Baaghi TV

Tag: ناسا

  • خلا سے طوفانی بادلوں کی دنگ کر دینے والی انتہائی شاندار تصاویروائرل

    خلا سے طوفانی بادلوں کی دنگ کر دینے والی انتہائی شاندار تصاویروائرل

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کی خلاباز جیسیکا میئر نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زمین کے مدار میں موجود طوفانی بادلوں کی دنگ کر دینے والی انتہائی شاندار تصاویر شیئر کی ہیں،خلانوردوں کے مطابق مدار سے بادلوں کی مختلف اشکال، بناوٹ اور سائز کا لامحدود اور مسحور کن نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے-

    اگر زمین سے بادلوں کی طرف دیکھا جائے تو یہ ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں لیکن خلا سے وہ بالکل ہی مختلف منظر پیش کرتے ہیں،یہ تصاویر بحر الکاہل کے شمال مغرب (Pacific Northwest) کے اوپر گرج چمک والے بادلوں کی ہیں۔

    ناسا کی خلا باز جیسیکا میئر نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے بادلوں کی دلکش لیکن طاقت کو ظاہر کرنے والی تصاویر شیئر کی ہیں جیسیکا میئر نے تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہیں، جس میں بحر الکاہل کے شمال مغرب میں گرج چمک کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔

    اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ خلائی اسٹیشن سے بادلوں کو دیکھنا بھی دلکش ہے، جس میں شکلیں، بناوٹ اور سائز کی بے شمار ورائٹی ملتی ہےاکثر بادل پر سکون دکھائی دیتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ ناگوار بھی ہوجاتے ہیں، جیسے اس ہفتے بحر الکاہل کے شمال مغرب میں گرج چمک کے بادل ہوئے۔

  • پاکستان میں تیار کردہ فٹبال خلا تک پہنچ گیا،ناسا کا جدی فٹبال کیساتھ سائنسی تجربہ

    پاکستان میں تیار کردہ فٹبال خلا تک پہنچ گیا،ناسا کا جدی فٹبال کیساتھ سائنسی تجربہ

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلابازوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر فیفا ورلڈکپ کی جدید فٹبال کے ساتھ ایک سائنسی تجربہ کیا۔

    یہ تجربہ اسٹیشن کے اندر خاص طور پر کپولا (Cupola) ماڈیول میں کیا گیا جہاں فٹبال کو بغیر وزن کے ماحول میں تیرتے ہوئے دیکھا گیا خلابازوں نے مشہور برانڈ ایڈیڈاز کی ڈیزائن کردہ ٹریونڈا (Trionda) بال کا استعمال کیا تاکہ یہ مطالعہ کیا جا سکے کہ فٹبال مائیکرو گریویٹی میں کیسے برتاؤ کرتا ہے اس تجربے کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ فٹبال کا بیلنس اور وزن کھیل کے دوران اس کی حرکت کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

    ناسا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ اس سے قبل یہ تجربہ 2019 میں بھی کرچکے ہیں، تجربے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ توازن میں فرق کس طرح فٹبال کی حرکت کو بدل سکتا ہے،فیفا کے مطابق ٹریونڈا نام ایک ہسپانوی لفظ سے آیا ہے جس کا مطلب ‘تین لہریں’ ہیں جو 3 ممالک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والے پہلے ورلڈ کپ کی عکاسی کرتی ہے۔

  • سورج سے نکلنے والا خوفناک طوفان  کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے، ناسا میں ہائی الرٹ

    سورج سے نکلنے والا خوفناک طوفان کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے، ناسا میں ہائی الرٹ

    سورج کی سطح پر ہونے والے ایک بہت بڑے دھماکے کے بعد مقناطیسی گیسوں کا ایک تیز رفتار طوفان کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) زمین کی طرف بڑھ رہا ہے جو کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے –

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر نے اس صورتحال کے پیش نظر شدید نوعیت کے مقناطیسی طوفان ’جی 3‘ کا الرٹ جاری کر دیا ہے، اس طوفان کے نتیجے میں رات کے وقت آسمان پر خوبصورت اور رنگ برنگی روشنیاں، جنہیں قطبی روشنیاں یا ارورا کہا جاتا ہے، نمودار ہونے کی قو ی امید ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق سورج گزشتہ کئی روز سے شدید تبدیلیوں کا شکار ہے اور اس کی سطح سے مسلسل توانائی اور گیسوں کے اخراج کا سلسلہ جاری ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی شہر مسلسل آتش بازی کر رہا ہو اس سے پہلے ہونے والے زیادہ تر دھماکوں کا رخ زمین کی طرف نہیں تھا لیکن 6 جون 2026 کی صبح سورج کے ایک مخصوص حصے ایکٹو ریجن 4461 سے ایک درمیانے درجے کا زوردار دھماکہ ہوا جسے ’سولر فلیر‘ کہا جاتا ہے یہ دھماکہ اصل میں سورج کی مقنا طیسی توانائی کے اچانک اخراج کا نتیجہ تھا۔

    اس دھماکے کی سب سے خاص بات اس کے اندر موجود ایک گھنا اور انتہائی تیز رفتار مادہ ہے جسے سائنسی زبان میں فلامنٹ کہتے ہیں عام فہم زبان میں آپ اسے بجلی سے بنا ہوا ایک ایسا پل سمجھ سکتے ہیں جو سورج کے انتہائی گرم ماحول میں مقناطیسی قوتوں کی وجہ سے ہوا میں معلق رہتا ہےاس کے اندر موجود گیسیں اگرچہ ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہوتی ہیں، لیکن سورج کے بیرونی ماحول کے لاکھوں ڈگری درجہ حرارت کے مقابلے میں یہ بہت سرد اور بھاری ہوتی ہیں.0جب اسے قابو میں رکھنے والی مقناطیسی قوتیں غیر متوازن ہو جاتی ہیں، تو یہ ربر بینڈ کی طرح ٹوٹ کر پیچھے ہٹتی ہیں اور تمام تر دباؤ کے ساتھ یہ بھاری گیسیں خلا میں پھیل جاتی ہیں۔

    اس وقت یہ مادہ تقریباً 1400 کلومیٹر فی سیکنڈ کی طوفانی رفتار سے سفر کرتا ہوا زمین کے قریب پہنچ چکا ہے، امریکی خلائی موسم کی پیشگوئی کرنے والے مرکز نے اسے جی 3 یعنی ایک طاقتور مقناطیسی طوفان قرار دیا ہے، جب سورج کی یہ توانائی زمین کی مقناطیسی ڈھال سے ٹکراتی ہے تو زمین کے ماحول میں ایک عارضی ہلچل پیدا ہوتی ہے جسے ’جیو میگنیٹک اسٹورم‘ کہا جاتا ہے، اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں چارج شدہ ذرات زمین کے بالائی ماحول کی گیسوں سے مل کر سبز، ارغوانی اور سرخ رنگ کی خوبصورت لہریں بناتے ہیں جو آسمان پر تیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

    زمین کی اپنی مقناطیسی ڈھال ہمیں ان طوفانوں کے براہ راست اثرات سے محفوظ رکھتی ہے، لیکن یہ روشنیاں کتنی چمکدار ہوں گی اور کتنی دور تک دیکھی جا سکیں گی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ سورج سے آنے والے اس طوفان کا مقناطیسی رخ زمین کے مقناطیسی رخ کے کتنا مخالف ہے اگر یہ رخ بالکل الٹ ہوا تو زمین کی ڈھال میں کچھ دیر کے لیے شگاف بنتا ہے اور سورج کی توانائی اندر داخل ہو کر آسمان کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔

    3سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ طوفان کی شدت اگر زیادہ بڑھی تو یہ روشنیاں قطبی علاقوں سے نکل کر کم بلندی والے علاقوں جیسے کہ چین اور بھارت کے کچھ علا قے، وسطی یورپ کے کچھ حصے، جنوی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکا کے مختلف حصوں میں بھی آسمانوں پر سبز، جامنی اور سرخ روشنیوں کے خوبصورت مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔، بشرطیکہ وہاں رات کو آسمان صاف اور تاریک ہو۔

    سائنسدانوں کے مطابق اس طوفان کی شدت کا اصل فیصلہ اس وقت ہوگا جب یہ شمسی مواد زمین کے قریب موجود سیٹلائٹس تک پہنچے گا، اس وقت صرف 15 سے 60 منٹ پہلے واضح اندازہ ہو سکے گا کہ اس کے اثرات کتنے مضبوط ہوں گے۔

    اس سے قبل مئی 2024 میں بھی اسی طرح کا ایک شدید طوفان آیا تھا جس نے دنیا بھر کے آسمان کو رنگین کر دیا تھا فلکیات کے ماہرین اور تصویریں بنانے کے شوقین افراد اب اس طوفان کے زمین سے ٹکرانے کے حتمی لمحات کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اس نایاب منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور کیمروں میں محفوظ کر سکیں۔

  • انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے روسی ماڈیول میں ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک دگنی ہونے اور روس کی جانب سے مرمت کے متنازع طریقہ کار کے باعث اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پانچ خلابازوں کو فوری طور پر اسٹیشن خالی کرنے کی تیاری اور ’سیف ہیون‘ پروٹوکول کے تحت خلائی جہاز میں پناہ لینے کی ہدایت جاری کر دی تاہم، تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس ہنگامی الرٹ کو بعد میں واپس لے لیا گیا ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس کے خلابازوں نے ’زویزدا سروس ماڈیول‘ میں موجود دراڑ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک ’آری‘ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ناسا کے اعلیٰ حکام نے روس کے اس خطرناک طریقہ کار سے شدید اختلاف کیا، جس کے بعد ناسا نے فوری طور پر خلابازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ایک سینیئر ناسا عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے یہ لیکج معمولی تھی، لیکن جمعہ کے روز ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک 1 پاؤنڈ روزانہ سے بڑھ کر 2 پاؤنڈ روزانہ تک پہنچ گئی، جس نے تشویش میں اضافہ کیا۔

    دوسری جانب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اسٹیشن پر دو مختلف جگہوں پر معمولی لیکج کا پتا لگایا تھا، جن میں سے پہلی کو فوری طور پر سِیل کر دیا گیا جبکہ دوسری پر کام جاری ہے۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ اس سے عملے یا اسٹیشن کے سسٹمز کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔

    ناسا کی ترجمان کے مطابق، جیسے ہی روسی عملے نے آری کی مدد سے مرمت کا کام عارضی طور پر روکا، ناسا نے اپنا ہنگامی الرٹ منسوخ کر دیا اور خلابازوں کو دوبارہ اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دے دی وہ اب اس مسئلے کے مستقل اور محفوظ حل کے لیے روسی خلائی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی 27 سالہ تاریخ میں آج تک کبھی ایسی نوبت نہیں آئی کہ خلابازوں کو واقعی اسٹیشن چھوڑ کر زمین پر بھاگنا پڑا ہوخلائی ملبےکے ٹکراؤ کے خطرے یا ہوا کے دباؤ میں تبدیلی کے باعث ایسے الرٹس ماضی میں بھی انتہائی کم مواقع پر جاری کیے جاتے رہے ہیں یہ خلابازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے طے شدہ بین الاقوامی قوانین کا حصہ ہیں۔

  • میکسیکو سٹی تیزی سے زمین میں دھنس رہا ہے

    میکسیکو سٹی تیزی سے زمین میں دھنس رہا ہے

    میکسیکو کا دارالحکومت میکسیکو سٹی تیزی سے زمین میں دھنس رہا ہے –

    برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق میکسیکو سٹی کے بعض علاقوں میں زمین ہر ماہ 2 سینٹی میٹر تک نیچے جارہی ہے، جو دنیا میں زمین دھنسنے کی تیز ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے اس صورتحال کے باعث تاریخی عمارتیں جھک رہی ہیں، سڑکیں ٹیڑھی ہورہی ہیں اور زیر زمین میٹرو نظام بھی متاثر ہورہا ہے۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے جدید ریڈار سیٹلائٹ نظام ‘نیسار’ نے اس عمل کی نئی تفصیلات سامنے لانا شروع کردی ہیں،ناسا اور بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے کے مشترکہ منصوبے ‘نیسار’ کے تحت خلا میں نصب جدید ریڈار سسٹم زمین کی سطح میں معمولی تبدیلیوں کو بھی ریکارڈ کرسکتا ہے، چاہے وہاں گھنے بادل یا جنگلات موجود ہوں۔

    ماہرین کے مطابق میکسیکو سٹی صدیوں پہلے ایک جھیل کے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا، اس لیے اس کے نیچے موجود مٹی نرم اور دلدلی نوعیت کی ہے، شہر کی بڑھتی آبادی کے لیے زیر زمین پانی مسلسل نکالا جارہا ہے، جس کے باعث زمین سکڑ رہی ہے اور شہر دھنس رہا ہے زیر زمین آبی ذخائر اب بھی شہر کی نصف پانی کی ضروریات پوری کرتے ہیں، تاہم پانی کی سطح ہر سال تقریباً 40 سینٹی میٹر کم ہورہی ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زمین دھنسنے سے پانی کی پائپ لائنیں ٹوٹ رہی ہیں اور شہر تقریباً 40 فیصد پانی رساؤ کی صورت میں کھو دیتا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کم بارشوں نے بحران کو مزید سنگین بنادیا ہے، اگر زیر زمین پانی نکالنا بند نہ کیا گیا تو مستقبل میں میکسیکو سٹی کو شدید آبی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔

  • آرٹیمس 2 زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گیا

    آرٹیمس 2 زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جہاں چاروں خلا باز زمین اور چاند کے درمیان نصف سے زیادہ فاصلہ طے کرتے ہوئے اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔

    ناسا کے مطابق خلائی جہاز اورائن اس وقت زمین سے تقریباً 154300 میل دور جبکہ چاند سے لگ بھگ 122500 میل کے فاصلے پر موجود ہے،مشن کے دوران خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور اس کی سطح سے متعلق سائنسی مشاہدات جمع کریں گےخلائی جہاز چاند کے گرد گھومنے کے بعد بغیر رکے واپس زمین کی جانب روانہ ہوجائے گا۔

    اورائن کیپسول چاند کے عقب میں تقریباً 4000 میل مزید سفر کرے گا، جہاں سے چاند کے اُس حصے کا نظارہ ممکن ہوگا جو زمین سے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکا، اس مشن میں شامل خلا باز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو پیر کے روز چاند کے قریب پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں-

    یہ 1972 میں اپالو 17 مشن کے بعد چاند کی جانب بھیجا جانے والا پہلا انسانی مشن ہےمشن کی تکمیل کے بعد اورائن خلائی جہاز کی 10 اپریل کو بحرالکاہل میں لینڈنگ متوقع ہے، جہاں اس کی بحفاظت واپسی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

  • ناسا کا  مشن ’آرٹیمس ٹو‘ 53 سال بعد انسان کو لے کر چاند کی جانب روانہ

    ناسا کا مشن ’آرٹیمس ٹو‘ 53 سال بعد انسان کو لے کر چاند کی جانب روانہ

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے 53 سال بعد پہلی بار انسانوں کو چاند کے گرد بھیجنے کے لیے آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کر دیا ہے۔

    یہ راکٹ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے یکم اپریل 2026 کو 6 بجکر 35 منٹ پر روانہ ہوا، جس میں چار خلا باز سوار ہیں یہ مشن مستقبل میں چاند پر دوبارہ انسان اتارنے کی تیاری کا اہم حصہ ہے یہ سفر کئی لحاظ سے تاریخی ہے کیونکہ یہ خلا میں اب تک کے طویل ترین فاصلے، یعنی 2 لاکھ 52 ہزار (4 لاکھ 6 ہزارکلومیٹر) تک سفر کرے گا، جو اپولو 13 کے ریکارڈ سے بھی آگے ہے آخری بار جب انسانوں نے چاند کی سطح پر قدم رکھے تھے، وہ 1972 میں ’اپولو‘ کا آخری مشن تھا –

    مشن ’آرٹیمس ٹو‘ میں ٹیم کی قیادت ریڈ وائزمین بطور کمانڈر کر رہے ہیں، جبکہ کرسٹینا کوچ چاند کے کسی بھی مشن کا حصہ بننے والی پہلی خاتون خلانورد بن گئی ہیں ان کے ہمراہ وکٹر گلوور چاند کی جانب سفر کرنے والے پہلے سیاہ فام خلانورد کے طور پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں، اور جیرمی ہینسن کا تعلق کینیڈا سے ہے جو اس مشن میں شامل ہونے والے پہلے غیر ملکی خلانورد ہیں۔

    ناسا حکام کے مطابق یہ مشن نہ صرف چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے خواب کو حقیقت کے قریب لانے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں مریخ تک انسانی رسائی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    ادارے کے ایڈمنسٹریٹر جیریڈ آئزک مین نے کہا کہ امریکہ 2028 تک چاند کے جنوبی قطب پر انسان اتارنے کا ہدف رکھتا ہے، تاکہ چین کے متوقع 2030 کے مشن سے پہلے برتری حاصل کی جا سکے۔ یہ کوشش چین کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ کا بھی حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

    لانچ کے بعد خلائی جہاز نے کامیابی سے اپنے ابتدائی مراحل مکمل کیے، اور خلا بازوں نے دستی طور پر جہاز کو کنٹرول کرنے کی مشق بھی کی اس سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اگر خودکار نظام میں کوئی خرابی ہو جائے تو خلا باز خود جہاز کو سنبھال سکیں یہ مشن نہ صرف سائنسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ مستقبل میں مریخ جیسے سیاروں تک انسانی سفر کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ اس کامیابی کو دنیا بھر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا آرٹیمیس 2 مشن ایک بار پھر ملتوی

    ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا آرٹیمیس 2 مشن ایک بار پھر ملتوی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر انسانوں کے بھیجنے کا منصوبہ پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے-

    ناسا کی جانب سے آرٹیمیس 2 مشن کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہےاس مشن کے تحت 4 خلا بازوں کو 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار پر بھیجے جانا تھاپہلے اس مشن کے لیے 8 فروری کی تاریخ طے کی گئی تھی مگر پھر اسے مارچ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا،اب ایک بار پھر اسے ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب اسے اپریل میں روانہ کیے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل فروری کے شروع میں آرٹیمس 2 کو راکٹ سسٹم کی آزمائش کے دوران سامنے آنے والے مسائل کے باعث ملتوی کیا گیا تھااب ناسا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایک بار پھر راکٹ سسٹم میں مسائل کو دریافت کیا گیا ہےناسا کی جانب سے 6 مارچک و یہ مشن روانہ کیے جانا تھا مگر راکٹ کے اوپری حصے میں ہیلیم کے بہاؤ میں مسائل کو دریافت کیا گیا ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین اس نئی دریافت کے باعث مارچ میں آرٹیمس 2 مشن کو روانہ کرنا ممکن نہیں رہا۔

    سرحد پار دہشتگردی اب برداشت کی حد سے تجاوز کر چکی ہے،صدر مملکت

    واضح رہے کہ آخری بار ناسا نے 1972 میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایسا دوبارہ کیا جا رہا ہے 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز موجود ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہوسکیں ،یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔

    پیرا فورس اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف پریس کانفرنس ،ہڑتال کی وارننگ

    یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گاآرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گےآرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گااس کے مقابلے میں آرٹیمس 2 مشن کو ناسا کی تاریخ کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا ،اس راکٹ کو آرٹیمس 1 کو چاند پر بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

  • چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

    چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

    ناسا نے ہفتے کے روز 2 روزہ مشق کے ساتھ چاند کے اپنے نئے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی-

    کمانڈر رِیڈ وائسمین اور ان کے عملے کو پہلے ہی جراثیم سے بچاؤ کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، یہ خلا باز 1972 کے بعد چاند کی طرف روانہ ہونے والے پہلےانسان ہوں گےوہ یوسٹن میں اپنے مرکز سےاس مشق کو مانیٹر کریں گے، اور راکٹ کی پرواز کی منظوری ملنے کے بعد کینیڈی اسپیس سینٹر جائیں گے۔

    322 فٹ (98 میٹر) بلند اسپیس لانچ سسٹم راکٹ 2 ہفتے قبل لانچ پیڈ پر پہنچایا گیا تھا، اگر پیر کے روز ایندھن بھرنے کا ٹیسٹ کامیاب ہوا تو ناسا ایک ہفتے کے اندر راکٹ کو لانچ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، ٹیمیں راکٹ کے ٹینک میں 7 لاکھ گیلن سے زائد انتہائی سرد ایندھن ڈالیں گی ،سرد موسم کی وجہ سے ا یندھن بھرنے کی مشق اور لانچ 2 دن کے لیے ملتوی ہوئی ہے، اب 8 فروری کو راکٹ کے پرواز کرنے کا امکان ہے۔

    بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں ،خواجہ آصف

    اورین کیپسول میں سوار امریکی اور کینیڈیائی خلا باز چاند کے گرد پرواز کریں گے اور پھر بغیر وقفے کے واپس آئیں گے اور آخرکار پیسفک میں واپس پہنچیں گے یہ مشن تقریباً 10 دن جاری رہے گا،ناسا نے اپالو پروگرام کے دوران 1968 سے 1972 کے درمیان 24 خلا بازوں کو چاند تک بھیجا تھا، جن میں سے 12 نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔

    ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر اپنا نام بھجوانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے نام اکٹھے کرنے شروع کردیے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ناسا نے لکھا کہ اپنا نام چاند پر بھیجنے کے موقع کو ضائع نہ کریں،ادارہ ناموں کو اکٹھا کر رہا ہے جن کو ایک ایس ڈی کارڈ میں بھر کر آرٹیمیس دوم مشن کے دوران اورین میں بھیجا جائے گا،اپنے پیارے دوستوں، بچوں اور پیاروں کے لیے بھی بورڈنگ پاس نہ بھولیں۔

    واضح رہے آرٹیمس دوم مشن کے لیے لانچ پیڈ پر راکٹ کو تیار کیا جا رہا ہے جس کی لانچ فروری میں متوقع ہے 10 روزہ مشن میں ناسا کے چار خلانورد چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آئیں گے،یہ مشین امریکی خلائی ادارے کی نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان کو چاند پر اتارنے کی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

    آئل ٹینکر سے نو کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد، ملزم گرفتار

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک