Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • مبشر لقمان نے یوٹرن ماسٹر کی آتما رول دی، یہ لو کھرا سچ

    مبشر لقمان نے یوٹرن ماسٹر کی آتما رول دی، یہ لو کھرا سچ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیسے پاکستانی قوم ستر سال سے ایک ایسے مسیحہ کے انتظار میں ترس رہی ہے جو انہیں غلامی کے اندھیروں، غربت اور جہالت سے نکال سکے، پاکستان کو ایک ایسے راستے پر گامزن کر دے جس پر چل کر وہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہو جائے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ستر سالوں سے ان خوابوں کے نام پر ہر ایک لیڈر نے مسیحہ کے روپ میں بہروپ کا کردار ادا کیا اور رنگ برنگے خواب بیچ کر اس قوم کے خوابوں کا سودا کیا۔ اور عمران خان ان میں سب سے بازی لے گئے ہیں، ان کے سیاسی بیانیے ہالی وڈ کی فلموں کی طرح مارکیٹ میں بک رہے ہیں۔ ان کے ماننے والے اپنی ہر چیز سے اپنی آنکھیں اور کان بند کر چکے ہیں۔ لیکن عمران خان اپنی جنگ کیسے لڑ رہے ہیں۔ کیسے قوم کو چونا لگا رہے ہیں۔ ان کے یوٹرن کیسے ان کی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ یوٹرن غلطی ہیں یا سوچی سمجھی پلاننگ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ برطانوی فلاسفرBertrand Russellنے کیا خوب کہاتھا۔۔دنیامیں سب سے بڑی مصیبت یہ ہےکہ بے و قوف پُر یقین اور عقلمند شک وشبہ میں گھرے رہتے ہے اور پاکستان کے حالات دیکھ کر یہ بات درست ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔سیاسی عدم استحکام،معاشی بدحالی،اور جنگی ادوار میں قوم بے یقینی کی کیفیت میں چلی جاتی ہے خاص طو ر پر برے حالات میں جب جوش و جذبہ زیادہ ہوتا ہے اور آپکا یقین بے یقینی میں بدل جاےاور خیالات میں پولرائزیشن پائی جاتی ہوتب ایک لیڈر کے اندر یہ خصوصیات ہونی چاہیے کہ وہ credibilityکی طر ف قوم کو لیکر جا ےٴ۔ ان سے جو وعدہ کرے اسے پورا کرے۔بین الاقوامی تعلقات میں ایک ملک صرف اس وقت یوٹرن لےسکتاہے جب وہ ملک کے بہترین مفاد میں ہو،اگر ہم عمران خان کی سیاسی زندگی کی طرف ڈالیں توہمیں اسکی ہر سیاسی بصیرت میں یو ٹرن نظر آتے ہیں۔الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوے کہا کہ ایک ایڈیٹ ہی یوٹرن نہیں لے سکتا

    پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر میں یو ٹرن کی افادیت بڑھ گئی ہے۔مختلف سیاسی مبصر اور سیاسی ورکر اپنے طور پر اسکی اہمیت وانکار پر بحث کرتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن عمران خان کو یو ٹرن کا ماسٹر کہا جا سکتا ہے۔ہم قائداعظم کے فرمان کو سامنے رکھتے ہیں جس میں آپ نے فرمایاکہ
    فیصلہ کر نے سے پہلےسو مرتبہ سوچو لیکن جب فیصلہ کر لو تو اس کے ساتھ ہو جاؤ
    لیکن عمران خان کے کیس سٹڈی میں ہمیں یہ پتا چلتا ہےکہ یہ شخص ایک نفسیاتی جنگ کرتا ہے کہ وہ پہلے پوری قوت کے ساتھ اپنے مخالفین پر اٹیک کر تا ہے جب مخالف فریق ڈھیرہونے کی بجاےڈٹ جا تا ہےتو پھر وہ یو ٹرن لے لیتا ہے۔ عمران خان نے
    اپنے ایک بیان میں کہا تھاکہ
    یو ٹرن لینا ایک لیڈر کی علامت ہے۔
    ماضی میں ڈکٹیٹر مشرف کو ووٹ دینے والا اسکا مخالف ہو گیا۔بےنظیر اور نواز شریف کی حمایت کی وڈیوآج بھی یو ٹیوب پر مو جود ہیں۔
    انڈیا میں ایک پروگرام
    آپ کی عدالت
    میں یہاں تک بول دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیرپاکستان میں حکومت کوئی نہیں بنا سکتا۔2018 کے الیکشن میں ملک کے مقتدر عسکری حلقوں اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملانے کے بعدعمران خان ملک کے بائیسویںوزیراعظم کے طور پر سامنے آئے ٴ۔ اور عمران خان اپنی سیاسی قلابازیوں کی بنا پر یو ٹرن کے نام سے مشہور ہو گئے۔الیکشن جیتنے سے پہلے آپ نے قوم سے وعدہ کیا تھا سابقہ حکمران سیر سپاٹے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اس لیے پہلے تین ماہ غیر ملکی دورہ نہیں کرونگا۔پھر جب اقتدار میں آئے تو پہلے تین ماہ میں سعودی عرب کے دو ،متحدہ عرب اور چین کاایک ایک دورہ کیا۔ اور یہاں پر ثابت ہوا کہ یہ نعرے صرف الیکشن Stuntتھے۔الیکشن میں کامیابی کے بعد یوٹرن لے کرآپ نے کہا کہ ا گر انڈیا ایک قدم بڑھاےٴ گا تو پاکستان دو قدم بڑھاےٴگا ، لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ عمران خان نے اپنے سیاسی حریفوں پر بھارت کارڈ خوب کھیلا۔ الیکشن میں لوگوں کو چالیس لاکھ گھر بنا کر دینے والے نے تجاوزات کے نام پر لو گو ں کے گھر گر ادیئے ٴ۔نواز حکومت کو بھیک مانگنے والہ پیالہ لے کر آئی ایم ایف کا طعنہ دینے والے نے کہا تھا کہ خودکشی کر لونگا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤگا لیکن یو ٹرن لیا اور ایسا لیٹے کہ تاریخ میں کوئی نہیں لیٹا ہو گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کوئی بیرونی قرضہ نہیں لے گا،قیام پاکستان سے لیکر 2018 تک بیرونی قرضہ 25 ہزار ارب تھا اکیلے خان نے پونے چار سال میں اتنا ہی قرضہ لے کیا جو ستر سال میں لیا گیا تھا1951 کے بعد عمران خان کے دور حکو مت میں گروتھ ریٹ منفی ہو گئی۔ملک کی اعلی عدلیہ پر آثر انداز ہونے کی کو شش کی۔سیاست ہی وہ ماں ہے جو اقتصادیات اور امور خارجہ جیسے انڈے دیتی ہے ۔خارجہ پالیسی میں پاکستان کٹ کر رہ گیا۔سی پیک سست روی کا شکارہو گیا۔نیب اور ایف آئی اے کی مدد سے سیاسی مخالفین پر مقدمات بناےٴ،ڈرایا دھمکایا،اور انکو گرفتار کر وا یا۔ہیو من رائٹس کی خلاف ورزیاں کیں۔ بیشمار لوگوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔تین نیوز چینل پر پابندیاں لگا دی،بےشمار جرنلسٹ کو انکے پروگراموں سے ہٹادیا گیا،کچھ کو گرفتار کیا گیا۔نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والے نے کرونا کے بعد چالیس لاکھ لوگوں کو بےروزگار کر دیا۔ مشہور فلاسفر barrel نے کہا تھا کہجو شخض صحیح معنوںمیں مذہب کا پا بندہو تا ہے کبھی اعصابی اور ذہنی امراض کا شکار نہیں ہوتا۔اپنی انا،خودغرضی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے پاکستان کے ہر ادارے پر اپنی گرفت کر ناشروع کر دی ۔ ہم تیری ہی عبا دت کر تے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں کہنے والے نےاور ریاست مدینہ بنانے والے نے پوری ریاست کو یرغمال کر لیا۔تب پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے ملکر اس کے خلاف ووٹ آف نو کانفیڈینس لانے کافیصلہ کیاپاکستان کی تاریخ میں دووزیراعظموں بے نظیر اور شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی لیکن وہ بچ گئے۔عمران خان کے خلاف آنےوالی تحریک کامیابی سے ہمکنارہوئی اور اسے وزارت اعظمی کے منصب سےہٹنا پڑا۔جھوٹ کو اس انداز سے بولو کہ وہ سچ لگے ۔اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں کہتا تھاکہ میرے علاوہ کوئیٴ چوا ئس نہیں ،

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور اگر مجھے نکالا گیا تو میں اور خطرناک ہو جاؤں گا۔ صرف اللہ سے مدد کا دعوی کرنے والا ایمپائر کی منتوں ترلوں پر آگیا، جسے عوامی حمایت سے زیادہ اداروں کی سپورٹ درکار ہے۔ اس کے قول اور فعل میں فرق پوری قوم نے دیکھا۔ 15th century کے مشہور جج سیاستدانEdward Coke
    نے کہا تھا کہ جب تک قانون بادشاہ سے زیادہ مضبوط نہیں ہوتااس وقت تک بر طانوی معاشرے کو مہذب قرار نہیں دے سکتے۔ لیکن یہاں پاکستان میں گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے۔ پاکستان کے واحد نام نہاد صادق اور امین لیڈر عمران خان فارن فنڈنگ لیتے رہے، قانون کی دھجیاں اڑاتے رہے۔ کیس ہوا تو150سماعتیں ہویں 100
    مرتبہ کیس التوا کا شکارہوا۔3 الیکشن کمشنروں نے فنڈنگ کیس کا کھوج لگایا۔ اور جب خدا خدا کر کے
    الیکشن کمیشن کی رپورٹ آئی تو الزام لگا کہ تحریک انصاف اسکی قیادت بشمول عمران خان نے جانتے بوجھتے ہوےممنوعہ فنڈنگ وصول کی۔اکاؤنٹس میں گڑبڑکیں،جھوٹے حلف نامے جمع کراے، لیکن مجال ہے یہاں کوئی قانون کی بالادستی کی بات کرے یہاں دوسے غلط کاموں سے موازنہ شروع ہو جاتا ہے کہ ان کا کیس بھی کھولو اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کیسز کا فیصلہ بھی کرو، ایک جرم کی سز ا دوسرے کسی جرم کی سزا کے فیصلے سے کیسے منسلک ہو سکتی ہے۔ لیکن یہاں اصول وہی ہے جس کا انہیں فائدہ ہو۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس کو لے لیں۔ اس سے پہلے بھی توشہ خانہ کے تحفے سابقہ وزرائے اعظموں نے لیے لیکن منڈیوں میں انہیں نیلام نہیں کیا گیا۔ یہ وزیراعظم تھے یا بیوپاری۔ ظاہری سی بات ہے جس طرح کے لوگ ارد گرد موجود ہوں گے حرکتیں بھی ویسی ہی ہوں گی۔لسبیلہ کے واقع پر فوج اور سول اداروں نے پی ٹی آئی کے کئی ٹویٹر اور وٹس ایپ گروپ کا کھوج لگایا۔عمران خان نے حب الو طنی اور جھوٹے ناٹک سے اپنے حامیوں کے جذبات بھڑکائے۔اپنے سیاسی مخالفین کو پہلے ہی وہ چور اور غدار سمجھتے ہیں لیکن اپنے دور اقتدار میں ایک دہیلہ بھی وصول نہ کر پائے۔حا ل ہی میں عمران خان پر تو ہین عدالت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نےمعزز عدلیہ کی ایک خاتون جج کو دھمکایا ہے اور پولیس افسران کے خلاف نا زیبا زبان استعمال کی ہے۔22 ستمبرکوان پر فرد جرم لگنی ہے۔اس سے پہلے عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو ایک نجی چینل پر فوج کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔سیا سی مبصر دعوی کر رہے ہیں کہ اگرکوئ بیرونی مداخلت ہوئ تھی تو مارچ میں جب آپ وز یر اعظم تھے تو آئی ایم ایف نے ایک بلین ڈالر اور ورلڈ بینک نے 529 ملین کا قرضہ کیوں جاری کیا تھا؟اگر رجیم چینج کا مسلہ تھا تو خود OIC کا نفرنس میں جو پاکستان میں سات مارچ کو منعقد ہوئ تھی۔اس میں یو ایس اےکی ٹاپ آفیشلز کو کیوں بلا یا گیا تھا؟خیبر پختو نخواہ میں آپ کے وزیراعلی نے کیوں ریڈ کارپٹ ما حول فراہم کیا اور امریکہ سے 36 گاڑیوں کا تحفہ کیوں وصول کیا؟ امریکہ میں ایک فرم کی مدد حاصل کی گی جو پی ٹی ای اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے میں اپنا کر دار ادا کر سکے یہ
    کیا ہم غلام ہے کہ منافی بات نہیں ہے؟ابھی حال ہی میں آپ نے فرمایا کہنیو ٹر لز نے اپنا فیصلہ نہ بدلہ تو فوج اور قوم کے درمیان دوریاں بڑھ جا ہیں گی دراصل عمران خان نے ایک نفسیاتی جنگ شروع کر دی ہے ۔ اور وہ جنگ جو وہ ہارتے دیکھیں گے اس پر یو ٹرن یقینی ہے اور قوم کو وہ یوٹرن سے نئی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی مہارت رکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں ان کی منافقت اور جھوٹ کے سحر سے قوم کب نکلتی ہے لیکن ہم اپنی بات کرتے رہیں گے کیونکہ
    مجھے ہے حکم اذاں
    لاالہ الااللہ

  • عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، عارف علوی کی کوئی اہمیت نہیں، چودھریوں کے پاس ہے کیا کہ وہ صلح کروائیں گے، ڈیل کی باتیں، پی ٹی آئی یا انکے حامی کر رہے ہیں،حکومتی کیمپ سے ڈیل کی کوئی بات نہیں ہو رہی، ہر طرح کا منت ترلا عمران خان نے کر لیا ،چار بندے اس نے چھوڑے ہوئے لیکن اس پر اعتبار کون کرے گا، آج کچھ کہے گا کل کچھ اور پھر یوٹرن لے لے گا اور پھر کہے گا کہ یوٹرن لینا بڑے بندے کا کام ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمٹ کسی کی مدد نہیں کر رہی، یہ عمران خان کو منظور نہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس باہر ہوئے تھے، اسکے بعد وہ آئے، از خود نوٹس پہلے ہوا، دوسری بات یہ کہ میں ان سے ایگری کرتا ہوں یہ بیڈ کنٹیںٹ ہے، دہشت گردی نہیں ہے، عمران خان کے ڈیفنس میں یہ بات ماننے کو تیار ہوں، آگے کیا ہوتا ہے،میں عدالتوں کے اوپر کمنٹس نہیں کرتا،اسکی وجہ کیا ہے کہ عدالت میں ہر طرح کی آبزرویشن آتی ہیں اور انکا سیاق و سباق ہوتا ہے، ہمیں سیاق و سباق پتہ ہوتا ،ایک بات کو لے بات کر لیتے ہیں، عدالت کا تحریری فیصلہ وہ ہمارے لئے ہوتا ہے جس پر بات کی جا سکتی ہے، باقی کمنٹس نہیں

    مبشر لقمان نے اینکر مہوش تبسم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کروا لیں، چار جگہوں پر پی ٹی آئی کی حکومت ہے، پنجاب کے پی کے، گلگت، آزاد کشمیر، ان چار جگہوں پر کروا لیں الیکشن، یہ چاہتے ہیں کہ ہر طرف میری حکومت ہو، جب پنجاب میں الیکشن کروائیں گے اور کے پی میں تو جنرل الیکشن بھی پھر ہو جائیں گے، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عمران خان کہتے ہیں اسمبلی توڑو تو چوھدری پرویز الہیٰ کے ساتھ اختلاف شروع ہو جائیں گے کیونکہ پرویز الہیٰ 28 دن کے لئے وزیراعلیٰ نہیں بن کر آئے تھے،

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

  • عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان نے پورے ملک میں غدر مچایا ہوا ہے، اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں، ایسا آرمی چیف چاہئے جو پنجاب میں زمینوں پر کئے گئے ناجائز قبضے کی عثمان بزدار کی طرح تحقیقات نہ کروائے، عمران خان کو ایسا آرمی چیف چاہئے جو2023 کے الیکشن عمران خان کو پلیٹ میں رکھ کر دے اور سارے الیکٹیبلز جو چھوٹی پارٹی کے ہیں وہ عمران خان کی گود میں ڈال دیں

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک میں تماشا لگایا ہوا ہے لوگ محظوظ ہو رہے ہیں، اس تماشے کے ملک پر اثرات کیا پڑ رہے ہیں کوئی نہیں سوچ رہا، قیاس آرائی اور جھوٹ پر شروع کیا گیا تماشا زیادہ عرصہ نہیں چلتا اسلئے نیا تماشا آ جاتا ہے لیکن سوچ ایک ہی ہوتی ہے کہ مجھے کرسی دو، بس اسکے لئے کبھی امپورٹڈ حکومت، کبھی لوٹے، کبھی غدار، کبھی امریکی سازش کی بات کی جاتی ہے ، با شعور کو بے ضمیر بنانے کی ایک ہی پہچان ہے کہ وہ عمران خان کا ووٹر ہے یا نہیں، عمران خان کہتے ہین کہ چوروں کو آرمی چیف لگانے کا اختیار نہیں ہونا چاہئے بالکل ایسا ہی ہے،لیکن جسے اختیار ہے وہ وزیراعظم ہے، اپنی مرضی کا آرمی چیف چاہئے، عمران خان کو ایسا آرمی چیف چاہئے جو یہ بات یقینی بنائے کہ ڈیم فنڈڈز کے بارے میں اکٹھے کئے گئے اربوں روپے پر کوئی بات نہ کرے، جو فارن فنڈنگ کیس کے حوالہ سے بات مزید آگے نہ بڑھائے، عمران خان کو ایسا آرمی چیف چاہئیے جو سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف گھناؤنی مہم چلانے والوں کو نظر انداز کرے،اربوں روپے کی کرپشن کو نظر انداز کرے، خیرات کے پیسے سیاست کے لئے استعمال ہوں اور کوئی ان پر انگلی نہ اٹھا سکے، جو اس بات کو نظر انداز کرے کہ احساس پروگرام میں غریبوں کے نام پر کیسے لوٹا جاتا ہے، جو توشہ خانہ کی تحقیقات رکوا دے، جو نیب کی طرف سے بند کی گئی انکوائریز کو کبھی بھی منطقی انجام تک نہ پہنچائے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو ایسے لوگ چاہئے جو الیکشن پلیٹ میں رکھ کر دیں، نہ شفافیت ہو نہ کچھ بس عمران خان وزیراعظم بن جائیں، چار سال مین بولے گئے جھوٹ پر پردے ڈالنے والے لوگ عمران خان کو چاہئے،

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

  • تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب سے عمران خان نے روایتی سیاست سے ہٹ کر ملک کو سیاسی بحران میں دھکیلا ہے تب سے ان کا سیاسی مقدر بھی سو گیا ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جارحانہ طرز سیاست سے ایک کے بعد ایک بحران ان کی پارٹی کے اندر بھی جنم لے رہا ہے۔ یہ بحران کبھی آئینی ہو تا ہے تو کبھی قانونی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ توہین عدالت ، ممنوعہ فنڈنگ کیس، توشہ خانہ ریفرینس اور اب بغاوت کے مقدمے عمران خان کی سیاست پر کاری ضرب لگا رہے ہیں ۔ عمران خان جتنے مقبول ہیں اتنے ہی ان کے عوامی نمائندوں کے منہ سوجھے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو پارٹی کے اندر سے بھی ایک بڑے بحران کا خدشہ ہے کیونکہ سیاست کے پنڈت اس وقت تحریک انصاف کی بقاء پر سوالیہ نشان چھوڑ رہے ہیں ۔ کچھ افواہیں یہ بھی اڑ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کو قیادت کے بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔آج ہم بات کریں گے کہ کس طرح تخت پنجاب پر ایک بار پھر کالے بادل منڈلا رہے ہیں ، اس کے علاوہ عمران خان کے گرد موجود خوشامدی ٹولا کیسے تحریک انصاف کی جڑیں کاٹ رہا ہے ۔ایک ہی ملک میں رہنے والے دو شہریوں کےلیے قانون اور انصاف کی تعریف مختلف کیوں ہے Corruption Queen کو کیسے بچایا جا رہا ہے ؟اور تحریک انصاف کی بقا کو کس سے خطرہ لاحق ہے ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان ایک شدید کشمکش کے عالم میں ہیں کیونکہ ان کی پارٹی کے اندر کے لوگ آپس میں دست گریبان ہور ہے ہیں ۔ ۔ ایک مشکل سے نکلتے ہیں تو نئی مشکل ان کا راستہ تک رہی ہوتی ہے ۔ ان دنوں فواد چوہدری جنھیں سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنے میں کمال مہارت حاصل ہے اور جو اپنی زبان سے ہمیشہ اس معاشرے کے اخلاقیات کا جنازہ نکالتے رہتے ہیں ، ان کے درمیان اور عمران خان کے وکیل حامد خان کے دوران لفظی گولہ باری جاری ہے ۔یہ جنگ پہلے اتنی زیادہ شدید نہیں تھی لیکن جب سے عمران خان نے حامد خان کو توہین عدالت کیس میں اپنا وکیل رکھا ہے تب سے اس جنگ میں شدت آ گئی ہے اور آہستہ آہستہ اس آگ کے شعلے تحریک انصاف کے باقی رہنماوں کو بھی گھائل کر رہے ہیں ۔۔کل عمران خان توہین عدالت کیس میں پیش ہوئے اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد معزز عدالت نے ان کا موقف غیر تسلی بخش قرار دیا اوراس کے ساتھ ہی ان پر فرد جرم بھی عائد ہو گیا۔اب فواد چوہدری اور عمران خان کے قریب گردش کرنے والے ٹولے کے مطابق حامد خان ٹھیک سے کیس نہیں لڑ رہے ۔ فواد چوہدری نے تو یہ تک کہہ دیا کہ حامد خان کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نا ہی وہ تحریک انصاف کو Represent کرتے ہیں ،۔ حامد خان اپنی حیثیت اور اوقات کے مطابق کیس لڑیں ۔اس کی وجہ کیا ہے ؟ فواد چوہدری اور تحریک انصاف کے باقی اراکین میں حامد خان کی وجہ سے کیوں اتنا غصہ ہے؟ وہ وجہ یہ ہے کہ حامد خان شروع دن سے عمران خان کے ساتھ رہے ہیں ۔ حامد خان کا شمار تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ اور فواد چوہدری جس کا کام ہی لوگو ں کو آپس میں لڑوانا اور پھوٹ ڈلوانا ہے ، اب اس مشن پر ہے کہ حامد خان اور عمران خان کے درمیان کچھ ایسا ہو جائے جس سے حامد خان سے ہمیشہ کےلیے جان چھوٹ جائے۔در اصل یہ وہ ٹولہ ہے جو عمران خان کی ہر سیاسی شکست کا ذمہ دارہے ۔ انھی کے مشوروں اور خوشامد سے تحریک انصاف آج بحرانوں کی زد میں ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں اور جان بوجھ کر چاہتے ہیں کہ عمران خان کو کیسز میں پھنسا دیں تا کہ پارٹی ان کی جھولی میں آ گرے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب آ جاتے ہیں پنجاب میں بڑھنے والے سیاسی درجہ حرارت کی طرف ۔ میں نے کچھ دن پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ پنجاب میں ایک بڑی ہلچل ہونے والی ہے اور عمران خان سمیت چوہدری ایک بڑی پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں ۔اب اس تبدیلی کی خبریں زور پکڑ رہی ہیں اور عمران خان نے ایک بار پھر اپنے جلسوں میں رونا پیٹنا شروع کر دیا ہے۔۔ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کا تذکرہ بھی ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے ۔ جیسا کی ان کی عادت ہے جب حالات ان کے قابو میں نہیں ہوتے تو وہ الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں ۔ عدالت ان کے خلاف فیصلہ دے تو عدالت کے خلاف، الیکشن کمیشن ان کے خلاف فیصلہ دے تو الیکشن کمیشن کے خلاف ہو گئے اور جب کوئی منجن نا بچا تو فوج کو بدنام کرنا شروع کر دیا ۔ لیکن جیسے ضمنی الیکشن میں اداروں کو متنازعہ بنانے کی ساری کوششیں ناکام ہوئی تھیں اس بار بھی ہر کوشش ناکام ہو گی۔پنجاب میں پرویز الہی کی حکومت صرف دس ووٹوں کے بل بوتے ٹکی ہوئی ہے ۔ جیسے ہی ان دس ووٹوں کی بیساکھی کھسکی تو پرویز الہی کے نیچے سے تخت پنجاب بھی سرک جائے گا۔منصوبہ یہ ہے کہ پہلے جنوبی پنجاب سے کچھ ایم پی ایز تحریک انصاف چھوڑیں گے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے استعفی دے کر مسلم لیگ نواز میں شامل ہو جائیں کیونکہ جنوبی پنجاب کی اکثریت ن لیگ ہی سے تحریک انصاف میں شامل ہوئی تھی ۔اور اس کے بعد ق لیگ کے کچھ ایم پی ایز بھی ہو سکتا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ ق لیگ کے ایم پی ایز تو پہلے بھی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ اور چند اور ملاقاتوں کی اطلاع بھی میرے تک پہنچ چکی ہے ۔ اس لیے حالات بیان کر رہے ہیں کہ بہت جلد پنجاب میں ایک بڑی تبدیلی آ جائے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد ایک بڑی اور ہوش اڑانے والی خبر میری آنکھوں سے گزری او ر میں ابھی تک سکوت کے عالم میں ہوں ۔ یہ خبر تھی فرح گوگی کے حوالے سے ۔ آپ کو مبارک ہو کہ فرح گجر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ اب خارج ہو گیا ہے ۔ اس مقدمے میں فرح گجر پر فیصل آباد میں غیر قانونی طور پر دس ایکڑ زمین الاٹ کروانے کا الزام تھا ۔ آج ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم جن کے پاس ڈی جی اینٹی کرپشن کا اضافی چارج بھی ہے انھوں نے یہ مقدمہ خارج کیا اور ساری تحقیقات کوبھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ۔مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ فرح گجر کی کرپشن کی داستانیں تو میں نے خود دکھائی تھیں ۔ اس کے سارے ثبوت بھی ٹیلی ویژن پر میں نے دکھائے تھے لیکن اس کے باوجود یہ مقدمہ بند کر دیا گیا ۔اور یہ مقدمہ خارج کیسے ہوا؟ اس کی تو بڑی واضح وجہ ہمارے سامنے ہے ۔ جب دس سیٹوں کے عوض آپ کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت مل جائے تو پھر آپ مالک کی حکم عدولی تو نہیں کر سکتے ۔ یا فرض کرو اگر آپ کریں بھی تو کب تک آپ Resistکر سکتے ہیں ۔اس لیے پہلے عثمان بزدار کے خلاف بنائے گئے سارے کیس بند ہوئے اور اب فرح گجر جو ایک طرح سے Corruption Queen تھی، جس نے اربوں روپے کے گھپلے کیے ۔ اس پر قائم کیے گئے مقدمے بھی خارج ہو رہے ہیں۔تحریک انصاف کی تو تاریخ رہی ہے کہ جو جب تک عمران خان کے سامنے سر جھکاتا ہے تب تک وہ نوازا جاتا ہے اور جیسے ہی کوئی عمران خان کی Favorite Listسے نکلتا ہے تب اس کے برے دن شروع ہو جاتے ہیں ۔

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا ہ میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ ایک طرف پنجاب میں فرح گوگی پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کے کیس بند ہو رہے ہیں ، وہیں دوسری طرف تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی کے خلاف کرپشن کے کیس کھولے جا رہے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے صوبائی اسمبلی کے ممبر محمد فہیم نے کچھ دن پہلے پارٹی چھوڑی ۔ اور عمران خان کے یوٹرن سے تنگ آ کر پارٹی چھوڑی ۔ اس کے بعد آج اس گستاخی پر انھیں اینٹی کرپشن کا نوٹس موصول ہو گیا ۔یہ وہ محمد فہیم ہیں جن کا خیبر پختونخواہ کی سیاست میں ایک اہم کردار ہے اور یہ تحریک انصاف میں ایک نیا Forward Block بھی بنا سکتے ہیں ۔ اس لیے اب انھیں Pressurizeکیا جا رہا ہے کہ آپ نے تحریک انصا ف چھوڑنے اور اختلاف کرنے کی جرات کیسے کی ہے ؟اب تو عمران خان جس رخ سفر کر رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ اختلاف کرنے والے کو اسلام سے خارج ہونے کا بھی فتوی صادر کر دیں ۔ کیونکہ ان کے بقول تو جو وفاداری بدلتا ہے اورSpecificallyتحریک انصاف سے وفاداری بدلتا ہے تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ یہ میں کوئی طنز نہیں کر رہا بلکہ عمران خان واقعی آج کل جلسوں میں ایسے جملے کہہ رہے ہیں اور برملا کہہ رہے ہیں کوئی انھیں روکنے والا نہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل رات ملتان میں تو انھوں نے نعوذباللہ تحریک انصاف میں شرکت کو اسلام قبول کرنے سے Link کر دیا ۔اب ایسے شخص کی عقل پر بندا ماتم نا کرے تو اور کیا کرے ؟ایک طرف غریب مر رہا ہے ، سیلاب متاثرین کے بچے بلک بلک کر خیموں کے اندر دم توڑ رہے ہیں ، بے روزگاری اور پسماندگی عروج پر ہے ۔ جمہوری مسائل ایک طرف ہیں ۔ سیاست میں رواداری ، احترام، اختلاف کے حسن کو دیمک چاٹ رہی ہے اور ہمارے حکمران ہمیشہ کی طرح غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔ غداری کے ، شرک کے فتوے بانٹ رہے ہیں ۔۔۔ لوگوں کو اسلام سے خارج قرار دے رہے ہیں اللہ ہی پاکستان کا ہامی و ناصر ہو۔

  • اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے،مبشر لقمان

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے،مبشر لقمان

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دنوں سے سیلاب زدہ علاقوں کی کوریج کر رہا ہوں، ابھی تک خیبر پختونخواہ اور سندھ نہیں گیا، پنجاب کے دو صوبے دیکھے اور مجھے واپس آنا پڑا ، امید ہے اگلے دو چار دن میں کے پی یا سندھ دو میں سے ایک جگہ ضرور جاوں گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو حال دیکھا خوفناک حال ہے،اب میں سب کے لئے بات کر رہا ہوں، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اسکو کلائمنٹ چینج کہا جا رہا ہے لیکن یہ وہ وجہ نہیں اس میں کوتاہیاں ہماری شامل ہیں، ہم نے سب کو ایکسپوز کیا کہ کس طرح سٹون کرشنگ مشین نے دریا کا راستہ ہی بدل دیا، پھر بارش کے بعد سارا پانی آبادیوں میں آ گیا، جس جگہ ہم نے دکھایا انڈس سے اس دن وہاں پر زیادہ پانی پاس ہوا، خود اندازہ لگا لیں کہ پانی کتنا ہوگا، دوسری چیزپانی کی جگہ آبادیاں بننا شروع ہو گئیں اور بستیاں اڑ گئیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہزاروں ایکڑ زمین زیر آب ہے، مویشی مر گئے، جب میں نے وہاں دیکھا کہ کسی سیاسی جماعت کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں کوئی امدادی مہم نہیں ہے، افراد اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے ہیں، آرمی ریسکیو ، مدد کر رہی ہے، دینی جماعتیں، فلاحی کام کرنے والے لوگ ہیں، کوئی سیاسی نہیں، حکومت کے بنے ہوئے کیمپ گھوسٹ ہیں جو صرف دکھانے کے لئے ہیں، ان لوگوں سے ایسے کاموں کی وجہ سے نفرت ہونا شروع ہو جاتی ہے، میں نے 2010 کا فلڈ کور کیا، ہم عطیات بھی لے کر گئے تھے، ایک ہیلپ لائن کھولی تھی، اس وقت بھی دیکھا تھا، اسوقت زیادہ پانی نے انفراسٹرکچر کو اڑا کر رکھا تھا، اسوقت لوگوں کی بستیاں ، آبادیاں، چھوٹے شہر یہ زیر آب ہیں، میں نے لوگوں سے بات کی، ان میں انتہائی غصہ ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سیلاب واقعی قدرتی آفت ہے تو غریبوں کے گھر میں کیوں آتی ہے، امیروں کے گھر میں کیوں نہیں، یہ سوال وہ پوچھنا شروع ہو گئے ہیں،وڈیرے کا ڈیرہ کیسے بچ جاتا ہے، پانی ادھر سے آتا ہے لیکن انکے گھر نہیں جاتا ہمارے علاقے میں پھیل جاتا ہے، یہ سوال ہے جو آج سب متاثرین کے ذہنوں میں ہیں، لاکھوں گھر تباہ اور متاثرین گھروں میں نہیں جا سکتے، لوگ پانی میں بیٹھے ہیں، علاقہ نہیں چھوڑ رہے کیونکہ انکا سامان، مال وہیں ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں حاملہ عورتوں کی بڑی تعداد موجود ہے،پانی پینے کا وہاں موجود نہیں، انکے ساتھ کیا بنے گا، سوا لاکھ ،ڈیڑھ لاکھ بچے جن کی عمر دو سال سے کم ہیں، وہ ماں کا دودھ پیتے ہیں اب ماں کو غذا نہیں مل رہی، بچے کیا پیئیں، بہت مشکلات ہیں، ہر قسم کی غلاظت، بو ہے، سانپ بچھو موجود ہے، انسانی زندگیاں خطرے میں ہیں،

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

  • ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    سینئرصحافی اور اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان میں ایک بھی سیاسی جماعت کا ابھی تک کیمپ نظر نہیں آیا بڑے دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں کی وجہ سے سیاست دان ایوان اقتدار میں آتے ہیں . ابھی حضرت نے فرمایا کہ قدرتی آفت ہے مگر میں پوری طرح متفق نہیں ہوں ان سے ،یہ ہماری کوتاہیاں ہیں ،نالائقیاں اور چوریاں ہیں ان لوگوں کی جو ہمارے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں.

    کوہ سلیمان میں الخدمت فاوندیشن کی جانب سے امدادی کیمپ میں متاثرین سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو بند ٹوٹے ہوئے ہیں یہ آپ کو بھی پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟،انہوں نے کہا کہ 63 ارب روپے ڈی جی خان کیلئے پچھلے وزیراعلیٰ نے لگائے تھے، مجھے تو اس میں سے 63 روپے بھی کہیں لگے نظر نہیں آئے.

    مبشر لقمان نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوں اور نا ہی میں کوئی سیاسی بیان دے رہا ہوں ،میں ایک عام شہری کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں،مبشر لقمان نے کہا کہ اگر میرے بچوں نے یہ پانی پینا ہو جو آپ لوگ پی رہے ہیں تو یہ بہت خوف ناک ہو گا،انہوں نے کہا کہ اگر میرے بچوں کو وہی سہولیات ہوں جو یہاں پر ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہو گا.

    انہوں نے کہا کہ اس ڈی جی خان سے ایک صدر پاکستان ، دو پیجاب کے وزیراعلی ،دو گورنر اور 20 وزیر آچکے ہیں اور ڈی جی خان لگتا ہے کہ 20 ویں صدی میں ہے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الخدمت والے تو ہیں یہاں اور کام کر رہے ہیں،لبیک والے بھی یہاں کام کر رہے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی کام کر رہے ہیں.اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو سیاسی جماعتیں کام نہیں کر رہی ہیں.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں ، یہ لوگ اورہم لوگ تو ریلیف کا کام ہی کر سکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ آپ کیلئے ریلیف کے بعد اصل امتحان بحالی کا ہے ،دو ماہ کے بعد یہ ٹینٹ ختم ہو جائیں گے اور دو مہینے کے بعد موسم کی شدت شروع ہو جائے گی.

    انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے بعد میڈیا بھی اپنا منہ موڑ لے گا،کبھی کوئی شہباز گل کی کہانی آجائے گی ،کبھی کوئی آجائے گی تو اس وقت میں متاثرین سیلاب کے ساتھ ہونا الخدمت کا بہت بڑا کام ہو گا کہ آپ ان کی بحالی کیلئے کام کریں ، ہم آپ کی آواز ارباب اختیار اور باقی لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    مبشر لقمان نے کہا کہ لوگ مدد کر رہے ہیں اور کرنا چاہ بھی رہے ہیں مگر انہیں اعتبار نہیں ہے کسی پر کہ وہ مدد کس کے ذریعے کریں؟ یعنی جتنے لوگ اعلانات کر رہے ہیں. مجھے کئی لوگوں نے کہا امریکہ اور یورپ سے کہ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں اور پیسے بھیجنا چاہ رہے ہیں کہ تمھارے کس اکاونٹ میں بھیجیں،تو میں نے ان کو تین اکاونت دیئے ہیں ،ایک میں نے الخدمت کا اکاونٹ دیا ،دوسرا تحریک لبیک کا اکونٹ ہے اور تیسرا پاکستان آرمی کا اکاونٹ ہے یہ اکاونٹس لے لیں، ان کے علاوہ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے.

    مبشر لقمان نے سیلاب ذدگان سے کہا کہ اللہ تعالی آپ کی مشکلیں آسان کرے اور ہمارا جو امتحان ہے اس میں ہمیں سرخرو کرے،ہمارا یہ بھی امتحان ہے کہ ہم کس طرح سے آپ کے دست وبازو بنتے ہیں، یہ پوری قوم کا امتحان ہے. اللہ تعالی ہم کو ایسی تمام آفتوں سے بچا کے رکھے. آمین

  • سیلاب سے اموات،نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سیلاب سے اموات،نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے پاکستان میں سیلاب سے ہونی والی تباہ کاریوں، امدادی کاموں ،موجودہ سیاسی حالات کے حوالہ سے ٹویٹس کی ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مبشر لقمان کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیلاب آتے رہتے ہیں ،سیلاب کی وجہ سے بڑی تعداد میں اموات ہوتی ہیں جہاں انسان مرتے ہیں وہیں مال مویشی کی بھی موت ہوتی ہے،سیلاب سے کھیت تباہ ہو جاتے ہیں، فصلیں برباد ہو جاتی ہیں، جب بھی سیلاب آئے تو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے ،کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم نقصان برداشت کر لیتے ہیں ، جانیں گنوا دیتے ہیں لیکن بڑے ڈیم بنانے پر متفق نہیں ہو سکتے

    ایک اور ٹویٹ میں مبشر لقمان نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوان ہی کام کر رہے ہیں، ریسکیو و ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، ہر علاقے میں پاک فوج کے جوان نظر آئیں گے جو متاثرین کی مدد کر رہے ہوں گے، ہمارے تمام سولین محکمے اور وزارتیں کچھ بھی نہیں کر رہیں، سوال یہ ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں عوام کی خدمت کرنے میں ہمارے دیگر محکمے کیوں ناکام ہو چکے ہیں؟ اگر انہیں کام نہیں کرنا تو پھر ان پر کروڑوں کے بجٹ کیوں خرچ ہوتے ہیں،

    ایک اور ٹویٹ میں مبشر لقمان کہتے ہیں کہ سیلاب میں لوگ مر رہے ہیں لیکن ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو کوئی فکر ،پرواہ نہیں، سب اپنی سیاست کر رہے ہیں، سیاسی بیانات دے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ جو رویہ سیاستدانوں کا نظر آ رہا ہے اس رویے سے عوام جلد ہی انکے خلاف ہو جائیں گے ،

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    واضح رہے کہ پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جون کے وسط سے جاری مون سون بارشوں کے سلسلے کے نتیجے میں 9000 سے زائد گھر تباہ، 700 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباﹰ 1300 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ صرف سندھ میں بارش اور سیلاب سے 300 اموات ہوئیں

  • ہیلی کاپٹرحادثہ، امریکی ڈرون کے چرچے،جعلی ٹویٹ،سازشی پکڑے گئے

    ہیلی کاپٹرحادثہ، امریکی ڈرون کے چرچے،جعلی ٹویٹ،سازشی پکڑے گئے

    ہیلی کاپٹر حادثہ، امریکی ڈرون کے چرچے،جعلی ٹویٹ،سازشی پکڑے گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری ہے
    ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کی گئی جس کو لے کر پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کیا گیا ہے، ہیلی حادثے کے بعد جعلی اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹویٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان میں امریکی ایمبیسی بڑے افسوس سے اطلاع دیتی ہے کہ غلطی سے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کو ڈرون نے ہٹ کر دیا جس کے نتیجے میں اموات ہوئی ہیں ،ٹیمیں کریش کی جگہ لسبیلہ پر پہنچ رہی ہیں ہمیں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی موت پر افسوس ہے

    جب اس اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی تو اسکے ٹوٹل دو فالورز تھے جو بعد میں بڑھتے گئے، اسکا سکرین شاٹ بھی وائرل ہوا اور پروپیگنڈہ کیا گیا،حقیقت جاننے کے باوجود یہ ایک فیک اکاؤنٹ ہے پی ٹی آئی کے حامی سول میڈیا صارفین نے اس کو لے کر ٹویٹس کیں اور تنقید کی ،جب جعلی اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ وائرل ہونے لگی تو اس اکاؤنٹ کا نام بدل دیا گیا

    جس اکاؤنٹ سے ہیلی کاپٹر ڈرون سے گرنے کی ٹویٹ کی گئی باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس اکاؤنٹ سے پہلے بھی کچھ ٹویٹس کی گئی تھیں جنکو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے، وہ ٹویٹس بھارت مین مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے حوالہ سے کی جا رہی تھیں

    اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا ایک بہت بڑا فتنہ بنا ہوا ہے اور اس فتنے کا دشمن پھرپور استعمال کررہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس فتنے کی مدد سے دشمن ہزارون میل دور بیٹھ کر بھی گھروں میں بیٹھے ہوئے معصوم لوگوں تک پہنچ کر بدگمانی پیدا کر رہا ہے، دشمن ہر برے وقت میں حالات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور ایسا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دے رہا جس سے وہ قوم میں انتشار اور بدگمانی پھیلا سکتا ہے۔ یہ ہماری بدنصیبی بھی ہے کہ ہمارے اپنے ملک کے لوگ اس میں استعمال ہو رہے ہیں اور دشمن اپنے ہی لوگوں کا روپ دھار کر خوب فساد مچا رہا ہے۔ یہ ساری باتیں میں ہوا میں نہیں کر رہا ہے بلکہ اس کے ثبوت ایسے ہیں آپ وہ ثبوت دیکھ کر حیران رہ جائیں گے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ دراصل آج کل ہو کیا رہا ہے کہ بڑے ناموں سے جن کی بات معاشرے کے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے ان کے نام سے جعلی اکاونٹ بنا کر فتنہ پھیلا کر مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں اور بعد میں اکاونٹ کا نام تبدیل کر لیا جاتا ہے۔ اگر آپ فیس بک یا ٹویٹر استعمال کرتے ہیں تو آپ اس سے بخوبی واقف ہوں گے کہ کس کس سیاستدان، کس کس مذہبی لیڈر اور دیگر اہم رہنماوں کے نام سے اکاونٹ بنے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر چوہدری نثار کے نام سے کئی اکاونٹ سامنے آتے ہیں جن سے سیاسی طور پر کئی غیر معمولی باتیں کی جاتی ہیں لیکن چوہدری نثار نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ یہ میرے اکاونٹ نہیں ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں ایک ہیلی کاپٹر کو بدنصیب واقعہ پیش آیا جس میں پاک فوج کے سینئر افسران بھی سوار تھے جو حادثہ کی صورت میں شہید ہو گئے۔

    اسی دن بائیڈن نے ایمن الظوائری کو ڈرون حملے میں اڑانے کی خبر دی۔ پہلے تو تحریک انصاف کے نام نہاد لیڈروں نے یہ سوال پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ ڈرون کہاں سے ہو کر گیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمسایہ دشمن ملک نے اس حادثے کے حوالے سے بد گمانی پیدا کرنی شروع کر دی۔ اس کے لیے ایک جعلی اکاونٹ بنایا گیا اس کی پروفائل پر لکھا ہوا تھا Level 2 policy advisor to David blom, US ambassoder to paksitan پھر اس اکاونٹ سے جو Caryn E. Giffordکے نام سے تھا سے ایک ٹویٹ کی گئی کہ پاکستان میں امریکی ایمبیسی بڑے افسوس سے یہ اطلاع دیتی ہے کہ ہمارے ایک Tactical droneنے غلطی سے پاک فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کو ٹارگٹ کر دیا جس کے نتیجے میں کچھ اموات ہوئی ہیں، ٹیمیں کریش کی جگہ پر لسبیلہ میں پہنچ رہی ہیں۔ ہمیں لیفٹینٹ جنرل سرفراز علی 12 corpsکے نقصان کا افسوس ہے۔ جب یہ ٹویٹ کہ گئی تو ا سوقت اس اکاونٹ کے فالورز کی تعداد دو تھی۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہزار تک پہنچ گئی۔ یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ اس کے فالورز کون ہیں۔

    ایک ہزار تک فالورز پہنچنے کے بعد اس کے سکرین شارٹس کو پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا اور اکاونٹ کا نام تبدیل کر دیا گیا۔ اور اس اکاونٹ کا نیا نام Chantille Austin رکھ دیا گیا۔ جبکہ پاکستان کے ہیلی کاپٹر پر ٹویٹ کرنے سے پہلے اس اکاونٹ سے ہندو ازم اور مسلمانوں کو ہندوستان میں نشانہ بنانے کے حوالے سے ٹویٹ کی جا رہی تھی۔ جو آپ دیکھ سکتے ہیں۔ جس نے توہین رسالت کرنے والی نوپور شرما کی حمایت کے علاوہ پاکستان کے خلاف بھی ٹویٹ کی ہوئی تھی، جو بعد میں ساری ڈیلیٹ کر دی گئی اکاونٹ کا نام تبدیل کرنے کے بعد۔لیکن اب پھر ان ٹویٹس کو دوبارہ لگا دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ میں نے پالیسی کی وجوہات پر وہ ڈیلیٹ کر دی ۔

    جبکہ وہ لوگ جو پراپیگنڈا کے لیے فوری ویب سائیٹس بنا کر اس کے اصلی ہونے کا تاثر دینے کے لیے خبریں لگاتے ہیں ان سے ایک ویب سائٹ بھی بنوائی گئی اور یہ خبر وہاں بھی لگائی گئی۔اب آپ اگر ان کے فالورز پر نظر ڈالیں تو حیران ہو ں گے کہ اس میںArmy training command میجر گورو آریا
    عائشہ صدیقہ
    سبرامینیم سوامی
    میجر سرندر پونیا
    بھارت کی نیوز ایجنسی اے این آئی
    ریپبلک ٹی وی
    وزیر اعلی یو ۔ پی ۔۔یوگی ادیتیہ ناتھ
    راج ناتھ سنگھ
    سمیت بہت سے اہم لیڈروں کے
    Verified
    اکاونٹ ہیں۔ اب ان لوگوں کے اکاونٹ سے اس طرح کی ٹویٹ ری ٹویٹ ہو گی تو کون ایسا بندہ ہے جو فورا دھوکہ نہیں کھا جائے گا۔اور دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے وہ Key board warrier جو Regime change operation کی آڑ میں پاک فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں بڑی تعداد میں اس کو فالو کر رہے ہیں۔ اسے فالو کرنے کا مقصد معلومات حاصل کرنا تھا یا کچھ اور ۔ یا یہ ان کے لیے استعمال بھی ہو رہے ہیں یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔ لیکن اس میں کئی ایسے بھارتی ایجنٹ ہیں جو تحریک انصاف کے سپورٹر کاروپ دھار کے لگے ہاتھوں اپنے ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔اس کا مقصد بھی امریکہ سے پاکستان کے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے، پاکستان میں امریکہ کے لیے نفرت پیدا کرنے ہے، دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کر کے پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات کو مزید خراب کرنا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بھارت کا ساتھ دے رہا ہے لیکن یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اگر بھارت کے مفاد میں ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات خراب کیئے جائیں تو یہاں پاکستان میں لوگ کیوں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اور پھر کہتے ہیں کہ مین امریکہ کا دشمن نہیں ہوں۔؟

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”525600″ /]

  • نواز شریف خاموش کیوں؟ اسمبلیاں تحلیل،اکتوبر میں انتخابات، افواہیں اور حقیقت

    نواز شریف خاموش کیوں؟ اسمبلیاں تحلیل،اکتوبر میں انتخابات، افواہیں اور حقیقت

    نواز شریف خاموش کیوں؟ اسمبلیاں تحلیل،اکتوبر میں انتخابات، افواہیں اور حقیقت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب تک نواز شریف واپس نہیں آتے ن لیگ کا بیانیہ بیک فٹ پر ہی رہے گا، تحریک انصاف لانگ مارچ کر سکتی ہے لیکن دھرنا نہیں دیں گے، آرمی چیف کی تقرری کے حوالہ سے قیاس آرائیاں ملک کے لئے نقصان دہ ہیں

    مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک آرمی چیف کی تقرری کا تعلق ہے میں اسوقت یقین کروں گا جب آئی ایس پی آر کوئی پریس ریلیز دے گا کیونکہ افواج پاکستان کے حوالہ سے آئی ایس پی آر ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے، ہمیں قیاس آرائی نہیں کرنی چاہئے، قیاس آرائی ملک کو نقصان دیتی ہے، جب آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی بات کہی جائے گی تو پھر ہم اس پر کمنٹ کر لیں گے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا اتنی بری خبر نہیں ہے، کافی لوگوں کو ہو رہا ہے اور ہوا ہے، فلائٹ میں کرونا زیادہ کیچ کرتا ہے، کلوز کیبن ہوتا ہے،جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے جب تک آئیں گے نہیں ن لیگ کی سیاست گومگو ہی رہے گی، میاں صاحب آئیں ،جیل جائیں اسکے بعد سیاست ہو گی انکی، اخلاقی طور پر وہ کافی بیک فٹ پر ہیں، جس طرح کی رپورٹس یہاں بنیں اور پھر وہ باہر گئے، اب وہ جو مرضی کہیں کرونا ختم ہو گیا، پرائیویٹ علاج ہو سکتا ہے، اور اسکے بعد وہ آ بھی سکتے ہیں، نہ علاج کی خبریں نہ آنے کی خبریں پھر چہ میگوئیاں ہوں گی، وفاق میں انکے بھائی کی حکومت ہے پھر اتنی مشکل نہیں ہونی چاہئے جب تک وہ نہیں آئیں گے انکا بیانیہ زور نہیں پکڑے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ کے اور پی ٹی آئی کے بیانئے میں بہت فرق ہے، کل عمران خان تقریر کر رہے تھے جب تک عمران خان کی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی انکی ہر چیز ہر کسی کو پتہ چل رہی تھی کیونکہ اسکا سوشل میڈیا بہت ایکٹو ہے، میاں صاحب کی ٹیم پریس کانفرنسوں پر زور دے رہی ہے، پی ٹی آئی والے پریس کانفرنس بھی کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی وائرل کرتے ہیں، ن لیگ نے سوشل میڈیا کو منظم نہ کیا تو انکا بیانیہ دفن ہوتا چلا جائے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مرکز میں اب ن لیگ اور اتحادی حکومت نہیں چھوڑ سکتے اگر چھوڑی تو سیاسی قیمہ بن جائے گا انکا، اگلے پانچ چھ ماہ میں استحکام لائیں گے تو پھر انکو ہی کچھ فائدہ ملے گا، ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، بہت سیریس ایشو ہیں، اگر یہ جاتے ہیں تو انکا کیا بچے گا؟ کل عمران خان نے کہہ دیا کہ ہمارے ساڑھے تین سال میں پچاس روپے ڈالر اوپر گیا اور انکے تین ماہ میں 75 روپے گیا، اگر اس طرح اتحادی حکومت چھوڑتے ہیں تو الیکشن میں کیا منہ دکھائیں گے

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میثاق معیشت ہونا چاہئے اور ایک بزنس پلان بنے کہ حکومت جو بھی بنے اسی بزنس پلان کو فالوکرے گی، جب کوئی دوسرا آتا ہے تو پچھلی سکیموں کو بند کر کے نئی سکیمیں لے آتا ہے یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، میں میثاق معیشت کو سپورٹ کرتا ہوں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس پنجاب اور کے پی میں حکومت ہے، اب لگتا ہے لانگ مارچ کریں گے، اور ٹف ٹائم دے سکتے ہیں یہ اور دیں گے بھی سہی،دھرنا مشکل ہے لیکن لانگ مارچ ضرور ہو سکتی ہے، دھرنے کے لئے لمبی پلاننگ چاہئے، پنجاب انکے پاس آ گیا تو صورتحال بدل گئی

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • کرپشن کے چودھری،کارناموں کی داستان،پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کے بڑے کھابے

    کرپشن کے چودھری،کارناموں کی داستان،پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کے بڑے کھابے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چوہدری مونس الہی اور چوہدری پرویز الہی کا اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مالی فوائد اٹھانے کا الزام سامنے آیا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مونس الٰہی نے گاؤں سمہ، ڈھیر کے، شادیوال، ساروکی سے ڈنگہ تک زرعی زمین اپنے فرنٹ مین فرحان، رہائشی لاہور کے ذریعے مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے کر خریدی ۔ زمین کی قیمت بڑھانے کے لیے اس نے گاؤں سمہ سے ڈنگہ تک سڑک کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اب تک شائد مکمل بھی ہو چکا ہو۔گجرات کی مقامی انتظامیہ کے ذریعے صنعتی فیز ٹو(400 ایکڑ) کے نام پر زرعی اراضی خریدی گئی اور کچھ دیہاتیوں کی زمین کو یا تو معمولی رقم دے کر یا انہیں ڈرا دھمکا کر ہتھیا لیا۔انڈسٹریل فیز ٹو پروجیکٹ کے ساتھ ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے مقامی لوگوں کو ڈرا کر اور زمینوں پر قبضے کے زریعہ زمین خریدی گئی ۔ ریٹ بڑھانے کے لیے یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ اس سڑک پر موٹروے کا لنک قائم ہو جائے گا۔منڈی بہاو الدین میں جی ٹی روڈ ضیغم گوندل پر ایک ٹیوٹا شوروم ہے۔ گجرات میں سیوریج کے تمام منصوبوں میں بیس فیصد کمیشن لینے کا الزام ہے۔گزشتہ چند سالوں میں پانچ سو سے سات سو ایکڑ زمین حاصل کی گئی۔ جس میں سے بیشتر ڈرا دھمکا کر سودے کیئے گئے۔انڈسٹریل فیز ٹو چیمبر آف کامرس کا پراجیکٹ تھا لیکن اس پراجیکٹ میں چیمبر کی شمولیت صفر ہے لاہور کے مسٹر فرحان مبینہ طور پر مونس الہی کے فرنٹ مین ہیں جو ان کی جائیداد کے تمام معاملات دیکھ رہے ہیں۔

     

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مونس الہی پر الزام ہے کہ وہ ماہانہ دس لاکھ روپے سابق سب رجسٹرار ارشاد اللہ سے رشوت لیتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ڈی ایس پی ٹریفک سے ماہانہ دس لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام بھی ہے ۔ جو کرپشن کیسز پر ملازمت سے برطرف ہو گیا تھا سابق ڈی سی گجرات سے ماہانہ دس لاکھ روپے رشوت لینے کا بھی الزام ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ ڈی پی او گجرات عمر سلامت لاڑ سے بھی ماہانہ رشوت لیتا رہا ہے۔ 2010 میں مونس الٰہی پر این آئی سی ایل میں کرپشن کا الزام تھا۔ان کے والد چوہدری پرویز الہی کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کے دور میں این آئی سی ایل سکینڈل میں 320 ملین روپے کی کرپشن ہوئی تاہم انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر انہیں اشتہاری قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں انہیں نیب نے گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں انہیں 2011 میں غیر حتمی شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا اور 2012 میں اس حوالے سے تمام الزامات کو خارج کر دیا گیا۔ 2 جنوری 2020 میں، احتساب عدالت نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ اس کے خلاف کوئی ریکارڈ/شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا اور این آئی سی ایل اسکینڈل میں تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مونس الٰہی نے دوہزار سات میں اپنے اثاثوں کی مالیت پانچ لاکھ روپے سے زیادہ ظاہر نہیں کی تھی۔ تاہم دوہزار نو میں ان کے اثاثوں میں حیرت انگیز طور پر 700 ملین روپے کا اضافہ ہوا۔

    دوہزار سولہ میں پاکستان سے باہر آف شور بینک اکاؤنٹس رکھنے پر ان کا نام پاناما پیپرز میں آیا تھا۔ تاہم ان کے والد نے دعویٰ کیا کہ مونس الٰہی کا آف شور اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ 2017 میں، قومی احتساب بیورو نے مونس الٰہی کے خلاف نئی تحقیقات کا آغاز کیا جو کہ ابھی تک تفتیش میں ہے۔ لاہور رنگ روڈ پراجیکٹ میں کرپشن کا تصور ابتدائی طور پر پرویز الٰہی کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب کے دور میں ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مونس الٰہی کو تمام ماسٹر پلان کا علم تھا۔ اس لیے اس نے زیادہ سے زیادہ زمین انتہائی سستے نرخوں پر خریدی اور بعد میں اسے بہت زیادہ قیمت پر حکومت کو فروخت کر دیا۔رنگ روڈ اور دیگر منصوبوں کے ذریعے کمائی گئی تمام رقم مختلف یورپی ممالک میں لانڈرنگ کی گئی اور مختلف ممالک میں پراپرٹیز اور پلازوں کا سلسلہ کھڑا کیا گیا۔اس نے یورپ کے ایک یا دو شہروں میں بجلی کے منصوبے لگائے۔ جنوبی کوریا میں اپنے فرنٹ مین رانا گلزار جو چوہدری برادران کا کلاس فیلو بھی تھا کہ زریعہ جنوبی کوریا میں بھی سرمایہ کاری کی۔ رانا گلزار کا شمار جنوبی کوریا کے چند بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے اور اطلاعات کے مطابق مونسی الٰہی کی زیادہ تر سرمایہ کاری بھی رانا گلزار نے کی ہے۔ اور اس سے خاندانی رشتہ داری بھی بنائی گئی۔جنرل الیکشن 2018این او سی کے کے بعد، ضلع گجرات کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس چوہدریوں کے کے بعد تعینات کی جاتی تھی ۔ایک موقع پر ضلع کونسل گجرات کے ٹینڈرنگ کے دوران سعادت نواز ایم پی اے مسلم لیگ (ق) چوہدری پرویز الٰہی کے فرنٹ مین شجاعت نواز ڈی سی آفس گجرات میں گھس گئے اور ڈی سی گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کے ساتھ بدتمیزی کی۔ لیکن بعد میں، سزا کے بجائے، ڈی سی کو معافی مانگنی پڑی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے معاملات طے کر لیے۔

    ندیم ملہی چیف ایگزیکٹو ملہی گروپکا چوہدری برادران گجرات کے ساتھ مل کر کرپشن میں ملوث ہونے کا انکشاف۔

    ندیم اختر ملہی ضلع گجرات کا ایک امیر تاجر ہے۔ وہ ریت کی کھدائی، انٹرنیشنل امیگریشن، اور پراپرٹی بشمول بھاری مشینری کے کاروبار کا مالک ہے۔ چوہدری خاندان سے ان کے بہت گہرے روابط ہیں۔ ندیم مبینہ طور پر چوہدری برادران کا اہم فرنٹ مین تصور کیا جاتا ہے ۔ اس نے اپنے نام پر بھاری مقدار میں جائیداد رکھی ہے جو دراصل مونس الٰہی،حسین الٰہی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ان کی ڈکلیئرڈپراپرٹی اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں واقع ہے

    امیگریشن، ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور ریت کی کھدائی کا کاروبار۔۔۔
    ناجائز کمائی گئی رقم کو قانونی شکل دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور غیر قانونی طور پر کمائِ گئی رقم مبینہ طور پر باقائدگی سے چوہدری وجاحت کو ڈلیور کی گئی ۔ چوہدری وجاہت حسین کو پہنچائی گئی رقم مزید مقامی منشیوں کے ذریعے جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی۔ اس بات کی بھی مصدقہ طور پر تصدیق ہوئی ہے کہ ندیم ملہی روزانہ کی بنیاد پر چوہدری وجاہت کو ڈیڑھ لاکھ پہنچاتے تھے ۔۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ندیم اختر ملہی ضلع گجرات میں نئی سڑکوں کی تعمیر میں کرپشن میں ملوث ہیں۔ ندیم ملہی کے ساتھ طارق داراجی نے نئی مجوزہ سڑکوں کے ارد گرد قیمتی زمین خریدی اور زمین کو زبردست منافع کے عوض حکومت کو فروخت کر دیا۔

    ریت کی کھدائی کے معاہدے
    مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ٹھیکیداروں کو ایک پروسیس کے ذریعے ریت کی کھدائی کا معاہدہ دیا گیا جس میں بولی لگانے والے، بولی لگانے کا عمل، ٹینڈرز وغیرہ شامل ہیں اور اس سارے عمل کی نگرانی ضلعی انتظامیہ کرتی ہے2018 کے دوران ADC(R) کی ملی بھگت سے ریت کی کھدائی کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر ندیم اختر ملیہی کو دیا گیا۔اور یہ سب کچھ چوہدری برادران کے اپنے آبائی علاقے کی ضلعی انتظامیہ اور سیاست پر اثر و رسوخ کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ کوئی بولی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی ٹھیکیداروں سے طریقہ کار کو مکمل کرنے کے لیے کوئی ٹینڈر طلب کیے گئے، کسی کو بھی ندیم اختر ملہی کے علاوہ کسی سے بولی نہ لی گئی ۔اے ڈی سی گجرات آکشن کمیٹی کے چیئرپرسن اور Assistant director mines auction committeeکے سیکرٹری تھے۔ اس معاملے کو کھولنے پر،ایف آئی آر نمبر 16/20 مورخہ پچیس جولائی 2020کو سیکشن 409،420 پی پی سی کے تحت اینٹی کرپشن گجرات میں درج کیا گیا۔ جس میں ندیم اختر ملہی کا نام بینیفشری کے طور پر درج کیا گیا۔اسے گرفتار کر کے تفتیش میں شامل کیا گیا۔ آپ ایف آئی آر دیکھ سکتے ہیں۔اے سی ای گجرات اور ندیم اختر ملہی دونوں ضمانت پر ہیں۔ندیم اختر ملہی اور اے ڈی سی (ر) گجرات کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج ہوئی 26/20مورخہ چودہ نومبر دوہزار بیس ۔۔الزامات بتاتے ہیں کہ دونوں اہم افراد نے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔ ندیم اختر ملہی سپیشل جج اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کی عدالت میں سماعت کے لیے گئے تو ندیم ملہی عدالت سے باہر نکلے تو انہیں اینٹی کرپشن نے دوبارہ گرفتار کر لیا۔ لیکن جب ان جیسے لوگوں کی پشت پناہی سرکار میں بیٹھے لوگ کر رہے ہوں تو انہیں اندر رکھنے کی جرات کون کر سکتا ہے۔ یہی ہمارے سسٹم کی بدقسمتی ہے۔