Baaghi TV

Tag: مودی

  • بھارتی عدالت نے 8 کشمیریوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے:ظلم کا سلسلہ جاری

    بھارتی عدالت نے 8 کشمیریوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے:ظلم کا سلسلہ جاری

    نئی دہلی:بھارت کی ایک عدالت نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں منی لانڈرنگ کے جھوٹے الزامات میں 8 کشمیریوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں
    ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے پیش کردہ ایک درخواست پر غلام نبی خان، عمر فاروق شیرا، منظور احمد ڈار، ظفر حسین بٹ، نذیر احمد ڈار، عبدالمجید صوفی، مبارک شاہ اور محمد یوسف کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے۔۔ عدالت اس معاملے کی مزید سماعت 30 مارچ کو کرے گی۔

    یاد رہے کہ صرف جنوری 2022 ء میں 22 کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید اور 17 کو بدترین تشدد کے ذریعے زخمی کر دیا گیا اور اگر 5 اگست 2019 ء سے لے کر 31 دسمبر 2021 ء تک کی تفصیلات پر نظر ڈالی جائے تو اس عرصہ میں شہید کیے گئے کشمیریوں کی تعداد 681 بنتی ہے۔ ان میں 13 کشمیری خواتین بھی شامل ہیں جبکہ119 کشمیری نوجوان ناجائز قابض بھارتی فوج کے عقوبت خانوں میں تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ گھروں میںآئے روز کی جانے والی تلاشیوں کے دوران خواتین سے دست درازی سے مشتعل ہو کر بھارتی فوجیوں سے اُلجھنے والے 55 کشمیری موقع پر اپنے ہی گھر میں ماں باپ و بہن بھائیوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنائے گئے ۔

    اسی طرح کی تلاشیوں کے دوران 17 خواتین کو عصمت دری کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بھارتی فوج پر پتھر برسانے کے جرم میں کمسن بچوں کو گرفتار کیا گیا۔ لمینگی کی انتہا یہ ہے کہ گرفتار کیے گئے بچوں کی رہائی کیلئے کشمیریوں سے بھاری رشوتیں وصول کرنے کے علاوہ بچوں سے قریبی رشتہ رکھنے والی خواتین کی آبرو ریزی تک کی گئی۔ ان واقعات کو منظر عام پر لانے کے جرم میں 2 کشمیری صحافی شہید کردیئے گئے۔

    ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ابھی بھی 8 ہزار کشمیری بغیر مقدمات کے جیلوں میں بند ہیں۔ بیشتر بڑے تعلیمی ادارے بھارتی فوج نے اپنے تصرف میں لے رکھے ہیں جس سے وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کا مستقبل تاریک ہو چکاہے۔ کشمیریوں کو معاشی طور پر تباہ کرنے کیلئے ان کے کھیتوں و باغات میں فوج کے کیمپ لگا کر مالکان کا وہاں داخلہ ممنوع قرار دیا جا چکا ہے ۔ سیبوں کے درختوں کو کاٹا جا رہا ہے کشمیری خاندان ان کٹے ہوئے درختوں سے لپٹ کر کس طرح دھاڑیں مار کر رو رہے ہیں

  • مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:ششی تھرور

    مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:ششی تھرور

    نئی دہلی:مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:اطلاعات کے مطابق انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھارتی وزیر داخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری صحافیوں فہد شاہ، سجاد گل اور بھارتی مصنف صدیق کپن کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے لیے کردار ادا کریں جنہیں مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تھرور نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریںلوک سبھا میں زیرو آور کے دوران مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ فہد شاہ اور سجاد گل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غداری کے الزام میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جبکہ صدیق کپن اتر پردیش میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق کالے قانون یو اے پی اے کے تحت طویل عرصے سے حراست میں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر، اتر پردیش یا بھارت میں کہیں بھی صحافی محفوظ طریقے سے اور گرفتاری کے خوف کے بغیر اپنا کام کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ پر زور دیا کہ وہ بھارت میں آزادی صحافت کے تحفظ کے مفاد میں فہد شاہ، سجاد گل اور صدیق کپن کی فوری اور غیر مشروط رہائی میں سہولت فراہم کریں۔

    یاد رہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارت میں مجرم آزادانہ گھوم رہے ہیں جب کہ سچائی کیلئے کھڑے ہونے والے جیلوں میں بند ہیں۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی کا یہ تبصرہ بھارت میں بی جے پی کے مرکزی وزیر کے بیٹے کو عدالت سے ضمانت ملنے کے پس منظر میں آیا ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو ضمانت دے دی ہے جسے گزشتہ برس 3اکتوبر کو پیش آنے والے لکھیم پور کھیری واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔

    محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں لکھا” عمر خالد ، فہد شاہ ، وحید پرہ اور صدیق کپن الزامات کے تحت جیل میں بند ہیں لیکن ایک وزیر کا بیٹا فری ہو گیا، بھارت میں مجرم آزادنہ گھومتے ہیں اور سچ بولنے والوںکو چیل بھیج دیا جاتا ہے۔“

  • مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:عالمی ادارہ

    مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:عالمی ادارہ

    سری نگر:مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:اطلاعات کے مطابق نریندر مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد اس قتل عام کے خدشات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیرکو دنیا کے سب سے بڑے فوجی جماﺅ والے خطے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بھارتی فوجی انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی فوجی کالے قوانین کی آڑ میں روز بے گناہ کشمیریوں کو بے دردی سے قتل کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی مسلمانوں کا قاتل ہے اور وہ بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کر چکا ہے۔بین الاقوامی ماہرین نے بھی مقبوضہ علاقے میں نسل کشی کے آنے والے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

    امریکہ میں قائم Watch Genocideنے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیراور بھارتی ریاست آسام کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ جینوسائیڈ واچ کے بانی Gregory Stanton نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر اور آسام میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ان کے قتل عام کا پیش خیمہ ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھی خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو کشمیریوں کے بے رحمانہ قتل پر مجرمانہ خاموشی ترک کرنی چاہیے اور انہیں بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

  • بھارتی تاجر اور بیوی کی فیس بک لائیو پرخودکشی، بیوی ہلاک:مرتے وقت مودی کوقاتل قراردیا

    بھارتی تاجر اور بیوی کی فیس بک لائیو پرخودکشی، بیوی ہلاک:مرتے وقت مودی کوقاتل قراردیا

    نئی دہلی :بھارتی تاجر اور بیوی کی فیس بک لائیو پر خودکشی، بیوی ہلاک :مرتے وقت مودی کوقاتل قراردیا،اطلاعات کے مطابق بھارت میں حکومتی پالیسیوں اور حکومت کی معاشی ناکامیوں‌سے تنگ ایک شہریابھارت کے شہر بروت میں شادی شدہ جوڑے نے فیس بک پر لائیو آکر خودکشی کی کوشش کی جس میں بیوی ہلاک ہوگئی جب کہ شوہر کی حالت تشویشناک ہے۔

    بھارتی میڈیارپورٹ کے مطابق جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد کاروبار میں ہونے والے بھاری نقصان نے اس جوڑے کو انتہائی اقدام پر مجبور کیا۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام کے دشمن بن گئے ہیں اور اس وقت یہ صورت حال ہے کہ ہرطرف بے چینی اور پریشانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں‌

    ادھر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں جوتوں کا کاروبارکرنے والے راجیو تومڑ کو اہلیہ کے ہمراہ زہر کھاتے دیکھا گیا۔

    خودکشی کے خوفناک مناظر لائیو دیکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے پولیس کو اطلاع دی تو پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر راجیو اور ان کی اہلیہ کو اسپتال پہنچایا جس دوران بیوی انتقال کرگئی جب کہ شوہر کی حالت تشویشناک ہے۔

    ویڈیو میں تاجر کو آن لائن آکر زہر کھاتے دیکھا گیا جس کے بعد اس شخص کی اہلیہ نے شوہر کے منہ میں انگلی ڈال کر زہر نکالنے کی کوشش کی تاہم اس دوران اس شخص کو کہتے سنا جاسکتا ہےکہ ان کی موت کے ذمہ دار مودی ہیں۔

    راجیو کا کہنا تھا کہ اگرچہ میں یہ نہیں کہتا مودی نے سارے کام خراب کیے لیکن مودی کا چھوٹے تاجروں اور کاروباری افرادکے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔مودی کی مذمت جاری ہے

  • مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    نئی دہلی :سب سے پہلےہندوستان:مودی نے میڈیا پرشکنجہ کس دیا:اب کون کرے گا مودی کی مذمت:شریف برادران یا قوم کا ہمدرد میڈیا ،مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے ایک نئی اور سخت پالیسی بنائی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی صحافی کا رویہ بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کے منافی ہو یا اس کی تحریروں سے سکیورٹی، دیگر ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، اخلاقیات یا شائستگی کو نقصان پہنچتا ہو، یا وہ توہین عدالت، کسی کی توہین یا جرم کو بھڑکانے کا سبب بنتی ہوں، توایسے صحافی ایکریڈیٹیشن سے محروم کر دیا جائے گا ۔

    حکومت نے دس ایسے نکات بتائے ہیں، جن کی بنیاد پر صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن معطل کی جاسکتی ہے۔ ان میں کسی صحافی پر ”سنگین قابل سزا جرم” کا الزام عائد کیا جانا بھی شامل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے لیے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس یا وزیٹنگ کارڈز وغیرہ پر ‘بھارتی حکومت سے تسلیم شدہ’ لکھنا بھی ممنوع ہو گا۔ ماضی میں کسی صحافی کی ایکریڈیٹیشن کے وقت ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی جاتی تھی۔

    نئی شرائط کا مقصد صحافیوں پر کنٹرول

    ایکریڈیٹڈ صحافیوں کو وفاقی حکومت کے تقریباً تمام سرکاری محکموں اور دفاتر تک آسانی سے رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کارڈ کی بدولت انہیں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ بھارتی صدر اور وزیر اعظم کے بعض پروگرامو ں میں شرکت کے لیے بھی یہ ‘پریس کارڈ’ ضروری ہوتا ہے۔ اسے عرف عام میں ‘پی آئی بی کارڈ’ کہا جاتا ہے۔

    صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی کارڈ کے لیے نئے ضابطوں کے اعلان پر سخت تنقید کی ہے اور حکومتی طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور نے کہاکہ یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے اور حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل صحافیوں کی کسی تنظیم سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔

    ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور اور بھارتی صحافی اور پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا بھی سنجے کپور کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دراصل حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے صحافیوں کو الگ تھلگ کر دینے کی کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب کون مودی کی ان حرکتوں پر مودی کی مذمت کرے گا صحافیوں کے پیشے کا امتحان ہے

    بھارتی پریس قوانین کے مطابق کسی صحافی کو پی آئی بی کارڈ جاری کرنے سے قبل ایک کمیٹی اس کے جملہ کوائف کا جائزہ لیتی ہے، اس کے بعد پولیس کی خفیہ شاخ اس صحافی سے متعلق رپورٹ دیتی ہے اور کئی مراحل کی تکمیل کے بعد ہی یہ کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے کہ جو نئی کمیٹی بنائی گئی ہے، اس میں سرکاری عہدیداروں کی تعداد غیر ضروری حد تک بڑھا دی گئی ہے۔

    پی آئی بی ایکریڈیٹڈ صحافیوں کی تنظیم پریس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر سی کے نائیک نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ پہلے کمیٹی میں زیادہ سے زیادہ 12سرکاری عہدیدار ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کی تعداد بڑھا کر 18 کر دی گئی ہے جب کہ میڈیا اداروں سے وابستہ ارکان کی تعداد 12سے گھٹا کر چھ کر دی گئی ہے۔

    پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کے نمائندے اب اقلیت میں ہو گئے ہیں اور چونکہ ایکریڈیٹیشن کا کوئی بھی فیصلہ اکثریتی رائے سے ہوتا ہے، اس لیے اب حکومت اپنی من مانی کر سکتی ہے۔

    سنجے کپور کہتے ہیں کہ یہ واضح طور پر پریس کی آزادی پر حملہ ہے، ”یوں بھی اس وقت بھارت میں پریس کی آزادی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ حکومت نے پریس کی آزادی کے حوالے سے اپنے بیانیے گڑھ لیے ہیں۔ اب حکومت ہی طے کرتی ہے کہ پریس فریڈم کیا ہے؟ اس کا پریس کی آزادی کے حوالے سے مسلمہ عالمی اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

    رپورٹرز وِدآوٹ بارڈرز کے سالانہ پریس فریڈم انڈکس کے مطابق بھارت پریس کی آزادی کی رینکنگ کے لحاظ سے نیپال، سری لنکا اور میانمار (فوجی انقلاب سے قبل) سے بھی نیچے اور پاکستان (145ویں مقام پر) سے کچھ ہی آگے ہے۔ بھارت گزشتہ برس دو درجے مزید نیچے گر کر180ملکوں کی فہرست میں 142ویں پوزیشن پر آ گیا تھا۔ اس انڈکس کے مطابق بھارت دنیا میں صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک مقامات میں سے ایک ہے۔

    مودی حکومت تاہم اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتی۔ وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے اس رپورٹ کے حوالے سے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت تمام شہریوں بشمول صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ کو ‘انتہائی اہمیت’ دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کا طریقہ کار درست نہیں اور اس میں بنیادی حقائق کا خیال نہیں رکھا گیا۔

    پی آئی بی کارڈ کیا ہے؟

    بھارت میں حکومتی پالیسیوں، پروگراموں اور معلومات کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک ترسیل کا کام اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ماتحت ادارے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے ذمے ہے۔ یہ ادارہ روزناموں، ہفت روزہ یا پندرہ روزہ میگزینز، خبر رساں اداروں، غیر ملکی نیوز اداروں، ٹی وی چینلوں، نیوز ایجنسیوں اور بھارتی ٹی وی نیوز چینلوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو ان کے اداروں کی جسامت کی بنیاد پر پی آئی بی کارڈ یا ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کرتا ہے۔

    ایسے میڈیا اداروں کے علاوہ یہ کارڈ ایسے صحافیوں کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے، جنہیں کم از کم 15برس تک صحافت کا تجربہ ہو۔ 30 برس سے زیادہ تجربہ رکھنے والے یا 65 برس سے زائد عمر کے صحافیوں کو بھی ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے پی آئی بی کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔

    بھارت میں اس وقت تقریباً ڈھائی ہزار صحافیوں کے پاس یہ کارڈ ہے لیکن ان میں ایک بڑی تعداد مختلف وزارتوں کے ان سرکاری اہلکاروں کی بھی ہے، جو میڈیا سے رابطوں کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے حکومت کی نئی پالیسی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

  • ایک اورکشمیری نوجوان شہید کردیا گیا:مسرت عالم بٹ کا کشمیریوں کی منظم نسل کشی پر اظہار تشویش

    ایک اورکشمیری نوجوان شہید کردیا گیا:مسرت عالم بٹ کا کشمیریوں کی منظم نسل کشی پر اظہار تشویش

    سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے قابض بھارتی فورسزکی طرف سےعلاقے میں جاری قتل وغارت اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہارکیاہے۔

    مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کہاکہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بسنے والے ایک کروڑ لوگوں کو 10 لاکھ سے زائد قابض فوجیوں نے مسلسل محاصرے میں رکھا ہوا ہے جنہیں لوگوں کوقتل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔

    نظربند حریت چیئرمین نے کہاکہ تمام کالے قوانین کو نافذ کر دیا گیا ہے اور مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کی منظم نسل کشی کے لیے بھارتی فورسز کو ہرقسم کا تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم کی مذمت کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ اب جموں اور لداخ کی ہندو برادری کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ غیر ریاستی شہریوں کوبڑے پیمانے پر اراضی اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے جس سے مقبوضہ علاقے پر سماجی اور ثقافتی جارحیت کے علاوہ متعلقہ علاقوں کے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات پڑر ہے ہیں۔

    انہوں نے بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں حریت پسندکشمیری عوام کے شاندار کردار کو سراہا اور بھارتی تسلط، ریاستی دہشت گردی اور اس کی سامراجیت کاایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کشمیر کے بہادر عوام کے بلند حوصلوںپر اطمینان کا اظہار کیا۔

    انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری نسل کشی، ماورائے عدالت قتل، خواتین کی بے حرمتی اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیں۔ حریت چیئرمین نے1948 سے زیر التواءاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے جلد حل پر زور دیا۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں آج ضلع شوپیان میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔

    فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے نادی گام میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ اس سے قبل بھارتی فوج ، پیراملٹری سینٹرل ریزروپولیس فورس اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوںکو بند کردیااور گھر گھر تلاشی کی کارروائی شروع کی۔آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا۔

  • 2024 تک آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا،مودی سرکار کے مرکزی وزیرکی ہرزہ سرائی

    2024 تک آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا،مودی سرکار کے مرکزی وزیرکی ہرزہ سرائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کے مرکزی وزیر کپل پاٹل نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی آلو پیاز کی قیمتیں طے کرنے نہیں آیا، ایسے لگ رہا ہے کہ آزاد کشمیر بھی اگلے دو برسوں میں بھارت کا حصہ بن جائے گا

    بھارتی حکومت کے وزیر کپل پاٹل کا آزاد کشمیر کے حوالہ سے بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ماہ فروری شروع ہونے والا ہے اور پاکستان میں ہانچ فروری کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک بھی پاکستانی یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں، کپل پاٹل نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور کہا کہ مودی پیاز آلو کی قیمت طے کرنے نہیں آٰیا بلکہ بڑا مشن لے کر آیا، دیکھیں گے 2024 تک آزاد کشمیر بھی بھارت کا حصہ ہو گا،

    کپل پاٹل کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا رونا رونے والی بھارتی عوام سات آٹھ سو کا پیزا خرید کر کھا لیتی ہے ،سات سو کا مٹن لے لیتے ہیں لیکن دس بیس روپےکے آلو پیار پر مہنگائی مہنگائی کا شور مچایا جاتا ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مودی آلو پیاز کی قیمتیں طے کرے گا تو ایسا ہر گز نہیں، امت شاہ اور مودی دونوں جو کر رہے ہیں انہیں وہ کرنے دو،مودی کی ہی بھارت کا وزیراعظم رہنا چاہئے، ہم مودی سے اچھی امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں ،مودی نے سی اے اے (شہریت ترمیم قانون )، آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بیشتر دفعات کو ختم کرنے کا کام کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید 2024 تک پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر بھی بھارت کا حصہ ہو گا

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہو،ماضی میں بھی بھارت ایسے دعوے کرتا رہا ہے جسے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی دنیا نے بھی مسترد کیا ہے،بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ بھی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہہ چکے کہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور ہم اسے کر لے رہیں گے، اپنی اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم آزاد کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ، مودی سرکار نے کشمیر سے آرٹیکل 370 اور 35 اے ہٹا کر کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ بنا دیا

    مقبوضہ کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ کہ پاکستان پہلے صرف عسکریت پسند بھیجتا تھا اب اس نے کورونا وائرس کے مریضوں کو بھی بھیجنا شروع کردیا ہے۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

  • بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ:مسلمانوں کےقاتل مودی اورمودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:مشعال حسین ملک

    بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ:مسلمانوں کےقاتل مودی اورمودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:مشعال حسین ملک

    سری نگر:بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ ہے:مسلمانوں کے قاتل مودی اور مودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:اطلاعات کے مطابق حریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے یوم سیاہ کے موقع پرکہا کہ اپنے کشمیری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور بھائیوں کوان کی قربانیوں اورناقابل تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتی ہوں ۔

    اسلام آباد چیر پرسن پیس اینڈ کلچرآرگنائزیشن وحریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے 26جنوری کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 26جنوری 1950ء کا دن بھارتی یوم جمہوریہ نہیں بلکہ یوم سیاہ ہے ۔

    انکا کہنا تھا کہ آج کے دن 75 سال قبل بھارتی افواج بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگرپر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو محکوم بنانے کے لیے اتری تھیں۔

    مشعال حسین ملک نے کہا کہ جس کے بعد آج تک بھارتی افواج مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم وبربریت کی انتہاکرچکی ہیں ،کئی ماؤں کی گودوں کو اُجاڑ دیا گیا،کئی نوجوان بھارتی افواج کے ظُلم سے شہادت پاچکے ،کئی نوجوان اور عورتیں بھارتی بیلٹ گنز کا شکار ہوکراپنی بینائی کھوچکے ہیں ۔

    مشعال حسین ملک نے کہا کہ 5اگست2019ء کوبھارت نے ایک مقبوضہ وجموں کشمیر پر ایک اور ظُلم کیا اور وہ یہ کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل اور اس کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنےکی ایک بڑی سازش رچی اوراس صورتحال میں عالمی برادری خاموش تماشائی کا کرداراداکررہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح پاکستان نے بین الاقوامی قانون ، متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں کے ذریعے مسترد کیا۔

    مشعال حسین ملک نے بتایا کہ نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج نے 80 لاکھ کشمیریوں کو حراست میں لے کر مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

    انکا کہنا تھا کہ بھارت کے غیر انسانی فوجی محاصرے، مسلسل ناکہ بندی، مسلسل تشدد اور وحشیانہ جبر اور مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششوں نے ’ہندوتوا‘ سے چلنے والی بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت اور اس کے انتہا پسندانہ عزائم کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے ۔

    مشعال حسین ملک نے بتایا کہ بھارتی مظالم کی ہولناک نوعیت اور پیمانے کے باوجود، اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل کا سامنا کرنے کے باوجود،مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام نے ہمیشہ کی طرح غیر معمولی جرات، طاقت اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت وحشیانہ طاقت کے استعمال سے ان کی مرضی نہیں توڑ سکتا ۔

    حریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے مزید کہا کہ میں اپنے کشمیری ماؤں ،بہنوں ،بزرگوں اور بھائیوں کو یوم سیاہ کے موقع پر ان کی قربانیوں اور ان کے ناقابل تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتی ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اوریہ عہد کرتی ہوں کہ جب تک کشمیری بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج جائز حق خودارادیت حاصل نہیں کر لیتی انشا اللہ اپنی جدوجدجاری رکھوں گی ۔

    یاد رہے کہ بھارت کا یوم جمہوریہ آج مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔حریت کانفرنس کی اپیل پر وادی میں مکمل ہڑتال ہوگی، بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

  • بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    نیویارک :بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی سے متاثر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے 1989سے اب تک اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموںو کشمیر میں96ہزارسے زائد کشمیریوں کو شہید کیاجبکہ اس دوران مقبوضہ علاقے میں تقریبا 23ہزارخواتین کو بیوہ، 11ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور ایک لاکھ مکانات اور اسکولوں سمیت دیگر عمارتوں کو تباہ کیاگیا۔

    منیراکرم نے کہاکہ 5اگست 2019کے بعد سے 9لاکھ سے زائد بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیںجبکہ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے لیے جعلی مقابلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، کشمیریوں کی املاک کو تباہ اورنظر آتش کر کے انہیںاجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے مہلک پیلٹ گن کا استعمال کر کے سیکڑوں کشمیری بچوں کونابینا کردیا ہے جبکہ 13ہزار کشمیری نوجوانوں کو زبردستی حراست میں لیا گیا اور مقبوضہ کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ سال ایک جامع اور تحقیق شدہ ڈوزئیر جاری کیاتھا جس میں 1989سے بھارتی قابض افواج کے جنگی جرائم کے تین ہزار 432واقعات کے آڈیو اور ویڈیو شواہد شامل کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جرائم کے مصدقہ ثبوتوں کا نوٹس لے اور جنگی جرائم و بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔

    پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں ہے بلکہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے جبکہ پاکستان نے 2014سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروپوں سے پاک کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردانہ حملے ہیں، ان دہشت گرد حملوں کی مالی معاونت، سرپرستی اور حمایت کی جاتی ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ٹی ٹی پی اور جے یو اے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے مزید بتایا کہ 2020میں پاکستانی فوجی اور شہری اہداف کے خلاف ایک ہزار سے زائد سرحد پار دہشت گرد حملے کیے گئے، بھارت نے 29 جون 2020کو کراچی اسٹاک ایکسچینج سمیت پاکستانی فوجی اور شہری اہداف پر حملوں میں معاونت کی، بھارت نے سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل دہشت گرد اداروں کی مالی اعانت اور حمایت کی، 23جون 2021کو لاہور اور 14جولائی 2021کو داسو میں چینی اور پاکستانی انجینئروں کا قتل کیا۔

    منیر اکرم نے سلامتی کونسل کی توجہ فروری 2020میں نئی دلی میں مسلم مخالف قتل عام کی طرف بھی مبذول کرائی ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میںروزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی، گزشتہ سال بھارت میں عیسائی گرجا گھروں پر 400حملے کیے گئے۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ دو ہفتے قبل انتہا پسند ہندوتوا کی طرف سے بھارت کے مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان کیا گیا، سلامتی کونسل کو جینوسائیڈ واچ کے سربراہ کی بات ماننی چاہیے کہ ہندوستان میں نسل کشیُ ہو سکتی ہے۔

  • بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری

    بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری

    سری نگر :بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری،اطلاعات کے مطابق کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں تاکہ عالمی برادری کویاد دلایا جاسکے کہ بھار ت کی طرف سے کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینے سے مسلسل انکار ایک جمہوری ملک ہونے کے اس کے دعویٰ کی نفی کرتا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ، میرواعظ عمر فاروق، شبیراحمد شاہ اورجموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے دی ہے اور دیگر حریت رہنماؤں نے اس کی حمایت کی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں آج کشمیری سول کرفیو نافذ کر رہے ہیں جبکہ قابض انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔کشمیری اوران کے ہمدرد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی طرف مبذو ل کرانے کیلئے عالمی دارلحکومتوں میں بھارت مخالف مظاہرے اورریلیاں نکال رہے ہیں۔

    ادھر بھارتی قابض انتظامیہ نے پوری وادی کشمیر اور جموں خطے کے متعدد علاقوں کو نام نہاد سیکورٹی کے نام پر کرفیو جیسی پابندیاں لگا کر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیاہے۔ بھارتی فوجی اور پولیس اہلکارلوگوں کو چیک پوسٹوں پر رکنے پر مجبور کررہے ہیں اور ان کی سخت تلاشی لے رہے ہیں۔ 26 جنوری کی تقریبات کے مرکزی مقامات بالخصوص کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار سرینگر اور مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں کے ارد گرد بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

    دونوں اسٹیڈیموں کی طرف جانے والی سڑکوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے ۔بلند عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کئے گئے ہیں جبکہ لوگوں کی نگرانی کیلئے سراغرسا ں کتے اور ڈرونز اور سی سی ٹی وی کیمرے استعمال کئے جارہے ہیں۔نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں نئے بنکرز اور رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئی ہیں۔فورسز اہلکار اچانک گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