Baaghi TV

Tag: موسمیاتی تبدیلی

  • پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان کو اس وقت شدیدترین ماحولیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ جنگلات کی کٹائی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی اور زمینی آلودگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ جبکہ جنگلات کی کٹائی نہ صرف گلوبل وارمنگ کیلئے اہم کردار ہے بلکہ یہ کٹاؤ ساحلی سیلاب کا باعث بھی بنتتا ہے جس سے نہ صرف پودوں کو ختم کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ چرند، پرند اور جانوروں کے گھر بھی تباہ ہوتے ہیں.

    اگر ہم صحت کے حوالے سے اس کا جائزہ لیں تو درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اورآکسیجن فراہم کرتے ہیں جبکہ دوران سیلاب تیز پانی کے بہاؤ کو بھی روکتے ہیں علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک میں تو درختوں کا ہونا اس لئے بھی انتہائی ضروری ہے کہ موسمی حالات کے بدلتے وقت جیسے سردیوں میں لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا وغیرہ پکانے یعنی آگ کیلئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بڑے شہروں کے علاوہ گیس کی سہولت میسر نہیں ہے.

    دوسری جانب ہمارے ملک میں آبی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ بہت سارا کیمیائی فضلہ (کچرا) پانی میں پھینکا جاتا ہے جس سے زہریلے مادے بھی پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے جبکہ اس میں کارخانوں میں استعمال کے بعد پیدا ہونے والا کچرا، اور ناقص سیوریج سسٹم بھی آبی آلودگی کا باعث بنتے ہیں،

    صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ لاہور جو بہت بڑا شہر ہے اور سردیوں کے موسم میں اسے سموگ کا سامنا رہتا ہے ، اس سے علم ہوتا ہے کہ یہاں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے، علاوہ ازیں گاڑیوں میں اضافہ کے سبب دھواں، ایندھن نیز کارخانوں اور کاروں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں ،تاہم واضح رہے کہ زمین کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے غلط نظام کے سبب زمین کے کھلے پلاٹوں میں کچرا پڑا رہتا ہے جس سے نہ صرف ناگوار بدبو، بیماریاں اور آلودگی پھیلتی ہے بلکہ ماحول بھی گندہ ہوتا ہے اور حکومت کا صرف پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کوئی جامع حکمت عملی بنانی ہوگی.

    اس موسمیاتی تبدیلی نے تباہ کن سیلاب بھی لائے جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں ، سیلاب زمینیوں سمیت زرعی کھیتوں کو تباہ کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل نینو سمندری رجحان کی وجہ سے زیادہ بارشوں کے خطرے سے دوچار 20 ممالک میں شامل ہے۔ (ڈان نیوز)

    پاکستان کو ان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع پالیسیاں اور قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ افراد، کارپوریشنز اوراداروں کو انکی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے،حکومت کو ان مسائل کو حل کرنے موثر پالیسیاں بنانے اور ان پرعمل درآمد کرنے میں آگے بڑھنا چاہئے تا کہ پاکستان کا مستقبل پائیدار ہو.

  • دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ ہیٹ ویو کا سامنا سطح پر رہنے والے جانداروں کو ہی ہوتا ہے مگر اب سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویوز کو دریافت کیا ہے جس سے دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک اور خطرناک اثر کا عندیہ ملتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہیٹ ویو کا سامنا ہماری زمین کی سطح پر رہنے والوں کو ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بحری حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہےاس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے ٹیم نے یہ بھی پایا کہ نیچے کی سمندری گرمی کی لہریں سطح پر گرمی کے بہت کم یا کوئی ثبوت کے ساتھ بھی ہوسکتی ہیں۔

    امریکا کےNational Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں ان ہیٹ ویوز کی خصوصیات اور سمندری دنیا پر اس کے اثرات کو مزید سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ NOAA کے سائنسدانوں نے تین دہائیوں پر محیط ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے شمالی امریکہ کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر توجہ مرکوز کی۔

    محققین نے کہا کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویو سے دنیا بھر کے لیے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں اور پانی کے اندرونی درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گزشتہ 100 سالوں میں سمندر تقریباً 1.5 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوا ہے اور اس نے گلوبل وارمنگ سے 90 فیصد اضافی گرمی لی ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہےیہ واضح ہے کہ ہمیں سمندروں کی گہرائی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہاں رہنے والے جانداروں کو سطح کے مقابلے میں بالکل مختلف قسم کی ہیٹ ویوز کا سامنا ہوتا ہے۔

    ان ہیٹ ویوز نے پوری دنیا میں سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت کو ڈرامائی طور پر متاثر کیا ہے، جس سے پلانکٹن سے وہیل تک جانداروں کی نشوونما میں خلل پڑتا ہے۔ 2013 میں بننے والی سمندری ہیٹ ویو کو ’دی بلاب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ہیٹ ویوز سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کی ایک بہترین مثال ہے۔

    الاسکا کے ساحل کے قریب ترقی پذیر، اس وسیع، طویل گرمی کی لہر نے ماہی گیری کو تباہ کر دیا، زہریلے الگل پھولوں کا آغاز کیا اور تمام سمندری حیاتیات پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج طویل مدتی سمندری نگرانی کے نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، خاص طور پر جب سائنس دان صرف نیچے کی سمندری گرمی کی لہروں کے اثرات کو سمجھنا شروع کر رہے ہیں۔ نئی مشاہداتی صلاحیتوں کو فروغ دینے سے سائنسی دنیا کو سمندری گرمی کی لہروں کے ماضی، حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • پاکستان اور بھارت کو موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک نتائج کا سامنا

    پاکستان اور بھارت کو موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک نتائج کا سامنا

    پاکستان اور بھارت میں رہنےوالے موسمیاتی تبدیلی کےخوفناک نتائج کا نشانہ بن رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی جریدےکی رپورٹ میں کہا گیاہے ہر سال ہیٹ ویو سے پاکستان اور بھارت کے غریب عوام متاثر ہو رہے ہیں 2000 سے 2019 کے درمیان جنوبی ایشیا میں بڑھتےہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ایک لاکھ 10 ہزار سےزائد اموات ہوئیں-

    رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے محکمہ موسمیات نے رواں سال معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیشگوئی کی ہے،جبکہ اس سلسلے میں ہنگامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    برطانوی جریدےکی رپورٹ کےمطابق ہیٹ ویوکےسبب سیلابوں میں اضافہ، زراعت،لائیواسٹاک میں کمی جبکہ انفراسٹرکچرتباہ اور مزدور کی صلاحیت میں کمی واقع ہو رہی ہےشدید گرم موسم پاکستان اوربھارت میں زراعت کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

    برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کےسبب گزشتہ سال دونوں ممالک کی گندم کی فصل میں 15 فیصد کمی ہوئی، موسمیاتی تبدیلی کے سبب پاکستان 6.5 سے 9 فیصد تک جی ڈی پی سے محروم ہوسکتا ہے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے قائم بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) نے ایک نئی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا تھا کہ دنیا کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات سے بچنا اب بھی ممکن ہے مگر اس کے لیے ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    آئی پی سی سی کے سائنسدانوں نے رپورٹ میں بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنا ممکن ہے مگر اس کے لیے دنیا کو اکٹھے مل کر 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 60 فیصد تک کمی لانا ہوگی تاکہ درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کیا جا سکے۔

    رپورٹ میں بتایا کہ دنیا بھر میں شدید موسمیاتی واقعات جیسے ہیٹ ویوز، قحط سالی، بارشوں اور سیلاب وغیرہ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جب کہ سمندروں کی سطح بھی بڑھ رہی ہے یہ سب اثرات ایک صدی سے زیادہ عرصے سے خام ایندھن کو جلانے کا نتیجہ ہیں جس کے باعث عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں 1.1 سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

    ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    محققین نے بتایا کہ موسمیاتی اثرات کی شدت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ اس سے بچنے کے لیے اقدامات جیسے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کچھ اچھی خبریں بھی ہیں، اگر تمام ممالک زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لائیں تو اس صدی کے وسط میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں اگر ایسا ممکن ہوتا ہے تو اس کے ایک دہائی یا اس کے بعد زمین کا درجہ حرارت مستحکم ہونے لگے گا۔

  • دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    نیویارک: سائنسدانوں نے دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی”دی گارڈین” کے مطابق سائنسدانوں نے آب و ہوا کے بحران پرایک "حتمی انتباہ” پیش کیا ہے، کیونکہ بڑھتے ہوئے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج نے دنیا کو ناقابل تلافی نقصان کے دہانے پر دھکیل دیا ہے جسے صرف تیز اور سخت کارروائی ہی روک سکتی ہے بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی)، جو کہ دنیا کے سرکردہ موسمیاتی سائنسدانوں پر مشتمل ہے، نے پیر کو8,000 صفحات پرمشتمل اپنی بڑی چھٹی تشخیصی رپورٹ کا حتمی حصہ مرتب کیا۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    دنیا کے معروف سائنس دانوں نے بین الحکومتی پینل کی چوتھی اور آخری قسط میں خبردار کیا ہے کہ سیارہ قریب قریب میں صنعتی سطح سے پہلے کی سطح کےبعدسے 1.5 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا "زیادہ امکان” ہے،جس کے نتیجے میں "بڑھتے ہوئے ناقابل واپسی نقصانات” ہوں گے 8,000 صفحات پر مشتمل رپورٹ جسے سنتھیسس رپورٹ کہا جاتا ہےکو اب تک مرتب کی گئی موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ جامع، بہترین دستیاب سائنسی جائزہ سمجھا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا یے کہ دنیا تیزی سے تباہ کن گرمی کی جانب بڑھ رہی ہےاور بروقت اقدامات نہ کیے گئےتو ہم بین الاقوامی ماحول کے اہداف سےبہت دور ہو جائیں گےدنیا کےسینکڑوں سائنسدان اس رپورٹ کی تیاری میں 8 برس سے مصروف تھے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ موسمیاتی بحران کس طرح سامنے آ رہا ہے۔

    سائنسدانوں نے بین الاقوامی ماحولیاتی نتائج پر کہا ہے کہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے موسمیاتی بحران کس طرح سے سامنے آ رہا ہے۔ دنیا بھر کے موسم میں شدت آ رہی ہے،گرمی کی شدت سے ہزاروں اموات ہو چکی ہیں جبکہ قحط اور سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کے اثرات بہت زیادہ شدید ہیں اور ہم تیزی سے خطرناک نتائج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    رپورٹ میں کہا گیا کہ زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کے اثرات پہلے ہی توقع سے زیادہ شدید ہیں اور ہم تیزی سے خطرناک نتائج کی طرف بڑھ رہے ہیں،فضا میں کاربن کی آلودگی 20 لاکھ سالوں سے اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور گزشتہ نصف صدی کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی شرح 2 ہزار سالوں میں سب سے زیادہ ہےموسمیاتی تبدیلی کے زیادہ اثرات غریب اور کمزور ممالک پر زیادہ پڑ رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے پیر کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ پر بین الحکومتی پینل کے آغاز کے موقع پر کہا کہ انسانیت پتلی برف پر ہے اور وہ برف تیزی سے پگھل رہی ہے ماحولیاتی بہتری کے لیے ہر ملک کو ہر شعبے میں کوشش کرنا ہو گی۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    فرینڈز آف دی ارتھ انٹرنیشنل میں پروگرام کوآرڈینیٹر سارہ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیش آنے والے خطرات کا اندازہ لگانے کے حوالےسے اب تک کی سب سے زیادہ خوفناک اور پریشان کن رپورٹ ہے۔

  • آسٹریلیا :دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگیں

    آسٹریلیا :دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگیں

    آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگی۔

    باغی ٹی وی: "الجزیرہ” کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے میننڈی میں دریائے ڈارلنگ باکا میں لاکھوں مردہ مچھلیاں دریا کی سطح پر تیرتی ہوئی پائی گئیں، جس نے لوگوں کو حیرت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا۔

    انگلینڈ اور ویلز میں شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال کر دی …

    جمعہ کے روز، نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت نے کہا کہ "لاکھوں” مچھلیاں میننڈی کے چھوٹے سے قصبے کے قریب دریائے ڈارلنگ میں مر گئی ہیں، یہ واقعہ 2018 اور 2019 میں اسی علاقے میں مچھلیوں کی موت کے بعد ہے جہاں پانی کے خراب بہاؤ، پانی کے خراب معیار اور درجہ حرارت میں اچانک تبدیلیوں سے دس لاکھ تک مچھلیاں مر گئیں۔

    مینیندی کے رہائشی گریم میک کریب نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ واقعی خوفناک ہے، جہاں تک آپ دیکھ سکتے ہیں وہاں مردہ مچھلیاں ہیں "یہ سمجھنا غیر حقیقی ہے، اس سال مچھلیوں کی ہلاکتیں پچھلی مچھلیوں سے بدتر دکھائی دیتی ہیں ماحولیاتی اثرات ناقابل فہم ہیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ جیسے ہی صبح نیند سے اٹھے تو ان کے سامنے پورا دریا مردہ مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا اور دریا کی سطح پر 30 کلومیٹر تک صرف مردہ مچھلیاں ہی نظر آرہی تھیں۔

    ریاستی حکام کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر مچھلیوں کی موت کا سبب دریائے باکا پر بڑھتی ہوئی ہیٹ ویو کے اثرات کا نتیجہ ہے، ہیٹ ویو سے سسٹم پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور اس سے بڑے سیلابوں جیسے صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

    آسام کے انتہا پسند وزیراعلیٰ نے ریاست کے تمام مدارس بند کرنے کا اعلان کردیا

    حکام کے مطابق ہیٹ ویو نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے، اور انسانوں کے پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بعد اس کا دورانیہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا تھا کہ صنعتی دور کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں درجہ حرارت 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو چکا ہے اور اگر دنیا بھر کی حکومت نے گیسوں کے اخراج پر روک نہ لگائی تو درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔

    ریاستی حکومت کے مطابق، حالیہ سیلاب کے بعد دریا میں بونی ہیرنگ اور کارپ جیسی مچھلیوں کی آبادی میں اضافہ ہوا تھا، لیکن اب سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں مر رہی ہیں-

    برطانیہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی

    ریاستی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مچھلیوں کی موت کا تعلق پانی میں آکسیجن کی کم سطح (ہائپوکسیا) سے ہے کیونکہ سیلاب کا پانی کم ہو رہا ہے خطے میں موجودہ گرم موسم بھی ہائپوکسیا کو بڑھا رہا ہے، کیونکہ گرم پانی میں ٹھنڈے پانی سے کم آکسیجن ہوتی ہے، اور مچھلیوں کو گرم درجہ حرارت میں زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

    سڈنی کے مغرب میں تقریباً 12 گھنٹے کی مسافت پر مینینڈ ی میں پچھلی مچھلیوں کی ہلاکت کا الزام طویل خشک سالی کی وجہ سے دریا میں پانی کی کمی اور 40 کلومیٹر (24 میل) سے زیادہ پھیلا ہوا زہریلا ایلگل بلوم قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دریائے ڈارلنگ باکا میں گزشتہ تین سالوں کے دوران بڑی تعداد میں مچھلیوں کے مرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ مردہ مچھلیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

    نیو ساؤتھ ویلز کے مقامی حکام کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ اس معاملے پر مزید کام کیا جائے گا تاکہ مچھلیوں کے مرنے کے اصل اسباب معلوم کیے جا سکیں۔

    بھارت کی سب سے بڑی ائیر لائن نے 50 طیارے انڈر گراؤنڈ کر دیئے

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی آسٹریلوی حکومت کی جانب سے 2012 میں دریا کو خشکی سے بچانے اور اس کی فطری بہاؤ کو برقرار رکھنے کیلئے 13 ارب آسٹریلین ڈالرز کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا-

  • جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی  تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ درختوں کے ساتھ خوردنی مشروم کی افزائش جہاں لاکھوں افراد کی غذا بن سکتی ہے تو دوسری جانب اس سے آب وہوا میں تبدیلی کے نقصانات کم کئے جاسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونیورسٹی آف اسٹرلنگ کی فیکلٹی آف نیچرل سائنسز میں بطور اعزازی پروفیسر کام کرنے والے پال تھامس گزشتہ دو سالوں سے مائیکوفاریسٹری کے ابھرتے میدان میں ہونے والے مطالعات کا ڈیٹا دیکھ رہے ہیں۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    ان کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنگلات میں کھانے کے قابل ’ایکومائیکورِزل فنجائی‘ (ای ایم ایف) کی کاشت سے ممکنہ طور پر سالانہ 12.8 ٹن فی ہیکٹر کاربن ختم کی جاسکتی ہےجبکہ اس فنجائی کو درختوں سے قریب اگانے کی صورت میں سالانہ 1 کروڑ 90 لاکھ افراد کے لیے غذا کا بند و بست بھی کیا جاسکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ درختوں کے ساتھ اگنے والی فنجائی کو لگنے والے نئے درختوں سے حاصل ہونے والی غذائی فصل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہےجبکہ اس نظام کو استعمال کرتے ہوئے فنجائی کی پیداوار گرین ہاؤس گیس کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے مشروم سے حاصل ہونے والا یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے غذا کی پیداوار ہمیں موسمیاتی تغیر کو ختم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    فی الوقت اس حوالے سے عالمی سطح پر زمین کے استعمال سے متعلق ایک تنازعاتی بحث جاری ہے کہ آیا جنگلات لگائے جائیں یا بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کھیتی باڑی کی جائے ڈیٹا کے مطابق 2010 سے 2020 تک ہر سال 47 لاکھ ہیکٹر کے وسیع رقبے تک جنگلات کاٹے گئے ہیں۔زرعی زمین کی بڑھتی ہوئی مانگ کو جنگلات کے ختم ہونے کا سب سے بڑا سبب قرار دیا جارہا ہے۔

    پروفیسر تھامس کے مطابق درختوں کے ساتھ مشروم کا اگایا جانا نہ صرف جنگلات کے کٹاؤ کی ضرورت کو کم کرے گا بلکہ درختوں کی افزائش کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا۔

    مشروم کی ساخت مسام دار اور گوشت کی طرح ہوتی ہے۔ مشروم ایک قدرتی فنگس ہے جو کہ ہمارے کھانوں میں الگ پہچان رکھتا ہے مشروم کی زیادہ تر اقسام میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں۔ ان میں وافر مقدار میں وٹامن ڈی اور بہت سارے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔

    مشروم کے روٹین میں استعمال سے وزن کم اور قوت مدافعت میں مدد ملتی ہے۔ یہ گلوکوز لیول کا برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر …

  • مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت برطانیہ میں سرد ماحول میں پنپنے والے پودوں کی اقسام کی افزائش کو متاثر کرکے ان کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے جبکہ برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فی صد مقامی پودے تنزلی کا شکار ہیں اور انہیں کئی خطرات لاحق ہیں۔

    باغی ٹی وی: بوٹانیکل سوسائٹی آف بریٹن اینڈ آئرلینڈ(بی ایس بی آئی) کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ ’پلانٹ اٹلس 2020‘ میں ملک میں پودوں کی زندگی پر کی جانے والی 20 سالہ تحقیق ہیش کی گئی-

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    ماہرین نے برطانیہ اور آئرلینڈ میں 3 ہزار 445 اقسام کے پودوں، فرناور الگئی کا سروے کیا اس سروے میں انہوں نے 1 لاکھ 78 ہزار سے زائد ایام کےعرصے میں تقریباً 9 ہزار بوٹنسٹ کی جانب سے اکٹھا کیے گئے 3 کروڑ پودوں کے ریکارڈ کا استعمال کیا۔

    گھر کے باغیچوں اور فصلوں میں موجود پودوں کو شمار کیے بغیر یہ جان کر محققین حیران رہ گئے کہ مطالعہ کی گئی اقسام کے 1 ہزار 753 غیر مقامی پودوں پر مشتمل تھی یہ غیر مقامی پودے مقامی پودوں کی جگہ لینے صلاحیت رکھتے ہیں کیوںکہ یہ تیزی سے بڑھتے ہیں، ان کو کھانے والے کم ہوتے ہیں یا ان کو بیماریاں کم لگتی ہیں اور یہ ماحول کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    آئرش سمندر میں ماہرین نے دیکھا کہ آئرلینڈ کے 56 فی صد مقامی پودے اقسام اور بہتات یا دونوں اعتبار سے تنزلی کا شکار ہیں محققین کا کہنا تھا کہ تیزی سے پھیلنے والے غیر مقام پودوں اور انتہائی نوعیت کی زرعی سرگرمیوں نے بھی مقامی پودوں کے وجود کو خطرے میں ڈالا ہے۔

    بی ایس بی آئی میں ہیڈ آف سائنس اور تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر کیون واکر کا کہنا تھا کہ ان پودوں کے وجود کو لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن سب سے ضروری چیز ان پودوں کو میسر تحفظ میں اضافہ، دستیاب مسکنوں کو بڑھانا اور ان کی ضروریات کو قدرتی ماحول کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دینا ہوگا اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ زمین، پانی اور مٹی زیادہ پائیدار ہو تاکہ ان عوامل پر منحصر پودے اور ان کی اقسام باآسانی نشونما کر سکیں۔

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

  • ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    بیجنگ: ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون جنگلات کی تباہی سے بہت دور واقع مستقل برفانی ذخائر مثلاً ہمالیہ اور انٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی :بیجنگ نارمل یونیورسٹی سے وابستہ سینی یانگ اور ان کےساتھیوں نے 1979 سے 2019 کےدرمیان آب و ہوا میں تبدیلی کےاثرات کےان دونوں مقامات کا جائزہ لیا ہے۔ ان رابطوں کو ٹیلی کنیکشن (دور سے روابط) کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں بطورِ خاص ایمیزون پر توجہ دی گئی ہے جو ایک جانب کاربن جذب کرنے کا اہم ترین مقام اور خود کلائمٹ چینج کی جگہ بھی ہے۔

    سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون برساتی جنگلات کی تیزی سے کٹائی 15,000 کلومیٹر دور تبتی سطح مرتفع پر درجہ حرارت اور بارش کو متاثر کر سکتی ہے اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت اور نمی میں کمی سےدوردرازسطح مرتفع تبت اورانٹارکٹیکا کی برف پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں اگرچہ تبت اور ہمالیہ، ایمیزون سے 15000 کلومیٹردورہےلیکن چینی ماہرین نےان دونوں کے باہمی اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

    ماہرین نے دیکھا کہ 1979 سے ایمیزون کا درجہ حرارت بڑھنے سے تبت اور مغربی انٹارکٹک برف کی اطراف پر درجہ حرارت بڑھا لیکن ایمیزون میں بارش اور نمی کی زیادتی انٹارکٹک اور تبت پر نمی اور برسات کم ہوئی۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    اسی تجزیئے کے ساتھ دونوں مقامات کے درجہ حرارت کے علاوہ انہوں نے توانائی اور مٹیریل کی ایک سے دوسرے مقام منتقلی کی راہیں بھی معلوم کی ہیں۔ مثلاً دیکھا کہ جنگلوں کی آگ سے اٹھنے والا سیاہ کاربن کس طرح فضا میں پھیلتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ راستہ مستقل طور پر ایک ہی ہے اور مستقبل میں ایسا ہی ہوگا۔

    مغربی انٹارکٹک آئس شیٹ کا گرنا ایک معروف ٹپنگ پوائنٹ ہے۔ تبت کے سطح مرتفع پر برف پگھلنا نہیں ہے، لیکن یہ خطہ باقی دنیا کی نسبت زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، اور وہاں کی برف اور برف میں تبدیلی سے ماحولیاتی نظام اور اربوں لوگ جو پانی کے لیے اس کے برف پگھلنے پر انحصار کرتے ہیں، کے لیے اس کے نتائج ہو سکتے ہیں۔ یانگ کہتے ہیں-

    سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بناڈالی

    تاہم اس تحقیق پر اپنی تنقیدی رائے دیتے ہوئے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف میٹیورولاجی کے ماہر وکٹر برووکِن کہتے ہیں کہ ٹیلی کنیکشن ایک دلچسپ تلاش ہے، لیکن اس میں شبہ ہےکہ ایمیزون میں تغیرات کہیں اور تبدیلیوں کاسبب بنتے ہیں ایمیزون درحقیقت ایک بہت ہی چھوٹا علاقہ ہےاور وہ کس طرح اتنے بڑے انٹارکٹک خطے کو متاثر کرسکتاہے۔ انہوں نے چینی سائنسدانوں سےکہا ہے کہ وہ اس کا طبعی طریقہ کار اور دیگر وجوہ پر بھی روشنی ڈالیں۔

    دوسری جانب پوٹسڈیم انسٹی ٹیوٹ آف کلائمٹ امپیکٹ ریسرچ، جرمنی کے جوناتھن ڈونگس کہتے ہیں کہ اگر یہ بات درست ثابت ہوجاتی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایمیزون دیگر خطوں پر بھی ڈومینو اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

    ایمازون نے 18 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا

  • موسمیاتی تبدیلیوں سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، اجتماعی کوششیں لازم ہیں،وزیر اعظم

    موسمیاتی تبدیلیوں سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، اجتماعی کوششیں لازم ہیں،وزیر اعظم

    مصر: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ موسمیاتی اثرات کی تباہی جاری رہی تو کوئی بھی ملک سنگین اثرات سے بچ نہیں سکےگا-

    باغی ٹی وی : مصر کے شہر شرم الشیخ میں وزیراعظم شہباز شریف اور ناروے کے وزيراعظم کی مشترکہ صدارت میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی کانفرنس ہوئی وزیراعظم نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور متاثرین کی مشکلات سےآگاہ کیا۔

    مصر میں وزیراعظم اور یورپی یونین کے صدرکی ملاقات

    وزیر اعظم نے کہا کہ موسمیاتی اثرات کی تباہی جاری رہی تو کوئی بھی ملک سنگین اثرات سے بچ نہیں سکےگا موسمیاتی تبدیلیوں سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، اجتماعی کوششیں لازم ہیں۔

    بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نےیواین سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس سےملاقات کی جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاکھوں سیلاب متاثرین کو سردیوں میں گرم کپڑوں کی ضرورت ہے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں آج بھی پانی کھڑا ہے، سیلاب سے نقصانات کا تازہ ترین اندازہ 30 ارب ڈالر ہے ، تعاون کرنے پر عالمی ادارہ صحت اور دیگر کے شکر گزار ہیں۔

    کانفرنس میں غیر ملکی رہنماؤں نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، اجتماعی کوششیں لازم ہیں۔

    وزیراعظم نے متاثرین سیلاب کی امداد پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا، کانفرنس میں شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    میزائل تجربات جنوبی کوریا اور امریکا پر حملے کی تیاری ہیں، یہ جنگی مشقیں جاری رہیں…

  • موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلیےسرگرم یواین تنظیم کا پاکستان کونائب صدارت دینے کا اعلان

    موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلیےسرگرم یواین تنظیم کا پاکستان کونائب صدارت دینے کا اعلان

    اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلیوں اور مسائل کے حل سے متعلق تنظیم (سی۔او۔پی۔27) نے وزیراعظم شہباز شریف کو نائب صدارت دینے کا اعلان کر دیا

    اقوام متحدہ کے 195 ممالک میں سے پاکستان کو یہ اعزاز ملا ہے .’سی۔او۔پی۔27′ کی صدارت مصر کے پاس ہے. ‘کانفرنس آف پارٹیز’ (سی۔او۔پی۔27) کی طرف سے اجلاس کے دوران نائب صدارت پاکستان کے لئے بڑا عالمی اعزاز ہے. مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے وزیراعظم شہباز شریف کو "سی۔او۔پی۔27” اجلاس کی مشترکہ صدارت کی دعوت بھی دی ہے. وزیراعظم شہباز شریف، ناروے کے وزیراعظم، مصر کے صدر گول میز کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے. ‘کانفرنس آف پارٹیز’ (سی۔او۔پی۔27) کا اجلاس شرم الشیخ، مصر میں 6 سے 18 نومبر کو ہوگا. اجلاس میں عالمی سربراہان، حکومتوں کے سربراہ، عالمی مالیاتی اداروں اور تھنک ٹینکس کے ذمہ دار شرکت کریں گے. اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے یہ 27 واں اجلاس ہوگا.

    توہین مسجد نبوی،پی ٹی آئی کارکن کو سعودی عدالت نے سزا سنا دی

    پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی نے کراچی پہنچ کر دیا فینزکو اہم پیغام

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    وزیراعظم شہباز شریف کی ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پراثر آواز پر انہیں یہ منصب دیا گیا.حالیہ سیلاب کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس۔سی۔او) کے سربراہان مملکت و حکومت کی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر موثر آواز اٹھائی تھی. ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسئلہ کو ‘ایس سی او’ تنظیم کی سطح پر اٹھانے کی وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز کی دیگر ممالک نے تائید کی تھی .شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت اور حکومت کی کونسل کا اجلاس 15 سے 16 ستمبر کو سمر قند میں ہوا تھا.