Baaghi TV

Tag: مولانا فضل الرحمان

  • ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان

    لاہور: مولانا فضل الرحمان نےکہا ہے کہ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے۔

    لاہور میں کنونشن سے خطاب میں جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے،پاکستان اور افغانستان کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ اب کوئی مسلح جنگ نہیں ہونی چاہیے، مسلح گروہوں کو بھی اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، سیاست اور نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اور موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں منتخب نہیں ہیں گالیوں کی سیاست بدبودار اور بدنام ہو چکی ہے،انہوں نے حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا رہا وزیرستان میں گزشتہ ایک سال میں 3 علما کے قتل کی بھی نشاندہی کی اور کہاکہ ہم سفاک قاتلوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

    مولانا فضل الرحمان نے دینی مدارس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ طلبہ کو تعلیم اور رہائش کے ساتھ فراہم کرتے ہیں، جبکہ حکومت آج اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو حالیہ غیر منطقی اقدامات ہو رہے ہیں وہ دین اسلام کے خلاف ہیں، جب کوئی تنقید کرتا ہے تو میں اپنی کمزوری کو تلاش کرتا ہوں اور اسے سنجیدگی سے لیتا ہوں۔

    قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتار ی،مودی حکومت کی سفارتی کارکردگی پر سنگین سوالات

  • مدارس کو  کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان

    مدارس کو کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان

    راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

    راجہ بازار راولپنڈی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا اشرف علی کے مشکور ہیں جنہوں نے انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت دی، آج پوری دنیا کی حکمرانی اگرچہ امریکا کے ہاتھ میں ہے لیکن ایمان کی طاقت اس کے پاس نہیں، اسی لیے دینی مدارس ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت ہمارے دینی مدارس کر رہے ہیں، ایک طرف پی آئی اے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مدارس پر قبضے کی خواہش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں،

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علامہ شبیر عثمانی کو بھی انگریز نے اپنے سامنے ان پڑھ کہا تھا، آج بھی اسی سوچ کے نقشِ قدم پر چلا جا رہا ہے اور دین کے علم کو علم تسلیم نہیں کیا جاتا،مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں،ہمیں اداروں پر اعتماد نہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا، مدارس کے تحفظ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء متفق ہیں۔ ہم مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے، مگر کسی قسم کا دھوکہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    تقریب کے دوران نعرے بازی کرنے والے طلباء کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آپ نعرے لگانے کی بجائے کام کر رہے ہوتے تو پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں جیت جاتے لوگوں کو بتایا جائے کہ مدارس سیاست انبیا کی وراثت ہے اور ہم اس مسند کے حق دار ہیں۔

  • اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں،مولانا فضل الرحمان

    اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن سیاسی بنیاد پر ایسا اقدام انتشار کو جنم دے گا –

    رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن سیاسی بنیاد پر ایسا اقدام انتشار کو جنم دے گا ،صدارتی نظام اس ملک میں پہلے بھی ناکام ہو چکا ہے،اور آئندہ بھی نہیں چل سکتا،انتخابات شفاف ہوں تو عوامی مینڈیٹ کی عزت ہوگی پاکستان کا مستقبل صرف پارلیمانی نظام سے جڑا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں عوامی رائے کا احترام نہیں کیا گیا، اور اگر الیکشن میرٹ پر ہوتے تو آج ملک مہنگائی اور استحصال کا شکار نہ ہوتامولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کو سیاست میں مثبت قدم قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ہر جماعت کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے، لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر۔

    بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قاتل کو بھارت فرار کرانے والا ملزم گرفتار

    مدارس کی رجسٹریشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قانون پاس ہو چکا ہے، لیکن عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے اگر ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، مگر آئین سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا،انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے علما کو اعزازیہ دینے کے اعلان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ عمل علماء کی توہین ہے، شریعت میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں، احتساب سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

    افریقا میں ریسکیو ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،2 غیرملکی سیاح سمیت 5 ہلاک

  • افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    کراچی:جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپنی روایات بچانے کے لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں، ایک دوسرے کو عزت دینا ہماری روایات ہیں، اعزازی ڈگری کا شکریہ مگر میں خود کو مولانا کہلوانا پسند کروں گا۔

    کراچی میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے کر آج کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے کہ وہاں سے کچھ لوگ آئے اور کارروائی کرکے چلے گئےہمیں 78 سال کی افغان پالیسی پر بات کرنی چاہیے، افغانستان کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں رہا ، ظاہر شاہ سے اشرف غنی تک ہمیں کوئی افغا ن دوست حکومت نہیں ملی، کیا وجہ ہے؟ ہم اپنا بیانیہ تیار کریں گے تو الزام ان پر ہی دیں گے مگر ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کہ یہ ہماری افغان پالیسی کا فیلیئر تو نہیں؟ اس پر بھی بحث کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں شکایات افغان حکومت سے ہیں اور ہم زور ڈال رہے ہیں ان لوگوں پر جو چالیس سال سے ہمارے مہمان ہیں، مہاجرین کو مہمان کے طور پر ڈیل کیا جائے، مہاجرین جب بھی کہیں جاتے ہیں مسئلہ بنتا ہے یہ پاک افغان دوطرفہ مسئلہ ہے دیکھنا پڑے گا یہ چالیس برسوں میں افغانیوں نے پاکستان کی معیشت میں کتنا حصہ ڈالا؟ افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، پالیسی بنائے جائے افغانیوں کی صلاحیتیں پاکستان کے لیے استعمال ہوں۔

    مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین پاکستان کہتا ہے کہ آئین سازی قرآن و سنت سے ہٹ کر نہیں ہوگی مگر ہم نے حالیہ ترامیم میں کئی قانون پاس کیے ہیں چاہیے وہ 18 سال سے کم عمری کی شادی کا بل ہو، گھریلو تشدد کا بل ہو یا ٹرانس جینڈر ایکٹ ہو، ہم نے قرآن و سنت کو پس پشت ڈال کر صرف اقوام متحدہ کے کہنے پر قانون سازی کی، اس معاملے پر بات کی جائے ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں،2018ء اور 2024ء دونوں انتخابات عوامی نہیں اسٹیبلشمنٹ کے تھے۔

    کراچی:گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    ان کا کہنا تھا کہ دفاعی حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور ہمیں اسے برقرار رکھنا چاہیے ہم پاکستان کے طاقت ور دفاع کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن دفاعی قوت کو دفاعی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں کیوں کہ سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا دفاعی قوتوں کا نہیں عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، ہمیں سیاسی اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے اگر تمام ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک آگے بڑھے گا ہمیں ایک دوسرے کی بالادستی کے بجائے آئین کی بالادستی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    پاپوانیو گنی میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی طور پر بھی غزہ میں فوجیں نہ بھیجے اور کسی بھی امن فورس کا حصہ نہ بنے، ہمیں ایک تلخ تجربہ ہےماضی میں اُس وقت کے بریگیڈیئر ضیا الحق اردن گئے تھےاور فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کی تھی، فلسطینی وہ وقت بھولے نہیں، ایک دور میں یہ بھی ایشو اٹھا تھا کہ عراق فوج بھیجی جائے یا نہیں، یہ افواج پیس کیپنگ نہیں ہوتیں یہ جنگ کیپنگ ہوتی ہیں ان کا کام لڑنا ہوتا ہے پاکستان کسی صورت یہ غلطی نہ کرے۔

  • مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    امیر جے یو آئی (ف)مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا۔

    گورنر ہاؤس کراچی میں خصوصی کانووکیشن کا انعقاد کیا گیا، جہاں سر سید یونیورسٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی ،جےیوآئی کےسیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری ،علامہ راشد محمود سومرو بھی تقریب میں شریک تھے۔

    بعد ازاں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے جبکہ بھارت کے خلاف پاکستان کو زبردست کامیابی ملی۔

    انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو پاکستان کے حوالے کرے دہشت گردی کے تمام تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،بھارت شکست کا بدلہ لینے کے لیے مختلف حرکتیں کر رہا ہے اور پاکستان اس وقت معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے پاکستان کی سالمیت کی بات آئے گی تو سب کو کردار ادا کرنا ہو گا، آج مولانا فضل الرحمان کے لیے خود حلیم بنائی، اور امید کرتا ہوں کہ انہیں میری بنائی گئی حلیم پسند آئی ہو گی۔

  • حکمران  پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے،مولانا فضل الرحمان

    حکمران پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انشاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے گا

    امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے جامعہ مفتاح العلوم مستونگ بلوچستان کی سالانہ تقریب سے آن لائن خطاب میں کہا کہ مجلسِ اتحادِ امت کے زیر اہتمام مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندگان اور دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجتماع 22 دسمبر کو کراچی میں منعقد ہوگا ،اجتماع میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ہمارا ملک کس سمت جا رہا ہے-

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجتماع میں پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں پر غور کیا جائے گا،اجتماع میں ملک کی ترقی، صوبوں میں عوام کے حقوق، بالخصوص چھوٹے صوبوں کے مسائل پر بات کریں گے،افغانستان اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ، موجودہ مشکلات کے حل، دوست ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانے اور شکایات کے ازالے کے لیے تعمیری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان

    انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے،اجتماع کے فیصلوں سے ملک کے مستقبل پر دیرپا اثرات ظاہر ہونگے ،آج پوری دنیا میں دینی علوم کے حوالے سے برصغیر، اور بالخصوص پاکستان، ایک نمایاں مقام رکھتا ہے،ہمارے اکابر کی شروع کی ہوئی جدوجہد کی بنیاد پر قرآن، سنت، حدیث اور فقہ کے علوم کی حفاظت ہو رہی ہے۔

    امیر جے یو آئی نے کہا کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل علماء اور اساتذہ مختلف ممالک میں قرآن و حدیث کے ماہرین کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں، مدار س کے طلبہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں،امتحانات میں مسلسل بورڈ ٹاپ کر رہے ہیں ایسا ذہین اور محنتی ٹیلنٹ شاید دنیا میں کم ہی ملے، افسوس کہ ہمارے ملکی نظام میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں اس کی قدر پیدا فرمائے۔

    https://x.com/juipakofficial/status/2000910998316929083?s=20

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے حکمران نہ صرف قرآن و سنت سے ناآشنا ہیں ،بلکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کر رہے، حا لیہ دنوں میں کی گئی آئینی ترامیم اور قانون سازی واضح طور پر قرآن، سنت اور حدیث کے منافی ہے،انہیں دینی علوم اور قرآنِ کریم کی صحیح سمجھ ہوتی تو وہ ایسی غلطیاں ہرگز نہ کرتے جیسی حالیہ دنوں میں اسمبلی کے اندر کی گئیں۔

  • ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال انتشار اور تشدد کی طرف بڑھ رہی ہے ،مولانا فضل الرحمان

    ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال انتشار اور تشدد کی طرف بڑھ رہی ہے ،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جیل میں قید کسی بھی شخص سے ملاقات اس کے ورثاء کا آئینی حق ہے-

    سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے اڈیالہ جیل کے باہر پرامن آئینی احتجاج پر تشدد افسوسناک ہے جیل میں قید کسی بھی شخص سے ملاقات اس کے ورثاء کا آئینی حق ہے پارلیمنٹیرین اور اپوزیشن رہنماؤں پر تشدد آمریت کی علامت ہے جمہوری روایات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے ،خواتین کا احترام مشرقی واسلامی روایات کا حصہ ہے ۔

    https://x.com/juipakofficial/status/1998706732164686224?s=20

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات خواتین پر تشدد نے مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ پر تشدد کی یاد تازہ کر دی،ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال انتشار اور تشدد کی طرف بڑھ رہی ہے ،ملکی معیشت اور حالات اس کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔

    دوسروں کو ذہنی مریض کہنے والے خود ذہنی مریض ہیں،عون چوہدری

    پاکستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے، آئی ایم ایف کی انتباہی رپورٹ جاری

    بانی پی ٹی آئی جن کے کاندھوں پر چڑھ کرآئے اُنہی کیخلاف سازش کی،شرجیل میمن

  • وزیراعظم  اور مولانا فضل الرحمان کا  رابطہ، سعودی معاہدے  پر گفتگو

    وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کا رابطہ، سعودی معاہدے پر گفتگو

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور جمیعت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

    وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے سراہا اور کہا کہ پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت حاصل ہونا خوش آئند ہے۔رابطے کے دوران مشرق وسطیٰ اور خصوصاً غزہ کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔ گفتگو میں غزہ میں مستقل امن، فلسطینیوں کے حقوق اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال ہوا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ان کا ساتھ دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے حالیہ بیان کو خطے میں امن قائم کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کا نادر موقع سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ بندی سے نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی روک تھام ممکن ہو سکے گی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا دیرینہ خواب پورا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن خطے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔

    سمندری طوفان ’شکتی‘ میں شدت، ساحلی علاقوں میں بارش اور تیز ہواؤں کا امکان

  • پاکستان۔سعودی معاہدہ ،مسلم دنیا کے بلاک کی جانب اہم قدم ہے،مولانا فضل الرحمان

    پاکستان۔سعودی معاہدہ ،مسلم دنیا کے بلاک کی جانب اہم قدم ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا معاہدہ مسلم دنیا کے ایک بلاک بننے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے یہ بات جماعت کے مارچ سے خطاب میں کہی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ پہلے بھی اس تجویز کے حق میں رہے ہیں کہ مسلم ممالک کو مشترکہ قوت بنانی چاہیے اور قطر میں مسلم ممالک کے اجلاس کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کہیں مسلمانوں پر ظلم ہو تو سعودی عرب اور پاکستان کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور جب فلسطینی ایک ریاست کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں بھی ایک موقف اپنانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ امن کے لیے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں امن مارچ کیے جا چکے ہیں اور جمعیت امن کا پرچار کر رہی ہے۔ مولانا نے زور دیا کہ جماعت کا منشور امن پر مبنی ہے اور وہ اپنے منشور پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد مارچ کرنا نہیں چاہتے مگر حکومتی رویے نے انہیں مجبور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی رائے کے خلاف نتائج قبول نہیں ہوں گے اور قوم اب اپنے خیر خواہ جاننے لگی ہے۔سربراہ جے یو آئی نے ملک کی معیشت پر تشویش ظاہر کی، کہا کہ پاکستان معاشی طور پر کمزور ہے، بیروزگاری اور مہنگائی بڑھ گئی ہے، اور قربانی کے تقاضے ہمیشہ عوام پر عائد کیے جاتے ہیں جبکہ حکمران قربانی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے جمعیت کو محض قومی بلکہ امت مسلمہ کی آواز قرار دیا۔

    رفح میں بارودی سرنگ کا دھماکہ، 4 اسرائیلی فوجی ہلاک

    ٹی20 ایشیاء کپ: سری لنکا سے شکست کے بعد افغانستان ٹورنامنٹ سے باہر

    ٹی20 ایشیاء کپ: سری لنکا سے شکست کے بعد افغانستان ٹورنامنٹ سے باہر

    جماعت اسلامی کا غزہ چلڈرن مارچ، حافظ نعیم کو 30 لاکھ کا چیک پیش

  • علی امین گنڈاپور کی مولانا فضل الرحمن اورگورنر کے پی،پر کڑی تنقید

    علی امین گنڈاپور کی مولانا فضل الرحمن اورگورنر کے پی،پر کڑی تنقید

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمن پر کڑی تنقید کی-

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اگر حق کا کلمہ پڑھنے کے لیے راضی ہو گئے ہیں تو میں ان کو ویلکم کروں گا، مگر مولانا فضل الرحمان کو میں جانتا ہوں، وہ حق کا کلمہ نہیں پڑھیں گے،مولانا فضل الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم میں پیسے لیے ہیں اور ووٹ بھی دیے ہیں ، ہماری پارٹی نے مولانا کے پیچھے نمازیں پڑھیں مگر مولانا نے حکومت کا ساتھ دے دیا –

    صحافی نے سوال کیا کہ آپ مولانا پر پیسے لینے کا الزام لگا رہے ہیں، یہ پہلی بار سامنے آیا ہے ، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ تو مولانا ووٹ کیوں دیں گے؟ پیسے ہی لیے ہوں گے ،عورت کی حکمرانی کو حرام کہنے والا ڈیزل کے پر مٹ پر بک گیا اور عورت کی حکمرانی کو قبول کر لیا ،ڈی آئی خان کے عوام کو کہا جاتا تھا مولانا کو ووٹ دیں مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں ضمانت ضبط ہوئی یہ بلوچستان سے بھی فارم 47 پر جیتے ہیں مولانا ہمیشہ باسز کا حکم مانتے ہیں مولانا فضل الرحمان نے ہمیشہ نوٹ وکھا میرا موڈ بنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

    علی امین گنڈا پور کی کالا باغ ڈیم بنانے کی بات سے متفق ہوں،عظمیٰ بخاری

    علی امین گنڈاپور نے گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ گورنر کا کام ایک آئینی کام ہے، فیصل کریم کنڈی پی پی پی کا انفارمیشن سیکرٹری ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے میں نے کنڈی کو بہت دفعہ پیغام بھجوایا ہے کہ باز آجاؤ، سیاست مت کرو ، میں گورنر کو خیبر پختونخوا سے نکال سکتا ہوں وہ گھر میری حکومت کی ملکیت ہے میں نے اسلام آباد کے پی ہاؤس سے فیصل کریم کو نکالا، آج تک یہاں نہیں آ سکا، پاکستان میں 95 فیصد سیاست دان پٹرول ، سرکاری گاڑی اور سکیورٹی گارڈ پر مرتے ہیں، فیصل کریم ان میں سے ایک ہے ۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا