Baaghi TV

لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی، حالت تشویشناک

london

لندن میں چاقو بردار شخص نے 2 یہودی راہ گیروں پر حملہ کردیا –

دی گارڈین کے مطابق شمال مغربی لندن کے گولڈرز گرین میں بدھ کی صبح 76 اور 34 سال کی عمر کے دو یہودی مردوں پر چاقو سے حملہ کیا گیا ، اور ان کا علاج یہودی رضاکار ایمبولینس سروس ہتزولا کر رہا ہے، میٹروپولیٹن پولیس نے ایک 45 سالہ شخص کو گرفتار کیا، اور فورس اسے دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے، افسران اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے نے جان بوجھ کر یہودی برادری کو نشانہ بنایا۔

بدھ کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے باہر بات کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر نے تصدیق کی کہ چاقو مارنے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردی قرار دیا گیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے ایک بزرگ شخص کے گلے پر وار کیا اور بعد ازاں ایک اور شخص کو نشانہ بنایا۔

40 سالہ ملزم نے گرفتاری سے قبل پولیس اہلکاروں پر بھی وار کرنے کی کوشش کی تاہم حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا تاہم شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی چاقو بردار شخص کے حملے میں ایک بزرگ کے گلے پر گہرے زخم آئے جب کہ ایک ادھیڑ عمر شخص کے پیٹ پر ضرب لگی زخمیوں میں سے ایک کی عمر 70 سال سے زائد جبکہ دوسرا 30 سال کے قریب ہے۔

ایک زخمی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا ان دونوں زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد دینے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیاجہاں بزرگ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے تاحال پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی اس واقعے کے محرکات کا پتا چل سکا ہے۔

کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے ماہر افسران اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ مل کر تمام حالات اور دہشت گردی سے ممکنہ تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں، کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر کا کہنا ہے، 
اگرچہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ہم تیزی سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا؟

ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ لیوک ولیمز، جو اس علاقے میں پولیسنگ کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ اس ہولناک حملے کے متاثرین کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں، ہم ان افسران کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے مزید نقصان سے قبل فوری طور پر ٹیزر استعمال کر کے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہم جانتے ہیں کہ اس علاقے میں حالیہ متعدد واقعات کے باعث یہ واقعہ لوگوں میں شدید پریشانی اور تشویش پیدا کرے گا۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہودی کمیونٹی پر حملہ دراصل پورے برطانیہ پر حملہ ہے،لندن کے میئر صادق خان نے بھی کہا کہ معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ یہود مخالف واقعات کے خلاف مؤثر اقدامات کرے،اسرائیلی صدر اسحاق ہرزویگ نے اس واقعے کو ناقابل قبول صورتحال قرار دیا۔

واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں ایک لاکھ کے قریب فلسطینی بچے، خواتین، بزرگ اور جوان شہید ہوچکے ہیں جس کے بعد سے دنیا بھر میں یہودی افراد اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

More posts