Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے ڈیل ہو گئی ہے یہ بڑی اچھی بات ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہونے کا مطلب آئی ایم ایف کے ساتھ چین، سعودی عرب، یو اے ای کی جو ایڈ تھی وہ اس کے ساتھ مشروط تھی، اب آئی ایم ایف کے بعد ان ممالک سے بھی ایڈ آئے گی، چین، سعودی عرب، یو اے ای سے، اب قطر سے بھی گیس پر بات کر رہےہیں، یہ بہت اچھی خبر ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ زندگی میں کوئی بھی ملک سبسڈیز نہیں دیتا، یہاں پر یہ دیکھ لیں کہ پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا، لیکن سڑکوں پر رش کم نہیں ہوا، اسی طرح گاڑیاں چل رہی ہیں، سب کچھ ہو رہا ہے، میں حکومت کو کہتا ہوں کہ سبسڈیز دے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ والوں کو دے، گاڑیوں والوں کو سبسڈیز نہیں ملنی چاہئے، انکو ڈبل چارج کر کے اپنا ریونیو جمع کر سکتے ہیں اور نیچے کے لوگوں کو مزید بھی سبسڈی دے سکتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ٹرانسپورٹ سسٹم ہے ہی نہیں، شہباز شریف جب لندن میں آخری تھے تو وہاں ٹیکسی پر سفر کی ویڈیو سامنے آئی تھی، مین بھی جب لندن ہوتا ہوں تو وہاں دیکھتے ہیں لمبا سفر ہو تو کیوب پر چلے جائیں، صاف ستھرا سفر، سب اس میں سفر کرتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کو اچھا کرنا ہو گا، حکومت پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ بنائے اور اس پر کام کرے،اگر حکومت خود سے شروع کرنے کا سوچے گی تو نہیں ہو سکتا میں بہت لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی گاڑی کی بجائے اوبر کریم پر سفر کرتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی مصنوعات عمران خان پہن رہے ہیں، اسکا بائیکاٹ کریں، امریکہ مردہ باد کا نعرہ کیوں نہیں لگاتے، لگائیں ،تھوڑے دن میں اس پر یوٹرن نظر آئے گا، کیونکہ عمران خان نے کوئی ایسی بات آج تک نہیں کی جس کی تردید خود سے نہ کی ہو.صدر عارف علوی نے جو قوانین واپس کئے وہ ترامیم 2019 میں تحریک انصاف خود لے کر آئی تھی، ن لیگ نے تو کچھ کیا ہی نہیں، انکے پاس مخالفت برائے مخالفت ہے، لوگوں کو بھڑکا کر رکھنا ہے، 2019 کی نیب ترامیم اٹھا لیں جو پارلیمنٹ میں پیش ہوئیں، وہ خود تحریک انصاف نے پیش کیں

  • عثمان بزدار کی بڑی کرپشن پکڑی گئی

    عثمان بزدار کی بڑی کرپشن پکڑی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان اب لانگ مارچ نہیں کریں گے، تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مزید کیسز بنیں گے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹویب چینل پر اینکر مہوش تبسم کے سوالات کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار وہ شخص ہے جس کی وجہ سے میرے اور عمران خان کے تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی، میں نے خود اسکی کرپشن بارے عمران خان کو بتایا تھا، نو سو کنال زمین ہتھیانے پر اب مقدمہ ہوا، اصل کرپشن پھوپھا کے ساتھ کی، ایک انکے کزن تھے، انکو ساؤتھ پنجاب میں سامنے رکھا ہوا تھا، پولیس میں،محکموں میں تبادلے، میں نے عمران خان کو کہا تو اس نے کہا کہ جھوٹ بول رہے ہو، ثبوت دو تو میں نے کہا کہ تم وزیراعظم ہو، چیک کروا لو، ایک دن پھر مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے آئی بی کے ذریعے انکوائری کروائی ہے تم بالکل جھوٹ بول رہے ہو، تو میں نے کہا کہ آپ دیکھیں کہ آئی بی کس کس کو آپکے گھر میں رپورٹ کر رہی ہے، میں نے وزیراعلیٰ انکی جگہ نہیں بننا لیکن دیکھ لیں وہ کیا کر رہے ہیں، یہاں تک کہ 25، 25 ہزار کی رشوت لے رہے ہیں، کرپشن میں بھی اس آدمی کا ویژن نہیں تھا، عثمان بزدار پر بہت کیسز سامنے آئیں گے، فرح گوگی،عثمان بزدار کے بھائی، پھوپھا، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ دیکھیں عمران خان کے پروگراموں میں لوگ کم ہونا شروع ہو گئے ہیں، اب کم ہو رہے ہیں لوگ، دنیا سڑکوں پر تھی لیکن احتجاج میں نہیں تھی، لبرٹی میں سو گاڑیاں لانے سے ہزار گاڑیاں بلاک ہو جائیں گی اور ایسے لگے گا کہ سب گاڑیاں ساتھ ہیں، اب لانگ مارچ عمران خان سے نہیں ہو گا، لوگ کیا تیاری کریں، پارٹی کچھ نہیں کر رہی، پارٹی نہ حلقہ بندی، نہ ممبر شپ کر رہی، نہ لانگ مارچ کے حوالہ سے تیاری کر رہی، کہاں چلنا، کہاں جانا، راستے مین کیا انتظام ہو گا، ایسی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے،اسکا مطلب کہ لانگ مارچ دور کے ڈھول سہانے ہیں، مہنگائی ایک دن میں ختم نہیں ہوتی، عمران خان جو کر کے گئے تھے وہ سب کے سامنے ہے، وہ عوام کی کمر توڑ کر گئے تھے،میں تو حکومت کو کہتا ہوں کہ انکے کنٹریکٹ سامنے لائیں، تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ کیا کر رہے ہیں

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یہ بچی دعا زہرہ اس کا کیس عجیب نوعیت کا کیس ہے، کافی روز سے چپ ہوں اور کام کر رہا ہوں، میرا تعلق لاہور سے ہے اور یہ سب کراچی میں ہو رہا ہے

    مبشر لقمان یو ٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں کیا ہو رہا ہے، مختلف چیزیں ہیں اور ایک چیز لنک ہے جس کے بارے میں لوگوں کو بہت خدشہ ہے، جب اتنے لوگوں کو خدشہ ہوتا ہے تو اسکو کہتے ہیں زبان خلق نقارہ خدا ، یعنی کچھ نہ کچھ تو ہو رہا ہے ،کہیں نہ کہیں شعلہ تو ہے اگر دھواں اٹھ رہا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا خیال ہے اس بچی کو اسکی مرضی کے خلاف اغوا کیا گیا اور اسکی زبردستی شادی کروائی گئی، یہ سولہ سال کی ہے یہ سترہ سال کی، یہ عمر کچی ہوتی ہے بچوں کی ، لڑکا ہو یا لڑکی اور انکو بہلانا انتہائی آسان ہے، عدالت کے پاس کیس گیا تو عدالت نے بچی کا بیان دیکھا، بچی نے کہا میں ماں باپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، پاکستان کے اندر ایک پریشر ہے کہ لڑکیوں کو آزادی ہونی چاہئے اور این جی اوز اس حوالہ سے کام کر رہی ہیں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں وومین رائٹس کے تحت پروٹیکشن ہو رہی ہے یا کسی کرمنل کے تحت، بچی کے عمر کے تعین کے لئے میڈیکل بورڈ بنایا گیا ، اس نے کہا کہ بچی کی عمر 17 سال ہے،پاکستان پینل کوڈ 16 سال کی عمر کو اپنی مرضی سے شادی کی اجازت دیتا ہے، عدالت کے پاس یہ معاملہ تھا، میڈیکل رپورٹ کے بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا کہ بچی کی اپنی مرضی ہو گی تب تک کے لئے اسے دارالامان بھیج دیا گیا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ والدین کا کہنا ہے کہ یہ دعا چودہ سال کی ہے ہماری شادی کو ہی پندرہ سولہ سال ہو ئے تو بچی کیسے سترہ سال کی ہو گئی، ہم نے کئی شہروں میں قصور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، کراچی، لاہور مین کیس دیکھے، اگر آپ نے خدانخواستہ پندرہ سولہ سال کی بچی کو اغوا کر لیا اور اسکے بعد اسکو کمپرومائیز کروا لیا، کوئی ویڈیو یا تصویر بنا لی، یا ڈرا دھمکا دیا کہ تمہارے کسی رشتے دار کو گولی مار دیں گے، بچوں کا مائینڈ خوفزدہ ہو جاتا ہے، کراچی میں کافی لوگوں کا خیال ہے کہ آرگنائزڈ کرائم ہو رہا ہے جس میں ایسے بچوں کو ڈھونڈا جاتا ہے جن کا خاندان وکیلوں ، عدالتوں،میڈیکل بورڈ کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے ان بچیوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ، جیسے ہمارے دیہات میں ہوتا ہے کہ کسی بچی کو کسی وڈیرے نے اغوا کر لیا، وہ حاملہ ہو گئی تو پھر پتہ چلتا ہے کہ اسکی شادی ہو گئی، نکاح نامہ سامنے لے آیا جاتا ہے، اس کیس میں اہم چیز ہے کہ ایک کرمنل انویسٹی گیشن ہو، وہ عدالت حکم نہیں دے سکتی، اب اسکے والدین کہیں گے کہ اس فرانزک پر ہمیں اعتبار نہیں ،یہ باہر سے بیرون ملک سے کروائیں، وہاں ایک ڈی این اے ہوتا ہے، پھر عمر کا تعین ہو گا اور پھر فیصلہ ہو گا ، لیکن اگر والدین ایسا نہیں کر سکتے تو پھر صبر شکر کر کے بیٹھنا پڑے گا پھر ڈارک ویب یا اور کوئی کہانیان سامنے آتی ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش، نیپال اور بہار سے ہزاروں بچیوں کو اغوا کیا جاتا ہے سالانہ اور پھر انکی سیل کی جاتی ہے،سب سے آسان کام یہ ہے کہ پہلے نکاح نامہ بنا لیتے ہیں پھر اسکے بعد دو چار لوگوں کو حصہ دار بنانا ہے وہ متعلقہ کسی محکمے سے ہوں ، کیس میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ کیس جائز ہوتے ہوئے بھی حل نہیں ہوتے، عدالت کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں، جو شواہد عدالت کو ملتے ہیں عدالت اسی پر فیصلہ کرتی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامک کورٹ میں اس کی عمر اسے بھی کم ہو سکتی ہے،سولہ سال عمر ثابت ہونے پر نکاح خواں پر بھی کچھ نہیں ہو سکتا، سوچنا یہ ہے کہ کہیں آرگنائزڈ کرائم تو نہیں ہو رہا؟ بچی کی شادی ہو جاتی ہے، رشتہ مل جاتا ہے،میاں کے ساتھ خوش بھی ہے،اس پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ سوسائٹی میں کیا ہو رہا ہے،وقت آ گیا ہے کہ دعا زہرہ کے کیس کے بارے میں سول سوسائٹی کہے کہ اس کا فرانزک باہر سے ہونا چاہئے اور ہم اسکا خرچہ برداشت کرنے کو تیار ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ اسکی عمر سولہ سال سے کم ہے پھراس کی عمر کا سرٹفکیٹ بنانے سے لے کر کیس کے تمام آفیشیل جو کیس پر اثر انداز ہوئے سب کو اندر ہونا چاہئے، اغوا کاروں کو بھی سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے، دعا زہرہ کیس اتنا سادہ کیس نہیں

  • اناللہ واناالیہ راجعون، ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ،آخر وجہ کیا بنی ؟

    اناللہ واناالیہ راجعون، ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ،آخر وجہ کیا بنی ؟

    اناللہ واناالیہ راجعون، ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ،آخر وجہ کیا بنی ؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ تکلیف دہ بات ہے،ڈاکٹر عامر لیاقت کی موت ہو گئی ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت کسی تعارف کے محتاج نہیں، جس طرح ان کی طبیعت تھی جو انکے چاہنے والے ہیں یا ناقدین وہ بھی ان کی طرح کے ہی تھے، جب انکی موت کی خبرملی تو یقین نہیں آ رہا تھا، جب تفصیلات ملیں تو پتہ چلا کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کمرے میں جنریٹر چل رہا تھا، جنریٹر کی آواز بھی ہوتی ہے پھر بھی وہ سو گئے صبح جب انکے ملازم کمرے میں گئے تو دھواں ہی دھواں تھا اور نیم مردہ حالت میں ڈاکٹر عامر لیاقت ملے، انکو ہسپتال منتقل کیا گیا ،

     

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عامر لیاقت مختلف قسم کے انسان تھے، کبھی ہماری لڑائی ہو جاتی، کبھی دوستی، پہلی بار پروگرام کیا تو انکی ڈگری کو چیلنج کیا، ہماری لڑائی رہی، پھر بول ٹی وی جوائن کیا تو پھر ایک ساتھ تھے،جب عالم آن لائن ڈاکٹر عامر لیاقت نے شروع کیا تھا تو میرا نہین خیال تھا کہ پاکستان میں اتنا اچھا بولنے والا کوئی اور ہو جس طرح وہ پروگرام کر رہے تھے، جب انکی بات سن رہے ہوتے ہیں تو ایک سے دوسری بات نکل رہی ہوتی اور یہی بولنے کا فن تھا عامر لیاقت کا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سی تھیوریز آ رہی ہے کوئی کچھ کہہ رہا ہے، میڈیکل رپورٹ آنی ہے، میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جائے، عامر لیاقت نے ہر چیز اچیو کی، انکی شہرت بھی تھی،پیسہ بھی تھا، پارلیمنٹ کے رکن بھی بنے، فیم بھی ملی، انکے بہت لوگ چاہنے والے تھے، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بدترین دشمن بھی آج انکی مغفرت کی دعا کر رہے ہیں ،آزمائش سب پر آتی ہے، جو عامر لیاقت کو ملا ہے یا جانتا ہے وہ انکو بھول نہیں سکتا، خواہ وہ عامر لیاقت کو پسند کرتا تھا یا نا پسند نہیں بھول سکتا،

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ہیں

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

  • باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا

    باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا

    باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو میں دو اچھی خبریں ہیں لیکن اس سے پہلے سیاسی معاملات پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی بڑی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کا مستقبل کیا ہے، عمران خان نے اس حوالے سے بڑا اعلان کر دیا ہے، جبکہ سابقہ لانگ مارچ میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے چودہ صفحوں کا فیصلہ سنا دیا ہے اور حساس اداروں سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جبکہ لاہور کی عدالت نے رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔الیکشن کمیشن نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں مزید تاخیر نہیں کر سکتے۔ جبکہ حکومت اشارے دے رہی ہے کہ عمران خان، اسد عمر، شیریں مزاری سمیت تیرہ لوگوں کے استعفوں کی تصدیق ہو چکی ہے وہ کیسے اس پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان پوری قوم کو بتا رہے ہیں کہ کون میر جعفر اور کون میر صادق ہے۔ لیکن خدا کی قدرت دیکھیں کہ خود ان کی جماعت میں میر صادق اور میر جعفروں کی لائنیں لگ گئی ہیں، وہ لوگ جو عمران خان کی ہر غلط اور صحیح بات پر عش عش کر اٹھتے ہین عمران خان کو کنواں میں دھکا دے چکے ہیں، سوشل میڈیا اور جلسوں میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے والے عمران خان پر اس وقت پہاڑ گر گیا جب انہیں اٹک پل پہنچنے سے پہلے ہی لانگ مارچ کے ناکام ہونے کی خبر ملی، حکومتی اقدامات کو بہانہ بنا کر واپسی کی پلاننگ ہو رہی تھی کہ سپریم کورٹ کا حکم اور تمام رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات نے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ چاہے جنوبی پنجاب ہو یا سینٹرل پنجاب، پوٹو ہار ریجن ہو یا لاہور۔ آدھی درجن سے کم لیڈروں کے علاوہ کوئی نظر نہ آیا۔ لاہور کے عہدے دار شہر میں ہی پولیس سے چھپن چھپائی کھیلتے رہے، اوپر سے ظلم دیکھیں کہ جس کو بھی گرفتار کیا جاتا اسے فورا چھوڑ دیا جاتا اور ان کے لیے حیلے بہانوں کا جواز ہی ختم کر دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنی آدھی کابینہ سے ا سوقت ملنے کے لیے بھی تیارنہیں ہیں۔ عمران خان پر ساری صورتحال عیاں ہو چکی ہے لیکن اب وہ اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔اب دھمکیوں سے کام لیا جا رہا ہے اور امید لگائی جا رہی ہے کہ کہیں سے غیبی مدد یا کندھا فراہم ہو جائے ۔ لیکن خفیہ مدد کا دور اب گزر چکا ، جو بھی کر نا ہے اپنے ہی بل بوتے پر کرنا پڑے گا۔لیکن اس سارے کھیل کے بیچ میں سیاست گندی گالی بن چکی ہے، سیاست کے اجزائے ترکیبی میں جھوٹ اہم حثیت حاصل کر چکا ہے۔ اختلاف رائے دشمنی میں بدل چکا ہے اور اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ آنکھوں میں خون اور دل میں نفرت بسیرا کر چکی ہے جبکہ نئی نسل کو تباہ کرنے کا بیڑا پار لگایا جا رہا ہے۔
    آپ عمران خان کی اپوزیشن کے کمالات دیکھ رہے ہیں
    جہاں لاقانونیت، گھیراو جلاو، توڑ پھوڑ اور دھرنے ۔۔
    سیاست کا حسن بن چکے ہیں
    جبکہ تحریک انصاف کی حکومت کے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو
    نہ صرف معشت برباد ہوئی، بلکہ
    خارجہ پالیسی برباد،احتساب برباد، معاشرہ برباد
    ملک میں قرضے ڈبل
    کرپشن انڈکس میں آضافہ، آئین سے پنگا، اداروں سے پنگا،نیوٹرل سے پنگا، الیکشن کمیشن سے پنگا۔قصہ مختصر تباہی ان کا انتخابی نشان بن چکی ہے۔ اوپر سے شہباز گل جیسے لوگ قومیتوں میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ محمود خان جیسے لوگ صوبوں میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ ہر طرف انتشار کا دور دورہ ہے جسے جہاد کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس میں التجا کی گئی ہے کہ پر امن دھرنے اور مارچ کی اجازت دی جائے۔ تحریک انصاف کے اس مطالبے پر میرا پہلے دن سے موقف ہے کہ اگر انہیں سپریم کورٹ اجازت دے کر حکومت کے ہاتھ پاوں باندھ دے گی تو کل کو اور حکومتیں بھی آنی ہیں، پھر مذہبی، سیاسی اور سماجی گروپوں کو وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی سے روکنے کے لیے کیا اخلاقی جواز پیش کیا جائے گا۔عمران خان کا چھ دن کا الٹی میٹم ختم ہو چکا ہے جبکہ نئی لانگ مارچ کے لیے عمران خان نے فیصلہ عدالت کے فیصلہ سے منسوب کر دیا ہے، عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلے ہم چاہتے ہیں کہ عدالت کا دھرنے اور مارچ کرنے پر فیصلہ آ جائے اس کے بعد لانگ مارچ کی تاریخ دی جائے گی۔ اس حوالے سے میں کئی دن سے دعوی کر رہا ہوں کہ لانگ مارچ کا اعلان ابھی نہیں ہوگا۔جبکہ عدالت نے سابقہ لانگ مارچ پر اسلام آباد بار کی درخواست کو نمٹا دیا ہے۔تحریری فیصلے کے مطابق عدالت عظمیٰ کو مایوسی ہوئی کہ عدالتی کوشش کا احترام نہیں کیا گیا، عدالت کی کارروائی کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا، عدالتی حکم نامہ موجود فریقوں کی موجودگی میں جاری کیا گیا، اس کیس میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعلیٰ اخلاقی اقدار میں کمی واقع ہوئی، سیاسی جماعتوں کےاقدام سے عوامی حقوق اور املاک کو نقصان پہنچا۔
    اکثریتی فیصلہ میں متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد سے جواب طلب کیا گیا ہے۔عدالت نے سوالات میں پوچھا کہ عمران خان نے کتنے بجے پارٹی ورکرز کو ڈی چوک پہنچنے کا کہا؟ کب،کہاں اورکس طرح مظاہرین نے ممنوعہ جگہ پر داخلے کیلئے بیرئیرپارکیا؟ ریڈ زون میں گھسنے والامجمع منظم تھا؟ کسی کی نگرانی میں تھا یا اچانک داخل ہوا؟عدالت نے پوچھا کہ کیا کوئی اشتعال انگیزی ہوئی یا حکومت کی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی؟ کیا پولیس نے مظاہرین کے خلاف غیرمتوازن کارروائی کی ؟ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ اگر ریڈزون کی سکیورٹی کے انتظامات تھے تو کیا حکام نے نرمی کی ؟ کیا مظاہرین نے سکیورٹی بیریئر کو توڑا یا خلاف ورزی کی؟عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مظاہرین میں سے کوئی یا پارٹی ورکر جی نائن یا ایچ نائن گراؤنڈ پہنچا؟ کتنے سویلین زخمی یا ہلاک ہوئے، اسپتال پہنچے یا گرفتار کیے گئے؟عدالت نے حکم دیا کہ سوالات کے جوابات پر مبنی رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کرائی جائے اور ان تمام ثبوتوں کا جائزہ لےکر فیصلہ کیا جائےگا عدالتی حکم کی تعمیل ہوئی یا نہیں؟عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حقائق کی بنیادپر تصدیق کی ضرورت ہےکہ عدالت کی دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی گئی، عدالت کو دیکھناہوگا کہ خلاف ورزیوں پرکس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو، پی ٹی آئی قیادت اوردیگرسیاسی جماعتیں پرامن سیاسی سرگرمیوں کاضابطہ اخلاق بنائیں گی۔اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے مگر یہ ریاست کی اجازت کے ساتھ ہوسکتا ہے، ایسے احتجاج کی اجازت ہونی چاہیے جب تک آرٹیکل 15 اور16 کے تحت پابندیاں لگانا ناگزیر ہوجائے، احتجاج کا حق قانونی، معقول بنیادوں کے بغیر نہیں روکا جاسکتا۔عدالت کی طرف سے نیک نیتی سے کی گئی کوششوں کی توہین کی گئی اور عدالت کو 25 مئی کے حکم کی خلاف ورزی پر رنج ہے جبکہوزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہاہےکہ عمران خان سمیت13پی ٹی آئی ارکان کےاستعفوں کی تصدیق ہوچکی،کچھ لوگوں نےایک بار نہیں دس بارمختلف فورمزپرآن ریکارڈ استعفے دینے کی بات کی ہےجن کی ویڈیوزبھی موجودہیں اور ان کےاستعفوں کی تصدیق کی ضرورت نہیں، ان میں عمران خان،فوادچوہدری،شاہ محمود قریشی، اسدعمر،شیریں مزاری سمیت تیرہ کےقریب ارکان شامل ہیں،باقی لوگ گم صم اورخاموش ہیں سپیکرقومی اسمبلی سےرابطہ بھی کررہےہیں کہ ہم آئیں گےنہیں لیکن مارےاستعفےقبول نہ کی جائیں،کچھ ارکان اس لیےنہیں آئیں گےکہ نہ آنےسےانکےاستعفےمنظورنہیں ہوں گے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہاراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کا کیس سابق ڈپٹی سپیکر نے الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایا۔چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر کہا ہےکہ ایسا تاثر جارہا ہے کہ دانستہ معاملہ لٹکایا جارہا ہے، معاملے کو مزید التواء کا شکار نہیں بننے دینگے۔ جبکہایڈیشنل سیشن جج لاہورنے آزادی مارچ میں پولیس کی جانب سے وکلا پر تشدد اور لاٹھی چارج کے معاملے پر وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

    سیشن عدالت میں آزادی مارچ میں پولیس کی جانب سے وکلا پر تشدد اور لاٹھی چارج کے معاملے پر سماعت ہوئی ، 100سے زائد وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔دوسری طرف آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ دوہزار انیس کے قرض پروگرام کی بحالی کا عندیہ دے دیا ہے۔ جس سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر کمی ہو رہی ہے اور ڈالر دو سو دو روپے سے 197تک پہنچ گیا ہے۔ امید ہے آئی ایم ایف کی قسط اور دوسط ممالک کی امداد کے بعد یہ مزید نیچے جائے گا۔جبکہ ایک اوراچھی خبر ہے کہماڑی پیٹرولیم نے شمالی وزیرستان کے بنوں ویسٹ بلاک میں تیل و گیس کےذخائر دریافت کرلیے ہیں۔شمالی وزیرستان میں یہ تیل و گیس کی پہلی دریافت ہے جس میں 25 MMCFD گیس اور 300 بیرل یومیہ تیل کی بڑی دریافت کی گئی ہے۔آپ کو بتا دوں کہ پاکستان دنیا میں تیل کے ذخائر کے حوالے سے 52جبکہ تیل استعمال کرنے کے حوالے سے32ویں نمبر پر آتا ہے، پاکستان روزانہ83ہزار بیرل تیل پیدا کرتا ہے جبکہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا وسیع زرمبادلہ انرجی کی امپورٹ میں خرچ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے معیشت پر بہت بوجھ پڑھتا ہے۔

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • ارشدشریف،چودھری غلام حسین، صابر شاکر کو مبشر لقمان کا خصوصی پیغام

    ارشدشریف،چودھری غلام حسین، صابر شاکر کو مبشر لقمان کا خصوصی پیغام

    ارشدشریف،چودھری غلام حسین، صابر شاکر کو مبشر لقمان کا خصوصی پیغام
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے چودھری غلام حسین کو کھری کھری سنا دیں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی ایک ویڈیو کلپ میرے سامنے آیا ہے، چودھری غلام حسین پروگرام کرتے ہیں، اے آر وائی پر، وہ دیکھا ،میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا، اے آر وائی پر کام کیا ہوا میرا ان سے تعلق ہے،ہر لیول پر میرے پرسنل تعلقات ہیں اے آر وائی پر،لیکن جب میں نے چوھدری غلام حسین جن کی میں بڑی عزت کرتا ہوں انکا پروگرام سنا تو پریشان ہو گیا،وہ کہتے ہیں کہ 19 بلین ڈالر آئے تھے سی پیک کے لئے اور 10 بلین کھائے گئے ،مجھے خود جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتایا، اور اب وہ واپس آ گئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ دشمنوں کو بہت فائدہ ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اعدادو شمار کہاں سے آئے، جنرل باجوہ کا ایک ہی قصور ہے اور بڑا قصور یہ ہے کہ وہ آپ جیسوں کی بات سن لیتے ہیں، میرے خیال سے نہیں سننی چاہئے اور آپ جیسوں کے لئے ایک صوبیدار ہونا چاہئے ، پتہ نہیں آپ کیا سمجھتے ہیں اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے رہتے ہیں،آج میری اے آر وائی کی انتظامیہ کے سینئر لوگوں سے بات ہوئی، سارے قابل احترام ہیں، اینکر چینل سے بڑا نہیں ہو سکتا ،کالم نگار اخبار سے بڑا نہیں ہو سکتا، تجزیہ کار تھنک ٹینک سے بڑا نہیں ہو سکتا، کبھی چودھری صاحب تو کبھی ارشد شریف ٹویٹ کر دیتے ہیں ایمان مزاری پر ، صابر شاکر کو بھی بتا دوں کہ آپ لوگ غلط ہیں، فوج آئیڈیالوجیکل تھیوری کا بھی دفاع کررہی ہے، فوج آپ کی آئیڈیالوجی کو بھی ڈیفنڈ کر رہی ہے، فوج ہی ہے جس کی وجہ سے آپ پر قبضہ نہیں ہوا کسی کا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپکی حیثیت کیا ہے کہ اس طرح کی باتیں کرتے ہو، فوج ہو، عدلیہ ہو یا الیکشن کمیشن آف پاکستان ہو ایسے آڑے ہاتھوں لے رہے ،کیا ہو گیا ہے؟ کبھی دنیا کی صحافت میں ایسا دیکھا کہ امریکہ میں امریکین آرمی پر بات چیت ہو رہی ہو یا پولیس پر بھی ہو رہی ہو،فورسز کو لوگوں کے ہاتھوں کھلونا نہیں بنایا جاتا، گلوان ویلی میں بھارتی فوج کو کتنی مار پڑی لیکن عوام نے کچھ کہا؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری اخلاقی روایات اجازت نہیں دیتی کہ میں مشرف کو غلط کہوں، میں نے انکو قبول کر لیا، میں سولہ سال کا تھا تو نہیں جب وزارت ملی تھی، سب کو سوچنا چاہئے کہ ہم پاکستان کے دشمنوں کی مدد نہ کریں اس طرح کی باتیں کر کے، دشمنوں کی نیو کلیئر پر نظر ہے، بری، بحری، فضائی فوج ہمارے لئے قابل فخر ہے، حساس ادارے بھی اسی طرح ہیں، ہم ان اداروں پر تنقید کر کے اپنے ملک کا نقصان کر رہے ہیں، شیریں مزاری کی بیٹی چوچی نہیں اسوقت اسے ہوش کیوں نہیں آیا جب وہ بول رہی تھی، جب قانونی طریقہ اپنایا جاتا ہے اسکو فالو کیا جاتا ہے تو اسکو ماننا جانا چاہئے ویگو ڈالے بہت ہیں، آپ لوگوں کے لئے کافی ہیں، اگر ویگو نہیں آ رہے اور قانونی راستہ اپنایا جا رہا ہے تو کم از کم تحسین کریں

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • عمران خان پاکستان کا نجات دہندہ،کل رات اسلام آباد میں کیا ہوا؟

    عمران خان پاکستان کا نجات دہندہ،کل رات اسلام آباد میں کیا ہوا؟

    عمران خان پاکستان کا نجات دہندہ،کل رات اسلام آباد میں کیا ہوا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہر روز نئی خبریں اس ملک میں آتی ہیں، کل جو اسلام آباد میں ہوا ہر ایک نے اپنی اپنی مرضی کی فوٹہج دیکھ لی اگر پی ٹی آئی کے سپورٹر ہیں یا خلاف مرضی کی فوٹیج ہے لیکن پاکستان کی فوٹیج ڈھونڈ رہے ہیں اب کونسی ایسی چیز ہے جس سے پاکستان کو یا آنے والی نسلوں کو فائدہ ہو، کل رات سے سوچ رہا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں ان نعروں پر پھر مجھے جواب مل گیا کیونکہ میں خود ان لوگوں میں سے تھا، میں نے بھی عمران خان پر اندھا اعتماد کیا، کئی سال کیا، ہر خامی، غلطی کو دیکھتے تھے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ستر لاکھ پاکستانی اوورسیز ہیں، پاکستان کے اندر رہنے والے بھی تنگ آچکے، ہر قسم کی حکومت دیکھ لی ، جمہوریت چاہتے ہیں، ہر وقت جمہوریت میں انکو جھٹکے لگے،اب سارے سوا کروڑ یا ڈیڑھ لوگ عشق پاکستان میں انہوں نے سیویر ڈھونڈنا شروع کر دیا، انکو عمران خان جیسا سیویر نظر آیا ، انہوں نے کہا کہ اسکو پیسے عہدے کی ضرورت نہیں، حسن ، پیسہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے، اسکا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ نہ گرا ہے نہ بکا ہے، اسلئے آئیڈیل ہے، اسکے پیچھے طویل برائڈنگ ہے، کچھ نہیں بھی تھا تو اسکو بنا دیا گیا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو کیا ملا؟ پاکستان کو ملا فریب ، جھوٹ، خود فریبی، ہم خود فریبی کا شکار ہو چکے ہیں، اسلام آباد میں 20 لاکھ لوگ نہیں آئے، پرامن لوگ نہیں آئے، جن لوگوں نے اس ملک کو بدلنے یا آزاد کرنے کا تہیہ کیا تھا وہاں انکی زبان، گالم گلوچ دیکھ کر ، خواتین کی حرکتیں دیکھ کر افسوس ہوا کہ یہ کیا ہے، کل جب شیریں مزاری کی ویڈیو دیکھ رہا تھا، پولیس والے کی دیکھ رہا تھا جب خاتون اسکے ساتھ بدتمیزی کررہی تھی تو وہ پولیس والا مجھےپڑھا لکھا نظر آیا، اس نے خاتون سے کوئی بدتمیزی نہیں کی اسکے برعکس پاکستانی ہائی کمیشن یوکے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جہانگیر چیکو نے وہاں پاکستان کے ملٹری اتاشی سے گالم گلوچ کی ہے، ایک اہلکار کو دھکے دے رہے ہیں، برطانیہ میں ان پر مقدمہ ہو جائے گا اور وہ اندر جائیں گے،

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    عمران خان اور بشری بی بی کی کونسی ویڈیوز ہیں جن سے پی ٹی آئی گھبرا رہی ہے:مبشرلقمان کا انکشاف

  • الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی نے سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہئے، تحریک لبیک الیکشن کے لئے تیار ہے، سیاسی جماعتیں سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے لئے رابطہ کر رہی ہیں، اہل امیدواروں کو ٹکٹ دیں گے، کشمیر کا مقدمہ لڑنے والون کو عمران خان نے جیل میں ڈالااوراسی کے دور حکومت میں حافظ محمد سعید کو سزا ہوئی، یاسین ملک کی سزا پر خاموش نہیں رہ سکتے، عوامی خدمت بھی کرتے رہیں گے، فرانس نے ریاستی سطح پر گستاخی کی اسلئے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، تحریک انصاف کی حکومت نے سفارتخانوں میں جا کر معافیاں مانگیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج میں جس شخصیت کا انٹرویو کرنے جا رہا ہوں وہ اگلے الیکشن میں آپ سب کو حیران کرینگے وہ پاکستانی سیاست میں روشن ستارہ ہیں انہیں کچھ لوگ مذہبی شدت پسند بھی سمجھتے ہیں دو رائے ہیں ۔علامہ خادم رضوی کی وفات کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ جماعت تقسیم ہو جائے گی مگر کچھ نہیں ہوا ۔حافظ سعد رضوی کو جیل ہوئی لانگ مارچ ہوا اور اس میں 38 لوگ شہید ہوئے بے پناہ زخمی ہوئے سب کا نعرہ تھا کہ امیر کو رہا کرو اور کوئی مطالبہ نہیں تھا ۔ تحریک لبیک کا کیا مستقبل ہے ان پر بھارت کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگا انکو بھارت کا ایجنٹ کہنے والی تحریک انصاف کا حال آج دیکھ لیں

    حافظ سعد رضوی نے مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملکی حالات ایسے ہی ہیں مفادات کے لیے نعرے لگائے جاتے ہیں ملکی حالات جمہوریت میں احتجاج میں ٹھیک ہوتے ہیں جن لوگوں نے دور اقتدار میں ظلم کیا انکو اسکا حصہ مل رہا ہے اب ۔آج پولیس والے شہید ہوئے تو تحریک انصاف مذمت نہیں کر رہی ۔ہمارے مارچ میں ہوا تو ہمارے لوگ جنازے میں بھی شریک تھے ۔شہید کا مذاق کیوں ۔ چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی درست نہیں ہمارے گھروں میں بھی ایسا ہوا اور بہت کچھ لے گئے تھے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن جب بھی ہوں ہم تیار ہیں الیکشن اداروں کا کام ہے ۔جیسے حالات بنیں گے تحریک لبیک تیار ہے۔ ہمارے قائد نے ایک نظریہ بتایا تھا کہ ہمارے لوگ پیچھے رہیں گے اہل لوگوں کو ٹکٹ دیں گے فواد چودھری کو ٹکٹ دینے کے سوال پر کہا کہ اگر فواد چودھری بھی نظریاتی ہو گا تو ٹکٹ دیں گے نہیں تو نہیں ۔ تحریک انصاف کا مستقبل تاریک ہے ۔ سیٹ پر بیٹھ کر للکارا جاتا ہے،عمران خان وزیراعظم تھے تو کچھ نہ کیا اسکے باوجود انکی حکومت ایمبیسی میں تین بار جا کر معافی مانگی کہ غلطی ہو گئی ۔ ہمارے تک یہی اطلاع ہے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہناتھا کہ ملک میں جو بھی ہوتا ہے اسی وقت کے لیے ہوتا ہے .پاکستان کا مطلب جو منہ میں آئے بولے جا یہ مقصد آج لوگوں نے بنا لیا ہے .یہی حالت تحریک انصاف کی حکومت اور انکے وزیروں کی تھی ۔

    علماء کرام کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ دیندار کو مولوی کہا جاتا ہے اس سے نرم شخص کوئی نہیں ہوتا کہتے ہیں عورتوں پر تشدد مولوی کرتے ہیں کوئی ثابت تو کرے۔ مولوی پر امن ہیں حقوق کی بات کرتے ہیں جبکہ دیگر کو دیکھ لیں وہ خواتین کے ساتھ کیا کرتے ہیں، عافیہ صدیقی کو کیا مولویوں نے بیچا ہے یہ اپنی خواتین کی عزت نہیں کرتے مولوی بننا کوئی جرم نہیں ۔اصلاح کس کی پراثر ہو کچھ نہیں کہہ سکتے ۔جو آقا کے ناموس کی عزت نہیں کرے گا ہم اس کی عزت نہیں کریں گے ۔فرانس والا معاملہ ریاستی سطح پر ہوئی ہم اس ریاست کے خلاف اتنا بڑا اقدام اٹھایا ہے ۔بعض ملکوں میں حکومتیں ساتھ نہیں دیتی انفرادی فعل اور چیز ہے۔ہم ریاستی بائیکاٹ چاہتے تھے

    حافظ سعد رضوی کامزید کہنا تھا کہ لوگ ہم پر اعتبار اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ ناموس پر پہرہ دیا اسکے علاوہ ہم کوئی محبت کے لائق نہیں ۔ شادی کے بعد خوش ہوں جیل میں بھی خوش تھا ہر حال میں خوش ہوں ۔

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ نتیجہ نظر آتا ہے جب قائد نہیں ہو گا تو پھر لوگ شیل چلنے پر بھاگ جاتے ہیں جب آپ ہوا میں ہوں اور لوگ دھوپ پر ہوں ۔ جہاد کی کئی اصلطلاحین ہیں مذہبی کارڈ کھیلنے کا ہمیں کہتے تھے تو یہ کیا ہے ریاست مدینہ کا نام لے کر اگر عمران خان سیاست کر سکتا ہے تو ہم ناموس رسالت کا نام لے کر کیوں سیاست نہیں کر سکتے ۔دوہرا معیار کیوں ہے ہر جگہ دوہرا معیار ہے ہماری مرتبہ رویہ بدل جاتا ہے۔ ہم متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وسائل کم ہیں لیکن لوگ ساتھ ہیں الیکشن وقت پر ہونے چاہئے الیکشن ہونے کے بعد بھی عمران خان روئے گا تو پھر کیا کریں گے ۔جمہوریت مضبوط ہونی چاہئے ۔ لبیک نظریاتی جماعت ہے ہم کسی کے ساتھ الحاق کرنے کا بھی نہیں سوچا اور نہ کریں گے۔ جو نظریات سے متفق ہو اشرافیہ سے نہ ہو ۔ ہمارے ساتھ مشکل حالات میں بھی ایسا ہی کھڑا ہو جب الیکشن میں تھا ایسے بندے کو ٹکٹ دیں گے

    حافظ سعد رضوی نے تحریک لبیک کو حکومت ملنے کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ الیکشن جیت کر سود ختم کریں گے آئیں اسلامی ہے شقوں کو نافذ کریں گے ۔ نماز کے پڑھنے پر کسی کو اختلاف نہیں سود پر کسی کو اختلاف نہیں پاکستان ایک مسجد ہے ہر مسلمان کے لیے ۔ہم نے آج تک کسی کے بارے میں کافر کافر نہیں کہا ۔ معیشت دس دنوں میں خراب نہیں ہوئی بنیادی چیزیں صحیح کرنی ہوں گی ۔عالمی دباو کہ وجہ سے میڈیا پر ہماری وجہ سے پابندیاں ہیں فیس بک پر بھی تصویر نہیں ڈال سکتے پٹیشن اس پر دائر کی ہے ۔ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں بارود نہین ہم کشمیر کی بات کرتے ہیں ۔کشمیر کے نام پر قوم کو کھایا عملی بات نہیں کی ۔ کشمیر ویسے کہا جا رہا ہے کہ آپ ہار چکے۔ کشمیر جہاد کے بغیر نہیں ملے گا آخری حل یہی ہے۔پاکستانی کو عزت سے جینے کا حق ملنا چاہیے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کا خیال جن کو آیا تھا وہ آدھا گھنٹہ سڑک پر کھڑے رہے جنہوں نے کشمیر پر آواز اٹھائی انہیں عمران خان نے جیلوں میں ڈالا، حافظ محمد سعید کو یہاں عمران خان کی حکومت نے سزا دی کیا جرم ہے ۔کشمیر پر آواز اٹھانا اور سزا عمران خان کی حکومت میں ہوئی۔ یہاں غلامی کا دم بھرا اور کہتے ہیں آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں میں عمران خان کو منافق اعظم کہتا ہوں ۔

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ سیالکوٹ کا سانحہ ہوا تھا اس پر سب سے پہلے مذمتی بیان دیا تھا اگر کوئی بری ہو جائے یا مقدمہ کمزور ہو اسکا ذمہ دار تحریک لبیک تو نہیں ۔بہت سی سیاسی جماعتوں نے الحاق کے رابطے کئے ہیں پی ٹی آئی ۔ن لیگ سمیت سب نے رابطے کیے ۔جب وہ گولی ہمیں مارتے تھے تب بات کی تھی اب تو وہ خود شیل کھا رہے ہیں عمران خان کا مستقبل تاریک ہے اگر یہ درست ہو جائیں تو ساتھ ہوں گے ۔ سازش تھی تو وہان بیٹھ کر وضاحت دیتے بیانیہ مل گیا اپنی موت مر رہا تھا لیکن عدم اعتماد کے لیے زندہ کر دیا جب تک اللہ و رسول سے جنگ ہو گی معیشت صحیح نہیں گی ۔جب تک سود ختم نہیں ہوگا معیشت درست نہیں گی

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ سفارتخانوں سے رابطوں کے لیے ہم نے ایک پینل تشکیل دیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کو اہل اور میرٹ والے کو ہی ہر جگہ متعین کیا جائے ۔پہلے خدشات دور ہوں گے ۔فرانس والی بات پر درگزر نہیں کر سکتے ۔ ایک لمحے کے لیے بھی ہم نہیں بھول سکتے ہمارا ایک ہی بیانیہ ہے من سب نبیا فاقتلوہ ۔ اقلیتی ونگ بھی ہم نے بنایا ہے مسجد میں لوگ آ کر ملتے ہیں 2018 کے الیکشن میں ایک مسیحی خاتون کو ٹکٹ دیا وہ ہماری تبلیغ سے نہیں کردار سے مسلمان ہو گئیں ۔

    چولستان میں امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ چولستان کے لوگ بھی ناراض ہیں جہاں سگنل نہیں آتے ٹی وی نہیں وہاں مخالف بیانیہ کس نے دیا ۔ایک ایک پانی بوند کو ترسنے والے لوگ خلاف ہی بولیں گے چولستان کے حالات برے ہیں حکومتی سطح پر کچھ نہیں کیا گیا ۔چولستان ڈیزرٹ ریلی میں لاکھوں خرچ کیے جاتے شامیں منائی جاتی ہیں لیکن غریب کی مدد نہیں کی گئی ۔ کھانے پینے کے لیے کوئی اصول نہیں لیکن وہاں پاس ملتے ہیں کیوں ۔اشرافیہ کو ہی صرف پانی ملتا ہے۔

  • سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟  اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، اور شبر زیدی نے شرکت کی، کھرا سچ پروگرام میں سوال کرتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا کہ اسد عمر اور شبر زیدی دونوں یہاں ہیں، دونوں پر الزام ہے کہ آپ فنانس اور پلاننگ منسٹر رہے ہیں،اس ملک میں سگریٹ روزانہ پچاس لاکھ پیے جاتے ہیں، انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو سگریٹ کی کیون نہیں بڑھتی، بارہ پونڈ کی ملنے والی ڈبی سگریٹ کی یہاں پاکستان میں ایک ڈالر کی مل رہی ہے،ایسے ایٹم جن کا مافیا مضبوط تھا انکا ٹیکس نہیں بڑھایا گیا،اگر اسکو ٹیکس بڑھاتے تو ہر سال زیادہ آمدن ہوتی ، لیکن کسی نے ٹیکس نہیں بڑھایا ،

    شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی کا ریٹ 74 پرسنٹ ہے،ایک سگریٹ پیتے ہیں تو اس میں سے ایک روپے میں سے 74 پیسے گورنمنٹ کے پاس چلے جاتے ہیں،میرا ذاتی ویو ہے کہ ہم سگریٹ پر اور ٹیکس نہیں لگا سکتے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیوں نہیں کرنا، تیل سے عام آدمی کو فرق نہیں پڑتا، وہ آپ کو فنڈ دیتے ہیں،سگریٹ کی قیمت کو انٹرنیشنل قیمت کے مطابق کیوں نہیں کیا جاتا،مالبرو بیرون ممالک میں 12 پونڈ کی مل رہی ہے،سگریٹ بچوں کی زندگی لے رہی ہے اس پر ٹیکس نہیں بڑھا رہے،

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ میں آپکی بات سے اتفاق کرتا ہوں، ڈونر کا تعلق نہیں، انٹرنیشنل کمپنیر دو روپے کسی کو ڈونیشن نہیں دیتی، شبر زیدی جو بات کر رہے ہیں وہ صحیح کر رہے ہیں، سموکنگ کم نہیں ہوتی، ڈیوٹی اور نان ڈیوٹی پر شفٹ ہو جاتی ہے، مافیا بول دیں، یا کچھ بھی، سب نے کوشش کی، جو پہلے تھے انہوں نے بھی کوشش کی لیکن نہیں کر پا رہے،مافیا کے ہاتھوں شکست ہوئی، ہمارے ہاں سے کوئی پیسے نہیں کھا رہا تھا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے سٹے لے لئے جاتے ہیں، اسد عمر کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کو سٹے اس لئے زیادہ ملتے ہیں کیونکہ اندر سے لوگ ملے ہوتے ہیں، فیصل سلطان پرپوزل لے کر آئے تھے، میں متفق ہوں آپکی بات سے، بنیادی چیز ریونیو نہیں بلکہ صحت، زندگی ہونی چاہئے،

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

  • شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ شیریں مزاری بہت زیادہ زہریلی ہوئی ہوئی ہیں۔ اور نہ صرف اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں بلکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے الزامات بھی لگا رہی ہیں وہ نیوٹرلز سے براہ راست پوچھ رہی ہیں کہ بتاو انہوں نے امریکہ کی سازش کیوں کامیاب کروائی، جو اس وقت تحریک انصاف کا بیانیہ ہے اس کے مطابق ان کی حکومت کو ہٹانا امریکہ سازش ہے اور اب یہ اس سازش میں فوج کو بھی گھسیٹ رہے ہیں۔ انہوں نے چند دن پہلے نیوٹرلز کے بارے میں کیا بات کی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یقینا انہیں یہ ڈیوٹی عمران خان نے دی ہے، لیکن کیا کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے اداروں کو نشانہ بنائے اور ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈالے۔دراصل ہم اکثر سنتے ہیں کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا۔لیکن ہمارے لیڈر رنگ بدلنے میں گرگٹ سے بھی زیادہ تیز ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ دن پہلے جب محترمہ شیریں مزاری وزیر تھی اور سرکار کے پیسے پر عیاشیاں جاری تھی تو وہ اپنی نوکری بچانے کے لیے ان ادارون کے لیے اپنی بیٹی کو سوشل میڈیا پر جھاڑ پلا رہی تھی۔ ویسے تو پاکستانی معاشرے میں یہ بات بڑی معیوب ہے کہ ماں اور بیٹی پوری دنیا کے سامنے ٹویٹر پر ایک دوسرے سے دھینگا مشتی کریں۔ جبکہ وہ ایک ہی گھر میں موجود ہوں اور ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھٹکٹا کر ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے، قوم کو تماشا دیکھائیں، یقینا اس کے پیچھے بھی کوئی کہانی ہو گی لیکن آج میں اس ویڈیو میں بہت سی کہانیاں کھولنے والا ہوں۔

    شیرین مزاری کی بیٹی تحریک انصاف اور بشرہ بیگم کے بارے میں کیا خیال رکھتی تھی ۔ یہ دیکھیں ایمان مزاری کی ٹویٹ
    اگر ملک کو جادو ٹونے سے ہی چلانا تھا تو پھر اس قوم کا پیسہ اتنی بڑی کابینہ پر کیوں ضائع ھو رہا ہے۔ ملک کا مذاق جادو ٹونے سے اڑایا جا رہا ہے اور آپ چاہتے ہیں کے جادو کرنے والوں پر بات بھی نا ہو۔۔۔ ایسا تو ہر گز نہیں ھو گا۔

    اب جن لوگوں کی گھر میں ان کے بچے نہ سنتے ہوں کیا ان کا قوم کو درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز بنتا ہے۔ان کے کنٹرول میں خود ان کے بچے بھی نہیں ہیں۔ جب شیریں مزاری ہیومن رائٹ کی وزیر تھی تو انکی بیٹھی ان کی سب سے بڑی Criticتھی اور صبح شام اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی تھی اس وقت شیریں مزاری کے کیا تاثرات تھے۔شیریں مزاری نے اٹھائیس نومبر کو ٹویٹ کی کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں اپنی بیٹی کے تاثرات سے متفق نہیں، اور میں اس زبان کی سختی سے مذمت کرتی ہوں جو اس نے ملٹری کے خلاف استعمال کی۔یہی نہیں۔ بلکہ شیریں مزاری نے اپنی بیٹی کو ایک وٹس ایپ بھی کیا اور ان کی بیٹی نے اپنی ماں کا پرائیویٹ پیغام ٹویٹر پر شیئر کر دیا ۔

    ایمان تم مسلسل آرمی کے خلاف پاگل ہوئی ہوئی ہو، اگر بھارتی فوج کا سربراہ کوئی بیان دے گا تو اس کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر ہی دے گا، تم دوبارہ میرے لیے شرمندگی بن رہی ہو، تمھیں پاک فوج کے خلاف اپنی نفرت کو روکنا ہو گا۔ تم اپنی دلیل کو کھو چکی ہو اور اس سے تمھاری ساکھ کو نقصان ہو رہا ہے۔ یہ میرے لیےبلکل احمقانہ اور شرمندگی کا باعث ہے۔

    اب آپ دیکھیں کہ جب ان کی نوکری کو خطرہ ہوتا ہے تو ان کا کیا رویہ ہوتا ہے اور جب دوباری نورکری چاہیے ہوتی ہے تو یہ کیسے اداروں کو بلیک میل کرتے ہیں۔شیرین مزاری نے چند دن پہلے ایک ٹویٹ کی جس میں اس نے ذکر کیا کہ سرکار کا ملازم۔ یعنی احمد قریشی کس کی مرضی سے اسرائیل گیا ہے اور کیا اسے سرکار کی رضا مندی حاصل ہے، اور ساتھ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹیگ کر کے جواب مانگ لیا۔ اس وقت شیریں مزاری جو کچھ کر رہی ہیں وہ آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ایک سویلین سیاسی معاملات ہر ہر روز فوج کے ترجمان سے کوئی نہ کوئی الزام لگا کر جواب مانگ لے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک تویٹ انہوں نے احمد قریشی سے سوشل میڈیا پر لڑائی میں کی۔ احمد قریشی نے ٹویٹ کی کہ
    عمران خان اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار تھے، اور اس کے لیے اپنے ذاتی اور فیملی تعلقات بھی استعمال کیے، لیکن جب ان کی حکومت بری کارکردگی کی وجہ سے ناکام ہو گئی تو انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اس ٹویٹ کہ جواب میں شیریں مزاری پھر فوج کو گھسیٹ لائی۔ اور ٹویٹ کی کہ بھڑاس نکالنے سے پہلے حقائق پرکھیں۔ہم بہت سے حساس معاملات پرخاموش ہیں مگرہمیں دیوارسے مت لگاؤ۔ایک برس تک ہم اس شخص کو بیہودہ الزامات کے ذریعےخان اوراسکی آزادخارجہ پالیسی کو ہدف بناتے دیکھتے رہے اور جواب نہیں دیا کیونکہ اس میں کچھ خاص جان نہ تھی @OfficialDGISPR ہمیں مجبور مت کرو

    اب دیکھیں کہ کہنے کو یہ امریکی غلامی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ان کا جینا مرنا پردیس میں ہے، جب توہین مذہب کا معاملہ آیا تو شیرین مزاری نے فوری اقوام متحدہ کو خط لکھ ڈالا کہ ہمیں بچاو۔ اب کسے نہیں پتا کہ اقوام متحدہ امریکہ کے اشاروں پر ناچتا ہے اور امریکہ کی مرضی کے بغیر ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا اور انہوں نے تو ویسے ہی قوم کو بیرونی آقاوں سے نجات دلانی ہے پھر یہ خود کیوں اپنے بیرونی آقاوں کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    جب امریکہ میں ہم جنس پرستی پر قانون پاس ہوا تو حمزہ علی عباسی کے مقابلے میں ایمان مزاری ہم جس پرستی کی حمایت میں سامنے آگئی۔
    محترمہ لکھتی ہیں کہ
    کسی کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اس سے شادی کرے جسے وہ محبت کرتا ہو، اس سے آپ کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اور تو اور اس میں مذہب کو بھی استعمال کر ڈالا، اور کہا کہ کوئی مذہب اس بات کی تعلیم نہیں دیتا کہ آپ نفرت پھیلائیں، ویسے تو ان کی والدہ کی جو جماعت ہے وہ امر بالمعروف کی بات کرتی ہے لیکن ان کی والدہ نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ مذہب میں کس چیز کی اجازت ہے اور کس کی نہیں۔ ہم جس پرستی اور اس کی حمایت کسی بھی صورت میں اسلام میں جائز نہیں ہے۔ یہاں تو قوم لوط پر عذاب نازل ہو گیا اور یہ مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے غلط استعمال کر رہی ہیں ظاہری سی بات ہے جب امریکہ کی این جی اوز اور عورت مارچ کے رکھوالے بھاری فنڈنگ کرتے ہیں تو بڑے بڑوں کا ایمان ڈول جاتا ہے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آُ کا تو اپنا نام ہی ایمان ہے۔ اور آپ کی والدہ تو سیاست ہی اسرائیل کے نام پر کر رہی ہیں۔ کم از کم اپنی والدہ کی عزت کا ہی خیال رکھ لیا ہوتا،

    بحر حال یہاں آپ جس جگہ ہاتھ ڈالیں گے گنگا الٹی ہی بہہ رہی ہو گی۔تحریک انصاف کو انصاف کی بات کرتی ہے ایسے ایسے مفاد پرست اس پر قابض ہو چکے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔مثال کے طور پر تحقیقات کے بعد شیریں مزاری اور ان کے والد کا نام ایف آئی آر میں شامل ہوگیا ہے کیا خبر ہے میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں ۔۔
    تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی سابق وفاقی وزیر اور کرپشن کے خاتمے کی دعویدار تحریک انصاف کی مرکزی رہنما سابق رکن اسمبلی شیریں مزاری پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقہ بنگلہ اچھا دوئم میں نہ صرف خود بلکہ انکے خاندان کے دیگر افراد دو سو سے زائد مزارعین کی ملکیتی اور سرکاری35000ہزار کنال اراضی پر قابض ہیں۔اور ان کا مزارعین کے ساتھ غیر انسانی رویہ ہے، شیریں مزاری اور انکا خاندان دو سو زائد مزارعین کی ملکیتی اور سرکاری اراضی پر قابض ہے ڈیرہ غازیخان میں شیریں مزاری کے والد سردار عاشق مزاری نے لینڈ ریفارمز ایکٹ سے بچنے کےلیے جعلسازی کی اورجعلسازی کا یہ سلسلہ عاشق مزاری کے بعد شیریں مزاری نے بھی جاری رکھا عاشق مزاری نے بارہ ہزار کنال زمین مختلف کمپنیوں کے نام پر منتقل کی اس منتقلی کا واحد مقصد اس زمین کو بحق سرکار ضبط ہونے سے بچانا تھا چئیرمین فیڈرل لینڈ کمیشن نے اس اقدام کو جعلسازی اور جھوٹ سے تعبیر کر دیا ہے ان جعلی انتقالات میں سے ایک انتقال کے تحت شیریں مزاری کے نام بھی 800 کنال زمین منتقل کی گئی ڈپٹی لینڈ کمشنر ڈیرہ غازیخان نے شیریں مزاری کے بھائی سردار ولی محمد مزاری کے نام 770 ایکڑ زمین ایسی ہی بے ضابطگی ثابت ہونے کے بعد ضبط کرنے کا حکم دیالیکن ۔بااثر مزاری سرداروں نے اس فیصلے پر عملدرامد نہ ہونے دیا 9 مارچ دوہزار بائیس کو ڈپٹی کمشنر عدنان محمود نے جعلسازی کے خلاف اور صوبائی حکومت کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے خاندانی جعلسازی کے تحفظ کےلیے ڈاکٹر شیریں مزاری اور انکی بھتیجی کرن مزاری نے ڈپٹی کمشنر عدنان محمود پر دباو ڈالا مزاری خاندان لینڈ ریفارمز کے تحت الاٹ کی گئی ہزاروں کنال زمین پر بدستور غیر قانونی قابض ہے اور مزارعین ریکارڈ میں مالک لیکن عملا دربدر ہیں لینڈ ریفارمز ایکٹ کے تحت سردار عاشق مزاری کی 35000 کنال زمین کو دو سو سے زائد مزارعین کے نام منتقل کیا گیا اورمزاری خاندان نے ان الاٹی مزارعین کو انکا حق دینے کی بجائے الٹا ان پر دباوڈالا بے گناہ مزارعین کے خلاف وقتاً فوقتاً جھوٹی ایف آئی آرز کرائی گئیں اوراور مزاری خاندان کے پالتو غنڈوں سے تشدد کا نشانہ بھی بنوایا جاتا رہا ڈیرہ غازیخان ۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کے بہنوئی اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار شوکت مزاری نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مزارعین کی تین بستیوں کو اور انکی کاشتہ فصلات کو مکمل طور سے تباہ کردیا دراصل شیریں مزاری اور انکے خاندان نے زمینوں کو بحق سرکار ضبطگی سے بچانے کےلیے لینڈ ریفارمز ایکٹ کا تمام ریکارڈ غائب کرادیا اورجعلسازی سے دوبارہ ریکارڈ تیار کرا کے اپنی جعلسازی کو چھپانے کی کوشش کی۔