Baaghi TV

Tag: ناسا

  • آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    زمین اور مریخ کے درمیان تمام ریڈیو رابطے کچھ دنوں کے لیے منقطع ہو جائیں گے، کیونکہ سورج دونوں سیاروں کے درمیان آ رہا ہے، یہ ایک قدرتی مظہر ہے جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے اس دوران مریخ پر موجود تمام روبوٹک مشنز سے براہِ راست رابطہ عارضی طور پر معطل کردیا جائے گا۔

    ناسا کے مطابق، 29 دسمبر 2025 سے 9 جنوری 2026 تک کسی بھی مریخی مشن کو نئی ہدایات نہیں بھیجی جائیں گی اس دوران سورج کی انتہائی گرم، برقی چارج شدہ گیسیں جو پلازما کہلاتی ہیں، ریڈیو سگنلز میں خلل ڈال سکتی ہیں، جس سے کسی بھی کمانڈ کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک معمولی رکاوٹ یا بگ، کسی سطر کے ایک بِٹ کو بھی بدل دے، تو پورا سسٹم متاثر ہو سکتا ہے، اور اربوں ڈالر کے مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    گزشتہ دو دہائیوں سے مریخ کے گرد مدار میں گھومنے والے سیٹلائٹس، سطح پر اترے لینڈرز اور متحرک روورز مسلسل سرخ سیارے کا مشاہدہ کررہے ہیں ان مشنز نے مریخ کی فضا، موسم، ارضیاتی ساخت اور وہاں ممکنہ قدیم زندگی کے آثار کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں، تاہم سولر کنجنکشن کے دوران یہ تمام مشنز عملی طور پر خود مختار ہوجاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سولر کنجنکشن کے دوران مریخ پر موجود خلائی مشینیں زمین سے ہدایات لیے بغیر خود ہی کام کرتی ہیں۔

    راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

    سولر کنجنکشن شروع ہونے سے پہلے ناسا کے ماہرین مریخ پرموجود ہر خلائی مشین کو پہلے ہی ایک مکمل منصوبہ بھیج دیتے ہیں، جس میں تقریباً دو ہفتوں تک کے تمام کام طے کیے جاتے ہیں، ان ہدایات کے مطابق خلائی مشینیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سے آلات عارضی طور پر بند رکھنے ہیں، کہاں توانائی بچانی ہے اور کون سا سائنسی ڈیٹا اکٹھا کر کے محفوظ کرنا ہے، تاکہ زمین سے رابطہ نہ ہونے کے باوجود مشن محفوظ طریقے سے اپنا کام جاری رکھ سکے۔

    کچھ مشنز اس دوران اپنے حساس آلات عارضی طور پر بند کردیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے، جبکہ بعض روورز اور مدار گرد مشینیں ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں اور اسے اپنی اندرونی یادداشت میں محفوظ کرلیتی ہیں چند مشنز محدود پیمانے پر سگنل بھیجتے بھی رہتے ہیں، اس آگاہی کے ساتھ کہ اس کا کچھ حصہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوسکتا ہے۔

    کنسرٹ میں پرفارمنس کے دوران شائے گل زخمی ہو گئیں

    اس پورے عمل میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ زمین سے کوئی نئی ہدایت نہ بھیجی جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر کمانڈ کے کسی ایک بٹ میں بھی خرابی آگئی تو برسوں کی محنت اور اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ مشن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    آج کل مریخ پر موجود خلائی گاڑیاں خاصی حد تک خودمختارہو چکی ہیں۔ وہ خود دیکھ سکتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں، اور اگر کوئی خرابی ہو جائے تو خود کو محفوظ حالت میں لے آتی ہیں زمین سے نئے حکم ملے بغیر بھی وہ پہلے سے بنے منصوبے کے مطابق اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    ناسا کے ماہرین اس کو ایسے سمجھاتے ہیں جیسے والدین کسی ذمہ دار بچے کو چند دن کے سفر پر بھیج دیں۔ تمام تیاری پہلے کر لی جاتی ہے، اور پھر اس پر بھروسا کر کے اسے خود کام کرنے دیا جاتا ہےمشن پر کام کرنے والی ٹیموں کے لیے یہ وقت ایک طرح کا امتحان بھی ہوتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی خلائی مشینوں کو کچھ دنوں کے لیے خود پر چھوڑنا پڑتا ہے، اور ساتھ ہی یہ روزانہ کی مسلسل نگرانی سے ایک مختصر آرام کا موقع بھی بن جاتا ہے۔

    دوسری جانب یہ وقفہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چاہے ہماری ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، قدرت کے کچھ قوانین ایسے ہیں جن کے سامنے انسان کو انتظار کرنا پڑتا ہے-

  • لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت

    لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت

    ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے لیموں جیسی شکل کا انوکھا سیارہ دریافت کر لیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرینِ فلکیات نے ناسا کی جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک نہایت عجیب و غریب سیارہ دریافت کیا ہے جس کی ساخت لیموں سے مشابہ بتائی جا رہی ہےسائنس دانوں کے مطابق اس غیر معمولی سیارے کی خصوصیات ستاروں اور سیاروں کے درمیان موجود روایتی فرق کو دھندلا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین فلکیات نے اس سیارے کو PSR J2322-2650b کا نام دیا ہےیہ سیارہ اپنے مرکزی ستارے کے انتہائی قریب گردش کر رہا ہے جہاں اس کا فاصلہ محض 10 لاکھ میل ہے جو زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے تقریباً 100 گنا کم ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ PSR J2322-2650b کا ایک سال صرف 7.8 گھنٹوں پر مشتمل ہے جو اسے اب تک دریافت ہونے والے تیز ترین مدار والے سیاروں میں شامل کرتا ہےاس سیارے کا مرکزی ستارہ ایک پلسر ہے یعنی ایک انتہائی تیز رفتار گھومنے والا نیوٹرون ستارہ جس کی شدید کششِ ثقل نے سیارے کی ساخت کو بگاڑ کر بیضوی بنا دیا ہے جو دیکھنے میں لیموں کی شکل سے مشابہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس سیارے کا ماحول بھی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے جس میں ہیلیئم اور کاربن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہےانہی عناصر کی وجہ سے سیارے پر نہایت تیز ہوائیں چلتی ہیں، جو اس کے ماحول کو مزید منفرد بنا دیتی ہیں،PSR J2322-2650b جیسی دریافتیں کائنات کی ساخت اور سیاروں کی اقسام کے بارے میں موجود سائنسی تصورات کو چیلنج کرتی ہیں اور یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اجسام دریافت ہوں جو ستاروں اور سیاروں کے درمیان فرق کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔

  • خلا سے لی گئی خانہ کعبہ کی دل چھو لینے والی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    خلا سے لی گئی خانہ کعبہ کی دل چھو لینے والی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    مکہ مکرمہ، خلا سے لی گئی مکہ مکرمہ کی تصویر میں خانہ کعبہ ہیرے کی مانند چمکتا ہوا دیکھا گیا-

    مسلمانوں کے مقدس ترین مقام کی ایک تصویر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جارہی ہے، خانہ کعبہ اس کی دلکش تصویر کو خلا سے بنایا گیا ہے، اس تصویر میں مقدس مقام انتہائی روشن نقطے کی طرح نظر آرہا ہے، یہ تصویر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر لی گئی۔

    https://x.com/astro_Pettit/status/1995634887584612841?s=20

    یہ نادر منظر رواں سال خلا کے 220 دن کے دورے سے واپس آنے والے NASA کے سائنسدان اور فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرشیئر کیا ہےڈونلڈ پیٹٹ نے تصویرکے ساتھ لکھا کہ مکہ مکرمہ کی مدار سے لی گئی تصاویر میں مرکز میں روشن نقطہ خانہ کعبہ ہے، جو اسلام کا مقدس ترین مقام ہے، یہ مقام خلا سے بھی واضح طور پر نظر آتا ہے اور اس کی روشنی اور چمک دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ جاتا ہے۔

    ڈونلڈ پیٹٹ اپنے چوتھے آئی ایس ایس مشن کے دوران خلائی فوٹوگرافی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں, انہوں نے یہ دلکش منظر اسٹیشن کی کاپولا ونڈو سے ہائی ریزولوشن نِکون کیمرے کے ذریعے قید کیا۔

    nasa

    سوشل میڈیا صارفین نے بھی خانہ کعبہ کی روشنی کو ایک حیرت انگیز منظر قرار دیا،ماہرین نے بھی تصدیق کی کہ یہ تصویر جدید سیٹلائٹ اور خلا میں لی گئی فوٹوگرافی کے ذریعے ممکن ہوئی ہے، جو مذہبی اور سائنسی دلچسپی دونوں کا محور بن گئی،یہ تصویر نہ صرف مسلمانوں کے لیے روحانی اہمیت رکھتی ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کو اسلامی مقدس مقامات کی عظمت اور روشنی کی حقیقت دکھانے والا ایک منفرد منظر بھی ہے۔

  • ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

    ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔

    غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 5 دہائیوں بعد انسان ایک بار چاند کے مدار پر واپسی کیلئے تیار ہے ناسا نے مقررہ وقت سے پہلے ہی چاند کے مدار پر انسان بردار خلائی مشن کو بھیجنے کا اعلان کر دیا۔

    ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلی انسان بردار پرواز فروری 2026 میں چاند کی جانب بھیجی جاسکتی ہے۔ اور ناسا کا آرٹیمس پروگرام بنیادی طور پر انسانوں کو 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک بار پھر چاند پر واپس بھیجنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    نومبر 2022 میں آرٹیمس ون مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، لیکن اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا اس 10 روزہ آرٹیمس ٹو مشن کا مقصد چاند کے گرد انسانوں کو پہنچانا اور پھر واپس لانا ہےخلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے، یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہو گا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔

    ٹی ٹوئنٹی کی رینکنگ جاری،بابر اور صائم ایوب کی تنزی

    یہ مشن پہلے اپریل 2026 میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم اب اسے فروری میں بھیجے جانے کا امکان ہےناسا کی قائم مقام ڈپٹی ایسوسی ایڈمنسٹریٹر لکیشا ہاکنس نے کہا کہ آرٹیمس ٹو مشن کو جلد از جلد 5 فروری تک بھیجا جاسکتا ہے۔ تاہم ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ خلا بازوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔

    اس کے بعد آرٹیمس تھری مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گا، 2027 میں شیڈول آرٹیمس تھری مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔

    گوگل نے پاکستان میں اے آئی پلس پلان متعارف کرا دیا

  • ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا۔

    ناسا کے سیٹلائٹ نے حال ہی میں امریکی ریاست الاسکا کے ساحل کی ایک تصویر جاری کی ہے اس تصویر میں ساحل پر ایک جزیرہ دیکھا جاسکتا ہے جو وہاں طویل عرصے سے جمی برف پگھلنے سے تشکیل پایا ہےیہ جزیرہ السیک جھیل کے اندر واقع ہے جہاں السیک گلیشیئر بتدریج پگھل رہا ہے اور علاقے کو پانی سے بھر رہا ہے،ناسا نے السیک گلیشیئر دو تصاویر شیئر کی ہیں جن میں سے ایک 5 جولائی 1984ء کو لی گئی پرانی تصویر ہے اور دوسری 6 اگست 2025ء کو لی گئی نئی تصویر ہے۔

    امریکی خلائی ادارے نے دونوں تصاویر کا آپس میں موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ السیک گلیشیئر نے ماضی میں ایک پہاڑ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جسے پرو نوب (Prow Knob) کہا جاتا تھا اور اب پچھلی 4 دہائیوں کے دوران یہ گلیشیئر 5 کلو میٹر سے زیادہ پگھل گیا جس کے بعد وہاں اب ایک جھیل بن گئی ہے نئی تصویر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پہاڑ اب گلیشیئر سے مکمل طور پر الگ ہو گیا ہے جو کہ پانی سے گھرا ہوا ہے اور اسے سرکاری طور پر ایک جزیرے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

    jazeera

  • ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز  کہکشاں دریافت کر لی

    ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں دریافت کر لی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کا استعمال کرتے ہوئے ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں JADES-GS-z13-1 دریافت کی ہے، جو بگ بینگ کے صرف 33 کروڑ برس بعد وجود میں آئی تھی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کہکشاں غیر متوقع طور پر چمکدار الٹرا وائلٹ (یو وی) روشنی، خاص طور پر ہائیڈروجن ایٹمز سے خارج ہو تے لائمین-الفا ظاہر کرتی ہے، جو ابتدائی کائنات میں موجود گھنے غیر متحرک ہائیڈروجن بادلوں کی موجودگی کے باوجود حیران کن ہے اس اخراج کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کی ری آئنائزیشن—جب یو وی روشنی نے ہائیڈروجن ایٹمز کو آئنائز کر کے دوبارہ نمودار کی—پہلے سے متو قع وقت سے قبل واقع ہوئی۔

    باغبانپورہ قبرستان سے لڑکی کی لاش ملنے کے معاملے میں اہم انکشافات

    JADES کائنات کی مشاہدے میں آنے والی سب سے دور کہکشاؤں میں سے ہے اس کی روشنی کو جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ تک پہنچنے میں تقریباً 13.5 ارب سال لگے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں کائنات کی عمر کے قریب قریب ہے، یہ دریافت ابتدائی کہکشاؤں کی تشکیل کے بارے میں موجود نظریات کو چیلنج کرتی ہے اور ابتدائی کائنات کی حالت کے بارے میں نئے بصیرت فراہم کرتی ہے۔ ​

    پی ایس ایل 10 کے ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز ہوگیا

  • 9ماہ سے خلا میں پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی

    9ماہ سے خلا میں پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی

    جون 2024 میں 8 روزہ مشن پر انٹرنیشل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں جانے والے 2 امریکی خلا باز آخرکار 9 ماہ بعد زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ دونوں خلا باز بوئنگ کے اسٹار لائنر اسپیس کرافٹ کی اولین انسان بردار پرواز کے ذریعے آئی ایس ایس پہنچے تھے مگر پھر وہی پھنس گئے کیونکہ اسٹار لائنر انہیں واپس لانے کے قابل نہیں رہا Butch Wilmore اور سنیتا ولیمز کی واپسی میں ائیر لائنر کے تھر سٹرز رکاوٹ بنے جن کے باعث اسٹار لائنر کیپسول کو ڈوکنگ کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔

    اس کے بعد ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ دونوں کی واپسی اسپیس ایکس کے ڈراگون اسپیس کرافٹ سے ہوگی، اسپیس ایکس کا اسپیس کرافٹ 9 ماہ بعد اب دونوں کو واپس لا رہا ہےان دونوں کی واپسی کے لیے اسپیس ایکس کریو 9 مشن میں شامل 2 افراد کو نکال دیا گیا تھا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

    ناسا کی جانب سے ان کریو مشنز کے ذریعے آئی ایس ایس میں موجود عملے کو تبدیل کیا جاتا ہے یہ مشن ستمبر 2024 میں لوگوں کو لے کر آئی ایس ایس پہنچا تھا اور اب 18 مارچ کو زمین پر 9 ماہ سے خلا میں پھنسے خلا بازوں کو واپس لے کر لوٹ رہا ہے۔

    ناسا کی جانب سے پہلے منصوبہ بنایا گیا تھا کہ کریو 9 مشن کے عملے کی واپسی فروری میں ہوگی مگر اسپیس ایکس کا ڈراگون مشن ایک ماہ تاخیر سے روزانہ ہوا۔

    کریو 10 مشن کے تحت 4 افراد کو 14 مارچ کو آئی ایس ایس کے لیے روانہ کیا گیا تھا اور اس کا کیپسول اسپیس اسٹیشن سے 29 گھنٹے بعد جڑ گیا تھا۔

    ہیپاٹائٹس سی کا بہت جلد ملک سے مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔وزیراعظم

    اب Butch Wilmore اور سنیتا ولیمز کے ساتھ آئی ایس ایس میں موجود ناسا اور روس کے 2 خلا باز بھی زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں، طویل عرصے تک خلا میں پھنسے رہنے والے جوڑے نے اس عرصے مٰں وہاں سائنسی تجربات کیے جبکہ آئی ایس ایس کی مر مت میں بھی حصہ لیا،سنیتا ولیمز نے خلا مٰں چہل قدمی بھی کی۔

  • نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی آئیں گے

    نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی آئیں گے

    معروف کمپنی نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی پہنچیں گے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق خلائی تحقیقات کا ادارہ ناسا آج بروز جمعرات ایتھینا نامی خلائی جہاز لانچ کرنے جارہا ہے یہ چاند پر پہلا سیل فون نیٹ ورک بھیجے گا یہ اہم مشن انٹوئٹو مشینز (Intuitive Machines) اور نوکیا کے درمیان ایک ٹیم کی کوشش ہے، اور یہ کے آئی ایم- ٹو مشن کا حصہ ہے نوکیا کا لونر سرفیس کمیونیکیشن سسٹم چاند کی سطح پر مواصلاتی نیٹ ورک بنانے کے لیے زمین کی طرح سیل فون ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا،یہ نیٹ ورک واضح ویڈیو کالز، کمانڈ اینڈ کنٹرول کمیونیکیشن، چاند پر لینڈر اور وہیکلز کے درمیان اہم ڈیٹا شیئر کرنے کی اجازت دے گا۔

    لڑکی کی قبر کھودنے والا کالے جادو کا ماہرشخص گرفتار

    مذکورہ نیٹ ورک خلا کے سخت حالات بشمول انتہائی گرم اور سرد درجہ حرارت، اور تابکاری کی اعلیٰ سطح سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے،مذکورہ مشن میں دو خصوصی خلائی گاڑیاں شامل کی گئی ہیں جو چاند کی سطح پر سفر کر سکتی ہیں جن میں ایک ہاپنگ رو بوٹ اور ایک روور شامل ہے یہ خلائی گاڑیاں گاڑیاں چاند پر نیٹ ورک سے جڑنے کے لیے نوکیا کے خصوصی آلات استعمال کریں گی۔

    امریکا:ائیر پورٹ پر دو طیارے حادثے سے بال بال بچ گئے

    چاند پر موبائل نیٹ ورک بنانا خلائی مواصلات میں ایک بڑا قدم ہےاس سے مستقبل کے چاند کے مشن کو ممکن بنانے میں مدد ملے گی، جس میں ناسا کا انسانوں کی 2028 تک چاند تک رسائی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

  • ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نے سورج کے انتہائی قریب پرواز کر کے تاریخ رقم کر دی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائنسدانوں کو پارکر سولر پروب سے گزشتہ رات سگنل موصول ہوا،س سے پہلے خلائی جہاز سورج سے خارج ہونے والے انتہائی شدید درجہ حرارت اور بے تحاشہ تابکاری کو برداشت کرتے ہوئے سورج کی بیرونی فضا میں38 لاکھ میل کے فاصلے پر پرواز کر رہا تھا، اس دوران اس کا زمین سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    اس حوالے سے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز محفوظ اور معمول کے مطابق کام کر رہا ہے ناسا کے مشن سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ سورج درحقیقت کام کیسے کرتا ہے۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    واضح رہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا کا تیار کردہ پارکر سولر پروب انسانوں کی تیار کردہ تیز ترین سواری ہے اس نے انسانوں کی تیار کردہ تیز ترین چیز کا ریکارڈ 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے قائم کیا ہے اس سے پہلے بھی یہ ریکارڈ پارکر سولر پروب کے پاس ہی تھا جو اس نے کچھ عرصے قبل 3 لاکھ 97 ہزار 736 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے قائم کیا تھاسورج کی حرارت سے تحفظ فراہم کرنے والی شیلڈ سے لیس یہ مشن سورج کی سطح کے 38 لاکھ میل قریب گیا۔

    امبانی خاندان گائے کی کس خاص نسل کا دودھ پیتا ہے؟

    اس مشن کو سورج کی باہری کرہ ہوائی یا کورونا کے سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو طاقتور شمسی طوفانوں کے ذریعے زمین پر اثرات مرتب کرتا ہے،ہمارے نظام شمسی کے ستارے کو سمجھنے کے لیے یہ ائیر کرافٹ سورج کے قریب ترین گیا۔

    24 دسمبر کو یہ مشن سورج کے قریب گیا مگر اس کی جانب سے 27 دسمبر کو زمین پر ایک beacon tone بھیج کر محفوظ ہونے کی تصدیق کی جائے گی سورج کے قریب ترین جانے کے لیے لگ بھگ 10 فٹ لمبے ائیر کرافٹ نے سورج کے مدار میں 22 چکر لگائے، ہر چکر کے ساتھ یہ سورج کے کورونا کے قریب تر ہوگیا اور اس دوران پارکر سولر پروب کی رفتار میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

    چاہتے ہیں اگلے چار سال میں توانائی کا شعبہ بحران سے نکل آئے،اویس لغاری

    خیال رہے کہ حجم کے لحاظ سے سورج ہمارے سیارے سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے، تو اس کے گرد چکر لگانے کے لیے بہت زیادہ رفتار کی ضرورت ہوتی ہے تو سورج کے قریب جاتے ہوئے اس مشن نے 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے نیا ریکارڈ بنایا۔

    4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن زمین کے گرد 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگا رہا ہےاسی طرح اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ نے 2021 میں لگ بھگ 21 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا تھاسورج کے قریب ترین جانے کے سفر کے دوران اس مشن نے سورج کے کورونا کے بارے میں اہم ڈیٹا بھی اکٹھا کیا۔

    نیو ایئر نائٹ: پنجاب پولیس کا سکیورٹی پلان مکمل

  • خلاء  میں دو آنکھوں جیسی کہکشاؤں کی تصویر جاری

    خلاء میں دو آنکھوں جیسی کہکشاؤں کی تصویر جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے دور دراز خلاء میں دو گھورتی آنکھوں جیسی ڈراؤنی کہکشاؤں کی تصویر جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : ناساکے مطابق تصویر میں دیکھی جانے والی یہ اسپائرل کہکشائیں زمین سے 11 کروڑ 40 لاکھ نوری سال فاصلے پر موجود ہیں جن کے نام آئی سی 2163 اور این جی سی 2207 ہیں جاری کی گئی تصویر میں سرخ اور گلابی چمکیلے رنگوں کے پس منظر میں تاریک کائنات اور دور دراز موجود کئی کہکشائیں موجود ہیں،ناسا کے مطابق دائیں جانب موجود آئی سی 2163 کروڑوں برس قبل آہستہ آہستہ این جی سی 2207 کے پیچھے سرک گئی ہے۔

    ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کے مطابق کہکشاؤں کے رنگوں کی وضاحت جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مِڈ-انفرا ریڈ لائٹ اور قابلِ دید اور الٹرا وائلٹ روشنی ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ممکن ہوئییمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ میں نصب مِڈ انفرا ریڈ آلا (جس کو MIRI بھی کہا جاتا ہے) ایسا آلہ ہے جو کہکشاؤں کی نئی خصوصیات سامنے لانے میں مدد دیتا ہے۔