Baaghi TV

Tag: ناسا

  • ناسا نے مشتری اور اس کےچاند یوروپا کی جانچ کیلئے خلائی مشن  روانہ کر دیا

    ناسا نے مشتری اور اس کےچاند یوروپا کی جانچ کیلئے خلائی مشن روانہ کر دیا

    فلوریڈا: امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی جہاز مشتری اور اس کےچاند Europa کے سفرپر روانہ ہوگیا،جو تقریباً 6 سال بعد 2030 میں مشتری پرپہنچےگا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خلائی مشن تقریباً 6 سال بعد 2030 میں مشتری پرپہنچےگا اور یوروپا کی سطح کے16 میل کے علاقےکے اندر تحقیق کرےگا،خلائی جہاز مشتری چاندکی برفیلی پرت کی نچلی سطح کا جائزہ لےگا اور تعین کرے گا کہ کیا واقعی وہاں ایسےحالات ہیں جوزندگی کے لیے موافق ہوں اس خلائی مشن کو زمین سے باہر زندگی کی تلاش کی ایک بہترین مہم قرار دیا جارہا ہے جو وہاں زندگی کا پتا لگانے کے بجائے زندگی کو سپورٹ کرنے والے حالات کا تعین کرے گا۔

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    امریکی خلائی ایجنسی کا یوروپا کلپر خلائی جہاز کیپ کیناورل کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس فالکن ہیوی راکٹ پر فلوریڈا سے لانچ کیا گیاروبوٹک شمسی توانائی سے چلنے والا یہ پروب 2030 میں تقریباً 1.8 بلین میل (2.9 بلین کلومیٹر) کا سفر کرنے کے بعد مشتری کے گرد مدار میں داخل ہوجائے گالانچ کی منصوبہ بندی گزشتہ ہفتے کے لیے کی گئی تھی لیکن سمندری طوفان ملٹن کی وجہ سے اسے روک دیا گیا تھا۔یہ سب سے بڑا خلائی جہاز ہے جو ناسا نے سیاروں کے مشن کے لیے بنایا ہے یہ تقریباً 100 فٹ (30.5 میٹر) لمبا اور تقریباً 58 فٹ (17.6 میٹر) چوڑا ہے جو اینٹینا اور شمسی پلیٹوں کے ساتھ مکمل طور پر نصب کیا گیا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 13,000 پاؤنڈ (6,000 کلوگرام) ہے۔

    ایس سی او اجلاس، بھارتی وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

  • ناسا کا عملہ  کس طرح ووٹ ڈالے گا؟

    ناسا کا عملہ کس طرح ووٹ ڈالے گا؟

    واشنگٹن: امریکا میں نومبر کو ہونے والے عام انتخابات میں 46 کلومیٹر کی اونچائی پر خلا میں موجود ناسا کا عملہ اسپیس کمیونیکیشن اینڈ نیویگیشن (SCaN) پروگرام کے ذریعے ووٹ ڈالے گا-

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ناسا کے خلابازوں کو امریکا میں حالیہ عام انتخابات میں absentee ballot یا ابتدائی ووٹنگ کے ذریعے کاؤنٹی کلرک کے دفتر کے تعاون سے ووٹ ڈال سکے گاخلا سے ووٹنگ ناسا کے اسپیس کمیونیکیشن اینڈ نیویگیشن (SCaN) پروگرام کے ذریعے ممکن بنائی گئی ہے۔

    ناسا کے نیئر اسپیس نیٹ ورک کے ذریعے خلائی سفر میں ڈالے گئے ووٹ کا عمل، جس کا انتظام میری لینڈ میں گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں ناسا کے گرین بیلٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے، خلائی اسٹیشن اور ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں مشن کنٹرول سینٹر کے درمیان منتقل ہونے والے ڈیٹا جیسا ہے۔

    اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملےکے جواب کا سوچ رہا ہے،سی آئی اے سربراہ

    اس کے علاوہ یہ نیٹ ورک زمین کے 1.2 ملین میل کے فاصلے پر موجود خلائی مشنوں کو مواصلات اور نیویگیشن خدمات کو بشمول خلائی اسٹیسشن کے ایک ساتھ جوڑتا ہے خلاباز امریکا میں اپنے گھر سے دور رہنے والے کسی دوسرے امریکی کی طرح ہی ایبسنٹی بیلٹ کی درخواست کرنے کے لیے فیڈرل پوسٹ کارڈ کی درخواست بھرتے ہیں جس کے بعد وہ ووٹ کے اہل ہوجاتے ہیں۔

