Baaghi TV

Tag: مذاکرات

  • مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات  کمیٹی میں پیش

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا ہے

    پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی اراکین شریک ہیں،اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی تحریری مطالبات دیدے گی، مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں اُمید پر دنیا قائم ہے،میں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، خلوص نیت سے کروں یا نہیں،

    پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو پیش کردیئے، اسپیکر چیمبر میں مطالبات پر پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم سے دستخط کروائے گئے،حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کمیٹی کا حصہ ہیں۔تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے اپنے تحریری مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور دیگر اسیران کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔

    مذاکرات، پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے نکات سامنے آ گئے
    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے تحریری مطالبات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو پیش کیے، پی ٹی آئی کے مطالبات کے مسودے پر 6 اراکین کمیٹی کےدستخط ہیں، مسودے پر عمرایوب ، علی امین گنڈاپور ، سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حامد رضا کے دستخط موجود ہیں۔پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دے، کمیشن وفاقی حکومت کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے، کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ 7 روز میں کی جائے،کمیشن بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے، کیا 9 مئی سے متعلق میڈیا پر سنسر شپ لگائی گئی اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا؟ کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے، دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر، 2024 کے واقعات کی تحقیقات کرے، کمیشن اسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے، کمیشن شہداء اور زخمیوں کی تعداد پر اسپتالوں اور میڈیکل سہولیات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کرے، کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے، کمیشن ایف آئی آرز کے اندراج میں درپیش مشکلات کی تحقیقات کرے، کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے،وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں، دونوں کمیشن کی کارروائی عوام اور میڈیا کے لیے کھلی ہونی چاہیے۔

    تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، عرفان صدیقی
    حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت بھی تحریک انصاف کی کمیٹی کے تحریری مطالبات کا جواب تحریری صورت میں دیگی،پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی،تحریری مطالبات تمام اتحادی اپنے پارٹی سربراہان کے سامنے پیش کریں گے، حکومت کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو تحریری جواب دیا جائے گا،تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، 31 جنوری کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی جایا جا سکتا ہے، 31 جنوری سے قبل تحریک انصاف کو حکومتی کمیٹی جواب دے گی۔

    پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے ہمارے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا،ہمارے تحریری مطالبات تیار ہیں، پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، اسیران کی رہائی، 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن ہمارے مطالبے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی رہائی بھی ہمارا مطالبہ ہے، ہمارے تمام اراکین کی رہائی آئین اور قانون کے مطابق کی جائے، ایگزیکٹو آرڈر سے یہ معاملات حل ہو نہیں سکتے، امپائر صحیح ہونا چاہیے، حکومت کمیشن بنائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، ہمارے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا۔

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مذاکرات کیخلاف گفتگو کی انہیں اسی لہجے میں جواب بھی مل گیا، بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے وزیر اعلی کیساتھ سیکیورٹی میٹنگ میں ملاقات ہوئی، ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی،جو مطالبات ہیں تحریری آج دے دیں گے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جب کسی لیول پر بیٹھتے ہیں تو سوچ کر بیٹھتے ہیں، کسی راستے کیلئے ہی بیٹھتے ہیں،جب مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تو مقصد بات چیت ہی ہے، اگر ہمیں مذاکرات پر شک و شبہ ہوتا تو یہاں نا آتے، بیک ڈور کی ضرورت نہیں کیونکہ سب اوپن ہو رہا ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا گیا،پی ٹی آئی کے مطالباتی ڈرافٹ تین صفحات پر مشتمل ہے،اپوزیشن لیڈر چیمبر میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے دستخط کرائے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی مطالباتی ڈرافٹ پر دستخط کیے،پاکستان تحریک انصاف نے 3 صفحات پر مشتمل دو مطالبات پیش کیے ،9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کا قیام، بانی تحریک انصاف اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

  • مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ کل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا سیشن ہو گا، جس میں پارٹی اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومت کے سامنے رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو، تو مسائل کا حل ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج کی کمپلینٹ ایک پرائیویٹ کمپلینٹ ہے جس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے 12 شہدا اور 49 زخمیوں کا ذکر کیا تھا، جن میں سے مزید دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کا ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرانا ہے۔ اس کے بعد اس کمپلینٹ پر مزید کارروائی کی جائے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام اور جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہائی ملے اور انہیں ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے عمل میں جلد تکمیل کی امید ہے اور امکان ہے کہ اس کا نتیجہ خوشخبری کی صورت میں نکلے گا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی کے بانی اور رہنما کے خلاف جتنے بھی کیسز بنائے گئے ہیں، وہ سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں سزا یافتہ افراد کو فوری طور پر رہائی ملنی چاہیے تاکہ جمہوریت کا استحکام قائم رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی طرف سے جلد مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک میں سیاسی صورتحال میں بہتری آئے۔

    دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کل ہم اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کر دیں گے،پھر حکومت کی مرضی ہے وہ مذاکرات کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں،ہمارے کمیشن کے قیام کے مطالبے پر حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے یا نہیں چاہتی،تا کہ تحقیق ہو کہ سچ کیا ہے، مذاکرات کا مستقبل ان باتوں پر منحصر ہے، ہم اپنے کسی اصولی مؤقف سے نہیں ہٹیں گے، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا،ہم اس پر پیچھےنہیں ہٹیں گے.

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

  • حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی تاریخ اور وقت تبدیل

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی تاریخ اور وقت تبدیل

    اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز اب 15 جنوری کی بجائے 16 جنوری سے ہورہا ہے-

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس اب بدھ کی بجائے جمعرات کو طلب کرلیا گیامذاکراتی کمیٹی کے بعض اراکین کی طرف سے بدھ کو عدم دستیابی سے آگاہ کیا گیا، جس کے بعد اجلاس اب بدھ کی بجائے جمعرات 16 جنوری کو ساڑھے 11 بجے کانسٹیٹیوشن روم پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا یہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا، پی ٹی آئی اجلاس میں تحریری مطالبات حکومتی نمائندوں کے سامنے پیش کرے گی جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم پانچ میں اجلاس ان کیمرہ ہوگا-

    اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس 15 جنوری بروز بدھ کو دن ڈیڑھ بجے طلب کیا تھادوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق آج رات 10 بجے وطن واپس پہنچیں گے، ایاز صادق ذاتی دورے پر بیرون ملک گئے ہوئے تھےاسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی واپسی کے بعد حکومت اپوزیشن مذاکرات کے تیسرے دور کا شیڈول فائنل ہوگا۔

  • احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا،شوکت یوسفزئی

    احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا،شوکت یوسفزئی

    پشاور: پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا، قانون کی حکمرانی اورانصاف نہیں ہوگا توہمارے پاس احتجاج کے علاوہ اورکیا راستہ رہ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پرکمیشن کے معاملے پرپیشرفت نہ ہوئی تومذاکرات ختم ہوجائیں گے،احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا، قانون کی حکمرانی اورانصاف نہیں ہوگا توہمارے پاس احتجاج کے علاوہ اورکیا راستہ رہ جاتا ہےخواہش ہے مذاکرات کامیاب ہوجائیں تاکہ ملک میں استحکام آئے، انتخابات ایک سال پہلے یا ایک سال بعد بھی ہوسکتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا مستحق افراد کو تین مرلے کا مفت پلاٹ دینے کا اعلان

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق سوال پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبرکے واقعات پرکمیشن کے معاملے پرپیش رفت نہ ہوئی تومذاکرات ختم ہوجائیں گے ترسیلات زر میں اضافے کی ہمیں خوشی ہے مگر حکومت نے 27 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے اس کا بتانا پڑے گا، یہ قرضے آئی پی پیز کے لئے لے رہے ہیں، مارچ میں آئی پی پیزکا پھرمسئلہ شروع ہوجائے گا۔

    پی ٹی آئی کی اسپیکر قومی اسمبلی سے مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس بلانے کی درخواست

  • مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہونے کے باوجود، تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

    حکومت نے قومی مسائل کے حل، استحکام کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ آرمی چیف کی جانب سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث 19 سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معافی دے کر خیرسگالی کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام مفاہمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس فیصلے کو ریاست کی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ اقدام ریاست کے متوازن رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو احتساب کو متاثر کئے بغیر مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ریاست کے اعتماد اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایسے اقدامات کی مثال بناتا ہے جو قومی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں اور مستقبل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک اینٹی ریاست مہم چلائی۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے لے کر امریکی انتظامیہ سے روابط استوار کرنے تک، اپنے بیانیہ میں تبدیلی کی۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ان کے ارادوں اور مستقل مزاجی پر سوالات اٹھاتی ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے سیاسی نقصان اور این آر او کے الزامات کے خوف سے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈز جمع کرانے سے گریز کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں عمران خان اور زیر حراست دیگر ارکان کی رہائی کے ساتھ ساتھ 9 مئی اور 26 نومبر کے فسادات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔ حکومت نے شفافیت اور آئینی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی آئی کے مطالبات پر قانونی جائزہ لینے اور اتحادی شراکت داروں سے مشاورت کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت کا مقصد احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری شمولیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں پرتشدد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات کار موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ سے محروم قرار دیتے ہوئے بات چیت کو آئینی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی نمائندے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ 9 مئی کے فسادات کے لئے احتساب قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

    حکومت کا متوازن رویہ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اتحاد کا احساس پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل مہم چلانا قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی فائدے کو پاکستان کے استحکام اور ترقی پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور غلط معلومات کی تشہیر پاکستان کے استحکام اور ادارہ جاتی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”ڈراپ سائٹ نیوز”، جو متنازع اور سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ خبریں من گھڑت سیاسی انتقام اور حکومتی زیادتیوں کے بیانیے پر مرکوز ہیں، جس سے پی ٹی آئی کی طرف سے ریاست کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معاف کرنے کا ایک سنجیدہ اقدام ہے، جو مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کا دوہرا رویہ، جس میں ایک طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت کی کوششیں شامل ہیں، مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔ دونوں فریقوں کی کامیابی کا انحصار پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں پر ترجیح دینے کے حقیقی عزم پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مل کر ملک کے قومی مفادات کو اہمیت دیں، تو مذاکراتی عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں دونوں طرف سے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت کے متوازن رویے اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاسی استحکام اور قومی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات آئین و قانون کے دائرے میں ہوں گے اسے حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے،سیاسی درجہ حرارت میں کمی ہمارے معاشی اور اقتصادی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ مضبوط معیشت مضبوط پاکستان ،کمزور معیشت سے کمزور پاکستان ہوگا۔دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میرے حوالے سے تاثر ہے کہ میں مذاکرات کے حق میں نہیں ہوں،میں کبھی بھی مذاکرات کیخلاف نہیں ہوں،سیاست میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کاواحد راستہ ہے۔خواجہ محمد رفیق کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے 15دن میں ایسا کیا ہوا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے راضی ہوئی ہے،کہا جاتا تھاکہ حکومت اس قابل نہیں کہ ان سے مذاکرات کیے جائیں۔نوازشریف خود چل کر ان کے گھر گئے،شہبازشریف جب اپوزیشن لیڈر تھے تب بھی مذاکرات کی حمایت کی،ہم جب پاور میں آئے تب بھی کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں،سب نے اعادہ کیا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں،قومی مباحثہ ہوناچاہیے۔دوڈھائی سال میں یہی کہا گیا کہ ہم تو اسٹیبلشمنٹ سے ہی مذاکرات کریں گے،مسلم لیگ ن نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی،ایک شخص کی تاریخ ہے کہ اس نے کسی سے وفا نہیں کی۔

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

    کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات

  • یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،خواجہ آصف

    یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،خواجہ آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنما، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میرے متعلق قیاس ہے کہ میں مذاکرات کے حق میں نہیں، میں مذاکرات کا مخالف نہیں،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کئی دفعہ کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن کوئی ردعمل نہیں آیا، بدتمیزی کے ساتھ جواب دیا جاتا تھا،میں مذاکرات کے خلاف نہیں لیکن مجھے سمجھائیں اب ایسا کیا ہوا کہ یہ راضی ہو گئے،پچھلے 15 دن میں ایسی کیا چیز ہوئی پی ٹی آئی مذاکرات پر راضی ہوگئی ،وہ بھی ہمارے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تو وہ ہر وقت راضی تھی، کوئی مجھے بتائے تو سہی کہ 15 دن میں کیا نسخہ سامنے آیا ہے، کیا کوئی تعویز آیا ہے یا کسی نے پُھونک ماری ہے۔پہلے کہتے تھے ان کی کوئی اوقات نہیں جن کی اوقات ہے، ہم ان سےبات کرینگے ، ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اپنے نمائندے بھی بٹھا دیئے،یہ وہ شخص ہے جو 9 سال سے مذاکرات کی دعوت کو ہماری کمزوری سمجھ کر مذاق اڑاتا رہا اور آج مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔مسلم لیگ ن نے مذاکرات کیلئے سب سے پہلے ہاتھ بڑھایا ،سیاست میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہوتا ہے،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھاکہ میں بڑے محتاط انداز میں کہوں گا، مذاکرات ضرور کریں، اللہ کامیاب کریں لیکن خیال رکھنا رُل نہ جانا، ایک شخص(عمران خان) کی تاریخ ہے،کوئی پی ٹی آئی والا ہی بتا دے کہ اُس نے کسی ایک رشتے یا بندے سے وفا کی ہو، جنہوں نے ساری عمر اُس کے ساتھ گزاری، اُن کے جنازے میں نہیں گیا،
    ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں بڑی تلخیاں رہیں لیکن دونوں خلوص دل سے ساتھ ہیں،کسی سیاستدان نے امریکا کے ترلے نہیں کیے، بھٹو نے بھی امریکا کو آنکھیں دکھائیں،یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،طاقت کی پوزیشن میں کوئی مذاکرات کرتا ہے تو اس کے خلوص پر شک نہیں کیا جا سکتا، افغانستان کی جنگ میں جانے کا ہمارا کوئی کام نہیں تھا،پاکستان کے سوا سارے خطے میں امن ہوچکا ہے،بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے 40 ہزار بندے افغانستان سے واپس آئے ،

    2018 سے 2022 کے درمیان فوجی عدالتوں سے ہونے والی سزائیں کسی کو یاد نہیں،ایاز صادق
    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ شہباز شریف نے نواز شریف سے مشاورت کے بعد مذاکراتی کمیٹی بنائی9 مئی کو وہ کیا گیا جو بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی ،کیا پہلی بار ملٹری کورٹس سے سزائیں ہوئی ہیں ؟جو باہر بیٹھ کر ٹویٹ کرتے ہیں کیا انہوں نے کبھی کشمیر ، غزہ کی بات کی ؟ معاشرے کو ایسے لوگوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ،جس جماعت نے پونے 4 سال بات کرنے سے انکار کیا انہوں نے مجھ سے اپیل کی ، 2018 سے 2022 کے درمیان فوجی عدالتوں سے ہونے والی سزائیں کسی کو یاد نہیں،26 آئینی ترمیم پر اپوزیشن نے بحث میں حصہ نہیں لیا، اسمبلی میں اپوزیشن کو بات کرنے کی کوئی روک ٹوک نہیں،اسمبلی میں ایسی بحث ہونی چاہیے جس سے راستہ نکلے

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    زونگ موبائل نیٹ ورک کی درخواست ناقابلِ سماعت ہونے کی بنیاد پر خارج

  • مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بیل چڑھتی نظر نہیں آ رہی، دعا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ جیلیں آباد اور غریب لوگ برباد ہو رہے ہیں، چاہتے ہیں کہ مذاکرات سے جیلوں کے دروازے کھلیں اور جوڈیشل کمیشن بنے، مجھ پر اتنے کیسز بنا دیئے گئے کہ زندگی سے اکتاہٹ پیدا ہو چکی ہے۔میں نے تو 40 دن کا چلہ کاٹا ہے، پھر دو بار سسرال (جیل) بھی گیا۔ چند دنوں میں عالمی اور اخلاقی دباؤ حکومت پر بڑھنے والا ہے، پاؤں پڑی ، صدقے پر چلنے والی حکومت ہے، چاہتا ہوں مذاکرات کا نتیجہ نکلے، ایک شخص سے تعلق ہے وہی نبھانے کی کوشش کررہا ہوں،آئندہ دنوں میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ حکومت پر عالمی دباؤ بڑھے گا، اس حکومت کے ساتھ کسی کی سپورٹ نہیں ہے، پاکستان میں مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،کامیاب کرنا ہے، حکومتیں معافی دیتی ہیں،قیدیوں کو معافی ملنی چاہئےاسکی استدعا ہونی چاہئے، پی ٹی آئی کی کیا سوچ ہے، حکومت کہاں پھنسی ہوئی ہے سب کو پتہ ہونا چاہئے،ہماری معیشت مزید بیٹھی تو لوگوں میں تباہی و بربادی پھیلے گی، دعا ہے مذاکرات کامیاب ہوں اور جیلوں کے دروازے کھلیں،غریب لوگ جیلوں میں ہیں، میرے جیسا بندہ پیشیاں بھگت بھگت کر تھک گیا، اصل حکمرانوں سے درخواست ہے کہ سیاسی قیدی،غریبوں کو رہا کریں،اسٹاک ایکسچنیج کی بجائے کسی ریڑھی والے سے پوچھیں ،عوام نالاں ہے، عوام سے پوچھیں ،میں پی ٹی آئی میں نہیں، ایک بندے سے تعلق ہے وہی نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں.

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

  • بیرسٹر گوہر  نے  پارٹی رہنماوں کی مذاکرات میں شریک نہ ہونے کی وجہ بتادی

    بیرسٹر گوہر نے پارٹی رہنماوں کی مذاکرات میں شریک نہ ہونے کی وجہ بتادی

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے پارٹی رہنماوں کی حکومت کیساتھ مذاکرات میں شریک نہ ہونے کی وجہ بتادی۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان آج مذاکرات ہوئے جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کابینہ اجلاس کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے جبکہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب پشاور کی عدالتوں میں پیشی کی وجہ سے نہ آسکے-

    بیرسٹر گوہر کے مطابق حامد خان بنگلہ دیش کے دورے کی وجہ سے اور سلمان اکرم راجہ لاہور میں عدالتی مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے پی ٹی آئی ممبران مصروفیات کی وجہ سے مذکرات میں شریک نہ ہو پائے، پی ٹی آئی کے کسی ممبر نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا تھا۔

    واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومتی و اپوزیشن کمیٹیوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،مذاکرتی ٹیم میں پی ٹی آئی کے پانچ میں سے 4 ممبران غیر حاضر تھے، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مذکرات میں شامل نہیں ہوئے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ عمر ایوب سے پارٹی رہنماؤں نے مذاکرات میں شمولیت کا کہا، علی امین گنڈاپور سے بھی پارٹی رہنماؤں نے مذاکرات میں شرکت کا کہا لیکن علی امین گنڈاپور نے مذاکراتی عمل میں شرکت سے معذرت کی، سلمان اکرم راجہ نے بیرسٹر گوہر سے مذاکرات پر مشاورت کی، بیرسٹر گوہر سے مشاورت کے بعدسلمان اکرم راجہ نے مذاکراتی عمل میں شرکت سے انکار کیا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بطور جماعت صرف اسد قیصر مذاکرات میں شریک ہوئے، علی امین گنڈاپور حکومت سے مذکرات کے حق میں نہیں ہیں،اپوزیشن اتحادکی جانب سےحامدرضا اور علامہ راجہ ناصرعباس اجلاس میں شریک ہوئے، ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روزاپوزیشن سے روابط کےمعاملے پر پارٹی رہنماؤں میں سخت کشیدگی بھی ہوئی۔

  • پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیوں کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات آج ہوئے

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی پہلی نشست اختتام پذیر ہو گئی ،سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں دونوں کمیٹیوں کے ارکان نے اجلاس میں شرکت کی،آئندہ اجلاس دو جنوری کو ہوگا۔فریقین آئندہ نشست میں اپنا موقف پیش کریں گے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ با ت چیت جمہوریت کا حسن، حکومت اور اپوزیشن کا مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دینا خوش آئند ہے۔ عوام کو منتخب نمائندوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔۔ملک کی موجودہ صورتحال ہم آہنگی کے فروغ کی متقاضی ہے،

    دوران اجلاس اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت جب مذاکرات کی بات کرتی ہےدوسری طرف سے ٹوئٹ آ جاتا ہے،اسد قیصر نے کہا کہ ہم متفق ہیں اپنی کور کمیٹی میں اس ایشو پر تفصیلی بات کی ہے ، اس عمل کی مذمت کرتے ہیں،حکومت اور اپوزیشن نےمذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،کمیٹی کا اجلاس آئندہ 2جنوری کو ہوگا ،آئندہ اجلاس میں اپوزیشن مطالبات کی فہرست پیش کریگی

    مذاکراتی اجلاس میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش
    حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے اجلاس کی پہلی نشست کااعلامیہ جاری کر دیا گیا،حکومت اور اپوزیشن کی مذکراتی کمیٹیوں کا اعلامیہ سینیٹرعرفان صدیقی نے پڑھ کرسنایا.اعلامیہ میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی.نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،راناثنااللہ ،نویدقمر،فاروق ستارشریک ہوئے.دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات کو مثبت عمل قراردیا.اپوزیشن کمیٹی نے ابتدائی مطالبات کا خاکہ پیش کیا.آئندہ اجلاس میں اپوزیشن کمیٹی تحریری طور پر مطالبات پیش کرے گی.اجلاس میں دہشت گردی کی جنگ میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا.اپوزیشن کی جانب سے اسدقیصر،حامدرضااور علامہ ناصرعباس شریک ہوئے.دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نےا سپیکرایاز صادق سے اظہارتشکر کیا،مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق ہواہے،

    قبل ازیں حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں میں مذاکرات ہوئے،سپیکر ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی ،اپوزیشن کی جانب سے اسد قیصر ،صاحب زادہ حامد رضا علامہ ناصر عباس اجلاس میں شریک ہیں،

    اس سے قبل حکومتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں ہوا، اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،رانا ثناء اللہ،خالد مقبول صدیقی،اسحاق ڈار، فاروق ستار،عرفان صدیقی و دیگر شامل تھے،حکومتی کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ بڑے دل اور کھلے دماغ کیساتھ اچھی توقعات لیکر مذاکرات کیلئے جارہے ہیں،

    علامہ راجہ ناصر عباس مذاکرات میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں،صاحبزادہ حامد رضا بھی پہنچ گئے اور کہا کہ پی ٹی آئی کھلے دل کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کرے گی لیکن ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ہمارے دو مطالبات ہیں ایک نو مئی اور 26 نومبر کی جوڈیشل انکوائری اور دوسرا قیدیوں کی رہائی،اگر پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو بتائیں کیا ریاستی اداروں کی مرضی کے بغیر ایسا ہوسکتا تھا؟

    آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ، نیت چیک کریں گے، عمر ایوب
    اپوزیشن لیڈر عمرایوب کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہے، نیت چیک کریں گے، پانی کا درجہ حرارت چیک کریں، پھر کچھ کہا جا سکتا ہے، وزیرِ اعلیٰ کے پی اچھی طرح صوبے کے معاملات سنبھال رہے ہیں،پارٹی میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، نام نہاد یا فارم 47 جو بھی ہیں، مذاکرات ان سے ہی کرنے ہیں، فارم 47 حکومت کا رویہ دیکھ کر مذاکرات کا فیصلہ کریں گے، 5 دسمبر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی، اس دن مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور اسی دن حکومت نے مجھے گرفتار کیا تھا،

    ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں،عارف علوی
    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے 190ملین پاؤنڈ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بریت ہوگی۔سرکاری گواہ تسلیم کرچکے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی تعلق نہیں ،سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ میرے دُکھ درد بہت طویل ہیں، ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں، سیاست ہی ملک کو بچائے گی.

    اتوار کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ خان اور سینیٹرعرفان صدیقی شامل ہیں،حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے،کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، علیم خان اور چوہدری سالک حسین شامل ہوں گے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، علی امین خان گنڈا پور اور صاحبزادہ حامد رضا مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

    ٹرین میں سوئی ہوئی خاتون کو ایک شخص نے زندہ جلا دیا

    پولیس کا آپریشن”لٹیری دلہن”شوہروں پر الزامات لگا کر لوٹنے والی دلہن گرفتار

    آگ کی بھٹی سے گزر چکی، گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز