Baaghi TV

Tag: مذاکرات

  • مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے،اسد قیصر

    مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے عمران خان سے مشاورت ناگزیر ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں اسد قیصر نےکہاکہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ایک آئینی اور قانونی ضرورت تھی، لیڈر آف دی اپوزیشن کے بغیر اسمبلی چل نہیں سکتی، لیڈرآف دی ہاؤس اوراپوزیشن کی یکساں حیثیت ہے اور آئین اس پر واضح ہےبانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا، کیا نوازشریف کے بغیر مسلم لیگ ن کچھ فیصلہ کر سکتی ہے؟ کیا آصف زرداری یا بلاول بھٹو کے بغیر پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی؟ یہ ناسمجھی ہوگی کہ عمران خان سے مشاورت یا ملاقات کے بغیر ہی کوئی فیصلہ ہو۔

    اسدقیصر کا کہنا تھاکہ جب تک ملاقات نہیں ہوگی تب تک کوئی بھی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی، مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے، مائنز اینڈ منرلز سے متعلق بل ہماری سیاسی سوچ اور بیانیہ کے خلاف نہیں ہوگا، ہمارے صوبے کے اختیار سے بڑھ کر کوئی بھی چیز بل میں نہیں ہوگی، صوبے کو کمزور یا پوزیشن کمپرومائز کرنے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوگا جو بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے اسی کے مطابق یہ بل پاس ہوگا ، اگر دائیں بائیں سے کوئی کوشش ہوتی ہے توہم ایسا بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔

  • پی ٹی آئی میں کچھ لوگ مذاکرات اور کچھ تصادم کی بات کرتے ہیں، خواجہ آصف

    پی ٹی آئی میں کچھ لوگ مذاکرات اور کچھ تصادم کی بات کرتے ہیں، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 5 بڑوں کی بیٹھک کے لیے دیانتداری سب سے اہم ہے، لیکن عمران خان تو اپنی ذات کے علاوہ کسی کا سوچتے ہی نہیں،پی ٹی آئی میں کچھ لوگ مذاکرات اور کچھ تصادم کی بات کرتے ہیں-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 5 بڑوں کی بیٹھک کے لیے دیانتداری سب سے اہم ہے، لیکن عمران خان تو اپنی ذات کے علاوہ کسی کا سوچتے ہی نہیں، اس لیے میرا نہیں خیال کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو سکے گی، ان کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوگا عمران خان اپنی ذات سے سوچنا شروع کرتے ہیں اور وہیں ختم کردیتے ہیں، گزشتہ کچھ عرصے سے پی ٹی آئی مختلف رنگ دکھا رہی ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کچھ لوگ مذاکرات اور کچھ تصادم کی بات کرتے ہیں، پارٹی کے اندر ہی جب تقسیم ہے تو یہ پانچ بڑوں میں کیسے شامل ہو سکتی ہےوفاق کو بلیک میل اور حملہ کرنے کی باتیں کچھ عرصے سے کی جا رہی ہیں عمران خان کا مفاہمت اور بات چیت کا ایجنڈا ہی نہیں خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ مفاہمت اور گفتگو کے لیے ایجنڈا کون طے کرےگا؟-

    راولپنڈی :دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید توسیع

    انہوں نے کہاکہ محمود اچکزئی بڑے اعتماد سے عمران خان کے حوالے سے بات کررہے ہیں، میں ان سے پوچھوں گا کہ اس اعتماد کی وجہ کیا ہےپی ٹی آئی نے آج تک 9 مئی کی مذمت نہیں کی، یہ لوگ شہدا کی نماز جنازہ میں نہیں جاتے، جبکہ پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی ہمارے ساتھ نہیں کھڑی،افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں دی رہی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کابل حکومت دہشتگرد عناصر کے پیچھے ہے۔

    راولپنڈی سے اسلام آباد سفر کرنے والوں کیلئے ٹریفک ایڈوائزری جاری

  • عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع

    عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع

    وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور جلد معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔

    اپنی ایکس پوسٹ میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے لکھا کہ مذاکرات کا آخری دور جاری ہے اور عوامی مفادات کے ساتھ امن ہماری اولین ترجیح ہے۔واضح رہے کہ اس وقت مظفرآباد میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس سے قبل کہا تھا کہ کشمیری عوام کے زیادہ تر مطالبات پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں جبکہ چند نکات کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں، جن پر بات چیت جاری ہے۔

    مذاکرات میں حکومت کی طرف سے سینیٹر رانا ثنااللہ، احسن اقبال، سردار یوسف، طارق فضل چوہدری، قمر زمان کائرہ اور انجینئر امیر مقام شریک ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان بھی وفد کا حصہ ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی شوکت نواز میر، راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم زمان کر رہے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کی حکومتی کمیٹی بھی اجلاس میں شریک ہے۔

    سندھ ایمپلائز الائنس نے دھرنا مؤخر اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

    اسرائیلی افواج کے وحشیانہ حملے، مزید 63 فلسطینی شہید، 227 زخمی

    اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

  • وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں،خالد مسعود سندھو

    وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا جائے کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات ختم کرنے کے باوجود ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریں اور عوامی مسائل کو ترجیح دیں مذاکرات کسی بھی مسئلے کا بہترین حل ہیں حکومت کو چاہیے کہ تحریک انصاف کی جانب سے جو ڈیشل کمیشن کے قیام کو عمل میں لانے کے مطالبے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے،خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت اقتصادی اور سماجی چیلنجز سے گزر رہا ہے، سیاست سے بالاتر ہو کر عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے پاکستان مرکزی مسلم لیگ چاہتی ہے کہ پاکستان کا مستقبل ایک مثبت سیاسی کلچر میں فروغ پائے جہاں اختلافات کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے،انہوں نے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں جمہوریت کی بہتری کے لیے تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جاری مزاکرات کو جاری رکھنے کی خواہش مند ہے تا کہ ملک میں عدم استحکام کی فضا کو ختم کیا جائے.

    انسانی سمگلنگ میں ملوث بدنام زمانہ چنیوٹی گینگ کا اہم سرغنہ گرفتار

    عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

  • عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو وقت دیا تھا کہ وہ جوڈیشل کمیشن بنائے لیکن انہوں نے ہمارے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں دکھائی لہذا آج کے بعد کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹا کریں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج جیل میں مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ،حکومت نے 7 روز میں کمیشن بنانا جو آج تک تھا ،حکومت کی جانب سے آج تک کمیشن نہیں بنایا گیا اس لئے بانی پی ٹی آئی نے مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ،آج عمران خان سے میری، میڈیا کی ملاقات ہوئی، عمران خان نےد و ٹوک اعلان کر دیا، اب مذاکرات کا کوئی دور نہیں ہو گا، حکومت نے بھی تک کمیشن کا اعلان نہیں کیا،ہماری خواہش تھی کہ مذاکرات آگے چلیں لیکن برف پگھل نہیں رہی، جس پر افسوس ہے، آج سے ہمارے مذاکرات ختم،اگر کمیشن بننا ہے تو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے 3 ججز پر بنایا جائے، مستقبل کالائحہ عمل بھی عمران خان نے دے دیا ہم جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے، سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملائیں گے، ہمیں بیرون ملک مدد کی ضرورت نہیں، البتہ عمران خان کی رہائی کے لئے جو لوگ کوشش کر رہے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، بہت جلد عمران خان باہر ہوں گے، ترجمانی کی لڑائی نہیں چل رہی،مسئلہ حل ہو جائے گا

    وزیراعلیٰ سندھ سے چین کی سرکاری انجنیئرنگ کارپوریشن کے وفد کی ملاقات

    کپل شرما ، ریمو ڈی سوزا سمیت 4 معروف فنکاروں کو قتل کی دھمکی

  • پی ٹی آئی کا مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

    پی ٹی آئی کا مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی نے چوتھے راونڈ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ سے قبل جوڈیشل کمیشن کا قیام ضروری ہے اور جب تک جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا چوتھے مذاکراتی راؤنڈ میں نہیں بیٹھیں گے بانی پی ٹی آئی کی واضح ہدایات ہیں کہ حکومت جوڈیشل کمیشن نہیں بناتی تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا ہم حکومت کے ساتھ چوتھے مذاکراتی راؤنڈ میں نہیں بیٹھیں گے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کا انتظار کررہے ہیں وہ کیا پیشرفت بتاتے ہیں، اگر کمیشن نہیں بننے جارہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے کیونکہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے، حکومت کو مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے،ہم سمجھتے ہیں مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے، میں ہمیشہ کہتا ہوں تحمل اور برداشت کے ساتھ مذاکرات پر فوکس کرنا چاہیے، بات آگے بڑھانے کے لیے جلد بازی کے بجائے تحمل سے کام لینا ہوگا۔

    دوسری جانب حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی کا کہنا تھاکہ جوڈیشل کمیشن کے بننے اور نہ بننے کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا، 28 جنوری کو پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ چوتھا مشترکہ اجلاس ہوگا۔

    اس سے قبل تحریک انصاف کے مطالبات کے جواب کے معاملے میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرصدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں تحریک انصاف کے تحریری مطالبات کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں اسحاق ڈار، نوید قمر، عبدالعلیم خان، رانا ثناء اللّٰہ، فاروق ستار، اعجازالحق، خالد مگسی اور چوہدری سالک حسین بھی شریک تھے۔

    دوسری جانب ٹی آئی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ڈیڈ لائن کو مزید کم کر دیا ، تحریک انصاف نے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کو جو ڈیشل کمیشن بنانے کے لیے 27 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دے دی پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 27 جنوری تک جواب کا انتظار کرے گی جبکہ 28 جنوری تک حکومتی کمیٹی کا رابطہ نہ ہونے پر مذاکرات ختم تصور ہوں گے-

    اس سے پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے 31 کی ڈیڈ لائن دی تھی، حکومتی کمیٹی نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے مطالبات پر سب کمیٹی بھی تشکیل دی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے بھی 28 جنوری تک باقاعدہ جواب کا عندیہ دیا گیا ہے، پی ٹی آئی کا ایک بھی مطالبہ نہ مانا گیا تو پی ٹی آئی مزید مذاکرات جاری نہیں رکھے گی۔

    واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے 3 دور ہوچکے ہیں اور گزشتہ سماعت پر پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات تحریری صورت میں دیئے تھے۔

  • مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات  کمیٹی میں پیش

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا ہے

    پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی اراکین شریک ہیں،اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی تحریری مطالبات دیدے گی، مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں اُمید پر دنیا قائم ہے،میں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، خلوص نیت سے کروں یا نہیں،

    پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو پیش کردیئے، اسپیکر چیمبر میں مطالبات پر پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم سے دستخط کروائے گئے،حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کمیٹی کا حصہ ہیں۔تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے اپنے تحریری مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور دیگر اسیران کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔

    مذاکرات، پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے نکات سامنے آ گئے
    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے تحریری مطالبات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو پیش کیے، پی ٹی آئی کے مطالبات کے مسودے پر 6 اراکین کمیٹی کےدستخط ہیں، مسودے پر عمرایوب ، علی امین گنڈاپور ، سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حامد رضا کے دستخط موجود ہیں۔پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دے، کمیشن وفاقی حکومت کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے، کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ 7 روز میں کی جائے،کمیشن بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے، کیا 9 مئی سے متعلق میڈیا پر سنسر شپ لگائی گئی اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا؟ کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے، دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر، 2024 کے واقعات کی تحقیقات کرے، کمیشن اسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے، کمیشن شہداء اور زخمیوں کی تعداد پر اسپتالوں اور میڈیکل سہولیات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کرے، کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے، کمیشن ایف آئی آرز کے اندراج میں درپیش مشکلات کی تحقیقات کرے، کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے،وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں، دونوں کمیشن کی کارروائی عوام اور میڈیا کے لیے کھلی ہونی چاہیے۔

    تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، عرفان صدیقی
    حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت بھی تحریک انصاف کی کمیٹی کے تحریری مطالبات کا جواب تحریری صورت میں دیگی،پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی،تحریری مطالبات تمام اتحادی اپنے پارٹی سربراہان کے سامنے پیش کریں گے، حکومت کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو تحریری جواب دیا جائے گا،تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، 31 جنوری کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی جایا جا سکتا ہے، 31 جنوری سے قبل تحریک انصاف کو حکومتی کمیٹی جواب دے گی۔

    پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے ہمارے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا،ہمارے تحریری مطالبات تیار ہیں، پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، اسیران کی رہائی، 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن ہمارے مطالبے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی رہائی بھی ہمارا مطالبہ ہے، ہمارے تمام اراکین کی رہائی آئین اور قانون کے مطابق کی جائے، ایگزیکٹو آرڈر سے یہ معاملات حل ہو نہیں سکتے، امپائر صحیح ہونا چاہیے، حکومت کمیشن بنائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، ہمارے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا۔

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مذاکرات کیخلاف گفتگو کی انہیں اسی لہجے میں جواب بھی مل گیا، بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے وزیر اعلی کیساتھ سیکیورٹی میٹنگ میں ملاقات ہوئی، ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی،جو مطالبات ہیں تحریری آج دے دیں گے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جب کسی لیول پر بیٹھتے ہیں تو سوچ کر بیٹھتے ہیں، کسی راستے کیلئے ہی بیٹھتے ہیں،جب مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تو مقصد بات چیت ہی ہے، اگر ہمیں مذاکرات پر شک و شبہ ہوتا تو یہاں نا آتے، بیک ڈور کی ضرورت نہیں کیونکہ سب اوپن ہو رہا ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا گیا،پی ٹی آئی کے مطالباتی ڈرافٹ تین صفحات پر مشتمل ہے،اپوزیشن لیڈر چیمبر میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے دستخط کرائے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی مطالباتی ڈرافٹ پر دستخط کیے،پاکستان تحریک انصاف نے 3 صفحات پر مشتمل دو مطالبات پیش کیے ،9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کا قیام، بانی تحریک انصاف اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

  • مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ کل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا سیشن ہو گا، جس میں پارٹی اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومت کے سامنے رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو، تو مسائل کا حل ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج کی کمپلینٹ ایک پرائیویٹ کمپلینٹ ہے جس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے 12 شہدا اور 49 زخمیوں کا ذکر کیا تھا، جن میں سے مزید دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کا ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرانا ہے۔ اس کے بعد اس کمپلینٹ پر مزید کارروائی کی جائے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام اور جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہائی ملے اور انہیں ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے عمل میں جلد تکمیل کی امید ہے اور امکان ہے کہ اس کا نتیجہ خوشخبری کی صورت میں نکلے گا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی کے بانی اور رہنما کے خلاف جتنے بھی کیسز بنائے گئے ہیں، وہ سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں سزا یافتہ افراد کو فوری طور پر رہائی ملنی چاہیے تاکہ جمہوریت کا استحکام قائم رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی طرف سے جلد مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک میں سیاسی صورتحال میں بہتری آئے۔

    دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کل ہم اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کر دیں گے،پھر حکومت کی مرضی ہے وہ مذاکرات کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں،ہمارے کمیشن کے قیام کے مطالبے پر حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے یا نہیں چاہتی،تا کہ تحقیق ہو کہ سچ کیا ہے، مذاکرات کا مستقبل ان باتوں پر منحصر ہے، ہم اپنے کسی اصولی مؤقف سے نہیں ہٹیں گے، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا،ہم اس پر پیچھےنہیں ہٹیں گے.

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

  • حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی تاریخ اور وقت تبدیل

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی تاریخ اور وقت تبدیل

    اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز اب 15 جنوری کی بجائے 16 جنوری سے ہورہا ہے-

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس اب بدھ کی بجائے جمعرات کو طلب کرلیا گیامذاکراتی کمیٹی کے بعض اراکین کی طرف سے بدھ کو عدم دستیابی سے آگاہ کیا گیا، جس کے بعد اجلاس اب بدھ کی بجائے جمعرات 16 جنوری کو ساڑھے 11 بجے کانسٹیٹیوشن روم پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا یہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا، پی ٹی آئی اجلاس میں تحریری مطالبات حکومتی نمائندوں کے سامنے پیش کرے گی جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم پانچ میں اجلاس ان کیمرہ ہوگا-

    اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس 15 جنوری بروز بدھ کو دن ڈیڑھ بجے طلب کیا تھادوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق آج رات 10 بجے وطن واپس پہنچیں گے، ایاز صادق ذاتی دورے پر بیرون ملک گئے ہوئے تھےاسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی واپسی کے بعد حکومت اپوزیشن مذاکرات کے تیسرے دور کا شیڈول فائنل ہوگا۔

  • احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا،شوکت یوسفزئی

    احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا،شوکت یوسفزئی

    پشاور: پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا، قانون کی حکمرانی اورانصاف نہیں ہوگا توہمارے پاس احتجاج کے علاوہ اورکیا راستہ رہ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پرکمیشن کے معاملے پرپیشرفت نہ ہوئی تومذاکرات ختم ہوجائیں گے،احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا، قانون کی حکمرانی اورانصاف نہیں ہوگا توہمارے پاس احتجاج کے علاوہ اورکیا راستہ رہ جاتا ہےخواہش ہے مذاکرات کامیاب ہوجائیں تاکہ ملک میں استحکام آئے، انتخابات ایک سال پہلے یا ایک سال بعد بھی ہوسکتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا مستحق افراد کو تین مرلے کا مفت پلاٹ دینے کا اعلان

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق سوال پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبرکے واقعات پرکمیشن کے معاملے پرپیش رفت نہ ہوئی تومذاکرات ختم ہوجائیں گے ترسیلات زر میں اضافے کی ہمیں خوشی ہے مگر حکومت نے 27 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے اس کا بتانا پڑے گا، یہ قرضے آئی پی پیز کے لئے لے رہے ہیں، مارچ میں آئی پی پیزکا پھرمسئلہ شروع ہوجائے گا۔

    پی ٹی آئی کی اسپیکر قومی اسمبلی سے مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس بلانے کی درخواست