Baaghi TV

Tag: موسمیاتی تبدیلی

  • موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں ، احسن اقبال

    موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں ، احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 5 ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں

    اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے دورے کے بعد نیوز بریفنگ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے مون سون سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا تھا، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کر رہی ہے،پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 5 ممالک میں شامل ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اب تک مون سون کے دوران 109 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم زیادہ تر اموات سیلابی ریلوں سے نہیں بلکہ عمارتوں اور دیگر انفراسٹرکچر کے گرنے کے باعث ہوئیں،پاکستان کو 2022 اور 2025 میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں، حکومت سیلاب اور شدید حدت سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک نے کہا کہ دنیا کے چند بڑے ممالک گرین ہاؤس گیسز کے سب سے بڑے اخراج کنندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے صرف 3 ممالک تقریباً 57 فیصد جبکہ 10 ممالک 70 فیصد سے زائد گرین ہاؤس گیسز خارج کر رہے ہیں،پاکستان گرین ہاؤس گیسز کے بڑے اخراج کنندگان میں شامل نہیں، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہا ہےدرجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے تباہ کن سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور تباہ کن سیلابوں کا سبب بن رہا ہے۔ تباہی کوئی اور پھیلا رہا ہے، لیکن اس کی قیمت پاکستان جیسے ممالک ادا کر رہے ہیں، پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی ناانصافی اور دوہرے معیار کے معاملے کو بارہا اجاگر کر رہا ہے اور دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غریب اور کم آلودگی پھیلانے والے ممالک پر موسمیاتی تباہی مسلط نہیں کی جا سکتی۔

    مصدق ملک نے کہا کہ حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں میں ہزاروں پاکستانی جانیں ضائع ہوئیں، اسی لیے پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی انصاف کا مقدمہ بھرپور انداز میں اٹھا رہا ہے اور اپنے موسمیاتی حقوق کے لیے ہر بین الاقوامی فورم پر مؤثر آواز بلند کرتا رہے گا وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تمام متعلقہ ادارے ایک مربوط نظام کے تحت کام کر رہے ہیں اور سیکیورٹی، منصوبہ بندی، مالیات، اطلاعات اور آبی وسائل سے متعلق اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم کی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا سائنس، ڈرونز، سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پیشگی وارننگ اور بروقت فیصلہ سازی کا مؤثر نظام فعال بنایا جا سکے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں اس مرتبہ معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے، تاہم حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

  • موسمیاتی تبدیلیاں آج ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں،سراج الحق

    موسمیاتی تبدیلیاں آج ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں،سراج الحق

    سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق ک اکہنا ہے موسمیاتی تبدیلیاں آج ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ہیٹ ویوز، غیر موسمی بارشیں، گلیشیئرز کا پگھلنا اور اچانک سیلاب معمولاتِ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔

    اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ افسوس کہ ہر سال وقتی اقدامات ہوتے ہیں مگر مستقل منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ حکومت کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ابتدائی وارننگ سسٹم اور شجرکاری پر فوری توجہ دینا ہوگی، جبکہ ہمیں بھی پانی و توانائی کے محتاط استعمال اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے کی ضرورت ہے۔

    موسمیاتی تبدیلیاں واقعی آج کے دور کا سب سے بڑا اور خطرناک چیلنج بن چکی ہیں۔ پاکستان میں ان کے اثرات شدت سے ظاہر ہو رہے ہیں
    شدید گرمی کی لہریں (ہیٹ ویوز): درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہے، پانی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، اور توانائی کے نظام پر شدید دباؤ پڑتا ہے بارشوں کے روایتی پیٹرن بدل چکے ہیں۔ خشک سالی کے دوران اچانک اتنی تیز بارشیں ہو جاتی ہیں کہ زمین انہیں جذب نہیں کر پاتی۔

    شمالی پاکستان کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے جھیلیں ٹوٹنے کے واقعات (GLOF) میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے گلیشیئرز کے پگھلنے اور غیر موسمی بارشوں کے امتزاج سے ہنگامی سیلاب آتے ہیں، جن سے زراعت، انفراسٹرکچر اور انسانی بستیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔

  • وزیرِاعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی کی تیاری

    وزیرِاعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی کی تیاری

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی اور مون سون سے پیدا ہونے والے اثرات سے بروقت نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر پالیسی پر کام جاری ہے۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق پالیسی کا ورکنگ پیپر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے ہنگامی صورتحال کے بعد وزیراعظم ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں گے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے-

    وزیرِاعظم نے کہا کہ آبی ذخائر کی تعمیر اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جو صوبوں کی مشاورت اور ہم آہنگی سے بنائی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس کی مؤثر تیاری سے ہی قدرتی آفات کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں،یہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس پر چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاق کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔

    روس کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ،بچوں،سمیت 18 افراد جاں بحق

    اوکاڑہ: سول ڈیفنس کا سیلاب متاثرین کے لیے ریسکیو آپریشن جاری

    راوی میں 40 سال پانی نہیں آیا، لوگ دریا کی زمین پر کاشت کرتے، ڈی جی پی ڈی ایم اے

  • پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے،چیئرمین این ڈی ایم اے

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے،چیئرمین این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے،2025 تک پاکستان دنیا کے ان 15 ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہو گی-

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے ممبران نے این ڈی ایم اے کا دورہ کیا۔ دورے کےدوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے اراکین کو موسمیاتی خطرات، پیشگی انتباہی نظام، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور متوقع بارشوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔2025 تک پاکستان دنیا کے ان 15 ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے، خاص طور پر سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے ممکنہ طور پر سیلاب کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا اور گلوبل گلیشیئر مانیٹرنگ پورٹل کے ذریعے مسلسل نگرانی جاری ہے ادارے کے پاس جدید کنٹرول روم، ڈرونز، اور ایمرجنسی ریسپانس صلاحیتیں موجود ہیں۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد آفات سے نمٹنا صوبائی معاملہ ہے۔این ڈی ایم اے بروقت معلومات صوبوں کو فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مناسب حفاظتی اقدامات اٹھا سکیں تاہم مختلف وجوہات، جیسے شہری تجاوزات اور عملی اقدامات میں تاخیر کے باعث مسائل حل نہیں ہو پاتے۔

    این ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ وہ 6 ماہ پہلے ارلی وارننگ جاری کر دیتا ہے مختلف اداروں کے ساتھ ایمرجنسی ڈرلز بھی کی جا رہی ہیں اور بہت سی اہم معلومات صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز سے شیئر کی جا چکی ہیں۔

  • پاکستان کو آئی ایم ایف سے 70کروڑ ڈالر ملنے کا امکان

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 70کروڑ ڈالر ملنے کا امکان

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو تقریباً 70کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

    آئی ایم ایف حکام کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 9 مئی کو ہوگا جس میں پاکستان کو قرض پروگرام کی اگلی قسط جاری کرنےکے لیے مشن کی سفارشات کاجائزہ لیا جائے گاایگزیکٹو بورڈ کی طرف سے سفارشات کی منظوری کی صورت میں اگلی قسط کی رقم 12 مئی تک پاکستان کو مل جائے گی موسمیاتی تبدیلی کےاثرات سے نمٹنے کے لیے رقم کی پہلی قسط جاری کرنے کی منظوری بھی اجلاس میں زیر بحث آئے گی،اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی سےنمٹنے کے لیے رقم کی منظوری ہوئی تو پاکستان کو تقریباً 70کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

    پی ٹی اے کا اسٹار لنک کو فوری طور پر لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ پاکستان کا دورہ کرنے والے وفد نے ای ایف ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر فراہم کرنے کی سفارش کر رکھی ہے، پاکستان کا دورہ کرنے والے جائزہ مشن نے 25 مارچ کو قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کی سفارش کی تھی۔

    روس نے یوکرین میں 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا

  • درجہ حرارت میں اضافہ،  گلیشیئرز  پھٹنے کا خدشہ، الرٹ جاری

    درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز پھٹنے کا خدشہ، الرٹ جاری

    اسلام آباد: پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت بڑھنے کے باعث گلیشیئرز پھٹنے کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے نے چترال، دیر، سوات سمیت دیگر اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے، کل سے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے،کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے متعلقہ انتظامیہ پیشگی اقدامات کرے، حساس علاقوں کی مقامی آبادی کو فوری طور پر الرٹ کیا جائے۔

    مراسلے میں کہاگیا کہ اس دوران ایمرجنسی سروسز اور ریسکیو اہلکار الرٹ رہیں، ہنگامی سامان اور دستیاب وسائل پہلے سے موجود رکھے جائیں، اس کے علاوہ سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    اوورسیز پاکستانیوں کو فائلر تصور کیا جائے گا، ہم آپ کوجتنی مراعات دیں وہ کم ہیں،وزیراعظم

    مراسلے میں سیاحوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے مکمل طور پر گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ زمینی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت پیشگی انتظامات کو یقینی بنائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ کیا جا سکے۔

    ننکانہ: گندم کی قیمت کے تعین نہ ہونے پر کسانوں کا ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا

  • پانی کی قلت اور ممکنہ خشک سالی،  پنجاب میں نئےکار واش اسٹیشنز  بنانے  پر  پابندی

    پانی کی قلت اور ممکنہ خشک سالی، پنجاب میں نئےکار واش اسٹیشنز بنانے پر پابندی

    لاہور: پنجاب میں نئےکار واش اسٹیشنز بنانے پر پابندی لگادی گئی۔

    باغی ٹی وی : محکمہ ماحولیات پنجاب کی جانب سے صوبے میں نئےکار واش اسٹیشنز بنانے پرپابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں نئےکار واش اسٹیشنز بنانے پرپابندی کے حکم پر عملدرآمد فوری ہوگا پابندی کی خلاف ورزی پرپاکستان پینل کوڈ کےتحت کارروائی ہوگی، پانی کی قلت اور ممکنہ خشک سالی کے پیش نظریہ فیصلہ کیاگیا ہے۔

    واضح رہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات گہرے ہوتے جا رہے ہیں، اور خشک سالی نے زندگی کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ دریائے سندھ، جو کبھی زندگی کی علامت تھا، اب ریگستان میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے پانی کی کمی نے نہ صرف انسانوں بلکہ مویشیوں، پرند و ں اور آبی حیات کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں پانی کی شدید قلت کے باعث فصلیں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں، جس سے زرعی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    سعودی عرب نے پاکستان سمیت 14 ممالک پر عارضی ویزہ پابندی لگا دی

    ماہی گیروں کے لیے شکار کا ملنا بھی مشکل ہو گیا ہے، اور کئی لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں اس کے علاوہ، کچے کے مکین بھی اپنے گھرو ں کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں نقل مکانی کرنے لگے ہیں تاکہ زندگی گزارنے کے لیے ضروری وسائل حاصل کر سکیں۔

    دوسری جانب ملک میں بارش نہ ہونے کے باعث گمبٹ کے روہڑی کینال خشک ہونے لگا، جس کے باعث کاشتکار بھی شدید پریشان ہیں دریائے سندھ میں پانی کی قلت کے باعث دریا کے کنارے بسنے والوں کی مشکلات بڑھ گئیں، علاقے میں قحط کی صورتحال پیدا ہونے لگی۔

    یمنی شہری کی اپنے بچے کے سامنے بھوک سے مرنے کی ویڈیو نے دنیا کو ہلا دیا

    دریائے ستلج خشک ہونے سے ماہی گیری سے وابستہ افراد بے روزگار ہونےلگے، موسمیاتی تبدیلی یا ڈیمزکی کمی پنجاب میں بہنے والا دریائے ستلج خشک ہونے لگا دریا خشک ہونے سے ماہی گیروں کو روزی روٹی کے لالے پڑ گئے، ماہی گیر کہتے ہیں کہ جہاں پانی ملتا ہے، وہاں چلے جاتے ہیں، کئی گھنٹے کی مشقت کے بعد ایک ادھ مچھلی ہاتھ آتی ہےحاسل پور میں مچھلی پکڑنے کے لائسنس کی فیس میں اضافے نے ماہی گیروں کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔ ماہی گیروں نے حکومت سے روزگارفراہم کرنے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو مزید تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے، اور پورے خطے کی معیشت اور ماحولیاتی توازن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔

    متحدہ عرب امارات میں عید الاضحیٰ کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

  • کوپ 29:معاہدہ کے مسودے پر شدید اختلافات

    کوپ 29:معاہدہ کے مسودے پر شدید اختلافات

    باکو: آذربائیجان کے شہر باکو میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس میں معاہدے کا مسودہ پیش کردیا گیا ہے لیکن شرکا کے درمیان اس پر شدید اختلافات ہیں۔

    باغی ٹی وی : یورپی یونین کے موسمیاتی ایلچی نے مسودے کو ناقابل قبول قرار دیاجمعرات کو معاہدے کا جو مسودہ جاری کیا گیا ہے اس پر متعدد ملکوں اور فریقین نے سخت اعتراض کئے ہیں،گیارہ نومبر کو شروع ہونے والا یہ سمٹ آج جمعہ کو ختم ہو رہا ہے ، اس میں تقریباً دو سو ملکوں سے ہزاروں افراد نے شرکت کی، سمٹ کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کےچیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے امیر ملکوں کی طرف سے غریب ممالک کی مالی مدد کا تعین کرنا ہےلیکن معاہدے کا یہ مسودہ اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے ۔

    معاہدے کے مسودے میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا صرف روایتی صنعتی ممالک ہی مالی مدد کریں گے یا چین اور خلیجی ریاستوں جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اپنا تعاون دینے کی ترغیب دی جائے گی۔

    مرکزی مسئلہ مالی امداد کی رقم کا ہے یعنی ترقی پذیر اور ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے کتنی رقم مختص کی جائے آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کو گرم ہوتے معدنیاتی ایندھن سےدور رکھنے میں مدد کرنے اور شمسی توانائی اور ونڈ انرجی جیسی صاف توانائی کی طرف منتقل ہونے کے لیے کم از کم 10کھرب ڈالر کی ضرورت ہے ۔

    بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ کی آب و ہوا کی بات چیت تباہی کے دہانے پر ہے کیونکہ چھوٹے جزیروں کی ریاستوں کی نمائندگی کرنے والا ایک گروپ آذربائیجان میں COP29 کے اہم اجلاس سے باہر ہو گیا ہےتقریباً 200 ممالک غریب ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کے لیے رقم کے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن جمعہ کے روز، غریب ممالک نے 2035 تک ہر سال 250 بلین ڈالر کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور اس میں نمایاں اضافے پر زور دے رہے تھے۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کے موسمیاتی ایلچی نے مسودے کو ناقابل قبول قرار دیا،یورپی یونین کے موسمیا تی کمشنر ہوپکے ہوئکسٹرا نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "میں کوئی گول مول بات کرنا نہیں چاہتا، موجودہ شکل میں یہ معاہدہ واضح طور پر ناقابل قبول ہے۔”

    جمعرات کی صبح کو جاری کیا گیا یہ مسودہ دس صفحات پر مشتمل ہے اس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے امیر ملکوں کی طرف سے غریب ممالک کی مالی مدد کا تعین کرنا ہے لیکن معاہدے کا یہ مسودہ اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

    مرکزی مسئلہ مالی امداد کی رقم کا ہے یعنی ترقی پذیر اور ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے کتنی رقم مختص کی جائے۔

    تاہم، معاہدے کے مسودے میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ آب و ہوا کے اثرات کے مطابق طریقہ کار اپنانے اور نقصان کی تلافی کرنے کے لیے قرض کے بجائے گرانٹ دی جائے گی، کیونکہ قرض سے غریب ملکوں پر اضافی بوجھ پڑے گاترقی پذیر ملکوں کو ماحولیاتی امداد کے طور پر 1.3 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہے۔ تاہم اس پر اختلاف ہے جسے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    افریقی گروپ آف نیگوشیئٹرز کے سربراہ علی محمد نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ کون کتنی رقم دے گا۔

    ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر لی شو کا کہنا تھا کہ "معاہدے کا مسودہ راستے کی دو انتہاؤں کی نمائندگی کرتا ہے۔” انہوں نے کہا ” مسودے میں ان دونوں کے درمیان شاید کچھ بھی نہیں ہے۔”

    آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کو گرم ہوتے معدنیاتی ایندھن سے دور رکھنے میں مدد کرنے اور شمسی توانائی اور ونڈ انرجی جیسی صاف توانائی کی طرف منتقل ہونے کے لیے کم از کم ایک ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی ہم ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور انتہائی موسمی حالات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور خسارے کا ازالہ کرنے کے لائق ہوسکیں گے۔

  • پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 50 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے

    پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 50 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے

    اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالرز فراہم کرنے کااعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 50 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے پایا ہے، اے ڈی بی کی جانب سے رقم پاکستان کو کلائمٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس انانسمنٹ پروگرام کے تحت دی جائے گی۔

    اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور آفات سے بچاؤ کا پروگرام، منصوبہ بندی، تیاری اور رسپانس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا، جبکہ جامع سرمایہ کاری کو فروغ دے گا، پروگرام کے تحت خطرات پر مبنی فنانسنگ ماڈل کے ذریعے مالی معاونت کے نئے طریقوں کو متعارف کرایا جائے گا۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے کلائمٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس پروگرام کے نفاذ میں معاونت کے لیے پاکستان کودس لاکھ ڈالر کی گرانٹ بھی فراہم کی ہے، معاہدے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے جبکہ پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اقتصادی امور کاظم نیاز نے دستخط کیے۔

  • پاکستان محدود وسائل کے باوجودموسمیاتی تبدیلی  سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان محدود وسائل کے باوجودموسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے،اسحاق ڈار

    باکو: کوپ29کانفرنس کے موقع پرپیشگی اطلاع اور بڑھتے درجہ حرارت سے متعلق اجلاس میں نائب وزیراعظم محمداسحاق ڈار نے کہا کہ آبادیوں کے تحفظ کی کوشش میں متحدہونے کیلئے پرعزم ہیں-

    باغی ٹی وی : نائب وزیراعظم محمداسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ آج دنیا کو عالمی حدت میں اضافے کا بڑا چیلنج لاحق ہے، آبادیوں کے تحفظ کی کوشش میں متحدہونے کیلئے پرعزم ہیں،پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ10 ممالک میں شامل ہے
    2022کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے تین کروڑسے زائد لوگوں کو متاثرکیا،سیلاب سے پاکستان کا 30ارب ڈالرسے زائد کا مالی نقصان ہوا-

    اسحاق ڈار نے کہا کہ مکانات،بنیادی ڈھانچہ اور لوگوں کا روزگارشدید متاثر ہوئے، ہمارے پاس پیشگی اطلاع کا مؤثرنظام ہوتاتو سیلابی تباہی سے بچاجاسکتا تھا،آج بڑھتاہوا درجہ حرارت اوربارشوں کے نظام میں بگاڑ بھی عالمی چیلنج بن چکا ہے، سب کیلئے پیشگی اطلاع کے نظام کے پروگرام کے اجراء پر اقدام کوسراہتے ہیں پروگرام کے تحت2027تک کرہ ارض کے ہرفردکاتحفظ یقینی بنانا ہے

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان محدود وسائل کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے،ہم2030 تک زہریلی گیسوں کے اخراج میں 50فیصدتک کمی لانے کے وعدے پر کاربندہیں، ان اہداف کاحصول 15فیصدمقامی وسائل جب کہ35فیصدعالمی تعاون سے ممکن ہے،گرین پاکستان پروجیکٹ میں تمام ماحول دوست اقدام شامل ہیں ، پاکستان جیسے ترقی پذیرممالک کے لیے کلا ئمیٹ فانسنگ اشدضروری ہے،ترقی یافتہ ممالک 100ارب ڈالرکی کلائمیٹ فنانسنگ کاوعدہ پوراکریں-