Baaghi TV

Tag: مصطفیٰ کمال

  • مصطفیٰ کمال اور دیگر کیخلاف ریفرنس،کون سے شرائط کی خلاف ورزی ہوئی؟ عدالت

    مصطفیٰ کمال اور دیگر کیخلاف ریفرنس،کون سے شرائط کی خلاف ورزی ہوئی؟ عدالت

    احتساب عدالت کراچی میں سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال اور دیگر کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہوئی

    سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کی جانب سے ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر وکلا نے دلائل دیئے اور کہا کہ ڈی جی بلڈرز نے 2004 میں پلاٹس خرید یں ،اس وقت مصطفی ٰکمال سٹی ناظم نہیں تھے، یہ پلاٹس تو 1998 میں کمرشل تھے اور آج بھی کمرشل ہیں، آج تک ان پر تعمیر نہیں ہوئی، دستاویزات میں خرید و فروخت پر پابندی کا ذکر نہیں ہے ، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ پراپرٹی تو سرکار کو 2017 میں واپس ہو گئی، تو کیا نقصان ہوا؟ کیایہ ریفرنس بنتاہے ؟ایسے کیس کیوں لے کر آتے ہیں ، وہ کیسز دیکھیں جس میں حکومت کو اربوں روپے واپس ہو سکتے ہیں ،عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ تفتیشی افسر کو بلائیں پوچھیں کہ اس میں کیا غلط ہوا ہے ، تفتیشی افسر سے پوچھیں اس میں کون سے شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ،عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب تفتیشی افسر کو طلب کر لیا ،عدالت نے کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی،

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

  • جو نماز کی پابندی نہیں کرے گا وہ پاک سرزمین پارٹی کا حصّہ نہیں رہے گا، مصطفیٰ کمال

    جو نماز کی پابندی نہیں کرے گا وہ پاک سرزمین پارٹی کا حصّہ نہیں رہے گا، مصطفیٰ کمال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ آج سے پاک سرزمین پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر کوئی ذمہ دار یا کارکن نماز کی پابندی نہیں کرے گا تو وہ پاک سرزمین پارٹی کا حصّہ نہیں رہے گا

    پاک سرزمین پارٹی کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میں یہ بات کیوں کہہ رہا ہوں، مجھے کامیاب ہونا ہے، رسوا نہیں ہونا، مجھے موت یاد ہے، ہم نے رب کے سامنے کھڑے ہونا ہے، سوال ہو گا، کہ گھنٹہ گھنٹہ تقریر کرتا تھا، سب کچھ میں نے دیا تھا، بیماروں کو شفا میں دیتا تھا ، رزق ، چھت میں دیتا تھا لیکن تو نے ایک دفعہ بھی کسی کو نماز کے لئے نہیں کہا،میں رب کے سامنے کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے یہ کام کیا، میں نے رب کے احکامات کے لئے سیاست کی، اسکی رضا کے لئے سیاست کی، میرے پاس کوئی شمولیت کے لئے لاتے ہوتو اس سے پوچھو کہ وہ نماز پڑھتا ہے یا نہیں، آج سے میری پارٹی کا فیصلہ ہے پاک سرزمین پارٹی کا کوئی کارکن رہنا چاہتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو اگروہ پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھ سکتا تووہ پارٹی کا کارکن نہیں رہ سکتا، سارا مجمع اٹھ کر کہے کہ مشکل ہے تو اٹھ کر چلا جائے مجھے رتی برابر بھی پرواہ نہیٰں،

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

  • این اے 240 میں بیلٹ پیپرز چھیننے کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے کیا فیصلہ محفوظ

    این اے 240 میں بیلٹ پیپرز چھیننے کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے کیا فیصلہ محفوظ

    این اے 240 میں بیلٹ پیپرز چھیننے کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے کیا فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن میں کراچی این اے 240 میں بیلٹ پیپرز چھیننے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے تین رکنی بنچ نے نثار درانی کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی

    پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کا وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوا ،وکیل نے کہا کہ این اے دو سو چالیس میں بیلٹ پیپرز چھیننے کے معاملے پر سندھ پولیس نے تحقیقات کی سندھ پولیس نے بیلٹ چھیننے پر کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے سندھ پولیس نے تحقیقات مکمل کر لی ہے سندھ پولیس نے تحقیقاتی رپورٹ میں مصطفی کمال کو بے گناہ قرار دیا ہے

    ریٹرنگ افسر الیکشن کمیشن میں ہیش ہوا ،ریٹرنگ افسر نے بیلٹ پیپرز چھیننے کے وقعہ پر رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی ،الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ این اے 240 الیکشن کے بعد الیکشن کمیشن نے سربراہ پی ایس پی مصطفی کمال کو طلب کیا تھا، جاری نوٹس میں کہا گیا تھا کہ مصطفی کمال کارکنوں کے ہمراہ پولنگ اسٹیشن نمبر 51 اور 165 پہنچے، ان کے ساتھ کارکنوں کی تعداد 50 سے 60 تھی۔الیکشن کمیشن کے نوٹس کے مطابق مصطفی کمال نے پریزائیڈنگ افسران کے ساتھ بدتمیزی کی اور غیر استعمال شدہ بیلٹ پیپرز بھی پھاڑ ڈالے۔

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

  • پی ایس پی حسینیت کی پیروکار،ظالم قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہے،مصطفیٰ کمال

    پی ایس پی حسینیت کی پیروکار،ظالم قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہے،مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کربلا میں سردار جنت اور نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؑ اور انکے خاندان نے حق کی سربلندی کی خاطر جو لازوال قربانی پیش کی وہ رہتی دنیا کے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے،

    سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ واقعہ کربلا غیر متزلزل ایمان، بہادری، استقامت، جرات، صبر اور ایثار کی لازوال مثال ہے، حضرت امام حسینؑ اور خانوادہ رسول محمدؐ نے ثابت کیا کہ باطل کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود ناکام رہتا ہے جبکہ حق قلیل ہونے کے باوجود کامیاب ہوتا ہے، اہل بیتؑ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ امت مسلمہ دین حق کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر لاگو کرے واقعہ کربلا حق پر ثابت قدم اور باطل سے ٹکرا جانے میں کسی بھی حد سے گزر جانے کا سبق دیتا ہے، حضرت امام حسینؑ اور اہل بیتؑ نے اسلام کی بقاء و سلامتی کے لئے جو عظیم قربانی پیش کی ہے اس کی تاریخ انسانی میں مثال ملنا ناممکن ہے،

    چیئرمین پی ایس پی سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس پی حسینیت کی پیروکار ہے اور ظالم قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہے، قوم ایک ملت واحد کی طرح متحد ہوکر اپنے فروعی اختلافات کو بھلا کر عالم اسلام کی ترقی کیلئے کام کرے اور اپنی صفوں میں مکمل اتحاد، اتفاق اور یگانگت قائم رکھے

    قبل ازیں پاک سرزمین پارٹی نیشنل کونسل ممبر و حیدرآباد ڈویژن صدر ندیم قاضی نے ڈویژن ممبر نقی حیدر ، رئیس راجہ خان ، محب خان و دیگر ذمہ داران کے ہمراہ 10 محرم الحرام مولا علی قدم گاہ کے مرکزی جلوس میں شرکت کی

    سیکرٹری جنرل پاک سرزمین پارٹی ایڈوکیٹ حسان صابر، جوائنٹ سیکرٹری یاسر صدیقی، نیشنل کونسل و صدر سینئر سٹیزن اس ایم خالد، انچارج ڈسٹرکٹ ایسٹ و نیشنل کونسل ممبر نادر خلجی، ایم اے جناح روڈ پر 9 محرم الحرام کے مرکزی جلوس کیلئے قائم مرکزی کیمپ پر موجود تھے

    جے یو آئی اور پاک سرزمین پارٹی کا ایک ہو کر چلنے کا فیصلہ

    مصطفیٰ کمال اہم ہوگئے، اہم شخصیات کے رابطے

    مصطفیٰ کمال کا اہم شخصیت سے رابطہ،ملاقات بھی متوقع

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

  • لوگوں کے پاس پی ایس پی کے سوا اب کوئی آپشن نہیں،مصطفیٰ کمال

    لوگوں کے پاس پی ایس پی کے سوا اب کوئی آپشن نہیں،مصطفیٰ کمال

    سربراہ پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی ) مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کا تصور کیوں نہیں-

    باغی ٹی وی : سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال نے کراچی میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی لوکل گورنمنٹ کا معاملہ آجاتا ہے تو مسئلہ اخیتارات کا پیدا ہوتا ہے ،کراچی میں نالوں کی صفائی بارشوں سے 4 ماہ پہلےہوتی ہے-

    پی ٹی آئی اسٹوڈنٹ ونگ کے سابق رہنما کا اعترافی بیان میں شرمندگی کا اظہار

    سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ملک آٹو پر چل رہا ہے، ایسے میں کراچی کی کس کو فکر ہے، ایم کیو ایم پہلے بھی حکومت میں تھی،آج بھی حکومت میں ہے،اللہ تعالیٰ نے آخری بار ہم سے اس شہر کا کام لیا تھا، ہم دوبارہ اس شہر کو اچھا بنا سکتے ہیں۔لوگوں کےپاس پی ایس پی کےسوا اب کوئی آپشن نہیں-

    مون سون کے چوتھے اسپیل کا آغاز ،سی اے اے نے کراچی ائیرپورٹ پر بارشوں سے متعلق…

    مصطفیٰ کمال نے کہا کراچی میں بارش کی تباہ کاریوں پر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، 80 فیصد کراچی کا مسئلہ پینے کے صاف پانی کا ہے کراچی والےآج بھی پینےکا صاف پانی مانگ رہےہیں-

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاتھ کا بنا ہوا شہر ہی چل رہا ہے، کراچی والے اپنا چوکیدار بدلیں کیونکہ جس گھر کا چوکیدار چوروں سے مل جائے اس گھر کو کوئی نہیں بچا سکتا۔

    بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کو وطن کے سفیر سمجھتے ہیں،پرویز الہی

  • عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں،مصطفیٰ کمال

    عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں،مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس ملک کو دوبارہ توڑنے کی سازش کر رہی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے خمیر میں پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے، ان کے بڑوں نے بھی یہی کیا تھا اور اب ان کی نئی نسل بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا ہے کہ انسانوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے اور تمام ظلم اور بربریت کے سامنے ریاست کا کوئی بھی ادارہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے ریاستی ادارے اور سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور نہ کوئی اور ادارہ پیپلز پارٹی کی دہشت گردی کو روکنے کیلئے تیار ہے۔ شہباز شریف کی حکومت دو سیٹوں کی مرہون منت ہے۔ اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جس کا خمیازہ کراچی حیدر آباد اور شہری سندھ کی عوام بھگت رہی ہے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 14 سالہ حکمرانی میں پاکستان کے معاشی حب کراچی کو پینے کا ایک اضافی قطرہ پانی نہیں دیا گیا بلکہ جو پانی آتا تھا وہ بھی ہائیڈرنٹس بنا کر چوری کر کے عوام کو ہی اربوں روپے ک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان ہاؤس میں بلدیاتی امیدوران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اپنی نسلوں کو خاموشی سے دفنانے کے بجائے پاک سرزمین پارٹی نے پیپلز پارٹی کی جمہوری دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دنیا نے دیکھا کہ ڈاکو، پولیس اور صوبائی الیکشن کمیشن کے اہلکار مل کر پیپلز پارٹی کے لیے ٹھپے لگاتے رہے۔ ریاست کو اگر ہماری فکر نہیں ہے تو خود اپنے حقوق کی جدوجہد کریں گے۔ اگر عوام پیپلز پارٹی کے ظلم کے سامنے کھڑے ہوگئے تو پھر جو کچھ ہوگا ریاست اور ریاستی ادارے اسکے زمہ دار ہونگے۔ کراچی اور حیدرآباد کی عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔

  • بلوچستان حکومت حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کرے،مصطفیٰ کمال

    بلوچستان حکومت حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کرے،مصطفیٰ کمال

    پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال اور مرکزی وائس چیئرمین عطاء الله کرد نے راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی بس کے حادثے کے نتیجے میں طالب علموں سمیت متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان ہاؤس سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں شاہراہیں خستہ حال اور یک رویہ ہونے کے باعث ٹریفک حادثات اور انکے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول بن چکا ہے لیکن بے حس حکمرانوں کے جان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ جب تک شاہراہوں کی معیاری تعمیر اور ڈبل کیرج یقینی نہیں بنایا جاتا بلوچستان کے لوگ لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

    بارش کے بعد پھسلن کے باعث حادثات پیش آنا معمول بن چکا ہے حکومت اس پہاڑی علاقے میں سڑک کو سفر کے قابل بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدمات کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات سے بچا جاسکے۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی بلوچستان سے محبت اخباری بیانات تک محدود ہے۔ اس المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ ہے اور غم کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    مصطفی کمال نے بلوچستان کی صوبائی حکومت سے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی معاونت اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر نے مطالبہ کیا ۔ سید مصطفی کمال اور عطاء الله کرد نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے افراد کی مغفرت اور زخمی افراد کے لیے جلد و مکمل صحتیابی کے لئے دعا کی۔

  • ملک بنانا ریپبلک بن چکا،مجال ہےعدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس  لیا ہو،مصطفیٰ کمال

    ملک بنانا ریپبلک بن چکا،مجال ہےعدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس لیا ہو،مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عام آدمی کی حالت زار پر حکومت، اپوزیشن، کسی سیاسی جماعت، عدلیہ اور ادارے کا دھیان نہیں۔ سب کو صرف اپنی ذات کی پڑی ہوئی ہے۔ غریب پورا دن مزدوری کرکہ شام کو گھر واپس لوٹے تو 16 گھنٹے بجلی نہیں، صبح پانی نہیں، بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پیسے نہیں ، بیمار ہوجائے تو ہسپتال تک جانے کے پیسے اسکے پاس نہیں لیکن اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، سب حکومت سنبھالنے اور گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔

    کراچی ڈسٹرکٹ ایسٹ سے پی ایس پی کے بلدیاتی امیدواران سے خطاب کرتے ہوئےمصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک چلانے والوں کی بے حسی اور خود غرضی نے غریب طبقے کو خودکشیوں پر مجبور کردیا ہے۔ سنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ پاکستان میں اس وقت ریاست نام کی چیز نہیں ہے۔ جنگل کا قانون رائج ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، اس کا بدترین عملی نمونہ حالیہ بلدیاتی انتخابات اور این اے 240 کا ضمنی انتخاب ہیں جہاں ایک جانب حکومت، انتظامیہ، الیکشن کمیشن، پولیس اور ڈاکو مل کر پیپلز پارٹی کو جتانے کے لیے سرگرم تھے، ڈاکو بیلٹ باکس لے کر فرار ہو گئے، پولیس پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان پر ٹھپے لگاتی رہے وہیں این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں بدترین دھاندلی کی گئی.

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک بنانا ریپبلک بن چکا لیکن مجال ہے کہ عدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس تک لیا ہو۔ پہلے عمران خان کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی اب شہباز شریف کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کو سندھ میں کلین چٹ تھما دی گئی ہے۔ عام آدمی نااہل اور کرپٹ حکومتوں سے تو پہلے ہی مایوس تھا لیکن اب ریاست سے مایوس ہو رہا ہے، یہ تو الله کا شکر ہے کہ پاکستانی قوم محب وطن ہے بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوتے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اپنا مئیر لانے کی خواہشمند تمام سیاسی جماعتیں پچھلے کئی سالوں سے بلدیاتی نظام حکومت میں موجود ہیں، انکے چئیر میینز، وائس چئیر مینز، کونسلرز موجود ہیں لیکن کراچی اور حیدرآباد کے حالات بدترین ہوگئے۔ یہ تمام سیاسی جماعتیں فیل ہوچکی ہیں کیونکہ نعرے مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اہلیان کراچی و حیدرآباد کو سمجھنا ہوگا کہ اگر مسائل حل کرنے کا کسی کے پاس تجربہ، اہلیت اور کردار ہے تو وہ صرف ہمارے پاس ہے، ہم ہی کراچی کو ٹھیک کرسکتے ہیں.

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک چلانے والے پاکستان کی معاشی شہ رگ پہ رحم کریں اور مزید تجربات سے گریز کریں۔ پاک سرزمین پارٹی کے نمائندوں کو کامیاب بنائیں، قوم لسانیت اور فرقہ پرستی سے باہر نکلے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ایڈمنسٹریٹر کے باوجود کراچی کو رہنے کے لائق دنیا کے 7 بدترین شہروں سے 5 بدترین شہروں میں شامل کرا دیا ہے۔ انتخابات قریب آتے ہی ہر جماعت کو کراچی یاد آ جاتا ہے۔ کراچی والوں کو اب ان نعروں سے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

  • پیٹرولیم  مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ غریب مٹانے کی سازش ہے:مصطفیٰ کمال

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ غریب مٹانے کی سازش ہے:مصطفیٰ کمال

    کراچی: پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے دو ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 98 روپے کا ہوشربا اضافہ غریب مٹانے کی سازش ہے۔ پاک سر زمین پارٹی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتی ہے اور حکومت سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہوا ہے کیونکہ تنخواہوں میں اضافہ ہوا نہیں لیکن اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں کئی سو فیصد اضافہ ہوچکا ہے نتیجتاً والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے قاصر ہورہے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ تو اب بیمار ہونے سے بھی خوفزدہ ہوگیا ہے۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھاکہ حکمران صرف صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بدعنوانیاں روک لیں تو حالات میں بہتری آسکتی ہے۔ سابقہ اور موجودہ نااہل حکمرانوں کی ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث تبدیلی تباہی میں بدل گئی، عوام سے روٹی، کپڑا اور مکان تو پہلے ہی چھن گیا تھا اب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے ووٹ دینے والوں کی زندگیاں داؤ پر لگا کر انہیں خودکشی پر مجبور کر دیا ہے۔ غریب و متوسط طبقہ ہی نہیں کاروباری اور صنعتکار طبقہ بھی شدید ذہنی و معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے کاروباری اخراجات پورے کرنا مشکل امر بن گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے اشیاء خورد و نوش سمیت خام مال کی قیمتیں بھی مستحکم نہیں۔ جس سے کاروباری لاگت میں ہوش ربا اضافہ ہوگیا ہے، کئی صنعتکار دیگر ممالک کا رخ کر چکے ہیں اور انکو دیکھ کر مزید پاکستان سے باہر جانے کا ذہن بنا چکے ہیں، باہر سے انویسٹمنٹ لانے کی کوششیں اور دعوے کرنے والے موجودہ انویسٹرز کا کاروبار اور صنعتیں اجاڑ رہے ہیں۔ نوکری پیشہ طبقے کیلئے دو وقت پیٹ بھر کر کھانے کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔ جب سے حکومت آئی ہے تب سے آئے روز کبھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر آتی ہے اور کبھی بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے کی۔ اگر سارا بوجھ عوام پر ہی منتقل کرنا تھا تو مہنگائی کا ڈھول پیٹ کر اقتدار میں آنے کی کیا ضرورت تھی؟

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں ڈسٹرکٹ کورنگی کے بلدیاتی امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ مشکل فیصلوں کے نام پر عوام کی گردن پر چھری پھیرنا بند کرئے۔ بھوک و افلاس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی، انارکی پھیلے گی، حالات بے قابو ہوئے تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔

  • جامعہ بنوریہ کے مہتمم کی مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاؤس آمد، مصطفیٰ کمال سے ملاقات

    جامعہ بنوریہ کے مہتمم کی مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاؤس آمد، مصطفیٰ کمال سے ملاقات

    جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعمان نعیم کی مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاؤس آمد، چئیرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی : ملاقات میں پی ایس پی کے شہید کارکن اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی گئی واضح رہے کہ کراچی میں این اے 240 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران سیاسی جماعتوں میں تصادم سے حالات کشیدہ ہوگئے، فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور 6 زخمی ہوئے تھے

    چیئرمین پی ایس پی سید مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا تھا کہ ہمارے کارکنان پر حملہ اور فائرنگ کی،ہمارا کارکن شہید ہوا،ہم نے تو کسی کو پلٹ کر پتھر بھی نہیں مارا ،یہ ہار رہے تھے تو فائرنگ کردی۔ انہوں نے ہمارے مرکزی دفتر پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے وقت پولیس موجود نہیں تھی۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ انیس قائم خانی کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے وقت وہ موجود نہیں تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے کارکن زخمی ہوئے ہیں، پی ایس پی کا ایک کارکن شہید ہوا ہے۔ پی ایس پی رہنما و سابق ایم پی اے افتخار عالم بھی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے ہیں۔ ہم نے تو کسی کو پلٹ کر پتھر بھی نہیں مارا ہے۔

    سید مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ان عناصر نےجتھوں کے ساتھ آکر پی ایس پی پر حملہ کیا۔ پی ایس پی رہنما انیس قائم خانی کی گاڑی کے ساتھ چلنے والی پولیس موبائل پر بھی گولیاں ماری گئیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ان واقعات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ جو لوگ بھی حملے میں ملوث ہیں ان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے ریاست میرے ساتھی کے قاتلوں کو گرفتار کرے یا پھر ہمیں بھی اسلحہ دے۔

    خیال رہےکہ تصادم کے واقعات ایسے وقت پیش آئے جب کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ جاری تھی حلقے کے کل 309 پولنگ اسٹیشنز میں سے 203 انتہائی حساس قرار دیے گئے تھے جہاں پولنگ اسٹیشنز سمیت بوتھس پر بھی کیمرے نصب کیے گئے تھے حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔



    صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے این اے240 کے ضمنی انتخاب کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعےکا نوٹس لے لیا تھا صوبائی الیکشن کمشنر نے چیف سیکرٹری سندھ اورآئی جی سندھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ علاقے میں امن وامان کی صورت حال کو کنٹرول کریں، الیکشن کے عمل کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی این اے 240 میں فائرنگ اور تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو ہدایت کی تھی کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دیں، جو قانون ہاتھ میں لے اس سے سختی سے نمٹا جائے وزیراعلیٰ سندھ نے الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن رہنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

    اس حوالے سے ، کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ 200سے زائد افراد نے آکر صورت حال خراب کرنے کی کوشش کی، پولیس کی بھاری نفری نے پورے علاقےکو کلیئرکرایا ، ہنگامے میں ملوث افراد کی شناخت جلد کرلیں گے۔