Baaghi TV

Tag: ماہرین فلکیات

  • رواں سال کا پہلا چاند گرہن 3مارچ کو،پاکستان میں دیکھائی دے گا؟

    رواں سال کا پہلا چاند گرہن 3مارچ کو،پاکستان میں دیکھائی دے گا؟

    رواں سال کا پہلا چاند گرہن 3مارچ کو ہوگا-

    ماہرین فلکیات کے مطابق چاند گرہن کے موقع پر آسمان سرخ رنگ کی روشنی سے منور ہو جائے گا جبکہ مکمل چاند گرہن درحقیقت بلڈ مون ہوگاجس کا آغازپاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 50 منٹ پرہوگامکمل چاند گرہن پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 4 بج کر 33 منٹ پر ہوگا پاکستان میں بلڈ مون کو نہیں دیکھا جاسکے،بلکہ یہ نظارہ وسطی اور شمالی امریکا، شمال مشرقی ایشیا آسٹریلیا اور وسطی بحر الکاہل میں دیکھنے میں آئے گا مگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لائیو اسٹریمز کے ذریعے یہ نظارہ دیکھنا ممکن ہوگا۔

    واضح رہے کہ گرہن کے دوران چاند کی رنگت اس وقت سرخ ہوتی ہے جب زمین، سورج اور چاند کے درمیان میں آجاتی ہے اور اس موقع پر چاند زمین کے سائے کے تاریک ترین حصے سے گزر رہا ہوتا ہے ، جس سے سورج کی روشنی اس تک براہ راست نہیں پہنچتی۔

  • دوربین سے رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش نہ کریں،ماہرین فلکیات کا انتباہ جاری

    دوربین سے رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش نہ کریں،ماہرین فلکیات کا انتباہ جاری

    متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ فلکیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ 17 فروری کورمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے دوران دوربین یا بائنوکولرز کا غیر محفوظ استعمال آنکھوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 17 فروری کو سورج گرہن بھی ہوگا اور غروبِ آفتاب کے وقت چاند سورج کے انتہائی قریب ہوگا جس کے باعث براہِ راست یا بالواسطہ سورج کی تیز شعاعیں آنکھوں پر پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے انٹرنیشنل آسٹرونومی سینٹر جو ابوظہبی میں قائم ہے، کے مطابق 17 فروری کو ریاض میں غرو بِ آفتاب کے وقت سورج اور چاند کے درمیان زاویائی فاصلہ تقریباً ایک درجے کے قریب ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ اگر باریک ہلال موجود بھی ہو تو وہ سورج کے قرص سے تقریباً آدھا درجہ فاصلے پر ہوگا ایسی صورتحال میں اگر کوئی شخص دوربین کو ہلال کی سمت کرے تو سورج یا اس کی تیز روشنی دوربین کے میدانِ نظر میں آ سکتی ہے جو بینائی کیلئے شدید خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب دبئی آسٹرونومی گروپ کی آپریشنز مینیجر خدیجہ الحریری نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ سورج گرہن دن کے وقت ہوگا تاہم غروبِ آفتاب کے وقت بھی چاند سورج کے بے حد قریب ہوگا، اس لیے غیر محفوظ طریقے سے مشاہدہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے اگر کوئی شخص سور ج کےمکمل غروب ہونے کا انتظار بھی کرے تو اُس وقت تک چاند کا نچلا کنارہ افق سے نیچے جا چکا ہوگاجس کے باعث ہلال دیکھنا عملی طور پر ممکن نہیں رہے گا۔

    واضح رہے کہ سائنسی حساب کی بنیاد پر بعض ممالک نے رمضان المبارک کی ممکنہ تاریخ کا اعلان بھی کر دیا ہے جو ممکنہ طور پر 19 فروری ہو سکتی ہے، ماہر ین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ ہلال یا گرہن کا مشاہدہ صرف محفوظ طریقوں اور ماہرین کی رہنمائی میں کیا جائے۔

  • لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت

    لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت

    ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت کر لیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرینِ فلکیات نے ناسا کی جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک نہایت عجیب و غریب سیارہ دریافت کیا ہے جس کی ساخت لیموں سے مشابہ بتائی جا رہی ہےسائنس دانوں کے مطابق اس غیر معمولی سیارے کی خصوصیات ستاروں اور سیاروں کے درمیان موجود روایتی فرق کو دھندلا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین فلکیات نے اس سیارے کو PSR J2322-2650b کا نام دیا ہےیہ سیارہ اپنے مرکزی ستارے کے انتہائی قریب گردش کر رہا ہے جہاں اس کا فاصلہ محض 10 لاکھ میل ہے جو زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے تقریباً 100 گنا کم ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ PSR J2322-2650b کا ایک سال صرف 7.8 گھنٹوں پر مشتمل ہے جو اسے اب تک دریافت ہونے والے تیز ترین مدار والے سیاروں میں شامل کرتا ہےاس سیارے کا مرکزی ستارہ ایک پلسر ہے یعنی ایک انتہائی تیز رفتار گھومنے والا نیوٹرون ستارہ جس کی شدید کششِ ثقل نے سیارے کی ساخت کو بگاڑ کر بیضوی بنا دیا ہے جو دیکھنے میں لیموں کی شکل سے مشابہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس سیارے کا ماحول بھی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے جس میں ہیلیئم اور کاربن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہےانہی عناصر کی وجہ سے سیارے پر نہایت تیز ہوائیں چلتی ہیں، جو اس کے ماحول کو مزید منفرد بنا دیتی ہیں،PSR J2322-2650b جیسی دریافتیں کائنات کی ساخت اور سیاروں کی اقسام کے بارے میں موجود سائنسی تصورات کو چیلنج کرتی ہیں اور یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اجسام دریافت ہوں جو ستاروں اور سیاروں کے درمیان فرق کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔

  • صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہوگا؟

    صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہوگا؟

    اگست 2027 میں سورج کو لگنے والا مکمل سورج گرہن 21 ویں صدی کا سب سے طویل سورج گرہن ہوگا،جس سے 5ممالک اندھیرے میں ڈوب جائیں گے-

    ماہرین فلکیات کے مطابق یہ گرہن کم از کم 6 منٹ اور 23 سیکنڈز تک جاری رہے گا،یہ تاریخی گرہن 2 اگست 2027 کو بحرِ اوقیانوس یا اٹلانٹا اوشین سے شروع ہوگا اور آبنائے جبل الطارق (Strait of Gibraltar) تک پہنچے گا جنوبی اسپین، جبل الطارق اور شمالی افریقہ میں رہنے والے افراد کو اس شاندار فلکی مظہر کا بہترین نظارہ دیکھنے کو ملے گا،ماہرین کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 90 ملین افراد اسے براہِ راست طور پر ’پاتھ آف ٹوٹیلیٹی‘ سے دیکھ سکیں گے، جو کہ اس کی وسعت اور اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ گرہن مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا اور مصر سے ہوتا ہوا سعودی عرب اور یمن کے کچھ علاقوں میں بھی دیکھا جا سکے گا، ان ممالک کے عوام کے لیے یہ ایک نایاب اور قابلِ دید لمحہ ہوگا، جہاں وہ آسمان پر چاند کی تاریکی میں چھپے سورج کو براہِ راست دیکھ سکیں گے آخرکار، یہ گرہن بحرِ ہند میں جا کر ختم ہوگایہ واقعہ 2009 کے بعد پہلا اتنا طویل مکمل سورج گرہن ہو گا اور اگلی بار ایسا گرہن 2114 میں نظر آنے کی توقع ہے-

    بیوہ خواتین سماج کی اجتماعی ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ پنجاب

    ماہرین فلکیات کے مطابق زمین، چاند اور سورج کی خاص ترتیب اس نایاب منظر کا سبب بنتی ہے جہاں دن کے وقت مکمل تاریکی چھا جاتی ہے فلکیاتی اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سورج گرہن کو براہ راست آنکھوں سے دیکھنے سے گریز کریں اور صرف محفوظ چشموں یا فلٹرز کا استعمال کریں، ورنہ آنکھوں کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    سورج گرہن ایک ایسا فلکی مظہر ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے اور سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے، مکمل سورج گرہن کے دوران سورج کا پورا چہرہ چھپ جاتا ہے اور آسمان پر اندھیرا چھا جاتا ہے،جیسے رات کا سماں ہو۔

    ایرانی پارلیمنٹ کا عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون معطل کرنے پر غور

  • پاکستان میں ذوالحج کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟

    پاکستان میں ذوالحج کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟

    ماہرین فلکیات نے کہا ہے کہ 28 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آ سکتا ہے،پاکستان میں عیدالاضحیٰ 7 جون کو ہونے کے قومی امکانات ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ماہرفلکیات ڈاکٹر فہیم ہاشمی نے کہا کہ 27 مئی کو پاکستان میں نیا چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے 27 مئی کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 11 گھنٹے ہوگی،28 مئی کو چاند کی عمر 35 گھنٹے سے زائد ہوگی، 28 مئی کو ذوالحج کا چاندنظر آنے کا امکان ہےپاکستان میں عیدالاضحی 7 جون کو ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، واضح رہے کہ ذوالحج کی رویت سے متعلق حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔

    پاکستان کی آپریشن "بُنیان مرصوص” کے دوران شاہین میزائل استعمال کے بھارتی دعوؤں کی تر دید

    اسرائیلی فوج غزہ پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرلےگی،اسرائیلی وزیراعظم

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

  • زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر عجیب ساخت کامردہ ستارہ دریافت

    زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر عجیب ساخت کامردہ ستارہ دریافت

    کائنات کے راز آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آرہے ہیں ،حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کائنات کے ایک دور دراز حصے میں ایک ایسا مردہ ستارہ پایا گیا ہے جس کی سطح پر کانٹے نما اجسام ابھرے ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق یہ ستارہ زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے یہ مردہ ستارہ حیرت انگیز طور پر گرم گندھک کے لمبے اجسام میں لپٹا ہوا ہے فلکیات کا مطالعہ کرنے والوں نے تقریباً 900 سال قبل اس ستارے کے سُپرنووا میں تبدیل ہونے کی اطلاع دی،یہ بات کسی کو نہیں معلوم نہیں کہ سُپرنووا دھماکے نے اس مردہ ستارے کے گرد یہ اجسام کیسے بنائے۔

    ہارورڈ اینڈ سمتھسونین سینٹر فار ایسٹرو فزکس کے ماہر فلکیات ٹم کننگھم نے ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں اپنی نئی دریافت سے متعلق بتایا یہ سُپرنووا کی انتہائی عجیب باقیات کا مشاہدہ پہیلی کا ایک ٹکڑا ہے۔

    جب پائلٹ اپنا پاسپورٹ لے جانا بھول گیا، مسافروں سمیت پرواز واپس لانی پڑی

    رپورٹ کے مطابق چینی اور جاپانی ماہرین فلکیات کی جانب سے پہلی بار اس سپرنووا کو 1181 میں آسمان میں ایک نئے ستارے کے طور پر مشاہدہ کیا گیا تھا لیکن جدید فلکیاتی ماہرین کو سال 2013 تک مذکورہ ستارے کی باقیات نہیں ملیں، جسے اب Pa 30 نیبولا کہا جاتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل رجسٹرار کے تبادلے

    جب انہوں نے اس مردہ ستارے کی باقیات کو تلاش کیا تو یہ انہیں عجیب حالت میں ملا جو کہ سُپرنووا کی ایک قسم میں دکھائی دیا جسے ٹائپ 1 اے کہا جاتا ہےاس قسم کے سپرنووا میں ایک سفید بونا ستارہ شامل ہوتا ہے جو دھماکے کے عمل میں خود کو تباہ کر دیتا ہےلیکن اس پی اے 30 کے معاملے میں ستارے کا کچھ حصہ محفوظ رہا-

    متبادل راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈمپرز اور ٹینکر شہر سے گزرتے ہیں،مرتضیٰ وہاب

  • ”ٹی کرونا بوریالس“  نامی ستارہ آئندہ ہفتے تباہ ہونیوالا ہے

    ”ٹی کرونا بوریالس“ نامی ستارہ آئندہ ہفتے تباہ ہونیوالا ہے

    ماہرین فلکیات کے مطابق ”ٹی کرونا بوریالس“ نامی ستارہ، جو شمالی تاج کہکشانی جھرمٹ میں موجود ہے، ایک زبردست ”نووا“ دھماکے کے قریب ہے، جو ہر 80 سال میں ایک بار ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کےمطابق یہ شاندار دھماکہ انسانی آنکھ سے بغیر کسی دوربین کے دیکھا جا سکے گا، جو 1946 کے بعد پہلی بار فلکیاتی شائقین کے لیے ایک نایاب موقع ہوگا یہ ستارہ ایک دوہرے ستاروں کے نظام پر مشتمل ہے، جس میں ایک سرخ دیو (Red Giant) اور ایک سفید بونا (White Dwarf) شامل ہیں سرخ دیو عمر بڑھنے کےساتھ ساتھ ٹھنڈا ہو رہا ہےاور اپنا مادہ خلا میں پھینک رہا ہے، جبکہ سفید بونا ستارہ، جس کا ایندھن ختم ہو چکا ہے، اس مادے کو جذب کر رہا ہے۔

    وقت کے ساتھ، جب سفید بونا ستارہ سرخ دیو کے مادے کو جذب کرتا رہتا ہے، تو ایک حد کے بعد تھرمو نیوکلیئر دھماکہ ہوتا ہے۔ یہ دھماکہ ستارے کی چمک میں زبردست اضافہ کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ زمین سے بغیر کسی دوربین کے دکھائی دینے لگتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 27 مارچ کو یہ نایاب فلکیاتی مظہر وقوع پذیر ہوسکتا ہے اور چند راتوں تک کھلی آنکھ سے نظر آسکتا ہے اس کی چمک رات کے آسمان میں شمالی ستارے جتنی روشن ہو سکتی ہے، جو آسمان کا 48 واں سب سے زیادہ چمکدار ستارہ ہے۔

    تاریخی شواہد کے مطابق، ٹی کرونا بوریالس (T Coronae Borealis) کے دھماکے 1787، 1866 اور 1946 میں ریکارڈ کیے گئے تھے، جو اس کے متوقع اور باقاعدہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں اسی طرح کا سلسلہ ہیلی کا دمدار ستارے کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے، جو ہر 76 سال بعد زمین کے قریب سے گزرتا ہے۔

    سیٹی انسٹی ٹیوٹ کے ماہر فرینک مارشس کے مطابق، گزشتہ ستمبر سے ٹی کرونا بوریالس کی تفصیلی نگرانی کی جا رہی ہے، جس میں ایسے اشارے ملے ہیں جو اس دھماکے کی پیشگوئی کر رہے ہیں، تاہم، ابھی تک یہ نظریاتی مطالعہ ہے، اور اس کے نتائج مکمل طور پر یقینی نہیں ہیں۔

    ناسا کے گورڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر کے ایک محقق ڈاکٹر ہونسل نے کہا ہے کہ یہ ”زندگی میں ایک بار“ پیش آنے والا واقعہ ہے، جو نوجوان فلکیاتی ماہرین کو براہ راست ایک کائناتی مظہر کا مشاہدہ کرنے، سوالات پوچھنے اور اپنا ڈیٹا جمع کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے، یہ نووا (nova) واقعہ فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک نادر موقع ہوگا، جو آسمان پر ایک شاندار فلکیاتی مظہر دیکھ سکیں گے۔

  • کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن دریافت

    کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن دریافت

    ماہرین فلکیات نے کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن اور بھاری دھاتوں جیسے عناصر دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق یہ کہکشاں زمین سے 13.4 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کائنات کے ابتدائی دور میں بنی تھی بگ بینگ کے نتیجے میں کائنات 13.8 ارب سال قبل وجود میں آئی تھی۔

    یہ غیر معمولی طور پر بڑی اور روشن کہکشاں، جسے ”JADES-GS-z14-0“ کا نام دیا گیا ہے، سب سے پہلے جنوری 2024 میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے دریافت کی گئی تھی یہ دوربین انفراریڈ روشنی میں مشاہدہ کرتی ہے، جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتی، اور کائنات کی قدیم ترین کہکشاؤں کی کھوج میں مدد دیتی ہے۔

    حماس کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ

    یہ روشنی، جو کہکشاں سے نکل کر زمین تک پہنچی، 13.4 ارب سال کا سفر طے کر چکی ہے، یعنی ماہرین 300 ملین سال پرانی کائنات کو دیکھ رہے ہیں بعد ازاں، چلی کے آٹاکاما ریجن میں موجود ALMA“ (Atacama Large Millimeter/submillimeter Array)“ نامی رصد گاہ نے اس کہکشاں کا مزید مشاہدہ کیا اور حیران کن طور پر وہاں آکسیجن اور بھاری دھاتوں کی موجودگی کا سراغ لگایا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کہکشائیں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی تھیں۔

    لیڈن یونیورسٹی کے ماہر فلکیات سینڈر شوؤس نے کہا، ’یہ ایسا ہے جیسے وہاں کسی نوجوان کو پایا جائے جہاں صرف نوزائیدہ بچے ہونے چاہیے تھے،یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ ابتدائی کہکشائیں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی اور پروان چڑھیں۔

    کچے میں 45 ڈاکو ہلاک اور67 کو گرفتار کیا گیا ، مجتبیٰ شجاع الرحمان

    JADES-GS-z14-0 کی ساخت اور اس میں بھاری دھاتوں کی مقدار نے ماہرین کو ششدر کر دیا ہےعام طور پر، کہکشائیں ہائیڈروجن اور ہیلیئم جیسی ہلکی گیسوں سے بنتی ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ ستارے بھاری عناصر پیدا کرتے ہیں لیکن اس کہکشاں میں توقع سے 10 گنا زیادہ بھاری عناصر پائے گئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہاں کئی نسلوں کے بڑے ستارے پہلے ہی پیدا ہو کر ختم ہو چکے ہیں۔

    اٹلی کی اسکولا نورمالے سپیریوری کے ماہر فلکیات ڈاکٹر اسٹیفانو کارنیانی کہتے ہیں کہ ’یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں ابتدائی کہکشائیں بہت تیزی سے اپنا ماس اکٹھا کر لیتی ہیں، جو موجودہ ماڈلز کے برعکس ہے۔

    اوکاڑہ: غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    یہ کہکشاں اپنی بڑی جسامت اور حیرت انگیز روشنی کی وجہ سے بھی ماہرین کے لیے دلچسپی کا باعث بنی ہے شوؤس کے مطابق، جیمز ویب نے تقریباً 700 دور دراز کہکشاؤں کا جائزہ لیا، لیکن یہ کہکشاں سب سے زیادہ دور ہونے کے باوجود تیسری سب سے روشن نکلی۔

    عام طور پر، ماہرین کا ماننا تھا کہ قدیم کہکشائیں زیادہ چھوٹی اور مدھم ہوں گی، کیونکہ اس وقت کائنات بھی چھوٹی تھی مگر JADES-GS-z14-0 نے اس نظریے کو چیلنج کر دیا ہے شوؤس نے کہا کہ یہ ابتدائی کہکشائیں آج کی معروف کہکشاؤں سے بہت مختلف ہیں یہ زیادہ کمپیکٹ، گیس سے بھرپور اور بے ترتیب ہیں اس دور میں ستارے ایک محدود جگہ میں بہت تیزی سے تشکیل پا رہے تھے، جس سے کہکشاؤں میں زیادہ شدت دیکھی جا سکتی ہے۔‘

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، تھانہ آئی نائن حملے میں ملوث 2 خطرناک دہشتگرد گرفتار

    یہ دریافت اس بات کا بھی اشارہ دیتی ہے کہ ابتدائی کہکشاؤں میں ستارے زیادہ بڑے اور زیادہ مقدار میں پیدا ہوئے ہوں گے، جو ان کی غیر معمولی روشنی کی وضاحت کرتا ہے۔

    شوؤس نے اس کا موازنہ شمعوں سے کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے پاس ایک بڑی لو والی شمع ہو سکتی ہے (جو بڑے ستاروں کی طرح زیادہ روشن ہوتی ہے) یا ایک چھوٹی، دیرپا جلنے والی شمع (جو عام ستاروں کی مانند ہوتی ہے)، ماہرین اس کہکشاں کا مزید مطالعہ کرنا چا ہتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ منفرد ہے، یا اگر مزید ایسی کہکشائیں بھی موجود ہیں جو جلدی تشکیل پا کر روشن ہو چکی تھیں۔

    یوکرین کا روسی نیوکلئیر بمبار طیاروں کے بیس پر حملہ

    یورپی ماہر فلکیات گیرگو پاپنگ نے کہا یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی کہکشائیں بگ بینگ کے بعد توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی تھیں یہ ALMA رصدگاہ کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو کائنات کے ابتدائی حالات کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے۔‘

    کارنیانی نے کہا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور ALMA کی مشترکہ تحقیقات کائناتی سحر انگیزی کے ابتدائی رازوں سے پردہ اٹھا سکتی ہیں، اور یہ بتا سکتی ہیں کہ ابتدائی ستارے اور کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں، یہ دریافت کائنات کے جنم کے بعد ہونے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

    موجودہ حالات میں قومی اتفاقِ رائے کی اشد ضرورت ہے، طارق فضل چوہدری

  • زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    یورپی خلائی ایجنسی نے ایک ایسے سیارچے کی نگرانی شروع کر دی ہے جو 2032 میں زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈٰا کے مطابق سیارچہ YR4 27 دسمبر 2024 کو چلی میں ایک دوربین کے ذریعے دیکھا گیا لیکن اس کے بعد سے اس نے امریکا کے ساتھ ساتھ یورپ کے ماہرین فلکیات کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    یورپی ایجنسی نے بیان میں کہا کہ جنوری کے اوائل سے، ماہرین فلکیات دنیا بھر میں دوربینوں کا استعمال کرتے ہوئے اور نئے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے سیارچے کے سائز اور رفتار کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بنانے کے لیے اس کا مسلسل مشاہدہ کر رہے ہیں۔

    ایسٹرائیڈ 2024 وائے آر 4 کو چلی کی ایک ٹیلی اسکوپ نے سب سے پہلے دسمبر 2024 میں دیکھا تھا مگر اب امریکی اور یورپی خلائی اداروں نے اسے زمین کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔

    خانہ جنگی کے شکار سوڈان میں مارکیٹ پر بمباری میں 54 افراد ہلاک اور 158 زخمی

    موجودہ تخمینوں کی بنیاد پر 1.3 فیصد امکان ہے کہ 328 فٹ چوڑا سیارچہ 22 دسمبر 2032 کو زمین سے ٹکرائے گاجبکہ 99 فیصد امکان ہے کہ یہ زمین کے قریب سے گزر جائے گااس سائز کا سیارچہ اوسطاً ہر چند ہزار سال بعد زمین پر اثر انداز ہوتا ہے اور کسی مقامی علاقے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    ایڈنبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر کولین سنوڈگراس نے بتایا کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ سیارچہ زمین کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر گزر جائے گا مگر پھر بھی اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس کے راستے کی زیادہ بہتر پیشگوئی کی جاسکے۔

    اس بار لانگ مارچ کیلئے نکلے تو کسی سے کوئی بات نہیں ہو گی،جنید اکبر

    اسے زمین کے لیے خطرہ قرار دیئے جانے والے سیارچوں کی فہرست کی کیٹیگری 3 میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ اس کا زمین سے ٹکرا نے کا امکان ایک فیصد یا اس سے زیادہ ہے اس فہرست میں 0 سے لے 10 کیٹیگریز شامل ہیں اور 10 میں سب سے زیادہ خطرے کا باعث بننے والے سیارچوں کو شامل کیا جاتا ہے، اب تک کیٹیگری 10 میں کوئی سیارچہ شامل نہیں ہوا بس ایک بار سیارچے Apophis کو کیٹیگری 4 شامل کیا گیا جو 2004 میں شہہ سرخیوں کا حصہ بنا تھا۔

    سعودی طیارہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر لینڈنگ سے پہلے راستہ بھٹک گیا

    ماہرین کے مطابق ایسٹرائیڈ 2024 وائے آر 4 جتنے بڑے سیارچے زمین کو تباہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں مگر اس سے کسی شہر کو بہت زیادہ تباہی تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے،اس سیارچے کے باعث اقوام متحدہ کے توثیق شدہ 2 عالمی ایسٹرائیڈ ریسپانس گروپس ضرور متحرک ہوگئے ہیں تاکہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیاری کو یقینی بنایا جاسکے۔

  • آج دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جائے گا

    آج دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جائے گا

    لاہور:پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں دن اور رات کا دورانیہ آج 22 ستمبر کو لگ بھگ برابر ہو جائے گا۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق رات اور دن کا دورانیہ سال میں دو بار 22 مارچ اور 22 ستمبر کو برابرہوتا ہے، آج بھی دن اور رات کا دورانیہ تقریباً 12،12 گھنٹے پر محیط ہو گا۔

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج سال میں دو مرتبہ خط استواسے گزرتا ہے، پہلی مرتبہ 22 مارچ کو جنوبی کرہ میں واقع خط جدی سے شمالی کرہ میں واقع خط سرطان کی جانب سفر کے دوران اس روز دن اور رات تقریباً برابر ہوتے ہیں۔اسی طرح 22 ستمبر کے روز بھی سورج عین خط استواء پر ہوتا ہے اور دن ، رات 12،12 کے دورانے پر مشتمل ہو تے ہیں، خط استوا دنیا کے نقشے پر بالکل درمیان میں کھینچا گیا ایک فرضی خط یا لکیر ہے جو ہماری دنیا کو شمال اور جنوب کی طرف دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔

    روس نے یوکرین کے حملوں سے بچنے کے لیے جنگی طیاروں کو چھپا دیا

    لوگ سمجھ چکے کہ عمران خان پروجیکٹ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے، احسن اقبال

    حکومت کا اضافی قرضوں پر ملک کے انحصار کو کم کرنے کا فیصلہ