باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ارشد شریف قتل کیس ایک ایسا معمہ بن چکا ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید الجھتا جا رہا ہے ۔ روز ایک ایسا انکشاف ہوتا ہے جو پہلے انکشاف پہ بھاری ہوتا ہے ۔ روز ایک نئی داستان جنم لیتی ہے اور روز ایک نئی کہانی سننے کو ملتی ہے ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کچھ کہتی ہے حکومت کچھ اور کہتی ہے۔جبکہ ہمارا عدالتی نظام کچھ اور ہی رام کتھا سنا رہا ہے ۔لیکن اس سارے سلسلے میں ایک مخصوص طبقہ ۔۔ بلکہ مخصوص کیوں کہنا ہے میں نام ہی لے لیتا ہوں کہ تحریک انصاف اور ان کے چاہنے والے کچھ لوگ جو تحریک انصاف کےلیے اپنے دل میں Soft Cornerرکھتے ہیں ۔ وہ لوگ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس سارے معاملے کو متنازعہ بنانا چاہ رہے ہیں ۔ متنازعہ بنانے کے پیچھے کونسے سنگین قسم کے عزائم چھپے ہیں ؟ حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے جو پانچ سو بیانوے صفحوں کی ایک رپورٹ بنائی ہے اس کی کیا اہمیت ہے ؟اور یہ سارا معاملہ کس جانب دھکیلنے کی کوشش ہور ہی ہے ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلے میں آپ کو Briefly فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے بارے میں بتا دیتا ہوںکہ انھوں نے جو ریاست کے وسائل کے استعمال کیے ہیں ۔ کینیا اور دبئی کے چکر کاٹے ہیں کینیا کی پولیس سے بات کی ہے۔دونو ں مشکو ک کردار وقار اور خرم سے بات کی ہے ۔ تو ان ساری تحقیقات یا پھر تحقیقات کے نام پر جو کچھ بھی ہوتا رہا ہے اس میں کیا باتیں سامنے آئی ہیں؟رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ارشد شریف کو غلطی سے نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ بندی کے تحت گولی ماری گئی ۔کمیٹی کے اراکین نےوقار احمد اور خرم احمد سمیت وقار کی بیوی سے بھی تفتیش کی کینیا کی پولیس سے بھی گفتگو ہوئی اور اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس اہلکاروں کے بیانات تضادات سے بھرپور ہیں ۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ کینیا کی پولیس نے تحقیقات میں کوئی تعاون نہیں کیا رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جس جگہ ارشد شریف کی گاڑی تھی وہ علاقہ کاروں کی سمگلنگ کےلیے مشہور ہے اور وہاں پر پولیس کی رکاوٹیں کھڑی کرنے والی ساری باتیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں ۔ وہ صرف ایک کہانی ہے۔رپورٹ میں ارشد شریف پر چلائی جانے والی گولی کے حوالے سے ایک اہم بات سامنے آئی جس کے مطابق ارشد شریف کو ایک گولی کمر کے اوپری حصے میں لگی ۔۔گولی گردن سے تقریباً چھ سے آٹھ انچ نیچے لگی جو سینے کی جانب سے باہر نکلی یعنی اس زخم سے ایک بات واضح ہو گئی کہ گولی قریب سے چلائی گئی۔ارشد شریف کو کمر پر بھی گولی ماری گئی لیکن جس سیٹ پر ارشد شریف بیٹھے ہوئے تھے اس کی سیٹ پرگولی کا کوئی نشان نہیں۔یعنی ارشدشریف کو کسی اور جگہ پہلے لے جایا گیا ۔ وہاں گولی چلائی گئی اور پھر انھیں گاڑی میں بٹھایا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق خرم احمد اور وقار احمد کے الگ الگ انٹرویو کیے گئے اور دونوں کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں مل رہے تھے ۔ جب ارشد شریف کو قتل کیا گیا تو اس وقت ان کی گاڑی خرم احمد چلار ہے تھے خرم احمد نے ہی ارشد شریف کے ویزے کو Sponsorکیا ۔رپورٹ کے مطابق وقار احمد نے پہلے فارم ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج دینے سے پہلے آمادگی ظاہر کی لیکن پھر انھوں نے فوٹیج دینے سے معذرت کرلی۔یعنی دال میں کچھ کالا نہیں ہے بلکہ پوری دال ہی کالی ہے ۔
ایتھے رکھ، گھڑی چوروں کی منجھی ٹُھک گئی، بشری، زلفی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے،آڈیو لیک پرمبشر لقمان نے بینڈ بجا دی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آڈیو آنے کے بعد اب کیا منہ دکھائیں گے کہ ہم نے گھڑی نہیں بیچی، کیا یہ جھوٹا الزام ہے؟ کیا آپ یہ کہیں گے کہ میں جو گھڑی بیچی وہ یہ نہیں تھی، جس کو گھڑی بیچی گئی اس دکان کا نام ہے،آرٹ آف ٹائم، سب رسیدیں موجود ہیں،
سابق وزیراعظم عمران خان کی گھڑی کے مبینہ خریدار تاجر شفیق کا بیان سامنے آیا ہے۔عمران خان کی گھڑی کے مبینہ خریدار نے بتایا کہ میرا نام محمد شفیق ہے اور جناح سپر مارکیٹ ایف 7 میں میری دکان ہے، میرے خلاف پروپیگنڈا چل رہا ہے کہ میں نے عمران خان کی گھڑی خریدی ہے۔ محمد شفیق کا کہنا ہے کہ نہ میں نے کوئی گھڑی خریدی اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے، نہ وہ میرا بل ہے، نہ دستخط ہیں، نہ میری لکھائی ہے۔ میرا نام سامنے آنے پر مجھے پریشانی ہو رہی ہے، مجھے کوئی علم نہیں، میں اس چیز کی تردید کرتا ہوں کہ میں نے وہ گھڑی نہیں خریدی،میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، بار بار میرا نام لیا جا رہا ہے، اگر کوئی دوبارہ مجھے اس معاملے پر گھسیٹے گا تو قانونی کروائی کروں گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 2018 سے ٹیکس ریٹرن اٹھا لیں، محمد شفیق کا ٹیکس آفس پنڈی ہے، ایڈریس انکا جناح سپر کا ہے، یہ 2014 سے فائلر ہیں، انکا ٹیکس ڈیٹا 2018 میں بزنس کیپٹل 14 لاکھ سے اوپر تھا، 2019 میں بزنس کیپٹل اتنا ہی رہا اور کیش چالیس لاکھ ہو گیا، اسکے بعد پھر کم ہو گیا، 2021 میں بزنس کیپٹل 20 لاکھ ہو گیا اور کیش 67 لاکھ ہو گیا، اب جس کا ٹوٹل ایسڈ ہی 88 لاکھ کا ہو ،2019 میں 54 لاکھ کے اثاثے تھے وہ پانچ کروڑ کی گھڑی کیسے خرید سکتا ہے، ہاتھ سے لکھی ہوئی رسیدیں عمران خان کو دے دیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی تاریخ میں دو ہی ایماندار حکمران گزرے، ایک اورنگزیب عالمگیر، جو ٹوپیاں بنا کر گزارہ کرتے تھے، دوسرے عمران خان جن کا پتہ چل گیا ہے کہ وہ گھڑیاں کہاں بیچتے ہیں، دنیا مین کچھ نایاب گھڑیاں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو اسکی اوقات دکھاتی ہیں، جب وہ کسی بے اوقاتے کے پاس چلی گئیں تو پھر تب پتہ چلتا ہے، ہمارے ملک کے صادق و امین کو اسکی اوقات ایک گھڑی نے دکھا دی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نواز شریف سے متعلق ایک بات بتاؤں، الفاظ کا چناؤ صحیح کرنے دیں، ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جنکا غلط مقصد ہو،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مہوش تبسم کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے انکے خلاف پروگرام کئے، آج بھی کہتا ہوں وہ پروگرام صحیح ہیں، میاں صاحب غلط بیانی کر کے، غلط ایفی ڈیورٹ دے کر پاکستان سے باہر گئے، ڈاکٹر یاسمین راشد کو پنجاب میں اس حوالہ سے پوچھا جانا چاہئے، شوکت خانم ، عثمان بزدار بھی نواز شریف کی غلط رپورٹ اور انکو باہر بھجوانے کے ذمہ دار ہیں، ہر قسم کا قانون توڑا گیا، جیل سے ہسپتال بھجوایا گیا پھر پاکستان سے باہر بھجوایا گیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف جب باہر گئے اور انکے پلیٹ لٹس کم ہوتے تو انکی تصویریں جو آئیں وہ کچھ اور دکھا رہی ہیں، نوا شریف کی تصویریں دیکھیں ، وہ گئے اور اسکے بعد کوئی ایمرجنسی نہیں ہوئی کہ ایک رات بھی علاج کروایا ہو، پہلے تو کرونا کا بہانہ تھا، وہ ایمرجنسی میں گئے تھے اور انکو پرائیویٹ علاج کروانا تھا لیکن نہیں کروایا گیا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں آج کے بعد عمران خان کی تعریفیں کروں گا۔ میں ان کی خوبیاں گنواوں گا۔ میں ان کے ہر غلط کام کا دفاع کروں گا تو آپ بالکل غلط سوچ رہے ہیں ۔ عمران خان جب جب جب ٹھیک بات کریں گے ہم ان کی تعریف کریں گے ۔ عمران خان جب اس قوم کے ساتھ مذاق کریں گے ہم عمرا ن خان کو آئنہ دکھائیں گے ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پربات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیونکہ بالآخر عمران خان کو وہ سارے آستین کے سانپ نظر آنا شروع ہو گئے ہیں جن کے بارے میں فیصل واوڈا نے بات کی تھی ۔ انھوں نے حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا ہے ۔ انھوں نے ریاست ۔ معیشت اور عوام کی چولیں ہلانے کے بعد فیصلہ کر لیا ہے کہ سیاست اس طرح نہیں کی جاتی ۔ نا ہی اداروں کے ساتھ ٹکر لی جاتی ہے سانپوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی بجائے اب انھوں نے خود اپنی بینائی استعمال کر نا شروع کر دی ہے ۔اب وہ غفلت کی نیند سے بیدا ر ہوتے نظر آ رہی ہیں۔ عمران خان کی ہوا اتنی بدلی بدلی کیسے ہے ؟عمران خان نے جس ٹرک کی بتی کے پیچھے عوام کو لگایا ہوا تھا کیا اس ٹرک نے نیاموڑ لے لیا ہے اور ایک نئی سڑک پر چل نکلا ہے۔یا پھر ایک نئی ٹرک کی بتی تیار ہے ۔اگلے الیکشن کب ہونگے اور ان میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج عمران خان نے جب پارٹی اراکین سے خطاب کیا تو ان کے لہجے میں پہلے سے کافی زیادہ ٹھہراوتھا ان کی زبان میں نرمی تھی ۔ ان کے پاس سیاسی مخالفین کو گالی اور ان کا نام بگاڑنے کی بجائے۔بیان کرنے کو مسائل تھے گوکہ وہ ریاست کے مسائل کو اپنا مسئلہ بنا کر پیش کر رہے تھے لیکن ان کے پاس امریکی سازش سائفر اور رجیم چینچ کے بیانیے کے علاوہ بولنے کےلیے کافی کچھ چیزیں تھیں ۔ کیونکہ عمران خان کو سمجھ آ چکی ہے کہ انسان چاہے جتنا مرضی سازشی تھیوریاں گھڑ لے وہ زیادہ دیر تک عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتا۔انھیں سمجھ آ چکی ہے کہ انسان جتنا مرضی ادروں کے خلاف آواز بلند کر لے ادارے ملک کے دفاع کے پاسبان ہوتے ہیں ۔ ان پر انگلی اٹھانے سے سیاست نہیں چمکائی جا سکتی انھیں سمجھ آ گیا ہے کہ میر جعفر او ر میر صادق کہنے سے ۔ اداروں کے سربراہوں کو غدار کہنے سے اقتدار کی راہ نہیں ہموار کی جا سکتی انھیں سمجھ آ چکی ہے کہ سیاست کرنے کےلیے صرف بیانیہ ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ آپ کو عملی طور پر بھی کچھ کر کے دکھانا پڑتا ہے ۔انھیں سمجھ آ چکی ہے کہ لانگ مارچ کرنے سے ۔ لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے سے انتخابات کی تاریخ کسی بھی صورت نہیں ملا کرتی ۔انھیں یہ بھی اچھی طر ح سے سمجھ آ چکا ہے کہ انسان فوج کو متنازعہ بنا کر۔ ریاست کو یرغمال بنا کر صرف خود کو تو بیوقوف بنا سکتا ہے ۔ لیکن اپنی مرضی کا آرمی چیف کسی صورت نہیں لگا سکتا۔ انھیں معلوم ہو چکا ہے کہ راستہ چاہے جتنا لمبا ہو آخر اس میں موڑ آنے ہوتے ہیں ۔انھیں یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ان کے ارد گرد جو لوگوں کا جمگٹھا لگا ہوا ہے ۔ جو انھیں مشورے دیتے ہیں ۔ وہ سارے عمران خان کے سگے نہیں ہیں ۔لیکن دیر آید درست آیداور کوئی پتا نہیں کل دوائی کوئی اور اثر نہ دیکھا دے۔ لیکن چلو جب تک امید تو کی جا سکتی ہے۔اس لیے عمران خان مزاحمت کی سیاست کی بجائے مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھنا شروع ہو گئے ہیں ۔ہلکے ہلکے شرمیلی دلہن کی طرح شرافت کا گھنگٹ اٹھا رہے ہیں،کیونکہ گالی دے کر بھی دیکھ لیا اور منت ترلہ کر کے بھی۔ کوئی ہتھیار نہیں چلا تو کوئی اور راستہ تو لینا ہے۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ اب الیکشن اپنے وقت پر ہی ہونگے ۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ ریاست مدینہ ثانی فرح گوگی اور بشری مانیکا کی کرپشن کے ہوتے ہوئے کبھی نہیں بن سکتی ۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ صرف دعوں کے اونچے مینار دیکھ کر کبھی بھی مغرب سے لوگ یہاں نوکری کرنے نہیں آئیں گے ۔۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ صرف چند سال میں ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہائی جا سکتیں ۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ کنٹینر پر اونچی آواز میں دھاڑنے سے اور ایک کروڑ نوکریوں کا صر ف وعدہ کرنے سے اب کام نہیں بنے گا۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے صرف ہوائی فائر کرنے سے پچاس لاکھ گھر تعمیر نہیں کیے جا سکتے ۔انھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ اس وقت اسمبلیاں بھی کسی صورت تحلیل نہیں ہونگی ۔کیونکہ بظاہر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پرویزالہی نے عمرا ن خان پر اعتماد کا اظہار کردیا ہے اور انھوں نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی عمران خان پر چھوڑ دیا ہے ۔تحریک انصاف کے لوگ بار بار یہ صفائیاں پیش کر رہے ہیں کہ چوہدر ی پرویزا لہی عمران خان کا ساتھ دینے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔۔عمران خان کہیں گے تو وہ جان بھی حاضر کر دیں گے ۔۔لیکن گل وچ ہور اے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مونس الہی کے اس بیان کے بعد کہ ہم جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے ساتھ شریک ہوئے اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ چوہدریوں کو نا تو عمران خان سے کوئی لگاو ہے۔۔ اور نا ہی عمران خان کی سیاست سے کوئی لگاو ہے انہوں نے اپنے مفادات دیکھنے ہیں اور اپنی سیاست کی بقا دیکھنی ہے، جس دن سے عمران خان کے ساتھ آئے ہیں ان کی زندگیوں میں طوفان برپا ہے، لیکن وہ طوفان صرف کرسی کے نشے میں ہیں برداشت کیا جا سکتا ہے، گھر بیٹھ کر نہیں۔اور اگر آپ اوچھی سیاست میں کرسی بھی گنوا دیں گے تو آپ خود ہی یہ خود کشی کریں ہمیں مرنے کا کوئی شوق نہیں۔مونس الہی کے اس بیان کے بعد تحریک انصاف کے لوگوں نے ایک بار پھر سے سوشل میڈیا پر مٹی پلیت کرنے کی کوشش کی لیکن اس بار عمران خان کو اچھے طریقے سے پتا چل گیا کہ اگر عمران خان کے کرسی کے ساتھ مفادات جڑ سکتے ہیں تو کسی کے بھی مفادات جڑ سکتے ہیں ۔اس لیےانھوں نے خود کو یقین دلا دیا ہے کہ اگر میں کل کو چوہدری پرویزا لہی کو اسمبلی توڑنے کا کہتا بھی ہوں تو آگے سے صاف انکار آنا ہے ۔اس لیے ایک بار پھر عوام کے سامنے زلالت کاٹنے اور ایک اور یوٹرن لینے سے بہتر ہے کہ ابھی سے عام انتخابات کی تیار ی کر لو۔ورنہ کیا کسی نے کبھی سوچا تھا کہ وہ عمران خان جو کہتا تھا میں مر جاوں گا لیکن ان چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔ جو کہتا تھا کہ ملک ان ڈاکوں کے ساتھ مزاکرات کرنے سے ٹھیک نہیں ہوتے جس کے دل میں اپنے سیاسی مخالفین کےلیے اتنی نفرت تھی کہ وہ اداروں کو مجبور کرتا تھا کہ میرے سیاسی مخالفین کے خلاف کیس بناو۔ انھیں بغیر تحقیقات کے جیل میں ڈالو۔وہ عمران خان انھی لوگوں کے ساتھ ۔۔ انھی سیاستدانوں کے ساتھ کبھی مزاکرات کےلیے بیٹھے گا۔سیاسی پنڈت سمجھتے تھے کہ اگر کبھی ایسا ہوا تو وہ کسی چمکتار سے کم نہیں ہوگا۔وہ چمکتار آج ہو گیا۔۔ اور عمران خان محض ایک انتخابات کے اعلان پر ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ واہ عمران خان کیا خوب قیمت لگوائی۔عمران خان نے حکومت کو الیکشن پر مزاکرات کی بھی پیش کش کر دی ۔۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایسا کہہ کر ایک طرح سے عمران خان نے سیاسی دانش کا ثبوت تو پیش کیا ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے سیاسی مخالفین کےلیے بھی خطرے کی ایک گھنٹی بجائی ہے عمران خان نے الیکشن کا نعرہ لگا کر الیکشن سے ایک سال پہلے ہی ا پنی عام انتخابات کی مہم کو تیز کر دیا ہے اب عمران خان نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ ہر ڈویژن ۔۔ ہر ضلعے کے تحریک انصاف کے رہنماوں سے ملاقاتیں کریں گے ۔۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ عمران خان نے یہ طے کر لیا ہے کہ انتخابات اگلے سا ل اکتوبر میں ہی ہونگے اس لیے اگر انتخابات جیتنے ہیں تو کھوکھلے وعدے کرنے کی بجائے زمینی حقائق کو جاننا ہوگا۔۔ حالات و واقعات کو پرکھنا ہوگا۔شروع سے پارٹی کی تنظیم سازی کرنی ہوگی ۔جلسوں کی بجائے تحریک انصاف کیStreet Powerکو مزید آگے لے جانا ہوگا کیونکہ عمران خان اب خوابوں کے سراب سے نکلتے نظر آ رہے ہیں سازشی محلات کے بند ہونے اور خوابوں کے ٹوٹنے کے بعد شائد عمران خان اب آسمان سے زمین پر آ چکے ہیں۔اور حقیقی منظر نامہ ان کے سامنے ہے انھیں یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اب چور دروازے کے خواب کبھی سچ نہیں ثابت ہونگے اب کوئی Electableان کی جھولی میں نہیں ڈالے گا۔اب راتوں رات لوگوں کی وفاداریاں نہیں تبدیل ہونگی اب قانون پاس کرنے کےلیے کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو نا معلوم نمبر سے کال نہیں جائے گی اب ان کے پاس اے ٹی ایمز کی کوئی لمبی فہرست نہیں ہوگی انھیں اپنی کشتی کو سہارا دینے کےلیے خود چپو چلانا سیکھنا ہوگا۔۔ اب کوئی ان کی کشتی کا چپو نہیں چلائے گا اور نا ہی کوئی ملاح انھیں دریا کے بھنور سے نکالے گا۔اب عشق کے امتحاں پہلے سے زیادہ گہرے ہونگے ۔اور اب میدان میں اصل مقابلہ ہوگاکوئی آر ٹی ایس سسٹم بٹھانے والا نہیں ہوگا کوئی کیسز ختم کروانے وا لا نہیں ہوگا اور اس بار عمران خان کا مقابلہ کرنے کےلیے نواز شریف جیل کی بجائے خود گراونڈ میں اتریں گے ۔زرداری بھی میدان میں ہونگے اور جو فیصلہ عوام کریں گے وہی حقیقی فیصلہ ہوگا وہی حقیقی جمہوریت ہوگی اور یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔۔اس ملک کے بارے میں سوچیں، ا سکی عوام کے بارے میں سوچین، سیاست کریں لیکن اتنی کہ نہ قوم برباد ہو اور نہ ہی ملک۔ سوچنے کی بات ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طرف عمران خان اپنی ماری ہوئی بونگی کے دفاع میں تخت پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی حکومتوں کو ہلا رہا ہے تو دوسری طرف آصف زرداری گیم چینجر بن کر میدان میں کود پڑے ہیں۔ پرویز الہی زبانی تسلیاں تو دے رہے ہیں لیکن دل میں ارادہ کر چکے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں کرنا کیا ہے۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات چیت کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس بیچنے کو کچھ نہیں اسی لیے کبھی ڈبو کوعدلیہ پر چھوڑ رہا ہے تو سواتی کے اندر جانے کے بعد کنول شوزب سے اس کا کام لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ہر طرف الیکشن کی گھنٹیاں بج رہی ہیں لیکن اسے آخری آپشن کے طور پر رکھا گیا ہے۔تخت پنجاب کی بات کی جائے تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ اسمبلیاں کسی صورت تحلیل نہیں ہونگی اور یہ فیصلہ کہیں اور نہیں ہوا بلکہ تحریک انصاف کے اپنے ہی گروہوں کے درمیان طے پایا ہے ۔ مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری کو نیا سیاسی مشن دے دیا گیا ہے اور اب تحریک انصاف کے لیے خیبر پختونخواہ میں بھی خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے ۔ کیونکہ آصف علی زرداری کے مطابق کے پی میں کچھ ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو اپنے گھونسلوں کی طرف واپس آنا چاہتے ہیں یعنی اب اقتدار کا جو کھیل اس سال کے ابتدا میں شروع ہوا تھا وہ اسی طرح اگلے کچھ عرصے تک چلتار ہے گا۔ عمران خان کے پرانے بیانیے پٹتے رہیں گے اوروہ نئے بیانیے تراشتے رہیں گے۔ ممکنہ طور پر حکومت بجٹ پیش کرے گی اور اس کے بعد جنرل الیکشن کا اعلان کیا جائے گا۔اس سب میں ایک تبدیلی ضرور ہوگی ۔۔ اور وہ یہ ہوگی کہ عمران خان اب کی بار اکیلے ہونگے ۔کوئی بیرونی ہاتھ ۔۔ کسی کا آشرباد ان کے سر پر نہیں ہوگا
اور وہ بے فیض ہی رہیں گے ۔۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ اب عمران خان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔؟ اور کتنے بیانیے وہ بنانے جا رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں نہ نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی ۔ اور اب عمران خان فوج کو سیاست سے دور رہنے کا درس دے رہے ہیں۔سیاست سے دور رہنے کا مطلب میں آپ کو اچھے طریقے سے سمجھا دیتا ہوں ۔۔اب عمران خان ایک بار پھر سے نئے آرمی چیف سے چاہتے ہیں کہ وہ سیاست سے دور رہ کر اقتدار کی کنجی عمران خان کے ہاتھ میں تھما دیں ۔اور یہ بیان دیتے ہوئے ساتھ میں عارف علوی کو بھی کہہ دیتے ہیں کہ آرمی چیف تم سے ملنے آئے تو میری بات کروا دو کسی طرح۔
وہ ایک بار پھر سے چاہتے ہیں کہ آرمی چیف سیاست سے دور رہ کر ان پر ہونے والے سارے کیسز ختم کروا دیں ۔۔
وہ چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر سے آرمی چیف سیاست سے دور رہ کر ان کے راستے سے وہ سارے کانٹے چن لیں جو عمران خان کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔۔وہ چاہتے ہیں کہ آرمی چیف ایک بار پھر سے بشری بی بی کی کرپشن کی کہانیاں دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔ وہ چاہتے ہیں کہ آرمی چیف ایک بار پھر سے انھیں کھلی چھوٹ دیں تا کہ یہ چئیر مین نیب کو بلیک میل کر کے جعلی کیس بنا سکیں ۔ ان کی مرضی سے الیکشن کی ڈیٹ رکھی جائے، ان کی مرضی سے سازگار ماحول چنا جائے۔ ان کے دشمنوں کو چور ڈاکو قرار دے کر سیاست سے عاق کر دیا جائے۔ اورایک بار پھر میدان سے سارے کھلاڑی بھگا کر کہا جائے چل میرے کپتان کھیل، گراونڈ بھی تیرا، ایمپائر بھی تیرا،وکٹ بھی تیری اور بلا بھی تیرا۔ فیلڈر کے بغیر چوکے چھکے لگائے جا۔ اور کاغذی شیر بن کر قوم کا دماغ پکائے جا۔اور پھر یہ ملکی خزانے کو بے رحمی کے ساتھ درہم برہم کریں ۔۔ کرپشن انڈیکس میں ملک اوپر لے جائیں ۔ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کریں۔قرضے پہلے ڈبل کیئے ہیں اب چار گنا کر دے۔ اوررہتی سہتی کسر اگر کوئی رہ گئی ہے تو وہ بھی پوری کر دے۔وہ چاہتے ہیں ایک بار پھر راتوں رات Electableکو ماضی کی طرح ان کی جھولی میں ڈالا جائے اور مجھے حیر ت اس بات کی ہے کہ جس نے خود اس ملک میں انتشار پھیلانے کےلیے ہر حد پار کی وہ اب آرمی چیف سے گزارش کر رہا ہے کہ جی آپ ہیجانی کیفیت کو کم کریں اور یہ پہلی بار نہیں ہوا ۔۔ ہر بار ایسے ہی ہوتا ہے کہ عمران خان پہلے ایک سازشی تھیوری گھڑتے ہیں بدامنی کا سارا سامان فراہم کرتے ہیں ۔اور پھر اس کا الزام دوسروں پر عائد کر کے خود اس بیانیے سے فرار ہو جاتے ہیں ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کون تھا جس نے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے میر جعفر اور میر صادق کا برینڈ بنایا۔وہ کون تھا جو اپنے سیاسی مخالفین کو ساڑھے پانچ سال جوتیاں پڑواتا رہا اور آخر میں خود بلک بلک کر رونا شروع کر دیا اور ظالم سے ایک ہی لمحے میں مظلوم بن گیا ۔وہ کون تھا جو فوج کو اگلے الیکشن میں گھسیٹنا چاہتا تھا۔وہ کون تھا جس نے اپنی مرضی کا بندہ لا کر دس سالہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور نہیں لگایا۔وہ کون تھا، جو اداروں میں کرداروں کو صرف اس لیے ذلیل کرنا چاہتا تھا کہ انہوں نے اس کی بجائے سیدھے راستے کا انتخاب کر لیا تھا۔لیکن میں تو انھیں کسی صورت فرار نہیں ہونے دوں گا۔۔
میں تو پوچھوں گا ۔۔
میں سوالوں کے جواب مانگوں گا،کہ کس نے اس ملک میں نفرت کی آگ لگائی ۔۔؟کس نے ریاست اور عوام کو سامنے لا کر کھڑا کیا ؟وہ کون تھا جس نے ہر طرح کا بھانڈ اپنی ٹیم میں بھرتی کیا ہوا تھا اور ان کو باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی تھیں صرف اس کام کےلیے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو بے عزت کرتے رہیں ،
وہ کون تھا جس نے ارسلان بیٹے کو کہا کہ لوگوں کو غدار ثابت کرنے کی مہم تیز کر دو۔۔
وہ کون تھا جس نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر مذہبی ٹچ دیا ۔۔
وہ کون تھا جو اپنے ہر جلسے میں خواتین سیاستدانوں کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کرتا تھا۔۔
وہ کون تھا جس نے سازش کے بیانیے پر کھیلنا شرو ع کیا
وہ کو ن تھا جس نے لوگوں کو کہا کہ اگر مخالفین کا ساتھ دو گے تو تم کفر کے رستے پر ہو ۔۔
وہ کون تھا جس نے اداروں میں پھوٹ پید اکرنے کی ہر ممکن کوشش کروائی
وہ کون تھا جو را ت کو چھپ چھپ کر ملاقاتیں کرتا تھا اور صبج لوگوں کے سامنے ٹارزن بنتا تھا۔۔
وہ کون تھا جس نے صرف سیاسی کارڈ کےلیے اداروں پر اپنے قتل کے منصوبے تک کا الزام لگا دیا ۔۔
کیا وہ آپ نہیں تھے عمران خان ؟
اس سب کے بعد آپ کہتے ہیں کہ میرا تو کوئی قصور ہی نہیں اور آپ اپنے سارے کرتوتوں کا بوجھ اداروں کے کندھوں پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔۔کیسے جعلی معصوم بننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایسا نہیں چلے گا ۔اپنے ٹویٹس میں قائد اعظم کے فرمان شئیر کرتے ہیں ۔آپ کو قائد اعظم کی حرمت اور ان کی سیاست کے بارے میں تھوڑا سا بھی علم ہے ؟کیا قائد اعظم نے غداری کے فتوے بانٹے تھے ؟کیا قائداعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی گالی دی ؟ بالکل بھی نہیں قائد اعظم بھی اگر چاہتے تو انگریزوں سے ڈیل کر سکتے تھے ۔ وہ بھی اگر چاہتے تو انھیں انڈیا میں کوئی بڑا عہدہ مل جاتا۔ وہ چور دروازے سے کوئی بڑی کرسی لے سکتے تھے ۔بلکہ انھیں تو آفرز بھی ہوئیں ۔۔ لیکن انھوں نے کچھ قبول نہیں کیا۔ ہر چیز کو جوتے کی نوک پر رکھا اور صرف اپنے لوگوں کے مستقبل بارے سوچا۔ کیونکہ وہ بڑے ظرف والے تھے،آپ کا ظرف تو یہ ہے کہ جس اقبال کے خواب کی آپ مثالیں دیتے ہیں ۔۔ اسی اقبال کے جنم دن کے موقع پر لوگوں کو لانگ مارچ میں انتشار کےلیے اکساتے ہیں جس ملک کو بنانے کےلیے اتنے گھر سنسان ہوئے اتنی گردنیں کٹیں اسی ملک کو آپ توڑنے کی با ت کرتے ہیں ۔اسی ملک کے ایٹمی اثاثوں پر آپ سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں بند کمروں میں اسی ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازشیں تیار کرنا شروع کر دیتے ہیں آپ امریکہ سازش کابیانیہ بنا کر اسی امریکہ کے سفیر کی منتیں ۔۔ ترلے شروع کر دیتے ہیں نہیں خان صاحب ۔۔ نہیں یہ تو ہم نہیں ہونے دیں گے آپ جیسے ہی اپنا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالیں گے ہم آپ کو آئینہ دکھائیں گے ۔ آپ جیسے گند پھیلا کر اپنی آنکھیں بند کرنے لگیں گے ہم بار بار آپ کی آنکھیں کھول کر آپ کو سچ کی تصویر دکھائیں گے۔۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں آپ کا آگے کا منصوبہ بھی اچھی طرح سے معلوم ہے آپ نے پہلے نئے آرمی چیف کی تعریفوں کے پُل ہی باندھنے ہیں ۔لیکن جیسے ہی آپ کا کوئی ایک بھی کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچا تو آپ نے ایک بار پھر سے اسی بچے کی طرح رونے شروع کردینا ہے جس کے ہاتھ کوئی نیا کھلونا آتا ہے اور وہ اسے کھیلتے کھیلتے توڑ دیتا ہے ۔آپ نے اس ملک کے ساتھ بھی اپنی حکومت کے پونے چار سال یہی کیا آپ نے ایک بار پھر سے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے ۔جیسے ہی بھارت اور اسرائیل کی فنڈنگ بے نقاب ہوئی ۔جیسے ہی توشہ خانہ میں کیس آگے بڑھا۔جیسے ہی کسی کیس میں آپ کی نااہلی یا گرفتاری ہوئی تو آپ نے ایک بار پھر سے اسی آرمی چیف کے خلاف محاذ کھول دینا ہے ۔کیونکہ گراونڈ تو آپ پہلے ہی سیٹ کر چکے ہیں۔عمران خان کی چھبیس سال کی سیاست اور ان کی So Called
محنت کا نچوڑ اگر میں آپ کو صر ف چند الفاظ میں بتاوں تو وہ ہونگے جھوٹ۔۔ الزام تراشی۔۔۔ یوٹرن۔۔ احسان فراموشی ۔۔۔ کم ظرفی۔۔اور نا اہلی ، تحریک انصاف کی اس سے بہتر الفا ظ میں تعریف آپ کو کہیں نہیں ملے گی ۔ اور جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں بھی انھی سب باتوں کا ذکر کیا جائے گا۔میں عمران خان کو تب سے جانتا ہوں اور ان کے ساتھ اس وقت کنٹینر پر کھڑا تھا جب آج کے یوٹیوبرز اور عمران خان کے دیوانے سکول جاتے تھے ،آج وہ بنی گالا میں عمران خان کے قدموں میں بیٹھ کر تقریر سنتے ہیں ۔ اور ایک سنسنی پھیلانا شروع کر دیتے ہیں جیسے عمران خان نے ایک پھونک مارنی ہے اور باقی سارے سیاستدان جل کر راکھ ہوجائیں گے ۔انھیں لگتا ہے کہ عمران خان کے اعمال کا ۔۔عمران خان کی چالوں کا کسی کو پتہ نہیں ہوگا۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہوگا جس کی ہر سیاسی چال پہلے سے Predict
کی جاسکتی ہے ۔۔بس پیشین گوئی کرنے کےلیے آپ کے پاس شعور اوردرست حقائق ہونا بھی لازمی ہے سارے
Intellectual anesthesia لے کر views کی جستجو میں عمران خان کے مخالفین پر چڑھ جاتے ہیں۔ آج بچے بچے کو معلوم ہے کہ انھی جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف نا بننے دینے کےلیے آپ نے ہر طرح کی لابنگ کی ۔انھی کی تعیناتی کو آپ نے بار بار متنازعہ بنایا انھی کی حب الوطنی پر آپ نے سوالیہ نشان کھڑے کیے ۔ الزام لگاتے رہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کے فیورٹ ہیں ۔ تو جیسے ہی آپ کے خلاف کیسز کھلے جو کہ نوشہ دیوار ہے کہ جلد یا بدیر کھلنے ہی ہیں ۔تو آپ نے ایک بار پھر کنٹینر پکڑنا ہے اور اپنے ڈیجیٹل مجاہدین کے ہاتھ میں Keyboardتھما دینے ہیں ۔لیکن ایک بات مت بھولیں ۔۔ اگر آپ کے پاس Keyboard Warriors ہیں تو ہمارے پاس حق کہنے کےلیے زبان ہے ۔۔اگر آپ کے پاس جھوٹ کی بڑی بڑی دکانیں ہیں تو ہمارے پاس سچ کہنے اور سچ پر ڈٹے رہنے کا حوصلہ موجود ہے ۔آپ لوگوں کو فریب میں لاتے رہیں گے اور ہم آپ کو آئنہ دکھاتے رہیں گے ۔اور یہ تو ہر جھوٹے شخص کو پتا ہوتا ہے کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے لیکن جو آپ کے ساتھ ہونے والا ہے وہ سوچ کے مجھے خوف آتا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج صبح جو خبر آئی ہے سب کے سامنے آ گئی ہے، سب کو بڑی بے چینی سے اسکا انتظار تھا ،پاکستان کے نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا بھی اعلان ہو گیا، عاصم منیر آرمی چیف ہوں گے،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ عسکری حلقے اس کو احسن طریقے سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ دونوں سینئر کو عہدے ملے، آجکل مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کا جو منطق ہے وہ عمران خان کو سمجھ آتی ہے یا نہیں دنیا میں کسی اور کو نہیں آتی ،عمران خان نے یہ کہا کہ اگر شہباز شریف لندن جا سکتے ہیں، مفرور بھائی سے مشاورت کر سکتے ہیں تو صدر عارف علوی تو میری پارٹی کے ہیں وہ کیوں نہیں مشاورت کر سکتے،وہ یہ بھول گئے کہ انکو ہر بات کا پروف کرنا پڑے گا کسی نہ کسی عدالت میں اگر چیلنج ہو جاتا ہے تو، اگر شہباز یا نواز چیلنج کرتے ہیں کہ کوئی مشاورت نہیں ہوئی،عمران خان نے الزام لگایا تو اسکے لئے ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا،پہلے بھی وہ کئی بار عدالت میں جا کر کہہ چکے ہیں کہ میں نے یہ سیاسی بیان دیا اسکا حقیقت سے تعلق نہیں،عمران خان کی سیاست اور حقیقت کا تعلق سب کو پتہ چل رہا ہے، کئی تھیوریز دم توڑ گئیں،کافی لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا نہیں ہو گا، کچھ نے چھٹے نام کا کہہ دیا کہ زرداری صاحب انکو بنوا رہے ہیں وہ بھی نہیں ہوا،کہا جا رہا ہے کہ ،کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کے اوپر کچھ لوگوں کو اعتراض ہو انکے کمیشن کو بنیاد بنا کر یا انکی ریٹائر منٹ کو بنیاد بنا کر،تو کابینہ نے اچھا فیصلہ کیا.، انہوں نے عاصم منیر کی سروس کو ریٹین کر دیا، انہوں نے 27 کو ریٹائر ہونا تھا، اگر صدر 28 کو سمری پر سائن کرتے ہیں تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ریٹائر ہو چکے ہیں انکا نام نکل گیا ہے، اب ایسا نہیں ہو سکتا، صدر کو اسی سمری پر دستخط کرنا پڑیں گے اور عاصم منیر آرمی چیف بن جائیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صدر عارف علوی لاہور آئے ہیں، اگر وہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ عمران خان سے انہوں نے ان ناموں پر مشاورت کی ہے تو انکے لئے مشکل ہو جائے گی، نہ صرف یہ کہ عہدے سے برخاست ہو سکتے ہیں بلکہ انکو سزا بھی مل سکتی ہے، آئین بڑا واضح ہے کہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر سمری پر دستخط کرے گا، صدر دو گھنٹے ، آٹھ گھنٹے لگا سکتا ہے لیکن اسکو سمری کو واپس بھیجنا ہی ہے دستخط کر کے،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان نے کہا ہم کھیلیں گے، اس سے زیادہ لوز ٹاک عمران خان نہیں کر سکتے، آرمی چیف کی تعیناتی پر کھیل نہیں کھیلتے، ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، دونوں سائڈ سے دشمن، اندر بھی دشمن ہے،ادھر ہم وار آن ٹیرر کر رہے ہیں اس دشمن کے ساتھ جو ہمارے سروں کے ساتھ فٹ بال کھیلتا ہے. اس دشمن سے جس کو مسجد، امام بارگاہ،مرد عورت کسی کی کوئی پرواہ نہیں، سوشل میڈیا پر ہر طرح کی افواہوں کا بازار گرم ہے. ملکی معیشت،سیاسی عدم استحکام بھی سب کے سامنے ہے، ان حالات مین ایک سیکنڈ کا بھی تاخیر نہیں ہونا چاہئے، اگر عمران خان اور عارف علوی یہ کرنا چاہتے ہیں تو عمران خان کو کھلم کھلا کہنا چاہتا ہوں کہ بڑی جوتیاں پڑیں گی، اس زعم میں نہ رہنا کہ عارف علوی میری پارٹی کا ہے، جب انہوں نے حلف لیا تو وہ پارٹی سے نکل گئے، وہ پاکستان کے صدر ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا یہ پرانا ہتھیار رہا ہے کہ جو انسان بھی ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرتا ہے ۔ جو سیاستدان یا صحافی ان کے کرتوت عوام کے سامنے لاتا ہے یہ مختلف طریقوں سے اس کی پگڑی اچھالنا شروع کر دیتے ہیں ۔ فیصل واوڈا ہو، اکبر ایس بابر ہو یا پھر میجر خرم ان سب کا تعلق تحریک انصاف کے سیاسی قبیلے سے تھا لیکن جیسے ہی انھوں نے عوام کے سامنے سچ رکھا تحریک انصاف کے جعلی ٹائیگر ان کے پیچھے پڑ گئے ۔بالکل یہی حال انھوں نے عمر فاروق کے ساتھ کیا ۔جب عمر فاروق عمران خان اور فرح گوگی کے گھڑی چوری کی ساری داستان عوام کے سامنے لائے تو ان کے ساتھ بھی سوشل میڈیا کا یہی ہتھیار استعمال کیا گیا۔ انھیں چپ کروانے کے لیے بنی گالا میں موجود جھوٹ تیار کرنے کی فیکٹری سے بڑے بڑے جھوٹ تراشے گئے ۔ ان پر فراڈ کے الزامات لگائے گئے ۔ انھیں انٹرپورل کا کوئی وانتڈ کرمنل بنا یا گیا ۔ اور یہ سارا پروپیگنڈا عمران خان کی سربراہی میں ہوتا رہا ۔لیکن جھوٹ چاہے جتنی مہارت سے بولا جائے اس کے پاوں نہیں ہوتے ۔ اس نے بے نقاب ہونا ہی ہوتا ہے ۔اور آج میں عمران خان اور اس کے درباریوں کے عمر فاروق کے حوالے سے پھیلائے گئے ان سب جھوٹو ں کا پوسٹ مارٹم کروں گا۔ سارے ثبوت آپ کے سامنے رکھوں گا کہ کیسے تحریک انصاف نے جھوٹ پھیلانے کی سازش رچی ۔
مبشر لقمان نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے سب سے پہلے الزام لگایا کہ عمر فاروق ظہور مختلف لوگوں کے ساتھ فراڈ میں ملوث ر ہا ہے ۔ اس کے بعد الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور انٹرپول کی فہرست میں ہے۔اور ان سب الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ناروے کے ایک صحافی کا حوالہ دیا گیا ۔ اب میں اس صحافی کی اصلیت بے نقاب کر دیتا ہوں جو صحافت کے لبادے میں کرپشن او ر فراڈ کے کئی دھندے چلا رہا ہے ۔ اور تحریک انصاف نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اس کا انتخاب کیا۔اس صحافی کا نام Rolf J. Widroeہے ۔ جو ناروے کے ایک مقامی اخبار میں ملازمت کرتا ہے ۔صحافت کا لباس پہنے یہ فراڈیا ناروے اور پاکستان میں کئی لوگوں کے ساتھ فراڈ کر چکا ہے ناروے میں ایک ایسا شر پسند طبقہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کرتا ہے ۔ یہ صحافی بھی اسی طبقے کا حصہ ہے اور باقاعدہ پیسے لے کر یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مہم چلاتا رہا ہے ۔جب میں نے اس پر باقاعدہ تحقیق کی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیونکہ یہ شخص کئی بار ناروے میں اسلامی شعار کی توہین میں بھی مبتلا رہا ہے ۔ لیکن چونکہ وہاں کے قانون کے مطابق اس کو آزادی اظہار رائے سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے نا تو اس کی تحقیق ہو سکی اور نا ہی اس کو کوئی سزا مل سکی ۔لیکن آپ کو سن کر حیرانی ہو گی کہ یہ جعلی صحافی ناروے میں تو بچ گیا لیکن پاکستان میں اس پر باقاعدہ فراڈ کے مقدمات ہیں ۔ اور اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی کئی بار جاری ہو چکے ہیں ۔14 جنوری 2016 کو نوابشاہ کے ایک پولیس تھانے میں ایک رپورٹ درج کرائی گئی ۔یہ رپورٹ نوابشاہ کے مقصود علی نے درج کرائی اور اس میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ Rolf J. Wideroeنے مقصود علی کے ساتھ پہلے وعدہ کیا کہ وہ اس کو ناروے لے جانے کے سارے انتظامات کرے گا ۔اس کو پاسپورٹ فراہم کرے گا اور ناروے کی شہریت بھی کچھ ہی دن میں دلائے گا۔ شہری مقصود اس کے لالچ میں آ گیا اور اس نے اپنی ساری جمع پونجی اس صحافی کے ہاتھ میں تھما دی ۔پولیس رپورٹ کے مطابق مقصود نے Rolf Jکو ایک کروڑ روپے کی رقم دی اور رقم ملتے ہی یہ نوسربا ز ناروے فرار ہو گیا ۔پولیس نے اس فراڈیے سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ 27 جنوری 2016 کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو خط لکھا گیا اور اس کے نا قابل ضمانت ریڈ وارنٹ نکالے گئے ۔جب شہری مقصود علی جس کے ساتھ فراڈ کیا گیا )نے اس کو کال کی اور پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو بجائے جواب دینے کے اس دھوکے باز آدمی نے الٹا دھمکیاں دینا شروع کر دیں ۔یہ تک کہنا شروع کر دیا کہ اگر دوبارہ اسے تنگ کیا گیا تو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے ۔
مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان نے اس واقعہ کے متعلق مزید حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ جیسے اس کا تعلق کسی گینگ سے ہے جو پیسوں کا مطالبہ کرنے پر شہری کو جان سے مار سکتا ہے ۔اور یہ ایک کروڑ کا فراڈ صرف ایک شہری مقصود کے ساتھ نہیں کیا گیا ۔ بلکہ اس طرح کے کئی فراڈ کئی دوسرے شہریوں کےساتھ کیے گئے ۔آپ ان کے فریب کا اس بات سے اندازہ کر یں کہ یہ صحافی جس اخبار کےلیے کام کرتا ہے اس کی Readership صرف چند دنوں میں ستر فیصد تک کم ہوئی ۔یعنی یہ اخبار صرف اور صرف جھوٹی خبروں کےلیے ہی مشہور ہے اور جب اس کا پول کھلا تو ناروے کے شہریوں نے یہ اخبار خریدنا ہی چھوڑ دیا ۔یہ اخبار مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور کئی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف رپورٹس شائع کر چکی ہیں میں اورمیری ٹیم اس پر مزید کام کر رہے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس صحافی سے عمر فاروق کے خلاف آرٹیکل لکھوانے میں اسی American Lobbying Firm کا ہاتھ ہو جسے تحریک انصاف ہر مہینے پچیس ہزار ڈالر ادا کرتی ہے ۔اور ریاست مدینہ کے دعوے داروں نے اپنے دشمن کو نشانہ بنانے کے لیے کس غلیظ ادارے اور بندے کا انتخاب کیا سوچ کے گھن آتی ہے۔تحریک انصاف کے رہنماوں اور ان کے کی بورڈ وارئیرزنے ایک شوشا چھوڑا کہ عمر فاروق اور ان کے خاندان پر ناروے میں کیسز ہیں ۔ یہ کیس بھی اسی صحافی نے ناروے میں کیا۔ لیکن کچھ ہی وقت میں جب اس کی تحقیقات ہوئیں تو اس کیس کا بھرکس نکل گیا ۔ نا تو عمر فاروق کو اور نا ہی ان کے خاندان میں سے کسی کو کوئی سزاہوئی ۔ بلکہ اس کیس کو پچھلے سال فروری میں ہی خارج کر دیا گیا ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ جعلی نوسرباز صحافی کی داستان کے بعد اب انٹرپول والی کہانی کا بھی بھرکس نکل چکا ہے کیونکہ انٹرپول کو درخواست بھی عمر فاروق کی سابقہ بیوی صوفیہ مرزا کی خواہش پر دی گئی ۔ ان پر جھوٹے اور بے بنیاد کیسز دائر کیے گئے ۔ تمام جھوٹے کیسز بے نقاب ہونے کے بعد انٹرپول نے بھی کنفرم کر دیا ہے کہ عمر فاروق کا نام انٹرپول کی لسٹ سے نکل چکا ہے ۔یہ تھی تحریک انصاف کے پروپیگنڈے کی اصل حقیقت۔عمران خان اب تو آنکھیں کھول لو ،یہ وہی عمر فاروق ہیں جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ فراڈ ہے ۔ اور دوسری طرف تحریک انصاف کے بڑے رہنماء ان سے ملاقاتیں کرتے رہے ۔۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس کی پاکستان کے صدر عارف علوی سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ،یہ وہی عمر فاروق ہے جس سے آپ کا مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اربوں روپے مانگتا رہا ہے ۔وہ جھوٹا ۔ جس نے احتساب کے نام پر اس ساری قوم کو چونا لگایا اور اب باہر چھپ کر بیٹھا ہے اسے کہو نا پاکستان آئے اور اس پر لگے سارے الزاما ت کا جواب دے دے ۔یا میرے شو میں ہی آجائے اور ساری قوم کو اس پر لگے الزامات کا جواب دے ۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس سے فراڈ چوہدری ویکسین کے نام پر کمیشن مانگتا رہا ہے ۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس کے ساتھ فیصل واوڈا کی میٹنگز ہوتی رہی ہیں اور کسی اور کے کہنے پر نہیں ہوئیں بلکہ آپ کے ہی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے کہنے پر ہوتی رہی ہیں ۔اور اگر آپ کو ابھی بھی لگ رہا ہے کہ آپ توشہ خانہ سے گھڑیاں چوری کر کے ۔ قوم کو کروڑوں روپے کا ٹیکا لگا کر بچ جائیں گے تو یہ آپ کی بہت بڑی بھول ہے ۔اگر آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ گھڑی بیچنے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں تو یہ بھی آپ کی بھول ہے ۔۔ کیونکہ اس بار سارے ثبوت موجو د ہیں اور سب کے سب بہت جلد نیب میں پیش کر دیے جائیں گے ۔
مبشر لقمان نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی فرنت مین فرح گوگی کے حوالہ سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فرح گوگی کیسے دبئی گئیکونسے بینک سے پیسے نکلوائے کس طرح گوگی پاکستان واپس آئی کس کے جہاز میں وہ واپس آئیسارے کے سارے ثبوت موجود ہیں اور بہت جلد یہ عوام کی عدالت میں بھی لائے جائیں گے ۔لیکن اس سب سے پہلے اگر آپ میں ذرا سا بھی اخلاقی جر ات باقی بچی ہے تو قوم کو ایک بات بتا دو۔جو ریاست مدینہ آپ بنانے نکلے تھے جس ریاست مدینہ ثانی کے خواب لوگوں کو دکھائے تھے۔اس ریاست مدینہ میں گھڑی چور کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟اس ریاست مدینہ میں عوام سے جھوٹ بولنے کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟لوگوں کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پروپیگنڈا کرنے کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟اور آپ نے ایک بات اور بھی قوم کو بتانی ہے ۔ کیونکہ آپ مغرب کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ آپ ا ن کی اخلاقیات سے بھی بخوبی واقف ہیں آپ نے اقوام متحدہ میں بھی اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی ہے تو آپ نے اس بار قوم کے سامنے اس جعلی صحافی کے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کو ضرور بے نقاب کرنا ہے ۔آپ نے لوگوں کو بتانا ہے کہ کس طرح ناروے کا ایک اخبار لوگوں میں مذہبی منافرت پھیلانے کا ذمہ دارہے۔اسی اخبار کے صحافی کو تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سیل پاگلوں کی طرح وائرل کر رہا ہے اس کے صحافیوں کو ہیرو بنا کر پیش کرا رہا ہے ۔
مبشر لقمان نے آخر میں عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اور اگر آپ نے نہ بتایا تو میں تو ضرور بتاوں گا۔ بار بار بتاوں گا لوگوں کے سامنے سارے حقائق رکھوں گا اور پھر انھیں اسی طرح پوچھتا رہوں گا کہ کون جھوٹا ہے اور کون دنیا کا سب سے ایماندار لیڈر ہے ۔کیونکہ ،مجھے ہے حکم اذاں لا الہ اللہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اقبال ہمیں صرف نومبر میں ہی کیوں یاد آتے ہیں، اقبال کی تعلیمات کو پورا سال ہی پڑھنا چاہئے،
گورنمنٹ اسلامیہ گریجویٹ کالج کوپر روڈ لاہور میں شاعر مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال کے یوم ولادت کی مناسبت سے پر وقار تقریب منعقد ہوئی تقریب کی صدارت کالج کی پرنسپل ڈاکٹر فوزیہ ناز نے کی. پاکستان کے نامورسینئر صحافی معروف تجزیہ کار مبشر لقمان تقریب کے مہمان خصوصی جبکہ اعزازی مہمان بزم فکر اقبال پاکستان کے صدر ڈاکٹر محمود علی انجم تھے
مبشر لقمان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ اس ملک میں جو پرابلم ہے، انتہائی سادہ ہے، پیچھے سے ہم لوگ ہندوستانی ہیں،انڈیا پاکستان کا میچ ہو تو ہم پاکستانی ہیں، نوکری ہم نے دبئی میں کرنی ہے، مرنا ہم نے مکہ مدینے میں ہے ،ہم ہیں کیا؟ کیا چاہتے ہیں،مجھے کہا گیا ہے کہ اقبال پر بولنا ہے، میں نے کہا کہ نومبر آ گیا، نومبر میں ہی اقبال کیوں یاد آتا ہے، آگے پیچھے کیوں نہیں؟ اقبال پر مطالعہ کی صرف نومبر نہیں ہر وقت ضرورت ہے،مجھے دو چیزیں اقبال کی بڑی یونیک لگیں،اقبال کی زندگی سب کے سامنے ہے،مبشر لقمان نے تقریب میں اقبال کے شعر سنائے اور کہا کہ شعر کا بیک گراؤنڈ بھی پتہ ہونا چاہئے،آج آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس کالج سے گریجویٹ کر کے جانا ہے، تعلیم سے سیکھنا ہے، صرف ایک چیز سیکھنی ہے، میں گارنٹی کرتا ہوں اگر آپ اس بات کو سمجھ جائیں تو زندگی میں غلطی نہیں کریں گے، یہی تعلیم کا مقصد ہے
تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی مبشر لقمان اور کالج کی پرنسپل ڈاکٹر فوزیہ ناز طالبات میں تعریفی اسناد اور انعامات تقسیم کیے کالج کی پرنسپل ڈاکٹر فوزیہ ناز نے مہمان خصوصی مبشر لقمان کو یاد گاری شیلڈ اور بزم فکر اقبال پاکستان کی جانب سے کتابوں کا تحفہ پیش کیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صھافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حقیقی آزادی مارچ کو دیکھ کر ماوزے تنگ کی روح اپنے آپ کو کوس رہی ہے کہ اس نے عمران خان کی طرح انقلاب برپا کیوں نہیں کیا۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیوں اسنے لاکھوں لوگ، اپنے پیارے رشتے دار اور فیملی کو اس انقلاب میں مروا دیا جبکہ انقلاب تو ائیر کنڈیشنر والے کنٹینر میں بیٹھ کر بھی آ سکتا ہے۔کیوں اس نے ہزاروں میل کا سفر طے کیا اور سڑکوں پر راتیں گزاری جبکہ انقلاب تو شام کو چار گھنٹے سڑکوں پر اور ساری رات اپنے گھر میں نرم بستر پر سو کر بھی آ سکتا ہے۔وہ انقلاب جس میں صبح کے وقت سو بندے بھی نہیں ہوتے لیکن شام کو اپنے سارے کام کاج کر کے انقلاب کو شروع کر دیتے ہیں ۔ وہ انقلاب جو شاہدرہ پر رات کو رکتا ہے لیکن صبح آنکھ کھلتی ہے تو انقلاب کامونکی پہنچ چکا ہو تا ہے اور لیڈر زمان پار ک میں نیند کی سرگوشیوں میں مصروف ہوتا ہے۔وہ انقلاب جو لیڈر اور عوام کے بغیر کئی سو کلو میٹر کا سفر خود ہئ طے کر لیتا ہے۔اللہ ایسا پرسکون، آسائیشوں والا انقلاب ساری دنیا کو نصیب فرمائے۔لیکن ماوزے تنگ تم کان کھل کے سن لو تم کبھی بھی ہمارے کپتان کو نہیں پہنچ سکتے۔ کیونکہ ہمارے کپتان کے پاس ارسلان بیٹاہے۔ ہمارے کپتان کے پاس سوشل میڈیا پر ایسے مداری ہیں جو شام ہوتے ہیں انقلاب میں ایک نئی روح پھونک دیں گے وہ انقلاب جو صبح گیارہ بجے دم توڑ چکا ہوتا ہے سوشل میڈیا کے وینٹیلیٹر پرشام کو ہشاش بشاش ہو کے بھاگنے لگے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جادو گر بیٹھ کر لوگوں کو بتائیں گے کہ کیسے یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہے کیسے لاکھوں کروڑون لوگ کنٹینر کے ٹائروں سے چپکے ہوئے ہیں۔ کیسے روح پرور مناظر اس مارچ میں دیکھنے کو مل رہے ہیں اور کیسے پورا پاکستان اپنے سارے کام چھوڑ کے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جبکہ حقیقت بلکل اس کے برعکس ہو گی اس لیے ماوزے تنگ میرا تمھیں مشورہ ہے کہ خام خواہ میں میرے کپتان سے مقابلہ کر کے پنگا مت لو ورنہ تم بھی اپنی قوم کے غدار قرار پاو گے۔
کیونکہ ہمارا کپتان کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو
پاکستان کے سپہ سالار کو غدار کہتا ہے جو
پاکستان کے وزیر اعظم کو چور بھکاری کہتا ہے جو
پاکستان کی عوام جو اس کا ساتھ نہیں دے رہی اسے غلام اور جاہل کہتا ہے جو
پاکستان کے صحافیوں کو جو اس کی حقیقت بے نقاب کرتے انہیں لفافہ، کہتا ہے۔
پاکستان کے الیکشن کمشنر کو مخالفین کا ذاتی غلام کہتا ہے ۔
پاک فوج کے جرنیلوں اور اعلی افسران کو وحشی کہہ کر پکارتا ہے۔
پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے چیف کو جلسوں میں للکارتا ہے۔
جو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے میں اعلی محارت رکھتا ہے
ماوزے تنگ سن لو اگر تم نے اس سے پنگا لیا تو یہ تمھیں تمھاری اپنی قوم کے سامنے ایسا غدار بنا کر ایسی تمھاری مٹی پلیت کرے گا کہ تاریخ کا دھارا بدل جائے گا۔ اس لیے ہمارے کپتان سے پنگا نہیں لینا۔
کیونکہ ہمارا کپتان وہ کپتان ہے
جس نے اپنے مفاد کے لیے معاشرے میں نفرت پرو کر اس کی جڑ یں کھوکھلی کر دی۔
جس کے شر سے کوئی گھر اور کسی کا گھر بھی محفوظ نہیں تھا۔ میرا اشارہ خاور مانیکا کی طرف نہیں ہے۔
تاریخ بتاوئے گی کہ ہمارا کپتان کیسا تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا کپتان جو سوشل میڈیا پر اربوں روپے خرچ کر کے جعلی اکاونٹوں سے معصوم لوگوں کے ذہنوں سے کھیلتا تھا۔ کبھی کسی کی جعلی امی بنا دیتا تھا، کبھی کسی انگریر کے نام سے جعلی اکاونٹ بنوا کے اس پر اپنی تصویر لگوا دیتا تھا کہ میں نے اس کی وجہ سے اسلام قبول کر لیا۔
کبھی بنی گالہ میں بیٹھا ہوا ۔۔۔ لونڈا۔۔ کینیا کا صحافی بن جاتا ہے، کبھی سائفر کا معاملہ ہو تو یہی امریکی صحافی بن کر کہتا کہ عمران خان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ قصہ مختصر عمران خان کے کالے کرتوتوں پر ایک آدھ کتاب نہیں بلکہ پوری پوری سیریز اور جلدیں لکھی جائیں گی لیکن اسکے گھناونے کاموں کی فہرست پھر بھی نا مکمل ہو گی۔اس لیے ماوزے تنگ ہمارے کپتان سے پنگا نہیں لینا۔لیکن میری مجبوری ہے اپنی قوم کے مستقبل کے لیے میں پنگا لے چکا ہوں اس لیے میں عمران خان کا اصلی چہری بے نقاب کروں گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ لانگ مارچ، رانگ مارچ، خونی مارچ اور حقیقی آزادی کی مارچ اس وقت ملکی سالمیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے اور ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہونے کا انتظار کر رہاہے،
انتہائی خطرناک کھیل شروع ہو چکا ہے۔ اس بات پر چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن سب اتفاق کر رہے ہیں کہ اس مارچ میں خون بہایا جائے گا، جنازعے اٹھائے جائیں گے۔اور اس کے لیے کھیل تیار ہو چکا ہے جبکہ اس کھیل کے کچھ کرداروں کی فون کالز بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب گیدڑ کی گیدڑ بھبکیاں جنگل میں کام کرنا شروع کر دیں تو وہ شہر کا رخ کر لیتا ہے اور وہیں اس کی موت واقع ہوتی ہے۔ عمران خان اپنی سیاسی موت کو دعوت دے چکے ہیں۔ ان کے جھوٹ، فراڈ، دھوکے بازی سر چڑھ کر بول رہی ہے اور بولیں بھی کیوں نہ۔ انہوں نے منافقت کی چادر اوڑھی ہوئی ہے اور مسلسل نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کی محرومیوں سے کھیل رہے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ نے عوام کو بہت مایوس کیا۔ان کی کرپشن کی کہانیوں نے عوام کو بہت دکھی کیا۔ان کے مافیا نے عوام کو بری طرح سے محروم کیا۔ اور عمران خان جو خود تو کچھ نہ کر سکے، اس مافیا کا حصہ بن کر اقتدار میں آئے اب خود ہی
ان کی محرومیوں سے خوب کھیل رہے ہیں، ناراض لوگوں کی دل کی بات کر رہے ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔مثال کے طور پر عمران خان کی منافقت دیکھیں کہ لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کہتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کان کھول کے سن لو۔ میرے پاس بھی راز ہیں۔میں کہتا ہوں عمران خان تم نے نہ پہلے شرم کی اور نہ ہی تم اب کرو گے۔ کیونکہ جس میں جو چیز ہو ہی نہ تو وہ کام وہ کیسے کر ے گا۔کیا بتاو گے تم عوام کو میں بتا دیتا ہوںتم عوام کو بتاو گے کہ کیسے تمھارے صبح شام پیمپر بدلے گئے۔کیسے تمھیں مقبول اور پھر قبول کروایا گیا۔کیسےتم نے اقتدار کے لیے صحیح اور غلط کا فرق ختم کیا۔ کیسے تمھیں Electables جاگیر دار، وڈیرے، صنعتکار لا لا کر تمھاری گود میں ڈالے گئے۔کیسے تمھاری خواہش پر تمھارے سیاسی مخالفین کو نااہل کر کے تمھارے لیے میدان صاف کیا گیا۔کیسے ان لوگوں کی پکڑ دھکڑ کی گئی جو تمھیں پسند نہیں تھے۔ کیسے لوگوں پر جعلی ڈرگ کے کیس ڈالے گئے۔عمران خان تمھارے پاس بتا نے کو ہے کیا۔ تم یہ بتاو گے کہ کیسے اکثریت نہ ہونے کے باوجود چیئر مین سینٹ منتخب ہوا۔ کیسے تمھارے بحٹ پاس ہوئے۔کیسے تم نے ادارے کی سپورٹ حاصل کرنے کے بعد اسے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔کیسے تم نے کلبھوش یادیو کے لیے قانون سازی کرنے میں دن رات ایک کیئے۔ کیسے ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کیا۔تمھارے کون کون سے راز بتاوں۔ جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔احتساب کے نام پر آئے تھے اور گندی ویڈیوز سے تم چیئرمین نیب کو ہی بلیک میل کرتے رہے۔ اب کہتے ہو حقیقی آزادی مارچ۔ کون سی مارچ اور کون سی آزادی۔آج تمھیں اقتدار مل جائے۔ پھر بھاڑ میں جائے آزادی، بھاڑ میں جائیں غریب ، بھا ڑمیں جائے سب کچھ۔ تم لوگوں کی محرمیوں کو صرف اقتدار کے لیے استعمال کر رہے ہو۔وہی ہو نہ تم جو باہر لوگون کو مشرک کہہ رہے تھے اور اندر ہی اندر پانچ خرید رہے تھے۔وہی ہو نہ تم جو ایک کاغذ کو بیرونی سازش کہہ کر لہرا رہے تھے اور اپنے لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ Lets play with it. وہی ہو نہ تم جس نے گوگی گینگ کی سربراہی کی۔وہی ہو نہ تم جس کا وزیر صحت، وزیر احتساب، وزیر پٹرولیم، اور دیگر وزیر کرپٹ نکلے ۔وہی ہو نہ تم جو ارسلان بیٹا کو کہہ کر دنیا بھر کی پگڑیاں اچھلواتے ہو۔وہی ہو نہ تم جو عوام کی فلا ح کا کام کرنے میں بری طرح ناکام اور اپنے ذاتی مشہوری کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہو۔نہ تمھارا ماضی اچھا، نہ تمھارا حال اچھا۔ مستقبل کی کسی کو خبر نہیں جھوٹ کی بنیاد پر جعلی نیک بننے سے کوئی نیک نہیں ہو جاتا۔ ہٹلر کے نقش قسم پر چلتے ہوئے پاکستان میں بھی اپنی جماعت بالکل اسی فارمولے پر چلا رہے ہو۔ لوگوں کی نفسیات سے کھیل رہے ہو ۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ
جھوٹ اور مفاد پرستی میں عمران خان کو کوئی ٹکر نہیں دے سکتا ۔ جس طرح یہ اپنے محسنوں کو کاٹ کے پھینکتا ہے اس میں بھی کوئی اس کا ثانی نہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بات مفاد پرستی اور سیاسی قلابازیوں کی ، کی جائے تو اس میں بھی عمران خان کا کوئی ثانی نہیں ۔ کس کو کس وقت اپنے سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کرنا ہے اور کس کو استعمال کر کے کچرے کے ڈھیر میں پھینکنا ہے یہ انھیں اچھی طرح سے آتاہے۔ بیانیہ بنانے میں بھی ان کی مثال نہیں ۔ ایک جھوٹ کو بار بار ایسے بولنا کہ وہ سچ لگنے لگے اس میں بھی ان کی مہارت کو کوئی ٹکر نہیں دے سکتا ۔ امریکی سازش، اسلامی ٹچ، کفر کے فتووں سے لے کر غداری کارڈ تک انھیں اچھی طرح خبروں کی زینت بننا آتا ہے۔ لیکن حقیت بلکل اسکے برعکس ہے۔نااہل تم ہو، خود غرضی کا مجسمہ تم ہو ، شاطر چالوں کے شہنشاہ تم ہو، بدترین گورننس کی مثال تم ہو۔ جھوٹ کو یوٹرن کا نام تم دیتے ہو۔ سارے بے کردار لوٹے تم نے اکھٹے کیئے ہوئے ہیں۔ خود غرضی تم میں انتہا سے زیادہ ہے اور تم لوگوں کی کردار کشی کر کے خود بڑا بننے کی کوشش کرتے ہو۔لوگوں کے سامنے تسبیح گھما کر مذہبی ٹچ دیتے ہو اور پس منظر میں کہتے ہو کہ غلط اور صحیح مت دیکھو ہم نے ہر صورت اقتدار میں آنا ہے۔لوگوں پر غداری کے فتوے لگاتے ہو اور خود فارن فنڈنگ پر پلتے ہو۔ امریکی سی آئی اے کی ایجنسی سے اپنی پی آر کرواتے ہو۔ شہباز گل سے تم اداروں پر حملے کرواتے ہو۔ بغاوت اور پھوٹ کی کوشش کرواتے ہو۔ملک کے سپہ سالار پر اعظم سواتی سے حملہ کرواتے ہو تاکہ چوروں کا ساتھ دینے کا بیانیہ بنا سکے۔ آدھی بات اپنے چیلوں سے کرواتے ہو اور پھر تشریخ خود کرتے ہو۔نام اپنے چیلوں سے دلواتے ہو اور اور پھر نام لیے بغیر زہر پاشی خود کرتے ہو۔پھر کہتے ہو کیا ہم بھیڑ بکڑیاں ہیں۔ نہیں تم بھیر بکریاں نہیں باقی پورا پاکستان آتے کی بوری ہے۔ تم جو مرضی کہو، تم جو مرضی سازش رچاو۔ تم جس کی مرضی عزت کے ساتھ کھیلو۔ تم جس کی مرضی بدنامی اور ساکھ کے ساتھ کھیلو۔ اور اگر ادارے حرکت میں آئیں تو پھر کہتے ہو کیا ہم بھیڑ بکریاں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب یہ کسی پر کوئی الزام لگائے سمجھ جائیں پس منظر میں یہی کھیل یہ کھیل رہا ہے۔سائفر پر ملکی سالمیت کے ساتھ کھیل کے غداری کی اور اپنے مخالفین پر غداری کا الزام لگا دیا۔خود ہارس ٹریڈنگ اور خرید و فروخت کر رہا تھا جو آڈیو لیک میں ثابت بھی ہو گیا اور دوسروں کو مشرق اور پچیس کروڑ کے الزام لگا رہا تھا۔کہتا تھا شریفوں اور بھٹو خاندان نے قوم کو ذہنی غلام بنا لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے ایک بڑے طبقے کو اپنا ذہنی غلام بنا لیا ہے، اور ان کے سامنے جب عمران خان آتا ہے تو ساری منطق، دلیل، عقل ، شعور ۔۔سکتے کے عالم میں چلا جاتا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ صدف نعیم کی موت شہادت ہے، اسکے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے،
مبشر لقمان یوٹیوب آفیشیل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ صدف چلی گئی میں جانتا نہیں تھا، وہ دو بچوں کی ماں تھی، میں نہیں جانتا تھا انکو، میں نے سنا ہے کہ بہت محنتی رپورٹر تھیں، پیدل، موٹر سائیکل پر جانا، رکشے پر جانا، خبر کے لئے وہ بہت ایکٹو ہوتی تھیں، لانگ مارچ کے منتظمین کے اوپر قتل کا مقدمہ ہونا چاہئے، تین دن سے ایک ایک دو رپورٹر کو بلایا جاتا کہ چیئرمین کا انٹرویو کر لیں، صدف کو دوبارہ بلایا اور کینٹینر پر چڑھا رہے تھے اور کینیٹینر چل رہا تھا ، اسی لئے وہ ٹائر کے نیچے آئی، اگر وہ رکا ہوتا تو بچی کچلی کیسے جاتی؟ کینٹینر چل رہا تھا یہ کرمنل ایکٹوٹی ہے، ایک بچی کو چڑھانے کے لئے ایک سیکنڈ کے لئے کینٹینر نہیں روکا گیا، ظلم کی بھی انتہا ہوتی ہے، ہاتھ جھاڑکر چلے گئے کہ سانحہ حادثہ ہو گیا، یہ ایک شہادت ہوئی ہے، وہ اپنا کام کرتے ہوئے شہید ہوئی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو شرم نہیں آتی، کب تک ایسے حادثے ہوتے رہیں گے بچیوں کو ایسے کینٹینر پر چڑھایا جاتا ہے وہ دو بچوں کی ماں تھی، کیا اسکے لئے بھی یونیورسٹی بنے گی، اس کے لئے بھی واویلا ہو گا اس طرح جس طرح ارشد شریف کی موت کو کیش کروایا گیا، میں آج ہر بیورو چیف کو کہوں گا کہ لانگ مارچ کے لئے رپورٹر بھیجنا چھوڑ دیں، انہوں نے کوئی انتظام نہیں کیا ہوا، یہ کہتے ہیں کہ لوگ آئیں اور انکی گڈی چڑی رہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لانگ مارچ تو ہمیں ڈاکٹر طاہر القادری نے سکھایا تھا، ہم بھی پہلے مارچ میں گئے، 120 دن اسلام آباد بیٹھے رہے، لاہور سے اسلام آباد کینیٹنر گیا، ان سے مرید کے تک نہیں جایا جا سکا، تین گھنٹے کا لانگ مارچ ،پھر لاہورآ کر میٹنگ کرتے ہیں، اسد عمر کہتے ہیں میٹنگ ہے، عمران خان کہتے ہیں نہیں کوئی میٹنگ نہیں ہو رہی،آج اگر اداکارہ میرا یہ کہہ دے کہ میں نے شادی کرنی ہے تو فلاں گراؤنڈ میں امیدوار آ جائیں تو لانگ مارچ سے زیادہ شرکاء وہاں آ جائیں گے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ گیارہ بجے جانے کا وقت تھا، ساڑھے گیارہ بجے چالیس بندے تھے، یہ حال ہے ان کے لانگ مارچ کا،ریاستی اداروں کو گالم گلوچ کرتے رہیں اور آپ کہیں کہ ہمیں کوئی کچھ نہ کہے، اب رو کیوں رہے ہو، کس بات کو رو رہے ہو، میں حکومت کو کہوںگا کہ ایک ماہ کے لئے سوشل میڈیا کو بند کر دیں، سب سکون میں آ جائیں گے،لوگوں کا کاروبار نہیں ہو رہا، بچے بھوکے مر رہے ہیں، اور انکو لانگ مارچ کی پڑی ہے، پنجاب میں کرائم بڑھ گیا ہے کیونکہ پنجاب کی پولیس پروٹوکول دینے میں لگی ہوئی ہے، یہ ہوتی ہے مارچ؟ اپنے ہی لوگوں کی زندگی عذاب کر دو،