Baaghi TV

Tag: مودی

  • چین کا مُودی کی سفاکی پر کرارا جواب

    چین کا مُودی کی سفاکی پر کرارا جواب

    چین کا مودی کی سفاکی پر کرارا جواب

    چین نے متنازعہ اروناچل پردیش کی گیارہ جگہوں کے نام تبدیل کر دیئے، اقدام امریکی سینیٹ کے متنازعہ علاقے پر بھارتی حق تسلیم کرنے کے جواب میں کیا گیا ،تبدیل کئے گئے ناموں میں دو زمینی مقامات، دو شہر، پانچ چوٹیاں اور دو دریاؤں کے نام شامل ہیں، 2017 اور2021 میں بھی جارحانہ بھارتی اقدامات کے جواب میں چین اروناچل پردیش کے علاقوں کے نام تبدیل کر چکا ہے ،اب تک چین اروناچل پردیش کے 33 مقامات کا نام تبدیل کر چکا ہے ،

    بھارتی حکام نے دہائی دی ہے کہ چین کی طرف سے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور متنازعہ علاقے کی حیثیت تبدیل کرنے کی ناجائز کوشش ہے. جس پر چینی حکام نے جواب دیا کہ جب امریکی سینیٹ سے قرارداد منظور کروائی تب بین الاقوامی قوانین یا علاقے کی متنازعہ حیثیت کا خیال نہیں آیا؟ چینی حکام کے اقدامات کے بعد مودی سرکار میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، ہندوستانی عوام دہائی دے رہی ہے کہ مودی کی غلط پالیسیوں نے ہندوستان کو کہیں کا نہ چھوڑا.کیا مودی ہندوستان کو سپر پاور کے ابھرتے عالمی تنازعہ کے ایندھن میں جھونک دے گا؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

  • مودی برادری کی توہین، راہول کو دو برس قید کی سزا

    مودی برادری کی توہین، راہول کو دو برس قید کی سزا

    بھارت کی عدالت نے بھارت کی سابق حکمران اور موجودہ اپوزیشن جماعت کے رہنما راہول گاندھی کو دو سال قید کی سزا سنائی ہے،

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راہول گاندھی کو سزا بھارتی وزیراعظم مودی کے علاقے گجرات کی مقامی عدالت نے سنائی، عدالت نے راہول گاندھی کو 2019 کے ایک ہتک عزت کیس کا فیصلہ سنایا اور کانگریس رہنما راہول گاندھی کو دو برس قید کی سزا سنائی،راہول گاندھی نے مودی سرنیم سے متعلق بیان دیا تھا جس پر انکے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا

    عدالت نے جب کیس کا فیصلہ سنایا تو راہول گاندھی عدالت کے اندر موجود تھے، عدالت نے راہول کو سزا سنانے کے تھوڑی دیر بعد ہی سزا کو معطل کر دیا اور 30 یوم کے لئے راہول گاندھی کی ضمانت منظور کر لی اور انہیں اپیل کا حق دے دیا،

    کانگریس رہنما راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے ایم ایل اے اور سابق وزیر پرنیش مودی نے دائر کیا تھا جس میں راہول گاندھی پر الزام ہے کہ انہیں مودی سرنیم رکھنے والوں کو چور کہہ کر مخاطب کیا ،کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے ایک ریلی کے دوران یہ نعرہ دیا تھا جب وہ الیکشن مہم چلا رہے تھے، راہول کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ راہول نے مودی برادری کی توہین کی ہے،

    لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان

    چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت

    چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

    سرد موسم ،لداخ میں بھارتی فوج مشکل میں،بھارتی فوجی حکام نے چین کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے

  • مودی سرکار جمہوری اقدار اور صحافت کا دشمن،نیویاک ٹائمز نے دکھایا آئینہ

    مودی سرکار جمہوری اقدار اور صحافت کا دشمن،نیویاک ٹائمز نے دکھایا آئینہ

    مُودی سرکار جمہوری اقدار اور صحافت کا بد ترین دُشمن ،نیو یارک ٹائمز نے ایک بار پھر مُودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا

    66سالہ پرانا اخبار مُودی کی انا کی بھینٹ چڑھ گیا، بند ہوگیا،صرف اس سال بھارت میں انسانی حقوق اور گرتے صحافتی معیار پر نیو یارک ٹائمز کا گیارہواں اداریہ سامنے آیا ہے 2019میں کشمیر ٹائمز نے انٹرنیٹ بندش پر مُودی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی مودی حکومت نے اپنے خلاف درخواست پر انتقاما اخبار ہی بند کروا دیا،نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ مُودی نے ہندوستان میں عدم برداشت اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کو عام کیا مُودی پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو انکم ٹیکس چھپانے کے الزام میں دھمکایا جاتاہے مُودی پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو دہشتگردی یا علیحدگی پسندی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں،اشتہارات اور فنڈز کی آڑ میں اخبارات کو من پسند خبریں شائع کرنے کیلئے بلیک میل کیا جاتا ہے،اقتدار سنبھا لنے مُودی منظم طریقے سے عدالتوں اور سرکار ی مشینری کو کنٹرول کر تا رہاہے

    نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ مُودی کی آمریت کی راہ میں اب صرف بچا کچھا میڈیا کھڑا ہے،پابندیوں سے بچنے اور معاشی فوائد کی خاطر بھارتی میڈیا مُودی کا ترجمان بنا ہوا ہے بی بی سی کی مُودی مخالف سیریز کی نشریات روکنا اور انکم ٹیکس کی آڑ میں دفاتر پر حملے صحافتی آوازکو دبانے کے ہتھکنڈے ہیں

    گلف نیوز کے ایڈیٹر کو بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

  • تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ، 3 دن میں 20 ارب ڈالر کا جھٹکا،بھارت میں بھونچال

    تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ، 3 دن میں 20 ارب ڈالر کا جھٹکا،بھارت میں بھونچال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آپ نے ہمیشہ سنا ہوگا کہ بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہیں اور بھارت ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے ۔ لیکن بھارت کے یہ دعوے نا صرف کھوکھلے ہیں بلکہ اب ان دعوو ں میں عملی طور پر ہوا نکلنا شروع ہو گئی ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے بعد اب بھارت کے کھوکھلے زرمبادلہ کے ذخائر کی حقیقت بے نقاب ہو نا شرو ع ہوگئی ہے اور آنے والے دنوں میں عین ممکن ہے کہ آپ امریکہ کے ساتھ بھارت کے ڈیفالٹ کی خبریں بھی سننا شروع کر دیں ۔ بھارت کے مشہور بزنس Tycoon گوتم اڈانی نے بھارت اور مودی حکومت کی تباہی کی باقاعدہ بنیاد رکھ دی ہے اور اب بھارت کی چولیں ہلنا شروع ہو چکی ہیں ۔۔آج سے چار دن پہلے ایک امریکی ریسرچ کمپنی کی طرف سے گوتم اڈانی کے فراڈوں کی ایک لمبی فہرست شائع کی گئی ۔۔ جس کے بعد بھارت میں ایک تہلکہ مچ گیا ۔ اس رپورٹ میں ایسا کیا تھا جس سے مودی حکومت کی صفوں میں ماتم کا سماں ہے ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے بعد گوتم اڈانی کیسے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں تیسرے سے ساتویں نمبر پر آگئے اور آ نے والے دنوں میں کیسے بھارت میں مہنگائی اور بے روزگاری کا نا ختم ہونے والا رقص شروع ہونے والا ہے جس سے ملک میں نئے دنگوں اور فسادات کے خدشات ہیں ؟امریکی ریسرچ کمپنی Hindenburg نے بھارت کے امیر ترین آدمیوں میں شمار ہونے والے گوتم اڈانی کے خلاف 32,000الفاظ پر مشتمل 413صفحو ں کی ایک لمبی رپور ٹ جاری کی ہے جس میں گوتم اڈانی اور ان کے خاندان پر کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے اور فراڈ کا الزام لگا ہے ۔
    امریکی ریسرچ کمپنی نے نا صرف رپورٹ شائع کی ہے بلکہ اس میں ایک ایک چیز کی تفصیلا ت ، ثبوت کے ساتھ بتائی گئی ہیں ۔ کس طرح اڈانی خاندان نے بھارت سے پیسہ باہر Money Londerکیا ۔۔ کیسے مودی حکومت نے اڈانی خاندان کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔ اور کیسے دونوں فریقوں نے مل کر بھارت کو کھایا یہ سب کچھ اس رپورٹ میں شامل ہے ۔۔ جب سے یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے بھارت کے طول و عرض میں ایک شور برپا ہے ۔ بھارت کی کارپوریٹ انڈسٹری اور اس کے ساتھ ان کی Stock Exchangeمیں کافی غیر یقینی کی سی صورتحا ل ہے ۔سرمایہ کاروں نے اپنے پیسے نکالنا شروع کر دیے ہیں ۔ اور اس رپورٹ کے بعد صرف ایک دن میں ارب پتی گوتم اڈانی کی ٹوٹل دولت سے 20ارب ڈالر کا صفایا ہو چکا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اڈانی گروپ کا نقصان دراصل صرف اڈانی گروپ تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا نقصان ہے ۔ کیونکہ گوتم اڈانی نریندر مود ی کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں گوتم اڈانی اور نریندر مودی کی دوستی کافی پرانی ہے ۔ لیکن اس میں تیزی اس وقت آئی جب نریند ر مودی کا نام گجرات کے فسادات میں آیا۔نریندر مودی نے جب گجرا ت میں فسادات کو ہوا دی اور وہاں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تو بھارت کی کاروباری شخصیات مودی کے خلاف ہوگئے ۔یہ وہ وقت تھا جب نریندر مودی کو ہر طرف سے مزاحمت کا سامنا کر نا پڑ رہا تھا اور بالکل اسی وقت گوتم اڈانی نے مودی کا ہاتھ تھاما اور اسے تنازعات سے نکالنے کےلیے پیسہ پانی کی طرح بہانا شروع کر دیا ۔اڈانی نے مودی کو ہیرو ثابت کرنے کےلیے ہر حد عبور کی ۔اس کے بعد اڈانی خاندان اور مودی کے مراسم مزید قریب ہوتے چلے گئے ۔مودی اڈانی خاندان کو کاروباری فائدہ پہنچاتا رہا اور اڈانی وہ پیسے مودی کی سیاست میں لگاتے رہے ۔مارچ 2013میں نریندر مودی کو امریکہ میں وارٹن سکول آف بزنس کے ایک پروگرام میں مقرر کے طور پر بلایا گیا لیکن اساتذہ اور طلبا کے احتجاج کے بعد یہ دعوت نامہ منسوخ کر دیا گیا۔اس کے فوری بعد معلوم ہوا کہ اڈانی گروپ اس ایونٹ کا اہم سپانسر تھا جس نے مودی کو دیے جانے والے دعوت نامے کی منسوخی کے بعد اس تقریب کی مالی معاونت سے ہاتھ کھینچ لیا۔

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    ٹک ٹاک گرلز کے نئے دھماکے، عمران خان کی ساکھ کو شدید نقصان، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ، عمران خان گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا،

    سفید پوش لوگ صدمے میں ہیں کہ پہلے گاڑی سے موٹر سائیکل پر آئے تھے کیا اب سائیکل پر آنا پڑے گا،

  • بھارتی وزیراعظم مودی کی تقریب میں پہنچا ایک شخص بندوق لے کر

    بھارتی وزیراعظم مودی کی تقریب میں پہنچا ایک شخص بندوق لے کر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی کی تقریب میں بندوق لے جانے کی کوشش کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے

    بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی میں بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک تقریب سے خطاب کرنا تھا، اس تقریب کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، تقریب میں بھارتی وزیراعظم کا خطاب سننے کے لئے ایک شخص بندوق لے کر پہنچ گیا، جس کو سیکورٹی اداروں نے تحویل میں لے لیا، بندوق لے کر جانیوالے شخص کو گیٹ سے ہی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، پولیس حکام کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی کی تقریر سننے کے لئے آنیوالے شخص سے بندوق برآمد ہوئی، بندق کا لائسنس بھی اسکے پاس موجود ہے،اس شخص کو کس نے بھیجا، یہ بندوق کیوں لایا؟ اسکے کیا ارادے تھے، اس حوالہ سے تحقیقات کر رہے ہیں،

    پولیس کا کہنا ہے کہ مودی کی تقریب میں بندوق لانے والے شخص کو فی الحال گھر جانے کی اجازت دے دی ہے تا ہم وہ تحقیقات میں شامل رہے گا، ابتدائی تحقیقات میں ایسا لگا کہ یہ شخص ویسے ہی بندوق لے آیا، اسکے پیچھے کوئی سازش نہیں تا ہم مزید تحقیقات کے بعد ساری صورتحال سامنے آئے گی، دوسری جانب بندوق بردار شخص کے پہنچنے کے بعد بھارتی وزیراعظم مودی کی سیکورٹی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں اور سیکورٹی اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ مودی کی سیکورٹی میں لاپرواہی کسی صورت برداشت نہین کی جائے گی

    درزی کو قتل کرنیوالے قاتلوں کا تعلق آرایس ایس سے نکلا،مودی سرکار کی ایک اور گھناؤنی چال

    آر ایس ایس اور بے جی پی کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب،مودی کا بچھایا بارود پھٹ پڑا

    خلیجی ممالک میں آر ایس ایس کی مسلم دشمن سازشیں ، بھارتیوں کے خلاف گھیرا تنگ

    بھارت میں اسلاموفوبیا، مسلمانوں سے نفرت کی بازگشت خلیجی ممالک میں بحث جاری

    گلف نیوز کے ایڈیٹر کو بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

  • مودی کے دورحکومت میں مسلمانوں کا استحصال اورقتل عام جاری ہے،کوئی روک سکتا ہے توروک لے:رعنا ایوب

    مودی کے دورحکومت میں مسلمانوں کا استحصال اورقتل عام جاری ہے،کوئی روک سکتا ہے توروک لے:رعنا ایوب

    واشنگٹن:مودی کے دورحکومت میں مسلمانوں کا استحصال اورقتل عام جاری ہے،کوئی روک سکتا ہے توروک لے،بھارتی صحافی خاتون رعنا ایوب نے واشنگٹن میں بہترین پرفارمنس ایوارڈ وصول کرتے وقت بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کوبے نقاب کیا

    رعنا ایوب واشنگٹن میں اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ حال ایسے صحافیوں سے بھرا ہوا ہے جو میری بات کو سمجھیں گے،میں مودی کے ظلم سے تنگ آکربھارت چھوڑ کرآئی ہوں‌، میرے ایک ساتھی کےساتھ جو ظلم ہوا سب جانتے ہیں ، مگرآج میں آپ سب کے سامنے بھارت میں ہونے والے مظالم کی تصویرضرور پیش کروں گی، میں واشنگٹن پوسٹ کی بھی مشکور ہیں جس نے مجھے آج عزت سےنوازا

    رعنا ایوب کہتی ہیں کہ میں یہ ایوارڈ ایک ایسے شخص کو وقف کرنا چاہوں گی جو ہمارے درمیان نہیں ہے، اس کا نام شیریں ابو اخلیہ ہے، جسے سچ بولنے کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے

    رعنا ایوب نے واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بنیادی طور پرہندوستان سے ہوں ، اس ہندوسان سے جہاں ایک ارب تیس کروڑ انسان بستے ہیں اور وہاں بائیس کروڑ سے زائد مسلمان بھی آباد ہیں مگرمسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جارہا

    رعنا ایوب کا کہنا تھاکہ جو کوئی بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو بے نقاب کرتا ہے تو پھر اس کو قتل کردیا جاتا ہے اورراستےسے ہٹا دیا جاتا ہے، شاید میں بھی ان میں سے ایک ہوں جواس خوف کی وجہ سے بھارت چھوڑ کرآج امریکہ میں ماری ماری پھرتی ہوں اور کسی پناہ کی تلاش میں ہوں

    ایم بی ایس کو سفر کے دوران دی گئی استثنیٰ کے بارے میں سوال کیا گیا اور انہوں نے نریندر مودی کی مثال دی کہ انہیں بھی اسی طرح کا استثنیٰ دیا گیا تھا۔ لہذا، انہوں نے ایک طرح سے میرا کام کیا، ایم بی ایس کا نریندر مودی سے موازنہ کر کے۔

    واشنگٹن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رعنا ایوب نےکہا کہ جس آدمی کو آپ بین الاقوامی میگزین کے سرورق پر لگاتے ہیں، وہ ایک ایسا آدمی ہے جس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ 2002 میں جب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو دو دن کے عرصے میں ایک ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور ہم نے کبھی اسے مذاق کے طور پر سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ شخص وزیر اعظم بن جائے گا۔ اتنا تو تھا کہ امریکہ اسے امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا اور اب آپ اسے دیکھیں، اس نے ابھی G-20 کی صدارت سنبھالی ہے۔ ایک قاتل اور پھر اس کی اتنی پذیرائی اس کا ذمہ دار امریکہ ہے

    رعنا ایوب نے کہا کہ اگر میں مودی کے مظالم پر آواز بلند کروں تومیں محب وطن نہیں اور پھر مجھ جیسی خاتون کو اپنا گھربارچھوڑنا پڑتا ہے ،

    رعنا ایوب کہتی ہیں کہ فوری طور پر سننے کی ضرورت ہے. یہ صرف مسلمانوں کی اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی کہانی نہیں ہے، یہ ہندوستان کی کہانی ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت فاشزم کی حالت میں پھسل رہی ہے۔ ہندوستان کے وزیر داخلہ، امیت شاہ بدقسمتی سے اور خوش قسمتی سے، میں نے 2010 میں اپنی تحقیقات کے ساتھ اس کے کال ریکارڈ شائع کیے تو انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ میں تقریباً 25 سال کی تھی میرے اوپر8 خفیہ کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے یہ ہے دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت جس کی کرتوتوں سے ہرکوئی حیران ہے

    کیا دنیا اس بات کا نوٹس نہیں لے گی ، کیا دنیا مودی کے مظالم کو توسیع دینا چاہتی ہے، ایسانہیں ہونا چاہیے اگرآج آپ میرے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو بھارت میں مسلمانوں کو کچل دیاجائے گا، میں نے حق کا ساتھ دیا تو مجھے مارنے کی کوشش کی گئی ، میرے سے منسوب غلط قسم کامواد شیئر کیا گیا، لیکن آخر کب تک ، دنیا مودی کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں صحافیوں کے‌خلاف مودی حکومت کے مظالم کا نوٹس لے اور سخت پابندیاں عائد کرے

  • شنگھائی تعاون تنظیم: سمٹ میں بھارتی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کریں گے

    شنگھائی تعاون تنظیم: سمٹ میں بھارتی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کریں گے

    بیجنگ :شنگھائی تعاون تنظیم: سمٹ میں روس، چین اور پاکستان کے ساتھ نریندر مودی کی شرکت کی تصدیق ہوچکی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم: سمٹ میں بھارتی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کریں گے

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ازبکستان میں علاقائی سمٹ میں شرکت کریں گے، جس میں روس کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بالمشافہ مذاکرات ہوں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم میں چین، روس، 4 وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرغستان، ازبکستان اور تاجکستان کے علاوہ بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں، جس کا انعقاد سمرقند میں 15 اور 16 ستمبر کو ہوگا۔

    چین میں روس کے سفیر نے بدھ کو بتایا تھا کہ سمٹ میں ولادیمیر پیوٹن اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوگی، کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے چینی رہنما کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس ملاقات کی تصدیق نہیں کی، معمول کی پریس بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ اس حوالے سے فراہم کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہے۔بھارتی حکومت نے جاری بیان میں یہ نہیں بتایا کہ نریندر مودی کی ولادیمیر پیوٹن، شی جن پنگ یا وزیر اعظم شہباز شریف سے دوطرفہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سری لنکن صدرکومودی نے فرار ہونے میں‌ مدد دی:حالات بدستورکشیدہ

    سری لنکن صدرکومودی نے فرار ہونے میں‌ مدد دی:حالات بدستورکشیدہ

     

    کولمبو:سری لنکن صدرکومودی نے فرار ہونے میں‌ مدد دی:حالات بدستورکشیدہ ،اطلاعات کے مطابق مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے صدر گوٹابایہ راجا پاکسے بدھ کو علی الصبح مالدیپ کے ویلانا بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچ گئے ہیں۔ادھر اس حوالے سے سری لنکا کی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بدھ کی علی الصبح صدر گوتابایا راجا پاکسے اور ان کے اہل خانہ کے لئے طیارہ فراہم کیا، جس میں سوار ہو کر وہ ملک چھوڑ کر مالدیپ پہنچے۔

     

     

     

    ڈیلی مرر کے مطابق انہیں یہ فلائٹ سروس موجودہ حکومت کی درخواست پر سری لنکا کے آئین میں قائم مقام صدر کو حاصل اختیارات کے مطابق وزارت دفاع کی مکمل منظوری کے ساتھ بندرانائیکے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے امیگریشن، کسٹمز اور دیگر تمام قوانین کے تحت دی گئی۔

    موصولہ رپورٹوں کے مطابق ان کا فوجی طیارہ دیر رات تین بجے (مقامی وقت کے مطابق) مالدیپ کے دارالحکومت مالے پہنچا۔ گوتابایا راجا پاکسے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پہلے ہی یہ بتا چکے تھے کہ وہ بدھ کو صدارتی عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

    واضح رہے کہ اس سال سری لنکا ایک سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں مظاہروں کا طویل سلسلہ رہا ہے جو آخر میں حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔سری لنکا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپا ابے وردھنے نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے ذریعے نئے صدر کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ادھر سری لنکا میں صدر گوتابایا راجا پکشے کے ملک سے فرار ہونے کے بعد دارالحکومت کولمبو میں ایک بار پھر زبردست احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ گوٹابایا نے بدھ کو استعفیٰ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ استعفیٰ دیے بغیر ہی ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ مشتعل مظاہرین گوٹابایا کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ گوٹا بایا کے مقرر کردہ وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے گوٹا بایا کی جگہ قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں لیکن مظاہرین اس کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

    ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم وکرما سنگھے کی نجی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا جسے 9 جولائی کو مظاہرین نے پہلے ہی نذر آتش کر دیا تھا۔ تاہم، وکرما سنگھےپہلے ہی پیشکش کر چکے ہیں کہ اگر آل پارٹی حکومت بنتی ہے تو وہ عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ لیکن مشتعل مظاہرین کوئی دلیل ماننے کو تیار نہیں۔

     مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین کی سیکورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن مظاہرین پر اس کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

     

     

    گوٹابایا کی جانب سے راجا پکشے کے ملک سے فرار کے حوالے سے یہ خبریں تقویت پکڑرہی ہیں  کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے سری لنکن صدر کوفرار کروانے میں مدد فراہم کی ہے ، دوسری طرف سری لنکن عوام کی طرف سے ان اطلاعات پرسخت ردعمل کے بعد بھارت نے اپنی جان چھڑانے کےلیے ایک تردیدی بیان دیا ہے کہ ہندوستان نے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکشے کی سری لنکا سے حالیہ روانگی میں سہولت فراہم کی۔ بتادیں کہ ہندوستانی سفارت خانے نے کہا کہ وہ سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔

    اس طرح کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کولمبو میں ہندوستانی سفارت خانے نے دو ٹویٹس کیں۔ ایک میں انہوں نے کہا کہ وہ سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا، ’’ہم عوام کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ جمہوری ذرائع اور اقدار، قائم کردہ جمہوری اداروں اور آئینی ڈھانچے کے ذریعے خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔

  • بھارتی سپریم کورٹ کا ایک اورمتعصبانہ فیصلہ ،گجرات فسادات میں مودی کو کلین چٹ کی تصدیق

    بھارتی سپریم کورٹ کا ایک اورمتعصبانہ فیصلہ ،گجرات فسادات میں مودی کو کلین چٹ کی تصدیق

    بھارتی سپریم کورٹ کا ایک اور متعصبانہ فیصلہ ،گجرات مسلم کش فسادات ،بھارتی سپریم کورٹ نے مودی کو دی جانے والی کلین چٹ کی تصدیق کر دی

    کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی بیوہ کی درخواست خارج کردی گئی درخواست میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مودی سمیت 59 لوگوں کودی گئی کلین چٹ کو چیلنج کیا گیا تھا کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری بھی فسادات کے دوران مارے گئے تھے،ذکیہ جعفری نے فسادات کے پیچھے بڑی سازش کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، عدالت نے ذکیہ جعفری کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ میرٹ پر نہیں،گجرات 2002 کے مسلم کش فسادات میں ایک ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے تھے، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دسمبر 2021 میں کیس میں فیصلہ محفوظ کیا تھا

    بھارتی سپریم کورٹ نے اس کیس میں تحقیقاتی اداروں کی طرف سے دائر کی گئی حمتی رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے 2013 کے فیصلے کو برقرار رکھا اور بھارتی وزیراعظم مودی کو کلین چٹ کی تصدیق کر دی،

    ذکیہ کے شوہر اور کانگریس رہنما احسان جعفری کو 28 فروری 2002 کو احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں تشدد کے دوران قتل کیا گیا تھا ذکیہ جعفری نے ایس آئی ٹی کی تفتیش پرسوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ تفتیشی ٹیم نے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا سابقہ سماعت کے دوران ذکیہ جعفری کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کپل سبل نے عدالت میں کہا تھا کہ کیس میں ایس آئی ٹی نے سی ڈی آر کی تحقیقات نہیں کی، گواہان سے بات نہیں کی فون کی تحقیقات نہیں کی گئی، تو آخر کس بنیاد پر حتمی رپورٹ داخل کر دی گئی گلبرگہ سوسائٹی کے واقعہ میں دھماکہ خیز مادہ لانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اگر ایس آئی ٹی گلبرگہ معاملہ کو دیکھ رہی تھی تو وہ تمام معاملات کی تفتیش کیوں کر رہی تھی

    قبل ازیں جون 2019 میں بھارت میں‌ سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو گجرات میں جام نگر سیشن کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی ،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں‌ اور اپوزیشن جماعتوں‌ نے اس فیصلہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فسادات کے اصل ملزم اقتدار میں مودی کے ساتھ موجود ہیں‌اور بے گناہ لوگوں‌ کو سزائیں سنائی جارہی ہیں. گجرات فسادات کے وقت سنجیو بھٹ جام نگر میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تھے۔سنجیو بھٹ گجرات فسادات کے وقت جام نگر میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تھے، جنہوں نے دوسرے افسروں کے ساتھ مل‌ کر فساد کرنے کے معاملے میں 133 لوگوں کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں سے ایک شخص پربھوداس مادھوجی ویشنانی تھا جسے 9 دن تک پولیس حراست میں رکھا گیا تھا تاہم ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دسویں دن اس کی موت ہو گئی تھی۔ میڈیکل ریکارڈ کے مطابق، گردہ فیل ہو جانے کی وجہ سے اسکی موت ہوئی تھی لیکن اب اسی کیس میں‌ سنجیو بھٹ کو عمر قید کی سز ا سنا دی گئی ہے.

    گجرات فسادات میں‌ ملوث ڈیڑھ سو انتہاپسند پکڑنے والے سابق بھارتی پولیس افسر کو عمر قید کی سزا

    دنیا ایک مرتبہ پھر بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھے گی؟ عمران خان نے خبردار کردیا

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

  • بھارت میں سزاکےطورپرمسلمانوں کےمکانات کی مسماری اوراُن پربین اقوامی قوانین کااطلاق:کیاعملدرآمد بھی ہوگا؟

    بھارت میں سزاکےطورپرمسلمانوں کےمکانات کی مسماری اوراُن پربین اقوامی قوانین کااطلاق:کیاعملدرآمد بھی ہوگا؟

    🔺بھارت میں سزا کے طور پر مسلمانوں کے مکانات کی مسماری اور اُن پر بین اقوامی قوانین کا اطلاق:
    کیا عالمی برادری ان قوانین پرعمل کرپائے گی
    یا
    پھرجبر،ظلم اوردہشت گردی کے سامنے ڈھیرہوجائے گی: ایک سوال ہے جس کے جواب کا اتنظار رہے گا

    ▪️بطور سزا مکانات کی مسماری:
    بغیر مطلوبہ عدالتی کارروائی کے ایک انتظامی فیصلے کے تحت، بے گناہ لوگوں کو ان کے گھروں سے جبری بے دخل کرنا، اور دوسروں کے مبینہ ‘جرائم’ کی اجتماعی سزا کے طور پر ان کی نجی املاک کو تباہ کرنا۔

    آسامی مسلمانوں کی زندگیاں مشکل میں :پولیس چُن چُن کرمسلمانوں کوقتل کرنے لگی

    ▪️رہائش کا حق – تسلیم شدہ بین الاقوامی انسانی حقوق:
    :- انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (UDHR) کا آرٹیکل 25 – ہر ایک کو اپنی اور اپنے خاندان کی صحت اور بہبود کے لیے مناسب معیار زندگی بشمول خوراک ، لباس رہائش اور طبی دیکھ بھال کا حق دیتا ہے۔

    :- اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICESCR) کا آرٹیکل 11.1 – ہر شخص کو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مناسب خوراک، لباس اور رہائش سمیت مناسب معیار زندگی اور اپنی حالاتِ زندگی میں مسلسل بہتری لانے کا حق دیتا ہے

    :- تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حقوق، جیسے کہ مناسب رہائش کا حق، کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔

    بی جے پی نے دہلی کے 40 گاؤں کے مسلم نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا لیا

    ▪️نجی املاک کا تحفظ – تسلیم شدہ بین الاقوامی انسانی حقوق
    :- انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (UDHR) کا آرٹیکل (2)17- کے مطابق کسی کو بھی اپنی مرضی سےنشانہ بنا کر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

    :- انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کا آرٹیکل 8 – نجی اور خاندانی زندگی، گھر اور خط و کتابت کے احترام کا حق دیتا ھے۔

    ‏:- شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کا آرٹیکل 17 – ہر شخص کو بذات خود یا دوسروں کے ساتھ مل کر جائیداد کی ملکیت کا حق حاصل دیتا ہے اور کسی کو زبردستی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

    :-ظالمانہ، غیر انسانی، ذلت آمیز سلوک، اور سزا کے خلاف تحفظ – بین الاقوامی انسانی حقوق‏- تشدد کے خلاف کنونشن کا آرٹیکل 16 – صریحا بطور سزا جائیداد کے انہدام کی ممانعت کرتا ہے۔

    :-انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (UDHR) کا آرٹیکل 5 – تشدد یا ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک یا سزا کی ممانعت کرتا ہے۔

    :-قانون عمل پر مناسب عمل داری کی ضرورت – بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون
    :-یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس (UDHR) کا آرٹیکل 11 – کسی بھی فرد جس پر تعزیری جرم کا الزام عائد ہو اسے معصوم تصور کرنے کا حق دیتا ہے جب تک کہ کسی عوامی مقدمے میں قانون کے مطابق مجرم ثابت نہ ہو جائے اور مقدمہ بھی وہ جس میں اسے اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری ضمانتیں حاصل ہو چکی ہوں۔

    ‏:- شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کا آرٹیکل (2)14: جرم ثابت ہونے تک بے گناہ متصور ہونے کا حق۔

    مسلح تصادم کے دوران ممنوعات:
    مقبوضہ علاقوں میں بھی نجی املاک کا تحفظ – بین الاقوامی انسانی قانون۔ جس کے مطابق:
    :- سٹیٹس قو۔ لیگ قوانین کا آرٹیکل 43 – قابض قوت مقبوضہ علاقے کی جنگ سے پہلے والی حالت کو برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

    :- کم از کم انسانی ہمدردی کی ضمانتیں: چوتھے جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 64 – قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے میں ایسے قوانین میں ردوبدل کرنے کی اجازت ہے جو جنیوا کنونشن میں پیش کی گئی کم از کم انسانی ہمدردی کی ضمانتوں پر پورا نہیں اترتے۔

    :- نجی املاک کا تحفظ: دی ہیگ ریگولیشنز کا آرٹیکل 46 – نجی املاک کو ضبط نہیں کیا جا سکتا۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505811″ /]

    :- املاک کی تباہی کی ممانعت: چوتھے جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 53 – مقبوضہ آبادی کی املاک کی تباہی ممنوع ہے "سوائے اس کے جہاں ایسی تباہی فوجی کارروائیوں کے ذریعے بالکل ضروری ہو”۔

    ▪️اجتماعی سزا کی ممانعت
    :- دی ہیگ ریگولیشنز کا آرٹیکل 50
    :- چوتھے جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 33
    :-ایڈیشنل پروٹوکول 1 کا آرٹیکل 75
    :-روایتی بین الاقوامی قانون
    :-چوتھے جنیوا کنونشن پر ICRC کمنٹریز: انسانیت کے بنیادی اصولوں کی بر خلاف افراد یا افراد کے مجموعے پر ایسے افعال کی وجہ سے جو انھوں نے نا کیے ہوں عائد جرمانے