Baaghi TV

Tag: مولانا فضل الرحمان

  • وفاقی وزیرداخلہ   کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیرداخلہ نے مولانا فضل الرحمن کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا کے علاقے کرم میں قیام امن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کرم میں امن کے قیام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور بعض عناصر نے جان بوجھ کر کرم مسئلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کی بہتری کے لئے گرینڈ جرگہ کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

    محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے دیرینہ نیاز مندی ہے اور پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پارا چنار میں امدادی اشیاء کے قافلوں کی آمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کرم میں امن و سکون کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ملکی مفاد میں مزید تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

  • ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرقوں کو حکومت لڑاتی ہے ان کے درمیان اشتعال انگیزی حکومت پیدا کرتی ہیں اور پھر اس کے ذمہ دار ہم کو ٹھکراتے ہیں

    26 ویں آئینی ترمیم میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی شاندار کارکردگی، اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کے اعزاز میں جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام عظیم الشان "استقبالیہ تقریب” کا انعقاد کیا گیا، مولانا فضل الرحمن ، مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ،مولانا امجد خان ودیگر قائدین اسٹیج پر موجود تھے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، اور بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے ،ابھی کل الیکشن ہوا ہے 15 پولنگ سٹیشن پر ،تو ہمارے امیدوار کے پہلے بھی فارم 45 پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان جیتے تھے اور کل بھی لیکن نتائج پھر بھی دوسرے امیدوار کے حق میں دیا،پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست معیاری نہیں اور عوام کو مسلسل غلط فہمی کا شکار کیا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "ہمیں پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں جو کرم کے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟” ان کا اشارہ کرم ایجنسی میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کی طرف تھا، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کرم کے علاقے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے کہا کہ "کب تک آپ معاشرے کو غلط فہمی کا شکار کرتے رہیں گے؟” انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دونوں فریقین کے وفود آئے تھے اور انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کی تھیں، لیکن اگلے دن ہی فسادات کا آغاز ہوگیا ۔” میرے پاس پرسوں ایک سفیر بھی آئے، جنہوں نے مختلف مسائل پر بات کی اور کرم کے فساد کا ذکر بھی کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہ سننا چاہتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، لیکن ہمیں اس مسئلے کا حل بخوبی معلوم ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔” مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کرم کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس موقع پر پاکستان کے اسلامی ریاست کے قیام میں اکابرین کے پارلیمانی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہمارے اکابرین نے پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا، اور ہم اسی راستے پر چلتے ہوئے ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ولانا نے مزید کہا کہ "حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں ان حالات کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں مسلسل تبدیلیوں کے باوجود، ہمیں اپنے اصولوں پر قائم رہ کر قوم کے لیے بہتر فیصلے کرنے ہوں گے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا یہ خطاب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، کرم کے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات اور امدادی سرگرمیوں کی تاخیر کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عوام کو مسائل سے نجات مل سکے اور امن قائم ہو سکے۔

    مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمإ اسلام پاکستان جناب مولانا امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے جمعیت علما اسلام کے سیلاب میں بہہ گئے، مستقبل نوجوانوں کا ہے، مولانا جب بات کرتے ہیں تو بڑوں بڑوں کو سر جھکانا پڑتا ہے، 26 ویں آئیں ترمیم میں وہی ہوا جو مولانا نے چاہا،مدارس کی ترمیم بارے مولاناکی خواہش کے مطابق کام ہوا، مولانا نے کہا تھا کہ مدرسوں کے نظام کے راستے میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں ہو گی، حکمرانوں نے ہماری قیادت کے فیصلے کو تسلیم کیاہماری قیادت نے مدرسہ، مسجد کی جنگ لڑی اور کامیابی ملی، ہم مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پاکستان میں اسلامی نظام لا کر دم لیں گے.

    بہاولپور: نادرا آفس کی ملازمہ نے شوہر سے جھگڑے کے بعد خودکشی کر لی

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

  • دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    وزیراعظم شہبازشریف نے مدارس رجسٹریشن بل کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کیلئے بلالیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر سربراہ جمعیت مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرکے ملاقات کے لئے بلا لیا ہے ۔مولانا فضل الرحمان کل دن 3 بجے وزیراعظم ہاؤس میں شہباز شریف سے ملاقات کریں گے جس میں مولانا اتحاد تنظیمات مدارس کا موقف وزیراعظم کے سامنے رکھیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے رابطے کے بعد مولانا فضل الرحمان کا مفتی تقی عثمانی سے بھی رابطہ ہوا ہے،مولانا فضل الرحمان نے مفتی تقی عثمانی سے کل کی ملاقات سے متعلق مشاورت کی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ مدارس بل اب ایکٹ بن چکا ہے اب ہم کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے اور یہ بات نہ مانی گئی تو پھر ایوان کی بجائے میدان میں فیصلہ ہوگا۔

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، عارف علوی

    گورنرسندھ کا مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

  • مدارس رجسٹریشن معاملہ: ایم کیو ایم نے مولانا کی حمایت کردی

    مدارس رجسٹریشن معاملہ: ایم کیو ایم نے مولانا کی حمایت کردی

    کراچی: ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ مدارس کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے-

    باغی ٹی وی : سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان سے ایم کیوایم وفد کی ملاقات کی، ملاقات میں مدارس رجسٹریشن سے متعلق سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل پر گفتگو متوقع تھی، ایم کیو ایم کی قیادت کی آمد پر مولانا فضل الرحمان نے خوشی کا اظہار کیاخالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مولانا صاحب سے ہر دور میں ملاقات ہوتی رہی ہے، 26ویں ترمیم کے موقع پر بھی سب کے اپنے اپنے مؤقف تھے۔

    جے یو آئی کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضٰی، مولانا عبدالغفورحیدری، سنیٹرعطاء الرحمان، مولانا اسعد محمود اوراسلم غوری موجود تھے۔

    ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا آج متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت ہمارے پاس آئی، ان کا آنا ہمارے لیے خوشی کی بات ہے، ہمارا یہی مطالبہ ہے حکومت دینی مدارس کاگزٹ نوٹیفکیشن جاری کرے، چاہتے ہیں سیاسی تنازعہ کے بغیرمعاملات خوش اصلوبی سے حل ہوں۔

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول نے کہا کہ آج ہم نے مولانا کے مؤقف پر کھل کر بات کی ہے اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے قانون سازی کے عمل کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کا عمل مکمل ہو چکا ہےایوان صدر نے مدارس سے متعلق قانون سازی کو الجھادیا اور اس بات پر زور دیا کہ مدارس سے متعلق بل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیےدینی مدارس کے حوالے سے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

    خالد مقبول نے بھی اس بات کی حمایت کی اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مدارس کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، ہم ہر دور میں مولانا فضل الرحمن کے پاس آتے رہے ہیں، ہم نے آج مولانا کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، مذاکرات سے ہی تناز عا ت کا حل سیاسی جماعتوں کا حسن ہے-

    اس موقع پر گورنر نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت درج کیا جائے کامران ٹیسوری نے بھی وضاحت کی کہ ہم تو وزیر تعلیم ہی مولانا صاحب کے پاس لے آئے۔

    متحدہ قومی موومنٹ کے وفد کی قیادت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی۔

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

  • احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے طےکرلیا احتجاج کرینگے، اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کی تنظیم یا علما سے کوئی اختلاف نہیں، شکایت صرف اور صرف صدر مملکت سے ہے،صدر مملکت نے آئینی مدت میں مدارس بل پر دستخط نہیں کیے، صدر دستخط نہ کرے تو دس دن بعد بل قانون بن جاتا ھے، بالکل ویسے ہی جیسے صدر علوی نے ایک بار جب دستخط نہ کئے تو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ہماری رائے میں ایکٹ پاس ہوچکا، نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن کو غیر ضروری گھمبیر بنایا جا رہا ہے،مدارس بل پر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے‘آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکا گیا؟ لاہور میں نواز شریف اور شہباز شریف سے گفتگو میں اتفاق رائے ہوا ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہوئی،جنہوں نے علماء کو بلایا وہی تنازع کے ذمہ دار ہیں،بل کی تیاری میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں شامل تھیں،مدارس اور تعلیمی ادارے 1860 کے ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست،ذمہ دار لوگ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، 16 دسمبر کو ہمارا اجلاس ہو رہا ہے، اگر ہمیں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے، علما سے گزارش ہےکہ جنہوں نے آپ کو اکسایا یہی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ،یہ ملک، آئین اور پارلیمنٹ کا بھی مذاق بنا رہے ہیں، جب سرکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی تو عوام میں جانے کے علاوہ راستہ نہیں،نواز شریف،آصف زرداری اس وقت دونوں ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں، مثال موجود ہے جب سابق صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو اس وقت حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا، اس سے زیادہ اس حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کرم میں قتل عام ہو رہا ہے، جنوبی اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، تمام مکاتب فکر نے ہمارے موقف کی بھرپور حمایت اور تائید کی ہے، مذاکرات کرنا اچھی بات ہے۔ مسائل حل ہو تے ہیں تو بہتر ہے، اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

  • مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مدارس رجسٹریشن پر سیدھی نہیں ہوتی تو کل لائحہ عمل دیں گے،

    نوشہرہ میں‌مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے اتفاق ہوا تھا کہ مدارس جس صوبے میں چاہیں رجسٹر ہو سکتے ہیں، اب ایوان صدر سے اعتراض آ رہے ہیں، آصف زرداری خود لاہور اجلاس میں موجود تھے جب بلاول کے ساتھ اس پر اتفاق ہوا تھا،اب ان کے اعتراض کو میں ہاتھ لگانا تو کیا چمٹے سے بھی پکڑنے کو تیار نہیں ہوں ،میرے مدرسے کا طالب علم کالج یونیورسٹی کے نصاب کا امتحان دیتا ہے، اسکی شرح نکالی جائے کہ ہمارا کتنا نوجوان عصری علوم حاصل کر رہا ہے، ہماری شرح بہت زیادہ ہے، اگر بیٹے کے لئے انگریزی پڑھانا مفید سمجھتا ہوں تو امت کے بچوں کے لئے کیوں مفید نہیں سمجھوں گا، کیا دارالعلوم دیوبند نے عصری علوم کا کبھی انکار کیا، تاریخ بھی تو پڑھیے گا، مدرسہ کیوں وجود میں آیا، جو مدرسہ برصغیر میں ہے وہ 1857 سے پہلے کیوں برصغیر میں نہ تھا، اس پر سوچنا چاہیے، اسلام ،علما ہر جگہ ہیں، آج بھی کہنا چاہتا ہوں میری بیوروکریسی جتنی بھی خوش نما، خوبصورت اور معصوم الفاظ میں ہمدردی کے الفاظ استعمال کریں کہ مدارس کو مین سٹریم میں لانا چاہتے ہیں، فضلا کو روزگار دلانا چاہتے ہیں ،یہ وہ زہر ہیں جو آپ ہمیں دینا چاہ رہے، ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں، یہ الیکشن دھاندلی کا الیکشن ہے اور یہ حکومت قانونی اور آئینی نہیں ہے، بس ایک زبردستی والی حکومت ہے، اگر خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی آئےگی تو ہم اس کا حصہ نہیں ہونگے،مدارس کو رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں لیکن ریاست سے تصادم نہیں چاہتے ،دینی مدارس کو حکومت کے اثرورسوخ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں ،

    جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا،مولانا فضل الرحمان

    ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

  • 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ نہیں ہوگا ،فیصل واوڈا

    26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ نہیں ہوگا ،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی: مدارس رجسٹریشن بل پر اہم بات چیت ہوئی،ملاقات میں سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا اسعد محمود بھی موجود تھے دوران ملاقات سینیٹر فیصل واوڈا نے مولانا فضل الرحمان کی خیریت دریافت کی، علاوہ ازیں، ملاقات میں ملکی سیاسی ومجموعی صورتحال پر بھی مشاورت کی گئی۔

    مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد سینیٹر کامران مرتضیٰ کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا افضل الرحمان کا بہت بڑا فین ہوں، میں یہاں کسی مقصد یا مفاد کیلئے نہیں آیا، مولانا فضل الرحمان سے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی ہے، سیاسی طلاقوں اورعداتوں سے متعلق اپنی معلومات بڑھائیں، مذاکرات ناممکن کو ممکن بنانے کاعمل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میرا دماغ بالکل قبائلیوں کی طرح کا ہے، دوستی اور دشمنی کھل کر نبھاتا ہوں، 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ نہیں ہوگا بلکہ ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، مدارس سے متعلق بل اور دیگر معاملات پر بات ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا کردار اور سیاسی دور اندیشی بہت اچھی ہے، اس وقت ملک میں انتشار اور تقسیم کی سیاست کو ختم کرنے کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے بہت اہم کردار ادا کیا اور مستقبل میں بھی اُن کا کردار اہم ہوگا۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ سب کو مل کر جمہوریت کے تحت پُرامن طریقے سے آگے بڑھنے اور پاکستان کیلئے ون، ون والی صورت حال بنانی ہوگی تاکہ ہمارا ملک آگے بڑھے، سیاسی مخالفت اپنی جگہ پر رہے مگر یہ دشمنی اور انتشار کی صورت میں تبدیل نہ ہو مولانا فضل الر حمان سے 26ویں آئینی ترمیم اور عمران خان کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے بات ہوئی، جے یو آئی کے سربراہ کا جو کردار ہے پہلے ہم اس کو سمجھ نہیں سکے تھے مگر اب آنکھیں کھل گئیں ہیں۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے جو میری ون آن ون ملاقات ہوئی اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کروں گا، قومی حکومت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر فیصل واوڈا نے کہا کہ اس وقت ملک میں قومی حکومت ہے، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو جے یو آئی کا مینڈیٹ دیا گیا، فارم 47 کے ساتھ جے یو آئی کے مینڈیٹ کی بات بھی ہونی چاہیے۔

    انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ میں اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری کا حامی ہوں، پاکستان کی خاطر، انتشار اور نفرت و سیاست کی تقسیم کو ختم کرنے کیلئے ایم کیو ایم، ٹی ایل پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جاؤں گا تاہم انہوں نے پی ٹی آئی کے پاس جانے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کی جان بچانے کے لیے ہی یہ سب کررہا ہوں، اب عمران خان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میں اُن کی زندگی کیلئے ہی کام کررہا ہوں، میرا مسئلہ ریاست، حکومت اور سیاست نہیں بلکہ ایک ہی مقصد ہے کہ بشریٰ بی بی اور اُن کے حواریوں سے عمران خان کی جان کو بچاؤں اور ملک سے انتشار اور تقسیم کو ختم کردوں۔

  • ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

    ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

    سکھر: جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہےکہ ا سٹبلشمنٹ سمیت تمام مفاد پرستوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم پاکستان درست سمت میں لے کر جائیں گے-

    باغی ٹی وی : باب الاسلام سندھ کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا ہم لااللہ الہ پر پورا اترے ہیں، وردی پہن کر سونے کے ڈنڈے لہرا کر سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو خوبصورت وطن بناسکیں گےا سٹبلشمنٹ سمیت تمام مفاد پرستوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم پاکستان درست سمت میں لے کر جائیں گے،قوموں کے وسائل پر قبضہ کیا جارہا ہے،حقوق سلب ہورہے ہیں، ہمارا نعرہ یہ ہی ہے کہ سندھ کے حقوق پر سندھیوں کا حق ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ تاریخی اجتماع پر سندھ کی عوام پر فخر کرتا ہوں،جب بھی آواز دی،آپ نے لیبک کہا، اگر سندھ کے وسائل پر قبضہ کیا گیا تو تحریک اٹھے گی ، ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق ہے، یہ حق ہر کسی کو تسلیم کرنا ہوگا ، تم نے دھاندلی کی جے یو آئی کے ساتھ ظلم کیا گیا ، ہماری قومی اسبملی میں سیٹیں کم کی گئیں ، پاکستان کو انارکی کی طرف دھکیلا جارہا ہے ،ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، یہ ملک ہمارا ہے، 77 سال سے جو قوتیں پاکستان پر مسلط ہیں انہیں گریبان میں جھانکنا چاہئے۔

  • فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت

    فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت

    سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت کردی۔

    لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں پر تشدد واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ کسی پارٹی کے اندرونی معاملات کو زیر بحث نہیں لانا چاہتا، آج کے حالات 8 فروری کے الیکشن کی وجہ سے ہیں، حالات میں شدت پیدا ہوئی، ہم نے ہمیشہ اعتدال پر مبنی سیاست متعارف کروائی ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو انتخابی عمل سے لاتعلق ہونا ہوگا، تب ہی ملک میں امن ہوگا، اگر کوئی شخص گھر سے باہر نہیں نکلا تب بھی وہ گھر میں اضطراب کا شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ہونی چاہیے، پاکستان میں خون ریزی کی سیاست نہیں چل سکتی، حقائق پر مبنی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، طاقتور حلقوں نے اگر سنجیدگی کا مظاہرہ نا کیا تو ملکی حالات کنٹرول سے باہر ہوں گے۔ 26 ویں ترمیم جس پر حکمران خوش تھے کہ 9 گھنٹوں میں معاملہ ٹھیک ہوگیا، اس معاملے کو ایک ماہ تک لے گئے تب اتنا بڑا معرکہ سر ہوا جب کہ اس میں پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔سربراہ جے یو آئی نے بتایا کہ اگر 26 ویں ترمیم ہوسکتی ہے تو پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیاں مذاکرات میں کردار ادا کرسکتے ہیں، بلوچستان کے حالات یہ ہیں کہ وہاں کوئی حکومت ہے ہی نہیں۔ اپنے کارکنان کو تشدد سے پاک صحیح راستہ دکھانا سیاسی جماعتوں کا فرض ہے، مدارس بل پر اگر صدر مملکت نے دستخط نہیں کیے تو پھر کانفرنس بلائیں گے۔

    ایف آئی اے چھاپہ، مینیجر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    جلا ہوا پی ٹی آئی کا کنٹینر لوگ دیکھنے پہنچ گئے

    3 دن میں اسلام آباد آنے والے 3 منٹ میں بھاگ گئے، ناصر حسین شاہ