Baaghi TV

Tag: مودی

  • مودی سندور کا سوداگر ہے ،بھارتی خواتین  مودی کی غیر سنجیدہ بیان بازی پر برہم

    مودی سندور کا سوداگر ہے ،بھارتی خواتین مودی کی غیر سنجیدہ بیان بازی پر برہم

    بھارتی عوام نے مودی کو غیر سنجیدہ بیان بازی پر کہا کہ جو خود سندور کا مان نہ رکھ سکا وہ اس کی قیمت کیا جانے-

    بھارتی خواتین کا مودی کے بیان پر کہنا ہے کہ مودی سندور کا سوداگر ہے جو خود سندور کا مان نہ رکھ سکا وہ اس کی قیمت کیا جانے، آپریشن سندور نام رکھ دینے سے آپ سچائی نہیں چھپا سکتے پہلگام میں بیوہ ہونے والی خواتین کا اب تک مداوا کیوں نہیں کیا گیا، بھاری فوج کی موجودگی میں دہشتگرد کارروائی کرکے چلے گئے وہ اب تک کیوں نہیں پکڑے گئے۔

    بھارتی خواتین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے کہنے پر سیز فائر کیوں کیا؟، آپ کس بات کے وزیراعظم ہیں، حملے کے بعد آپ پہلگام کیوں نہیں گئے مودی لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، صرف گودی میڈیا ہی مودی کے گن گا رہا ہے، اصلیت عوام سے پوچھیں، پہلگام متاثرین کی دادرسی کے بجائے مودی بہار میں الیکشن کمپین چلا رہے ہیں۔

    خضدارحملے میں زخمی مزید دو طالبات دم توڑ گئیں

    اسلام میں کفر اور حق آپس میں اکٹھے نہیں ہوسکتے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    شمالی کوریا کا نیا جنگی بحری جہاز لانچنگ کے دوران تباہ

  • سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ  کی  واشنگٹن آمد پر احتجاج

    سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد پر احتجاج

    واشنگٹن ڈی سی میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی آمد کے خلاف سکھ برادری کے رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا۔

    احتجاج میں شریک مظاہرین نے خالصتان تحریک کے حق میں نعرے بازی کی اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں اور ان کی پالیسیاں سکھوں کے خلاف سازشوں کی عکاسی کرتی ہیں۔مظاہرین نے اپنے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی پرچم پر تلواروں سے حملہ کیا اور نعرے لگائے کہ بھارت کی حکومت سکھوں کے خلاف عالمی سطح پر جرائم میں ملوث ہے۔ یہ احتجاج واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ میں ایس جے شنکر کی ملاقات کے دوران کیا گیا، جہاں خالصتان کے حامیوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی موجودگی میں سخت احتجاج کیا۔

    احتجاج کے دوران ڈاکٹر بخشش سنگھ سندھو نے کہا کہ "ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں اور ان کے اقدامات عالمی سطح پر سکھوں کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے حقوق کی پامالی کر رہی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ایس جے شنکر نہ صرف بھارت میں سکھوں کے خلاف ظلم کی حمایت کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس معاملے میں بھارت کی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہیں۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

    مظاہرین نے اس موقع پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی کو فروغ دے رہی ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ مظاہرین نے ایس جے شنکر کے ساتھ ملاقات کرنے والے امریکی حکام پر بھی تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے خلاف نسل کشی کی سازش کر رہی ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کو ایک سخت موقف اپنانا ہوگا۔

    اس احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے بھارتی حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک بھارت اپنے سکھ شہریوں کے حقوق کا احترام نہیں کرتا، تب تک اس کے حکام کو عالمی سطح پر مسترد کرنا چاہیے۔

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خود دیے گئے لقب "ٹیرِف مین” پر قائم ہیں۔ اس بار، وہ اپنی حلف برداری سے پہلے دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اس ماہ کے شروع میں، ٹرمپ نے برکس ممالک کو خاص طور پر نشانہ بنایا، اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایک نئی کرنسی تشکیل دیتے ہیں یا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی اختیار کرتے ہیں، تو ان پر 100 فیصد ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔بھارت، جو کہ برکس کا بانی رکن ہے اور اس تنظیم میں چین اور روس جیسے ممالک شامل ہیں، اس وقت اس عالمی تنظیم میں طاقتور اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھارتی تجارتی تعلقات کے حوالے سے نئی دہلی کو "بہت بڑا بدسلوکی کرنے والا” قرار دیا تھا، اور اس پر الزامات لگائے تھے۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیکس عائد کیے تھے، جس سے جوابی اقدامات کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کو ترجیحی تجارتی حیثیت سے محروم کر دیا، جس سے بھارت کی اربوں ڈالر مالیت کی مصنوعات امریکی ٹیکسوں سے مستثنیٰ تھیں، اور اس فیصلے نے بھارتی حکام میں غصے کی لہر دوڑائی۔تاہم، ان سب کے باوجود، منتخب صدر ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ گرم جوش ذاتی تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی تھی، خاص طور پر جب ٹرمپ نے مودی کے گھر کے ریاست گجرات کا دورہ کیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ قریبی تعلقات بھارت کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں فائدہ دے سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے اقتدار میں بھارت کی پوزیشن ایک منفرد مقام پر آتی ہے۔ Harsh Pant، جو کہ اوبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ "دیگر برکس ممالک جیسے روس، چین اور برازیل امریکہ مخالف جذبات رکھتے ہیں، لیکن بھارت ان میں شامل نہیں ہے۔” بھارت کی اس منفرد پوزیشن کو اس کے حق میں سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس کی اقتصادی طاقت اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کے پیش نظر۔برکس ممالک کے درمیان یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ امریکی ڈالر سے دوری اختیار کریں اور اپنی مشترکہ کرنسی تشکیل دیں یا کسی دوسرے مالیاتی نظام کی طرف بڑھیں۔ ایسے میں ٹرمپ کا دباؤ بھارت کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ گروپ کے دیگر اراکین کو اس راستے پر چلنے سے روکے تاکہ امریکہ کے ردعمل سے بچا جا سکے۔

    بھارت میں اب بھی امریکہ کے لیے مثبت جذبات پائے جاتے ہیں، اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مضبوطی آئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے رہے، اور اس کی وجہ سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کا دوسرا دور زیادہ خلفشار کا باعث نہیں بنے گا۔بھارتی وزیر خارجہ سبھرمیمنیم جے شنکر نے حال ہی میں کہا تھا کہ بھارت امریکی ڈالر کی طاقت کو کمزور کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت امریکی کرنسی کے ساتھ اپنے تعلقات میں استحکام کی خواہش رکھتا ہے۔

    مودی اور ٹرمپ نے اپنے ذاتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کے دورے پر بھارتی وزیراعظم مودی کو ٹیکساس میں "ہاؤڈی مودی” ریلی میں زبردست پذیرائی ملی تھی۔ اس کے بعد، 2020 میں، احمد آباد میں "نمستے ٹرمپ” کے عنوان سے ہونے والی ریلی میں 1,25,000 افراد نے ٹرمپ کا خیرمقدم کیا تھا۔اگرچہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات نے امریکہ کے حق میں توازن برقرار رکھا ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد عمومی ٹیکس بھارت پر اثرانداز ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت امریکی مارکیٹ میں بہت زیادہ برآمدات کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں، امریکہ نے بھارت سے تقریباً دوگنا مال درآمد کیا ہے جو اس نے بھارت کو برآمد کیا۔

    بھارت اب ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز بن چکا ہے، خاص طور پر کمپنیوں جیسے ایپل کے لیے، جو چین کے بجائے بھارت میں اپنی سپلائی چین کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 2024 کے ابتدائی 10 مہینوں میں، امریکہ نے بھارت سے 73 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کیں، جبکہ بھارت کو امریکہ سے صرف 35 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔اگرچہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم بھارت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرے اور اپنے عالمی مقام کو مزید مستحکم کرے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان مضبوط ذاتی تعلقات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں فاصلہ کم ہو گا،

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • مودی کو بم سے اڑانے کی دھمکی،ادارے متحرک

    مودی کو بم سے اڑانے کی دھمکی،ادارے متحرک

    بھارتی وزیراعظم مودی کو دھمکی کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو گئے ہیں

    ممبئی پولیس نے ہفتہ کے روز ایک اہم اطلاع حاصل کی ہے، جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ دھمکی آمیز پیغام راجستھان کے اجمیر سے ایک رجسٹرڈ نمبر سے بھیجا گیا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے اور اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دو ایجنٹس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بم دھماکہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس پیغام میں دھمکی دی گئی تھی کہ مودی کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیغام بھیجنے والا شخص ممکنہ طور پر ذہنی طور پر غیر مستحکم یا شراب کے نشے میں ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    اس دھمکی کے بعد، پولیس نے انڈین جسٹس کوڈ کی مناسب دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

    دوسری جانب، ممبئی ٹریفک پولیس کو گزشتہ 10 دنوں کے دوران سلمان خان کو جان سے مارنے کی دھمکی والے دو پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جمعہ، 7 دسمبر 2024 کو بھیجے گئے ایک حالیہ پیغام میں کہا گیا تھا: "اگر سلمان خان اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو انہیں راجستھان کے بشنوئی برادری کے مندر میں جا کر معافی مانگنی ہوگی، یا پھر 5 کروڑ روپے دینا ہوں گے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ بشنوئی گینگ ابھی بھی سرگرم ہے۔”

    اس دھمکی کے پیچھے بشنوئی گینگ کے ملوث ہونے کے شبہات بھی ہیں۔ سلمان خان کو پہلے بھی لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس گینگ کے ارکان پہلے بھی سلمان خان کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں، جن میں اپریل 2024 میں اداکار کے باندرہ میں واقع گھر کے باہر فائرنگ کی واردات شامل ہے۔ لارنس بشنوئی خود قتل اور بھتہ خوری کے کیسز میں احمد آباد کی سابرمتی جیل میں قید ہیں۔

    اداکار سلمان خان کی سیکیورٹی میں اضافے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا، "یہ دھمکی بہت سنجیدہ نہیں لگتی، لیکن ہم کسی بھی قسم کی دھمکی کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔” پولیس نے سائبر ماہرین کے ساتھ مل کر پیغام بھیجنے والے کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افسر نے مزید کہا، "ہم یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ پیغام واقعی بشنوئی گینگ سے جڑا ہوا تھا یا یہ صرف مذاق کا حصہ تھا۔”

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک

    دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک

    دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک ہو گئی ہے

    ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی اپنے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کی دوبارہ متحرک ہو ئی ہے،کسان یونینوں اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد، پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے دہلی چلو تحریک 6 دسمبر سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے،”دہلی چلو مارچ” کسان مزدور مورچہ اور کسان یکجہتی مورچہ کے زیر اہتمام ہو رہاہے،ہریانہ میں بی جے پی کی مزاحمت کے بعد، کسانوں نے ٹریکٹر کی بجائے چھوٹے جتھوں میں دہلی پیدل جانے کا فیصلہ کیا ہے،کسانوں کے ‘دہلی چلو’ مارچ کے پیش نظر دارالحکومت کی سرحدوں اور اس سے متصل پورے خطے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں

    کسان رہنما سرون سنگھ پانڈھر کے مطابق،”مودی سرکار کسانوں کے جائز مطالبات کو نظرانداز کر رہی ہے، حالانکہ وہ پچھلے 10 مہینوں سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں”ہم نے احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ہریانہ پولیس کو آگاہ کیا کہ ہمارا مارچ پرامن ہوگا،وزیر مملکت برائے ریلوے روینت سنگھ بٹّو اور ہریانہ کے وزیر زراعت نے کسانوں کو دہلی پیدل جانے کا اشارہ دیا، وقت آگیا ہے کہ وہ وعدوں کو پورا کریں،کسان رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دہلی جانے کی اجازت نہ ملی تو تصادم ہوگا

    فروری میں کسانوں کی دہلی جانے کی پہلی کوشش ہریانہ میں سیکورٹی فورسز کی سخت مزاحمت کا شکار ہوئی، جس میں کئی کسان جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے،”دہلی چلو مارچ” کسانوں کے اتحاد اور مودی سرکار کی زرعی پالیسی میں کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بنی ہوئی ہے،مودی سرکار کسان مارچ تحریک اور آزادی حق رائے کا گلا گھو نٹ کر اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کو پروان چڑھانا چاہتی ہے

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • مودی اور سیکولر بھارت

    مودی اور سیکولر بھارت

    بھارت میں ہندو قوم پرستی نے ہمیشہ ان اہم لمحات میں زور پکڑا جب سیاسی رہنماؤں نے جو خود کو سیکولر ظاہر کرتے ہیں، انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ گزشتہ صدی کے دوران یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچ چکا ، جس کی ایک بڑی مثال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، جنہوں نے سیکولرازم کو ترک کرتے ہوئے مذہب پر مبنی قومی شناخت کو ترجیح دی ہے۔

    1923 میں ونائیک دامودر ساورکر نے ایک جارحانہ ہندو مرکزیت پر مبنی ہندوتوا کا نظریہ پیش کیا۔ ہندو دھرم کی برابری کے روحانی اصولوں سے ہٹ کر، ساورکر نے لوگوں کو "دوستوں” اور "دشمنوں” میں تقسیم کیا۔ دوست وہ تھے جو نسب اور وفاداری کے ذریعے بھارت سے جڑے تھے، جبکہ دشمن وہ تھے جنہیں غیر ملکی یا غیر وفادار سمجھا جاتا تھا۔ لگ بھگ ایک دہائی بعد، جرمن نازی نظریہ ساز کارل شمٹ نے سیاست کو اسی طرح دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کیا۔

    1925 میں ساورکر سے متاثر ہو کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) قائم کی گئی جو اس تحریک کا عسکری ونگ تھا۔ آر ایس ایس نے نوجوانوں کو عسکری تربیت دی اور ایک مثالی ہندو ماضی پر فخر کرنے کا جذبہ پیدا کیا، جس کا مقصد ایک متنازع نظریہ کو فروغ دینا تھا۔ نریندر مودی، آر ایس ایس کے نمایاں ارکان میں سے ایک ہیں اور وہ اسی تحریک سے کھل کر سامنے آئے،

    دوسری جانب، انڈین نیشنل کانگریس، مہاتما گاندھی کی قیادت میں، ایک سیکولر اور متحدہ بھارت کی حمایت کرتی رہی، جس کا مقصد برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، ہندوتوا کے حامیوں نے گاندھی کے مذہبی ہم آہنگی کے پیغامات کو مسلمانوں کے لیے رعایت سمجھا۔جس کے نتیجے میں 1948 میں ساورکر کے نظریے کے پیروکار کے ہاتھوں گاندھی کا قتل ہوا۔

    آزادی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کے لیے ایک سیکولر وژن کی وکالت کی، جو معاشی اور سماجی ترقی کی خواہشات پر مبنی تھا۔ لیکن نہرو کی 1964 میں وفات کے بعد، کمیونل نظریات کانگریس کے اندر اور باہر دونوں جگہ مقبول ہونے لگے۔ سیکولرازم کو ایک بڑا دھچکا 19 اپریل 1976 کو لگا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے نے ایمرجنسی کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دن دہلی کی جامع مسجد کے قریب جبری نس بندیوں سے آغاز ہوا اور ترکمان گیٹ پر مسلمانوں کے انخلاء اور قتل عام پر ختم ہوا۔1976 کے ترکمان گیٹ کے تشدد کے 16 سال بعد، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے نے ایک اور لہر کو جنم دیا، جس سے بھارت کے سیکولر نظریات مزید کمزور ہو گئے۔

    آج، ہندوتوا،جو ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے بہت مختلف ہے، اکثر بھارت کے ایلیٹس کی خاموش حمایت کے ساتھ سیاست اور ثقافت میں سرایت کر چکا ہے، مودی، جو ایک پجاری جیسا عوامی کردار اپناتے جا رہے ہیں، کے دور میں ایک سیکولر بھارت کا خواب ایک مذہبی طور پر متعین ریاست کے عروج سے دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

  • امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر کی رشوت دی اور سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے ان کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

    اڈانی کے وارنٹ جاری ہونے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کرائن جین پیئر نے کہا ہے کہ "ہم اڈانی پر لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں۔ ان الزامات کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ انصاف سے رجوع کرنا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور یہ تعلقات مستقبل میں بھی برقرار رہیں گے۔

    نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی سمیت آٹھ افراد پر اربوں روپے کے فراڈ اور رشوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے اٹارنی کے دفتر کا کہنا ہے کہ اڈانی نے ہندوستان میں شمسی توانائی سے متعلق ایک معاہدہ حاصل کرنے کے لیے حکام کو 265 ملین ڈالر (تقریباً 2200 کروڑ روپے) کی رشوت دی۔

    اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور جرم ثابت ہونے تک ملزمان بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔ گروپ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • روس کیخلاف جنگ میں مدد،امریکہ نے بھارتی کمپنیوں،شہریوں پر لگائی پابندی

    روس کیخلاف جنگ میں مدد،امریکہ نے بھارتی کمپنیوں،شہریوں پر لگائی پابندی

    امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں مدد دینے پر 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکہ نے بھارت کی 19 نجی کمپنیوں اور دو بھارتی شہریوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ یہ اقدام یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں میں مدد دینے کے الزام میں اٹھایا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ,اس سے قبل بھی بھارتی کمپنیوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اس بار کا اقدام خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، خاص طور پر ایک بھارتی شہری کے حوالے سے ایک سازش کے الزام میں جو سکھ علیحدگی پسند رہنما پنن کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں بھارت کی تحقیقات سے "معنی خیز جوابدہی” تک مطمئن نہیں ہوگا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا، "امریکہ آج تقریباً 400 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے تاکہ روس کی غیر قانونی جنگ میں اس کی مدد کو روک سکے۔” اس کے تحت 120 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ خزانہ کے محکمے نے 270 سے زیادہ افراد اور اداروں پرپابندی عائد کی ہے،امریکہ کی جانب سے یہ اقدام چین، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی مختلف کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جنہوں نے روس کو اہم سامان فراہم کیا ہے۔

    بھارتی کمپنیوں جنہوں نے روس کی جنگ میں مدد کی اور ان پر پابندی لگائی گئی ان میں اسینڈ ایوی ایشن انڈیا پرائیویٹ، ماسک ٹرانس، ٹی ایس ایم ڈی گلوبل پرائیویٹ لمیٹڈ، اور فیوٹریوو و دیگر شامل ہیں،امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں اس کے عزم کا حصہ ہیں کہ وہ روس کی فوجی بیس کو کمزور کرنے اور جنگ کی مالی معاونت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام کا استحصال کرنے سے روکیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ اسینڈ ایوی ایشن نے مارچ 2023 سے مارچ 2024 کے دوران روسی کمپنیوں کو 700 سے زائد شپمنٹس بھیجی ہیں، جن میں 200000 ڈالر سے زیادہ مالیت کی اہم ترین اشیاء (کامن ہائی پرائیرٹی لسٹ یا سی ایچ پی ایل آئٹمز) شامل تھیں۔ماسک ٹرانس کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے جون 2023 سے اپریل 2024 کے دوران روس کو 300000 ڈالر سے زائد مالیت کی سی ایچ پی ایل اشیاء فراہم کی ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب امریکا نے بھارتی کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے، اس سے پہلے نومبر 2022 میں ایس آئی 2 مائیکرو سسٹمز پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، اس کمپنی پر الزام تھا کہ یہ روسی ملٹری کو امریکی نژاد انٹیگریٹڈ سرکٹ فراہم کر رہی تھی، جو جنگ میں استعمال ہو سکتے تھے۔

    امریکا کی ان پابندیوں کا مقصد روس پر معاشی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ اسے یوکرین پر حملہ روکنے پر مجبور کیا جا سکے، امریکا کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی امن کی پاسداری اور عالمی قوانین کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں،ان پابندیوں کے تحت ان کمپنیوں کا امریکی منڈی میں داخلہ، مالی وسائل تک رسائی اور دیگر تجارتی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں،امریکا کا کہنا ہے کہ جو بھی عالمی ادارہ روسی جنگ میں شامل ہوگا یا اس کی مدد کرے گا، اسے ایسی ہی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا،متعدد امریکی صدور نے روس پر پابندیاں سخت کی ہیں، جس کے نتیجے میں ماسکو نے بھارت، چین اور عالمی جنوبی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بڑھایا ہے۔ جب روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا، تو صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی قیادت کرے گا تاکہ روس کے خلاف ایک اقتصادی جنگ شروع کی جا سکے، جس سے ماسکو کی معیشت متاثر ہو اور کریملن کی جنگی مشین رک جائے۔خزانہ کے شعبے کا دعویٰ ہے کہ حالیہ پابندیاں ماسکو کی معیشت پر اثرانداز ہونے والی اقتصادی جنگ کا نتیجہ ہیں۔

    مودی نے بھارتی فوج کی وردی پہن کر فوجی جوانوں کے ہمراہ منائی دیوالی

    اکھنور ،بھارتی فوج کا تربیت یافتہ کتا”فینٹم”مقابلے میں ہلاک

    بھارتی ایئر لائنز کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں،ہیکرزکا وی پی این کا استعمال

    ایک ہی دن میں انڈیا کے درجنوں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول

    امریکن ایئر لائنز پھر بحران کا شکار،ملازمین نوکریوں سے فارغ

    کوکین سمگل کرنے کا جرم،امریکن ایئر لائن کے سابق مکینک کو سزا

    جہاز میں بم ہے،پرچی ملنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ

    بم کی دھمکی ملنے کے بعد بھارتی ایئر لائن کا رخ موڑ دیا گیا

  • مودی نے بھارتی فوج کی وردی پہن کر فوجی جوانوں کے ہمراہ منائی دیوالی

    مودی نے بھارتی فوج کی وردی پہن کر فوجی جوانوں کے ہمراہ منائی دیوالی

    بھارت بھر میں دیوالی، جو روشنیوں کا تہوار ہے، دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے۔

    دیوالی کی تیاریوں کا آغاز کئی ہفتے پہلے ہی ہو جاتا ہے۔ لوگ اپنے گھروں کی صفائی کرتے ہیں، نئے کپڑے خریدتے ہیں اور مختلف قسم کی مٹھائیاں تیار کرتے ہیں۔ بازاروں میں بھی خاص رونق ہوتی ہے، جہاں لوگ دیوالی کی خریداری کے لیے رش لگاتے ہیں۔ تہوار کے دن، لوگ اپنے گھروں کو روشنیوں سے سجاتے ہیں۔ دیاں، لائٹس، اور رنگ برنگی چیزیں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ بچے پھلجڑیوں کا شوق بھی پورا کرتے ہیں، جس سے ماحول میں خوشی اور جوش و خروش پیدا ہوتا ہے۔ دیوالی کے دن لوگ اپنے گھروں میں خاص پوجا کرتے ہیں، اس دن لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔ دیوالی کا تہوار نہ صرف روشنی اور خوشی کا پیغام ہے بلکہ یہ محبت، بھائی چارے اور امید کا بھی اظہار کرتا ہے۔ بھارت کے مختلف حصوں میں اس تہوار کی اپنی خاص روایات ہیں، جو اسے مزید دلچسپ بناتی ہیں۔اگرچہ اس سال دیوالی کی تقریبات میں کچھ مقامات پر فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے، لیکن لوگ اس دن کی خوشیوں کو بھرپور طریقے سے منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔دیوالی کی یہ تقریبات ہر سال کی طرح لوگوں کو خوشی، امن اور خوشحالی کی یاد دلاتی ہیں۔

    دیوالی کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے ضلع کچھ میں بھارتی فوج کے جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی اور انہیں مٹھائی پیش کی،اس دوران بھارتی وزیراعظم مودی فوجی وردی میں نظر آئے،مودی نے دیوالی کے موقع پر ایکس میں جاری ایک پیغام میں کہا کہ ہم وطنوں کو دیوالی کی بہت بہت مبارکباد۔ روشنیوں کے اس تہوار پر میں سب کی صحت، خوشی اور خوشحال زندگی کی خواہش کرتا ہوں۔ قبل ازیں گجرات کے نرمدا ضلع کے ایکتا نگر میں خطاب کرتے ہوئے مودی کا کہنا تھا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے اندر اور باہر کچھ عناصر ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بھارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو غلط پیغام دے رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ب آسام کے تیز پور میں 4 کور ہیڈ کوارٹر میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ دیوالی منائی،اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ دیوالی کے موقع پر آپ کے درمیان ہوں، مجھے توانگ جانا تھا، مگر شاید اوپر والا یہی چاہتا تھا کہ میں تیز پور میں آپ بہادر سپاہیوں کے ساتھ دیوالی مناؤں،ہم بہتر تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں، لیکن بعض اوقات حالات ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ ہمیں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔ حکومت امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، اور آپ کا یہاں رہ کر حفاظت کرنا بہت متاثر کن ہے۔، جب بھی میں آپ کے درمیان آتا ہوں تو مجھے نئی توانائی ملتی ہے۔ آپ لوگ اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں تو گھر کی کمی محسوس ہونا فطری ہے۔ آپ کی لڑائیاں دنیا کو نظر آتی ہیں، مگر آپ کے اندر کی روزمرہ کی لڑائی بھی اہم ہے۔

    رقص کی برہنہ ویڈیو وائرل ہونے پرخواجہ سرا ڈولفن ایان نے جاری کیا ویڈیو پیغام

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

  • جرمن چانسلر کا دورہ بھارت،مودی سے ملاقات

    جرمن چانسلر کا دورہ بھارت،مودی سے ملاقات

    جرمن چانسلر اولاف شولز نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے ایک اہم موقع تھا۔

    جرمن چانسلر اولاف شولز نے 18ویں ایشیا پیسفک جرمن بزنس کانفرنس میں شرکت سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ان کی سرکاری رہائش گاہ لوک کلیان مارگ پر ملاقات کی، ملاقات کے دوران، شولز اور مودی نے تجارت، سرمایہ کاری، اور ماحولیاتی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔جرمنی اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے، اور دونوں رہنما اس بات پر متفق ہوئے کہ اس رفتار کو برقرار رکھا جائے۔ چانسلر شولز نے کہا، "ہمیں اپنی معیشتوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ ہو۔”اس کے علاوہ، ماحولیات کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے گرین ٹیکنالوجیز اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    مودی نے شولز کے دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا، "یہ دورہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کی نئی راہیں کھولے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور جرمنی کی دوستی عالمی سطح پر اہم ہے اور اس کا اثر بین الاقوامی مسائل پر بھی پڑتا ہے۔دورے کے دوران کئی اہم معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے، جن میں ٹیکنالوجی، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ یہ معاہدے دونوں ممالک کے عوام کے لئے نئے مواقع فراہم کریں گے

    جرمن چانسلر بعد ہفتے کے روز گوا کا دورہ کریں گے، جہاں جرمن بحری جنگی جہاز ‘بیڈن-ورٹمبرگ’ اور جنگی امدادی جہاز ‘فرینکفرٹ ایم مین’ جرمنی کی انڈو پیسیفک تعیناتی کے حصے کے طور پر ایک نامزد بندرگاہ پر رکیں گےجرمن چانسلر اس سے پہلے دو بار بھارت کا دورہ کر چکے ہیں، پچھلے سال فروری 2023 میں دو طرفہ سرکاری دورے کے لیے اور ستمبر 2023 میں G-20 رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس میں جرمن چانسلر شریک ہوئے تھے.