Baaghi TV

Tag: مسلم لیگ ن

  • مریم نواز کو ایکس اکاؤنٹ پرڈی پی تبدیل کرنا مہنگا پڑ گیا

    مریم نواز کو ایکس اکاؤنٹ پرڈی پی تبدیل کرنا مہنگا پڑ گیا

    پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کو اپنے ایکس اکاؤنٹ کی ڈسپلے پکچر تبدیل کرنا مہنگا پڑ گیا-

    باغی ٹی وی: مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر حال ہی میں اپنے اکاونٹ کی ڈی پی تبدیل کی سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کی تاریخ سامنے آتے ہی مریم نواز نے طویل عرصے بعد تصویر تبدیل کی مریم نواز کی نئی ڈی پی ان کے والد اور قائد ن لیگ نواز شریف کی وطن واپسی کی تاریخ سے جُڑی ہے انہوں نے نواز شریف کی ایک پرانی تصویر بطور ڈی پی لگائی جس میں انکا استقبال کیا جارہا ہےچیف آرگنائزر ن لیگ کی جانب سے تصویر تبدیل کرنے کے بعد انکے اکاونٹ کا بلیو ٹک ہٹ گیا۔

    مریم نواز کے اس وقت ایکس پر 8 ملین فالوورز ہیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان میں سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والے سیاستدانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

  • مسلم ‏ن لیگ کے سینیٹر رانا مقبول احمد انتقال کرگئے

    مسلم ‏ن لیگ کے سینیٹر رانا مقبول احمد انتقال کرگئے

    اسلام آباد: مسلم ‏ن لیگ کے سینیٹر رانا مقبول احمد انتقال کرگئے-

    سینیٹر رانا مقبول احمد کچھ عرصے سے علیل تھے،آج انکی موت ہو گئی ہے، رانا مقبول احمد 2018ء سے سینیٹ کا حصہ تھے، سیاسی رہنماؤں نے ن لیگی رہنما سینیٹر رانا مقبول احمد کی موت پر اظہارافسوس کرتے ہوئے انکی بلندی درجات کے لئے دعا کی ہے

    رانا مقبول احمد کی نمازجنازہ کل بدھ کو ادا کی جائیگی
    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا مقبول احمد کی نماز جنازہ کل 13 ستمبر بروز بدھ 10:30 بجے صبح بمقام 3 – مین بولیوارڈ ( boulevard ) گرین ایکرز ، رائے ونڈ روڈ ، لاھور پر ادا کی جائے گی

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ رانا مقبول احمد کی وفات کا سن کر افسوس ہوا، وہ پاکستان کے وفا دار اور اللہ سے ڈرنے والے تھے، اللہ انکی آخرت اچھی کرے، آمین

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے سینیٹر رانا مقبول احمد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، وزیراعظم نے مرحوم کے بلندی درجات کی دعا کی.

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نےسینیٹر رانا مقبول کی وفات پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا،سابق وزیر اعظم نے رانا مقبول کے اہل خانہ سے ہمدردی اور افسوس کا اظہارکیا،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) فیملی کے لئے آج غم کا دن ہے،رانا مقبول قائد محمد نواز شریف کے قریبی اور بااعتماد ساتھی تھے ،
    دہائیوں پرانی دوستی کا یہ رشتہ آخری وقت تک اسی باہمی اعتماد اور محبت کے ساتھ قائم دائم رہا ،رانا مقبول ایک بہادر، سنجیدہ مزاج اور ذہین شخصیت تھے ،دانائی اور دانش مندی کے ساتھ امور کو سلجھانے والی شخصیت تھے،پولیس سروس کے دوران جرائم کے خاتمے کے لئے انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ،ملک وقوم کے لئے ان کی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹر رانا مقبول کے بیٹے سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ،چیئرمین سینیٹ نے رانا مقبول کے بیٹے رانا طلال سے ان کے والد کے انتقال پر تعزیت کی،صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ سینیٹر رانا مقبول ایک بہترین سیاسی ورکر اور پارلیمنٹیرین تھے۔

    تحریک انصاف کے رہنما،علی محمد خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انا للّہ وانا الیہ راجعون ،سینٹر رانا مقبول صاحب کی وفات کا سن کر دکھ ہوا۔ بہت حلیم اور ملنسار انسان تھے اور ہمیشہ سخت سے سخت بات اچھے پیرائے میں کر جاتے تھے۔ بحیثیت پارلیمانی امور کے وزیر کے ان کے ساتھ سینیٹ اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ معاملات کو باریکی میں جانچنے اور پرکھنے کی صلاحیت رکھتے تھےاور بہت سے شعبوں بلخصوس پولیس اور قانون سے متعلق معاملات پہ ان کی گہری نظر تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین اللھم اغفرہ ورحمہ ولا تعزبہ و انک انت الغفور الرحیم

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے سینیٹر رانا مقبول احمد کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی نےمرحوم کی سیاسی و سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا،اسپیکرنے مرحوم کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ مرحوم سینیٹر ایک زیرک سیاستدان تھے، مرحوم کی سیاسی اور سماجی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا، سپیکر قومی اسمبلی نے اللہ تعالیٰ سے مرحوم کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی،

    رانا مقبول ہمارے گھر کے ایک فرد کی طرح تھے، مریم نواز
    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے سینیٹر رانا مقبول احمد کی وفات پر اظہار افسوس کیا، مریم نواز نے رانا مقبول کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی اور تعزیت کی اور کہا کہ رانا مقبول ہمارے گھر کے ایک فرد کی طرح تھے ہر مشکل، آزمائش اور امتحان میں بھی قائد نواز شریف سے ان کا تعلق اعتماد کی مظبوطی سے استوار رہا ،رانا مقبول کی وفات پارٹی اور ذاتی حوالے سے ہمارا بڑا نقصان ہے ،چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ، دانائی و حکمت کی باتیں، خوش اخلاقی و عاجزی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے ،اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔ آمین

    سابق وفاقی وزیر ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہسینٹر رانا مقبول احمد کے انتقال کی خبر سنکر انتہائی دکھ ہوا۔ مرحوم نہایت محنتی ، مخلص اور فرض شناس انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جوار رحمت میں جگہ اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین!

    عامر لیاقت کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنے کا معاملہ ،

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔

    ٹک ٹاکر دانیہ شاہ انسٹاگرام پر تو موجود تھیں لیکن اب وہ ٹویٹر اکائونٹ پر بھی آگئی 

    پولیس نےرکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اورمشہور ٹیلی ویژن میزبان عامر لیاقت حسین کی موت کی تحقیقات شروع کردی

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔

  • حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ

    حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق حلقہ بندی کی حتمی اشاعت 30 نومبر کو ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا کام جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے کہا کہ جتنا جلدی ممکن ہوسکے گا الیکشن کا انعقاد کرنا ہے اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات کے شیڈول کا بھی اعلان کردیا جائےگا۔ دوسری جانب یاد رہے کہ اس سے قبل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے پنجاب کی نگراں حکومت کو انتخابی قواعد وضوابط سے متعلق خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابی قوانین نگراں حکومت یا وزیر کو سیاسی سرگرمیوں، جلسوں میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے۔

    نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کو لکھے گئے خط میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ہدایت کی تھی کہ نگراں حکومت الیکشن عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرے گی اور خط میں کہا گیا تھا کہ نگراں کابینہ ارکان سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن مہم میں شرکت نہیں کرسکتے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
    علاوہ ازیں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے خط میں لکھا تھا کہ تمام سیاسی فریقین کو برابری کے مواقع فراہم کیے جائیں، نگراں کابینہ کے کسی وزیر کا قریبی عزیز الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا، خط میں کہا گیا تھا کہ نگراں کابینہ اپنے فرائص آئین وقانون کے مطابق سر انجام دینے کے پابند ہیں، خلاف ورزی کی صورت میں الیکشن کمیشن سخت اقدامات کرے گا اور خط ہدایت کی گئی تھی کہ محسن نقوی الیکشن کمیشن کی ہدایات تمام کابینہ اراکان تک پہنچا دیں۔

  • الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    اسلام آباد: لیگی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کمیشن کو وقت دینا پڑے گا، فروری کے آخریا مارچ میں الیکشن ہو جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کو صاف شفاف الیکشن کرانے کی ذمہ داری لگاتا ہے الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،ضروری ہے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے تاکہ شک دور ہو جائے ،الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے، توقع ہے نگران حکومت 5سے 6ماہ تک چلے گا، نگران حکومت کی مدت پر الیکشن کمیشن کو سامنے آکر ابہام دور کرنا چاہیےسی سی آئی کے فیصلے میں پیپلز پارٹی بھی شامل تھی، پیپلز پارٹی کا آفٹرتھا ٹ کہہ لیں یا سیاسی حکمت عملی ، پیپلز پارٹی کو حق حاصل ہے کہ ہر سیاسی حربہ استعمال کرے۔

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاست دانوں کے بغیر حکومتیں نہیں چلتیں، تمام اسٹیک ہولڈر کو ساتھ بیٹھ کر سوچنا ہو گاکہ ہم فیل کیوں ہیں ، چوری شدہ الیکشن کی وجہ سے ہم فیل ہوتے رہے ہیں وہ لوگ اسمبلیوں میں لائے گئے، جن کہ جگہ نہیں تھی، علم نہیں تھا کہ حالات اس حد تک خراب ہیں-

    دوسری جانب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کا کہنا ہے کہ 2018 سے 2022 کے درمیان پاکستان غیرمعمولی دور سے گزرا، اس تبدیلی کے اثرات بہت دیر سے جائیں گے سوشل میڈیا کے زریعے پیالے میں طوفان کھڑا کیا گیا، 9 مئی کے اثرات بہت دور رس تھے، 9 مئی کو مختلف شہروں میں تنصیبات پر حملے ہوئے۔

    جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان

    گورنر پنجاب نے کہا کہ ہر جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، گرفتار افراد کا ٹرائل کہاں چلایا جائے اس پر دو رائے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حملے ہوئے، الیکشن ایکٹ 2017 بڑا واضح ہے، اور وہ بتاتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ الیکشن کمیشن نے صدر کی مشاورت سے طے کرنی ہے اس مشاورت میں دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ یہ بھی آئین کی ضرورت ہے کہ جب مردم شماری نوٹیفائی ہوجائے تو اس کے مطابق حلقہ بندیاں کی جائیں، حلقہ بندیاں چار مہینے کا عمل ہیں اور الیکشن کے عمل کیلئے 60 دن مانگے جاتے ہیں،میری رائے میں الیکشنز ’فروری 2024 میں ہوتے نظر آرہے ہیں اس سے آگے جانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی نوے دن میں الیکشنز کرائیں تو حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں، حلقہ بندیاں کرائیں تو الیکشنز 90 دن میں ممکن نہیں۔

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

  • نوازشریف ستمبرمیں وطن واپس آکر انتخابی مہم چلائیں گے،سینیٹر مسلم لیگ ن

    نوازشریف ستمبرمیں وطن واپس آکر انتخابی مہم چلائیں گے،سینیٹر مسلم لیگ ن

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہےکہ پارلیمنٹ اپنی توہین کا خود احتساب نہیں کرسکتی تو کسی اور کا کیا کرے گی۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت جانے لگتی ہے تو اسے بہت سے بھولے کام یاد آجاتے ہیں، میں نے کہا تھا کہ بل میں برق رفتاری اچھی نہیں ہے، جلدی زیادہ بل آتے ہیں تو ان کے مسودے پر غور نہیں ہوتا، جو بل آئے ان کی ضرورت تھی، یہ (ن) لیگ کے بل نہیں تھے پی ڈی ایم کے بل تھے،ان لوگوں نے بل کی تیاریوں کے اجلاسوں میں شرکت کی ، بل پر دستخط کیے، میرا بل 14 ماہ سے گم ہے، یہ بل میری پراپرٹی تھی، اس حوالے سے 10 اگست کو اسپیکر کو خط لکھا لیکن ابھی تک کوئی رسپانس نہیں آیا۔

    پی سی بی نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے نئی ویڈیو جاری کر دی،عمران خان شامل

    انہوں نے کہا کہ نوازشریف ستمبرکے تیسرے ہفتے میں وطن آئیں گے اور انتخابی مہم چلائیں گے، نوازشریف چاہتے ہیں کہ الیکشن میں تاخیر نہیں ہونا چاہیے، نوازشریف سمجھتے ہیں اس سال الیکشن ہوجائیں گے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے معاملے پر گارنٹی مل چکی ہے،رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ نوازشریف کی عدالتوں سے بریت طے ہے اور اُن کے لیے زیرو رسک ہوچکا ہے جبکہ اس معاملے پر ہمیں گارنٹی بھی مل چکی ہے چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت سے ریلیف ملنا مشکل ہے جبکہ الیکشن کی تاریخ آگے جانے پر اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہے مئی 2022 میں الیکشن کا فیصلہ ہوچکا تھا اور وزیراعظم کی الوداعی تقریر بھی تیار تھی مگر چیئرمین پی ٹی آئی کی تقریر کے بعد حکمت عملی کو تبدیل کیا اور الیکشن نہ کرانے کا فیصلہ کیا۔

    بابر اعظم جتنا بڑا کھلاڑی ہے اتنا ہی بڑا کپتان بھی ہے،افتخار احمد

  • نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،خواجہ آصف

    نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،خواجہ آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ شہباز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کے قافلے کو اپنی منزل تک پہنچایا-

    باغی ٹی وی:سیالکوٹ میں جشن آزادی کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا آج اگر ن لیگ متحرک ہوتی ہے تو وہ گزشتہ پانچ سال ثابت قدمی کا نتجہ ہے, آج سوا سال کی حکومت کے بعد پاکستان کی عوام کی عدالت میں پیش ہوئے، اس حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف رہے،پاکستان کی تاریخ میں اتنی مشکل وزارت عظمیٰ شاید کسی نے گزاری ہو، جس طرح شہبازشریف نے گزاری تمام پارٹیوں کو لے کر قافلے کو اپنی منزل تک پہنچایا،ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چار سال کا سارا گند صاف کیا لیکن ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،جو ڈالر آج تین سو کا ہے پانچ سو کا ہونا تھا، جو تباہی عمران کی کابینہ کر کے گئی شاید ہی پاکستان سلامت رہتا، ہم نے اسکی بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے ملک کو نکال کر سواسال مکمل کیا، آپ کو اسکے چار سال کے اتنے اسکینڈلز ملیں گے کہ انہوں نے گھٹیا سے گھٹیا حرکات دیکھنے کو ملیں گی، اس نے قانون کا ہاتھ اپنے گریبان تک آنے سے روکے رکھا، عدلیہ انکی آخری پناہ گاہ ہے، انشاللہ انصاف کا بول بالا ہوگا، جب نوازشریف واپس آئینگے گے تو اسکو ایسی عدلیہ کا سامنا کرنا پڑے جو اسے انصاف دے، آج عمران کے پاس ہائی کوٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا ہے، لیکن نواز شریف کے پاس کوئی دروازہ نہیں کھلا، پاکستان کی تاریخ میں بیٹی باپ کو جیل ملنے آئی تو اسے جیل سے گرفتار کیا گیا،

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب لوگوں نے مجھے گرفتار کروایا اس سے قبل بھی ان لوگوں کے والد نے مجھے گرفتار کروایا تھا،خواجہ آصف تو کہیں نہیں بھاگا، کہاں ہے آج پی ٹی آئی کی قیادت،اپنے گھروں کو لاوارث چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں،اور کچھ ایسے ہیں جنہوں نے چوتھی چوتھی پارٹی بدلی کوئی شرم کوئی حیا ہوتی ہےنو مئی کو کیا ہوا تھا یہاں سے جلوس لے کر کینٹ گئے تھے اور کہتے تھے خواجہ آصف کے گھر پر بھی حملہ کرنا ہے، عمران کے بہت چاہنے والے ہوں گے لیکن اسکے ساتھ کون کھڑا ہے بتا دیں، ایک دو چھاپہ کیا پڑا غائب ہوگئے ،ایک خاتون ہے ہمارے ضلع کی اسکو خود بھی یاد نہیں کہ اسنے کتنی پارٹیاں بدلیں، لیکن نواز شریف کیساتھ تمام لوگ کھڑے رہے نواز کی ثابت قدمی تھی کہ آج اسکا ورکر اسکے ساتھ کھڑا ہے، حمزہ سوا دو سال قید رہاپورا خاندان قید ہوگیا تھا،انکو تو ابھی دس دن ہوئے ہیں شکایت کرتا ہے کہ وہاں مچھر ہے کیا ننہال گئے ہو؟، آج 76 واں یوم آزادی ہے اللہ نے آج بھی ملک کو قائم رکھا ہے، نو مئی ایسا سانحہ ہے جو سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جو ہندوستان 75 سالوں میں نہ کر سکا وہ عمران خان نے کر دیا، اسکے وارے میں نہیں تھا اگر اسکی مرضی کا چیف نئیں آتا تو منصوبہ بنایا کہ ملک بھی نہیں رہے گا آج تک اس نے نو مئی کے واقع کی مزمت نہیں کی، اسکے ساتھی یا مفرور ہیں یا لوٹے ہوگئے ہیں، مجھے فخر ہے کہ میں ایسے قائد کا ورکر ہوں جو پہاڑ کی طرح ظلم کے سامنے کھڑا رہا،
    لوگ پوچھتے ہیں کہ نواز کب واپس آئے گا،آپ بتائیں کہ نواز واپس آئے تو اس موجودہ عدلیہ سے انصاف کی توقع ہو سکتی ہے، نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،ہم یہ نہیں کہتے کہ عدلیہ ہماری حمایت کرےعدلیہ انصاف کی ہمایت کرے، خواتین کے کہنے پر ہم پہ سیاست نہیں کریں گے، پارلیمان قانون کی ماں ہے،

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ 9 مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جو کچھ کیا اس کے بعد اس کے نتائج کی ذمے داری بھی چیئرمین پی ٹی آئی پر ہے۔

    نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    قبل ازیں سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے جبکہ خواجہ آصف نے میڈیا کو بتایا کہ ضرورت تھی کہ چھوٹے صوبوں کو حکمرانی میں حصہ دیا جائے اور نگران وزیراعظم کیلئے انوارالحق کا نام سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیا گیا ہے جبکہ انوار الحق کا نگران وزیراعظم بننا بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ انوارالحق کانام نگران وزیراعظم کیلئے سرفہرست تھا۔

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگلے مہینے ستمبر میں پاکستان آجائیں گے اور نوازشریف کو اختر مینگل کے تحفظات کو دورکرنا چاہئے کیونکہ ہمیں بلوچستان کےمسائل کا قومی حل تلاش کرنا چاہئے جبکہ ہمیں بلوچستان کے ناراض لوگوں کو بھی قومی دھارے میں لانا چاہئے اور اسی میں بہتری ہے۔

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

  • لندن میں حنا پرویز بٹ کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ

    لندن میں حنا پرویز بٹ کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ

    مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    باغی ٹی وی: حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی آئی کے بدتمیز اور بد تہذیب لوگ اس حد تک گر گئے ہیں کہ لندن میں میرے بیٹے کے سامنے مجھ پر حملہ کیا، مجھ پر بوتلیں پھینکیں اور گندی گالیاں بکیں –


    حنا پرویز نے کہا کہ بد تہذیب لوگ ایسی حرکات کر کے پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں یا بدنام کر رہے ہیں؟،اللہ کا شکر ہے میرے لیڈر نواز شریف نے ہمیشہ صبر اور تہذیب کی تعلیم دی جسے ہم کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

    76 واں جشن آزادی:پاکستان میں غیرملکی سفیروں کا پیغام

    واقعہ پر سابق وفاقی وزیر،ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ رویہ نہایت قابل مذمت ہے۔ پی ٹی آئی کے یہ فالوورز بیرون ملک قوم کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں۔ عمران نیازی نے ان لوگوں کے دماغوں میں نفرت بھر کے ان سے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیت اور اخلاقیات چھین لی ہیں۔ جیسا لیڈر ویسے بد تہذیب فالوورز۔

    صحافی اجمل جامی کہتے ہیں کہ کیا سیاسی اختلاف کا جواب یہ حرکتیں ھیں۔۔؟ ہرگز نہیں! محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ کیساتھ پیش آیا یہ واقع ہر لحاظ سے قابل مذمت اور شرمناک ھے۔ یہ سیاست یا ملک کی خدمت نہیں بلکہ بد نامی ھے۔ خدارا اس طرح کے پاگل پن کی مذمت کیجئے۔۔ایسے واقعات کے حق میں دلائل دینے والے بھی اسی قدر جاہل اور بدتمیز ہیں جس قدر وہ لوگ جو اس میں عملی طور پر ملوث ہیں۔ رحم کیجئے پلیز۔۔! کیا یہ دین اسلام کی اقدار ہیں؟

    واضح رہے کہ ن لیگ کے رہنماؤں پر پی ٹی آئی حامیوں کی جانب سے ہراسانی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، گزشتہ برس نومبر میں رہنما مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کے ساتھ بھی پی ٹی آئی سپورٹرز نے ایسی بدتہذیبی کا برتاؤ کیا تھا ،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، پاکستان تحریک انصاف کی ٹوپیاں پہنے اور جھنڈے لیے کچھ لوگ وزیر اطلاعات کو ایک دوکان پر گھیرے ہوئے ہیں جہاں وہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ہراساں کرتے دکھائی دیئے، جہاں انہیں پی ٹی آئی کے حامی ان پر چیختے رہے اور طنز کر تے رہے اور اپنے موبائل فونز سے ان کی ویڈیو ریکارڈ کر تے رہے مریم اورنگزیب کو ’چور چور‘ پکارا-

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    بعد ازاں مسجد نبوی میں بھی پی ٹی آئی کے حامیوں نے مسلم لیگ ن کے وفد پر ‘چور، چور’ اور ‘لوٹے’ کے نعرے لگائے اور بعض اراکین کو زودوکوب بھی کیا،کچھ مظاہرین کو وفاقی وزرا شاہ زین بگٹی اور مریم اورنگزیب کا پیچھا کرتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا جنہیں بعد میں محافظوں اور پولیس اہلکاروں نے بچایا اور وہاں سے لے گئے۔

    خیبر پختو نخوا میں مقامی صحافی کے گھر نامعلوم افراد کی فائرنگ

  • احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہوگئی ہے جبکہ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ 15 اگست کو اس کیس کی سماعت کرے گا اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی اس بنچ کا حصہ ہوں گے، مولوی اقبال حیدر نے 2 مئی 2018 کو سابق وزیر داخلہ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی.

    خیال رہے کہ درخواست میں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کیخلاف عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کی کاروائی کی استدعا کی گئی تھی اور درخواست میں احسن اقبال کو آئین کے آرٹیکل 63،64 کے تحت نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی اسکے علاوہ سابق وزیر داخلہ سے تمام مراعات اور تنخواہ واپس لینے کا حکم دینے کی استدعا بھی کی گئی تھی.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی

    تاہم خیال رہے کہ اس سے قبل احسن اقبال نے عدالت میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئندہ ایسی بیان بازی سے گریز کریں گے۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ داخلہ کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس خارج کردیا تھا ، جسٹس مظہر علی نقوی نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ اپنے لوگوں کے لیے رول ماڈل ہیں، آپ الیکشن میں جیتے ہیں اور آپ کو اس ملک کی ترقی کے لیے وہ کرنا چاہیے جو آپ کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اپریل 2018 میں مسلم لیگ (نواز) کے رہنماء احسن اقبال کی عدلیہ مخالف تقریر سامنے آئی تھی جس کے بعد ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیر نے عدلیہ اور چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف بیان دیا تھا۔

  • وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.

    اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔

    جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔

  • مریم نواز نے پنجاب کے تمام اضلاع سے خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقررکر دیا

    مریم نواز نے پنجاب کے تمام اضلاع سے خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقررکر دیا

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقرر کر دیا۔ ن لیگی رہنما نے نومنتخب کوآرڈی نیٹرز میں نوٹیفکیشن بھی تقسیم کردیئے۔

    باغی ٹی وی: ماڈل ٹاؤن لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ خواتین کو قومی دھارے میں شامل کئے بغیر حقیقی قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان مسلم لیگ ن اس حقیقت سے نہ صرف با خوبی آگاہ ہے بلکہ اس جماعت نے خواتین کو باختیار بنانے اور انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں منظم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ ضلعی سطح پر خواتین کوارڈینیٹرز کی تقرری بھی پارٹی کی جمہوری ویژن کا عکاس ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائز اورسینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ نون ملک کی حقیقی جمہوری سیاسی جماعت ہے جس نے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنے قائد میاں نواز شریف کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے خواتین کی قومی دھارے میں شمولیت کو یقینی بنایا ہے۔

    کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    ضلعی کوارڈینیٹر خواتین نے کہا کہ سیاسی افق پر ن لیگ کی خواتین سیاسی رہنما جس آب و تاب سے چمک رہی ہیں یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج مسلم لیگ ن نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں پارٹی کی کوارڈینیٹر مقرر کر کے سیاست میں خواتین کی اہمیت پر مہر ثبت کر دی ہے۔ خواتین کوارڈینٹرز کا کہنا ہے کہ ضلعی سطح پرکوارڈینیٹر مقرر کرنے سے اضلاع میں خواتین کو فعال کرنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں مددملے گی۔ تقریب کے اختتام پر مریم نواز 36 اضلاع سےمنتخب ہونے والی کوارڈنیٹرز میں تعیناتی کے نوٹیفیکیشن تقسیم کیے-

    جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا