Baaghi TV

Tag: مولانا فضل الرحمان

  • ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    مردان: جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کرم میں فوجی آپریشن کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: میں جامعتہ الاسلامیہ بابوزئی میں تکمیل درس نظامی کے سلسلے میں پروقار تقریب ہوئی، تقریب میں دینی مدارس کے ہزاروں طلباء اور ان کے والدین نے شرکت کی،مولانا فضل الر حمان مہمان خصو صی تھے، پارٹی رہنما عطا الحق درویش، ضلعی امیر مولانا امانت شاہ حقانی، مہتمم جامعہ بنوری کراچی ڈاکٹر سید احمد بنوری، مفتی حماد یوسفزئی نے بھی خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الر حمان نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں لیکن انسانیت کے فائدے کی بات کریں گے، مغربی کلچر مذہبی جماعتوں کے پیچھے لگی ہوا ہے قیام پاکستان سے اب تک اسٹیبلشمنٹ اور مغربی قوتیں دینی مدارس کے خلاف سرگرم ہیں، جنرل مشرف کو کہا کہ آپ بھی تسلیم کریں کہ ہم امریکا کے غلام ہیں، ہمارے اسلاف نے جدوجہد کی جب کہ اسٹبشلمنٹ نے اس کی غلامی تسلیم کی۔

    پہلا ٹیسٹ:پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا ایشو اٹھایا گیا، ہم جدید علوم کے خلاف نہیں، تقسیم حکومت نے پیدا کی ہے مدارس کی حفاظت کرینگے، مدارس کی رجسٹریشن کا ایشو اٹھایا گیا، ہم جدید علوم کے خلاف نہیں ہیں سیاسی جماعت ہو نے کے ناطے ہم مذاکرا ت کے حق میں ہیں، مذاکرات نیک نیتی کے ساتھ ہونے چاہییں،کرم میں فوجی آپریشن کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے، صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، صوبے میں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن مافیا سرگرم ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کی سڑکوں اور تمام مراکز صحت کی تعمیر و بحالی کا الٹی میٹم

  • اس ملک کے ساتھ صرف علمائے  کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    چارسدہ: مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں لوگ اسلام کا مذاق اُڑا رہے ہیں، ہم نے بالادست قوتوں کو محبت سے سمجھایا ہے، شرافت سے ہماری بات مان لو۔

    باغی ٹی وی : چارسدہ میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں لوگ اسلام کا مذاق اُڑا رہے ہیں، مسلمان کا خون مسلمان پر حرام ہے ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے مذہب اسلام کےساتھ بہت ظلم کیا ہے یہ ملک کسی کےباپ کی جاگیرنہیں، صنعت کار، جاگیردار، بیوروکریٹس اور عام پاکستانی کی ایک حیثیت ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے ہم اس پاکستان میں امن چاہتے ہیں ہم نے دلیل اور محبت سے بالادست قوتوں کو سمجھایا ہے۔ جھوٹ موٹ اور دھاندلی کے الیکشن سے حسینہ واجد بھی جیتی تھی شرافت سے ہماری بات مان لو۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ختم نبوت کے عقیدے کا تحفظ کی ،مدارس پر ہر طرف سے حملے شروع ہو چکے ہیں مدارس کے خلاف عالمی سازشیں ہو رہی ہیں دنیا چاہتی ہے کہ مدارس کا سلسلہ ختم ہو جائے جب کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے باوجود مدارس مزید مضبوط ہو رہےہیںمدارس ختم کرنے کی خواہش اور سازش انگریز وں کی بھی تھی اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ہمارے لیے نظام حیات بنایا ہے۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اگر26 ویں آئینی ترمیم حکومت کی خواہش پر پاس ہوتی تو بڑی تباہی آتی حکومت کا آئینی مسودہ پارلیمنٹ اورانسانی حقوق کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا۔ اس میں فوجی عدالتوں کو مضبوط کیا گیا اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات محدود کیے گئے تھے ہمارا ملک سرتاپا سود میں ڈوبا ہوا ہے سارے ادارے اور بینک سودی نظام پر چل رہے ہیں اس ڈمی اسمبلی میں بیٹھنے کی ہمیں کوئی خواہش نہیں لوگ ووٹ کسی کو ڈالتے ہیں اور کامیاب کوئی اور ہوتا ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی:بھارت نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

    انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل پر ہما را اختیار ہے یہ وسائل کسی کا باپ بھی ہم سے نہیں چھین سکتا خیبر پختونخوا میں امن و امان یا حکومت نام کی کوئی چیز نہیں مضبوط حکومت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا معیشت کے اشاریوں سے قوم کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا نااہل حکمران بتائیں کہ کیا الٰہ دین کا چراغ ملا ہے؟ حکومت معیشت کی بہتری کے دعوے کرتی ہے تو بتائیں کہ وسائل کہاں سے آئے۔

  • سیاست دانوں کے غلط رویوں سے آج پارلیمان بے معنی ہو گئی ،مولانا فضل الرحمان

    سیاست دانوں کے غلط رویوں سے آج پارلیمان بے معنی ہو گئی ،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں آمروں کے خلاف لڑتا رہا ہوں، اب جمہوریت کمزور ہو چکی ہے

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم نہیں پی ٹی آئی کیا مانگ رہی ہے، میں سیاست دان ہوں اور ہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ہوں، سیاست دان حکومت بنانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ سمجھوتا کرتے ہیں، جب تک ایسا ہوتا رہے گا تو آئین ختم ہو جائے گا ،سیاست دانوں کے غلط رویوں سے آج پارلیمان بے معنی ہو گئی ہے، ہم امریکہ کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں، سیاستدانوں کو جیلوں میں نہیں ہوناچاہیے،ماضی میں جوکچھ ہوااس کےبھی خلاف تھے،سیاست میں انتقام کاتاثرنہیں ہوناچاہیے ،ادارے یا پارٹی حدود سے تجاوز کرتی ہے تو اس کو اپنے رویئے پر نظر ثانی چاہئے،میں سیاسی آدمی ہوں مذاکرات کا قائل ہوں، معاملات ٹھیک ہوتے ہیں، کامیابی کے لئے ماحول بھی ہونا چاہئے،دھاندلی کے الیکشن کی گنجائش ہے تو دھاندلی سے پاک کی کوئی نہیں ہے،ٹرمپ کو اپنے دماغوں پر کیوں سوار کیا ہوا ہے،ہم کیوں اپنے سر پر سوار کریں، اس خطے سے امریکہ شکست کھا کر بھاگا ہے،وہ پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف لے جانا چاہتا ہے، خیبر ،بلوچستان میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے،غیر اعلانیہ لوگ وہاں‌گھر چھوڑ رہے ہیں، ربع صدی تک علاقہ جنگ میں رہا، اسکی جغرافیائی صورتحال خطرے میں پڑ جاتی ہے، ہم ایک جلتی ہوئی زمین پر بیٹھے ہیں، پتہ نہیں کیوں احساس نہیں کیا جا رہا،قبائلی دنیا معدنی وسائل سے بھری ہوئی ہے، کیا عالمی قوتوں کے لئے اسکو آماجگاہ تو نہیں بنا رہے، قوم کو خود داری کی طرف جانا ہو گا، ہم اپنے ملک کے اندر کسی ادارے کی بالا دستی قبول کرنے کو تیار نہیں امریکی بالادستی کیسے قبول کریں

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی پارلیمنٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم ہوئی، اس میں مذاکرات کرنے والی پارٹی حکومت کے مقابلے میں اکیلی جے یو آئی تھی، خالص سیاسی نقطہ نظر کے ساتھ، آئین، پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے، اصول کے دائرے میں رہ کرمذاکرات کئے اور کامیاب ہوئے،دوسری پارٹیاں ایسے کیوں نہیں کر سکتیں، میں 1980 کے بعد سے مارشل لاؤں کے خلاف لڑتا رہا ہوں، آمرانہ قوتوں کو کمزور کرنے کے لئے لڑتا رہا ہوں، خامیاں سیاستدانوں‌کے اندر ہیں، خود اعتمادی اپنے اندر لانی ہو گی،آٹھ اراکین کی قومی اسمبلی کی اپوزیشن نے مذاکرات کئے اور نوے سے زائد اراکین والی اپوزیشن کو ساتھ ملایا، ساتھ چلایا، ہم اصول پر ہوں تو ہر ایک سے منوا سکتا ہوں،

  • قومیت کا نعرہ لگانے والے لوگ بھی خود کو لبرل کہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    قومیت کا نعرہ لگانے والے لوگ بھی خود کو لبرل کہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    ملتان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تعصب تنگ نظری کے سوا کچھ نہیں پھر خود کو آزاد بھی کہلواتے ہیں، اللہ نے جدو جہد کو لازمی قرار دیا ہے، ہمیں مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی: ملتان میں علما کنونشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انبیا کرام نے سب سے زیادہ تکالیف برداشت کیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں، اگر وہ مسلمان ہوجائیں گے تو سب کہیں گے ہمارا بھائی ہے، قومیت کا نعرہ لگانے والے لوگ بھی خود کو لبرل کہتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تعصب تنگ نظری کے سوا کچھ نہیں پھر خود کو آزاد بھی کہلواتے ہیں، اللہ نے جدو جہد کو لازمی قرار دیا ہے، ہمیں مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے، قوم قبول کرے یا نہ کرے جدو جہد جاری رکھنی ہے، نامناسب سہولیات کے پیش نظر لوگ شہر چھوڑ رہے ہیں، سیاست انبیا کا وظیفہ ہے، اسے دینی اداروں کے حوالے کیوں کردیا گیا؟-

    عالمی سطح پر سندھ کی صحت سہولیات کو مانا جارہا ہے ،بلاول بھٹو

    مولانا نے کہا کہ ہم اس وقت 21 ویں صدی میں جارہے ہیں، 19 ویں صدی سے لے کر 20 ویں صدی کے وسط تک برصغیر کی قیادت علمائے کرام کے ہاتھ میں تھی لیکن کوئی ایک ایسی مثال نہیں ملتی جہاں مسئلک کا اختلاف پیدا ہوا ہو، امت بالکل متحد تھی۔

    وزیرِ اعظم نے بین الاقوامی معیار کی سہولیات کیلئے جامع پلان طلب کر لیا

    انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سیاست جن لوگوں کے ہاتھ میں آئی آج تک فتنہ و فساد اور خونریزی سے ہماری جان نہیں چھوٹی، ہم ہر متکبہ فکر سے بات کرنے والے لوگ ہیں، قوم کو جوڑنے اور انسانیت کی بات کرتے ہیں، پارلیمان میں تمام ممبران کو بڑی وضاحت سے کہا تھا کہ تمام مکاتب فکر اور امت مسلمہ کی نمائندگی کروں گا۔

    فیصلہ فیصلہ کا راگ الاپنے والوں کا پورا ٹبر عدالت سے غائب رہا،عظمیٰ بخاری

  • وفاقی وزیرداخلہ   کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیرداخلہ نے مولانا فضل الرحمن کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا کے علاقے کرم میں قیام امن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کرم میں امن کے قیام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور بعض عناصر نے جان بوجھ کر کرم مسئلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کی بہتری کے لئے گرینڈ جرگہ کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

    محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے دیرینہ نیاز مندی ہے اور پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پارا چنار میں امدادی اشیاء کے قافلوں کی آمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کرم میں امن و سکون کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ملکی مفاد میں مزید تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

  • ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرقوں کو حکومت لڑاتی ہے ان کے درمیان اشتعال انگیزی حکومت پیدا کرتی ہیں اور پھر اس کے ذمہ دار ہم کو ٹھکراتے ہیں

    26 ویں آئینی ترمیم میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی شاندار کارکردگی، اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کے اعزاز میں جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام عظیم الشان "استقبالیہ تقریب” کا انعقاد کیا گیا، مولانا فضل الرحمن ، مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ،مولانا امجد خان ودیگر قائدین اسٹیج پر موجود تھے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، اور بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے ،ابھی کل الیکشن ہوا ہے 15 پولنگ سٹیشن پر ،تو ہمارے امیدوار کے پہلے بھی فارم 45 پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان جیتے تھے اور کل بھی لیکن نتائج پھر بھی دوسرے امیدوار کے حق میں دیا،پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست معیاری نہیں اور عوام کو مسلسل غلط فہمی کا شکار کیا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "ہمیں پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں جو کرم کے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟” ان کا اشارہ کرم ایجنسی میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کی طرف تھا، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کرم کے علاقے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے کہا کہ "کب تک آپ معاشرے کو غلط فہمی کا شکار کرتے رہیں گے؟” انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دونوں فریقین کے وفود آئے تھے اور انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کی تھیں، لیکن اگلے دن ہی فسادات کا آغاز ہوگیا ۔” میرے پاس پرسوں ایک سفیر بھی آئے، جنہوں نے مختلف مسائل پر بات کی اور کرم کے فساد کا ذکر بھی کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہ سننا چاہتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، لیکن ہمیں اس مسئلے کا حل بخوبی معلوم ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔” مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کرم کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس موقع پر پاکستان کے اسلامی ریاست کے قیام میں اکابرین کے پارلیمانی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہمارے اکابرین نے پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا، اور ہم اسی راستے پر چلتے ہوئے ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ولانا نے مزید کہا کہ "حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں ان حالات کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں مسلسل تبدیلیوں کے باوجود، ہمیں اپنے اصولوں پر قائم رہ کر قوم کے لیے بہتر فیصلے کرنے ہوں گے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا یہ خطاب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، کرم کے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات اور امدادی سرگرمیوں کی تاخیر کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عوام کو مسائل سے نجات مل سکے اور امن قائم ہو سکے۔

    مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمإ اسلام پاکستان جناب مولانا امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے جمعیت علما اسلام کے سیلاب میں بہہ گئے، مستقبل نوجوانوں کا ہے، مولانا جب بات کرتے ہیں تو بڑوں بڑوں کو سر جھکانا پڑتا ہے، 26 ویں آئیں ترمیم میں وہی ہوا جو مولانا نے چاہا،مدارس کی ترمیم بارے مولاناکی خواہش کے مطابق کام ہوا، مولانا نے کہا تھا کہ مدرسوں کے نظام کے راستے میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں ہو گی، حکمرانوں نے ہماری قیادت کے فیصلے کو تسلیم کیاہماری قیادت نے مدرسہ، مسجد کی جنگ لڑی اور کامیابی ملی، ہم مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پاکستان میں اسلامی نظام لا کر دم لیں گے.

    بہاولپور: نادرا آفس کی ملازمہ نے شوہر سے جھگڑے کے بعد خودکشی کر لی

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

  • دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    وزیراعظم شہبازشریف نے مدارس رجسٹریشن بل کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کیلئے بلالیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر سربراہ جمعیت مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرکے ملاقات کے لئے بلا لیا ہے ۔مولانا فضل الرحمان کل دن 3 بجے وزیراعظم ہاؤس میں شہباز شریف سے ملاقات کریں گے جس میں مولانا اتحاد تنظیمات مدارس کا موقف وزیراعظم کے سامنے رکھیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے رابطے کے بعد مولانا فضل الرحمان کا مفتی تقی عثمانی سے بھی رابطہ ہوا ہے،مولانا فضل الرحمان نے مفتی تقی عثمانی سے کل کی ملاقات سے متعلق مشاورت کی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ مدارس بل اب ایکٹ بن چکا ہے اب ہم کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے اور یہ بات نہ مانی گئی تو پھر ایوان کی بجائے میدان میں فیصلہ ہوگا۔

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، عارف علوی

    گورنرسندھ کا مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

  • مدارس رجسٹریشن معاملہ: ایم کیو ایم نے مولانا کی حمایت کردی

    مدارس رجسٹریشن معاملہ: ایم کیو ایم نے مولانا کی حمایت کردی

    کراچی: ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ مدارس کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے-

    باغی ٹی وی : سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان سے ایم کیوایم وفد کی ملاقات کی، ملاقات میں مدارس رجسٹریشن سے متعلق سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل پر گفتگو متوقع تھی، ایم کیو ایم کی قیادت کی آمد پر مولانا فضل الرحمان نے خوشی کا اظہار کیاخالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مولانا صاحب سے ہر دور میں ملاقات ہوتی رہی ہے، 26ویں ترمیم کے موقع پر بھی سب کے اپنے اپنے مؤقف تھے۔

    جے یو آئی کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضٰی، مولانا عبدالغفورحیدری، سنیٹرعطاء الرحمان، مولانا اسعد محمود اوراسلم غوری موجود تھے۔

    ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا آج متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت ہمارے پاس آئی، ان کا آنا ہمارے لیے خوشی کی بات ہے، ہمارا یہی مطالبہ ہے حکومت دینی مدارس کاگزٹ نوٹیفکیشن جاری کرے، چاہتے ہیں سیاسی تنازعہ کے بغیرمعاملات خوش اصلوبی سے حل ہوں۔

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول نے کہا کہ آج ہم نے مولانا کے مؤقف پر کھل کر بات کی ہے اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے قانون سازی کے عمل کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کا عمل مکمل ہو چکا ہےایوان صدر نے مدارس سے متعلق قانون سازی کو الجھادیا اور اس بات پر زور دیا کہ مدارس سے متعلق بل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیےدینی مدارس کے حوالے سے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

    خالد مقبول نے بھی اس بات کی حمایت کی اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مدارس کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، ہم ہر دور میں مولانا فضل الرحمن کے پاس آتے رہے ہیں، ہم نے آج مولانا کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، مذاکرات سے ہی تناز عا ت کا حل سیاسی جماعتوں کا حسن ہے-

    اس موقع پر گورنر نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت درج کیا جائے کامران ٹیسوری نے بھی وضاحت کی کہ ہم تو وزیر تعلیم ہی مولانا صاحب کے پاس لے آئے۔

    متحدہ قومی موومنٹ کے وفد کی قیادت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی۔

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

  • احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے طےکرلیا احتجاج کرینگے، اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کی تنظیم یا علما سے کوئی اختلاف نہیں، شکایت صرف اور صرف صدر مملکت سے ہے،صدر مملکت نے آئینی مدت میں مدارس بل پر دستخط نہیں کیے، صدر دستخط نہ کرے تو دس دن بعد بل قانون بن جاتا ھے، بالکل ویسے ہی جیسے صدر علوی نے ایک بار جب دستخط نہ کئے تو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ہماری رائے میں ایکٹ پاس ہوچکا، نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن کو غیر ضروری گھمبیر بنایا جا رہا ہے،مدارس بل پر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے‘آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکا گیا؟ لاہور میں نواز شریف اور شہباز شریف سے گفتگو میں اتفاق رائے ہوا ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہوئی،جنہوں نے علماء کو بلایا وہی تنازع کے ذمہ دار ہیں،بل کی تیاری میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں شامل تھیں،مدارس اور تعلیمی ادارے 1860 کے ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست،ذمہ دار لوگ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، 16 دسمبر کو ہمارا اجلاس ہو رہا ہے، اگر ہمیں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے، علما سے گزارش ہےکہ جنہوں نے آپ کو اکسایا یہی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ،یہ ملک، آئین اور پارلیمنٹ کا بھی مذاق بنا رہے ہیں، جب سرکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی تو عوام میں جانے کے علاوہ راستہ نہیں،نواز شریف،آصف زرداری اس وقت دونوں ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں، مثال موجود ہے جب سابق صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو اس وقت حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا، اس سے زیادہ اس حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کرم میں قتل عام ہو رہا ہے، جنوبی اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، تمام مکاتب فکر نے ہمارے موقف کی بھرپور حمایت اور تائید کی ہے، مذاکرات کرنا اچھی بات ہے۔ مسائل حل ہو تے ہیں تو بہتر ہے، اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا