگری نے نہیں بلکہ اسرائیلی انٹیلیجنس نے تیار کیے تھے،ہنگری کی کمپنی اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کی فرنٹ کمپنی کا حصہ تھی، ہنگری کی کمپنی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست رابطے کے لیے 2 مزید جعلی کمپنیاں بنائی گئی تھیں،اسرائیل نے واکی ٹاکیز میں صرف بارود نہیں لگایا، اصل میں مینوفیکچرنگ کی، بلغارین میڈیا کے مطابق بلغاریہ کی کمپنی نےحزب اللّٰہ کو پیجرز سپلائی کیے،

    واضح رہے کہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پیجرز اور واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے، جبکہ 287 افراد زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ان دھماکوں کے بعد لبنانی عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور حزب اللہ نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کا مقصد مواصلاتی آلات جیسے پیجرز اور واکی ٹاکیز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجی غزہ سے لبنان کی سرحد پر منتقل کردئیے

    اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجی غزہ سے لبنان کی سرحد پر منتقل کردئیے

    تل ابیب: مشرق وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ کے خدشات بڑھ گئے،اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجی غزہ سے لبنان کی سرحد پر منتقل کردیے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران لبنان میں پیجرز دھماکوں کی لہر کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں،اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے اس حوالے سے تصدیق کی گئی کہ خطے میں جنگ کے نئے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے، حزب اللہ کے خلاف شمالی محاذ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد وہ اپنے تقریباً 10 سے 20 ہزار فوجی غزہ کی پٹی سے لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر منتقل کر رہی ہے سیکیورٹی فورسز نے لبنان میں قابل تعریف کام کیا ہے، ہمارے پاس بہت سی صلا حیتیں ہیں جو ابھی تک ہم نے فعال نہیں کی ہیں ہمارے ہر مرحلے میں حزب اللہ بڑی قیمت چکائے گی،لڑائی میں مزید حیران کن صلاحیتیوں کا استعمال کریں گے۔

    عاشقان مصطفی کو دنیاکی کوئی طاقت ڈرانہیں سکتی،شکیل قاسمی

    پولیس اہلکار کی نشے میں دھت ہوکر خاتون پر تشدد کی وڈیو وائرل

    شمالی وزیرستان: بینک منیجر فائرنگ کے نتیجے میں شہید

  • لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان کے دارالحکومت بیروت میں سلسلہ وار دھماکوں میں تقریباً 11 افراد کی موت ہوئی ہے جبکہ 4 ہزار کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں،دھماکےحزب اللہ کے زیر استعمال پیجر (وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائس) میں ہوئے،حزب اللہ اور لبنان نے ان دھماکوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہےتاہم تل ابیب نے ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا

    مغربی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ جن پیجر میں دھماکے ہوئے تھے وہ لبنان نے چند ماہ پہلے تائیوان سے خریدے تھے،سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیجرز میں لبنان پہنچنے سے پہلے دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا، حزب اللّٰه تک پہنچنے سے پہلے پیجرز میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی، پیجرز پر نئے پیغام کا سگنل آنے کے چند سکینڈ بعد ایک ساتھ دھماکے ہوئے، پیغام رسانی کے لیے پیجرز لبنانی گروپ حزب اللّہ اور ہیلتھ ورکرز بشمول ڈاکٹرز استعمال کررہے تھے،میڈیا رپورٹس کے مطابق پیجرز تائیوان سے براہ راست لبنان پہنچے یا کسی تیسرے ملک سے لبنان درآمد کئے گئے اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں،ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ پیجر جدید ترین نظام پر میسج بھیجتا ہے مگر ہیکنگ ممکن ہے، تاہم پیجر ریڈیو فریکوئنسی پر کام کرتے ہیں جنھیں کنٹرول کیا جاسکتا ہے، اسرائیلی حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے لبنان میں اسمارٹ فونز کا استعمال کم ہوچکا ہے، مختلف اقسام کے پیجرز اسرائیلی سیکیورٹی حکام بھی استعمال کرتے ہیں،عرب میڈیا کے مطابق پیجر ڈیوائسز میں دھماکے جنوبی لبنان اور بیروت کے نواحی علاقوں میں ہوئے، حزب اللہ کے زخمی ارکان کو اسپتال پہنچا دیا گیا ہے جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے

    دوسری جانب ایران نے لبنان میں پیجر دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ، پیجر دھماکوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس اراقچی نے لبنانی وزیر خارجہ کو ٹیلیفون کیا اور دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی،ایرانی وزیر خارجہ نے ایرانی سفیر کو فوری طبی امداد فراہم کرنے پر لبنان کا شکریہ ادا کیا ،علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے بھی لبنان میں پیجر ڈیوائس دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ لبنان میں پیجر دھماکوں کی پیشرفت انتہائی تشویشناک ہے، لبنان میں غیر مستحکم حالات پیدا کرنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

    لبنان کے پیجر حملے میں حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ کے بیٹے کی موت کی خبر بھی سامنے آئی ہے، خبر رساں ادارے رائیٹرز نے حزب اللہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ دو دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے بیٹے زخمی ہوئے ہیں،حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی عمار نے اپنے بیٹے مہدی کے قتل کے بعد ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان کے خلاف اسرائیل کی نئی جنگ ہے، مناسب وقت پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔

    لبنان میں پیجرز حملوں میں ایرانی سفیر کی آنکھ بھی ضائع ہو گئی ہے،ان حملوں نے حالیہ برسوں کے دوران خطے میں ہونے والے خفیہ قتل اور سائبر حملوں کے ریکارڈ کوپیچھے چھوڑ دیا ہے، روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ لبنان میں پیجرز دھماکوں کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم نے دی تھی،اسی ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نے منظوری دی جس کے بعد دھماکے کئے گئے، ان دھماکوں کا مقصد د کارروائیوں کو نئے مرحلے میں داخل کرنا تھا

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کا لبنان کے اندر حملے کی تیاری کا انکشاف

    اسرائیلی فوج کا لبنان کے اندر حملے کی تیاری کا انکشاف

    تل ابیب: اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کے اندر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق مقبوضہ گولان کے علاقے میں دورے کے دوران اسرائیل کے چیف آف اسٹاف ہرتزی ہیلفی نے بتایا کہ اسرائیل کی توجہ حزب اللہ سے مقابلے پر مرکوز ہے اسرائیلی فوج شمالی علاقوں اور گولان کے پہاڑی علاقے کی آبادی کو درپیش خطرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    قبل ازیں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پر شدید فضائی حملے کیےاس دوران میں کئی قصبوں نشانہ بنایا گیا جبکہ حزب اللہ کی جانب سے جنوبی لبنان سے کیے جانے والے حملوں میں مرکزی طور پر اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے،حزب اللہ کا موقف ہے کہ وہ یہ حملے غزہ میں جاری مزاحمت کی سپورٹ میں کر رہی ہے۔

    سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

    غزہ میں سات اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شروع ہونے والے تصادم میں اب تک لبنان میں کم از کم 610 جاں بحق ہو چکے ہیں، ان میں حزب اللہ کے 394 ارکان اور 135 شہری شامل ہیں، دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں 24 اسرائیلی فوجی اور 26 شہری مارے گئے ہیں۔

    یونائیٹڈ ایئر لائن نے اسرائیل کے حامیوں کی چیخیں نکلوا دیں