Baaghi TV

Tag: مصر

  • اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت  سنا دی گئی

    اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی گئی

    قاہرہ: مصر کی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں میں 8ویں سپریم گائیڈ 80 سالہ محمد بدیع بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں چند برس قبل محمد بدیع کو سزائے موت سنائی گئی تھی تاہم بعد میں ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا،سزائے موت پانے والوں میں 79 سالہ قائم مقام گائیڈ محمود عزت بھی شامل ہیں جنہیں برسوں روپوش رہنے کے بعد اگست 2020 میں قاہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا،6 دیگر رہنماؤں یعنی محمد البلتاگی، عمرو محمد ذکی، اسامہ یاسین، صفوت ہیگزی، عاصم عبدالمجید اور محمد عبدالمقصود کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔

    مصر نے اخوان المسلمین کو 2013 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا مصری حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے بعد فوج نے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے بعد اسکندریہ کے سیدی گبر ضلع میں پرتشدد فسادات میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

    حکومت نے ان فسادات کی تمام تر ذمہ داری اخوان المسلمین پر عائد کی جبکہ اخوان المسلمین نے ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے صدر مرسی کو معزول کیے جانے کے بعد سے اسلام پسند اخوان المسلمین کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوشن نے اپریل 2021 میں کیس کو اسٹیٹ سیکیورٹی کریمنل کورٹ میں بھیج دیا تھا اس مقدمے میں قائدین کی جانب سے قاہرہ کے مشرق میں النصر روڈ پر رابع العدویہ دھرنے سے لے کر ’’پلیٹ فارم میموریل‘‘ تک ایک اجتماع منعقد کرنے کے الزامات شامل تھے۔

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

  • رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے نصف سے زیادہ دوسرے علاقوں میں لڑائی سے بچنے کے لیے رفح کی طرف گئی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گاہیں اور وسیع خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مصر کو لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کا خدشہ ہے جنہیں شاید کبھی واپس جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
    مصر نے رفح پر حملے کے امکان پر کہا ہے کہ اگر اس نے رفح میں فوج بھیجی تو وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو معطل کر دے گا، اس سے محصور علاقے میں سپلائی روٹ بند ہو جائے گا۔ رفح غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد پر پھیلا ہوا ہے۔

    تل ابیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس بریگیڈ نے خود کو رفح میں رکھا ہوا ہے اور وہ اسرائیلی فوج پر نہ صرف فضائی حملے کر سکتے ہیں بلکہ اسے ایک زمینی اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔یہ صورتحال کسی اور ملک میں حماس اسرائیل جنگ کو بڑھا سکتی ہے۔ اپنے ملک سے فرار ہونے والے پھنسے ہوئے فلسطینیوں کو اسرائیل سینائی میں دھکیل سکتا ہے، جس سے مصر ان دس لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کو سنبھالنے پر مجبور ہو گا جو ان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خزانے پر معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

    مصر کو 40 ٹینکوں اور بکتر بند اہلکاروں کو غزہ کی سرحد پر منتقل کرنے پر مجبور کرنا پڑا تاکہ اس کی سرحدوں کے اندر کسی بھی منفی جھڑپ سے اس کے علاقے کی حفاظت کی جا سکے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل پہلے ہی رفح پر فضائی حملوں میں روزانہ 100 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر رہا ہے۔ جگہ کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ رفح کے 64 مربع کلومیٹر میں سے ہر ایک میں 22,000 لوگوں کا ہجوم ہے۔ یہ علاقہ پناہ گزینوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں جن سے صحت کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر ہیپاٹائٹس اے کا پھیلنا،خارش اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں، مناسب بیت الخلاء اور نہانے کی سہولیات کے فقدان سے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں

    برطانیہ اور امریکہ نے تل ابیب پر زمینی حملے کے لیے دباؤ ڈالا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ یہ حماس کو ختم کرنا اور ان کے اڈے کو تباہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اس سارے عمل میں غائب ہے، وہ کہاں ہے؟

  • حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    غزہ: مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد نے جنگ بندی کیلئے غزہ سے دستبردار ہونے کی مصر کی تجویز مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: خبر رساں ادارے نے مصری سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس اور اس کی اتحادی مزاحمتی تحریک اسلامی جہاد نے مصر کی طرف سے سامنے لائی گئی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے کہ حماس غزہ کی حکومت سے دستبردار ہو جائے تو اس کے بدلے میں مستقل جنگ بندی کی جا سکتی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق حماس اور اسلامی جہاد کے وفود کی قاہرہ میں مصری حکام سے ملاقات ہوئی ہے جس میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں تاہم دونوں بڑی مزاحمتی تنظیموں نے غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کردیا ہے حماس کے حکام نے کہا ہے کہ حماس فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی رکوانے کیلئے مصری بھائیوں سے بات کی ہے اسرائیلی جارحیت رکنے اور غزہ میں امداد میں اضافے کے بعد ہی یرغمالیوں کی رہائی پربات ہوگی۔

    فلسطینی میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں …

    مصر نے اپنی اس تجویز میں غزہ میں نئے انتخابات کی بھی بات کی ہے اور حماس کو یقین دلانے کی کوشش بھی کی ہے ان ممکنہ انتخابات سے پہلے اور دوران میں اس کے کارکنوں کو کوئی تعاقب یا تشدد کا نشانہ بھی نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم حماس نے یہ پیش کش رد کر دی ہے۔

    حماس ذمہ دار جنہوں نے قاہرہ کا دورہ کیا نے ‘ روئٹر’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس اپنے عوام پر مسلط اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے، چاہتی ہے قتل عام بند ہو اور نسل کشی روکی جائے۔ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھی یہی بات کی ہے۔

    حماس کے ذمہ دار رہنما نے یہ بھی کہا کہ ہمارے لوگوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رہنی چاہیے اور اس میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔ جب اسرائیلی جارحیت رک جائے گی اور امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ ہو جائے گا تو ہم یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔

    شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سردار سید رازی موسوی جاں بحق

    اسلامی جہاد نے بھی یہی مؤقف اپنایا ہے اور کہا ہے کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیل کو تمام فلسطینیوں قیدیوں کو رہاکرناہوگا۔

    واضح رہے دونوں فلسطینی مزاحمتی گروپ مصری حکام کے ساتھ قاہرہ میں الگ الگ مذاکرات کر چکے ہیں۔ مصر نے اس دوران ایک نیا تصور پیش کیا ہے۔ مصر کے اس تصور کی حمایت قطری ثالث بھی کرتے ہیں۔ جو یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں ‘ سیز فائر ‘ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی افواج کی غزہ پر وحشیانہ بمباری مسلسل جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں مزید 250 فلسطینی شہید ہوگئے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 674 ہوگئی جبکہ 54 ہزار 536 فلسطینی زخمی ہیں۔

    24 جنگی کارروائیوں میں 48 صہیونی فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا، القسام …

  • اسرائیل  کی مصری سرحد پر قبضے کی تیاری

    اسرائیل کی مصری سرحد پر قبضے کی تیاری

    اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضے کی تیاری کرلی،غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے –

    باغی ٹی وی : قدس نیٹ ورک کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس سلسلے میں مصر کے حکام کو مطلع کردیا ہے قاہرہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ علاقے سے فوج نکال لے سرحد پر قبضے کے دوران جو کچھ بھی ہوگا اس کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہوگی۔

    غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ مصر کو منظور ہو یا نہ ہو، یہ عمل جاری رہے گا اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر نتائج کا وہ خود ذمہ دار ہوگاغزہ پر مکمل قبضے کی کوشش میں اسرائیلی فوج نے اس علاقے سے ملنے والے داخلی و خارجی راستے بند کردیئے ہیں اسرائیلی فوج کی کوشش ہے کہ غزہ میں حماس کے مزاحمت کاروں کو کہیں سے بھی کمک نہ مل سکے۔

    یونان نے بحیرہ روم میں 81 تارکین وطن کو بچالیا

    دوسری جانب زہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں مزید2 سو فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ صیہونی جارحیت کا نشانہ بن کر غزہ میں موجود 5 اسرائیلی یرغمالی بھی مارے گئے اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کو وسطی غزہ کا علاقہ بھی خالی کرنے کی دھمکی دے دی گئی، وسطی غزہ کے نصائرت کیمپ پر حملے سے 18 فلسطینی شہید جبکہ جبالیہ کیمپ میں مکان پربم سے حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد شہید ہوگئے۔

    فلسطینی میڈیا آفس کے مطابق 78 روز سے جاری حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 258 ہوچکی ہے جبکہ 53 ہزار سے زائد زخمی ہیں، شہدا میں 8 ہزار سے زائد بچے اور 6 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں،78 روز کے دوران 310 طبی عملےکے ارکان اور 100 صحافی شہید ہوچکے ہیں جبکہ سول ڈیفنس کے 35 اہلکار بھی جان کی بازی ہارچکے ہیں، غزہ میں بمباری سے جاں بحق اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی تعداد بھی 136 تک جا پہنچی ہے۔

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    اسرائیل کا حماس کے اہم رہنما حسن الاطرش کو مارنے کا دعویٰ،حسن الاطرش پر حماس کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام ہے ادھر امریکی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے غزہ میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔

    خوراک کی قلت سے غزہ میں قحط کا خطرہ تیزی سے بڑھنے لگا ہےصیہونی فوج نےپینے کے پانی کا آخری پلانٹ بھی تباہ کر دیا ہے سلامتی کونسل میں غزہ کیلئے امداد کی قرارداد پر بین الاقوامی فلاحی اداروں نے غزہ میں جنگ بندی ناگزیر قرار دے دیا۔

    ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کل ہو جائے گی لیکن اس شرط پر کہ حماس اپنے زیر حراست قیدیوں کو رہا کر دے۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    دوسری جانب حماس کے رہنما اسامہ حمدان نےایک پریس کانفرنس کے دوران ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ روکے جانے تک اسرائیلی قیدیوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی اگر اسرائیل اپنے یرغمالی افراد کو زندہ واپس یچاہتا ہے تو اسے غزہ کی پٹی پر حملہ روکنا ہو گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی حکومت ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں، وہ غزہ کی ریت میں زیادہ سے زیادہ دھنس رہے ہیں۔ ان کی حکومت کا خاتمہ بالکل قریب ہے۔ انہوں نے فلسطینی دھڑوں کو ختم کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں کو بھی کھوکھلے دعوے قرار دے دیا۔

    فلسطینی دھڑوں نے اعلان کیا کہ ایک قومی فیصلہ ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے تک قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ حماس کو مختصر جنگ بندی کے بارے میں تحفظات تھے۔ اس نے کم از کم 14دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

    شہری کو پارک سے ملنے والا شیشے کا ٹکڑا 4.87 قیراط کا ہیرا نکلا

    حماس نے اسرائیلی فوجی مہم کو مزید عارضی طور پر روکنے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ صرف ایک مستقل جنگ بندی پر بات کی جائے گی یہ ایسی جنگ بندی ہو گی جس میں فلسطینی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے قیام پر زور دیا جائے گافلسطینی شہریوں کو مناسب خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی بات کی جائے گی۔

  • اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    تہران: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر مستقل قبضہ قابض کوقانونی جوازفراہم نہیں کرتا-

    باغی ٹی وی: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر رئیسی نے السیسی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور جبر کی تازہ واردات کے بعد ایران اس امر کا یقین رکھتا ہے کہ اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،یران کا یہ نظریہ کہ اسرائیل سرطان کا ایک پھوڑا ہے اور خطے کی سلامتی اور امن کے لیے بدترین خطرے کے طور پر سامنے آچکا ہے،مصری صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے صدر ابراہیم رئیسی نے السیسی کو ایک بار پھر صدر منتخب ہونے پر مبارکباد بھی دی۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    دوسری جانب ایرانی دارلحکومت تہران میں تقریب سے خطاب میں ابراہیم رئیسی کا کہنا تھاکہ مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظم حماس کا 7 اکتوبر کو حملہ فلسطینیوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں کا ردعمل ہےمسلم دنیا اور تمام آزاد لوگوں کےلیے مسئلہ فلسطین کی مرکزی حیثیت ہے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم پربین الاقوامی ادارے خاموش ہیں، فلسطینیوں پراسرائیلی جنگی جرائم بین الاقوامی اداروں کی ناکامی ہیں۔

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    ایرانی صدر نے کہا کہ فلسطینی علاقوں پر مستقل قبضہ قابض کوقانونی جوازفراہم نہیں کرتا، فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور 7 اکتوبرکو حماس کا حملہ فلسطینیوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں کا ردعمل ہے، منصفانہ حل یہی ہےکہ فلسطینیوں کو ان کی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے-

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور جبالیہ میں گھروں پربمباری کے نے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ جبالیہ کیمپ میں پینے کے پانی کا آخری پلانٹ بھی اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور ان شہدا میں 70فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

  • عبدالفتاح السیسی مسلسل تیسری بار   مصر کے صدر  بن گئے

    عبدالفتاح السیسی مسلسل تیسری بار مصر کے صدر بن گئے

    قاہرہ: مصری الیکشن اتھارٹی نے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے،عبدالفتاح السیسی مسلسل تیسری بار بھاری اکثریت سے مصر کے صدر بن گئے۔

    باغی ٹی وی: مصر میں صدارتی انتخابات 2024 کے لیے 10 دسمبر سے 12 دسمبر تک ووٹ ڈالے گئے تھے، مصری الیکشن اتھارٹی کے مطابق ووٹنگ کی شرح 66 اعشاریہ 8 فیصد رہی جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ تھی، عبدالفتاح السیسی نے 89 اعشاریہ 6 فیصد ووٹ لےکرکامیابی حاصل کی، صدارتی انتخابات میں 4 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کیا جن میں سے 4 کروڑ 47 لاکھ 72 ہزار سے زائد ووٹ درست قرار دئیے گئے عبدالفتاح السیسی نے 3 کروڑ 97 لاکھ سے زائد ووٹ لے کر واضح برتری حاصل کی عبدا لفتاح السیسی کے حریف امیدوار حازم محمد سلیمان عمر نے 19 لاکھ 86 ہزار ووٹ حاصل کیے۔

    پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    واضح رہےکہ مصری فوج کے سابق آرمی چیف اور نومنتخب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 2013 میں مصر کے پہلےمنتخب صدر محمد مرسی کو معزول کر کے اقتدار پرقبضہ کرلیا تھا پہلی بار 3 جون 2014 کو صدر منتخب ہوئے تھےسال 2018 کے صدارتی انتخابات میں 97 اعشاریہ صفر آٹھ فیصد ووٹ حاصل کرکے وہ دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے-

    بھارت میں کوویڈ پھر سر اٹھانے لگا،حکومت کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد

  • محمد بن سلمان کا مصری صدر اور اردن فرمان روا سے رابطہ

    محمد بن سلمان کا مصری صدر اور اردن فرمان روا سے رابطہ

    ریاض: سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جائز حقوق کے حصول کیلئے فلسطینی عوام کیساتھ کھڑا ہے۔

    باغی ٹی وی: سعودی میڈیا کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور غزہ کی صورتحال کے حوالے سے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے مصری صدر عبد الفتاح السیسی اور اردن کے فرمان روا شاہ عبدللہ ثانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے تینوں رہنماؤں کے درمیان غزہ اور گردو نواح میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، اردن فرمان روا عبداللہ ثانی نے رابطے کے دوران غزہ اور گردونواح میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی وعلاقائی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پراتفاق کیا محمد بن سلمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول، ان کی امیدوں، امنگوں کو پورا کرنے، منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    100 افراد ہلاک؛ اسرائیلیوں کو بم پناہ گاہوں میں دن گزارنے کی ہدایت

    فلسطین، اسرائیل کشیدگی بڑھ گئی، عالمی جنگ شروع ؟

    اوچ شریف انٹرچینج ،موٹروےپولیس کی کارروائی،بین الصوبائی منشیات سمگلرز گرفتار

  • ‎‎نوارا نجم معروف مصری صحافی

    ‎‎نوارا نجم معروف مصری صحافی

    ‎‎نوارا نجم (Nawara Negm) معروف مصری صحافی، مترجم، انسانی حقوق کی علمبردار اور نیوز ایڈیٹر ہیں۔ ‎ نوارا نجم انسانی حقوق کے بارے میں شائع ہونے والے اپنے مصری مضامین اور نائل ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر نشر ہونے والے پروگرام اور مصری خبرنامہ (‎Egypt News) ‎کی وجہ سے مشہور ہیں، اس کے علاوہ بھی مصر میں آزادیِ صحافت اور انسانی حقوق کے لیے ان کی بڑی کاوشیں ہیں۔‎ ‎آپ اسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک میں بطور میزبان و مترجم منسلک ہیں۔ آپ مشہور مصری شاعر احمد فواد نجم اور ممتاز اسلامی مفکر و صحافی سفیناز کاظم کی صاحبزادی ہیں۔

    نوارا نجم نے میں انگریزی ادب (Literature) ‎میں جامعہ عین الشمس مصر سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
    تصانیف
    سن 2009ء میں انہوں نے اپنی پہلی کتاب عش عالريح Esh A’rrih ‘A Nest on the Wind شائع کی جو ان کے کالموں کا مجموعہ ہے اور اسی سال انہوں نے چند مصری خواتین صحافیوں کے ساتھ مل کر ایک اور کتاب أنا أنثہ Ana Ontha I’m Female : شائع کی۔
    صحافتی سفر
    1992 تا 1993 یونیورسٹی میں طالب علمی کے دوران میں انہوں نے بطور ٹرینی صحافی الحرم پبلشنگ ہاوس کے زیر انتظام شائع ہونے والے ماہنامہ الشباب میگزین اور انگریزی ہفت روزہ الااحرم، خواتین میگزین ہفت روزہ نصف الدنیا، ثناء الابثی سے منسلک رہے۔
    بعد ازاں نوارا نجم روزنامہ الحرم سے مستعفی ہو کر الفواد نامی روزنامہ میں ملازمت اختیار کی اس کے بعد انہوں نے ہفت روزنامہ القاہرہ نامی ہفت روزہ اخبار جو وزارت ثقافت حکومت مصر کے زیر انتظام شائع ہوتا تھا سے منسلک ہو گئے، اس کے بعد جب 1997ء میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نےنائل ٹیلی ویژن نیٹ ورک میں ملازمت کا آغاز کیا۔
    صحافتی تخلیقات
    نوارا نجم ہر اتوار مصر کے مشہور اخبار الفواد اور روزنامہ الدستور کے لیے ہفتہ وار کالم بھی لکھتی ہیں۔
    بلاگز

    سن 2006 ء میں نوارا نجم نے اپنے سیاسی بلاگ جبۃ التھييس الشعبيۃ کا آغاز کیا، اس بلاگ میں سیاسی، سماجی، ادبی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مضامین، ویڈیوز، آڈیوز اور تصاویر شائع کیے جاتے ہیں۔
    2011ء کے مصری انقلاب (جسے جان 25واں انقلاب بھی کہا جاتا ہے) میں بھر پور انداز میں شریک ہوئے اور روزانہ دیگر مظاہرین کے ساتھ تحریر اسکوائر قاہرہ میں مظاہرین کے شانہ بشانہ خدمات انجام دیں اور تحریر اسکوائر سے الجزیرہ ٹیلی ویژن کے لیے بھی رپورٹنگ کی۔
    نوارا نجم نے مترجم، نیوز ایڈیٹر، میزبان، نامہ نگار اور کالم نویس کی حیثیت سے کئی مصری اشاعتی اداروں سے منسلک ہیں۔

  • مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    قاہرہ: مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک سبز ہو گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف پھیل گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی مصر کے پورٹ سعید گورنری میں ساحل سمندر پر جانے والوں کو ایک عجیب و غریب واقعے نے اس وقت ششدر کر دیا جب سمندر کا پانی اچانک سبز رنگ میں بدل گیا سمندر کا پانی تبدیل ہونے پر قریب رہائش پذیر لوگ پریشان اور تشویش کا شکار ہو گئے۔

    پورٹ سعید گورنری کے ساحلوں پر سیر کرنے والے شہری حیران رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ سمندر کا پانی بعض مقامات پر ہلکا سبز اور بعض جگہوں پر گہرا سبز ہو گیا اس کیفیت کو دیکھ کر بہت سے لوگ خوف زدہ ہو گئے۔

    پورٹ سعید یونیورسٹی میں سائنس کی فیکلٹی نے سمندر کے پانی کا رنگ سبز ہونے پر کہا کہ سائنس کالج کے ڈین ڈاکٹر فرید ابراہیم ال الدسوقی نے میرین سائنسز کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اسماعیل کی سربراہی میں ماہرین کو فوری طور پر ساحل سمندر پر جانے کی ہدایت کی اور اس واقعے کی پوری رپورٹ لکھنے کو کہا۔

    کالج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ پورٹ سعید کے مشرقی ساحلی علاقے، مشرق میں فشنگ کلب کے سامنے سے لے کر مغرب میں پولیس کلب تک اچانک پانی کا رنگ بدل کیا۔

    کالج نے اپنی رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ یہ عوامل پچھلے کچھ دنوں سے دیکھنے میں آ رہےہیں کلوروفیٹا یا ’طحالب‘ کے سبز جھرمٹ ساحلی پٹی تک پھیلے مگر پٹی کی چوڑائی چند میٹرسے زیادہ نہیں عموماً اس کی چوڑائی 5 سے 20 میٹر ہےتاہم ان طحالبی جھرمٹوں کا حجم سمندری دھاروں کی شدت، لہروں کی شدت اور نوعیت اور گہرائی کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔

    کالج کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سمندری لہریں ان طحالبوں کو ساحل کی ریت پر پھینک دیتی ہیں۔ پھر وہ آہستہ آہستہ سوکھ کر مر جھا جاتی ہیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ساحل کے حالات اور پانی میں اضافے کی وجہ سے یہ غائب ہو جاتی ہیں۔

    کالج نے تصدیق کی کہ یہ مظہرخطرات سے محفوظ ہے اوراس سے کسی قسم کی ماحولیاتی آلودگی کا کوئی خطرہ نہیں ان کے بارے میں فیلڈ ٹیسٹ اور پانی کےنموں سے ان کی جانچ کی جا چکی ہے،عموماً اس طرح کا منظر سبز طحالب کے اچانک جمع ہونے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، نامیاتی غذائی اجزاء میں اضافے اور سمندری دھاروں کی شدت میں اضافہ وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہےتاہم یہ منظرکچھ دنوں تک جاری رہے گا، پھر غائب ہوجائے گا۔

  • ہزاروں سالوں سےدفن لاشوں میں سنہری زبانیں کیوں لگائی گئیں؟

    ہزاروں سالوں سےدفن لاشوں میں سنہری زبانیں کیوں لگائی گئیں؟

    ماہرین آثار قدیمہ نے ہزاروں سالوں سے دفن کچھ لاشیں دریافت کیں جن کے منہ میں سونے کی زبانیں پائی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: یہ دریافت مصر میں کی گئی،مصر میں نوادرات کی وزارت نے اس دریافت کے حوالے سے بتایا کہ قدیم مصر میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جب مُردوں کو موت کے بعد کی زندگی مل جائے تو انہیں بولنے کیلئے منہ کی تھرتھراہٹ کا استعمال کرنا ہوتا ہے اسکندریہ کے ”تاپوسیریس میگنا“ مندر کے اندر 16 ناقص طور پر محفوظ کی گئی ممیاں موجود تھیں، لیکن ان سب کی کھوپڑی میں بند ایک سنہری زبان تھی۔
    nawadrat
    آثار قدیمہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ سونے کی زبانیں قدیم مصریوں نے مردہ لوگوں کو جہنم کے مالک اوسیرس کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت دینے کے طریقے کے طور پر لگائی تھیں سنہری زبان والی یہ ممیاں کوئزنا یا نیکروپولس کے مقام پر برآمد ہوئیں، جو وسطی نیل ڈیلٹا میں واقع ہے سونے سے بھرے منہ کے ساتھ موت کے دیوتا کے ساتھ بات چیت کرنا آسان سمجھا جاتا تھا-

    ایلون مسک کا ایکس میں آڈیو اور ویڈیو کالز کا فیچر جلد متعارف کرانے کا …

    سونے کی زبان والی ممیوں کے سنہری تابوتوں کو توڑا جاچکا تھا، اسی وجہ سے پلاسٹر اور گوند کی کچھ تہیں بھی ملی ہیں جو ممی شدہ افراد کو دفن کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں،ممی کے سر کے گرد موجود سجاوٹ میں سینگ، کوبرا سانپ اور تاج نظر آئے جب کہ اس کے سینے پر ایک ہار تھا جس میں باز کا سر دکھایا گیا تھا خیال کیا جاتا ہے کہ باز کے سر والے زیورات کا ٹکڑا سورج کے خدا ہورس کا تھا۔

    جوہانسبرگ میں5 منزلہ عمارت میں آتشزدگی،درجنوں افراد ہلاک