Baaghi TV

Tag: مودی

  • مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت

    مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت بول اٹھی ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنمائوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسلامک پولیٹیکل پارٹی کے چیئرمین محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں حلقہ بندیوں کی مشق، نصاب تعلیم میں تبدیلی، نئے ڈومیسائل قوانین، سرکاری عمارتوں کو ہندوئوں کے ناموں سے منسوب کرنے اوراس طرح کے دیگر اقدامات کو مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی قانونی اور ثقافتی دہشت گردی قراردیا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنا اور اسے ہندو اکثریتی علاقہ قرار دینا ہے۔

    انہوں نے بھارتی اقدامات پر تشویش ظاہر کرتے کہاکہ ان سے مستقبل میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے مذموم عزائم کی عکاسی ہوتی ہے ۔یوسف نقاش نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیری بھارت سے مکمل آزادی کے حصول کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کی سنگینی کاادراک کرتے ہوئے بھارتی دہشت گردی بند کرانے اور جنوبی ایشیا کو تباہی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔

    انہوں نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اورمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    ادھر تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں حلقہ بندیوں کے مسودے کو وادی کشمیر اور جموں خطے کے عوام کو فرقہ وارانہ اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا ایک مذموم منصوبہ قراردیا۔

    انہوں نے کہاکہ اس مسودے سے بھارتی حکمرانوں کے مذموم عزائم اورکشمیری عوام کے بارے میں پالیسی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کا مقصد جموں اور وادی کشمیر کے عوام کے درمیان خلاف پیدا کرنا ہے۔ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اپنی نوآبادیاتی ذہنیت کی وجہ سے جموں وکشمیر کے عوام کے درمیان مثالی بھائی چارے کی فضا ء کو خراب کرنے اور ان کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے درپے تاکہ وہ آر ایس ایس کے فرقہ وارانہ اور فسطائی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے ۔

  • مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ

    مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ

    نئی دہلی :مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں ہندو زیر اعلیٰ لانے کیلئے انتخابات سے قبل دھاندلی میں مصروف ہے ۔دوسری طرف کشمیری مودی کی ان سازشوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‌

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مسلم اکثریتی مقبوضہ کشمیر میں ایک ہندو وزیر اعلیٰ لانا ہندوتوا طاقتوں کا دیرینہ خواب رہا ہے کیونکہ مقبوضہ علاقے میں ہمیشہ ایک مسلمان ہی کسی منتخب حکومت کا سربراہ رہا ہے۔ آر ایس ایس اوربی جے پی کا کٹھ جوڑ مقبوضہ علاقے میں انتخابات کے ذریعے اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اور اس کے ساتھی مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے حلقہ بندی کمیشن کو استعمال کر رہے ہیں اور حلقہ بندیوںکا مقصد ہندو اکثریتی خطے جموں کو زیادہ سیٹیں دینا ہے۔بی جے پی کی بھارتی حکومت نے جموںو کشمیرمیں آبادی کا تناسب بگاڑنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں آر ایس ایس کے حمایت یافتہ ہندوتوا نظریہ کو فروغ دینے کیلئے لاکھوں غیر کشمیریوں کوڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے ہیں اور ووٹرلسٹوں میں ان کا اندراج کیاگیا ہے ۔

    بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں مسلمانوں سے منسوب اہم مقامات کو ہندوئوں کے ناموں سے بدل رہی ہے ۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مودی حکومت کا واحد مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانا اور وہاں ہندو تہذیب قائم کرنا ہے ۔رپورٹ کے مطابق کشمیری عوام کو مودی حکومت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے ہوشیار رہنا چاہیے ۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے مزیدکہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا طاقتوں کے احکامات کی تکمیل کیلئے سرگرم لوگ کشمیریوں سے غداری کر رہے ہیں۔کشمیری عوام مقبوضہ علاقے میںہندوتوا کے عزائم کو آگے بڑھانے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور وہ بھارت اور اس کے آلہ کاروں کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے۔

  • بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن ہر ملک کے مفاد میں ہے، اسی نیت سے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ مودی سمجھتا ہے کہ ہم کمزور ہیں، ہمیں بھارت میں ایک آئیڈیولوجی کا سامنا تھا جس کا نام آر ایس ایس ہے ، اس آئیڈیولوجی کے ساتھ بھارتی سرکار کیساتھ گفت و شنید انتہائی مشکل ہے مودی کا نظریہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں بلکہ خود ہندوستان کے عوام کیلئے بھی بد قسمتی ہے جو لوگ جنگوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تاریخ سے نا واقف ہوتے ہیں اور دوسرا انہیں اپنے ہتھیاروں پر بہت غرور ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے بعد مسائل چند لمحوں یا ہفتوں میں حل ہو جائیں گے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہی سوچ لے کر امریکہ افغانستان میں آیا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ چند ہفتوں کیلئے شروع کی جانے والی جنگ دو دہائیوں پر پھیل گئی افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے میں ماحولیات کے اس المیے سے ہم لوگ بیس سال پہلے آگاہ تھے مگر دنیا نےچشم پوشی کئے رکھی پاکستان میں تو کبھی سوچا ہی نہیں گیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے بھی کوئی فرق پڑے گا ملک میں 1960 کی دہائی میں معیاری منصوبہ بندی کمیشن بنا تھا ملک میں اس طرح کے تھنک ٹینک کی بہت ضروری ہے باہر امریکی تھینک ٹینک پاکستان پر گفتگو کر رہے ہیں نہ وہ یہاں کی تاریخ جانتے ہیں نہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں کچھ علم رکھتے ہیں مگر وہ باہر بیٹھے پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ یہ ایک انتہا پسند ملک ہے اور ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم موقف بھی بیان نہیں کرتے

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 25 سال پہلے تحریک انصاف شروع کی تو ہمارا منشور واضح تھا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے احساس راشن رعایت پروگرام کے اجراء سے شہریوں کو آٹا، گھی، تیل اور دالوں کی خریداری پر30 فیصدرعایت ملے گی احساس راشن پروگرام کی کل لاگت 120ارب روپے ہے، پروگرام کے تحت 2 کروڑ خاندان اور تقریبا 13 کروڑ افراد مستفید ہوں گے جو ملک کی کل آبادی کا تقریبا 53 فیصد ہے، ماہانہ 50 ہزار سے کم آمدن والے خاندان اس پروگرام سے استفادے کے اہل ہوں گے ۔ اہل صارفین کو کل خریداری پر 30 فیصد رعایت ملے گی،یہ رعایت آٹا، گھی یا تیل اور دالوں پرملے گی

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

  • مودی ایک ظالم شخص ہے جس سے انصاف ،خیر اور اچھائی کی توقع نہیں کی جاسکتی: راہل گاندھی

    مودی ایک ظالم شخص ہے جس سے انصاف ،خیر اور اچھائی کی توقع نہیں کی جاسکتی: راہل گاندھی

    نئی دلی :مودی ایک ظالم شخص ہے جس سے انصاف ،خیر اور اچھائی کی توقع نہیں کی جاسکتی:،اطلاعات کے مطابق بھارت میں کانگریس کے راہل گاندھی نے ایوان بالا راجیہ سبھا کے 12 ارکان کی معطلی کے خلاف جمعرات کو بھی پارلیمنٹ کے باہر مسلسل تیسرے دن دھرنا دیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مودی حکومت بزدل ہے اور وہ کسی کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راہل گاندھی نے کہاکہ حکومت پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے سوالوں سے ڈرتی ہے، اس لیے وہ کسی بھی معاملے پر بحث سے فرار اختیار کرتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے زرعی قوانین کی منسوخی کی تجویز پر بحث سے بچنے کیلئے پارلیمنٹ کو کام کرنے کی اجازت نہ دینے پر ایوان بالا راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے 12ارکان کو معطل کر دیاہے۔

    راہل گاندھی نےپارلیمنٹ ہائو س کے باہر مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے حزب اختلاف کی جماعتوں دھرنے کی قیادت کی۔ کانگریس قائدین ادھیر رنجن چودھری، کے سی وینوگوپال، کے سریش سمیت کئی پارٹیوں کے ارکان نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اوروہ مودی حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

    ادھرراہل گاندھی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ”سوالوں سے خوف، سچائی سے ڈر، حوصلہ سے ڈر۔جو حکومت ڈرتی ہے، وہ صرف ناانصافی ہی کرتی ہے”۔

     

  • کسانوں نے دیا حکومت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا

    کسانوں نے دیا حکومت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا

    کسانوں نے دیا حکومت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کی واپسی کا بل منظور ہونے کے باوجود بھی کسانوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا ہے

    کسانوں نے مودی سرکار کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک کسانوں پر درج مقدمات ختم نہیں ہوتے واپس نہیں جائیں گے، کسان رہنما راکیش ٹکیت کا کہنا تھا کہ کسانوں کی واپسی کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے، چار دسمبر کو کسانوں کا اجلاس ہو گا جس میں اہم فیصلے ہوں گے، کسانوں کی تحریک کامیابی سے جاری ہے، ایک سال تک مودی کو ہوش نہیں آیا،

    دوسری جانب پنجاب کی 32 کسان تنظیموں نے بھی سنگھو بارڈر پر یکم دسمبر کو اجلاس بلا لیا ہے، اس اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ اب تحریک کیسے جاری رکھنی ہے، کچھ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمیں متحد ہو کر تحریک کو جاری رکھنا چاہئے، مودی سرکار کوئی بھی چال چل سکتی ہے، کسانوں کا ایک گروپ تحریک ختم کرنے پر زور دے رہا ہے تا ہم حتمی کوئی بھی فیصلہ کسانوں کے اجلاس میں ہو گا

    بھارتیہ کسان یونین اتر پردیش کے سربراہ راجویر سنگھ جادون کا کہنا ہے کہ ہم مقدموں کے ساتھ واپس نہیں جانا چاہتے،حکومت کو کسانوں پر درج مقدمات بھی ختم کرنا ہوں گے،نہیں تو کسان تحریک جاری رہے گی

    بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں بحث کے بغیر زرعی قوانین کی منسوخی کیلئے قانون سازی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت بحث سے ڈرتی ہے اپوزیشن قوانین کی منسوخی سے متعلق قانون پر بحث چاہتی تھی ہم کسانوں کی شہادت، زرعی قوانین کا جواز، لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے قتل اور دیگر موضوعات پر بحث چاہتے تھے نریندر مودی جانتے ہیں ان کی حکومت سے غلطی سرزد ہوئی ہے لہذا وہ بحث سے خوفزدہ ہیں

    قبل ازیں گزشتہ روز بھارت میں ایک سال سے احتجاج کرنے والے کسانوں کی تحریک کو بڑی کامیابی ملی ہے بھارتی پارلیمنٹ میں تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا بل پیش کر دیا گیا ہے، لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ کیا اور نعرے بازی کی اسی دوران بھارتی وزیر زرراعت نریندر سنگھ تومر نے پارلیمنٹ میں زرعی قوانین واپس لینے کا بل پیش کیا، بل پیش ہونے کے بعد کانگریس رہنما نے بل پر بحث کا مطالبہ کر دیا ،اپوزیشن کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد پارلیمنٹ اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہوئے، مودی نے میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بہت اہم ہے، حکومت ہر معاملے پر بحث کے لئے اور ہر سوال کا جواب دینے کے لئے تیار ہے

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے مائیکل فخری نے نریندر مودی کی بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زراعت کے تین متنازعہ قوانین کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران چھ سو افراد کی موت کے حوالے سے جواب دہی کو یقینی بنائے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے خوراک مائیکل فخری نے مودی کی طرف سے مذکورہ قوانین کی حالیہ منسوخی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس دردناک باب کو صحیح معنوں میں ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ حکام احتجاج کے دوران رپورٹ ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں جوابدہی کو یقینی بنائیں اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں

    مودی حکومت نے تین زرعی قوانین جن کا مقصد مارکیٹ کو ڈی ریگولیٹ کرنا تھا 2020 میں کورونا وائرس وبائی مرض کے عروج پر منظور کیے تھے کسانوں کے مشاورت کے بغیر ان قوانین کی منظوری پر سخت مذمت کی گئی۔ نریندر مودی نے 19 نومبر کو ان قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔فخری نے کہا کہ ان قوانین سے جو چیز خطرے میں تھی وہ بھارت کے پورے غذائی نظام کا استحکام تھا

    بھارت میں کسانوں کی مودی کے خلاف تحریک کو ایک سال ہونے والا ہے، کسانوں نے کئی بار بھارت بھی بند کیا، کسان مارے بھی گئے، ان پرتشدد، گرفتاریاں بھی ہوئیں مگر کسانوں نے ہمت نہیں ہاری،بھارتی اپوزیشن پارٹی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کسانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ضدی مودی نے سچائی کے آگے سر جھکا دیا،کسانوں کوناانصافی کے خلاف یہ جیت مبارک ہو،زرعی قوانین کی واپسی پر غازی پور بارڈر پر جشن منایا جا رہا ہے تین قوانین کی خوشی میں یہاں لوگوں میں جلیبی تقسیم کی جا رہی ہے

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے زرعی قوانین کی واپسی کو کسانوں کی جیت قرار دیا اور کہا کہ یہ ان کسانوں کی جیت ہے جو کافی دنوں سے زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے، 700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہو گئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مرکز احساس جرم کا شکار ہے۔ لیکن اس دوران کسانوں کو جن مشکلات کا سامنا رہا اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ہم ان مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے

    سنیوکت کسان موچہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم کسان مخالف قوانین کو واپس لینے پر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، یہ کسانوں کے لئے بڑی فتح ہوگی ،دوسری جانب کسان مودی پر یقین کرنے کو تیار نہیں، کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک قانون واپس نہیں لئے جاتے ہم واپس نہیں جائیں گے، کسان رہنما راکیش ٹکیت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی تحریک فوری واپس نہیں ہوگی ہم انتظار کریں گے جب زرعی قوانین کو پارلیمنٹ کے ذریعے منسوخ کیا جائے گا حکومت ایم ایس پی کے ساتھ ساتھ دوسرے مسائل پر بھی بات چیت کرے۔

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    مطالبات نہ مانے گئے تو بھارت بند کردیں گے،احتجاج کرنیوالے کسانوں کا بڑا اعلان

    بھارت بند کا اعلان، کسانوں کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت مل گئی

    مودی کا جہاز خریدنے کیلیے پیسے ہیں لیکن کسانوں کو دینے کیلئے نہیں،پرینکا گاندھی مودی پر برس پڑیں

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان

    چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت

    چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

    ضلع پونچھ میں جھڑپ کے دوران 5 بھارتی فوجی جہنم واصل

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    بھارتی وزیرکی گاڑی نے چار کسانوں کو کچل دیا،احتجاج کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی بھی گرفتاریاں

    بھارت میں گزشتہ دس ماہ سے کسان سراپا احتجاج ہیں، کئی بار کسانوں سے حکومت مذاکرات کر چکی لیکن ناکامی ہوئی تھی کسانوں کا مطالبہ ہے کہ تینوں قوانین کو حکومت واپس لےمودی سرکار کی طرف سے پارلیمنٹ میں منظور کیے جانے والے تین زرعی قوانین کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں کسان دہلی کی سرحدوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تحریک کو پنجاب اور ہریانہ کے بعد اتر پردیش کے کسانوں کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور متعدد ریاستوں کے کسانوں نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ کسانوں سے حکومت کی کئی دور کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔ اب گاؤں گاؤں میں احتجاج کی آگ پھیل رہی ہے اور لوگوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے، آج مودی سرکار نے قوانین واپس لینے کا اعلان کیا ہے

  • کوٸٹہ پاک فضائیہ کو آج کے دن مودی کا غرور خاک میں ملانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے، بشری رند

    کوٸٹہ پاک فضائیہ کو آج کے دن مودی کا غرور خاک میں ملانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے، بشری رند

    پارلیمانی سیکڑیری اطلاعات بلوچستان محترمہ بشریٰ رند کا کہنا ہے کہ کوٸٹہ پاک فضائیہ کو آج کے دن بھارت کے دو جنگی طیارے گرا کر مودی کا غرور خاک میں ملانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ کوٸٹہ 27 فروری 2019 کو پاک فضائیہ نے پاکستانی اور کشمیری عوام کا سر فخر سے بلند کر دیا، کوٸٹہ جنگیں طاقت سے نہیں جرات اور بہادری سے لڑی جاتی ہیں.کوٸٹہ پاکستانیوں کو افواج پاکستان کی جنگی صلاحیتوں پر فخر ہے ،
    کوٸٹہ جس فضائیہ کی تربیت ائیرمارشل اصغر خان اور ائیر مارشل نور خان نے کی ہو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا. کوٸٹہ جب تک ابھینندن زندہ ہے ہندوستان اپنے زخم چاٹتا رہے گا. کوٸٹہ بلوچستان کی عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ اور دفاع وطن کےلئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

  • ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلا م آباد ائیر ہیڈ کوارٹر میں آپریشن سوئفٹ کے دو سال مکمل ہونے پر تقریب منعقد کی گئی

    تقریب میں پاک فضائیہ کے سربراہ مجاہد انور خان سمیت دیگر عسکری حکام نے شرکت کی، ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا ،پاک فضائیہ کے طیاروں نے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا

    ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دو برس قبل 27 فروری کو پاک فضائیہ نے بھارتی فوج کا غرور خاک میں ملایا تھا، معاشی مسائل کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے حصول میں مشکلات ہیں لیکن پاک فوج کے شاہین حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہیں۔ پاکستان امن پسند ملک ہے پاکستانی قوم امن سے محبت کرنے والی قوم ہے کسی بھی مہم جوئی کا فوری جواب دیا جائے گا ،

    ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فضائیہ کے پلائٹس کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سلام پیش کرتا ہوں، دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے امن کیلئے بھارتی پائلٹ واپس کیا، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،اپنی ذمے داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں

    واضح رہے کہ 27 فروری کو بھارت کے دو طیارے پاک فضائیہ نے گرائے تھے. پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے طیارے بالا کوٹ پے رول گرا کر فرار ہو گئے تھے جس کے بعد اگلے روز پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائےتھے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا

    اپنے طیاروں کا انجام دیکھ لیں،بھارتی وزیر داخلہ کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے دیا منہ توڑ جواب

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 نئے ریڈار کیساتھ مارچ 2020ء تک آپریشنل ہوگا،سربراہ پاک فضائیہ

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی شاندار کامیابی پاکستانی قوم آج سرپرائز ڈے منا رہی ہے

    ہمیشہ امن کے لئے کھڑے ہیں، پاکستان کے کپتان نے مودی سمیت دنیا کو دیا اہم پیغام

    کامیابی تعداد سے نہیں، قوم کے عزم اور ہمت سے ممکن ہے،ترجمان پاک فوج

    میں نے بھاگنے کی کوشش کی، پاک فوج کے جوانوں نے مجھے بچایا،ابھینندن کی نئی ویڈیو آ گئی

    پاک فضائیہ نے ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے،ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کیخلاف پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی تاریخ میں’’آپریشن سوفٹ ریٹارٹ‘‘کےنام سےیادرکھی جائیگی، ہم اللہ تعالیٰ کےحضورسجدہ شکربجالاتےہیں کہ اللہ نے ہمیں قوم کی توقعات پرپورااترنےکا موقع دیا. انہوں نے کہا کہ ہم حالیہ پاک بھارت کشیدگی کےدوران دشمن کی جارحیت کابروقت اوربھرپورجواب دینے میں کامیاب رہے آیندہ بھی دشمن کی جانب سےکسی قسم کی جارحیت کاجواب پہلےسےزیادہ سخت اندازسےدیا جائیگا، انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ کےتمام افرادکوسلام پیش کرتاہوں

    جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 نئے ریڈار کیساتھ مارچ 2020ء تک آپریشنل ہوگا،سربراہ پاک فضائیہ

    27 فروری،بھارتی رسوائی کا دن، جب پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیارے گرا کر تاریخ رقم کی

    پاک فضائیہ کے جے ایف سترہ تھنڈر طیارے کی ورچول رائل ائیرٹیٹو شو میں شرکت

    ہم غافل نہیں،دشمن کو بھر پوراندازمیں جواب دینے کے لئے پاک فضائیہ ہمہ وقت تیار ہے، ایئر چیف

    جشن آزادی کی مناسبت سے پاک فضائیہ کے ملی نغمے کا ایک ٹیزر جاری

    ملکی دفاع میں پاکستان ایک قدم اور آگے،بھارتی رافیل بھی پیچھے رہ گیا

    پاک چین تعلقات کا آج تاریخی دن،پاک فضائیہ قوم کی امنگوں پر ہمیشہ پورا اترے گی،ایئر چیف

    پاک فوج باصلاحیت، پیشہ ور، نڈر، ابھینندن نے بھارتی فوج کو آئینہ دکھا دیا

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آبادکاری تحریر عدنان عادل

    ایسے وقت میں جب ساری دنیا کورونا وبا سے مقابلہ میں مصروف ہے ‘ بھارتی ریاست نے اپنی روایتی مکاری سے کام لیتے ہوئے مقبوضہ جمو ں کشمیر ریاست کو ہڑپ کرنے کی طرف ایک اور بڑا قدم اُٹھایا ہے۔ چند روز پہلے بھارتی حکومت نے ایک نیا ڈومیسائل قانون جاری کیا جس کے تحت مقبوضہ ریاست میں بھارت کے دیگر باشندوں کو بڑے پیمانے پر آباد کیا جاسکے گاجیسے اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں دنیا بھر کے یہودیوں کو آباد کیا ہے۔مقصد یہ ہے کہ جموں کشمیر ریاست میں زمینی حقائق تبدیل کردیے جائیں‘ اُسکے کشمیری تشخص ‘اُسکی مخصوص تہذیب کو تحلیل کردیا جائے اوراس خطّہ میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کو بتدریج اقلیت بنا دیا جائے۔ آٹھ ماہ پہلے پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیرریاست کو اپنے ملک کے آئین میں آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور کشمیری عوام کے ردّعمل سے بچنے کی خاطر کشمیر وادی کا لاک ڈاؤن کردیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

    کشمیریوں کے ٹیلی فون ‘ انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی پابندی ہے تاکہ کشمیری باہر کی دنیا سے رابطہ نہ کرسکیں ‘ اپنی حالت ِزار کے بارے میں دنیا کو آگاہ نہ کرسکیں۔آزاد ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میںپانچ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج‘ ایک لاکھ پولیس اور تیس ہزار خصوصی پولیس تعینات ہے تاکہ کشمیری عوام بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاج نہ کرسکیں۔مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے تحت ریاست کو اپنا جھنڈا رکھنے‘ اپنے قوانین نافذ کرنے کی اجازت تھی۔ کشمیر سے تعلق نہ رکھنے والے بھارتی یہاں کا ڈومیسائل حاصل نہیں کرسکتے تھے ‘ نہ ریاست میں زمین‘ جائیداد خرید سکتے تھے۔خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد جموں کشمیر کے یہ تمام حقوق اُن سے چھین لیے گئے جن کے وعدہ پر شیخ عبداللہ ایسے کشمیری رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ ملنا قبول کیا تھا ۔ اب کشمیریوں کے حقوق کو مزید پامال کرنیکی غرض سے بھارتی حکومت نے ڈومیسائل کا جو نیا قانون نافذ کیا ہے اسے جموںو کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 کا نام دیا گیا ہے۔ اسکے مطابق ہر وہ بھارتی شخص جو پندرہ سال مقبوضہ کشمیر میں رہ چکا ہو، اسے کشمیر کا مستقل رہائشی تسلیم کیا جائے گا‘ ہر وہ شخص جو سات سال تک مقبوضہ کشمیر کے کسی تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کرتا رہا ہو یا اس نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان یہاں کے بورڈ سے پاس کیا ہو وہ بھی کشمیری ڈومیسائل حاصل کرسکے گا۔ اِس قانون کے مطابق بھارت کی مرکزی حکومت کے ملازمین جو اس علاقہ میں دس سال تک تعینات رہے ہوں وہ جموں کشمیر کا ڈومیسائل لینے کے اہل ہوں گے۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے بھارت کے تمام شہریوں کو جموں کشمیر میں سرکاری ملازمت کرنے کا حق دیدیا گیا ہے جو پہلے صرف ریاست کے مستقل باشندوں کو حاصل تھا۔ صرف درجہ چہارم کی ملازمتوں پرمستقل باشندوں کا خصوصی حق رہنے دیا گیا ہے۔نئے قانون کے تحت وہ ہندو اور سکھ جو قیام پاکستان کے بعدہجرت کرکے جموں کشمیر ریاست میں جا کر آباد ہوگئے تھے انہیں بھی مقبوضہ ریاست کا ڈومیسائل مل جائے گا۔بھارت کے مسلمانوں کی غالب اکثریت غریب ہے ‘ وہ تو کشمیر میں جاکر زمین‘ جائیداد نہیں خرید سکتے۔صرف دولت مند ہندو جموںکشمیر میں زمین خریدیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر پر پالیسی بنانے میں بھارت کا اُستاد اسرائیل ہے ۔ کشمیر پر اپنا غیرقانونی قبضہ جاری رکھنے کی خاطر بھارت ہر وہ کام کررہا ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لیے ستّر برسوں سے کرتا آرہا ہے۔ اس نے نیا قانو ن بھی اُن اسرائیلی قوانین کی طرز پر بنایا ہے۔نئے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آزاد کشمیریا پاکستان آجانے والے مہاجر بھی اپنی کشمیری شہریت سے محروم ہوجائیں گے جیسے لاکھوں فلسطینی مہاجر ۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی یہودی بستیاں آباد کرکے جو غاصبانہ قبضہ کیا ہے وہی کام بھارت مقبوضہ کشمیر میں شروع کرنے جارہا ہے۔ ان اقدامات کے بعد کشمیر کے باشندے اپنی شناخت‘ تعلیم کے مواقع‘زمین کی ملکیت کے حقوق کے بارے میں ایک نئی تشویش اور اضطراب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

    کشمیری رہنماؤں اور دانشوروں نے ڈومیسائل قانون کی سخت مذ مت کی ہے لیکن طاقت کے نشہ میں بدمست بھارتی ریاست پر اسکا کوئی اثر نہیں۔ بھارت کی پالیسی ہے کہ طویل عرصہ تک طاقت کے زور پر کشمیر کی مزاحمت کو دبائے رکھو تاکہ کشمیری بالآخر تھک ہار کر بیٹھ جائیں ۔ بھارت کاخیال ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کورونا کی وبا سے نپٹنے میں لگے ہوئے ہیں‘ ایسے موقع پر عالمی برادری کشمیر کے معاملہ پر زیادہ توجہ نہیں دے گی ۔ یوں بھی جب بھارت نے کشمیر کا خصوصی آئینی درجہ ختم کیا تھا تو عالمی برادری نے اس کے خلاف کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی تھی۔ حتی کہ پاکستان‘ ترکی اور ملائشیا کے سواتمام مسلمان ملکوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی تھی۔ایران نے بھی صرف لاک ڈاؤن کی سختی پر تنقیدکی تھی‘ خصوصی حیثیت ختم کرنے پر نہیں۔ اب بھی بین الاقوامی برادری سے کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی مؤثر امداد کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔دنیا کوبھارت سے وابستہ اپنے معاشی مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ ہلکی پھلکی بیان بازی بھی ہوجائے تو غنیمت ہے‘ اسکے لیے بھی پاکستان کو ایک زوردار سفارتی مہم چلانا پڑے گی۔ کشمیری اپنی آزادی اورحقوق کے تحفظ کی جنگ میںاس وقت تنہا ہیں۔پاکستان کو ان کی ہر ممکن مد دکے لیے آگے بڑھناچاہیے کیونکہ بھارتی جارحیت کا یہ سلسلہ رُکے گا نہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگلے مرحلہ میں بھارت طاقت کے زور پرمقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کشمیر کے طرف ہجرت کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جس سے ایک نیا بحران جنم لے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تازہ اقدامات خود پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    عدنان عادل

  • مودی کےاسرائیلی جاسوس ایجنسی سے خفیہ تعلقات سامنے لائے جائیں، بھارتیوں نے مطالبہ کردیا

    نئی دلی :بھارتی وزیراعظم نریندا مودی اسرائیلی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ ہے، مودی کی خفیہ ملاقاتوں اور تعلقات کو قوم کے سامنے آنا چاہیے ، اطلاعات کےمطابق بھارت میں 19شہریوں کے گروپ نےنریندرمودی کی حکومت کو کھلا خط لکھا ہےجس میں ان سے اسرائیل کی جاسوس کمپنی سےتعلقات منظرعام پرلانے کا مطالبہ کیا گیا ہےکھلا خط لکھنےوالوں میں صحافی ،وکلا،دانشور ،سماجی کارکن شامل ہیں۔

    بابری مسجد کا عدالتی فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا، دفتر خارجہ

    یاد رہے کہ فیس بک کی ملکیتی کمپنی واٹس ایپ نے اسرائیل کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی این ایس او گروپ پر مقدمہ دائر کیا ہے کہ اس نے جاسوسی میں مختلف حکومتوں کی مدد کرنے کے لیے دنیا بھر میں اس کے صارفین کے موبائل فون ہیک کیے۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے آر ایس ایس ٹولے کے ناپاک ارادوں کی حوصلہ افزائی کی، سراج الحق

    مودی حکومت کو لکھےگئے خط میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت بتائےکہ کیا اس نے ہماری نگرانی بڑھا دی ہے ؟واٹس ایپ کا کہنا ہےکہ ایک اسرائیلی کمپنی نے چار براعظموں میں 1400 صارفین کے موبائل فون ہیک کیے جن میں سفارتکار، سیاسی مخالفین، صحافی اور سینئر حکومتی عہدیداران کو اپنا نشانہ بنایا۔

    بھارتیو!کرتارپورراہداری پاکستانیوں کے کشادہ دل ہونے کی نشانی ہے‘مہوش حیات پھربول اٹھیں‌

    بھارتی شہریوں کی طرف سے یہ خط اس انکشاف کے بعد کیا گیا کہ مودی اسرائیل سے خفیہ معلومات شیئر کرتے ہیں، دوسریطرف واٹس ایپ کی جانب سے سان فرانسسکو کی فیڈرل کورٹ میں دائر مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہےکہ این ایس او اسرائیلی حکومت کے 20 ممالک میں جاسوسی کے عمل میں سہولت کاری کررہی ہے ۔

  • وزریراعظم کی بھتیجی کا پرس چوری ، کیا قیتمی ترین اشیاء تھیں ، خبر آگئی

    وزریراعظم کی بھتیجی کا پرس چوری ، کیا قیتمی ترین اشیاء تھیں ، خبر آگئی

    نئی دہلی :ایک طرف ملک کے وزیراعظم اہم ترین مشن پر مصروف ہیں اور ملک میں امن و امان کی صورت حال کے بہتر ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیںتو دوسری طرف چور وزیراعظم کی بھتیجی کا پرس چھین کرفرارہو گئے ،اطلاعات کے مطابق ملک کے دارالحکومت دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھتیجی کا پرس لے کر فرار ہونے والے ملزم کو دہلی پولیس نے اتوار کو گرفتار کرلیاہے جبکہ دوسرے بدمعاش کی تلاش جاری ہے۔گزشتہ روز مودی کی بھتیجی سے یہاں ایک پاش علاقے میں دو بدمعاش ان کا پرس لے کر فرار ہو گئے تھے جس کے بعد معاملہ سامنے آنے پر دہلی پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کر دی تھی۔

    امریکہ سعودی عرب میں مفت میں فوج نہیں بھیج رہا ، ٹرمپ

    دہلی پولیس نے بتایا کہ چوری کے واقعہ کے بعد سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے ملزم کی شناخت کر لی گئی تھی اور پولیس کی ایک خصوصی ٹیم نے ملزم کا شناخت کیا۔ پولیس کو دیکھ کر ملزم نے فرار ہونے کی کوشش لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔پولیس کے مطابق ملزم کا نام نونو ہے اور اسے ہریانہ کے سونی پت کے بڈواني گاؤں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ملزم نونو کے پاس سے وزیر اعظم کی بھتیجی سے چرایا سارا سامان بھی برآمد کر لیا ہے۔

    دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    پولیس نے کہا کہ اس کے ساتھ ایک اور ملزم بھی اس میں شامل تھا جس کی تلاش کی جاری ہے اور اسے بھی جلد حراست میں لے لیا جائے گا۔واضح رہے کہ مودی کی بھتیجی دمينتی بین مودی صبح امرتسر سے دہلی لوٹی تھی۔ ان کا کمرہ سول لائنز علاقے میں واقع گجراتی سماج بھون میں بک کی گیا تھا۔ وہ پرانی دہلی سے آٹو سے فیملی کے ساتھ گجراتی سماج بھون پہنچیں گیٹ پر اتر ہی رہی تھی کہ اسکوٹی سوار دو بدمعاشوں نے ان کا پرس چھین لیا۔دمينتی نے خود کو مودی کی بھتیجی ہونے کا دعوی کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پرس میں تقریباً 56 ہزار روپے، دو موبائل اور کچھ اہم دستاویزات موجود تھے۔

    پاکستان،ایران خطے کے دواہم ملک ملکرمسائل حل کریں گے،ایرانی صدرحسن روحانی