Baaghi TV

Tag: موسمیاتی تبدیلی

  • سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کہا کہ پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بارے تفصیلات فراہم کریں ،خیبر پختونخوا اور سندھ میں پالیسی تو ہے لیکن عملی اقدامات بھی اٹھاٸیں،تمام صوبے موسمی تبدیلی کیلٸے عملی اقدامات اٹھا کر رپورٹ 15 جولاٸی تک جمع کرواٸیں،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں موسمی تبدیلی کیلٸے اقدامات کر رہے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں وہ بتاٸیں جو عملی اقدامات اٹھاٸے ہیں، زبانی جمع تفریق کے بجائے تحریری رپورٹ دیں،ہم نے تمام چیف سیکٹریز کو بلایا تھا بلوچستان سے کون آیا ہے،عدالت میں بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی طبیعت خراب ہے اس لیے نہیں آٸے،سندھ سے چیف سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سندھ میں موسمی تبدیلی کیلٸے مکمل پالیسی بناٸی گٸی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سندھ میں کیا موسمی تبدیلی کے حوالے سے بجٹ بھی رکھا گیا ہے ؟ میرے پاس مکمل پلان کیساتھ آٸیں، چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ سندھ میں موسمی تبدیلی سے بچاٶ والے 2 ملین گھر بنائے جاٸیں گے،اب تک 1.5 لاکھ گھر بن گٸے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں بھی موسمی تبدیلی کیلٸے بجٹ نہیں رکھا گیا،

    خیبر پختونخواکے چیف سیکرٹری بھی عدالت میں پیش ہوئےاور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کیلٸے فنڈز رکھے گئے ہیں،موسمیاتی تبدیلی کیلٸے خیبرپختونخوا حکومت اقدامات کر رہی ہے،عدالت نے سماعت پندرہ جولائی تک ملتوی کردی

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • ہیٹ ویو کی وجہ سے ہمارے تمام آبی اور زرعی وسائل متاثر ہونگے،شیری رحمان

    ہیٹ ویو کی وجہ سے ہمارے تمام آبی اور زرعی وسائل متاثر ہونگے،شیری رحمان

    چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نےمسلم ایڈ پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے ماحولیاتی تبدیلی کے فرنٹ لائن پر ہیں،سنگین ہیٹ ویو کی وجہ سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ہیٹ ویو کی وجہ سے ہمارے تمام آبی اور زرعی وسائل متاثر ہونگے، بلوچستان اور سندھ میں پانی کی قلت ہے، بلوچستان کے کلائمیٹ رزیلینس کے مسائل سنگین ہیں،سندھ میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں نئے گھر کے مالکانہ حقوق عورتوں کو دئے جا رہے ہیں،یہ حقیقی ‘شمولیت’ کی مثال ہے،دوسرے صوبے سندھ کے پیپلز ہائوسنگ پروگرام کو اپنے متاثر علاقوں میں لاگو کریں،اسلام آباد میں بیٹھ کر آپ دور دزار علاقوں میں ماحولیاتی کے منصوبے نہیں نافذ کر سکتے، ہمیں اپنے لوگوں کی آگاہی کے لئے کام کرنا ہوگا، گلگت بلتستان اور دیگر صوبوں کے ماحولیاتی مسائل مختلف ہیں،سب کو سر پکڑ کر بیٹھنا ہوگا،گرائونڈ پر موجود لوکل آبادیوں کو ماحولیاتی تبدیلی کے حل میں شامل کیا جائے، سندھ اور بلوچستان میں اندرون زمین پانی کے وسائل نمکیں ہو چکے ہیں، شدید درجا حرارت کی وجہ سے ہمارہ سیارہ سرخ ہو رہا ہے جس کی مثال بلوچستان ہے، اس سیارے کی حفاظت کیلئے ہم سب کو مل کر اقدامات لینے ہونگے،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،رومینہ خورشید عالم

    پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی ایم این اے رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کی۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران، دونوں فریقین نے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے، موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے لیے موسمیاتی فنانس، زرعی بیمہ، شہری سیلاب سے نمٹنے سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    یو این ڈی پی-پاکستان کی سینئر اہلکار وان نگوین نے بھی وزیر اعظم کی معاون کو موسمیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ نئے عالمی مالیاتی طریقہ کار کا مقصد پہلے سے طے شدہ مالیات کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں تحفظ کے خلا کو ختم کرنا ہے۔اس اقدام کی تفصیلات بتاتے ہوئے، انہوں نے وزیر اعظم کی معاون رومینہ خورشید مشیر کو آگاہ کیا کہ ولنر یبل ٹونٹی گروپ (Vulnerable Twenty Group (V20)) نے گروپ آف سیون (G7) اور دیگر معاون ممالک کے ساتھ مل کر ماحولیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ کا آغاز کیا تاکہ مزید سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
    ”بنیادی طور پر، موسمیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ پہلے سے ترتیب دیا گیا جو ٹرگر پر مبنی مالی وسائل ہے اور آفات کے مد مقابل فوری طور پر دستیاب فنڈ ہے جو کہ معیشت، کاروبار کے لیے انتہائی موثر اور تیز ترین طریقہ ہے۔ یہ بات یو این ڈی پی کی پاکستان میں ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کے دوران واضح کی۔

    یو این ڈی پی پاکستان کی سینئر عہدیدار نے وزیراعظم کی معاون کو آگاہ کیا کہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ممالک کو موسمیاتی خطرات اور اثرات کو مزید سمجھنے کے لیے جامع مدد فراہم کرنا اور تحفظ کے خلا کو پورا کرنے کے لیے جدید حل اور موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کو مؤثر طریقے سے حل کرنا اس اقدام کا ایک بہت بڑا مقصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا ایک اور اہم مقصد پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو گرانٹ پر مبنی مالی اور تکنیکی امداد کی فراہمی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور موافقت کی کوششوں سے منسلک کمزور کمیونٹیز کے مالی تحفظ کے لیے حل نکالنا اوراس پر عمل درآمد کیا جا سکے۔دریں اثنا، یو این ڈی پی-پاکستان کی نمائندہ نے بھی وزیر اعظم کی معاون رومینہ خورشید عالم کو ملک کی موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے اقدام کے ذریعے فراہم کردہ مالی اور تکنیکی مدد تک رسائی کے لیے ان کی تنظیم کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

    رومینہ خورشید نے یو این ڈی پی – پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور تعریف کی کہ ان کی فراخدلانہ پیشکش کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کی وزارت کے ذریعے موسمیاتی خطرات سے دوچار شعبوں، بالخصوص زراعت، شہری سیلاب اور آفات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ابتدائی انتباہ کے لیے پاکستان کی معاونت کی جا رہی ہے۔رومینہ خورشید عالم نے یو این ڈی پی – پاکستان کی سینئر اہلکار وان نگوین کو بتایا کہ ”میں کسی بھی ایسے موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گی جس سے ہمیں لوگوں کی زندگیوں اور معاش اور سماجی و اقتصادی شعبوں خصوصاً زراعت، پانی، توانائی، صحت، تعلیم کو موسمیاتی موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے”۔وزیر اعظم کی معاون نے کہا کہ وسیع تر مالی تحفظ، تیز تر اور زیادہ قابل اعتماد موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی پالیسی کے تحت فراہم کردہ ردعمل پاکستان میں خطرات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نقصانات کا مؤثر جواب دینے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران، پی ایم کی کوآرڈینیٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ پچھلی دہائی کے دوران، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں جو کہ انسانی بقا اور ماحولیاتی نظام کی پائیداری کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    وزیر اعظم کی معاون نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ طوفان، خشک سالی اور سیلاب نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی مسلسل اور زیادہ شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سست آغاز کے اثرات کے ساتھ یہ انتہائی موسمی واقعات تمام ممالک، بالخصوص سب سے زیادہ کمزور ممالک اور کمیونٹیز کے لیے کی پائیدار ترقی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات ہیں۔وزیراعظم کی معاون رومینہ خورشید عالم نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی کارروائی اورتبدیلیوں سے موافقت کے لیے سرمایہ کاری کے باوجود، آب و ہوا سے متعلق نقصانات کے بقایا خطرات اب بھی برقرار ہیں، جس کے نتیجے میں مزید تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا، ”جب آب و ہوا سے متعلق کوئی آفت آتی ہے، تو بہترین نظام کی ضرورت ہوتی ہے، جو سب سے زیادہ کمزور لوگوں کے لیے انتہائی موثر اور تیز رفتار طریقے سے فوری مالیات فراہم کرتے ہیں۔”

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ رومینہ خورشید عالم نے گلوبل وارمنگ اور گرمی کی لہر پر ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی اور تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں پر زور دیا کہ وہ مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات، اشیاء ضروریہ کے ذخائر اور گرمی کی لہر سے نمٹنے کی تیاریوں کو یقینی بنائیں۔

    وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر نے جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان صوبوں میں سیلاب کے خطرات کے حوالے سے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایکشن پلان پر تمام متعلقہ اداروں کو بروقت عملدرآمد پر زور دیا۔ انہوں نے ہنگامی حالات کے دوران متعلقہ وفاقی اکائیوں کے ذریعے قائم کیے جانے والے میڈیکل ریلیف کیمپوں میں لیڈی ہیلتھ ورکرز، مڈوائف کو شامل کرنے پر بھی زور دیا۔ تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے میٹنگ کو اپنے ہنگامی ایکشن پلان اور اشیاء ضروریہ کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایات کی کہ وہ وقت سے پہلے پیمرا کے ساتھ مل کر ایک موثر عوامی آگاہی مہم شروع کرے۔ وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر نے ملک کے مختلف حصوں بالخصوص خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی غیر قانونی کٹائی کا بھی نوٹس لیا اور آئی جی فارسٹ کو ہدایت کی کہ وہ اس موضوع پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطہ کریں اور عید کی چھٹیوں کے بعد رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کو فضائی فائر فائٹنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل حل کی ہدایات دیں۔

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

  • بہت سی انسانی ایجادات ماحولیات کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں،چیف جسٹس

    بہت سی انسانی ایجادات ماحولیات کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہم نے قدرتی وسائل کو ختم کردیا جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں ہوئیں ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ہفتے کے روز موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق سیمینار سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے قدرتی وسائل کو ختم کردیا تاہم اسے اصراف کے اجتناب سے آج بھی بچایا جاسکتاہے، ماحولیاتی تحفظ کیلئے گھر سے اقدار پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ ہمیں سگریٹ چھوڑنے ، واک کرنے جیسے علاج بتاتے ہیں، جب انسانی ٹمپریچر بڑھتا ہے تو اسکا مطلب ہے ہم بیمار ہو رہے ہیں، صرف ایک ڈگری بڑھنے پر انسان کو بخار ہوجاتا ہے مگر آج زمین بیمار ہے اس کو بخار ہے، زمین بہت ذیادہ دھواں اپنے اندر سمو رہی ہے، ہم پلاسٹک کو بنا تو رہے لیکن اسکو تلف نہیں کر رہے ہیں، ہر ڈاکٹر گوشت کی بجائے سبزیوں کے استعمال کا کہتا ہے۔

    پاکستان پانچواں ملک ہے جسے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کا سامنا ہے، جسٹس منصور علی

    انہوں نے کہا کہ شوگر سب سے پہلی ڈرگ تھی جو دریافت ہوئی، ڈاکٹرز ہمیں صحت مند زندگی کیلئے واک کا بھی مشورہ دیتے ہیں، منصور علی شاہ صاحب نے ہائبرڈ گاڑیوں کا کہا لیکن ہمیں پیدل چلنے کی ضرورت ہے، اگر آپ چاہیں تو تمام ججز کو سائیکل مہیا کئے جا سکتے ہیں، بچپن میں کہا جاتاتھا بجلی بچائیں کھانا بچائیں مگر آج انہیں نظر انداز کردیا گیا ہے، ہم نےقدرتی وسائل کو ختم کردیا،اصراف کے اجتناب سے قدرتی ماحول کو بچایا جا سکتا ہے،ہم قدرت کو جاننے میں ناکام ہوئے ہیں، ماحولیاتی تحفظ کیلئے گھر سے اقدار پروان چڑھانے کی ضرو رت ہے۔

    پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس رپورٹ

    انہوں نے کہا کہ پرندے اپنے پسندیدہ ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں،کتنے پرندے اور جانور آج دنیا سے ختم ہو رہے ہیں، سائنس نے اب بتایا ہے کہ سمندر میں حیاتیات سمندر کی اپنی بقا کیلئے ضروری ہیں،اگر ہم درخت ،پرند چرند کو بچائیں تو تبدیلی لائی جاسکتی ہے انہوں نے خبردار کیا کہ ماحولیات کا تحفظ نہ کیا گیا تو جانداروں کی بقا خطرے میں پڑھ سکتی ہے ،بہت سی انسانی ایجادات ماحولیات کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔

    جنوبی افریقا کا نیدرلینڈز کے خلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ

  • ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کوآرڈینیشن رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اوزون کی تہہ کے تحفظ کے اہم پہلو پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، انسانی سرگرمیاں اوزون کی تہہ کے خاتمے کا باعث بنی ہیں، جس کے نتیجے میں اوزون سوراخ میں وسعت آ رہی ہے اور شدید خطرات لاحق تھے۔ تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اقوام متحدہ کے ویانا کنونشن اور اس کے مونٹریال پروٹوکول کی چھتری کے تحت، عالمی کوششیں اوزون کے سوراخ کو زیادہ سے زیادہ حد تک بحال کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر مونٹریال پروٹوکول اور ایچ سی ایف سی کنٹرول پر کسٹم اور انفورسمنٹ افسران کے تربیتی پروگرام کے موقع پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کے نیشنل اوزون یونٹ سے خطاب کر رہی تھیں۔

    اوزون کی تہہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوزون کی تہہ زمین پر زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمیں سورج کی نقصان دہ تابکاری سے بچاتا ہے، صحت کے سنگین مسائل جیسے کہ جلد کے کینسر اور موتیابند سے بچاتا ہے اور ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کی حفاظت کرتا ہے۔پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کے کنونشنز پر عملدرآمد کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے ان معاہدوں میں ایک اہم فریق کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے 1992 میں مونٹریال پروٹوکول کی توثیق کی، جو اوزون کو ختم کرنے والے مادوں (ODS) کو مرحلہ وار ختم کرنے کے ہمارے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان نے اس شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اس اقدام کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان نے 1996 میں ایک وقف شدہ نیشنل اوزون یونٹ (NOU) قائم کیا۔ یہ یونٹ پاکستان کسٹمز، ریفریجریشن اور ایئر کنڈیشننگ انڈسٹری، وزارت تجارت، تکنیکی ماہرین اور انجینئرز، درآمد کنندگان اور تاجروں کے ساتھ اپنی مشترکہ کوششوں کے ذریعے۔ مونٹریال پروٹوکول کے دس مراحل کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا، پاکستان نے 2009 تک اوزون کو ختم کرنے والے مادوں کی پہلی جنریشں کو مرحلہ وار ختم کیا، اور جنوری 2020 تک ایچ سی ایف سی میں 50 فیصد کمی حاصل کی۔ ہم 2025 تک 67.5 فیصد کمی کے ہدف کی طرف کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہماری کامیابیوں میں متعدد دوستانہ ٹیکنالوجیز کے ذریعے صنعتوں کو اوزون میں تبدیل کرنا شامل ہے۔ ہم اپنے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقبل کے اہداف کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ کسٹم افسران کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا، کسٹم افسران ضوابط کے سخت نفاذ اور غیر قانونی درآمدات کو روکنے کے ذریعے اوزون کو ختم کرنے والے مادوں کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی چوکسی اور مہارت اوزون کی تہہ کی حفاظت اور دوبارہ تخلیق کرنے، ماحولیات اور صحت عامہ دونوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے۔ یہ تربیت انتہائی اہم ہے کیونکہ او ڈی ایس( ODS) کی غیر قانونی تجارت کی نگرانی اور روک تھام میں کسٹم اور نافذ کرنے والے افسران کا کردار ضروری ہے۔ ان کی کوششیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ہماری سرحدیں اور بازار اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والے مادوں سے پاک رہیں۔ مجموعی طور پر، 2,500 سے زیادہ تکنیکی ماہرین اور 300 سے زیادہ کسٹم افسران کی تربیت کے ذریعے نیشنل اوزون یونٹ( NOU) نے او ڈی ایس کو مو ثر طریقے سے سنبھالنے اور ان کو منظم کرنے کی ہماری قومی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اپنے عزم کو دہراتے ہوئے وزیراعظم کی کوآرڈینیٹرنے کہا کہ ہمارا سفر یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں۔ ہم اب کیگالی ترمیم ( Kigali Amendme) کے تحت آنے والے ایچ ایف سی فیز ڈاون کی تیاری کر رہے ہیں۔ وزارت کے موسمیاتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا، وزارت کے نیشنل اوزون یونٹ نے Hima-Vertay اور Clasp کے ساتھ مل کر، کولنگ مصنوعات سے وابستہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے پاکستان کولنگ ایکشن پلان تیار کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ عالمی یوم ماحولیات 2024 کے سلسلے میں اس تربیت کا انعقاد حقیقی اور عملی لحاظ سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ہمارے عزم کا ثبوت ہے۔ یہ ایک مشترکہ کوشش ہے، جو مانٹریال پروٹوکول کے اصولوں کے لیے ہمارے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ موجودہ حکومت کے عزم کا اعادہ کرنا چاہیں گی، جس کی رہنمائی وزیر اعظم کے آب و ہوا کی کارروائی کے لیے غیر متزلزل عزم کے تحت ہے۔ اوزون کی تہہ کے تحفظ میں ہماری اجتماعی کوششیں ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ہماری لگن کی عکاسی کرتی ہیں۔ آئیے ہم مل کر کام کرتے رہیں، عالمی یوم ماحولیات 2024 کے تھیم سے متاثر ہو کر، آنے والی نسلوں کے لیے اپنے سیارے کی حفاظت کریں۔

  • امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی  ، رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    ینگ جرنلسٹ کی تربیتی ورکشاپ سے وزیراعظم کی کوارڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ورکشاپ آرگنائزر کرنے والوں کا کام قابل تحسین ہے ،میڈیا پر صحیح خبر دینا ایک بہت بڑا کام ہے،

    رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ بریکنگ نیوز کروڑوں لوگوں تک جاتی ہے اسکا درست ہونا چاہیے ،انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا فرق واضح ہونا چاہئے، 2005 سے ڈبیلو ایم سی یہ کام کر رہی ہے،کوئی فیلڈ ایسی نہیں جہاں مشکلات نہ ہوں،اپنی دلیل کو دوسروں کے سامنے پیش کرنا اہم کام ہے ایس ڈی جیز کی میڈیا میں بات نہیں ہوتی ،میڈیا بحث کا نہیں ذمہ داری کا پلیٹ فارم ہے، موسمیاتی تبدیلی کی کوئی سرحد نہیں، پوری دنیا کا مسئلہ ہے ،دنیا میں اس وقت کلائمنٹ چینج سے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہمارے افراد اور ماحول پر آ رہا ہے، کام کرنا پڑتا ہے، سیکھنا پڑتا ہے، کسی بھی گائیڈ لینے میں شرم نہیں آنا چاہئے ،تھیوری کیساتھ پریکٹیکل ورک ہونا بہت ضروری ہے،ہر فیلڈ میں خواتین اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، ہمارا کام اس ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہے، جب بات کی جائے تو فائدہ مند ہونا چاہئے، غلط بات کو روکیں گے تو مثبت اثرات مرتب ہوں گے، امن کی فاختہ میڈیا سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے ،ایک چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ہے، سب حقوق کی بات کرتے فرائض کی بات نہیں کی جاتی، خوشی ہوئی ینگ جرنلسٹ کو دیکھ کر کہ وہ آنے والے وقت میں میڈیا کے محاذ پر ہونگی ،آجکل میڈیا کا دور ہے،

    سب سے بڑا چیلنج گلوبل وارمنگ ،جس کی کوئی ملکی سرحد نہیں ہوتی،رومینہ خورشید عالم
    رومینہ خورشید عالم کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان بچیوں سے ملکر اچھا لگا۔ذمہ دارانہ طریقے سے خبر پہنچانا میڈیا میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ویمن میڈیا سنٹر ۲۰۰۵ سے اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ کلائمیٹ چینج ایک بہت بڑا سبجیکٹ ہے مگر ٹاک شوز میں اس پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔نوجوان صحافی خواتین سے کہوں گی کلائمیٹ چینج پر کام کریں۔شعبہ صحافت میں خواتین نے بہت بڑا کام کیا ہے۔اپنے ملک کا پازیٹو امیج دکھانے کے لیے کام کریں۔ اس طرح کی ورکشاپس ، بالخصوص کلائمیٹ چینج پر زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیں۔ کلائمیٹ چینج کے رپورٹرز ہمارے چیمپینز ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج گلوبل وارمنگ ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی کوئی ملکی سرحد نہیں ہوتی۔
    اس کمپین کا آغاز بھی کلائمیٹ چیمپئنز اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے کر رہے۔مارگلہ ہلز پر آگ کے واقعات میں تمام کلائمیٹ فورس نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔آنے والے ایک دو ماہ میں ورکشاپس کریں گے۔کاپ ۲۹ کی رپورٹنگ پر بھی تربیتی ورکشاپس کریں گے۔ میں آج فائر فائٹرز کو یاد کرونگی جو جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔پہلی بار آگ بجھانے کے لیے فورا سے پہلے ہیلی بھیجے گئے۔اگلا ایوارڈ شبیر کے نام سے ہوگا اور بیٹ رپورٹرز کی طرف سے نام ملنے کی منتظر ہوں۔وزیراعظم نے گلوبل وارمنگ اور ہیٹ ویو پر ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ہیٹ ویو پر ہائی لیول انٹر ڈیپارٹمنٹل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں تمام متعلقہ اداروں کے آفیسرز شامل ہیں۔

    رپورٹ. محمد اویس،اسلام آباد

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

  • موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کوآرڈینیشن رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ قومی دھارے اور موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔

    رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ ہماری قومی موسمیاتی پالیسی اور موافقت کے منصوبوں میں جنس کو بجا طور پر ایکشن کے لیے ترجیح دی گئی ہے۔ وہ پاکستان جینڈر کلائمیٹ ایوارڈ 2024 کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب کر رہی تھیں، جس کی میزبانی سول سوسائٹی کے اتحاد برائے موسمیاتی تبدیلی نے فرانس کے سفارت خانے، فرانسیسی ترقیاتی ادارے، پاکستان میں یورپی یونین کے وفد، متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے اور یو این ڈی پی کے تعاون سے کی تھی۔

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ اس تقریب ایوارڈ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے والی خواتین کی پہچان صنف اور آب موسمیات کے درمیان اہم گٹھ جوڑ کو واضح کرتی ہے۔ یہ اس ناگزیر کردار کی طاقتور یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے جو خواتین اکثر موسمیاتی چیلینجر اور رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے موسمیاتی عمل کو آگے بڑھانے میں ادا کرتی ہیں۔ وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر نے موسمیاتی لحاظ سے پائیدار مستقبل کی طرف اس اجتماعی سفر میں تعاون اور شراکت داری کے لیے تقریب میں نمائندگی کرنے والی غیر ملکی حکومتوں کی بھی دلی تعریف کی۔

    کامیابی حاصل کرنے والی خواتین کو مبارکباد دیتے ہوئے، انہوں نے کلائمیٹ بیٹ رپورٹر شبیر کو بھی یاد کیا جو رپورٹنگ کے دوران انتقال کر گئے اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آگاہی پیدا کر رہے تھے اور کہا کہ ان کی وزارت ان کے نام سے منسوب کلائمیٹ ایوارڈ پر کام کر رہی ہے۔

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    توانائی کی منصفانہ منتقلی کو یقینی بنانے کےلئے کثیر الجہتی تعاون ناگزیر ہے، رومینہ
    سبز توانائی کی طرف منتقلی کے لئے منافع اور مسابقت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے : ڈاکٹر عابد سلہری
    ٹیکسٹائل سیکٹر میں توانائی کی منتقلی کے موضوع پر سمپوزیم سے ثوبیہ بیکر ،عقیل جعفری اور دیگر کا خطاب
    ماہرین نے کہا ہے کہ صنعتی شعبے میں توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھانے کےلئے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان کوآرڈینیشن کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان میں توانائی کی منصفانہ منتقلی کو یقینی بنانے کے لئے کثیر الجہتی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)اور جرمنی کی کلائمیٹ اینڈ انرجی پارٹنرشپ (پی جی سی ای پی) نے ٹیکسٹائل سیکٹر میں توانائی کی منتقلی کے موضوع پرمشترکہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

    سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کو کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) کی وجہ سے آنے والے چیلنجوں سے نمٹنے اور اس عمل کو آسان بنانے کے لئے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کاری کا کردار انتہائی اہم ہے اور وہ اقتصادی امور، کامرس، بجلی، منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارتوں سمیت اس موضوع سے متعلق دیگر وزارتوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ ملک کو ایک طرف اپنی مسابقت اور معاشی نمو کو بہتر بنانا ہے تو دوسری طرف معاشی بحران، شرح سود میں اضافہ اور سی بی اے ایم کے مسائل ہیں۔ وزیر اعظم نے موسمیاتی گورننس اور فنانس ریویو پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جس کی سربراہی ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی کر رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ سبز توانائی کی منتقلی کے لئے منافع اور مسابقت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔اپنے افتتاحی کلمات میں پاکستان جرمن کلائمیٹ اینڈ انرجی پارٹنرشپ (پی جی سی ای پی) کی مشیر ثوبیہ بیکر نے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش چیلنجز کے حل اور آگے بڑھنے کے لیے کھل کر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کےلئے ایک مکمل معاشرے کے نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔پاکستان میں جرمن سفارتخانے کی ڈپٹی ہیڈ آف ڈیولپمنٹ کوآپریشن ہیلن پاسٹ نے کہا کہ توانائی کا شعبہ مسلسل پائیدار طریقوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی توانائی کی منصفانہ منتقلی کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کےلئے پرعزم ہے۔ ہم اس جانب پیش رفت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی پراجیکٹ لیڈر یولیا بچینووا نے جرمنی اور پاکستان کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مکالمے کے لئے ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔ ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو زینب نعیم نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں توانائی کی منتقلی کے مواقع اور چیلنجز پر پہلے پینل کی نظامت کی۔

    پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے سی ای او شیخ محمد اقبال نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ڈھانچے اور ویلیو چین پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری صرف توانائی کی منتقلی کے لئے پرعزم ہے تاہم، قومی سطح پر کسی بنیادی اعداد و شمار کی عدم موجودگی کے باوجود آب و ہوا کی مالیات اور توانائی کی منتقلی کے بارے میں کوئی پالیسی نہیں ہے۔

    اپٹما کے سیکرٹری جنرل شاہد ستار نے کہا کہ مصنوعات کی لازمی ٹریسیبلٹی ضروری ہے کیونکہ اگر کاروبار معمول کے مطابق جاری رہتا ہے تو سی بی اے ایم ایک وجودی خطرہ ہوگا۔ وزارت توانائی کے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) عقیل حسین جعفری نے کہا کہ توانائی وہ اہم جزو ہے جو برآمدی مصنوعات میں مسابقت لاتا ہے۔ تاہم، شمسی توانائی صنعت کے لئے بجلی اور پیداوار کی لاگت کو کم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (ڈی جی گیپکو) نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں توانائی کی منتقلی میں فنانسنگ اخراجات اہم رکاوٹیں ہیں۔ ایس ڈی پی آئی میں انرجی یونٹ کے سربراہ انجینئر عبید الرحمن ضیاءنے ٹیکسٹائل سیکٹر میں توانائی کی منتقلی کے مواقع اور چیلنجز پر دوسرے پینل کی نظامت کی۔ سینئر اکانومسٹ عافیہ ملک نے کہا کہ مسابقتی مارکیٹ آگے بڑھنے کا راستہ ہے لیکن ہمیں آزاد اور منظم مارکیٹ کے درمیان فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ آزاد مارکیٹ منصفانہ اور مسابقتی ہے۔

    اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے سی ای او محمد امجد نے کہا کہ مجوزہ نظام کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے عمر ہارون نے کہا کہ ٹیکس بل اور کراس سبسڈی کے تجزیے کے ساتھ ساتھ ٹیرف کی تفہیم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مشیر سی ٹی بی سی ایم گل حسن بھٹو نے کہا کہ حکومت کو توانائی کے شعبے کے دائرہ کار کو بڑھانے اور توانائی کے تحفظ کے اہداف کے حصول کے لئے مسابقتی مارکیٹ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تیسرے سیشن میں توانائی کی منتقلی کے لئے فنانس کو متحرک کرنےکے مواقع اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • جو اتھارٹی بنانی ہے وہ بناتے نہیں  جو نہیں بنانی چاہیے وہ بنا دی گئی،سپریم کورٹ

    جو اتھارٹی بنانی ہے وہ بناتے نہیں جو نہیں بنانی چاہیے وہ بنا دی گئی،سپریم کورٹ

    موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے لیے قانون موجود نہیں لیکن اتھارٹی بنا دی گئی، جو اتھارٹی بنانی ہے وہ بناتے نہیں، جو نہیں بنانی چاہیے وہ بنا دی گئی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا ایکٹ 2017ء کا ہے، موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بہت بڑا خطرہ اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، اتنے سال بعد بھی اتھارٹی قائم نہیں ہوسکی، اٹارنی جنرل آئیں پھر اس معاملے کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر کے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو سالانہ  اربوں ڈالر کا نقصان

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان

    اسلام آباد: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والے واقعات سے پاکستان کو سالانہ 4ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : "پروپاکستانی” کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10ممالک میں شامل ہے مگر یہ سب سے زیادہ کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے والے ممالک میں شامل نہیں ہے۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی طرف سے اپنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اداروں کو کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017ءکے تحت بااختیار بنانے اور متحرک کرنے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ پاکستان کی قومی اور صوبائی کلائمیٹ پالیسیوں میں موجود فرق کو ختم کرنے کی ضرورت ہےوفاق اور صوبے اپنی پالیسیوں میں ہم آہنگی لا کر زیادہ بہتر طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نبٹ سکتے ہیں۔

    پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان کی پُر وقار تقریب

    ورلڈ بینک کی پاکستان کیلئے14 کروڑ 97 لاکھ ڈالر قرض کی منظوری

    پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان کی پُر وقار تقریب