Baaghi TV

Tag: مہنگائی

  • ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ، وزیر اعظم

    ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ، وزیر اعظم

    وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیا ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، سید فخر امام، مشیر ڈاکٹر عشر ت حسین، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، بنجاب کے وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، چیئرمین ایف بی آر اور اعلی حکام شریک۔ چیف سیکریٹری بنجاب اور خیبر پختونخوا ویڈیو لنک سے شریک تھے۔وزیر اعظم کو ملک میں گندم کی اگلے مالی سال 22-2021 کی پیداوار، کھپت اور ضروریات کے تخمینوں کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
    وزیر اعظم نے کہا کہ مستقبل کی ضروریات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ۔
    کوشش کی جائے کہ غریب آدمی پر مزید کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔ صوبوں کے مابین روابط مزید مستحکم کیے جائیں تاکہ قیمتوں میں فرق ختم کیا جا سکے۔ کھیت سے مارکیٹ تک منتقلی اور تمام دیگر عوامل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا جائے تاکہ سسٹم کو شفاف بنایا جا سکے اور کسان اور صارفین دونوں کو اچھی قیمت مل سکے۔خورد ونوش کی اشیا کے لیے جدید خطوط پر ذخیرہ کرنے کے لیے گوداموں کی تعداد بڑھائی جائے ۔

  • مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے لیے شکایات ڈیسک قائم

    مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے لیے شکایات ڈیسک قائم

    (غفار ریاض نمائندہ باغی ٹی وی قصور)
    اسسٹنٹ کمشنر کی ہدایات پر ٹائیگر فورس نے تحصیل چونیاں کے مختلف علاقوں میں پرائیس کنٹرول ڈیسک لگا لیے۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کی ہدایات پر خود ساختہ مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے لیے ٹائیگر فورس نے تحصیل چونیاں میں مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول ڈیسک لگا لیے ہیں۔
    ان ڈیسک پر موجود ٹائیگر فورس کے رضا کار مہنگائی کے حوالے سے عوامی شکایات کا اندراج کریں گے اور ان کی رپورٹ اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کو پیش کی جائے گی۔
    اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کا کہنا تھا کہ خود ساختہ مہنگائی کرکے غریب عوام پر مظالم کرنے والے گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جرمانوں کے ساتھ ساتھ سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

  • نااہل حکمران  عوام کو مہنگائ  کے دلدل میں دھکیل رہے ہیں,سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل

    نااہل حکمران عوام کو مہنگائ کے دلدل میں دھکیل رہے ہیں,سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل

    پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے جنرل سیکریٹری اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ نااہل اور سلیکٹیڈ حکمران غریب عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کے دلدل میں دھکیل رہے ہیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہیں، کرپٹ حکمران مہنگائی کرکے آئی ایم ایف کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔۔ پیر کو جاری بیان میں ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پاکستانی عوام سلیکٹڈ حکومت کی بیمار معاشی پالیسیز کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی اب تو عالمی ادارے بھی انکے دور حکومت کو کرپشن بڑھانے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔۔ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ عمران صاحب دو ماہ میں 11 روپے سے زائد پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر 13 روپے کی سمری مسترد کرنے کا ناٹک کررہے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب پہلے 13 روپے کی سمری تیار کراتے ہیں، پھر کمی کرنے کا ناٹک کرکے قوم پر احسان جتاتے ہیں۔ عمران صاحب اب آپ کی ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی، ظلم کی حکومت جائے گی تو آٹا، چینی، پیٹرول، بجلی گیس سستی ہوگی۔۔ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب آپ نے کہاتھا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے کا مطلب ’وزیراعظم چور ہے’ آپ نے 46 روپے اور52 روپے لٹر پیٹرول قوم کو دینے کا وعدہ کیا تھا، کوئی شرم، کوئی حیاء ہوتی ہے۔۔ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ عمران صاحب غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور ظلم کی تبدیلی لانے کے ذمہ دار آپ ہیں آپ کا گھر تو کوئی اور چلاتا ہے لیکن غریبوں کے چولہے بجھ چکے ہیں آپ کو تو غیرقانونی فارن فنڈنگ آتی ہے لیکن غریبوں کی آمدن ختم ہوچکی ہے ۔۔ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب مہنگائی کے ستائے عوام جلد آپ سے استعفی لینے آرہے ہیں عمران صاحب آپ تو آٹا چینی، دوائی، براڈ شیٹ، بجلی، گیس میں جیبیں بھر چکے ، غریب کہاں جائیں، کیسے گزارہ کریں؟ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب نے عوام کو ایک روپے کا ریلیف نہیں دیا، الٹا عوام کو ہر روز لوٹ رہے ہیں ، عمران صاحب آپ نے تنخواہیں نہ بڑھائیں، نہ آٹا چینی دوائی سستی ہوئی، الٹا غریبوں کو مزید غریب بنارہے ہیں۔۔غریبوں کی بددعائیں، چیخیں اور فریادیں سنیں اور خدا کا خوف کریں مسلم لیگی رہنما نے کہاکہ
    عمران صاحب مہنگائی کے نتیجے میں ملک میں خودکشیاں اور جرائم بڑھ گئے ہیں، کچھ خدا کا خوف کریں قوم بھوک سے مررہی ہے آپ اور آپ کے وزراء سیاسی بیانات دینے میں مصروف ہیں، یہ بے حسی کی انتہا ہے۔

  • پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو انتہائی مؤثر انداز میں اٹھایا ہے،۔ شاہ محمود قریشی

    پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو انتہائی مؤثر انداز میں اٹھایا ہے،۔ شاہ محمود قریشی

    ملتان : پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو انتہائی مؤثر انداز میں اٹھایا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا گیا تو ہی انٹرنیشنل کمیونٹی حرکت میں آئی ہےسینٹ کی خارجہ کمیٹی میں حکومتی مؤقف رکھا جس کو اپوزیشن ارکان نے سراہا۔ ڈینیل پرل کے قتل پر انکے خاندان کو انصاف فراہمی کے خواہاں ہیں۔ مہنگائی کی وجوہات سب کے سامنے ہیں۔. ڈالر کو کنٹرول کو ڈالر مارکیٹ میں بھیجے گئے ۔ شاہ محمود قریشی

  • گھی،چینی،ایل پی جی پھر مہنگی

    گھی،چینی،ایل پی جی پھر مہنگی

    قصور
    مہنگائی کو پر لگ گئے ،سبزیوں کے ریٹ ہم ہوئے ٹو چینی ،گھی،ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ گئیں،موجودہ مہنگائی مثل قانون جنگل
    تفصیلات کے مطابق قصور میں مہنگائی کا راج برقرار ہے چند دنوں میں سبزیوں کی قیمتیں کم ہوئیں تو منافع خوروں نے گھی،چینی،ایل پی جی و دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء میں اضافہ کر کے عوام کی کمر توڑ دی ہے دو سال قبل تک 125 روپیہ فی کلو والا کرن گھی اس وقت 250 روپیہ صوفی گھی دو سال قبل 145 کا تھا جو کہ اب 270 روپیہ میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 10 روپیہ فی کلو کا اضافہ کر دیا گیا ہے
    شہریوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں جس طرح گورنمنٹ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ملک میں جنگل کا قانون چل رہا ہے

  • آلو 130 روپیہ کلو کر دیئے گئے

    آلو 130 روپیہ کلو کر دیئے گئے

    قصور
    پتوکی سبزی منڈی میں آرھتیوں کی مانیاں جاری
    عوام پریشان آلو 130 روپیہ کلو
    تفصیلات کے مطابق پتوکی سبزی منڈی میں بااثر آڑھتیوں نے من پسند ریٹوں پر سبزیوں کی فروخت شروع کردی ڈیوٹی مجسٹریٹ بھی اس مافیا کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام جبکہ مارکیٹ کمیٹی چیئرمین بھی ریٹ کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام
    صرف چھوٹے دوکانداروں کے چالان کرکے کاروائی کی جاتی ہے سبزی منڈی میں ہر چیز کے ریٹ سرکاری ریٹ سے ڈبل ہیں ہر روز اڑھتی کسی بھی سبزی کا ذخیرہ کرکے مصنوعی مہنگائی کرتے ہیں کبھی پیاز تو کبھی ٹماٹر کا زخیرہ کرکے مصنوعی مہنگائی کی جاتی ہے اور غریب عوام کا خون چوسا جاتا ہے آج آڑھتیوں نے آلو کا زخیرہ کرکے 130روپے کلو آلو کی فروخت ہول سیل ریٹ پر کر دی ہے جبکہ چھوٹے دوکاندار آلو 140/150روپے کلو میں سیل کررہے ہیں جبکہ آج کا سرکاری ریٹ آلو کا 80 روپے کلو ہے ڈیوٹی مجسٹریٹ اور مارکیٹ کمیٹی چئیرمن بھی ان مافیا کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں غریب عوام جائے تو کدھر جائے جبکہ سہولت بازار میں عوام کو سہولت نام کی کوئی چیز نہیں ملتی غریب عوام نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لیکر عوام کو سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • مہنگائی کا جن بے قابو

    مہنگائی کا جن بے قابو

    قصور
    الہ آباد میں مہنگائی کا جن بے قابو لوگ دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے بلیک مارکیٹنگ مافیا کو کھلی چھٹی لوگ حکمرانوں کو بد دعائیں دینے لگے
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں تبدیلی سرکار کے عوام کو ریلیف دینے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے زمین پر اگنے والی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر عوام تبدیلی سرکار کے خلاف پھٹ پڑی مزید جانتے ہیں لوگ حکمرانوں کو بددعائیں دینے پر مجبور ہو گئے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی سے تبدیلی نہیں تباہی آ رہی ہے حاکم وقت ہوش کے ناخن لے اسر مہنگائی کو کنٹرول کرے تاکہ غریب عوام دو وقت کی روٹی کھا سکے

  • "انڈہ 13 کا ہونا” تو سنا تھا مگر قصور میں انڈہ 20 کا ہوگیا

    "انڈہ 13 کا ہونا” تو سنا تھا مگر قصور میں انڈہ 20 کا ہوگیا

    قصور
    چونیاں میں انڈے انتہائی بلندی پر ،مہنگائی بم بے قابو
    تفصیلات کے مطابق چونیاں اور گردونواح میں برائلر انڈا نایاب ہو گیا ہے برائلر انڈا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بلند ترین قیمت میں فروخت کیا جانے لگا ہے
    دو دن پہلے 10روپے میں ملنے والا انڈا 20 روپے میں بکنے لگا ہے تحصیل بھر میں انڈے کی قیمت میں سو فی صد اضافہ کر دیا گیا تحریک انصاف کی حکومت میں انڈے کی قیمت بلند ترین مقام پر پہنچ گئی جس سے اب عوام انڈے جیسی ضرورت پوری کرنے سے بھی محروم ہونے لگی ہے چند دن پہلے 120 روپے درجن میں ملنے والا انڈا 240 روپے درجن میں بکنے لگا ہے عمراں خاں کی حکومت میں عوام پہلے ہی سبزیوں اور گوشت کی ہو شربا قیمتوں سے انتہائی پریشان تھی کہ اوپر سے انڈا بھی نایاب ہو گیا عوام جائے تو جائے کہاں کیا کھائے جبکہ دوائیوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سمیت پاکستان کی عوام پر ہر دن مہنگائی کے بم بر سائے جانے لگے اگر یہی صورتحال رہی تو بہت جلد لوگ فاقہ کشی اور قوت خرید ختم ہونے سے جرائم کی طرف مائل ہونے لگے گیں جس سے خانہ جنگی کا خدشہ ہے

  • آئی پی پیز کی مہنگی بجلی از عدنان عادل

    بجلی بنانے کی نجی کمپنیاں عرف عام میںآئی پی پیز کہلاتی ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے وسط میںبے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں ان کا ڈول ڈالا گیا۔ مقصد تھا کہ نجی شعبہ خاص طور سے بیرونی سرمایہ کار بجلی بنانے کے منصوبے لگائیں تاکہ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔کہا گیا کہ حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں کہ وہ اربوں روپے سے یہ منصوبے لگائے۔ اس وقت کے حکمرانوں نے بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے جن کی شرائط کا زیادہ تر فائدہ نجی کمپنی کو تھا‘ بجلی خریدنے والے سرکاری ادارہ اور صارفین کو نہیں۔ ایک تو نجی کمپنیوں کو حکومت نے یہ ضمانت دی کہ وہ ہر حال میں ان کی بجلی کی ایک خاص مقدار کی قیمت لازمی طور پر ادا کرے گی خواہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ یہ ضمانت اس لیے دی گئی کہ بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کار اربوں روپے لگاتا ہے۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں سرمایہ نہیں لگا سکتا کہ اس کی بنائی ہوئی چیز منڈی میں فروخت ہو یا نہ ہو۔ دوسرے‘ان کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا جو نرخ (ٹیرف) مقرر کیاگیا وہ بہت زیادہ تھا۔ اس معاملہ پراسو قت ماہرین نے بہت شورمچایا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مہنگی۔ اس مہنگی بجلی کے باعث ملک میں کارخانے چلانا مشکل ہوتا چلا گیا کیونکہ مال بنانے پر لاگت دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی۔

    بے نظیر بھٹو دور میں کیے گئے معاہدوں کی عمر پچیس سے تیس سال تھی۔اب یہ منصوبے عوام کا خون چوس کراور صنعتوں کوتباہ و برباد کرنے کے بعد اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔انیس سو ستانوے میں نواز شریف کی دوسری حکومت آئی تو انہوں نے سرکاری پلانٹ جیسے کوٹ ادو پاور پلانٹ بھی نجی شعبہ کو اونے پونے داموں‘ قسطوں پر فروخت کردیے۔اور ان ہی سے مہنگے داموں بجلی خریدنے کے معاہدے بھی کرلیے۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے آئی پی پیز کی ایک نئی پالیسی دی۔ توقع تھی کہ اس بار ملکی مفاد کے پیش نظر بہتر پالیسی دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہُوا۔ اس دور میںبھی نجی شعبہ میں بجلی بنانے کے جو معاہدے ہُوے ان میں کم و بیش وہی شرائط تھیں جو ماضی میں تھیں۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو پھر انہوں نے ایک اورنئی آئی پی پی پالیسی دی۔ اسکے تحت چینی سرمایہ کاروں نے بھی کوئلہ اور ایل این جی (قدرتی گیس) سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے۔ اس سے ہمارے تزویراتی (اسٹریٹجک) تعلقات ہیں۔ان منصوبوں کی لاگت اور ان کے زیادہ نرخوں پر بات کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ایف آئی اے نے آئی پی پیز پر جو تحقیقات کی ہیں ان میں ان کی ہوش رُبا منافع خوری سامنے آئی ہے۔ یہ درست ہے کہ آئی پی پیز نے پاکستانی قوم کو ہزاروں ارب روپے کا چونا لگایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کمپنیوںنے جو بھی مال سمیٹا ہے اُسکی اجازت انہیں قانونی معاہدوں کے تحت دی گئی۔ یہ توپا لیسی بنانے والوں کی نااہلی ہے یا بدنیتی ہے کہ انہوں نے ایسے یکطرفہ عہد نامے بنائے جن سے بجلی کے صارفین کو نقصان ہوا۔

    پہلی گڑ بڑ تو ان کمپنیوں نے پلانٹ لگانے کی قیمتوں میں کی۔فرض کیجیے کہ ایک پلانٹ اگر ایک سو روپے میں لگتا ہے تو اسکی قیمت سوا سو روپے یا ڈیڑھ سو روپے ظاہر کی اور نیپرا(بجلی کا نرخ مقرر کرنے کا ریگولیٹری ادارہ) نے اسے قبول کرلیا۔ دوسرے‘ بجلی کے پلانٹ بنانے والی کمپنیاںجیسے جنرل الیکٹرک وغیرہ احتیاط کے طور پر اپنے پلانٹ کی ایفی شنسی(یعنی یہ مشینری کتنے تیل سے کتنی بجلی بنائے گی ) اصل سے کم رکھتی ہیں تاکہ اگر کوئی اونچ نیچ ہو تو انہیں بعد میںجرمانہ ادا نہ کرنا پڑے۔ اسکا فائدہ بھی آئی پی پیز نے اٹھایا۔ اگر ایک پلانٹ ایک سو لیٹر تیل یا اسکے برابر گیس سے بجلی بنارہا تھا تو دستاویزات میں سوا سو لیٹر بتایا گیا ۔نیپرانے بجلی کا نرخ بھی سوا سو لیٹر پر مقرر کیا۔یوں اس کمپنی کوحقیقت میں پچیس لیٹر تیل کی بچت ہورہی تھی ۔ظاہر ہے اس کام میں بہت بڑی مقدار میں تیل استعمال ہوتا ہے تو یہ فرق کروڑوں روپے سالانہ میں جا پہنچتا ہے۔ زیادہ تر آئی پی پیز نے پاکستانی عوام کاخون چوس کر اسطرح لمبا چوڑا مال بنایا ۔بجلی بنانے والے پلانٹ میں تیل کی اصل کھپت اوردستاویزات میں ظاہر کردہ کھپت کے فرق کو مدّنظر رکھے بغیر بجلی کا نرخ مقرر کرنا نیپرا کی نالائقی ہے۔

    اب تک آئی پی پیز کے جو معاہدے ہوئے وہ ہماری بدقسمتی ہے۔ لیکن ماضی میںجو ہونا تھا ‘سو ہوگیا۔ اب حکومت ان پر انکوائری کروا کر ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کوقانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو یہ کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوںسے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تصفیہ کے عالمی ادارہ میں بھی جاسکتی ہیں۔اس سے پہلے پاکستان حکومت عالمی ادارہ میںریکوڈک کا مقدمہ اور ترکی کی بجلی بنانے کی کمپنی’ کارکے ‘کا دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ اب اگر ان معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو یہ کمپنیاں عدالت میںچلی جائیں گی جہاں حکومت کا مقدمہ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بیرونی اور نجی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اس معاملہ کا حل یہی ہے کہ حکومت ان کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعے معاہدوں پر نظر ثانی کرلے اور تیل کی اصل کھپت کو سامنے رکھ کر بجلی کے نرخ آئندہ کے لیے کم کروالے۔ اگر ایسا ہوسکے تو عوام کے لیے یہ بھی بڑا ریلیف ہوگا۔
    عدنان عادل

  • اوکاڑہ میں رمضان المبارک کے باوجود مہنگائی اور ملاوٹ عروج پر

    اوکاڑہ میں رمضان المبارک کے باوجود مہنگائی اور ملاوٹ عروج پر

    اوکاڑہ( علی حسین ) رمضان المبارک میں یہاں چھٹے روز کے بعد بھی مہنگائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ روزبروز مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے اور عوام جو لاک ڈاون کیوجہ سے پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، مزید تنگ اور دکھی ہوگئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے چند دکانداروں کو جرمانوں کے علاوہ کوئی موثر اور پائیدار اقدامات بروئے کار نہیں لائے گئے۔ ناقص اور مضر صحت اشیاء کا چلن بھی عام ہے۔ضلع بھر میں اکثر جگہوں پر مضرصحت دہی اور دودھ کی فروخت بہت بڑھ گئی ہے۔ انتظامیہ کے علاوہ فوڈ اتھارٹی کو بھی متحرک ہونا چاہیے۔