Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ محسن بیگ کے ساتھ کیا ہوا تھا، اسکے گھر میں گھس کر اسکے بچوں، نوکروں کو مارا تھا، دہشت گردی کے پرچے کٹ گئے،تھانے میں زدو کوب کیا گیا، ویڈیو بنا بنا کر ایف آئی اے والے بھجواتے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے بڑا کام کیا ہے اس میں کوئی شک نہیں، سب سے بڑا یہ کہ اسکو لوگوں کے سامنے برا بننا پڑ رہا ہے، مشکل فیصلہ کرنا ہی کرنا تھا ورنہ پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا، پچھلی حکومتوں کے معاہدوں پر عمل کیا انہوں نے، مفتاح اسماعیل نے کمال معاہدہ کیا کہ تیل کی قیمتیں کم ہوں گی عالمی سطح پر تو یہاں بھی ریلیف ملے گا، یہ معاہدہ ہو چکا ہے، ن لیگ میں دو گروپ ایک دوسرے پر اٹیک کر رہے ہیں ایک مفتاح اور ایک اسحاق ڈار کا گروپ ہے، کافی لوگوں کا خیال ہے کہ مفتاح ڈے ٹو ڈے مینج کر رہے ہیں، اسحاق ڈار اگر وزیر خزانہ بننا چاہیں گے تو بن جائیں گے ،نواز شریف کو جو اعتماد اسحاق ڈار پر ہے فنانس کے حوالہ سے وہ کسی اور پر نہیں، مفتاح کو لوگ سپورٹ کرتے ہیں، وہ انکے لئے کافی ہے، وہ بھی تگڑے امیدوار ہیں، سوال یہ ہے کہ اسحاق ڈار وہ کونسا پہلو ہے جو کر سکتے ہیں جس سے پاکستان کی اکانومی سنبھلے، یہ وہی بتا سکتے ہیں، اسحاق ڈار عید کی چھٹیوں میں پاکستان آ رہے ہیں، میری ان سے ذاتی بات ہوئی ہے،انکا آخری چیک اپ کل یا پرسوں ہونا ہے، اسحاق ڈار وہ آکر نیب کی عدالت میں پیش ہوں گے، اس سے انکو گرفتار نہیں کیا جا سکتا، وہ وہاں حاضری دیں گے عدالت میں، مجھے لگتا یہ ہے کہ آنے والے دو ماہ میں پاکستان کی اکانومی بہتر ہونا شروع ہو جائے گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں ابھی پرسوں بھی عدالت میں پیشی بھگت کر آیا ہوں ، کبھی کراچی کبھی لاہور، کبھی اسلام آباد، 56 کیسز میرے اوپر ایک ساتھ ہوئے تھے، 11 کیسز ابھی بھی بھگت رہا ہوں، میرے پاس پولیس کئی بار دیواریں پھلانگ کر آئی لیکن میں نے کبھی واویلا نہیں مچایا ، میرے کنٹینٹ پر لوگوں کو اعتراض تھا کہ میں نے کہا کہ نواز شریف ،اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کی تو میرے کنٹینٹ پر لوگوں کو اعتراض تھا، میری زبان پر نہیں، میں نے کبھی کسی کو دھمکی نہیں دی، پچھلے کافی عرصے سے ہمارے کچھ اینکر ایکٹوسٹ ہو گئے وہ اینکر نہیں رہے، میں پی ٹی آئی کے ساتھ تھا تو اقرار کیا کہ ساتھ ہوں یہ نہیں کہا تھاکہ نیوٹرل ہوں، بڑے دعوے کئے تھے عمران ریاض نے کہ پانچ گھنٹے بعد ویڈیو اپلوڈ ہو جائے گی، 36 گھنٹے ہو گئے میں ویڈیو کا انتظار کر رہا ہوں، جمیل فاروقی یا کچھ اور انکی ٹون ایک دم سے بدلنا شروع ہو گئی ہے، پوری دنیا میں ایک بات بڑی کلیئر ہے، امریکہ نے کتنی جنگیں لڑیں، لیکن آج تک امریکی جنرل تجزیہ نہیں دے سکتا، طالبان نے امریکی فوج کے ساتھ کیا کیا لیکن انکا میڈیا کچھ نہیں بولتا، اداروں کے خلاف بات کریں ،آئین کے خلاف بات کریں اور جب یہ پتہ ہو کہ آئین میں انہیں تحفظ حاصل ہے جنکے خلاف تنقید کی جا رہی ہے، جس قانون کے تحت عمران ریاض پکڑا گیا یہ پی ٹی آئی نے بنایا، یہ قانون ہے، جو بھی اداروں پر بے جا تنقید کرے گا اسکو سزا ہو گی، اس پر عمران ریاض خان نے وی لاگ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بالکل بہت صحیح ہوا ہے، محسن بیگ کے ساتھ کیا ہوا تھا، اسکے گھر میں گھس کر اسکے بچوں، نوکروں کو مارا تھا، دہشت گردی کے پرچے کٹ گئے،تھانے میں زدو کوب کیا گیا، ویڈیو بنا بنا کر ایف آئی اے والے بھجواتے، اسد طور، حامد میر کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ یہی عمران ریاض خان اسوقت کیا بول رہے تھے؟

    ہ قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • عمران ریاض کی گرفتاری اور مبشر لقمان کا کھڑاک

    عمران ریاض کی گرفتاری اور مبشر لقمان کا کھڑاک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،عمران ریاض خان کی اینکر کے طور پر کام کرنے کی سفارش میں نے کی تھی، عمران ریاض خان اس بات کو خود تسلیم کرتا ہے

    مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کیس اتنا سادہ نہیں جتنا ہم لوگ سمجھ رہے ہیں، یہ ایک لائن ہے جو متعدد بار کراس ہوئی ہے، ہم سارے صحافی ہیں اور کبھی نہ کبھی ایک ریڈ لائن کراس کرتے ہیں لیکن اس کو کراس کر کے نہیں رکھتے اور ایسے سٹیج پر نہیں جاتے جہاں ذاتی لڑائی کو سٹیٹ کی لڑائی میں کنورٹ کر دیں، اس کا حق ہمیں نہیں، عمران ریاض سے میرے بڑے اچھے تعلقات ہیں جب وہ ایکسپریس میں کرائم رپورٹر تھے تو میں نے لاکھانی صاحب کو کہا تھا کہ اسکو اینکر بنائیں یہ اچھا اینکر بنے گا، عمران خود بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف لڑائی ہے، ایک طرف جدوجہد ہے، ایک طرف ملکی سلامتی ہے تین باتیں ہیں، ابھی جو صحافی کہہ رہے ہیں کہ صحافت پر حملہ ہوا، جب ڈاکٹر شاہد مسعود جیل میں تھے،حامد میر کو گولیاں لگیں، ابصار عالم کو گولیاں لگیں اسوقت وہ خوش تھے، اور اسکو پرسنل بنا دیا، غلط الزام بھی لگائے اور شرم نہیں آئی، سب چپ رہے، کوئی نہیں بولا، جب عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی کے خلاف مہم چلائی گئی بہت بری تھی، میں اپنے کیسز کا حوالہ نہیں دوں گا، آج میں پھر ایک کیس جاتا ہوں اسلام آباد ہائیکورٹ میں، عمران خان نے جاتے جاتے میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا، آج میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے وہ کیس جیتا ہوں، ہم ساروں کو مشکلیں برداشت کرنی پڑتی ہیں لیکن ہم اپنی ریڈ لائن کو نہیں کراس کرتے، پرسنل نہیں جاتے،آج میں چیف جسٹس کے نام سے وی لاگ کرنا شروع کر دوں اور انہیں تھریٹ کروں ،یا کسی سروس چیف یا کسی اور کو تو پھر تعزیرات پاکستان اور آئین پاکستان کے تحت انکی پوزیشن پروٹیکٹڈ ہے، اگر کچھ اعتراض ہے تو لابنگ کریں اور پارلیمنٹ میں ترمیم کر لیں، جب قانون ہے تو اسکا مطلب ہے قانون توڑ رہے ہیں، جب گرفتاری ہوئی تو خبریں آئیں کہ اسلام آباد ٹول پلازہ سے گرفتار کیا گیا، حالانکہ وہ کافی دور تھے، وہاں کیمرے تھے ، فوٹیج آئی، دوسری بات یہ ہے کہ جب مختلف مقدمات میں ہوتے ہیں تو نان بیل ایبل وارنٹ نکلتے ہیں، جب پیشیوں پر نہین جاتے تو ایسا ہوتا ہے، قانون کچھ نہ کچھ تو لحاظ کر جاتا ہے، نون اور ان نون آدمی کے لئے قانون میں فرق ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہتری یہ ہے کہ ثالثی کر کے اسکو افہام و تفہیم سے ختم کیا جائے، کچھ ایسے صحافی جو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں اور باقاعدہ جھوٹ بول رہے ہیں، پرائیویٹ نمبر فیڈ کر کے بندہ خود ہی کال کر سکتا ہے، آپ کوئی کھڑپینچ ہیں ؟ اگر ہوتے تو کر لیتے، ملکی اداروں کے سربراہوں بارے جو آپکے دل میں آتا ہے بول دیتے ہیں، ایسے نہیں ہوتا، عمران خان ایک پاپولر لیڈر ہے، اسکی رپورٹ کرنے سے نہیں روکا جا رہا، کونسا چینل ہے جو عمران خان کی خبر نہیں چلاتا، اسکی پریس کانفرنس نہیں چلاتا، جو اسکے جلسے کورنہیں کرتا، شہباز گل جو زبان استعمال کر رہے ہیں، وہ ٹی وی پر نہیں چلنی چاہئے،روکنی چاہئے، پروپیگنڈہ کرنا غلط ہے، مین سٹریم میڈیا پر پی ٹی آئی کو کوریج مل رہی ہے، جھوٹ بولنے کا حق نہین اور جب بولیں گے تو پھر تیار رہیں، اگر آپکو کوئی سمجھاتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ اگلا کمزور ہو گیا ہے تو ایسا نہیں ہوتا،

  • فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟

    فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟

    فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو کو دیکھ کر آپ کے چودہ طبق روشن ہونے والے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو آپ کو نہ صرف احسن جمیل گجر بلکہ فرح گوگی کے ماضی اور حال کے کارناموں کا پول کھولے گی۔ بلکہ اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ فرح گوگی بشرہ بی بی کو کیسے ملی۔ کس کس کی جیب کاٹی اور ہیروں اور انگوٹیوں سے پیمنٹ کا نیٹ ورک کیسے چلتا تھا۔ بلکہ اگر میں آپ یہ یہ بتانے لگ گیا کہ کیا کیا بتاوں گا تو اس پر ایک الگ سے ویڈیو بن جائے گی، اس لیے بلا تاخیر ویڈیو شروع کرتے ہیں۔

    خاندانی پس منظر
    احسن جمیل گجر کے آباؤ اجداد 1947 میں گورداسپور، ہندوستان سے ہجرت کر آئے تھے۔ ان کے دادا چوہدری سلطان گجر پھر گوجرانوالہ اور ساہیوال میں 50 سے 100 ایکڑ زرعی زمین کے مالک تھے۔ چوہدری محمد اقبال، احسن جمیل گجر کے والد مسلم لیگ ن کے ایم پی اے اورگجرانوالہ کے ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔اور 1985-2018 کے درمیان آٹھ دفعہ ایم پی اے/صوبائی وزیر رہے۔ احسن جمیل گجر نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1996 میں کیا اور پی ایم ایل این حکومت کے دوران 1998 میں چیئرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ بنے اور 13 ماہ تک چیئرمین رہے۔ ضلع کونسل گوجرانوالہ کے چیئرمین ہونے سے پہلےاحسن جمیل گجر کاکا مالی پس منظر معمولی تھا۔ وہ اپنی آبائی زمین کے 30 ایکڑ کے مالک تھے اور ایک ناکام کاروبار کے بعد دیوالیہ ہو گئے۔ چیئرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ کے طور پر ان کا 13 ماہ کا دور انہیں کروڑ پتی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، انہوں نے پرویز حیدری (اس وقت کی مقامی حکومت گوجرانوالہ) کے ساتھ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں کمیشن کے طور پر لاکھوں روپے بٹورے۔ مدثر قیوم ناہرا، سابق پی ایم ایل این ایم این اے نے بھی ضلع گوجرانوالہ میں ٹول وصولی (محسول چونگی) کا ٹھیکہ حاصل کرنے پر انہیں لاکھوں کا انعام دیا۔

    احسن جمیل گجر2005 میں ایک میگنیٹ کے طور پر ابھرا۔احسن جمیل گجرنے سردار رفیق (سابق ایم پی اے حافظ آباد) کے ساتھ مشترکہ منصوبے میں اپنی خاندانی زمین پر G. Magnola Park Housing Scheme Gujranwalaکا آغاز کیا ، سردار رفیق اس سوسائٹی میں لینڈ فراہم کرنے والا Main contributer تھا ۔ G-Magnolia کی منظوری کے بعد،AJG نے تمام قانونی اور غیر قانونی طریقے استعمال کیے اور فائلوں اور Allocations میں بدعنوانی اور غلط استعمال کے ذریعے عوام سے5,6 ارب روپے کمائے 2006-2007 میں، وہ متحدہ عرب امارات گئے اور مبینہ طور پر سیٹھ عابد کے ساتھ مل کر 30 فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا۔ یہ منصوبہ اس وقت زوروں پر تھا جب اسے عالمی معاشی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا اور اسے زبردست مالیاتی دھچکا لگا۔ احسن جمیل گجر نقصانات برداشت نہیں کر سکا اور پاکستان واپس چلا آیا۔اس دور میں آپہ کو یاد ہو گا کہ لوگ اپنی گاڑیاں پارکنگ میں کھڑی کر کے دبئی سے بھاگ گئے تھے۔ اسی عرصے کے دوران 2007۔ 2008 اس نے سیٹھ عابد کے ساتھ مل کر گلبرگ لاہور میں ایک مارکیٹ بنائی۔ اطلاعات کے مطابق احسن جمیل گجر نے ایڈن گارڈن ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے مالک ارشد (مرحوم) کے ساتھ دو کروڑکی سرمایہ کاری بھی کی۔ اسی عرصے کے دوران انہیں صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور اس وجہ سے وہ اپنے سوتیلے بھائی کے تعاون سے علاج کروانے کے لیے تقریباً دو سال تک امریکہ میں رہے۔یہ تو ہو گیا احسن جمیل گجر اور اب بات کرتے ہیں احسن جمیل گجر کی بیوی فرح شہزادی کی۔۔۔ ان کی کہانی سن کے آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

    فرح خان ۔۔
    محمد حسین خان اور بشیراں خان کی بیٹی ہیں۔ خاندان کا تعلق درحقیقتChurrKhana Sheikhupura
    سے تھا اور بعد میں لاہور میں آباد ہو گئے۔فرح کی ایک بہن ہے یعنی مسرت خان عرف بلو اور ایک بھائی شفیق خان ۔اس کے والد کی موت کے بعد، خاندان مالی بحران کا شکار تھا لہذا دونوں بہنیں رقاص،پارٹی گرل بن گئیں۔احسن جمیل گجر سے رشتہ2001 میں۔ فرح شہزادی لاہور میں عامر سہیل (سابق کرکٹر) کی mistress کے طور پر رہ رہی تھی جب اس کی ملاقات فریڈیز کے نام کے ایک ریستوراں میں احسن جمیل گجر سے ہوئی۔ احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی نے ناجائز تعلقات استوار کئے۔ احسن جمیل گجر نے اسے ٹی بلاک ڈی ایچ اے (پہلے فلور) میں اپنے بنگلے میں رہائش دی۔ اس دوران وہ ایف ایس (مسرت) کی بہن سمیت ایک گروپ میں کئی بار مری بھوربن اور پی سی کراچی گئے اور ان کے ناجائز تعلقات سے لطف اندوز ہوئے۔2003 میں احسن جمیل گجر ریئل اسٹیٹ میں تھا اور اس نے Silicon valley کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ کرپشن کے ذریعے اربوں کمائے۔ اس واقعے کے بعد احسن جمیل گجر مالی طور پر مضبوط ہو گیا اور اس نے مختلف رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری شروع کر دی یعنی اپنی سوسائٹی G magnolia پارک ہاؤسنگ سکیم، نزد چاند دا قلعہ چوک جی ٹی روڈ گوجرانوالہ۔یہ وہ دور تھا جب احسن جمیل گجر واقعی فرح شہزادی سے attachہو گیا اور دونوں نے2003/2004 میں جوہر آباد سے Spiritual guide کی تجویز پر شادی کر لی۔

    خاتون اول سے دوستی ۔احسن جمیل گجر روحانیت کی راہ پر گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ پاکپتن کے مانیکا خاندان کےساتھ بھی تعلقات استوار کر لیے۔ 2009-2010 کے دوران احسن جمیل گجر کو صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوئے اور انہیں علاج کے لیے اکثر امریکہ جانا پڑتا تھا۔ مانیکا کے خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے احسن جمیل گجر نے مانیکا خاندان کو فرح کاخیال رکھنے کو کہا۔ فرح شہزادی نے ان کی غیر موجودگی میں اس وقت بشریٰ مانیکائی (اب خاتون اول) سے دوستی کر لی، انہی رشتوں کی بنیاد پر دونوں نے وزیراعظم عمران خان کی بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کی رہائش گاہHouse # 99 , Street # 18, Y block, DHA phase 3میں شادی کی تقریب کا اہتمام کیا۔جنرل الیکشن 2018 سے پہلے اور اس کردار کی وجہ سے وہ عمران خان کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی وہی تھے جنہوں نے عمران خانکو عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کرنے پر راضی کیا کیونکہ عثمان بزدار کی اہلیہ پہلے ہی فرح شہزادی کے قریب تھیں۔ اور بشریٰ بی بی کے مشہور خواتین گروپ کی رکن تھیں۔

    پنجاب میں بیوروکریٹس کے لیے لابنگ۔۔
    فرح شہزادی اور احسن گجر بشرہ بی بی کے لنکس کا ستعمال کرتے ہوئے خود کو ایک ایسی پوزیشن میں لے گئے جہاں وہ بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر ریاست کے کسی بھی فرد یا ادارے کو متاثر کر سکتے تھے۔ انہوں نے بیوروکریسی میں اپنا اثر و رسوخ کا دائرہ بنا لیا۔ فرح شہزادی اپنے قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو پنجاب میں منافع بخش تقرریوں پر تعینات کرنے میں کامیاب رہی۔

    مویشی منڈی کے ذریعے بدعنوانی۔۔۔
    دوہزار بیس اور اکیس میں طاہر خورشید کےخلاف نیب انکوائری کے بعد ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اور فرح شہزادی کا گروپسرخیوں میں آیا اور سی ایم آفس میں ان کا اثر و رسوخ کمزور پڑ گیا ،کیونکہ قریبی خاندانی دوست منافع بخش تقرریوں سے ٹرانسفر ہو گئے۔اس مرحلے یعنی 2020 سے 2021 کے دوران، فرح شہزادی اور اس کے ساتھیوں نے پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (PCMMDC) بنائی۔ اس سے قبل پنجاب میں نو مویشی منڈیاں کام کرتی تھیں لیکن فی الحال انہوں نے جون 2021 میں نئی کمیٹی بنائی اور قریبی دوستوں کو مقرر کیا۔PCMMDC کے قیام کے بعد، انہوں نے مویشی منڈیوں کے لیے ٹینڈرز کی تشہیر کی۔ تمام بڑے ٹھیکیداروں کی ون ٹو ون ملاقات کا اہتمام فرح شہزادی کے ساتھ ایسوسی ایٹس کے ذریعے کیا گیا تھا۔مویشی منڈیوں کا ٹھیکہ ملنے کے بعد ہر ٹھیکیدار کو بڑی منڈی کے لیے ایک سے دو کروڑ اور چھوٹی منڈی کے لیے بیس سے تیس لاکھ معاہدے کے تحت رشوت کے طور پر ادا کرنا پڑتے تھے۔
    کنسٹرکشن کمپنیوں کے ذریعے کرپشن
    فرح شہزادی حسنین بلڈرز کے ساتھ بھی قریبی روابط میں تھی جو شیخ ایوب کی ملکیت ہیں۔ کمپنی فرح شہزادی کے اثر و رسوخ کے ذریعے بڑے پیمانے پر سرکاری منصوبے،تعمیراتی کام حاصل کرتی ہے اور رشوت کی رقم کے طور پر اپنے حصص ادا کرتی ہے۔فرح شہزادی خود ایک تعمیراتی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں جسے غوثیہ بلڈرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔فرح شہزادی اور جمیل گجرکا ایک اور فرنٹ مین، پاکستانی نزاد امریکی شہری عطا چوہدری نے بیوروکریٹک چینلز کے ذریعے ڈی ایچ اے اسلام آباد میں تعمیراتی منصوبے حاصل کیے ۔

    بحیرہ ٹاؤن کے ساتھ کام کرنا
    کالا شاہ کاکو کے قریب بحریہ ٹاؤن کے لیے زمین حاصل کی جا رہی ہے۔
    فرح شہزادی ملک ریاض کے فرنٹ مین اعظم بھٹی کو اراضی کے حصول میں سہولت فراہم کر تی تھی اور اپنا حصہ وصول کرتی تھی۔ جن دو ہزار گیارہ میں فرح شہزادی گروپ کے کرتوت منظر عام پر آنے لگے تو کرپشن کا طریقہ واردات بدل دیا گیا۔
    نقد رقم کے بجائے، گروپ نے مہنگےتحفے جیسے ہیرے، پینٹنگز اور رسیدوں کے ساتھ گھڑیاں حاصل کیں جو یو اے ای میں 5 فیصد کٹوتی کے بعد یو ایس ڈالرز میں تبدیل کی جاتی ہیں۔ بیرون ملک میں نقد رقم کو سنبھالنا آسان ہے کیونکہ بینک اس میں شامل نہیں ہیں۔ مبینہ طور پر شیخ نیئر (لنک انٹرنیشنل ایکسچینج) اور خواجہ عارف(ڈی ایچ اے) نے گروپ کو حوالہ، ہنڈی اور دیگر ذرائع سے منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کی ۔اگر کسی کو شک ہے تو شیخ نیئر کے اُس بیٹے سے تفتیش منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک کو مزید بے نقاب کر سکتی ہے۔ رانا ثنا ء اللہ صاحب سن لیں۔ ہم نے اپنا کام کر دیا، اب اسے آگے لے جانا آپ کا کام ہے۔

    مختلف کمپنیوں میں حصص۔
    فرح شہزادی سات
    مختلف کمپنیوں میں شیئر ہولڈر،ڈائریکٹر ہے۔ 2017 سے پہلے وہ چار کمپنیوں سے وابستہ تھیں اور 2021 تک وہ بطور شیئر ہولڈر ڈائریکٹر کل سات کمپنیوں کا حصہ ہیں۔ اگر بینک اکاؤنٹس اور لین دین کی بات کی جائے تولبرٹی مارکیٹ، لاہور میں فرح شہزادی کا بینک الحبیب میں امریکی کرنسی ڈالر اکاونٹ ہے جہاں لگ بھگ 75 مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی گئی۔فرح شہزادی اور احسن جمیل گجر کے جو منصوبے اس وقت جاری ہیں ان میں۔۔Palm Jumeirahدوبئی میں لگژری فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق آدھے سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے۔
    چکری روڈ اسلام آباد کے قریب تین ہزار کنال زرعی زمین خریدی گئی ہے ۔ جسے RDAسے کمرشل کروانے کا منصوبہ ہے جس سے چار سے پانچ ارب روپے اس کی قیمت بڑھ جائے گی۔ فیروز پور روڈ پر سوسائٹی بنانے کے لیے زرعی اراضی حاصل کی گئی ہے جسے ایگری سے Brown land میں بدلنے سے 100ارب روپے کمانے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے بھاری منافع کمانے کے لیے اسی مقصد کے لیے Kana Kaachaلاہور کے قریب زرعی زمین بھی خریدی ہے۔گزشتہ تین سالوں میں احسن جمیل گجر نے چار سے پانچ ارب روپے کی تین سو ایکڑ جگہ اپنی پرانی سوسائٹی G Mangoliaکے لیے خریدی ہے جبکہ دو سے تین ارب روپے کے اپنے قرض کی بھی ادائیگی کی ہے۔جبکہ غوثیہ بلڈر کے دائرہ کار کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ اس کے پراجیکٹ اب لاہور اور دبئی میں چل رہے ہیں۔فرح اور احسن جمیل گجر نے Graana.com آن لائن رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی ہے جسے مبینہ طور پر زلفی بخاری کی سرپرستی حاصل ہے۔ اطلاعات کے مطابق Graana.com
    زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کا مشترکہ منصوبہ ہے جسے وہ اپنے مختلف فرنٹ مین کے ذریعے چلاتے ہیں۔ پاکستان میں Graana.com کے جاری میگا پراجیکٹس میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
    Golf Floras Garden city Islamabad
    Imarat Residences ExpressWay Islamabad
    Amazon Outlet GT road isb
    Imarat Mall GT road Islamabad
    Mall of Arabia Expressway isb
    Florence Galleria DHA 2 Islanmabad
    Taj residencies i-14 isb
    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجرزلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں مارگلہ ہالز کے نام سے تین تجارتی منصوبے بھی شروع کر رہے ہیں۔فرح شہزادی نے لاہور میں جیا بگا گاوں میں دو سو ایکڑ زمین ایل ڈی اے سٹی کے اردگرد خریدی ہے۔ان کا منصوبہ ہے کہ یا تو اس زمین کو ایل ڈی اے سٹی کے ساتھ ملایا جائے یا اسے ایک آزاد ہاؤسنگ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا جائے۔اطلاعات کے مطابق احسن جمیل گجر نے اپنی پہلی بیوی سے بیٹے کے لیے امریکہ میں پراپرٹی کے کاروبار میں ایک بڑی رقم انویسٹ کی ہے، اطلاعات کے مطابق زلفی بخاری، بشریٰ بی بی، غلام سرور خان، احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی نے مل کر مبینہ طور پر مجوزہ رنگ روڈ پروجیکٹ راولپنڈی سے متعلق نووا ہاؤسنگ اور دیگر ہاؤسنگ اسکیموں میں اہم سرمایہ کاری کی ہے۔
    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجر نے طاہر خورشید کے ساتھ مل کر لاہور کی تین ہاوسنگ سوسائٹیوں میں فرنٹ مین اونگزیب جتولا کے زریعہ انویسٹمنٹ کی۔۔مشہور بلڈر مسعود شاہ جو BRT peshawerاور فردوس مارکیٹ انڈر پاس کا کنٹریکٹر ہے اورM 8 پراجیکٹس میں بلیک لسٹ ہو گیا تھا اسے مبینہ طور پر زلفی بخاری کے کہنے پر دیگر CPEC منصوبوں سے نوازا گیا۔نعیم الحق مرحوم احسن جمیل گجر اور زلفی بخاری کے ان منصوبوں سے واقف تھے۔ کرپشن میں جمع کی گئی تخمینی رقم۔بنیادی بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور تاجروں کی بدعنوان ٹیم کی مدد سے،فرح شہزادی ،احسن جمیل گجر اور فرنٹ مینوں نے منظم بدعنوانی میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ان کے ڈکلیئر اثاثوں کی کل مالیت تقریبا ستر کروڑ روپے ہے جبکہ غیر اعلانیہ اثاثوں کی کل مالیت 8 سے10 ارب ہے۔

    فرح شہزادی کے اثاثوں کی تفصیلات
    فرح شہزادی نے سینٹ الیکشن میں کاغزات نامزدگی کے دوران اپنے اثاثوں کی مالیت ستر کروڑ روپے درج کی تھی جبکہ اس کی جائیداد کی نا ختم ہونے والی ایک لمبی لسٹ ہے جو غیر اعلانیہ جائیداد ، کاروبار اور اثاثوں کے زمرے میں آتی ہے۔
    House no 99 Y DHA Lahore 10 crore
    House no 422AA DHA Lahore worth 7 crore
    Plot 163 DHA C, Lahore worth 6 crore
    Shop No 19, Gulberg Sunflower Bahria Town Lahore worth 2crore
    Shop no 620A DHA Phase 5, Lahore worth 26.5 Million
    House No. B369 DHA Phase 6, Lahore 127.5 M
    Plot F0009 DHA Phase 5, Lahore 297M
    Plot Bahriya Town Islamabad 25M
    GBPC Investment. gift from husband 60M
    Flat 2AG Bahriya Town Lahore 45M
    GBPC Investment 29M
    Combined Investment (Enterprises) 30M
    Combined Financing (Investment) 1M
    Combined Saroon Investment 1M
    Davan Developers Pvt Ltd 0.04M
    Dr Waqar Khan (Investment) 5.5M
    Bahria Town Karachi Investment) 20M
    Ghazanfar Trust (Investment 1M
    Bank Al-Habib Liberty Branch 0.4M
    Bank AI-Habib BP Branch 0.5M
    silk Bank DHA Branch 4.4M
    Samba Bank, Gulberg Lahore 0.04M
    Toyota Hilux Revo 6.6M
    2 Porsche 36M
    Toyota Hilux Vigo 7M
    1 Toyota Corolla 3.9M
    1 Cyenne SE Hybrid 66M
    1 Suzuki Alto 1.5M
    1 Suzuki Mehran 0.8M
    7 Toyota Corolla Husband 28M

  • بشریٰ بی بی کا پول کھل گیا، پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے

    بشریٰ بی بی کا پول کھل گیا، پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آڈیوز اور ویڈیوز آ سکتی ہیں، لیکن اب اسکا فرق اتنا نہیں پڑنا جتنا سوچا جا سکتا ہے، عمران خان کا سپورٹر ہر بات مان لیتا ہے،وہ کہتے ہیں کہ خان پھر بھی اچھا ہے، برا نہیں باقیوں جیسا نہیں، بشریٰ بی بی کا کیس لیں، اس پر جب کچھ عرصہ پہلے رپورٹنگ ہوئی تھی تو عمران خان نے کہا تھا کہ خاتون کو دور رکھیں ، اسکا سیاست سے تعلق نہیں لیکن پی ٹی آئی والے باز نہیں آئے، بیگم کلثوم نواز جب ہسپتال میں تھیں تب انکے بارے کیا کہا گیا تھا، وہ بیمار تھیں، لیکن پی ٹی آئی والے کہتے رہے کہ وہ صحیح ہیں، کئی منسٹر آئے اور انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی پر بات نہ کریں، ہمیں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی صوم و صلاوۃ کی پابند ہیں انکا وقت عبادت میں گزرتا ہے،اب جو آڈیو ہے اسکو ابھی تک کسی نے تردید نہیں کی،،بشریٰ کی امور ریاست میں مداخلت تھی اور وہ جس طرح ریاست کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے الزامات لگوا رہی تھی وہ تو باقاعدہ غداری کے زمرے میں آتا ہے، یہ کوئی چھوٹی چیزیں نہیں ہیں، آڈیو ایسی بے شمار ہوں گی، ویڈیو بے شمار ہوں گی کیونکہ عمران خان نے کبھی احتیاط نہیں کی، ہم کینیٹر پر جب ہوتے تھے تو کوشش کرتے تھے کہ خان کی علیحدگی میں کوئی ملاقات نہ ہو، انکی ایک میگنیٹک پرسنلٹی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تو کرپشن کے کیسز میں کھول رہا ہوں، فرح گوگی، احسن گجر، بشریٰ بی بی سب کی داستانیں سامنے لاؤں گا، بی آرٹی کا منصوبہ، اس پر انکوائری بند کی گئی، کے پی میں دوائیوں کا سیکنڈل ، اسکی انکوائرئ بند کروائی، کتنا کچھ وہ خود کر چکے ،پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے عمران خان کی پارٹی نے لئے، ن لیگ ، پی پی نے اتنا قرضہ نہیں لیا جتنا خان نے لیا، یا تو اس قرضے سے اتارا جاتا، یہ ترقیاتی کام ہوتے، نہ تو کوئی ترقیاتی کام ہوا، سڑک، سکول ،ہسپتال کچھ بھی نظر نہیں آ رہا اور قرضہ بھی اسی طرح موجود ہے، بلکہ اسکا سود بڑھ رہا ہے، سڑکوں کی ری پیئرنگ چار سالوں میں نہیں ہوئی، کرپشن بھی ہوئی اور ڈھٹائی اس پر یہ کہ ہر ایک کو برا کہہ رہے ہیں،

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

  • بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دن سے میں نے سیریز شروع کی ہے کرپشن کے پروگراموں پر، پہلے بشریٰ بی بی، انکے سابق شوہر، بیٹے بھائی، بزدار کی کرپشن دکھائی، لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ لوگ آپریٹ کیسے کرتے تھے ؟ تو مین انکو بتاتا ہوں کہ انکے گینگ تھے،زمینوں کا کام ہوتا تو کوئی اور گینگ ہوتا، پیسوں کا کام ہوتا تو دوسرا کوئی اور ہوتا، قبضہ کرنے کا کام ہو تو کوئی اور سامنے ہوتا، پھر ڈی سی، ڈی پی او سارے استعمال ہوتے، کسی کو چپ یا شرمندہ کروانے کا کام ہوتا تو اسکے لئے کچھ خواتین رکھی گئی تھیں، حریم شاہ اور صندل خٹک کو دیکھیں ،وہ آئیں اور ایک دم انکی فیم، کبھی فارن آفس، کبھی پرائم منسٹر آفس، اور ایسی ایسی جگہوں پرجہاں عام آدمی تو کیا خاص آدمی بھی بغیر اجازت اور سیکورٹی کلیئرنس کے بغیر نہیں جا سکتا، فارن آفس میں وہ گئیں، سب یاد ہو گا کہ کیسے دروازے کھولے گئے تھے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپکو یاد ہو گا کہ ایئر پورٹ پر میرا جہاز تھا، یہ دونوں آئیں اورجہاز کو کھلوا بھی لیا اور اسکے اندر آ کر چیزیں اوپر نیچے کیں،غایب کیں، اسکی ویڈیو سامنے آئی تو پتہ چل گیا کون ہے، میں نے پولیس میں رپورٹ کی تو الٹا رپورٹ میرے گلے پڑ گئی، میرے اس زمانے میں پی ٹی آئی سے بہت اچھے تعلقات تھے ،نہ پی ٹی آئی میرے خلاف تھی نہ میں پی ٹی آئی کے خلاف تھا، صرف ایک کام میں کر رہا تھا، عمران خان کو ملکر ذاتی طور پر عثمان بزدار کی کرپشن بتاتا تھا کہ یہ کرپشن کر رہا ہے،عثمان بزدار ایک بار میرے پاس ملنے آئے ، اور انہوں نے کہا کہ غلط فہمی، ساری باتیں ہو گئیں، پھر میں نے ایک لمبا چوڑا میسج کیا عمران خان کو، وہ میسج عمران خان نے آگے بزدار کو فارورڈ کر دیا،بزدار نے دیکھا تو وہ ڈر گیا اور سوچا کہ یہ بندہ میرے پیچھے پڑ گیا ہے اور ہٹا کر چھوڑے گیا،انہوں نے پھر فیاض الحسن چوہان کے تھرو کام کیا،

    ٹک ٹاک گرلز کے نئے دھماکے، عمران خان کی ساکھ کو شدید نقصان، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حریم شاہ اور صندل ایئر پورٹ پر وزیر کی گاڑی میں آئیں، پاکستان کے کسی بھی ایئر پورٹ پر آنا ہے تو یا تو ٹکٹ ہو گا یا دوسرے سیکشن میں ہوں تو آرام سے انٹر کر سکتے ہیں اور وہ سیکشن جہاں جہاز کھڑے ہون، انکی مرمت کا علاقہ ہو، وہان سے یہ انٹر ہوتے ہیں، تین ناکے ہیں وہاں پر وہ کراس کئے جاتے ہیں، ویڈیو بنائی جاتی ہین اور چلی جاتی ہیں، میں نے تین رپورٹ پولیس میں کی، پولیس والے مسلسل بہانے بناتے رہے، کہ ہم مختلف ایشوز میں ہیں ،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں زندگی مین کبھی ان دونوں سے نہیں ملا کبھی کوئی ملاقات نہین ہوئی، میری کوئی تصویر انکے ساتھ نہیں، میں نے پولیس میں دو بار درخواست دی ، پھر ان دونوں نے رابطہ کرنا شروع کر دیا کہ ملنا ہے، میں نے کہا کہ نہیں ملنا، پھر فیاض الحسن چوہان سامنے آیا ،پولیس والے نے کہا کہ وزیر کا دباؤ ہے، محکمے کے لوگ ہیں، غلط فہمی ہو رہی ہے، تو پھر پتہ چلا کہ اسکے پیچھے چیف منسٹر بزدار ہے، پنجاب پولیس میں کچھ نہ ہوا تو ایف آئی اے میں گیا ، وہاں فون پر آنےوالے میسجز دیئے، ویڈیو اپلوڈ ہونے کا ریکارڈ کیا، سائبر کرائم والوں نے کہا کہ ہم کر رہے ہیں لیکن کچھ نہ ہوا، تیسرا میں عدالت میں گیا تو حریم شاہ کے لئے 26 وکیل عدالت میں آ گئے، 26 وکیلوں کی فیس کون دے سکتا ہے، پتہ چلا وہ بزدار کو خوش کرنے والے وکیل تھے، پھر پتہ چلا کہ یہ تو بڑی اندر کی گیم ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے روکنے کے لئے یہ کیا گیا کہ یہ باز آ جائے یا لوگ سمجھیں کہ یہ خود صحیح آدمی نہیں بزدار کی برائی کر رہا، پی ٹی آئی کے لوگ بھی کہتے تھے کہ کچھ ضرور ہے کیونکہ مبشر لقمان پی ٹی آئی کے ساتھ ہے اور جب وہ کہتا ہے کرپٹ ہے تو کچھ نہ کچھ ہے، اگر میں نے اسلام آباد میں بھی کمپلین کی، تو پتہ چلا کہ اوپر سے آرڈر آ رہے ہیں کہ ان بچیوں کا کچھ نہیں ہونا، مجھے کہا گیا کہ مبشر صاحب عزت اسی میں ہے کہ چپ کر جائیں،

    ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کی ادھوری سرجری کے بعد ان کے ہونٹوں کی حالت بگڑ گئی۔

    میرے اکاؤنٹس منجمد کرنے ہیں تو ثبوت بھی دینے ہوں گے –

    میں کبھی نہیں گھبراتی جوکچھ مرضی ہوجائے:حریم شاہ نےلندن سے یہ بیان کیوں دیا؟،

    شہزاداکبرنوازشریف کیس پرتوجہ دیں:جانتی ہوں کہ پاکستانی سیاستدان منی کی کتنی بلیک میلنگ کرتےہیں:معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ ن

    رمضان المبارک کے مہینے میں‌ حریم شاہ کی نئی ویڈیو وائرل 

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حریم اور صندل ہی بتا سکتی ہیں کہ انکے ہینڈلر عثمان بزدار اور چوہان یا اسلام آباد سے کوئی تھا، مجھے دکھ ہوا ،میرے بھی بچے ہیں، حریم شاہ کے باپ کا میسج آیا، اسکے باپ نے مجھے میسج دلوایا، پھر اسکے باپ کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ رو رہا تھا، اسکے بعد میں نے کوئی بات نہیں‌ کی حالانکہ مختلف ویڈیوز انکی آتی رہیں، بعد میں پتہ چلا کہ کئی وزیروں کے انکے ساتھ گہرے روابط ہیں، پوری دنیا میں ٹریولنگ، ٹک ٹاکس، رقم سامنے پڑی ہے ایف آئی اے کو دھمکیاں پھر مذاق کہہ دینا، یہ سب آپ کے سامنے ہے، یہ نیکسیس کرپشن کا ہے، جو انکی کرپشن کو بے نقاب کرے اسکو کسی نہ کسی طرح بے نقاب کرو، کوئی حریم یا خٹک، چوہان ، انکو چھوڑا ہوتا ہے کہ وہ آ کر گالم گلوچ کرتے ہیں، ہر آدمی کہتا ہے پھر کہ اپنی عزت بچاو اور چپ کر کے بیٹھ جاؤ، میں چپ نہین بیٹھوں گا میں نے عمران خان کو یہ بات کہی تھی کہ اگر اس نے خود یا اسکی پارٹی نے کرپشن کی تو میرا کام ہے اسکو دینا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ منسٹر نہیں بنایا تو اسلئے اب میں پی ٹی آئی کے خلاف ہو گیا، وہ سن لیں میں تو پی ٹی آئی کا ڈونر تھا، میں تو ڈونیشن دیتا رہا ہوں، خدا کا خوف کرو، جو اصل لوگ تھے پی ٹی آئی کو انکو وزارت نہین ملی، مجھے تو چاہئے بھی نہیں، میں تو پیسے دیتا تھا، پی ٹی آئی کے وزیروں کو انتخابی مہم میں گاڑیاں اور پٹرول کے پیسے میں دے رہا تھا، تم نے مجھے کیا دینا، اگر کسی کو عزت نہیں دے سکتے تو کم از کم جھوٹ تو نہ بولو، کرپشن بے نقاب کروں گا اور ان سب کے نام سامنے لے کر آؤں گا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز ہی وزیراعلی رہیں گے تحریک انصاف پانچ مخصوص سیٹوں کا نوٹیفکیشن چاہتی ہے تا کہ انکے ووٹ بڑھیں بارہ کروڑ عوام کا صوبہ ہے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے کافی لوگوں کر پریشان کیا ہے ۔ میری کافی سینئر وکلاء سے بات ہوئی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی یہ بات کر رہی ہے کہ صدر عارف علوی یہ کہہ دیں کہ شہباز شریف ووٹ آف کنفیڈنس لیں کیونکہ اتحادی ان سے خوش نہیں اور دو تین اراکین کی ڈیتھ یا ریزائن ہوا تھا، اب ووٹ آف کانفیڈنس لیں، پھر دوڑیں لگ گئیں، اگر اراکین پورے نہیں ہوتے تو سسٹم کا کیا ہو گا؟ پاکستان میں کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے ۔ پی ٹی آئی کے پاس کرائسز کو ڈیل کرنے کا بڑا وقت تھا اب کافی سیریس کرائسز ہے پہلے اکنامک کرائسز ہے پٹرول ڈیزل کی قیمت رات کو بڑھ گئی اگر اسی طرح لڑائیاں چلتی رہیں تو پھر یہ کسی تیسرے کو دعوت دے رہے ہیں کیونکہ انکی لڑائیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ پھر کیسے مسئلہ حل ہو گا

    مبشر لقمان نے عمران خان کے گھر سے ڈیوائس لگوائے جانے کے حوالہ سے سوال پر کہا کہ گھر سے بات نکل رہیں گھر میں ہی تلاشی کروا لیں ڈیوائس 24 گھنٹے چلے گی اسکو پھر چارج کرنا پڑے گا خان کے دفتر میں ایسے لوگ آ رہے ہیں جو شاید گھر والوں کو نہیں پسند۔ اس لیول کے بندوں پر ٹائپنگ ہوتی ہے دنیا کی ایجنسیاں کر رہی ہوتی ہیں لیکن اسکا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ عمران خان کسی کے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے گورننس اور انکے دور میں جو کرپشن ہوئی ا سپر وہ بات نہیں کر رہے صحافی تو ہر طرح کے سوال پوچھیں گے ۔کچھ صحافیوں کو انہوں نے اداروں سے بھی فارغ کروا دیا ہے۔ بلٹ پروف گاڑی کا عمران ریاض کا لائسنس کینسل کر دیا گیا۔ دیا کیوں گیا تھا مجھے تھریٹ تھا لیکن میں نے تو گاڑی نہیں لی نہ ہی سیکورٹی لی ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران ریاض سے زیادہ ہر صحافی کو تھریٹ رہے ہیں۔ جیو کی ڈی ایس این جی کی توڑپھوڑ ہوتی رہیں۔ جہاں انکے لوگ جاتے ان پر حملے ہوتے رہے کیا انکو بھی بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی تھیں ،نہیں تو پھر عمران ریاض خان کو کس نے اور کیوں دی تھی ؟مجھے بلٹ پروف گاڑی کا شوق نہیں ہے سہی لیکن اس میں دم گھٹتا ہے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل میریٹ میں جو فنکشن ہوا ایاز امیر نے جو تقریر کی پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیا انہوں نے لفظ خباثت کا استعمال کیا۔ خباثت کا لفظ میں نے جرنلزم میں نہیں سنا۔ پراپرٹی ڈیلر کی بات کر رہے تھے ایک ملک ریاض اور انیل مسرت کا طعنہ ایاز امیر نے دیا لیکن عمران خان نے ابھی تک جواب نہیں دیا ۔ میں نے بشری بی بی ۔عثمان بزدار کی کرپشن کھول کر رکھی۔ اس کا کوئی جواب نہیں آیا

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟
  • کون کتنی نشستیں لے گا مبشر لقمان کی چڑیل نے کھرا سچ میں سب بتادیا

    کون کتنی نشستیں لے گا مبشر لقمان کی چڑیل نے کھرا سچ میں سب بتادیا

    17 جولائی کو پنجاب میں کانٹے دار ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں اس حوالے سے نجی چینل پی این این ٹاک شو کھرا سچ کے میزبان اور پاکستان کے نامور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی چڑیل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ: ان انتخابات میں کونسی جماعت کتنی نشستیں جیتنے والی ہیں۔ 

    مبشر لقمان کے مطابق: پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور تحریک لبیک ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی لیکن پیپلزپارٹی نے یہاں پر ایک کامیاب سیاسی چال کھیل دی ہے۔

    مبشر لقمان نے اپنے پروگرام کھرا سچ میں بتایا کہ: پنجاب ضمنی انتخابات میں بیس نشستوں میں سے تقریبا تیرہ سے چودہ نشستیں مسلم لیگ نواز جیت جائے گی جبکہ چار نشستیں تحریک انصاف جیتے گی اور باقی دو پر دونوں جماعتوں کا کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔

    مبشر لقمان نے واضح کیا کہ: کچھ نشستیں تو بالکل واضح ہیں جس میں پی پی 168 ہے جس پر مسلم لیگ ن کا کوئی مقابلہ ہی ممکن نہیں ہے۔
    https://youtu.be/n-SuZ0Kfy6g
    اینکرپرسن نے دعوی کیا کہ: اس ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف سے ٹکٹوں کی تقسیم میں کافی "بلنڈرز” ہوئے ہیں وہی مسلم لیگ ن سے بھی کچھ غلطیاں ہوئی ہیں لیکن راوی کہتا ہے کچھ غلطیاں ہر سیاسی جماعت کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔

    مبشر لقمان کا تحریک انصاف کے بلنڈرز بارے کہنا تھا کہ تحریک انصاف اپنے بیانیہ کے حوالے سے کافی حد تک مبہم اور کافی الجھن کا شکار نظر آرہی ہے۔ کیونکہ تحریک انصاف میں اس وقت دو بڑے دھڑے وجود اختیار کرچکے ہیں جس میں ایک وہ ہے جو مار دھاڑ کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور دوسرا دھڑے کی مثال انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے ایک بیان حوالہ دیتے ہوئے کہ ان کا یہ یقین ہے کہ ہمارے راستے میں جو کوئی بھی آئے اسے اڑا کر رکھ دینا چاہئے۔

    مبشر لقمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا: ایسا نہیں ہے کہ تحریک انصاف میں سارے کے سارے پہلے اور دوسرے دھڑے کی سوچ سے متفق ہوں اور لڑنے والے ہوں لہذا کچھ لوگ صلح صفائی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اور یہ لوگ محاز آرائی بالکل نہیں چاہتے کیونکہ انہیں پتہ ہے ضمنی الیکشن میں اگر دو سیٹیں بھی مل جائیں تو کسی نعمت سے کم نہیں البتہ ان کی نظر آئندہ انتخابات میں جائزہ حصہ ملنے پر ہے۔ 

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ: مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے کوشش کی کہ سب سے زیادہ ٹکٹ الیکٹبلز کو دیئے جائیں اور اس وقت مسلم لیگ نواز کے پاس سب سے زیادہ الیکٹبلز ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف نے ابھی تک اٹھارہ ٹکٹ جاری کئے ہیں جس میں رشتہ داروں، سیاسی خاندان اور الیکٹبلز کو آٹھ ٹکٹ جاری کئے ہیں۔ اور حال ہی مسلم لیگ نواز سے آنے والوں کو بھی تحریک انصاف کا ٹکٹ دیا گیا۔

  • عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے پاس کچھ نہیں بچا، تحریک انصاف اندر کے مسائل کو چھپانے کے لئے لڑائیاں لڑ رہی ہے،اسکی پارٹی کے لوگ ٹوٹ رہے ہیں، میں نے جب بھی انکو باتیں بتائیں وہ مائینڈ کر جاتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ بس ہم انکی تعریفیں کرتے رہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، ملک میں قانون، آئین ہے، ذاتی خواہشات پر کچھ نہیں بدلا جا سکتا، آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے میں پی ٹی آئی کا سپورٹر رہا ہوں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دو بڑی باتیں ہیں ایک خوفناک بات ہے اور دوسری نان سیریس بات ہے، شہباز گل کو نان سیریس لیتا ہوں، یہ ڈیوائس تیس چالیس ڈالرکی ہے، جب آپ ینگ ہوتے ہیں توبڑا شوق ہوتا ہے کہ میرے پاس ریکارڈنگ ڈیوائس آ گئی، وہ تو 24 گھنٹے یا 48 گھنٹے چلے گی، اسکو پھر چارج کرنا پڑے گا، یہ کونسی ارینجمنٹ ہے کہ ڈیوائس کمرے میں لگ جائے وہ نکل بھی آئے چارج ہو اور پھر دوبارہ لگ جائے،یہ کوئی گھر والا ہی کر سکتا ہے، شہباز گل کو جواب دینا چاہئے کہ یہ انہوں نے تو نہیں کروایا، یا کوئی اور تو گھر میں سے نہیں کہ جو دیکھنا چاہتا ہو کہ کون کون انکے پاس آ رہا، ورنہ عمران خان کی کونسی بات ڈھکی چھپی ہے، انکی ہر بات سامنے آ رہی ہے، جلسے میں ہر بات کر رہے ہیں اور انکے منصوبے بھی سب کو پتہ ہیں، یہ اسی طرح کی سازش ہے جس طرح انکی قتل کی سازش تھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری ہیلی کاپٹر عمران خان استعمال کر رہا ہے،کس حیثیت میں ؟ علی زیدی کو میں نے کہا لیکن اسکا جواب نہیں آیا، شہباز گل سے میں رابطہ کرتا ہوں اگلی فلم کی سٹوری کے لئے ، اگلا الیکشن ملک میں آرام سے نہیں ہو گا، ہر طرف ورکر اشتعال میں ہیں ، سب جماعتوں کے، کس کس کو کنٹرول کریں گے، دو چار لوگوں کے سر پھٹنے ہیں ،اللہ کرے کسی کی جان نہ جائے، بلدیاتی الیکشن میں ایک بے گناہ آدمی مارا گیا، اسکے بچوں کے سر پر کون ہاتھ رکھے گا،شیخ رشید اور کچھ لوگوں کی خواہشات ہیں کہ ملک میں انارکی ہو اور ایمرجنسی لگے، پھر مارشل لا ہو،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یاسمین راشد کو یہ بتانا چاہئے کہ انہوں نے کیا لیا تھا جسکے عوض انوہں نے نواز شریف کو باہر جانے کا سرٹفکیٹ دے دیا تھا، پاکستان کی تارٰیخ میں ایسا نہیں ہوا کہ جیل میں قیدی ہو اور اسکو علا ج کے لئے باہر جانے دیا جائے، میڈیکل بورڈ بنا تھا، کون اسکو دیکھ رہا تھا،یاسمین راشد اور عثمان بزدار تھے، یاسمین راشد دوسروں پر الزام نہ لگائیں پہلے خود بتائیں، کیوں جانے دیا گیا، کیا کرپشن کا حصہ بنے؟ کیا اس نے کوئی مال لگایا؟ ہمیں بھی پتہ چلے، نواز شریف باہر گئے اس میں پی ٹی آئی کی ٹاپ لیڈر شپ انوالو ہے،این آر او خود دیا ہے انہوں نے، باہر کیسے گئے، اور این آر او کیا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی ایک فیملی ہوتی ہے، فیملی کا بڑا ایک بڑا ہوتا ہے، پرویز مشرف بہت سینئر ہیں، سینئر سینئر ہوتا ہے فوج میں انہوں نے ایک سینئر ،جاننے والے کی عیادت کی، اس میں کونسی غلط بات ہے، میں دبئی جانا چاہ رہا ہوں ابھی کچھ عرصے میں جنرل پرویز مشرف کی عیادت کو،میرا ایک تعلق ہے انکے ساتھ،میں دعا کرتا ہوں انکی صحت کے لئے،

  • عمران خان کی سیاست کے فیصلہ کن لمحات،پی ٹی آئی امیدوار تذبذب کا شکار

    عمران خان کی سیاست کے فیصلہ کن لمحات،پی ٹی آئی امیدوار تذبذب کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی سیاسی ڈیولپمنٹ ہو رہی ہیں پاکستان میں، دکھ کے ساتھ ایک بات کہنی پڑ رہی ہے، دکھ ہوتا ہے جب کسی کے لئے محنت کی ہو ،ہاتھ بٹایا ہو اور پھر اسکا نقصان ہو، آج عمران خان کو دیکھتا ہوں، انکی اپنی پارٹی کے لوگ انکے خلاف کیمپئن کر رہے ہیں، تین چار لوگ بار بار جا رہے ہیں کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح عمران خان کی جی ایچ کیو میں ملاقاتیں ہو جائیں، انکا خیال ہے کہ ایک بھی ملاقات ہو جائے تو حالات بدل جائیں گے، عمران خان جوہر ٹاؤن آئے، وہاں انتہائی کمزور شو تھا، انکے مخالف اسد کھوکھر پی ٹی آئی امیدوار کی ضمانت ضبط کروائیں گے، اسکی کوئی دو رائے نہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بیس حلقے جن میں الیکشن ہو رہے ہیں، ان میں کئی جگہوں پر پی ٹی آئی نے بڑے کمزور امیدوار کھڑے کئے، جہاں برادری کے نام پر ووٹ پڑتا ہے وہاں اسی کو ٹکٹ ملتا ہے ،جہاں اعوان ہوں وہاں کشمیری، راجپوت امیدوار نہیں جیت سکتا، ہمارے لوگ برادریوں کے حساب سے ووٹ دیتے ہیں، چار حلقوں میں پی ٹی آئی مضبوط ہے، 14 حلقوں میں ن لیگ مضبوط، دو حلقوں میں سخت مقابلہ ہے، ہو سکتا ہے وہ ٹی ایل پی ، ن لیگ، یا پی ٹی آئی کسی کو بھی مل جائے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ایک نئے سرے سے نئی پرابلم ہو رہی ہے، لوگ الگ ہونا چاہتے ہیں، ان لوگوں کا تعلق پنجاب سے نہیں کے پی کے سے ہے، محمود خان کے پی کے بزدار بن رہے ہیں، عمران خان 25 مئی کو ڈی چوک نہیں پہنچے تھے، اس سے پہلے جو دھرنا اور لانگ مارچ ہوا تھا اس میں طاہر القادری کی سپورٹ حاصل تھی،لیکن اس بار کوئی سپورٹ نہیں تھی، فارن فنڈنگ کیس پر الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا،اور لگتا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن میں اسکے دو فیصلے ہو سکتے ہیں،اگر عمران خان کا نام آتا ہے اور فیصلہ خلاف آتا ہے تو تحریک انصاف کو کسی اور نام سے رجسٹر ہونا پڑے گا، یہی مسئلہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ہوا تھا، پیپلز پارٹی کا پہلے انتخابی نشان تلوار ہوتا تھا پھر تیر ملا، پی ٹی آئی کے اندر تین لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ انکے نام پر پارٹی ہو، ایک قریشی، اسد عمر اور پرویز خٹک ہیں ، میں جتنا عمران خان کو جانتا ہوں وہ ان میں سے کسی کے نام پر نہیں کروائیں گے بلکہ وہ ایک سیاسی بزدار ڈھونڈیں گے،

  • مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نہ ملک کی قسمت تبدیل ہو گی نہ عمران خان کی الیکشن اگلے سال ہوں گے عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدے کئے اور پھر عمل نہیں کیا پاکستان اس وجہ سے بلیک لسٹ ہونے لگا تھا۔چین قطر سمیت سب نے امداد کو آئی ایم ایف سے مشروط کر دیا تھا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو ترکی سے ہاتھ ملانا پڑ گیا حالانکہ جمال خشوگی کے قتل کا الزام تھا ۔ اب معیشت بہتر کرنے کے لیے دونوں مل رہے ہیں۔پاکستان کی حکومت کے لئے بھی مشکل فیصلہ تھا کہ یا مشکل فیصلے کریں یا ڈیفالٹ ہو جائیں اتحادیوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم نے شرائط ماننی ہیں اور دکھانا ہے کہ ذمہ دارانہ ملک ہیں۔ کل ڈالر کم ہوا آج سٹاک مارکیٹ کریش ہوئی جس کی وجہ کچھ اور ہے بتایا یہ جا رہا ہے کہ ٹیکس بڑھایا گیا ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ فارن انویسٹرزجو ہیں جب ڈالر گرا ہے تو انہوں نکالنے کی کوشش کی اسکی وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہے کچھ دنوں میں یہ سٹیبل ہو جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ دوبارہ نہیں کر سکے پہلا یہ مکمل نہیں کر سکے تھے، دوسرا اب کر نہیں سکتے، عمران خان نے آج ضمانت بھی کروا لی ہر وہ کام جس کا دعوٰی کرتے ہیں نہیں کروں گا اسکو کر رہا ہے عمران خان۔ اب حکومت پر پریشر کم ہو رہا ہے عمران خان کی سپورٹ بھی کم ہو رہی ہے ۔ عمران خان کے لیے اب کوئی باہر نہیں نکل رہا سب کو پتہ ہے کہ یہ خود بنی گالہ بیٹھا ہے بزدار لاہور سے دھرنے کے لیے نہیں گیا بندے لے کر نہیں گیا وسیم اکرم پلس کی پارٹی کے لوگ خود نہیں نکلے ۔ یہ لمحہ فکریہ ہے انکے لیے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عثمان بزدار کو مارنا کس نے ہے اسکی حیثیت کیا ہے وہ بے ضرر چیز ہے کرپشن کر سکتا ہے دبا کر کی۔ انکو سیکورٹی کیوں چاہئے کیا کیا ہے ان لوگوں نے ۔ ایسے بھی وزیراعلی رہے پنجاب کے جنہوں نے وزیراعلی ہوتے ہوئے سیکورٹی نہیں لی۔ جتنی کرپشن کی اب بزدار عدالت پہنچ گئے ہیں اگر وہ رکشہ پر بھی جائیں گے تو کوئی فون نمبر بھی نہیں پوچھے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بھی لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں لیکن وہ اسکو جھوٹا سمجھتے ہیں وہ عمران خان ہے ساتھ نہیں نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ہیں۔ لوگ کہتے ہیں عمران کو ہٹانا ہے ہٹا دو ان میں سے کسی کو نہ بناو اب سیاسی نہ بنائیں تو کس کو بنائیں۔ ابھی تک عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ انکی حکومت نے کیا کیا ۔ کوئی کارکردگی تو بتائیں۔کچھ نہ کرتے تو کم از کم کرپشن تو نہ کرتے۔ نفرت کا بیانیہ پھیلایا یے عمران خان نے۔ ہیومن رائٹس کی وائلیشن کی۔ کرونا کا فائدہ ہوا تھا عمران خان کو ۔یہ دیوالیہ دو سال پہلے ہو جانا تھا کرونا کی وجہ سے بچت ہو گئی لون ری سٹرکچر ہو گئے حج اور عمرہ ڈھائی سال بند رہے 12 بلین ڈالر بچے ۔اوورسیز ٹریولنگ رک گئی تھی۔ کرونا میں اچھا کام ایکسپورٹ بڑھانا یہ کارکردگی کہ وجہ سے نہیں اور وجہ سے۔ کارکردگی تھی تو وزیر خزانہ۔چیئرمین ایف بی آئی سیکرٹری خزانہ کیوں بدل دیا عمران خان نے پونے چار سال میں کونسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عوام کے سامنے آئیں۔ اب جو باتیں کر رہے ہیں وہ بھی ان کی دیکھ لیں انکی ذات محدود ہے ۔ یہ عمران خان کا بیان ہے کہ اگر انکو حکومت میں لانا تھا ملک کو نیوکلیر بم مارنا تھا ۔ وہ کہتا ہے کہ میں نہیں تو کوئی نہیں وہ کسی کو اقتدار میں نہیں دیکھ سکتا ۔ ایک طرف اسمبلی سے استعفے دے رہے ہیں تو دوسری طرف ضمنی الیکشن لڑ رہے ہیں تنخواہیں کیوں لے رہے ہیں استعفے دے دئیے ہیں۔

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو