Baaghi TV

Tag: مصر

  • وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیرِ اعظم پاکستان، محمد شہباز شریف 18 دسمبر 2024 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ قاہرہ میں منعقد ہونے والی ترقی پذیر آٹھ ممالک (D-8) کی گیارہویں سمٹ میں شرکت کریں گے۔

    اس سمٹ سے قبل، وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار 18 دسمبر 2024 کو D-8 وزرائے خارجہ کونسل کے 21ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس گیارہویں D-8 سمٹ کا تھیم "نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور ایس ایم ایز کی حمایت: کل کی معیشت کی تشکیل” ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف اس سمٹ کے دوران نوجوانوں اور ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کریں گے تاکہ ایک مضبوط اور جامع معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ان کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت کو فروغ دینا اور مقامی کاروباری سرپرستی کو بڑھانا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان D-8 کے مقاصد کے لیے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کریں گے اور دوطرفہ فائدے اور خوشحالی کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ، وہ زراعت، خوراک کی سیکیورٹی اور سیاحت میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے عزم کا اظہار کریں گے۔ وزیرِ اعظم نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور مالی ترقی کے لیے پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی مراعات پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان D-8 سمٹ کے دوران غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران اور تعمیر نو کے چیلنجز پر D-8 کا خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اس اجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کریں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیں گے۔سمٹ کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف مختلف شریک ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں اہم اقتصادی، تجارتی اور سیاسی امور پر بات چیت کی جائے گی۔

    یہ دورہ پاکستان اور D-8 ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

  • ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ فرانس میں سفیر تعینات

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ فرانس میں سفیر تعینات

    وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیرخارجہ اسحٰق ڈار کی سفارش پر بیرون ملک 2 سفرا کی تعیناتی کی منظوری دے دی.

    باغی ٹی وی کے مطابق ذرائع دفتر خارجہ نے بتایا کہ دفتر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو گزشتہ ماہ تعیناتی کی سمری ارسال کی گئی تھی.سمری کے مطاق مرغوب سلیم بٹ سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے نئے سفیر ہوں گے، مرغوب سلیم بٹ اس وقت وزارت خارجہ میں بطور ایڈیشنل سیکریٹری برائے ایس سی او ہیں۔ان کے علاوہ عامر شوکت کو مصر میں سفیر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی، عامر شوکت اس وقت سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔فرانس نے بھی نئے نامزد سفیر کو سفارتی سطح پر منظور کرلیا۔ممتاز زہرا بلوچ فرانس میں پاکستان کی نئی سفیر ہوں گی، ممتاز زہرا بلوچ اس وقت ترجمان دفترخارجہ کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔

    پی ایس ایل ٹیموں کے مالکان عمران خان کو فنڈنگ کرتے تھے، سابق رکن پی ٹی آئی

    گھریلو صارفین کوسردیوں میں گیس فراہمی کا شیڈول جاری

    لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

  • مصری فوج کا ہیلی  کاپٹر گر کر تباہ،2 پائلٹ جاں بحق

    مصری فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،2 پائلٹ جاں بحق

    قاہرہ: مصر کی فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے باعث 2 پائلٹ جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : مصری فوج کے بیان کے مطابق ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز کے دوران شلوفہ کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا,بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کےلیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ سوموار کے روز ایران میں بھی ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا تھا کہ ایرانی صوبے سیستان میں چھوٹا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا تھا،حادثے میں پاسداران انقلاب گارڈز کے بریگیڈیئر جنرل پائلٹ سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔

    علاوہ ازیں پیر کو ہی بھارتی فضائیہ کا مِگ 29 طیارہ اتر پردیش میں آگرہ کے قریب ایک کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، بھارتی فضائیہ کا ایک مگ 29 لڑاکا طیارہ آگرہ میں معمول کے تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، طیارے نے پنجاب کے شہر آدم پور سے اڑان بھری تھی اور یہ ایک مشق کے لیے آگرہ جا رہا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا،پائلٹ حادثے سے قبل بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا-

    بھارتی دفاعی حکام نے بیان میں کہا تھا کہ ایک مشق کیلئے آگرہ جانے والے، ایک MiG-29 کو اہم تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے پائلٹ کو باہر نکلنا پڑا پائلٹ محفوظ ہے اور کسی جان و مال کے نقصان کی اطلاع نہیں ہے، کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے-

  • رفح کراسنگ پر اسرائیلی اور مصری فوجیوں کے درمیان جھڑپ

    رفح کراسنگ پر اسرائیلی اور مصری فوجیوں کے درمیان جھڑپ

    تل ابیب: رفح کراسنگ پر اسرائیلی اور مصری فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کے علاقے رفح کراسنگ پر ہونے والی ایک جھڑپ میں مصری فوج کا ایک اہلکار مارا گیا اسرائیلی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    دوسری جانب مصری حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے رفح بارڈر پر جارحیت کا مظاہرہ کیا، جھڑپ میں اسرائیلی فوج کو بھی جانی نقصان ہوا تاہم انھوں نے تعداد نہیں بتائی۔

    عرب میڈیا کے مطابق آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں ممالک کی افواج کے اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں تاہم تعداد کے حوالے سے ابھی تصدیق کی جا رہی ہے۔

    تاحال رفح کراسنگ پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اس معاملے پر دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطہ بھی ہوا ہے،اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں،مصری حکام سے بات چیت جاری ہے۔

    واضح رہے کہ رفح کراسنگ پر ایک جانب مصری فوج اپنی سرحدوں کے لیے حفاظت کے لیے موجود ہیں جہاں سے دنیا بھر سے آیا ہوا امدادی سامان ٹرکوں کے ذریعے رفح میں داخل ہوتا ہےرفح کراسنگ کے دوسری جانب اسرائیلی فوجی تعینات ہیں جو مصر سے آنے والے امدادی ٹرکوں کو چیک کرکے داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔

  • اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت  سنا دی گئی

    اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی گئی

    قاہرہ: مصر کی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں میں 8ویں سپریم گائیڈ 80 سالہ محمد بدیع بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں چند برس قبل محمد بدیع کو سزائے موت سنائی گئی تھی تاہم بعد میں ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا،سزائے موت پانے والوں میں 79 سالہ قائم مقام گائیڈ محمود عزت بھی شامل ہیں جنہیں برسوں روپوش رہنے کے بعد اگست 2020 میں قاہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا،6 دیگر رہنماؤں یعنی محمد البلتاگی، عمرو محمد ذکی، اسامہ یاسین، صفوت ہیگزی، عاصم عبدالمجید اور محمد عبدالمقصود کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔

    مصر نے اخوان المسلمین کو 2013 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا مصری حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے بعد فوج نے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے بعد اسکندریہ کے سیدی گبر ضلع میں پرتشدد فسادات میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

    حکومت نے ان فسادات کی تمام تر ذمہ داری اخوان المسلمین پر عائد کی جبکہ اخوان المسلمین نے ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے صدر مرسی کو معزول کیے جانے کے بعد سے اسلام پسند اخوان المسلمین کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوشن نے اپریل 2021 میں کیس کو اسٹیٹ سیکیورٹی کریمنل کورٹ میں بھیج دیا تھا اس مقدمے میں قائدین کی جانب سے قاہرہ کے مشرق میں النصر روڈ پر رابع العدویہ دھرنے سے لے کر ’’پلیٹ فارم میموریل‘‘ تک ایک اجتماع منعقد کرنے کے الزامات شامل تھے۔

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

  • رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے نصف سے زیادہ دوسرے علاقوں میں لڑائی سے بچنے کے لیے رفح کی طرف گئی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گاہیں اور وسیع خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مصر کو لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کا خدشہ ہے جنہیں شاید کبھی واپس جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
    مصر نے رفح پر حملے کے امکان پر کہا ہے کہ اگر اس نے رفح میں فوج بھیجی تو وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو معطل کر دے گا، اس سے محصور علاقے میں سپلائی روٹ بند ہو جائے گا۔ رفح غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد پر پھیلا ہوا ہے۔

    تل ابیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس بریگیڈ نے خود کو رفح میں رکھا ہوا ہے اور وہ اسرائیلی فوج پر نہ صرف فضائی حملے کر سکتے ہیں بلکہ اسے ایک زمینی اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔یہ صورتحال کسی اور ملک میں حماس اسرائیل جنگ کو بڑھا سکتی ہے۔ اپنے ملک سے فرار ہونے والے پھنسے ہوئے فلسطینیوں کو اسرائیل سینائی میں دھکیل سکتا ہے، جس سے مصر ان دس لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کو سنبھالنے پر مجبور ہو گا جو ان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خزانے پر معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

    مصر کو 40 ٹینکوں اور بکتر بند اہلکاروں کو غزہ کی سرحد پر منتقل کرنے پر مجبور کرنا پڑا تاکہ اس کی سرحدوں کے اندر کسی بھی منفی جھڑپ سے اس کے علاقے کی حفاظت کی جا سکے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل پہلے ہی رفح پر فضائی حملوں میں روزانہ 100 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر رہا ہے۔ جگہ کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ رفح کے 64 مربع کلومیٹر میں سے ہر ایک میں 22,000 لوگوں کا ہجوم ہے۔ یہ علاقہ پناہ گزینوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں جن سے صحت کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر ہیپاٹائٹس اے کا پھیلنا،خارش اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں، مناسب بیت الخلاء اور نہانے کی سہولیات کے فقدان سے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں

    برطانیہ اور امریکہ نے تل ابیب پر زمینی حملے کے لیے دباؤ ڈالا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ یہ حماس کو ختم کرنا اور ان کے اڈے کو تباہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اس سارے عمل میں غائب ہے، وہ کہاں ہے؟

  • حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    غزہ: مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد نے جنگ بندی کیلئے غزہ سے دستبردار ہونے کی مصر کی تجویز مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: خبر رساں ادارے نے مصری سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس اور اس کی اتحادی مزاحمتی تحریک اسلامی جہاد نے مصر کی طرف سے سامنے لائی گئی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے کہ حماس غزہ کی حکومت سے دستبردار ہو جائے تو اس کے بدلے میں مستقل جنگ بندی کی جا سکتی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق حماس اور اسلامی جہاد کے وفود کی قاہرہ میں مصری حکام سے ملاقات ہوئی ہے جس میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں تاہم دونوں بڑی مزاحمتی تنظیموں نے غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کردیا ہے حماس کے حکام نے کہا ہے کہ حماس فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی رکوانے کیلئے مصری بھائیوں سے بات کی ہے اسرائیلی جارحیت رکنے اور غزہ میں امداد میں اضافے کے بعد ہی یرغمالیوں کی رہائی پربات ہوگی۔

    فلسطینی میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں …

    مصر نے اپنی اس تجویز میں غزہ میں نئے انتخابات کی بھی بات کی ہے اور حماس کو یقین دلانے کی کوشش بھی کی ہے ان ممکنہ انتخابات سے پہلے اور دوران میں اس کے کارکنوں کو کوئی تعاقب یا تشدد کا نشانہ بھی نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم حماس نے یہ پیش کش رد کر دی ہے۔

    حماس ذمہ دار جنہوں نے قاہرہ کا دورہ کیا نے ‘ روئٹر’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس اپنے عوام پر مسلط اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے، چاہتی ہے قتل عام بند ہو اور نسل کشی روکی جائے۔ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھی یہی بات کی ہے۔

    حماس کے ذمہ دار رہنما نے یہ بھی کہا کہ ہمارے لوگوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رہنی چاہیے اور اس میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔ جب اسرائیلی جارحیت رک جائے گی اور امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ ہو جائے گا تو ہم یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔

    شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سردار سید رازی موسوی جاں بحق

    اسلامی جہاد نے بھی یہی مؤقف اپنایا ہے اور کہا ہے کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیل کو تمام فلسطینیوں قیدیوں کو رہاکرناہوگا۔

    واضح رہے دونوں فلسطینی مزاحمتی گروپ مصری حکام کے ساتھ قاہرہ میں الگ الگ مذاکرات کر چکے ہیں۔ مصر نے اس دوران ایک نیا تصور پیش کیا ہے۔ مصر کے اس تصور کی حمایت قطری ثالث بھی کرتے ہیں۔ جو یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں ‘ سیز فائر ‘ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی افواج کی غزہ پر وحشیانہ بمباری مسلسل جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں مزید 250 فلسطینی شہید ہوگئے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 674 ہوگئی جبکہ 54 ہزار 536 فلسطینی زخمی ہیں۔

    24 جنگی کارروائیوں میں 48 صہیونی فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا، القسام …

  • اسرائیل  کی مصری سرحد پر قبضے کی تیاری

    اسرائیل کی مصری سرحد پر قبضے کی تیاری

    اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضے کی تیاری کرلی،غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے –

    باغی ٹی وی : قدس نیٹ ورک کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس سلسلے میں مصر کے حکام کو مطلع کردیا ہے قاہرہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ علاقے سے فوج نکال لے سرحد پر قبضے کے دوران جو کچھ بھی ہوگا اس کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہوگی۔

    غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ مصر کو منظور ہو یا نہ ہو، یہ عمل جاری رہے گا اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر نتائج کا وہ خود ذمہ دار ہوگاغزہ پر مکمل قبضے کی کوشش میں اسرائیلی فوج نے اس علاقے سے ملنے والے داخلی و خارجی راستے بند کردیئے ہیں اسرائیلی فوج کی کوشش ہے کہ غزہ میں حماس کے مزاحمت کاروں کو کہیں سے بھی کمک نہ مل سکے۔

    یونان نے بحیرہ روم میں 81 تارکین وطن کو بچالیا

    دوسری جانب زہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں مزید2 سو فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ صیہونی جارحیت کا نشانہ بن کر غزہ میں موجود 5 اسرائیلی یرغمالی بھی مارے گئے اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کو وسطی غزہ کا علاقہ بھی خالی کرنے کی دھمکی دے دی گئی، وسطی غزہ کے نصائرت کیمپ پر حملے سے 18 فلسطینی شہید جبکہ جبالیہ کیمپ میں مکان پربم سے حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد شہید ہوگئے۔

    فلسطینی میڈیا آفس کے مطابق 78 روز سے جاری حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 258 ہوچکی ہے جبکہ 53 ہزار سے زائد زخمی ہیں، شہدا میں 8 ہزار سے زائد بچے اور 6 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں،78 روز کے دوران 310 طبی عملےکے ارکان اور 100 صحافی شہید ہوچکے ہیں جبکہ سول ڈیفنس کے 35 اہلکار بھی جان کی بازی ہارچکے ہیں، غزہ میں بمباری سے جاں بحق اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی تعداد بھی 136 تک جا پہنچی ہے۔

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    اسرائیل کا حماس کے اہم رہنما حسن الاطرش کو مارنے کا دعویٰ،حسن الاطرش پر حماس کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام ہے ادھر امریکی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے غزہ میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔

    خوراک کی قلت سے غزہ میں قحط کا خطرہ تیزی سے بڑھنے لگا ہےصیہونی فوج نےپینے کے پانی کا آخری پلانٹ بھی تباہ کر دیا ہے سلامتی کونسل میں غزہ کیلئے امداد کی قرارداد پر بین الاقوامی فلاحی اداروں نے غزہ میں جنگ بندی ناگزیر قرار دے دیا۔

    ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کل ہو جائے گی لیکن اس شرط پر کہ حماس اپنے زیر حراست قیدیوں کو رہا کر دے۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    دوسری جانب حماس کے رہنما اسامہ حمدان نےایک پریس کانفرنس کے دوران ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ روکے جانے تک اسرائیلی قیدیوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی اگر اسرائیل اپنے یرغمالی افراد کو زندہ واپس یچاہتا ہے تو اسے غزہ کی پٹی پر حملہ روکنا ہو گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی حکومت ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں، وہ غزہ کی ریت میں زیادہ سے زیادہ دھنس رہے ہیں۔ ان کی حکومت کا خاتمہ بالکل قریب ہے۔ انہوں نے فلسطینی دھڑوں کو ختم کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں کو بھی کھوکھلے دعوے قرار دے دیا۔

    فلسطینی دھڑوں نے اعلان کیا کہ ایک قومی فیصلہ ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے تک قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ حماس کو مختصر جنگ بندی کے بارے میں تحفظات تھے۔ اس نے کم از کم 14دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

    شہری کو پارک سے ملنے والا شیشے کا ٹکڑا 4.87 قیراط کا ہیرا نکلا

    حماس نے اسرائیلی فوجی مہم کو مزید عارضی طور پر روکنے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ صرف ایک مستقل جنگ بندی پر بات کی جائے گی یہ ایسی جنگ بندی ہو گی جس میں فلسطینی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے قیام پر زور دیا جائے گافلسطینی شہریوں کو مناسب خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی بات کی جائے گی۔

  • اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    تہران: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر مستقل قبضہ قابض کوقانونی جوازفراہم نہیں کرتا-

    باغی ٹی وی: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر رئیسی نے السیسی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور جبر کی تازہ واردات کے بعد ایران اس امر کا یقین رکھتا ہے کہ اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،یران کا یہ نظریہ کہ اسرائیل سرطان کا ایک پھوڑا ہے اور خطے کی سلامتی اور امن کے لیے بدترین خطرے کے طور پر سامنے آچکا ہے،مصری صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے صدر ابراہیم رئیسی نے السیسی کو ایک بار پھر صدر منتخب ہونے پر مبارکباد بھی دی۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    دوسری جانب ایرانی دارلحکومت تہران میں تقریب سے خطاب میں ابراہیم رئیسی کا کہنا تھاکہ مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظم حماس کا 7 اکتوبر کو حملہ فلسطینیوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں کا ردعمل ہےمسلم دنیا اور تمام آزاد لوگوں کےلیے مسئلہ فلسطین کی مرکزی حیثیت ہے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم پربین الاقوامی ادارے خاموش ہیں، فلسطینیوں پراسرائیلی جنگی جرائم بین الاقوامی اداروں کی ناکامی ہیں۔

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    ایرانی صدر نے کہا کہ فلسطینی علاقوں پر مستقل قبضہ قابض کوقانونی جوازفراہم نہیں کرتا، فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور 7 اکتوبرکو حماس کا حملہ فلسطینیوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں کا ردعمل ہے، منصفانہ حل یہی ہےکہ فلسطینیوں کو ان کی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے-

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور جبالیہ میں گھروں پربمباری کے نے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ جبالیہ کیمپ میں پینے کے پانی کا آخری پلانٹ بھی اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور ان شہدا میں 70فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

  • عبدالفتاح السیسی مسلسل تیسری بار   مصر کے صدر  بن گئے

    عبدالفتاح السیسی مسلسل تیسری بار مصر کے صدر بن گئے

    قاہرہ: مصری الیکشن اتھارٹی نے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے،عبدالفتاح السیسی مسلسل تیسری بار بھاری اکثریت سے مصر کے صدر بن گئے۔

    باغی ٹی وی: مصر میں صدارتی انتخابات 2024 کے لیے 10 دسمبر سے 12 دسمبر تک ووٹ ڈالے گئے تھے، مصری الیکشن اتھارٹی کے مطابق ووٹنگ کی شرح 66 اعشاریہ 8 فیصد رہی جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ تھی، عبدالفتاح السیسی نے 89 اعشاریہ 6 فیصد ووٹ لےکرکامیابی حاصل کی، صدارتی انتخابات میں 4 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کیا جن میں سے 4 کروڑ 47 لاکھ 72 ہزار سے زائد ووٹ درست قرار دئیے گئے عبدالفتاح السیسی نے 3 کروڑ 97 لاکھ سے زائد ووٹ لے کر واضح برتری حاصل کی عبدا لفتاح السیسی کے حریف امیدوار حازم محمد سلیمان عمر نے 19 لاکھ 86 ہزار ووٹ حاصل کیے۔

    پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    واضح رہےکہ مصری فوج کے سابق آرمی چیف اور نومنتخب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 2013 میں مصر کے پہلےمنتخب صدر محمد مرسی کو معزول کر کے اقتدار پرقبضہ کرلیا تھا پہلی بار 3 جون 2014 کو صدر منتخب ہوئے تھےسال 2018 کے صدارتی انتخابات میں 97 اعشاریہ صفر آٹھ فیصد ووٹ حاصل کرکے وہ دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے-

    بھارت میں کوویڈ پھر سر اٹھانے لگا،حکومت کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد