Baaghi TV

Tag: محمد بن سلمان

  • سعودی ولی عہد کا دورِ رسالتﷺ سے متعلق 5 یادگار مساجد کی اصلی حالت میں بحالی کا فیصلہ

    سعودی ولی عہد کا دورِ رسالتﷺ سے متعلق 5 یادگار مساجد کی اصلی حالت میں بحالی کا فیصلہ

    ریاض: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تاریخی اہمیت کی حامل 5 قدیم مساجد کی اپنی اصلی حالت میں بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کےمطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی 5 قدیم اورتاریخی مساجد کو اصلی حالت میں بحال کرنے اور مزید توسیع و ازسر نو تعمیر کا فیصلہ کیا ہےجس کا مقصد ان مساجد کے تعمیراتی کردارکی سالمیت کو برقرار رکھنے کے علاوہ ان کے تاریخی تانے بانے کی حفاظت اور بحالی ہے۔ یہ مساجد پچھلی صدیوں اور دہائیوں کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں متاثر ہوئی تھیں۔

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    یہ وہ مساجد ہیں جو نبی کریم ﷺ کے دور میں پیش آنے والے اہم تاریخی واقعات کے تناظر میں عباسی دور میں بطور یادگار تعمیر کی گئی تھی مکہ معظمہ کی جن مساجد کی بحالی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، ان میں عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے دور میں تعمیر کی جانے والی مسجد ’بیعہ‘ ہے یہ مسجد شعب منیٰ میں جمرہ العقبہ کے قریب تعمیر کی گئی تھی۔

    وہ پہلی مسجد ہے جسے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے دوران مکہ مکرمہ میں ترقی کے لیے چناگیا ہےہجرت مدینہ سے قبل اسی مقام پرنبی آخری الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے قبائل اوریہود کےدرمیان تاریخی معاہدہ طےپایا تھا مسجد شعب الانصار میں واقع ہےجو بیعت کی جگہ ہے اس مسجد میں بیعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی۔

    جاپان میں 4 سال تک کے بچوں کیلئے ملازمت

    بیعہ مسجد کو کوہ عقبہ کے پیچھے نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا تھا، یہاں تک کہ یہ 1428ھ میں جمرات کے توسیعی منصوبوں کے نتیجے میں مکہ المکرمہ اور مقدس مقامات کےنشانات اور یادگاروں کا ایک مرئی حصہ بن گئی بحالی کےبعد مسجد کا رقبہ پہلےجیسا یعنی 457.56 مربع میٹر ہی رہے گا۔ اس میں ایک وقت میں 68 نمازیوں کی گنجائش ہوگی۔

    اس منصوبے کا مقصد جدہ میں دو مساجد کو تیار کرنا ہے جن میں سے ایک حریت الشام میں ابو عنابہ مسجد ہے، جس کی پہلی تعمیر 900 سال سے زیادہ پرانی ہے بحالی سے قبل اس کا رقبہ 339.98 مربع میٹر تھا جب کہ بحالی کے بعد اس میں 360 نمازیوں کی گنجائش موجود ہوگی۔

    علاوہ ازیں بحالی کے منصوبے میں مکہ معظمہ کہ 700 سال پرانی مسجد الخضر کو بھی اصلی حالت میں بحال کیا جائے گا اور اس میں مزید توسیع بھی کی جائے گی۔ جو مسجد حرام سےتقریباً 66 کلومیٹر کے فاصلے پر الذھب اسٹریٹ پر واقع ہے یہ 700 سال سے زیادہ پرانی ہے الجموم گورنری میں واقع ’’الفتح مسجد‘‘ کو بھی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

  • مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی روح پرور تقریب

    مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی روح پرور تقریب

    مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی سالانہ رسم پیر کو ادا کی گئی حرمین شریفین انتظامیہ کےسربراہ اعلی ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس، اسلامی ملکوں کے سفارتکاروں، علما، شاہی خاندان کے افراد اور منتخب شخصیات نے غسل کعبہ کی سعادت حاصل کی۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اس موقع پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی نمائندگی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کی اور کعبہ شریف کو غسل دینے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ اسپیشل ایمرجنسی فورس غسل کعبہ کی رسم کے موقع پر تعینات کی گئی۔

    عمرہ زائرین کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور کورونا ویکسین رپورٹ پیش کرنے کی شرط ختم


    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان وزیر کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی بن فیصل کے ہمراہ مسجد حرام پہنچے جہاں صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے ان کا استقبال کیا۔


    شہزادہ محمد بن سلمان نے مسجد حرام آمد کے بعد پہلے بیت اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نوافل ادا کیں۔ اس کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے جہاں انہیں غسل دینے کا شرف حاصل ہوا۔ پھر انہوں نے سنتیں ادا کیں

    خانہ کعبہ کے اطراف سے حفاظتی رکاوٹیں ہٹا دی گئیں


    غسل کعبہ عرق گلاب اور اعلی درجے کے عود سے معطر آب زمزم سے دیا جاتا ہے اس موقع پر کعبہ کی اندرونی دیواروں کو کپڑے سے صاف کیا گیاغسل کعبہ کی رسم میں 45 لٹر آب زمزم استعمال کیا جاتا ہے جبکہ طائف کے گلاب کا عرق 50 تولہ اور اعلی درجے کا عود آب زمزم میں ملاکر استعمال کیا جاتا ہے۔


    مسجد الحرام میں صفائی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق غسل کعبہ میں استعمال ہونے والی تمام اشیا پر چاندی کی پرت چڑھی ہوتی ہے اس کام کے لیے چاندی کے د ندانوں والی 4 جھاڑو استعمال ہوتی ہیں غسل کعبہ سے قبل جھاڑو سے خانہ کعبہ کی گرد صاف کی جاتی ہے۔

  • خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان سےترکی کےصدر رجب طیب اردوغان کا ٹیلیفونک رابطہ

    خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان سےترکی کےصدر رجب طیب اردوغان کا ٹیلیفونک رابطہ

    انقرہ :سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ٹیلیفونک رابطہ میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    نیوز چینل کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں عید کی مبارکباد دی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ اور خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے تفصیلی گفتگو کی ہے.

    ترک صدر رجب طیب اردوان 2 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔

    یہ رابطہ اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ آئندہ دنوں میں ایک طرف تو امریکی صدر جوبایڈن سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اروغان اور روسی صدر ولادیمیر پوتین آئندہ ہفتے ایران پہنچ رہے ہیں. آئندہ ہفتے ایران، روس اور ترکی کے صدور کا خطے کے حالات کے بارے تہران میں اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت کے لیے کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ترکی کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان اورشہبازشریف کی ملاقات:مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپریل میں رجب طیب اردوان نے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک ماہ کی طویل مہم کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، ان کے دورہ سعودی عرب کے مقاصد میں استنبول میں جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے مقدمے کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    ترک صدر نے اپنے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے بات چیت میں سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کو وسعت دینے کی کوشش کی تاکہ ترکی کی مشکلات سے دوچار معیشت کو بحال کرنے میں مدد حاصل کی جائے۔

  • سعودی عرب:تحقیق کے شعبے پر قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ

    سعودی عرب:تحقیق کے شعبے پر قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ

    ریاض:سعودی عرب، تحقیق کے شعبے پر قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تحقیق کے شعبے پر قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے 2040 تک قومی معیشت میں 60 ارب ریال کا اضافہ ہوگا۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی ولی عہد یں نے آئندہ دوعشروں کے حوالے سے سعودی عرب کی ترجیحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری چار بڑی ترجیحات ہیں۔انسانی صحت، ماحولیاتی استحکام، بنیادی ضروریات، توانائی و صنعت میں قیادت اور مستقبل کی معیشت پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اس سے عالمی سطح پر سعودی عرب کی مسابقتی استعداد مضبوط ہوگی۔

    سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے تحقیق اور ایجاد کے شعبے کے حوالے سے مستقبل کی امنگوں کے لیے کام کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا بڑا ہدف یہ ہے کہ سعودی عرب پوری دنیا میں جدت کے حوالے سے قیادت کرنے والے ممالک میں شامل ہو۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی لیے ہم نے تحقیق اور ایجادات کے شعبے پر سالانہ خرچ سال 2040 میں کل قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد ہوگا۔ جس کی بدولت یہ سیکٹر 2040 کی مجموعی قومی پیداوار میں 60 ارب ریال کا اضافہ کرے گا اور اس سے قومی معیشت میں تنوع پیدا ہوگا۔ ہزاروں نئی اسامیاں نکلیں گی۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور ایجادات کے شعبوں میں اعلی درجے کی ملازمتیں سامنے آئیں گی۔

    واضح رہے، تحقیق اور ایجاد کے شعبے کو پروان چڑھانے کی خاطراس شعبے کے ڈھانچے کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ ایک اعلیٰ کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کے سربراہ خود ولی عہد ہیں۔ وہ ریسرچ اور ایجاد کے شعبے کی نگرانی بذات خود کریں گے۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت کے لیے کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ترکی کا دورہ کیا جس کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا ہے۔

     

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپریل میں رجب طیب اردوان نے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک ماہ کی طویل مہم کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، ان کے دورہ سعودی عرب کے مقاصد میں استنبول میں جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے مقدمے کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔

     

    ترک صدر نے اپنے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے بات چیت میں سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کو وسعت دینے کی کوشش کی تاکہ ترکی کی مشکلات سے دوچار معیشت کو بحال کرنے میں مدد حاصل کی جائے۔

    رجب طیب اردوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اور ریاض کے بااختیار رہنما شہزادہ محمد بن سلمان انقرہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کو کس اعلیٰ سطح تک لے جا سکتے ہیں۔

    سینئر ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان بحران سے قبل جیسے تعلقات کی مکمل طور پر بحالی کی امید ہے جس سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

     

    سینئر ترک عہدیدار نے کہا کہ ترکی کے گرتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کی حامل ممکنہ کرنسی سویپ لائن پر بات چیت اور مذاکرات اتنی تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہے جس رفتار سے ان میں پیش رفت ہونی چاہیے تھی اور اس معاملے پر رجب طیب اردوان اردگان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ون آن ون ملاقات میں بات چیت کی جائے گی۔

    سینئر ترک عہدیدار نے دورے کی تفصیلات سے متعلق مزید بتایا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے دوران توانائی، معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے جب کہ سعودی سرمایہ کاروں کی جانب سے ترکی میں سرمایہ کاری سے متعلق منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

     

    سعودی ولی عہد کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کہ ترکی کی معیشت لیرا کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے بری طرح دباؤ کا شکار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی مالی حمایت اور غیر ملکی کرنسی رجب طیب اردوان کو جون 2023 تک انتخابات سے قبل حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے

  • جوبائیڈن سعودی ولی عہد  سے براہ راست ملاقات نہیں چاہتے:  حکام کا دعویٰ‌

    جوبائیڈن سعودی ولی عہد سے براہ راست ملاقات نہیں چاہتے: حکام کا دعویٰ‌

    واشنگٹن :امریکی صدرجوبائیڈن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے براہ راست ملاقات نہیں کرنا چاہتے:اعلیٰ امریکی حکام کا دعویٰ‌.اطلاعات کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام نے اس بات کی پیشن گوئی کی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ سعودی عرب کے ڈی فیکٹو لیڈر محمد بن سلمان سے براہ راست ملاقات نہیں کریں گے

    دی مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا کہ امریکی پالیسی سازوں نے امریکی صدر جوبائیڈن کے بطور صدر خلیج فارس کے پہلے دورے کو انسانی حقوق کو رکھنے کے ان کے وعدے سے متصادم قرار دیا ہے۔

     

    دورہ سعودی عرب میں توانائی پر بات چیت سے زیادہ اہم امور پرتوجہ مرکوزکی جائے…

    13 سے 16 جولائی تک چار روزہ دورے کے دوران بائیڈن اسرائیل، مقبوضہ مغربی کنارے اور مملکت کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یہ دورہ سعودی بندرگاہی شہر جدہ میں علاقائی رہنماؤں کے ایک بڑے اجتماع کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا، جہاں بائیڈن کے ولی عہد شہزادہ کے ساتھ کچھ صلاحیتوں میں شرکت کی توقع ہے۔

    کہا جارہا ہے کہ کل جوبائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ وہ جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے موضوع کو کیسے ہینڈل کریں گےتوجوبائیڈن نے جواب دیاکہ میں ارادی طور پرمحمد بن سلمان سے ملنے نہیں جا رہا ہوں۔ میں ایک بین الاقوامی میٹنگ میں جا رہا ہوں جہاں‌ دوسرے لوگوں کی طرح ان سے بھی واسطہ پڑجائے گا

    یادرہے کہ ایک امریکی شہریت رکھنے والے اور مشرق وسطیٰ آئی کے سابق کالم نگارجمال خشوگی کو 2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا، جب وہ اپنی آنے والی شادی کے لیے کاغذی کارروائی کے لیے وہاں گئے تھے۔

    تائیوان پر چینی جارحیت ہوئی تو امریکا طاقت کے ساتھ دفاع کرے گا، جوبائیڈن

    اس وقت جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر تھے تو ان دنوں جوبائیڈن نے ٹرمپ پرکڑی نقطہ چینی کی تھی کہ ٹرمپ جمال خشوگی کے قاتلوں سے نرم رویہ رکھتے ہیں‌،لیکن جونہی بائیڈن صدر بنے اورعہدہ سنبھالنے کے بعد سے جوبائیڈن نے امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے اجراء کے بعد، بن سلمان پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے مبینہ ملوث ہونے کی وضاحت کی گئی ہے۔

    جوبائیڈن نے ہم جنس پرست سیاہ فام خاتون کو وائٹ ہاؤس کا ترجمان مقرر کردیا

    دوسری طرف یہ بھی صورت حال ہے کہ جیسا کہ یوکرین پر حملے کے بعد یورپ روس پر اپنی توانائی کا انحصار کم کرنا چاہتا ہے، بائیڈن انتظامیہ نے امریکی تیل کے خلا کو پورا کرنے کے لیے ایران، سعودی عرب اور وینزویلا سمیت پرانے مخالفین سے رابطہ کیا ہے۔گیس کی قیمتوں کو کم رکھنا بائیڈن اور ڈیموکریٹس کے لیے ایک بڑی ترجیح رہی ہے، خاص طور پر نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے پہلے۔

    متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیڈن کا خطے کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش بھی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے کوآرڈینیٹر بریٹ میک گرک اقتصادی اور سلامتی کے معاہدوں کو بروکر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک تعلقات قائم کرنے کی طرف کام کر رہے ہیں۔

    سفر کے آغاز میں، امریکی قانون سازوں نے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاض کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات امریکی مفادات کو آگے بڑھائیں،
    اس ماہ کے شروع میں ایوان کی متعدد کمیٹیوں کے سربراہان کی جانب سے بائیڈن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ، "جب تک سعودی عرب ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کے اشارے نہیں دکھاتا، اور مملکت کے ممکنہ دورے کے بارے میں غور و خوض کی روشنی میں جس کے دوران آپ کو ملاقات کا موقع مل سکتا ہے۔ شاہ سلمان اور دیگر علاقائی سربراہان مملکت، ہم آپ کی حوصلہ افزائی کریں گے سعودی عرب پرلازم ہے کہ وہ امریکی صدر کی آمد سے مستفید ہو اوربہترتعلقات کے لیے خود سے آگے بڑھے

    یاد رہے کہ جوبائیڈن کے آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کے دورے سعودی مخالفین اور کارکنوں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے، جس میں متعدد نے بائیڈن پر "منافقت” اور "خیانت” کا الزام لگایا ہے۔دوسری طرف جمال خشوگی کے بیٹے نے جوبائیڈن پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن نے میرے بات کے قاتلوں سے انتقام کو سیاسی کارڈ کے طورپراستعمال کیا لیکن جب الیکشن جیت گئے توسب وعدے بھول گئے لیکن ہم نہیں بھولے

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے، ایک سینئر ترک اہلکارکا کہنا ہے کہ جمال خاشجی کے قتل کے بعد دوملکوں کے درمیان پہلی بارحالات کے بہترہونے کی اُمید پیدا ہوئی ہے، محمد بن سلمان کے اس دورے کو بہت اہمیت دی جارہی ہے

    ادھر اس حوالےسے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندرجمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بعد شہزادہ محمدبن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے،جمال خاشجی کے قتل نے دونوں ملکوں کےدرمیان حالات کو بہت زیادہ کشیدہ کردیا تھا

    عہدیدار نے کہا کہ دورے کی تفصیلات کا اعلان "ہفتے کے آخر میں” کیا جائے گا۔

    عہدیدار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت اس اہم دورے کے دوران کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے، جن کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے کی امید ہے، لیکن مقام کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردگان پہلے ہی اپریل کے آخر میں سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے مکہ جانے سے قبل محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس وقت اس دورہ کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے ، اس موقع پر دونوں ملکوں کی قیادت نے "سعودی ترک تعلقات اور انہیں تمام شعبوں میں ترقی دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔”

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی…

    یاد رہے کہ غیرملکی میڈیا نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ سعودی ایجنٹوں نے اکتوبر 2018 میں مملکت کے استنبول قونصل خانے میں خاشقجی کو قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، اس کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔

    اردگان نے پہلے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی "اعلیٰ ترین قیادت ” نے قتل کا حکم دیا تھا اور ترکی نے اس کیس کی بھرپور طریقے سے پیروی کرتے ہوئے، تحقیقات کا آغاز کیا اور بین الاقوامی میڈیا کو قتل کی گھناؤنی تفصیلات سے آگاہ کر کے سعودیوں کو ناراض کیا۔

    سعودی عرب اورترکی میں شدید اختلافات،سعودی عرب کے ترکی پرالزامات اورترکی کےسعودی…

    ترکی کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے کیونکہ اس نے خلیجی ریاست پر ریاض کی زیرقیادت ناکہ بندی کے دوران قطر کی حمایت کی تھی لیکن خاشقجی کے قتل کے بعد تین سال تک تعلقات منجمد رہے۔

    سعودی عرب نے اس وقت ترکی کی معیشت پر دباؤ ڈالتے ہوئے ترکی کی درآمدات کا غیر سرکاری بائیکاٹ کیا تھا۔اب صدارتی انتخابات سے ایک سال قبل مہنگائی اور مہنگائی کے بحران کے ساتھ اردگان خلیجی ممالک سے حمایت حاصل کر رہے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

  • وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا اس موقع پر ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپنے وفد کے ارکان کا تعارف کرایا وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ولی عہد سے اپنے وفد کے ارکان کا تعارف کرایا۔


    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیردفاع خواجہ آصف ،وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، وزیراطلاعات مریم اورنگزیب ملاقات میں موجود تھے-


    ذرائع کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا اس کے علاوہ اقتصادی وتجارتی روابط بڑھانے، سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی بات چیت ایجنڈے میں شامل تھے۔


    واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔

  • سعودی ولی عہد کا وزیراعظم کو فون ،دورہ سعودی کی دعوت دے دی

    سعودی ولی عہد کا وزیراعظم کو فون ،دورہ سعودی کی دعوت دے دی

    سعودی ولی عہد کا وزیراعظم کو فون ،دورہ سعودی کی دعوت دے دی

    وزیراعظم شہبازشریف کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فون کیا ہے

    محمد بن سلمان نے شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ہیں،وزیراعظم شہباز شریف نے مبارکباد پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا ہے

    وزیر اعظم شہباز شریف نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ان کی دور اندیش قیادت میں مملکت کی نمایاں ترقی کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی رشتوں کو یاد کرتے ہوئے جو گزشتہ سات دہائیوں سے ان کے اسٹریٹجک تعلقات کی علامت رہے ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دوطرفہ اور بین الاقوامی فورمز پر تاریخی اور مسلسل حمایت اور تعاون پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا جبکہ ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان ہر وقت مملکت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ سعودی ولی عہد نے وزیراعظم شہباز شریف کو جلد از جلد مملکت کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔ ولی عہد کی دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    استعفوں کے بعد اگلا لائحہ عمل، شیخ رشید نے بڑا اعلان کر دیا

    پی ٹی آئی کا بھی لانگ مارچ کا اعلان،کب ہو سکتا ہے،تاریخ بھی سامنے آ گئی

    قومی اسمبلی کی طرف سے مراسلہ سپریم کورٹ کو بھیج رہے ہیں،ڈپٹی سپیکر

    اسپیکر قومی اسمبلی کی خالی عہدے پر انتخاب کے لیے شیڈول جاری

    پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے کیا تشویش کا اظہار

    امپورٹڈ حکمران پارلیمان کی توہین،قوم غدار گٹھ جوڑ کیخلاف کھڑی ہوچکی ہے،عمران خان

    جمعیت علما اسلام شیرانی گروپ کے سربراہ کی عمران خان سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے کیا سعودی قیادت کا شکریہ ادا

  • جمال خاشقجی قتل،سعودی ولی عہد نے خاموشی توڑ دی

    جمال خاشقجی قتل،سعودی ولی عہد نے خاموشی توڑ دی

    جمال خاشقجی قتل،سعودی ولی عہد نے خاموشی توڑ دی

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ترکی میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے معاملے پر پہلی مرتبہ خاموشی توڑی ہے

    محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ یہ افواہ اڑائی گئی کہ میں نے جمال خاشقجی کو قتل کرنے کا حکم دیا ،

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2018 میں ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں جمال خاشقجی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا جس نے پوری دنیا میں ہنگامہ برپا کر دیا اور اس کا الزام محمد بن سلمان پر عائد کیا جانے لگا ،اب
    پہلی مرتبہ محمد بن سلمان اس قتل کے بارے میں بولے ہیں اور انکا کہنا تھا کہ ظاہری سی بات ہے کہ میں نے قتل کا حکم نہیں دیا تھا اور ان الزامات نے مجھے بہت زیادہ تکلیف پہنچائی ہے میں غصے کو سمجھتا ہوں اور خصوصی طور صحافیوں کے ، میں ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں لیکن ہمارے بھی جذبات ہیں اور دکھ پہنچتا ہے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کا قانون مجھ پر لاگو نہیں ہوتا

    ڈیلی میل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے محمد بن سلمان نے یہ کہتے ہوئے اپنا دفاع کیا کہ صحافی میرے لیے اتنا اہم نہیں تھا کہ میں انہیں قتل کرنا چاہوں اگر ہم اس طرح کام کرتے تو صحافی ان کی ٹارگٹ لسٹ کے ٹاپ ایک ہزار میں بھی نہیں آتا ،محمد بن سلمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی جمال خاشقجی کو نہیں پڑھا ہے

    وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے سعودی سفیر کی ملاقات،کیا ہوئی بات؟

    سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

    بڑی تبدیلی، سعودی عرب میں کس کو سفیر مقرر کر دیا گیا؟

    پاکستان سے انتہائی اہم شخصیت سعودی عرب پہنچ گئی

    سعودی عرب کے دو ایئر پورٹس پر ڈرون حملے،فضائی آپریشن معطل

    جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرینگے،منگیتر کا عدالت میں بیان

    امریکی صدر جوبائیڈن نے دیا محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا

    دسمبر 2019 میں ایک سعودی عدالت قتل کا مقدمہ چلا کر 5 افراد کو سزائے موت سناچکی ہے،جمال خاشقجی کے بیٹوں نے مئی 2020 میں اپنے باپ کے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا،جمال کےبیٹوں کے اعلان کے بعد سعودی عدالت پانچوں قاتلوں کو معاف کرسکتی ہے،

    دسمبر 2019 میں سنائے جانے والے فیصلے میں سعودی عرب کی عدالت نے11 ملزمان کوذمہ دار قراردے دیا، سعودی عرب کی عدالت نے 5مجرموں کو سزائے موت سنا دی،جمال خاشقجی کیس میں 3 مجرموں کو 24 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے سعود القحطانی اور احمد اسیری کے خلاف ثبوتوں کی عدم موجودگی پر انہیں رہا کر دیا.جمال خاشقجی کو2اکتوبر 2018 کواستنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا