Baaghi TV

Tag: مصطفیٰ کمال

  • سپریم کورٹ،مصطفیٰ کمال کی معافی مسترد،پریس کانفرنس دکھانے والے چینل کو نوٹس

    سپریم کورٹ،مصطفیٰ کمال کی معافی مسترد،پریس کانفرنس دکھانے والے چینل کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فاٸزعیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،بنچ میں جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم افغان شامل ہیں،سپریم کورٹ طلبی پر فیصل واڈا، کمال مصطفی عدالت پیش ہو گئے،مصطفی کمال کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم اور فیصل واوڈا روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ میں نے غیر مشروط معافی کی درخواست مصطفے کمال کی جانب سے دائر کی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وہ درخواست پڑھیں، فروغ نسیم نے مصطفی کمال کا معافی کی درخواست پڑھ کر سنائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے درخواست میں ربا کا ذکر کیا ہے اس کا کیا مطلب؟ ربا والا کیس کا فیصلہ ہو نہیں چکا؟ فروغ نسیم نے کہا کہ ربا والا کیس اس وقت وفاقی شریعت عدالت میں زیر التوا ہے اس پیرائے میں میرے مؤکل نے بات کی تھی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ربا والے معاملے پر دوسرے جج کی تعیناتی کا مسئلہ حل ہوجائے گا، نئے جج کی تعیناتی اس لئے کی جارہی ہے کہ ایک عالم جج فوت ہوچکے ہیں

    ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی عزت کرنی چاہئے، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس اتفاقی تھی یا فیصل واوڈا سے متاثر ہوئے؟ اس پر وکیل فروغ نسیم نے کہا، پریس کانفرنس اتفاقی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ کیوں آپ لوگ فیصل واوڈا سے متاثر نہیں ہیں ، کیا آپ اب بھی سینیٹر ہیں ، فروغ نسیم نے کہا کہ نہیں اب میں سینیٹر نہیں ہوں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ بطور کورٹ آفسر بتائیں کہ آپ کے موکل کے توہینِ عدالت کی ہے یا نہیں ؟ وکیل مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین عدالت نہیں ہے،

    مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین نہیں تھی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کا بے حد احترام کرتے ہیں،پارلیمنٹ نے کئی قوانین بنائے مگر ہم نے کچھ نہیں کہا،پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ آئینی باڈی ہے ،اگر مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین نہیں تھی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ہیں؟قوم کو ایک ایسی پارلیمنٹ اور عدلیہ چاہیے جس کی عوام میں عزت ہو ، میرا خیال ہے یہ پہلی بار ہے کہ ہم نے توہین عدالت کا نوٹس لیا ہے ، فیصل واوڈا سینیٹ میں ہیں وہاں تو اور بھی سلجھے ہوئے لوگ ہونے چاہئیں ، جب ارکان پارلیمنٹ ہوتے ہوئے عدلیہ پر ایسا حملہ کیا جائے تو یہ ایک آئینی ادارے کا دوسرے ادارے پر حملہ ہوتا ہے،اگر مصطفیٰ کمال سمجھتےہیں کہ انہوں نےتوہین عدالت نہیں کی تو پھر معافی قبول نہیں کریں گے،اپ ڈرائنگ روم میں بات کرتےتو الگ بات تھی، اگر پارلیمنٹ میں بات کرتےتوکچھ تحفظ حاصل ہوتا، آپ پریس کلب میں بات کریں اور تمام ٹی وی چینل اس کو چلائیں تو معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ معافی کی گنجائش اسلام میں قتل پر بھی ہے مگر اعتراف جرم لازم ہےآپ نے پریس کلب میں جا کر تو معافی نہیں مانگی،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ایسا کرنے پر بھی تیار ہیں مصطفیٰ کمال کی معافی مانگنے کی وجہ یہ ہے وہ عدلیہ کی عزت کرنا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی ججز کے کنڈکٹ کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا ، میں دونوں ملزمان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ وہ ارکان پارلیمنٹ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالتوں میں زیر التوا مقدمات پر بات ہو تو وہ توہین عدالت نہیں وہ ایک فیئر کمنٹ ہے،ہم آپ کے مؤکل کی تقریر سنتے ہیں اور اس میں کوئی توہین والا عنصر نکل آئے تو کیا کریں؟ فروغ نسیم نے کہا کہ سر اس میں ایک آدھ جملہ ہوسکتا ہے اس لئے عدالت سے معافی کے طلبگار ہیں

    جسٹس عرفان سعادت نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے کہے ہوئے الفاظ پر شرمندہ ہیں ؟ فروغ نسیم نے کہا کہ جی بلکل ، ہم نے یہ بات اپنے جواب میں لکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز کی دوہری شہریت پر کوئی پابندی نہیں،فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی کمال نے ججز کی دوہری شہریت پر کوئی بات نہیں کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں لکھاہے کہ پارلیمنٹ میں کسی جج کے حوالے سے بات نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایسا کوئی ممبر کرتا ہے تو پھر کیا ہونا چاہیئے۔ ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس پر آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے،میں دونوں شخصیات کے بارے میں کہوں گا وہ پارلیمنٹرینز ہیں بات کرنے سے پہلے سوچیں، پارلیمنیٹیرنز نے خود پارلیمنٹ کے ممبرز پر دوہری شہریت کی پابندی لگائی ہے،

    کچھ لوگ کہتے ہیں عدلیہ کو ڈرا دھمکا کر گالیاں دے کر فیصلے لے لو، گالی گلوچ کرنے والے کس سے متاثر ہیں؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے سامنے دوہری شہریت کا معاملہ نہیں توہین عدالت کا کیس ہے، آئین پاکستان دیکھیں، کتنے خوبصورت الفاظ سے شروع ہوتاہے، جو لوگ گالم گلوج کرتے کہان سے اثر لیتےہیں، کیا ایسا دینی فرائض میں ہے؟ ہمیں کسی کو توہین کا نوٹس دینے کا شوق نہیں، امام نے فرمایا تھا کسی سے اختلاف ایسے کریں کہ اس کے سر پر چڑیا بیٹھی ہو تو بھی نہ اڑے، کچھ لوگ کہتے ہیں عدلیہ کو ڈرا دھمکا کر گالیاں دے کر فیصلے لے لو، گالی گلوچ کرنے والے کس سے متاثر ہیں؟ اختلاف رائے کے بھی قواعد ہیں، اسلام سے دور ہوکر ہر بندا گالم گلوچ پر اترا ہوا ہے، فیصلوں پر جتنی مرضی تنقید کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، عدلیہ اور پارلیمان کو لوگوں نے لڑنے کیلئے نہیں بنایا، آپ کو کوئی جج بے ایمان لگتا ہے تو ریفرنس دائر کردیں

    34 منٹ پریس کانفرنس چلائی گئی مگر نامناسب الفاظ کو نہیں روکا گیا؟ کیا ہم ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کردیں؟ کیا ٹی وی چینلز 34 منٹ معافی بھی چلائینگے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین کا مذہب میں کیا اسٹیٹس ہے، فیصل واوڈا کے وکیل سے پوچھ لیتے ہیں،وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ مجھے اس بارے میں قرآن پاک کی آیات یاد نہیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذہب میں ڈیسنسی کا خیال رکھا جائے، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ اس حوالے سے احادیث موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو قرآن پاک سے سمجھاتے ہیں، سورہ الحجرات میں ایسی آیات ہیں،ہر روز گالم گلوچ سنتے ہیں،ٹی وی والے سب چلادیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ فریڈم آف اسپیچ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیمرا کی رپورٹ ہے 34منٹ کی پریس کانفرنس ٹی وی چینلز نے چلائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اب ان ٹی وی والوں کو نوٹس دیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں سب کو نوٹس دینے چاہئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیمرا نے ایک رول بنایا ہے کہ کورٹ کارروائی ریکارڈ اور رپورٹ نہیں ہوگی ،کیا ایسا کوئی آرڈر پیمرا نے ارڈر جاری کیا ہے ؟اگر کوئی توہین عدالت کے الفاظ ہوں تو اس پر کارروائی کی جاسکتی ہے، ایک طرف پوری پریس کانفرنس دکھائی گئی اس پر پیمر انے نوٹس نہیں لیا لیکن کورٹ کی رپورٹنگ اور ریکارڈنگ سے روک دیا،کیا ایسا معیارہے،، ادارے ایسے چلتے ہیں ،پیمرا کے نوٹیفیکیشن کے بارے میں اخبار میں پڑھا تھا،اس کا پرنٹ لے لیں، کیا ٹی وی چینلز کے اندر کوئی معیار ہے؟ 34 منٹ پریس کانفرنس چلائی گئی مگر نامناسب الفاظ کو نہیں روکا گیا؟ کیا ہم ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کردیں؟ کیا ٹی وی چینلز 34 منٹ معافی بھی چلائینگے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو معافی بھی 34 منٹ چلانی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب ان کی جیبوں پر جرمانے کی مد میں بات آئے گی تو پتہ چل جائے گا؟ پیمرا نے عدالتی سماعتوں کو نشر نہ کرنے کا عجیب قانون بنایا؟ عجیب قانون ہے کیا یہ آئین کے خلاف ہے؟

    مجھے اوپر والے سے ڈر لگتا ہے مجھے جس نے گالی دی اسے بھی انصاف دینا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے نہیں کہا ہمارے فیصلوں پر تنقید نہ کریں ،فیصل واوڈا کے وکیل کی بڑی شرعی شکل ہے،فیصل واوڈا کے وکیل وکیل معیزاحمد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اللہ کرے ہمارے اعمال بھی شرعی ہو جائیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں علم ہی نہ ہو کہ قرآن میں اس بارے کیا ہے تو کیا کریں ،ٹی وی والے سب سے زیادہ گالم گلوج کو ترویج دیتے ہیں ، ایسی گالم گلوچ کسی اور ملک میں بھی ہوتی ہے ،مجھے جتنی گالیاں پڑی ہیں شاید کسی کو نہ پڑی ہوں ،کبھی اپنی ذات پر نوٹس نہیں لیا ، آپ نے عدلیہ پر بات کی اس لیے نوٹس لیامجھے اوپر والے سے ڈر لگتا ہے مجھے جس نے گالی دی اسے بھی انصاف دینا ہے ،وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ میرے موکل پیمرا سے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنی نہیں آپ کو سننا ہے ، آپ وکیل ہیں ، فیصل واوڈا اس پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے ، کیا آپ نے کوئی قانون بدلنے کے لیے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا ، ہم نے کبھی کہا فلاں سینیٹر نے اتنے دن اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی ،

    باہر جاکر نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کردیتے ہیں،اتنی بہادری ہے توسامنے آئیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں بیٹھے صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی لوگ بیٹھے ہیں بڑی بڑی ٹویٹس کر جاتے ہیں ، جو کرنا ہے کریں بس جھوٹ تو نہ بولیں ،صحافیوں کو ہم نے بچایا ہے ان کی پٹیشن ہم نے اٹھائی ، باہر جاکر نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کردیتے ہیں،اتنی بہادری ہے توسامنے آئیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کا وکالت نامہ ختم ہوچکا ہے جو موکل بات کرنا چاہے ہیں؟ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا ا سکرپٹ موجود ہے، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ ٹرانسکرپشن میں لکھا ہے کہ پریس کانفرنس میں 2ہائیکورٹ کے ججز کا نام لیا گیا، کیا وہ پریس کانفرنس ججز سے متعلق ہی تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدلیہ سے متعلق پریس کانفرنس کی، وہ بار کونسل یا بار ایسو سی ایشن ہیں؟کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ یہ کام کرے وہ کام کرے ؟یہاں تو جھوٹ پر لوگوں کو ڈالرز ملتے ہیں ، ایک ویڈیو کو زیادہ دیکھا جاتاہے ،ہر بات سورس کے ذریعے کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی سورس نہیں ہوتا، صحافیوں کا کیس ہم نے اٹھایا ان کے سارے کیسز سن رہے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا کے وکیل سے کہا کہ کیا آپ کیس چلانا چاہتے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ میں مشورہ کرکے بتاتا ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ہم مزید وقت دے سکتے ہیں، فیصل واوڈا روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ روسٹرم پر بات کرنا چاہتا ہوں ،جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں، وہ نہ ہوتے تو بات کرسکتے تھے

    کبھی زبان سے بات نکل جاتی ہے لیکن پریس کانفرنس کے ڈائنامکس الگ ہیں،چیف جسٹس
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پیمرا کورٹ رپورٹنگ سے متعلق جو ہدایات ہیں وہ درست نہیں ،پیمرا کو چاہیے کہ وہ ایک چیک کا نظام رکھے،چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ہمیں کام کے لیے بٹھایا گیا،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ شام کو ٹاک شوز میں باتیں ہوتی ہیں اس کو بھی دیکھنا ہےچیف جسٹس نے کہا کہ کیا پھر چینلز کو نوٹس جاری کیے جائیں ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چینلز سے پوچھیں کہ ان کی ایڈیٹوریل پالیسی کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ آپ بے شک فیصلوں پر تنقید کریں لیکن بہتر طریقے سے کریں،کیا ایک جملے میں10 بار توہین ہورہی ہے تو پھر کیا وہ ایک توہین ہوگی؟کبھی زبان سے بات نکل جاتی ہے لیکن پریس کانفرنس کے ڈائنامکس الگ ہیں،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال توہین عدالت کیس کی سماعت28جون تک ملتوی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ نے مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی درخواست مسترد کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے؟ کبھی ہم نے یہ کہا کہ فلاں کو پارلیمنٹ نے توسیع کیوں دے دی. آپ نے کس حیثیت میں پریس کانفرنس کی تھی ، آپ بار کونسل کے جج ہیں کیا ؟سپریم کورٹ نے فیصل واوڈ اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس دکھانےوالے تمام چینلز کو نوٹس جاری کر دیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،  سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

  • توہین عدالت کیس،مصطفیٰ کمال نے معافی مانگ لی

    توہین عدالت کیس،مصطفیٰ کمال نے معافی مانگ لی

    توہین عدالت کیس، ایم کیو ایم کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی

    ایم کیو ایم رہنما سید مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بیان حلفی جمع کرا دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ” اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا دل سے احترام کرتا ہوں، عدلیہ اور ججز کے اختیارات اور ساکھ بدنام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، عدلیہ سے متعلق اپنے بیان پر بالخصوص 16 مئی کی پریس کانفرنس پر غیرمشروط معافی چاہتا ہوں، معزز عدالت سے معافی کی درخواست اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں”۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • کیا دہری شہریت والے شخص کو پاکستان کی عدالت کا جج ہونا چاہیے؟مصطفیٰ کمال

    کیا دہری شہریت والے شخص کو پاکستان کی عدالت کا جج ہونا چاہیے؟مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم رہنماؤں مصطفیٰ کمال ،امین الحق و دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری خلفشار پر آج بات کریں گے،جس سے یقینا سیاسی ورکر اور پارٹیاں لاتعلق نہیں رہ سکتے،ایک اقامے پر نواز شریف کو گرفتار کرکےگھر بھیج دیا گیا، جعلی ڈگریوں پر کئی رہنماؤں کو گھر جاتے ہم نے دیکھا اور اسی جوڈیشری نے بھیجا ہےایک ادارہ جو کہ خود انصاف فراہم کررہا ہے اگر اس پر کوئی ڈینٹ آرہا ہے تو یہ ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ ہے ،ایک سینیٹر نے پچھلے دونوں خط لکھا دوہری شہریت کے حوالے سے لیکن جواب آیا کہ ہم جواب دہ نہیں ،جج کے پاس وہ طاقت ہے جو منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج سکتے ہیں، جج صاحب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تفصیلات دیکھ رہے ہیں، دیکھ رہے ہیں جج صاحب کے پاس گرین کارڈ،فیملی کے پاس شہریت ہے، کیا دہری شہریت پر کوئی شخص رکن قومی اسمبلی نہیں بن سکتا، تمام اداروں میں دہری شہریت کے قوانین لاگو ہونے چاہئیں۔کسی چیز نے ہمیں جوڑ رکھا ہے تو وہ ہماری فوج ہے، کیا دوہری شہریت والے کو جج ہونا چاہئے، یہ ملک میں ہوکیا رہا ہے؟ ہمیں جواب چاہیئے،دیکھ رہے ہیں جج صاحب کے پاس گرین کارڈ،فیملی کے پاس شہریت ہے،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ شرعی عدالت نے سود کے خلاف جائز فیصلہ کیا، سپریم کورٹ میں اپیل ہو نے پر سود کے خلاف فیصلہ معطل ہوگیا،سود کے خلاف فیصلے پر کوئی سوموٹو ایکشن نہیں لیا گیا، پاکستان کے دشمن پاکستان کو عراق،لیبیا،شام بنانا چاہتے ہیں، جو قومیں اپنی افواج کو ڈس مینٹل کر دیتی ہیں انکا مستقبل لیبیا، شام اور عراق جیسا ہوتا ہے

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • زرداری صاحب، رب کے ہاں سرخرو ہونا ہے تو سود ختم کروائیں، مصطفیٰ کمال

    زرداری صاحب، رب کے ہاں سرخرو ہونا ہے تو سود ختم کروائیں، مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر برائے خزانہ اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کم از کم اجرت 32 ہزار روپے رکھی گئی ہے جو ادارے اس پر عمل نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور یقینی بنایا جائے گا کہ سرکاری اور پرائیوٹ ادارے کم از کم اجرت کے قانون پر عمل کریں

    ان خیالات کا انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کم از کم اجرت کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر کیا سرکاری اور نجی کاروباری اداروں میں حکومت کی اعلان کردہ کم از کم اجرت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ،پیپلز پارٹی کے رہنما سید آغا رفیع اللہ نے قرارداد پیش کی کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ حکومت سرکاری محکموں اور چھوٹے نجی کاروباری اداروں میں حکومت کی اعلان کردہ کم ازکم اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدمات کرئے ۔وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب خان نے کہا کہ کم ازکم اجرت 32ہزار روپے ہوگئی ہے اس پر عمل کریں گے وفاق کی حد تک اس پر عمل کروائیں گے اور صوبوں سے بھی پوچھیں گے وہاں پر بھی اس پر عملدرآمد ہو رہاہے۔ اس قانون کا نفاذ سرکاری اداروں کے ساتھ پرائیویٹ اداروں پر بھی ہوتا ہے ۔قرارداد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔

    خدا کیلئے کم از کم قانونی معاملات پر تو سیاست نہ کریں،وزیر قانون کا زرتاج گل سے مکالمہ
    پاکستان کے آبی حقوق پر جارحیت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس زرتاج گل نے پیش کیا ۔وزیرقانون نے کہاکہ بگلیہار ڈیم کیلئے معاملہ ٹیکنیکل ایکسپرٹ کے پاس معاملہ گیا، دریائے راوی کے پانی پر استعمال کا حق بھارت کا ہے،زرتاج گل نے کہاکہ یہاں پر وزیر خارجہ کو ہونا چاہیے تاکہ مسئلے پر بات کرتے، بھارت کو ہم نے نوٹس بھجوانے تھے الٹا انہوں نے ہم بھجوادیئے، وزیر قانون نے کہا کہ خدا کیلئے کم از کم قانونی معاملات پر تو سیاست نہ کریں، حکومت کیوں بھارت کو اختیار دے گی،اس فورم پر ریکارڈ کے مطابق بات کرنی چاہیے بھارت اس ایگریمنٹ سے نکلنا چاہتا ہے تاکہ ہم پر جنگیں ہم پر مسلط کرے۔

    خسارے اب ملک برداشت نہیں کر سکتا ،وزیر خزانہ
    وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر پر جا چکے ہیں جون تک 9 سے دس بلین ڈالر تک مبادلہ کے ذخائر ہوجائیں گےہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9فیصد ہے اس کو بڑھانا پڑے گاخطے میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہے ٹیکسز لوگوں کو دینے پڑیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا، وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کس چیز پرتقریریں ہو رہی ہیں سود کے حوالے سے فیصلہ ہوچکا ہے پانچ سال کی معیاد بھی متعین ہے پچھلے سال متعدد بنک کنونشن برانچز اسلامک بینکنگ میں منتقل ہو چکی ہیں پرجوش تقریریں کس چیز پر ہو رہی ہیں اب میں اکانومی پر بات کرنا چاہتاپاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر پر جا چکے ہیں جون تک 9 سے دس بلین ڈالر تک مبادلہ کے ذخائر ہوجائیں گےہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9فیصد ہے اس کو بڑھانا پڑے گاخطے میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہے ٹیکسز لوگوں کو دینے پڑیں گےیہ ٹیکسز کا کام ہمیں کرنا پڑے گاسرکاری اداروں کا خسارہ بہت بڑھ گیا ہے یہ خسارے اب ملک برداشت نہیں کر سکتا سرکاری اداروں کے حوالے سے ہمیں لائحہ عمل طے کرنا ہوگا ملک میں زراعت اور آئی ٹی پر کام کرنے کی ضرورت ہے تقسیم کار کمپنیوں میں نقصان ہورہاہے اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے اپوزیشن لیڈر عمرایوب ہماری اس حوالے سے راہنمائی کریں عمرایواب پاور ڈویژن کے وزیر رہے ہیں ان کو لیکیجز کا پتہ ہے،

    ستر سالوں میں ہمارے حالات کیا ہو گئےہم مسلسل اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں ہیں،مصطفیٰ کمال
    ایم کیو ایم کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سود اللہ اور اسکے رسول سے کھلی جنگ ہےیہ سود کی بنیاد پر اکانومی ہےمیں اللہ کی بات مانوں یا فنانس منسٹر کی بات مانوں،ہم دیکھ نہیں رہے، ستر سالوں میں ہمارے حالات کیا ہو گئےہم مسلسل اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں ہیں، انڈیا سے جنگ کرنے کے قابل نہیں ہیں ہم اور ہم اللہ اور اسکے رسول سے جنگ کر رہے ہیں،2022 میں سپریم کورٹ کا آرڈر آیا کہ پانچ سال میں سودی نظام کا مکمل خاتمہ ہوگاسپریم کورٹ کا ابھی تک شریعت اییلٹ بنچ نہیں بنا کسی مفتی صاحب کو یہاں لائیں جو آکے بتائے کہ یہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ نہیں آج ہم منافق ہیں، آج آصف علی زرداری پاکستان کے انتہائی مضبوط ترین شخصیت ہیں آصف زرداری کنگ بھی ہیں کنگ میکر بھی ہیں زرداری صاحب سے کہتے ہوں اپنی پاور کا استعمال کرتے ہوئے یہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ ختم کروائیں ،آج زرداری صاحب یہ کریں تو کل وہ اللہ کے سامنے سرخرو ہونگے،

    قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے تحریک ایوان میں پیش کی اور کہا کہ بلوچستان صرف رقبے کے لحاظ سے نہیں پسماندگی کے اعتبار سے بھی سب سے بڑا صوبہ ہے،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں خواتین کے لئے بہت سے اقدامات ہوئے، بی آئی ایس پی قانونی حیثیت رکھتا ہے، 9.3 ملین خاندانوں کو معاونت فراہم کی جا رہی ہے،پروگرام کی خوبصورتی یہ ہے کہ خاتون کو خاندان کا سربراہ ظاہر کیا جاتا ہے، بلوچستان میں تعلیم کو عام کرنے اور ہیومن کیپٹل کی تعمیر کی ضرورت ہے،ہم اپنی ترجیحات کو درست کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے،

  • نہیں چاہتے سندھ کی گورنر شپ کے معاملے پر کوئی بحث ہو،مصطفیٰ کمال

    نہیں چاہتے سندھ کی گورنر شپ کے معاملے پر کوئی بحث ہو،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ سندھ میں گورنر شپ متحدہ کا حق ہے، دستبردار نہیں ہوں گے،

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری بہت اچھا کام کر رہے ہیں، پورے ملک میں تمام گورنر سے زیادہ متحرک ہیں، نہیں چاہتے سندھ کی گورنر شپ کے معاملے پر کوئی بحث ہو، ایم کیو ایم کے پاس کراچی کا 80 فیصد اور حیدرآباد کا 100 فیصد مینڈیٹ ہے، تو گورنر شپ بھی ایم کیو ایم کا حق ہے، حکومت میں برائے نام نہیں رہنا چاہتے، ڈیڈ لاک کوئی نہیں ہے، معاملات طے پا جائیں گے،بلدیاتی اداروں کو خودمختار اور مضبوط کرنے کے لیے 3 آئینی ترامیم پر حمایت حاصل کرنا ہماری ترجیح ہے، ایم کیو ایم کی کوئی ڈیمانڈ نہیں اصول پر بات کر رہے ہیں، الیکشن سے پہلے سے ن لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں، صرف نمبر پورے کر کے حکومت بنانا ہی کافی نہیں اسے چلانا بھی ہے، آئیڈیل صورتحال یہ ہے وزارتیں نہ لیں اور حکومت کا ساتھ دیں لیکن خود غرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے، یہ حکومت پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہو گی،ہماری توجہ لوگوں کو کیسے ڈیلیور کرنا ہے، اپنے حلقوں میں عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا فارمولہ بنانا ہے، ایسا نہ ہو نام کے حکومت میں ہوں اور عوام کو کچھ ڈیلیور نہ کرسکیں

    دوسری جانب ایم کیو ایم کو وفاقی حکومت میں تین وزارتیں ملنے کا امکان ہے، پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں وزارتیں نہیں لے رہی تاہم صدر پاکستان،چیئرمین سینیٹ، گورنر پنجاب کا عہدہ لے رہی ہے،ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں 17 سیٹیں ہیں، ایم کیو ایم کو وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، پورٹس اینڈ شپنگ اور وزارت اوور سیز پاکستانیز دی جاسکتی ہے۔

    علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مسلم لیگ ن سے کیے گئے مطالبات بھی سامنے آگئے ہیں تین مطالبات قانون سازی سے متعلق اور دیگر سیاسی نوعیت کے ہیں، پہلا مطالبہ ہے کہ این ایف سی سے رقم صوبوں کے بجائے مقامی حکومتوں کو براہ راست منتقل کی جائے، دوسرا مطالبہ ہے کہ مقامی حکومتوں کا تسلسل ہو اور جس صوبے میں ایسا نہ ہو وہاں عام انتخاب روکا جائے، ایم کیو ایم کا تیسرا مطالبہ ہے کہ کوٹہ سسٹم پر ملک بھر میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ایم کیو ایم کا مطالبہ ہے کہ تینوں معاملات پر قانونی تحفظ کو یقینی بنایا جائے،

    اسلام آباد میں خواتین کی حنیف عباسی،خواجہ سعد رفیق کے ساتھ بدتمیزی

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

  • ہماری جیت ہوئی،بانی ایم کیو ایم کو معاف کرتا ہوں،مصطفیٰ کمال

    ہماری جیت ہوئی،بانی ایم کیو ایم کو معاف کرتا ہوں،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے جناح گراؤنڈ کراچی میں یوم تشکر کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹھ سال پہلے میری قوم کے نام پر جو کچھ کیا جاتا تھا اس پر قوم کو جواب دینا پڑتا تھا۔ آج یہ وہی جناح گراؤنڈ ہے جہاں سے پاکستان اور پاکستانیوں کی بات ہو رہی ہے، آج رب نے مجھے میری پارٹی کو فتح دے دی ہے، آج میں دل سے بانی ایم کیو ایم کو معاف کرتا ہوں، یہاں سے جانے کے بعد انسان انسان کا دوست بنے گا، کسی کو مارنے کی بات نہیں ہوگی،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان طعنے دیتا تھا کہ یہ شہر اور مینڈیٹ ایم کیو ایم پاکستان کا نہیں، ایک ہیلو کی آواز آئے گی اور سب چھن جائے گا، کراچی والوں نے بتادیا کراچی کل بھی ایم کیو ایم پاکستان کا تھا اور آج بھی ایم کیو ایم پاکستان کا ہے، ایک دن آئے گا کہ پورا سندھ ایم کیو ایم کے جھنڈے تلے آئے گا۔ شہر میں سات سو سے زائد نوجوانوں کو بازیاب کروایا، انکا مقدمہ لڑا، میں نے اس قوم کی خاطر اپنی پارٹی ختم کی،میرپور خاص میں مجھ پر پتھراؤ کیا گیا، ساتھیوں پر گولیاں چلائی گئیں۔ آج رب نے مجھے میری پارٹی کو فتح دے دی ہے۔ آج میں دل سے بانی ایم کیو ایم کو معاف کرتا ہوں، بانی ایم کیو ایم کو دعوت دیتا ہوں توبہ کریں اور اللّٰہ سے رجوع کریں، توبہ کرنے کا دروازہ کھلا ہے، ہم نے آپ کے ساتھ ٹائم گزار، میں آپ کو دعوت دیتا ہوں، توبہ کریں، اللّٰہ سے معافی مانگیں،بانی ایم کیو ایم بھرم بازی چھوڑیں، ڈاکٹر عمران فاروق کی فیملی سے معافی مانگیں،بانی ایم کیو ایم قدرت کے فیصلے کو قبول کریں، میں چاہتا ہوں کہ آپکا خاتمہ ایمان پر ہو، ہم چاہتے ہیں آپ سے جنت میں ملاقات ہو، وہاں آپ ہمارے لیڈر بن جانا،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی، نہ جماعت ہے نہ اسلامی ہے، حافظ نعیم صاحب تمہارے نصیب میں جمعہ کی نماز کے بعد مسجد کے باہر احتجاج ہی لکھا ہے,

    خواجہ آصف کی جانب سےالیکشن رزلٹ تبدیل کیا جا رہا ہے،ریحانہ ڈار

    کون بنے گا وزیراعظم؟ کس کی بنے گی حکومت، جوڑ توڑ ، رابطے جاری،

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    سندھ میں پی پی کا تیر چل گیا،نتائج مکمل،پیپلز پارٹی84 سیٹیں لے اڑی

    آزاد امیدواروں نے بڑےناموں کو شکست دیکر ایوان پہنچنے سے روک دیا

    قومی وصوبائی855 میں سے 831 نتائج،آزاد 335 سیٹیں،ن لیگ 216 لے اڑی

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    تخت لاہور،لطیف کھوسہ، میاں اظہر ،وسیم قادر کی جیت،شہباز،حمزہ،مریم،ایازصادق کی بھی جیت

    پنجاب،عمران نذیر،سلمان رفیق،میاں اسلم اقبال،بلال یاسین جیت گئے، رانا مشہود کو شکست

    انتخابی نتائج،آزاد امیدوار وں کا پلڑا تاحال بھاری، ن لیگ دوسرے نمبرپر

    تحریک انصاف کیلیے اچھی خبر، مخصوص نشستوں کا حصول آسان ہو گیا

    آزاد امیدوار ابھی تک آگے،مگر نواز شریف کو حکومت بنانے کی جلدی

    مانسہرہ سے نواز شریف جیت چکے ہیں،اسحاق ڈار کا دعویٰ

  • ایک دن آئےگا کہ پورا سندھ ایم کیو ایم کے جھنڈے تلے آئےگا،مصطفیٰ کمال

    ایک دن آئےگا کہ پورا سندھ ایم کیو ایم کے جھنڈے تلے آئےگا،مصطفیٰ کمال

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) پاکستان کے سینیئر ڈپٹی کنوینئر مصطفیٰ کمال نے کہا ہےکہ کراچی والوں نے بتا دیا کہ کراچی کل بھی ایم کیو ایم پاکستان کا تھا اور آج بھی ایم کیو ایم پاکستان کا ہے۔

    باغی ٹی وی: کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے تحت یوم تشکر کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ 8 سال پہلے میری قوم کے نام پر جو کچھ کیا جاتا تھا اس پر قوم کو جواب دینا پڑتا تھا، آج یہ وہی جناح گراؤنڈ ہے جہاں سے پاکستان اور پاکستانیوں کی بات ہو رہی ہے، یہاں سے جانے کے بعد انسان انسان کا دوست بنےگا، کسی کو مارنے کی بات نہیں ہوگی۔

    مصطفٰی کمال نے کہا کہ پورا پاکستان طعنے دیتا تھا کہ یہ شہر اور مینڈیٹ ایم کیو ایم پاکستان کا نہیں، ایک ہیلو کی آواز آئے گی اور سب چھن جائےگا، کراچی والوں نے بتا دیا کہ کراچی کل بھی ایم کیو ایم پاکستان کا تھا اور آج بھی ایم کیو ایم پاکستان کا ہے آج میں دل سے بانی ایم کیو ایم کو معاف کرتا ہوں، آج رب نے مجھے اور میری پارٹی کو فتح دے دی ہے ایک دن آئےگا کہ پورا سندھ ایم کیو ایم کے جھنڈے تلے آئےگا-

    الیکشن کمیشن پانچوں اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی ابتدائی پارٹی پوزیشن جاری کر دی

    شعیب شاہین کی درخواست پر الیکشن کمیشن کی آراو سے 3 دن میں رپورٹ …

    کراچی کے نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے، حافظ نعیم کا …

  • 8  فروری 2024 کا الیکشن کھیل تماشہ نہیں ہے،نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے،مصطفیٰ کمال

    8 فروری 2024 کا الیکشن کھیل تماشہ نہیں ہے،نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے،مصطفیٰ کمال

    کراچی: سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم پاکستان مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو لاہور میں کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتے ہمیں ووٹ دو شہر کو کراچی جیسا بنا دیں گے-

    باغی ٹی وی: کراچی میں عوامی رابطہ مہم سے خطاب میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ 8 فروری 2024 کا الیکشن کھیل تماشہ نہیں ہے، یہ الیکشن نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے ،یہ دنیا جنت نہیں امتحان کی جگہ ہے اس شہر مامیں صرف پانی چوری کرنے والے کا امتحان نہیں ،جس کا پانی چوری ہو رہا ہے اس کا بھی امتحان ہے ،ظلم کو روکنے کے لیے جدوجہد کی یا نہیں کی ،مظلوموں سے سوال ہوگا ۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایسا لگتا ہے اسرائیل فلسطینیوں پر نہیں کراچی کی گلیوں پر بمباری کر رہا ہے ،پینے کا پانی آتا نہیں،سیوریج کا پانی گھروں سے جاتا نہیں،انسان کی زندگی ایک ڈینگی وائرس کے مچھر کی مار ہے ،یہ مچھر بھی غریب کو ہی کاٹ رہا ہے ،مظلوم اپنے حصے کی کوشش کرنے کو تیار نہیں ہے ،بلاول بھٹو پورے پاکستان میں جلسے کر کے خود کو وزیر اعظم کے لیے پیش کر رہے ہیں،بلاول بھٹو ایک یونین کونسل کا نہیں بتا سکتے جو ماڈل طرز کی بنائی ہو ،بلاول بھٹو لاہور میں کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتے ہمیں ووٹ دو شہر کو کراچی جیسا بنا دیں گے۔

    اگر میاں صاحب نے پرانی سیاست کرنی ہے تو میں ان کا ساتھ نہیں دے …

    بانی پی ٹی آئی مزید اقتدار میں رہتے تو پاکستان کا بھی سودا کردیتے،پرویز …

    پولیس کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، 217 کلو چرس اور 40 کلو افیون برآمد

  • ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    ناظم آباد واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی،گورنر سندھ
    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ایم کیو ایم کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور انیس قائم خانی سے رابطہ ہوا ہے

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عدم تشدد پر کاربند سیاسی جماعت ہے،ہمارے دفتر پر حملہ کیا، کارکن کو شہید کیا گیا،انیس قائمخانی کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ تفریق روا رکھی جارہی ہے ،گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،ناظم آباد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی،

    قبل ازیں ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانوے کے آپریشن میں بھی یہاں سے ایم کیو ایم کو ختم نہیں کیا جاسکا،ہمارے یونٹ انچارج فراز کو دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا،

    مصطفیٰٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ تیسرا واقعہ ہے ہمارے دفاتر حملوں اور کارکنوں کو شہید کرنے کا،مچھر کالونی میں ہمارے تین کارکنوں کو دہشت گردوں نے شہید کردیا، دہشت گرد پکڑے گئے،پہلے ملٹی چوک پر ہمارے جھنڈے اتار کر اپنے جھنڈے لگائے،کارکنوں نے روکا تو ہتھیاروں کے ساتھ مسلح جتھوں نے فائرنگ کی،ابھی تک ہماری طرف سے ایک پتھر بھی نہیں مارا گیا،ہر کارکن کی شہادت پر مرنے والے کا ہی قصور بتایا جاتا ہے ،ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں ،شہر کے ذمے دار ہر واقعے پر ایم کیو ایم کو ذمے دار ٹھہرایا جارہا ہے ،گاڑیاں جلانے کا الزام لگایا جارہا ہے،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ پر قبضہ کرچکی ہے،یہ لوگ اندر سے پاکستان کو ختم کررہے ہیں،ایم کیو ایم سندھ میں’’لاسٹ لائن آف ڈیفنس‘‘ہے،ان لوگوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا،22ہزارارب روپے مودی کو دو تو وہ بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگائے گا،11دسمبر کو این اے243میں ہمارے 3ساتھیوں کو قتل کیا گیا،سہراب گوٹھ میں ہمارے نہتے ساتھیوں کو شہید کیا گیا،ہم نے کراچی میں’’را‘‘سے لڑائی کی اور اسے ختم کیا

    ناظم آباد واقعہ، پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،سعید غنی

    این اے 127، بلاول کی حمایت کرنیوالوں کی گرفتاریاں، الیکشن کمیشن کو خط

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

    واضح رہے کہ انتخابات 2024 خونی بنتے جا رہے، شہر قائد کراچی میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑے کے دوران گولیاں چل گئیں، ایک شخص کی موت ہو گئی جبکہ ایک زخمی ہو گیا،واقعہ ناظم آباد میں پیش آیا،ناظم آباد نمبردو میں الیکشن مہم کے دوران دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑا ہوا، پہلے ایک دوسرے پر کرسیاں چلائی گئیں پھر گولیاں چل گئیں، فائرنگ سے سیاسی جماعت کا کارکن 48 سالہ فراز ہلاک جبکہ ایک کارکن زخمی ہو گیا

    کراچی میں دو سیاسی پارٹیوں کے درمیان جھنڈا لگانے پر تصادم و فائرنگ اور ضلع صوابی میں پوسٹل بیلٹ چھینے جانے کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحبان سے رپورٹس طلب کی ہیں تاکہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف الیکشن قوانین کے تحت بھی کاروائی کی جا سکے.

  • ون پوائنٹ ایجنڈہ،ہم آئین میں تین آئینی ترامیم چاہتے ہیں ،مصطفیٰ کمال

    ون پوائنٹ ایجنڈہ،ہم آئین میں تین آئینی ترامیم چاہتے ہیں ،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ آج ہمارے ہمارے دوست ڈاکٹر عرفان گل مگسی ایم کیو ایم میں شامل ہو رہے ہیں ،انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے پانچ ماہ سے انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے ،ہماری انتخابی مہم گزشتہ کئی ماہ سے چل رہی تھی ،ایم کیو ایم نے جو منشور پیش کیا وہ سب نے دیکھا ،ہم پاکستان کے آئین میں بنیادی تبدیلی چاہتے ہیں ،ہم آئین میں تین آئینی ترامیم چاہتے ہیں ،ہمارا یہ ون پوائنٹ ایجنڈا ہے ،آئینی ترامیم ہوگی تو اختیارات نچلی سطح پر آئیں گے,جب تک ملک میں مقامی حکومتیں نہیں آتیں عام انتخابات نہ ہوں ،جس جس کو ایم کیو ایم کے ووٹوں کی ضرورت پڑے گی ایم کیو ایم صرف اس سے آئینی ترامیم مانگے گی،دنیا میں جو ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں وہ سب اربن ممالک ہیں،جب تک ممالک اربن نہیں ہونگے آپ ترقی نہیں کرسکتے،جو بھی بین الاقوامی کھلاڑی ہیں شاعر ادیب ان کا تعلق کہیں سے بھی ہو جب وہ شہر میں آتے ہیں تو لائم لائٹ میں آتے ہیں،پاکستان میں ایک شہر ہے جو پلاننگ سے بنا وہ اسلام آباد ہے،پوری دنیا میں پلاننگ کے تحت شہر آباد کئے جاتے ہیں،اگر پلاننگ سے شہر نہیں بنائیں گے تو لوگ پارکوں سڑکوں پر سوئیں گے،

    15 نہیں پانچ سال دے دیں، ضمانتیں ضبط کروا دینگے، مصطفیٰ کمال
    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 31 ارب ڈالر بیرون ملک مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں،انڈیا نے اپنی یونیورسٹی میں لوگوں کو ٹرینڈ کرکے باہر بھیجا آج وہ لوگ مختلف کمپنیوں کے سی او ہیں،ایم کیو ایم ملک میں اسکول اور یونیورسٹی میں وہ تعلیم دینا چاہتے ہیں جس کی دنیا میں ضرورت ہے،پیپلزپارٹی نے 15 سال حکومت میں رہنے کے باوجود کچھ نہیں کیا۔ بلاول بھٹو لاہور میں کھڑے ہوکر یہ نہیں کہہ سکتے ہمیں ووٹ دو ہم لاہور کو کراچی جیسا بنادیں گے،ایم کیو ایم 21 جنوری کو باغ جناح میں تاریخی جلسہ کرنے جارہی ہے، سپریم کورٹ نے اوپن عدالت لگائی تاکہ پی ٹی آئی آکر اپنی بات ثابت کرے،انہوں نے ایک کمرے میں بند رزلٹ بنا لیا وہ کورٹ میں کچھ ثابت نہیں کرسکے اب کوئی پارٹی میں کمرہ بند کر کے چیئرمین نہیں لا سکے گی، پہلی چھری پی ٹی آئی پر چلی ہے،ہم 15 سال نہیں مانگ رہے صرف 5 سال کیلئے سندھ ہمارے حوالے کردیں۔ لیاری اور لاڑکانہ تک میں اتنے کام کروائیں گے کہ ان کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی

    اگرکسی پرمقدمات ہیں توانہیں ایک دفعہ معاف کردیں،مصطفیٰ کمال

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب