Baaghi TV

Tag: مہنگائی

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شہریوں کی سخت تشویش

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شہریوں کی سخت تشویش

    قصور
    پیٹرول مہنگا ہونے پر قصور میں ٹرانسپورٹ کرایوں اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد قصور میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں
    حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت 266 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 321 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے جس کے بعد شہریوں اور ٹرانسپورٹرز نے تشویش کا اظہار کیا ہے
    مقامی ٹرانسپورٹرز کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی صورت میں رکشہ، ویگن اور بسوں کے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں پر پڑتا ہے
    دکانداروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے سے سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں
    ماہرین اور شہری حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے غیر ضروری شاہ خرچیاں کم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے

  • بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

    جنوری کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپے 78 پیسے اضافے کا امکان ہے۔

    اس سلسلے میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے درخواست دائر کر دی ہے، جس پر نیپرا اتھارٹی 26 فروری کو سماعت کرے گی درخواست کے مطابق جنوری کے مہینے میں مجموعی طور پر 9 ارب 14 کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو 8 ارب 76 کروڑ 20 لاکھ یونٹس فراہم کیے گئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں بجلی کی اوسط فی یونٹ لاگت 12 روپے 17 پیسے رہی، جبکہ ریفرنس لاگت 10 روپے 39 پیسے فی یونٹ مقرر تھی۔ اسی فرق کی بنیاد پر اضافی رقم صارفین سے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    سی پی پی اے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں بجلی کی پیداوار مختلف ذرائع سے کی گئی۔ پانی سے 7.80 فیصد، مقامی کوئلے سے 15.36 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 17.28 فیصد بجلی پیدا ہوئی اسی طرح فرنس آئل سے 3 فیصد، مقامی گیس سے 12.23 فیصد اور ایل این جی سے 21.90 فیصد بجلی حاصل کی گئی، جبکہ جوہری ایندھن سے 17.49 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

    بنگلہ دیش: وزیراعظم طارق رحمان نے 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں

    اگر نیپرا نے یہ درخواست منظور کر لی تو اس کا براہ راست اثر گھریلو اور تجارتی صارفین کے ماہانہ بلوں پر پڑے گا، جس سے پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے عوام کے لیے بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی، حتمی فیصلہ نیپرا کی سماعت کے بعد سامنے آئے گا، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ صارفین پر کتنا اضافی بوجھ ڈالا جائے گا۔

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے رمضان المبارک کے دوران سحر اور افطار میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    منگل کو وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے رمضان المبارک میں سحر و افطار میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے اور پاور ڈویژن نے رمضان المبارک میں کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی کمپنیوں کے لیے ایس او پیز جاری کیے ہیں اسی طرح وفاقی وزیر توانائی نے تمام ڈسکوز کو بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے اور تمام ڈسکوز کے سی ای اوز کو کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

    پاورڈویژن کی جانب سے ہائی لاسز والے علاقوں میں انسداد بجلی چوری مہم کے مطابق ڈیل کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس فیصلے کا مقصد بقایاجات اور نقصانات میں اضافے کو روکنا ہے وفاقی وزیر کی جانب سے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی سحر وافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے اور ر مضان میں زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈمنیجمنٹ سحر و افطار کے علاوہ اوقات میں ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اویس لغاری نے ڈسکوز کو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے اجتناب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تاہم ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نا ہوئی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تاہم ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نا ہوئی

    قصور
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، کرایوں میں کمی نہ ہو سکی
    یکم جنوری کو وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد عوام نے توقع کی تھی کہ اس کا براہِ راست فائدہ روزمرہ اخراجات خصوصاً ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ تاہم قیمتوں میں کمی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں تاحال کوئی واضح کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے باوجود بسوں، ویگنوں، رکشوں اور دیگر سواریوں کے کرائے بدستور سابقہ سطح پر برقرار ہیں، جس سے عوام کو شدید مایوسی کا سامنا ہے۔ مسافروں کے مطابق ہر بار پیٹرول مہنگا ہونے پر فوری طور پر کرایے بڑھا دیے جاتے ہیں، مگر جب قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو اس کا فائدہ عام آدمی تک منتقل نہیں کیا جاتا

    دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ کرایوں میں کمی فوری طور پر ممکن نہیں کیونکہ دیگر اخراجات جیسے پرزہ جات، مرمت، ٹائرز اور دیگر آپریشنل لاگت میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایندھن کی قیمت کم ہونے سے مجموعی اخراجات میں نمایاں فرق نہیں پڑتا۔
    شہری حلقوں اور سماجی شہری تنظیموں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک پہنچانے کے لیے کرایوں میں مناسب کمی کو یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے

  • ایرانی صدر کا مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم ٰ

    ایرانی صدر کا مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم ٰ

    تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک بھر میں جاری مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کو شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے باز رہنے کی ہدایت جاری کر دی کہا کہ پُرامن مظاہرین اور مسلح شرپسند عناصر کے درمیان فرق کیا جائے۔

    کابینہ اجلاس کے بعد ایرانی نائب صدر محمد جعفر نے بتایا کہ صدر پزشکیان نے سیکیورٹی اداروں کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم جو افراد اسلحہ، چاقو یا دیگر ہتھیاروں کے ساتھ پولیس اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات پر حملے کرتے ہیں، انہیں مظاہرین نہیں بلکہ شرپسند سمجھا جائے حکومت عوام کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے، تاہم ریاستی اداروں اور عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لےلیا ۔

    واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئی شہروں میں جاری ہیں اور ان مظاہروں کے دوران مختلف مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 تک پہنچ چکی ہے تہران میں پولیس نے بعض علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    
برطانیہ کی سائیکلنگ ٹیم مکہ سے مدینہ تک دل کے مریض بچوں کے لیے سفر کرے گی

    دوسری جانب ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کی مبینہ حمایت پر خاموش نہیں رہے گا، ملک کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پر تشدد مظاہرے میں تبدیل،2 شہری ہلاک متعدد زخمی

    ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پر تشدد مظاہرے میں تبدیل،2 شہری ہلاک متعدد زخمی

    ایران کے جنوب مغربی شہر لورڈگان میں مہنگائی کے خلاف حکومت مخالف احتجاج پُرتشدد مظاہرے میں تبدیل ہوگیا –

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں میں کم از کم 2 مظاہرین مارے گئےوزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے گورنر آفس، مسجد، ٹاؤن ہال اور بینکوں پر پتھراؤ کیا جنھیں پولیس نے آنسو گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے منشتر کرنے کی کوشش کی۔

    یہ پہلی بار ہے کہ ہوشربا مہنگائی کے خلاف احتجاج میں عام شہریوں کی موت ہوئی ہو جب کہ 10 سے زائد شدید زخمی بھی ہیں،زخمیوں میں سے دو حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ 50 سے زائد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا لورستان کے صوبے میں بسیج نامی رضا کار فورس کا ایک 21 سالہ رکن بھی ہلاک ہوا۔

    بھارت کے ساتھ اپنے موقف پر قائم ہیں،محسن نقوی

    عوامی احتجاج اتوار کو دارالحکومت تہران سے شروع ہوا تھا جہاں دکانداروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شدید مہنگائی کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کیےایران کی کرنسی اس سال کئی گنا کمزور ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، یہ مظاہرے اب ملک کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں اور زیادہ تر ان کا محور معاشی مشکلات، بے روزگاری، کم ہوتی خریداری قوت اور حکومت کے معاشی فیصلوں کے خلاف عوامی ناراضگی ہے۔

    پاکستان کی معیشت میں بہتری اور پالیسیوں‌ میں استحکام رہا،بلوم برگ

  • مہنگائی سے متعلق دسمبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری

    مہنگائی سے متعلق دسمبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری

    وفاقی ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی سے متعلق دسمبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری کر دی-

    رپورٹ کے مطابق نومبر کے مقابلے میں دسمبر کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی دسمبر 2025 میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح کم ہو کر 5.6 فیصد پر آ گئی، جبکہ نومبر 2025 میں یہ شرح 6.15 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

    ادارہ شماریات کے مطابق وزارت خزانہ نے دسمبر کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 5.5 سے 6.5 فیصد کے درمیان لگایا تھا، جبکہ حقیقی اعداد و شماراس اندازے کے قریب رہےجولائی تا دسمبر 2025 کے دوران اوسط مہنگائی 5.15 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کم ہے۔

    بنگلہ دیش کا بوئنگ سے 14 نئے طیارے خریدنے کا فیصلہ

    اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 4.1 فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سال کے دوران مہنگائی کی سطح میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا گزشتہ ماہ دیہی علاقوں میں ماہانہ بنیاد پرمہنگائی کی شرح میں 0.6 فیصد کمی ہوئی، جبکہ شہروں میں مہنگائی 0.4 فیصد کم ریکارڈ کی گئی جبکہ سالانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 5.4 فیصد رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    برطانیہ :عمران خان کے پوسٹر والے ٹرک پر نامعلوم افراد نے سیاہی پھینک دی

    ادارہ شماریات کے مطابق اشیائے خورونوش، توانائی اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں معمولی کمی مہنگائی میں مجموعی کمی کا باعث بنی، تاہم آئندہ مہینوں میں عالمی قیمتوں اور مقامی عوامل پر صورتحال کا انحصار رہے گا۔

  • شدید سردی،دھند،مہنگائی سے شہری سخت پریشان،انتظامیہ سے نوٹس کی اپیل

    شدید سردی،دھند،مہنگائی سے شہری سخت پریشان،انتظامیہ سے نوٹس کی اپیل

    قصور
    شدید سردی،دھند مہنگائی اور بے روزگاری سے شہری پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور میں سردی کی شدت، دھند، مہنگائی اور بے روزگاری نے غریب کی زندگی اجیرن بنا دی ہیں

    شہر اور مضافاتی علاقوں میں شدید سردی کے ساتھ دھند میں اضافے نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں
    کھانے پینے کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور دیہاڑی نہ ملنے کی وجہ سے محنت کش طبقہ دوہری آزمائش میں مبتلا ہو گیا ہے
    دیہاڑی دار مزدوروں کا کہنا ہے کہ دھند اور سرد موسم کے باعث کام کے مواقع مذید کم ہو گئے ہیں، صبح سے شام تک انتظار کے باوجود مزدوری نہیں مل رہی، جبکہ آٹا، سبزیاں، دالیں اور دیگر بنیادی اشیاء عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں
    کئی گھروں میں سردی کے باعث چولہے بجھنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے
    شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے ہنگامی ریلیف فراہم کیا جائے اور سستے بازاروں کو فوری طور پر فعال کیا جائے ورنہ حالات مذید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں

  • ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری

    ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری

    گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ چینی سستی ہو گئی،جبکہ مارکیٹ میں برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے-

    وفاقی ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں 0.03 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہےملک میں مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 3.90 فیصد ہو گئی ہے، اعداد و شمار کے مطابق 12 اشیاء مہنگی ہوئیں، دس کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 29 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا، ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 16.18 فیصد، چینی کی قیمت میں 4.91، پیاز کی قیمت میں 4.08 فیصد اور آلو کی قیمت میں 1.71 فیصد کمی ہوئی۔

    ایک ہفتے کے دوران مرغی 6.19 فیصد، آٹا 2.88 فیصد، انڈے 0.93 فیصد مہنگے ہوئے، مہنگی ہونے والی اشیاء میں گھی، کوکنگ آئل اور دال مونگ بھی شامل ہے، سستی ہونے والی اشیاء میں کیلے، دال چنا، دال مسور اور ایل پی جی بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب 2 روز کے دوران برائلر گوشت فی کلوگرام 29 روپے مہنگا ہو گیا، جبکہ آج معمولی 7 روپے کمی بھی صارفین کے لیے قابلِ قبول نہیں رہی ہےاس وقت برائلر گوشت کی قیمت 475 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے، زندہ برائلر مرغی کی تھوک قیمت300 روپے جبکہ پرچون قیمت 324 روپے کلو ہو گئی ہےصارفین نے برائلر گوشت کی قیمتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ادھر انڈے کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک پیٹی انڈے میں 30 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد پیٹی کی قیمت 10,500 روپے تک پہنچ گئی۔

  • ادویات کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ ،شہری چیخ اٹھے،گورنمنٹ محض دعؤں تک محدود

    قصور
    سردی کی آمد کے ساتھ بیماریوں میں تیزی، ادویات مافیا دوبارہ سرگرم ، قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، گورنمنٹ خاموش

    تفصیلات کے مطابق قصور میں ٹھنڈ نے زور پکڑا تو ساتھ ہی نزلہ، زکام، کھانسی، الرجی اور بخار جیسی موسمی بیماریوں میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے شہری پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اوپر سے ادویات کی بڑھتی ڈیمانڈ نے صورتحال مذید خراب کر دی ہے

    بلیک مارکیٹنگ مافیا نے حسبِ روایت سرگرم ہو کر مارکیٹ سے عام استعمال کی بیشتر ادویات غائب کر دیں ہیں اور جو دستیاب ہیں اُن کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں مہنگائی کے ستائے لوگوں کے لیے علاج کروانا مذید مشکل ہو گیا ہے

    ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے من مانی قیمتوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ڈریپ، پرائس کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں
    شہریوں کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی صرف دعووں تک محدود ہے جبکہ عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے
    ہر روز نیا وعدہ، اور ہر وعدہ ریت کا گھر ثابت ہو رہا ہے

    قصور کے میڈیکل سٹور مالکان بھی شدید دباؤ میں ہیں، کیونکہ ادویات کی سپلائی کم اور قیمتیں بڑی تیزی سے بڑھ چکی ہیں
    عوام نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سردی کے موسم میں بیماریاں بڑھے تو علاج کم از کم عام آدمی کی پہنچ میں رہے

  • مہنگائی کے اعداد وشمارجاری

    مہنگائی کے اعداد وشمارجاری

    گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں شرح میں کمی آئی ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں دوسرے ہفتے بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح میں کمی ہوئی ہے اور حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں کمی کی رفتار میں 1.34فیصد کمی واقع ہوئی ہوئی ہے جبکہ اس سے پچھلے ہفتے بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح میں 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی.حالیہ ہفتے سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی کی شرح 5.03 فیصد سے کم ہو کر 4.17 فیصد ہوگئی ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے چاول، انڈے، مٹن، جلانے والی لکڑی، گھی اور دال مونگ سمیت 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ ایک ہفتے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.06 فیصد، چاول 0.84 فیصد، انڈوں کی قیمت میں 0.91 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، بیف 0.42 فیصد، مٹن 0.31 فیصد، ویجی ٹیببل گھی 0.25 فیصد، انرجی سیور 0.23 فیصد اور دال مونگ 0.10 فیصد مہنگی ہوئی ہے۔

    اسی طرح حالیہ ایک ہفتے میں 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، پیاز 1.17 فیصد، ٹماٹر 23.11 فیصد، آٹا 2.60 فیصد،کیلے5.07 فیصد، دال مسور 0.64 فیصد، دال چنا0.47 فیصد، لہسن0.46 فیصد اور مرغی کی قیمت میں 12.74 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.43 فیصد کمی کے ساتھ 3.82فیصد، 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.59 فیصد کمی کے ساتھ 4.02 فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیےمہنگائی میں اضافے کی رفتار1.34 فیصد کمی کے ساتھ4.89فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.31 فیصدکمی کے ساتھ4.97 فیصد رہی اور 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.23فیصد کمی کے ساتھ 3.47فیصد رہی ہے-