Baaghi TV

Tag: محسن نقوی

  • پنجاب: نگران کابینہ کی تشکیل کیلئے مشاورت ،منتخب 6 وزرا کا آج حلف اُٹھانے کا امکان

    پنجاب: نگران کابینہ کی تشکیل کیلئے مشاورت ،منتخب 6 وزرا کا آج حلف اُٹھانے کا امکان

    لاہور: نگران کابینہ کیلئے منتخب 6 وزرا کا آج حلف اُٹھانے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی : پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کی نگران کابینہ کی تشکیل کیلئے مشاورت، 6 وزرا شامل ہوں گے پہلے مرحلے میں محکمہ داخلہ، اطلاعات، فنانس، وزرات قانون، خوراک اور صحت کی وزارتیں تشکیل دی جائیں گی۔

    مشاورت کے بعد نگران کابینہ کیلئے منتخب 6 وزرا کا آج حلف اُٹھانے کا امکان ہے۔

    پنجاب میں نگران وزیراعلی کے آتے ہی تبادلوں کا آغاز،سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ

    دوسری جانب محسن نقوی کے نگران وزیراعلیٰ بنتے ہیں اہم تعیناتیاں اور تبادلے شروع ہو گئے ہیں،وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری اورکیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او ) لاہور غلام محمود ڈوگر کو عہدے سے ہٹا دہا گیا ہے-

    اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بلال صدیق کمیانہ کو سی سی پی او لاہور تعینات کردیا گیا ہے جبکہ غلام محمود ڈوگر کو ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    ‏چیف سیکریٹری پنجاب عبداللہ خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق زاہد اختر زمان کو چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کردیا گیا ہے۔

    ہارون رشید قومی ٹیم کے نئے چیف سلیکٹر مقرر

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہےوزرا کی تعداد دس سے کم ہوگی جبکہ ایک خاتون بھی نگران کابینہ میں شامل ہوگی۔

    نگران کابینہ سے متعلق وزیراعلیٰ اعظم خان کی گورنر اور دیگر شخصیات سے مشاورت ہوئی ہےمختلف شعبوں میں ماہر افرادکو نگران کابینہ میں شامل کیا جائےگا جب کہ خزانہ، صحت اور تعلیم کے نگران وزراء اپنے شعبوں کے ماہر ہوں گے۔

    نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اعظم خان کا کہنا تھا کہ نگران کابینہ کے حوالے سے مشاورت کر رہا ہوں، نگران کابینہ میں وزراء کی تعداد کم رکھی جائےگی کیونکہ صوبہ مالی مشکلات کا شکار ہے اور میں نہیں چاہتا کہ خزانے پر زیادہ بوجھ پڑے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی بریک ڈاؤن کا نوٹس لے لیا

  • پنجاب میں نگران وزیراعلی کے آتے ہی تبادلوں کا آغاز،سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ

    پنجاب میں نگران وزیراعلی کے آتے ہی تبادلوں کا آغاز،سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ

    لاہور : محسن نقوی کے نگران وزیراعلیٰ بنتے ہیں اہم تعیناتیاں اور تبادلے شروع ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری اورکیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او ) لاہور غلام محمود ڈوگر کو عہدے سے ہٹا دہا گیا ہے-

    اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بلال صدیق کمیانہ کو سی سی پی او لاہور تعینات کردیا گیا ہے جبکہ غلام محمود ڈوگر کو ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    ترجمان لاہور پولیس کے مطابق بلال صدیق کمیانہ کا تعلق پولیس سروسز کے 24ویں کامن سے ہے، ایڈیشنل آئی جی بلال صدیق کمیانہ قبل ازیں بھی سی سی پی او لاہور تعینات رہ چکے ہیں،بلال صدیق کمیانہ مختلف اضلاع میں آر پی او،سی پی او اور ڈی پی او کے اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں-

    ترجمان لاہور پولیس کے مطابق بلال صدیق کمیانہ آر پی او فیصل آباد، آر پی او شیخوپورہ،سی پی او راولپنڈی تعینات رہ چکے ہیں،حالیہ تعیناتی سے قبل بلال صدیق کمیانہ انٹیلجنس بیورو میں اہم عہدے پر فائز تھے،بلال صدیق کمیانہ ڈی آئی جی آر اینڈ ڈی،ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ بھی تعینات رہے-

    دوسری جانب ‏چیف سیکریٹری پنجاب عبداللہ خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق زاہد اختر زمان کو چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کردیا گیا ہے۔

  • فیکٹ چیک؛ جنرل باجوہ کیساتھ تصویر میں نظر آنے والا شخص محسن نقوی نہیں بلکہ زاہد جمیل ہے

    فیکٹ چیک؛ جنرل باجوہ کیساتھ تصویر میں نظر آنے والا شخص محسن نقوی نہیں بلکہ زاہد جمیل ہے

    نامور صحافی طلعت حسین نے ایک تصویر ٹوئیٹ کی جس میں انہوں تاثر دیا کہہ جیسے نگران وزیر اعلیٰ کو بھی جنرل (ر) باجوہ نے ہی لگوایا ہو جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے محسن نقوی کا نام الیکشن کمیشن کی جانب سے منتخب ہونے کے بعد انہوں تبصرہ کیا کہ؛ "کتنی فکر ہے پاکستان کی۔ جہاز میں بھی اپنے ملک کا خیال بیٹھنے نہیں دیتا۔ یہ ہوتے ہیں خیر خواہ۔ اس کو کہتے ہیں جنون۔”

    تاہم جب باغی ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر نے اس بارے میں فیکٹ چیکنگ کی تو معلوم ہوا کہ جنرل ریٹائرڈ باجوہ کے ساتھ نظر آنے والا شخص نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نہیں بلکہ ایک وکیل زاہد جمیل ہے. تاہم پندرہ گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی سینئرصحافی طلعت حسین نے ابھی تک اپنی اس ٹوئیٹ کو حذف کیا اور نہ ہی کوئی اس پر وضاحت کی.


    خیال رہے کہ اس تصویر کو پھیلانے اور نامور صحافیوں سمیت عام عوام کی آنکھوں میں دھول جھوکنے کی شروعات تحریک انصاف نے کی تھی. تحریک انصاف کے سوشل میڈیا برگیڈ نے محسن نقوی کی مختلف پی ٹی آئی مخالف سیاستدانوں کے ساتھ والی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلا کر یہ تاثر دیا کہ یہ محسن نقوی تو ہماری مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملا ہوا ہے جبکہ اس کے جواب میں پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل میر نے لکھا کہ؛ "آج اگر کوئی فرشتہ بھی پنجاب کا نگران وزیراعلی نامزد کیا جائے گا تو پی ٹی آئی کا جھوٹ بریگیڈ اس پر بھی حملہ آور ہو جائے گا۔ محسن نقوی صاحب کی عمران خان کے ساتھ یہ دو تصویریں کیا انہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا مخالف ثابت کرتی ہیں ؟ اتنی ساری شکستوں نے پی ٹی آئی کو پاگل کر دیا ہے ۔”


    پی ٹی آئی رہنماء شیریں مزاری نے بھی جنرل باجوہ کے ہمراہ والی تصویر میں شامل زاہد جمیل کو محسن نقوی پیش کرتے ہوئے ٹوئیٹر پر لکھا کہ: "الیکشن کمیشن اپنے متعصبانہ رویے سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ محسن نقوی کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر منتخب کیا گیا جبکہ دیکھ لیں جنرل ریٹائرڈ باجوہ کے ساتھ دبئی جانے والی امارات فلائٹس کی پرواز میں نظر آرہا۔” انہوں نے مزید کہا کہ فرض کریں کہ اس کے نیچے ایک سیاہ بادل کی طرف سے اٹھائے گئے اسناد نے ای سی پی کو متاثر کیا ہے!

    شیریں مزاری کے جواب میں سینئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ؛ "سب سے پہلے تو یہ کہ عمران خان نے ہی اس جنرل باجوہ کو بطور فوجی سربراہ 2019 میں توسیع دی تھی جس میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور تقریباّ سبھی جماعتیں اس معاملہ پر ایک صفحہ پر تھیں. اور دوسرا غلظ معلومات پھیلانا بند کریں کیوں باجوہ صاحب کے ساتھ تصویر میں نظر آنے والا شخص محسن نقوی نہیں بلکہ زاہد جمیل ہے. تاہم شیریں مزاری نے بجائے اپنی غلطی کو ماننے کے دوسری تصویر جس میں شہباز شریف اور خواجہ آصف نظر آرہے جو غالباّ لندن کی ہے کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کردیا کہ ان کے ساتھ محسن نقوی نظر آرہا ہے.

    لہذا یہاں پر سوال یہ ہے کہ اگر محسن نقوی کی کسی سیاستدان یا جنرل وغیرہ کے ساتھ کوئی تصویر ہو بھی تو اس میں کیا قباحت ہے کیوں کہ ان کی تصاویر تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ بھی ہیں اور دوسرا وہ ایک صحافی بھی تو رہے ہیں لہذا ایسے شخص جو سی این این کے ساتھ منسلک رہا ہو اور اب ایک ٹی وی چینل 24 نیوز گروپ کا مالک ہو اس کی تصویر کسی کے ساتھ ہونے میں کیسے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کا مخالف ہے؟