Baaghi TV

Tag: مولانا فضل الرحمان

  • عوامی مسائل کے حل کیلئے ہم سب کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ، مولانا فضل الرحمان

    عوامی مسائل کے حل کیلئے ہم سب کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اے پی سی بلانے پر ایمل ولی خان کے مشکور ہیں، عوامی مسائل کے حل کیلئے ہم سب کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں۔

    اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان نےکہا کہ اے پی سی میں تمام جماعتوں کے نمائندے موجود ہیں، ایسی مجالس کا انعقاد خوش آئند ہے، ریاست کی پہلی ترجیح انسانی حقوق کا تحفظ ہےکے پی ہو، بلوچستان ہو یا سندھ ہو، تینوں صوبوں میں دن اور رات میں عام آدمی محفوظ نہیں، قبائلی علاقہ جات مسلح گروہوں کی گرفت میں ہیں، کاروباری لوگ کاروبار نہیں کر سکتے، بھتے دینے پڑتے ہیں،سرکاری فنڈز کا دس فیصد ان مسلح گروہوں کو ادا کیا جاتا ہے، ہمارے قبائلی علاقوں کے معدنی وسائل اور ذخائر جو عوام کے ہیں، ملک میں قوانین موجود ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ دنیا میں سرمایہ کاری ہوتی ہے کمپنیاں اتی ہیں مقامی لوگوں کا اپنا شئیر ہوتا ہے ریاست کا اپنا شہیر ہوتا ہے، اس ملک میں تمام کاروائیاں اتھارٹی قائم کرنے کے لئے ہوتی ہیں، آسان فارموںوں کے تحت دنیا کو انگیج کر سکتے ہیں، آج وسائل ملک کے مستقبل کو روشن کرنے کے لئے سامنے آچکے ہیں، مگر وہاں پر اتھارٹی جمائی جاتی ہے، عوام، پارلیمنٹ کا کوئی اختیار نہیں، ہم نے فاٹا کا انضمام کیا، آٹھ نو سال گزر جانے کے بعد ریاست کمیٹی بناتی ہے کہ قبائل کا جرگہ سسٹم دوبارہ بحال ہو۔

    وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    انہوں نے کہا کہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے جرگہ قومی ہوتا تھا اور امن کی ذمہ داری اقوام پر ہوتی تھی جو حکومت کو منتقل ہو گئی، آج نو سال بعد جرگہ سسٹم کو بحال کرنے ضرورت کیوں پڑھ گئی؟یہ تاثر جا رہا ہے کہ انتضمام فاٹا کے اعلاقوں تک رسائی کے لئے کیا گیا، اب امن و امان کی ذمہ داری قبائل پر ڈالی جا رہی ہے، یہ فیصلہ تاریخ کرے کہ کس کی رائے ٹھیک نہیں ہے، کہاں ہیں وہ 100 ارب روپے جو ملنے تھے؟ کہاں ہیں وہ خواب جو دکھائے گئے؟ مائن اور منرل ایکٹ کے حوالے سے قانون بنائے جاتے ہیں، یہ قانون سازی آئین کے متصادم ہے، اٹھارویں ترمیم میں دیے گئے اختیارات قانون سازی کے ذریعے واپس لیے جا رہے ہیں۔

    سپریم کورٹ ججز کیلئے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی نئی پالیسی نافذ ، چھٹیوں کے قواعد میں بھی ترمیم

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ متنازع چیزوں پر بحث کرنے کی بجائے متفقہ چیروں کو سامنے لایا جائے، بدقسمتی سے ملک کا سیاسی اور پارلیمانی نظام مسلسل سوالیہ نشان بن گیا ہے، موجودہ حکومت نمائندہ عوام نہیں اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہےآج ہم اختلاف کر رہے ہیں پر امن مارچ کر رہے ہیں یہی چیزں بغاوت تک پہنچا دیتی ہیں، نظام کو سیدھا اور ٹھیک کیا جائے، ہم اپنے مؤقف پر آج بھی قائم ہیں۔

  • فضل الرحمان کا امریکا پاکستان معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار

    فضل الرحمان کا امریکا پاکستان معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے امریکا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تیل معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ، صوبوں اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔

    مولانا فضل الرحمان نے بیان میں کہا کہ ایسے اہم معاہدے ملکی مفاد سے جڑے ہوتے ہیں، جنہیں بغیر مشاورت اور شفافیت کے طے کرنا پاکستان کی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو اس اہم معاہدے کی اطلاع بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملی، اسی طرح بھارت سے جنگ بندی کی خبر بھی ہمیں ٹرمپ کے ذریعے معلوم ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے، جن میں پارلیمنٹ، صوبوں اور عوام کو شامل نہ کیا جائے، وہ قومی مفاد کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ فوری طور پر ان معاہدات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر شفافیت اور قومی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔

    باجوڑ میں مارٹر شیل گرنے سے 4 افراد زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    این اے 129 ضمنی انتخاب: خواجہ سعد رفیق نے حصہ لینے سے معذرت کرلی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 2 ہزار روپے کمی

    کراچی: شخص نے 2 بچوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا دی

  • کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں  زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟مولانا فضل الرحمان

    کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں نکاح میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟-

    اسلام آباد میں ایک اہم نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے 35 نکات سے حکومت کو دستبردار ہونے پر مجبور کیا، جس کے بعد ترمیم 22 نکات تک محدود ہوئی، اور اس پر بھی ان کی طرف سے مزید اصلاحات تجویز کی گئیں، وفاقی شرعی عدالت نے 31 دسمبر 2027 تک سود کے خاتمے کا حتمی فیصلہ دے دیا ہے، اور اب آئینی ترمیم کے بعد یہ باقاعدہ دستور کا حصہ بن چکا ہے کہ یکم جنوری 2028 سے سود کا مکمل خاتمہ ہوگا، اگر کسی نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تو وہ ایک سال کے اندر فیصلہ ہو کر نافذ العمل ہوگا، کیونکہ شرعی عدالت کا فیصلہ اپیل دائر ہوتے ہی معطل ہوجاتا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے معاشرتی اقدار کو نظرانداز کر کے بنائے گئے قوانین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی پر سزا کا قانون تو بنا دیا گیا، مگر غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے نام پر روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں نکاح میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟ قانون سازی کرتے وقت ملک کے رواج کو بھی دیکھنا چاہیے تاکہ معاشرتی اقدار پامال نہ ہوں۔

    بین اسٹوکس کی آئی سی سی پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی صرف سفارشات پیش کی جاتی تھیں، اب ان پر بحث ہوگی، انہوں نے واضح کیا کہ ’کون ہے جو جائز نکاح کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرے اور بے راہ روی کو راستہ دے؟انہوں نے غیرت کے نام پر قتل کو بھی شدید مذمت کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیرشرعی اور غیرانسانی عمل قرار دیا۔

    افغانستان پر امریکی حملے کے وقت متحدہ مجلس عمل کے کردار کو یاد کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ہم نے اس وقت بھی اتحاد امت کے لیے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں، مگر پاکستان میں دینی مقاصد کے لیے اسلحہ اٹھانے کو ہم نے حرام قرار دیا،سوات سے وزیرستان تک آپریشن ہوئے، مگر بے گھر ہونے والے آج بھی دربدر ہیں، ریاست کہاں ہے؟-

    مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومتی رٹ نہ ہونے پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ دہشتگرد دن دیہاڑے دندناتے پھرتے ہیں، مگر کوئی پو چھنے والا نہیں،جو لوگ افغانستان گئے تھے، وہ کیسے گئے اور واپس کیوں آئے؟ ریاست اپنی ناکامیوں کا بوجھ ہم پر مت ڈالے۔

    امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان میں مسلح جدوجہد کو غیرشرعی اور حرام قرار دے چکے ہیں،ہمیں ایک جرأت مندانہ موقف لینے کی ضرورت ہے، تاکہ ملک کو موجودہ افراتفری سے نکالا جا سکے، دہشتگردی کا خاتمہ ابھی بہت دور ہے، اور حکومت کو سنجیدگی سے اپنے وعدوں اور آئینی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ہوگا، ورنہ قوم مزید تباہی کی طرف جائے گی۔

  • فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا، فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے: مولانا فضل الرحمان

    فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا، فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے: مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ درست ثابت نہیں ہوا، قبائلی عوام کا معیارِ زندگی بہتر نہیں ہوا، فاٹا کو ایک الگ صوبے کا درجہ دیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں موسم تو خوشگوار ہے لیکن سیاسی موسم شدید گرم ہے، جس کی اپنی ہوائیں اور رخ ہوتے ہیں۔انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں بہتری نہیں آئی۔آج وہ لوگ بھی انضمام کے مخالف ہو چکے ہیں جو پہلے حامی تھے۔ہم نے انضمام کی سب سے زیادہ مخالفت کی اور وقت نے ہمارے خدشات کو درست ثابت کیا۔قبائلی عوام کے سیاسی مستقبل کا سوال ہم نے سب سے پہلے اٹھایا۔

    انکا مزید کہنا تھا کہ انضمام کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی شامل نہیں۔فاٹا جرگہ بلایا جائے گا جس سے مشاورت کے بعد کمیٹی کے ارکان کے نام دیے جائیں گے۔فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز دی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے آئینی ترامیم درکار ہوں گی۔

    مولانا کا کہنا تھا کہ نئے صوبے پاکستان کی ضرورت ہیں اور اس سمت میں سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔انضمام کو واپس لینے سے قبل اس کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔مولانا نے علماء کی ٹارگٹ کلنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ علماء کو شہید کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے، یہ عمل کھلا گناہ ہے۔اللہ مومن کے قتل پر بہت ناراض ہوتا ہے۔

    تجز یہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی گفتگو نے فاٹا انضمام کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس پر آئندہ دنوں میں سیاسی حلقوں میں گرما گرم مباحثے کی توقع ہے۔

    کوئٹہ اور قلات حملے: سی ٹی ڈی نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے

    اداکارہ حمیرا اصغر کیس: بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے، موبائل اور زیور غائب

    اسحاق ڈار کی افغان قیادت سے اہم ملاقاتیں، سیکیورٹی و بارڈر مینجمنٹ پر زور

    سانحہ سوات: سیالکوٹ کے لاپتہ بچے عبداللّٰہ کی لاش برآمد

  • چار گھنٹوں  میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلقات میں میانہ روی اور اختلاف کو اختلاف تک رکھنا چاہتے ہیں-

    چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ مدارس بل پر حکومتی اتحاد کے بدنیتی ظاہر ہو چکی ہے، صدر مملکت نے مدارس آرڈیننس ایکٹ پر دستخط کیے ہیں، مدارس آرڈیننس کو توسیع دی جار ہی ہے مگر قانون سازی نہیں ہو رہی، مدارس ترمیمی بل کے حوالے سے حکومت کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں، مدارس ترمیم بل کے حوالے سے فیصلہ وفاق المدارس اور تنظیمات مدارس کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ امن و امان اور شہریوں کے جان ومال کی ذمہ داری ریاست کی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کےجان و مال کی حفاظت کریں چار دہائیوں سے دہشت گردی کے واقعات ریاستی اداروں کا منہ چڑا رہے ہیں، چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں، سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ چار دہائیوں سے جاری دہشت گردی پر قابو کیوں نہیں پایا جارہا؟ ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے عوام پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں،عوام نے سوات سے لے کروزیرستان تک چند گھنٹوں میں علاقے خالی کیے، آج بھی وہ لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجر ہیں، سیکیورٹی ادارے ایک بار پھر عوام کو علاقے خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنی ناکامی کی ذمہ داری عوام پر نہ ڈالیں، ادارے اپنے گریباں میں جھانک اپنا امتحان لیں مگر یہاں تو ادارے ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر عوام پر رعب ڈال رہے ہیں، ریاستی اداروں کا لب و لہجہ رعب والا ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے ہر میٹنگ اور جرگہ میں عام لوگوں کو اپنے لہجے سے مرعوب کر رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنا لب و لہجہ سیدھا کرلیں، ادارے ہمارے ساتھ انسان اور پاکستانی بن کر بات کریں، اداروں کے لوگ مافوق الفطرت نہیں ہیں اور نہ یہ عوام سے بالاتر ہیں، ریاستی اداروں کے لوگ ہماری طرح کے انسان ہیں اور ہمارا اور ان کا شناختی کارڈ ایک ہے، مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ ریاستی ادارے جرگے بلاکر ان کو دھمکیاں دیتے ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عوام پر الزامات لگا رہے ہیں، خیبر پختون خوا میں اپوزیشن پارٹیاں ایک مخصوص نشست کے لیے عدالتوں میں جا رہی ہے، مسلم لیگ ن نے مخصوص نشست پر عدالت میں جے یو آئی کے خلاف کیس دائر کیا ہے، موجود ہ حالات میں مسلم لیگ ن کا یہ اقدام کس کو فائدہ دے گا؟ ایسی اپوزیشن کا میں کیا کرو ں جس کا ہر قدم صوبائی حکومت کے فائدے میں جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون وا میں موجودہ اپوزیشن کے ساتھ ان حالات میں کیسے چلیں گے؟ہم معتدل سیاست کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، حکمران بھی ہمیں لچر زبان میں جوا ب اور گالیاں دے رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں بھی ہمارے خلاف عدالتوں میں جار ہی ہے، ایسی صورتحال میں خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد کا سوچ غلط ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم افغانستان کے خلاف پہلے کاروائی اور بعد میں بات چیت شروع کرتے ہیں، افغانستان کے خلاف کارروائی سے تلخیاں پیدا ہوتی ہے اور مذاکرات کا ماحول ختم ہو جاتا ہے، میثاق جمہوریت پر ہم ایک بار ہاں کر چکے ہیں، جے یو آئی آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہے، اگر سیاست دان میثاق جمہوریت پر عمل کریں تو ایک بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ختم نہیں کررہا لیکن تعلقات کو بہتر بنانا میرے مقاصد میں سے ہے، میں پی ٹی آئی سے اختلاف کو اختلاف کی حد تک رکھ کر تلخیوں کو دور کرنا چاہتاہوں، میں پی ٹی آئی کی تلخی اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا جواب ان سے پوچھ لیں اس غیر معقول سوال کا جواب میں کیوں دوں؟ میں نے خیبر پختو خوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں کی، میں نے مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے پی ٹی آئی کے اندر تبدیلی لانے کی بات کی ہے، میں نے اپوزیشن کی سودا بازیوں اور ارکان توڑنے کے بجائے پی ٹی آئی کے اندر نئی ایڈمنسٹریشن کی بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، آج بھی کہتا ہوں کہ اس صوبے کی اکثریت جعلی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے اور عدالت نے تسلیم بھی کیا ہے، ساری دنیا پی ٹی آئی کی حکومت مان رہی ہے ،اس میں ہم کچھ نہیں کرسکتے، تاریخ فیصلہ کرے گی کہ مینڈیٹ چوری کے حوالے سے ہمارا دعویٰ غلط یا درست ؟-

  • روسی سفیر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، غزہ، افغانستان  پر گفتگو

    روسی سفیر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، غزہ، افغانستان پر گفتگو

    پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ خورِیو نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران مسئلہ فلسطین اور غزہ میں جاری انسانی المیے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اہل غزہ کی جبری بے دخلی کے معاملے پر روس سے مداخلت کی اپیل کی، جس پر روسی سفیر نے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔مولانا فضل الرحمان نے افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے روسی اقدام کو سراہا، جبکہ روسی سفیر نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف جے یو آئی کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔

    ملاقات کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق روس اور جے یو آئی نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف باہمی اتحاد سے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، اور باہمی تعلقات کو مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

    پاک بحریہ کے افسران، سیلرز اور سویلینز کو عسکری اعزازات دینے کی تقریب

    کراچی: پولیس اور رینجرز اہلکاروں میں فائرنگ، ایک جاں بحق، ایک زخمی

    ژوب میں 9 مسافروں کے قتل کا مقدمہ درج

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا اعلان

  • وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اسجد محمود پر حملے کی مذمت

    وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اسجد محمود پر حملے کی مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کے چھوٹے صاحبزادے اسجد محمود پر حملے اور اغوا کی کوشش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور قومی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔

    غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 44 فلسطینی شہید

    چیئرمین واپڈا سجاد غنی عہدے سے مستعفی ، وجوہات ذاتی قرار

    ہری پور میں سوشل میڈیا انفلوئنسر سے مبینہ اجتماعی زیادتی، مقدمہ درج

  • خضدار میں فائرنگ، جے یو آئی (ف) کے رہنما سردارزادہ میر کامران جتک جاں بحق

    خضدار میں فائرنگ، جے یو آئی (ف) کے رہنما سردارزادہ میر کامران جتک جاں بحق

    بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے چمروک میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سردارزادہ میر کامران جتک جاں بحق ہوگئے۔

    فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میر کامران جتک کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ پارٹی کارکنان کے لیے گہرے صدمے کا باعث ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ ’’اللہ تعالیٰ مرحوم کو مغفرت عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔‘‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’’بلوچستان اور خیبر پختونخوا اس وقت جنگل کا منظر پیش کر رہے ہیں، یہاں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ جے یو آئی (ف) کے کارکنوں کو پاکستان سے وفاداری کی سزا دی جا رہی ہے۔ریاست شاید ہمارے امن کے جذبے کا انتقام لے رہی ہے، حالات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، لیکن حکومت اور ریاست کو کوئی پرواہ نہیں۔

    اسحٰق ڈار سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    احمد آباد طیارہ حادثہ: ایک بلیک باکس مل گیا، تحقیقات کا آغاز

    سندھ حکومت کا 26-2025 کا ترقیاتی بجٹ تیار، 1018 ارب روپے مختص

    ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل:کمنز کی شاندار بولنگ، آسٹریلیا کو 218 رنز کی برتری

    احمد آباد طیارہ حادثہ: ہلاک افراد کے اہل خانہ کیلئے ایک کروڑ روپے فی کس معاوضے کا اعلان

  • خطے کو آگ وخون میں دھکیلنے کی بھارتی و اسرائیلی سازش ناکام ہوئی ہے،مولانا فضل الرحمان

    خطے کو آگ وخون میں دھکیلنے کی بھارتی و اسرائیلی سازش ناکام ہوئی ہے،مولانا فضل الرحمان

    لاہور:جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاک-بھارت جنگ بندی پر کہا ہے کہ خطے کو آگ وخون میں دھکیلنے کی بھارتی و اسرائیلی سازش ناکام ہوئی ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مشکل گھڑی میں بھارتی جارحیت کے مقابلے میں اللہ کریم کی مدد ونصرت اور قوم کی ثابت قدمی نے پاکستان کو سرخرو کیا پوری قوم، سیاسی قائدین اور افواج پاکستان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور حالیہ تنازع میں بے گناہ شہریوں کی شہادت کو اللہ کریم شرف قبولیت عطا فرمائے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خطے کو آگ وخون میں دھکیلنے کی بھارتی اور اسرائیلی سازش ناکام ہوئی ہے، مضبوط دفاعی قوت کے پس پشت سیاسی قیادت اور قوم کے اتحاد نے دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا،حالیہ تنازع میں برادر ملکوں خصوصاً سعودی عرب اور دیگر کے مثبت کرادار کو سراہتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    انہوں نے دعا کی کہ اللہ کریم آئندہ بھی ہر قسم کے آزمائشوں سے محفوظ رکھے، وطن عزیز کو سلامت رکھے اور قوم کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست کی بہاریں نصیب ہوں۔

  • مولانا فضل الرحمان کا کل ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان

    مولانا فضل الرحمان کا کل ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان

    جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھارتی جارحیت کے خلاف کل (9 مئی) کو ملک بھر میں دفاع وطن منانے کا اعلان کردیا۔

    جمیعت علما اسلام کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کل 9 مئی کو یوم دفاع منایا جائے گا اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے اپیل کی ہے کہ اجتماعات میں بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کروائیں اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دیں گے، وطن کے دفاع کے لیے ہم سب ایک ہیں، ہماری بہادر فوج جرات کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑی ہے، پوری قوم ان کی پشت پر ہے وطن کا دفاع فرض بھی اور ہمارا ایمانی حق بھی ہے، قوم دشمن کی ہرجارحیت کا جواب دینے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔

    پاکستانی بندرگاہوں پرمیری ٹائم سکیورٹی ہائی الرٹ

    واضح رہے کہ ایک روز قبل جے یو آئی سے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا یہ وقت قومی اتحاد کا ہے اور بھارتی جارحیت کیخلاف پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کا اعلامیہ جھوٹ کا پلندہ،قوم بھارتی پروپیگنڈے میں نہ آئے