Baaghi TV

Tag: ماہرین

  • بچوں کے20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    بچوں کے20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    بچوں کے 20 منٹ تک ورزش کرنے کے بہت سے فوائد،

    باغی ٹی وی: میری لینڈ میں ایک تحقیق کی گئی ہے۔جس میں اس بات کا انکشاف کیا جا چکا ہے کہ اگر لڑکے اور لڑکیاں روز پورے 20 منٹ کیلئے ورزش کریں تو اس سے بہتر طبی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ورزش کے بعد ان لوگوں کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ جرنل پیڈیا ٹرکس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔اگر بچے روزانہ 20 منٹ ورزش کرتے ہیں تو اس سے ان کی صحت بہت اچھی رہتی ہے۔20 منٹ روزانہ ورزش کرنے کے بعد دل بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اور پھیپھڑے بھی تندرست رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سانس لینے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔ اور آکسیجن کی کمی بھی نہیں ہوتی ہے۔

    مزید برآں یہ کہ جب یہ تحقیق کی جا رہی تھی تو اس تحقیق میں 300 سے زائد بچے شامل کئے گئے تھے۔ اور ان بچوں کی عمر 15 برس سے کم تھی اور اس دوران ان سب بچوں کو ان کی کلائیوں پر شدت دیکھنے کیلئے سینسر پہنائے گئے تھے۔ کیونکہ ان بچوں کو دو سال اسکول کے دوران تحقیق کرنے کیلئے ورزش کے عمل سے گزارا گیا تھا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ 20 منٹ تک مسلسل ورزش کرنے سے بچوں کی صحت میں بہت اچھے اثرات مرتب ہوۓ ہیں۔

    ورزش کرنے اور اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے حوالے سے ماہرین نے لڑکے اور لڑکیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک گھنٹہ پیدل چلنے کے بجاۓ اگر 20 منٹ ورزش کر لیں تو یہ عمل ان کیلئے زیادہ بہتر۔ثابت ہو گا۔

  • ماہرین نےجھوٹ پکڑنے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا

    ماہرین نےجھوٹ پکڑنے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا

    لندن: سائنسدانوں نے جھوٹ پکڑ نے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی :ماہرین کا خیال ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران لوگوں سے مختلف کام کروانے سے ان کا جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق سچائی بیان کرنے کے مقابلے میں جھوٹ بولنے میں بہت زیادہ دماغی قوت اور توانائی صرف ہوتی ہے اور اس دوران مشکوک شخص سے کوئی کام کروایا جائے تو وہ اسے ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے پاتا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ میں کی گئی تحقیق کے مطابق بڑے بڑے جھوٹے افراد سے تفتیش کے دوران ایک اور کام کرایا جائے تو وہ اس میں ناکام رہتے ہیں یا توجہ کھو دیتے ہیں مثلاً تفتیش کے دوران کسی مرد یاعورت کوسات ہندسوں والا گاڑی کارجسٹریشن نمبر دوہرانے کو کہا جائے تو اس سے جھوٹ پکڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    تجرباتی طورپر 164 افراد کو شامل کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ خبروں میں آنے والے سماجی معاملات یا رحجانات کی تائید کریں یا اس کے مخالفت کریں۔ پھر انہیں تین ایسے موضوعات پر بات کرنے کے لیے کہا گیا جنہیں وہ اہم ترین سمجھتے ہیں۔

    ان افراد کو جھوٹ اور سچ والے گروہوں میں بانٹا گیا یعنی سچ بولنےوالے گروہ سے کہا گیا کہ وہ جس معاشرتی مسئلے پر سوچتے ہیں وہ درست انداز میں بیان کریں تاہم دوسرے گروہ سے کہا گیا کہ وہ جو کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں اس کا الٹ اور جھوٹ نقطہ نظرفراہم کریں۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    اب جھوٹے افراد کےگروہ کو تفتیش کے دوران اچانک پوچھا گیا کہ ان کی گاڑی کا سات عددی رجسٹریشن نمبر کیا ہے حیرت انگیز طور پر آدھے افراد اپنی کار کا نمبر بیان کرنے سے قاصر رہے کیونکہ وہ جھوٹ بولنے میں مصروف تھےاور دماغ وہاں لگا ہوا تھاآخر میں ان سے کاغذ پر اپنی رائے لکھنے کو بھی کہا گیا۔

    سچ بولنے والے افراد کی اکثریت نے اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر دوہرایا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دروغ گوئی پر اتر آئے تو سوال و جواب کے دوران اس کی ذات سے وابستہ سچ باتیں اگلوائی جائیں تو وہ انہیں بیان کرنے میں ناکام رہتا ہے اس طرح کسی بھی شخص کے جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

    جامعہ کی شعبہ نفسیات کےپروفیسرایلڈرٹ رِج گزشتہ 15 برس سےجھوٹ پکڑنےوالےطریقوں پر غور کر رہے ہیں پروفیسر ایلڈرٹ کہتے ہیں کہ اس طرح جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب جھوٹ بولنے والے شخص کو کسی طرح کا سچ بولنے کا موقع دیا جائے تو وہ جھوٹ اور سچ دونوں کو ہی اہمیت دیتا ہے لیکن اگر اسے یہ موقع نہ دیا جائے تو وہ سچ بولنے کے عمل کو نظرانداز کرنے لگتا ہے۔

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

  • اومی کرون سے متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج نہیں رہتا

    اومی کرون سے متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج نہیں رہتا

    تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا کی نئی قسم اومی کرون مریض کو زیادہ بیمار نہیں کرتی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی تیزی سے پھیلتی نئی قسم اومی کرون میں یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ اومی کرون مریض کو زیادہ بیمار نہیں کرتی اور نہ ہی کورونا کی اس نئی قسم کا متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج رہتا ہے۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    جنوبی افریقہ سائنسدانوں نے گزشتہ دو ہفتوں کی رپورٹ کی بنیاد پر کہا ہے کہ کورونا کی نئی قسم کے تیزی سے پھیلنے کے شواہد نہیں ملے اور جنوبی افریقہ میں اب تک ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 22 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ "ڈیلٹا” کے پھیلنے کے وقت سب سے زیادہ 26 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

    "اومی کرون” نوجوانوں کو متاثر کررہا ہے ،افریقی ڈاکٹر

    رپورٹ کے مطابق اومی کرون اب تک جنوبی افریقہ کے 9 صوبوں تک پھیل چکا ہے اومی کرون سے متاثرہ شخص میں سنگین علامات دکھائی نہیں دیتیں تاہم اسے کم شدت والی قسم قرار دینا قبل ازوقت ہو گا اس کے لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون گزشتہ 2 ہفتوں میں 60 سے زائد ممالک تک پھیل چکی ہے تاہم اس سے متاثرہ افراد میں موت کی شرح انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

    برطانیہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    اس سے قبل کورونا کے نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ایک افریقی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’او می کرون‘ کی علامات بہت ہی معمولی ہیں اور یہ وائرس 40 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

    کیٹیگری سی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو 31 دسمبر تک وطن واپسی کی اجازت

    ساؤتھ ایفریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوئیٹزی نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے کلینک میں سات ایسے مریض دیکھے جن کی علامات ڈیلٹا سے مختلف تھیں مریضوں کے پٹھوں میں ہلکا درد، خشک کھانسی اور گلے میں خراش تھی۔

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    ڈاکٹرکوئیٹزی نے کہا تھا کہ جب سات مریضوں میں مختلف علامات ظاہر ہوئیں تو انہوں نے 18 نومبر کو محکمہ صحت کے حکام کو ایک ’کلینیکل تصویر جو ڈیلٹا سے مطابقت نہیں رکھتی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    برطانیہ میں حالات کنٹرول سے باہر: اومی کرون کا پھیلاؤ تیز، کورونا الرٹ لیول 3 سے…

    انہوں نے مزید بتایا تھا کہ ڈیلٹا کے مقابلے میں کورونا کی اس نئی قسم سے متاثر افراد کی نبض کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے جس کی وجہ خون میں آکسیجن کی سطح میں کمی اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی ہوتی ہے اس بار کووڈ کی علامات مختلف ہیں جو ڈیلٹا کی نہیں ہوسکتیں، بلکہ یہ علامات یا تو بیٹا سے ملتی جلتی ہیں یا یہ کوئی نئی قسم ہے، مجھے توقع ہے کہ اس نئی قسم کی بیماری کی شدت معمولی یا معتدل ہوگی، ابھی تک تو ہم اسے سنبھالنے کے لیے پراعتماد ہیں-

    لندن : جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر کا خطرہ،سائنسدانوں نے خبردار کر دیا