    شنگھائی تنظیم پر منظم طریقے سے کھیل کھیلا جا رہا ہے،جاوید لطیف

  • مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنس دانوں نے مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت کی ہیں-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کوئی حقیقی مکڑیاں نہیں بلکہ کچھ ارضیاتی خصوصیات ہیں مریخ کے شمالی نصف کرہ میں پائی گئی ہیں، ناسا کے روورز اور دیگر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ان زمینی اشکال کا پتا لگایامکڑی نما یہ شکلیں سیارے کی سطح پر کھدی ہوئی نظر آتی ہیں اور ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں،ان اشکال کا قریب سے معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ دراصل مکڑیاں نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بننے والی دراڑیں اور شکلیں ہیں۔

    سائنسدانوں کو معلوم نہیں ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے، لیکن حال ہی میں کچھ نظریات سامنے آئے ہیں،فی الحال سب سے مشہور نظریہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ آئس کے ماحول کے ساتھ تعامل پر پیدا ہونے والے ردعمل کے باعث یہ ابھری ہوئی خصوصیات پیدا ہوئیں،سائنس دانوں نے زمین پر سیارہ مریخ کو دوبارہ بنا کر اس نظریے کو جانچا انہوں نے پیچیدہ مشینری کے ساتھ مریخ کے درجہ حرارت اور ماحول کا دباؤ بنانے کے لیے مل کر کام کیا۔

  • اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا

    اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا

    امریکی خلائی ادارے ( ناسا) کا کہنا ہے کہ ایک اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ آج (منگل) کو زمین کے قریب سے گزرے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق 2024 ON سیارچہ 290 میٹر (950 فٹ) چوڑا ہے اور زمین سے 10 لاکھ کلومیٹر قریب سے گزرے گا،خلا کا یہ پتھر آخری بار 2013 میں زمین کے قریب سے گزرا تھا اور 2035 میں دوبارہ اس کے قریب سے گزرے گا۔

    یہ سیارچہ پہلی بار ناسا کے نیئر ارتھ آبجیکٹ (این ای او) مشاہدات پروگرام کے ذریعے دیکھا گیا تھا، جو دنیا بھر میں موجود آبزر ویٹریز کا استعمال کرتے ہوئے غیر دریافت شدہ این ای اوز کا پتہ لگاتا ہے،اس کو ورچوئل ٹیلی سکوپ پروجیکٹ کے ذریعے ٹریک کیا جا رہا ہے، جس نے نو ستمبر کو ’ممکنہ طور پر خطرناک‘ سیارچے کی تصویر لی، جو تقریباً 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔

  • ناسا کی متعدد یونیورسٹی اور اداروں کے اشتراک سے مصنوعی ستارہ خلا میں لانچ کرنے کی تیاری

    ناسا کی متعدد یونیورسٹی اور اداروں کے اشتراک سے مصنوعی ستارہ خلا میں لانچ کرنے کی تیاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارہ ناسا متعدد یونیورسٹی اور اداروں کے اشتراک سے ایک مصنوعی ستارہ خلا میں لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے مطابق جوتے کے ڈبے کے برابر لینڈولٹ نامی یہ اسپیس مشن 2029 میں زمین سے 35 ہزار 785 کلومیٹر فاصلے پر بھیجا جائے گا جو زمین کے گرد گھومے گا،8 لیزر کا حامل یہ مصنوعی ستارہ محدود مقدار میں شعاعیں خارج کرے گا جس کی چمک کا موازنہ سائنس دان اصلی ستاروں کی چمک سے کریں گے اور خلائی اجرام کی چمک کے متعلق مزید بہتر کیٹلاگ تشکیل دیں گے۔

    یہ کیٹلاگ زمین پر موجود ٹیلی اسکوپ کی کارکردگی کو ستاروں کی روشنی کی پیمائش، ہماری کہکشاں اور اس سے باہر موجود اجرام، ستاروں کی ارتقاء، ڈارک انرجی، کائنات کے پھیلاؤ اور زندگی کے اثرات رکھنے والے ایگزو پلینٹ کا فہم بہتر بنانے میں مدد دے سکے گا،1 کروڑ 95 لاکھ ڈالر مالیت کے اس مصنوعی ستارے کا سائز ایک جوتے کے ڈبے کے برابر ہے اور اس کو ٹیلی اسکوپ سے آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکے گا، مشن کے متعلق یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ممکنہ طور پر علم فلکیات پر واضح اثرات ڈالے گا،مشن کا گراؤنڈ سینیٹر امریکی ریاست ورجینیا میں قائم جورج میسن یونیورسٹی میں بنایا جائے گا۔

    راجن پور: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی

    سی پیک کے حوالے سے بھارت عالمی برادری کو گمراہ نہ کرے،دفتر خارجہ

    تنگوانی:پولیس نےکچےکی طرف جانے والے 4 افراد کو بچالیا گیا

  • اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت

    اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت

    واشنگٹن: سائنسدانوں نے اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : کچھ سیارے اتنے گرم ہوتے ہیں کہ ان کی فضا میں پگھلے پتھروں کی بارشیں ہوتی رہتی ہیں جبکہ کچھ اتنے ٹھنڈے ہوتے ہیں کہ انہیں برف کا دیو کہا جاتا ہے اب سائنسدانوں نے WASP-193b نامی نیا سیارہ دریافت کیا ہے یہ دنیا سے بھی کئی گنا بڑا سیارہ ہے لیکن اس کی کثافت اتنی کم ہے کہ سائنسدانوں نے اسے گُڑیا کے بال (cotton candy) سے تشبیہ دی ہے۔

    نیچر فلکیات کے جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سیارہ ہماری زمین سے 1,200 نوری سال کے فاصلے پر ہےیہ مشتری سے تقریباً 1.5 گنا بڑا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حساب کتاب کے بعد اس کی کثافت کی پیمائش 0.059 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر کی گئی ہے جو کہ فومز، کم کثافت والے پلاسٹک اور ایروجیلز کی طرح ہے۔

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    رپورٹ کے مصنف جولین ڈی ویٹ نے کہا کہ اس سیارے کو کاٹن کینڈی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر بہت ہی ہلکا ہے سیارے کا ماحول بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم جیسے ہلکے عناصر سے بنا ہوا ہے جو اسے تیرتے ہوئے پھولے ہوئے ابر آلود کرہ کی شکل دیتا ہے۔

    ناسا کے مطابق اس سیارے کا سائز ان ماڈلز پر لاگو نہیں کیا جا سکتا جو تابکاری گیسوں سے بھرے ہوتے ہیں اور دیو ہیکل سیاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سیارے میں کوئی ٹھوس سطح موجود نہیں ہے۔

    اپنی پسند کی شادی کے لیے 8 سال تک مشکلات سے گزرنا پڑا ،محمد رضوان

  • کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں دریافت

    کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں دریافت

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق JADES-GS-z14-0 نامی کہکشاں کا قیام بگ بینگ کے 29 کروڑ سال بعد عمل میں آیا تھا، کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والی یہ کہکشاں بہت بڑی ہے اور 1600 نوری برسوں کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ یہ بہت زیادہ روشن بھی ہے۔

    اس کہکشاں سے خارج ہونے والی روشنی کو جیمز ویب کے مڈ انفراریڈ انسٹرومنٹ نے دیکھا تھا جس سے ionized گیس کے اخراج کا عندیہ ملتا ہے،سائنسدانوں کے خیال میں یہ گیس ہائیڈروجن اور آکسیجن کا امتزاج ہو سکتی ہے اور یہ دریافت بھی حیران کن ہے، کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ کائنات کی ابتدا میں آکسیجن موجود نہیں تھی۔

    ملالہ یوسفزئی کی برطانوی میوزیکل ویب سیریز کی پہلی جھلک وائرل

    اس حوالے سے ہونے والی تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ تمام تر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں دیگر کہکشاؤں جیسی نہیں ، ایسا امکان ہے کہ مستقبل میں اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ماہرین ایسی مزید روشن کہکشاؤں کو دریافت کریں جو اس سے بھی زیادہ قدیم ہوں۔

    اس سے قبل جیمز ویب اسپیس نے کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول بھی دریافت کیا تھا،نومبر 2023 میں ناسا کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس بلیک ہول کے بارے میں بتایا گیا تھا جو بگ بینگ کے 47 کروڑ سال بعد وجود میں آیا تھا کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والے بلیک ہول کا مشاہدہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جس کی عمر 13 ارب 20 کروڑ سال ہو سکتی ہے۔

    کار حملے سمیت حماس کے ساتھ جھڑپ میں 3 صہیونی فوجی ہلاک

    اس بلیک ہول کو UHZ1 نامی کہکشاں میں دریافت کیا گیایہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 10 سے 100 کروڑ گنا زیادہ بڑا ہو سکتا ہے، سائنسدانوں نے کہا کہ یہ کائنات کا سب سے بڑا بلیک ہول تو نہیں مگر ابتدائی عہد میں بننے والے بلیک ہول کا اتنا بڑا حجم غیر معمولی ہے۔

  • سورج پر ہونے والے طاقتور دھماکوں کی تصاویر جاری

    سورج پر ہونے والے طاقتور دھماکوں کی تصاویر جاری

    سورج پر حال ہی میں ایک خوفناک دھماکہ ہوا ہے، جس کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے سورج پر ہونے والے دھماکوں کی تصاویر کو شئیر کیا گیا تھا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک انتہائی شدید گولڈن رنگ کی شعائیں نکل رہی ہیں، جمعے اور ہفتے کے روز سورج پر دو شدید دھماکے ہوئے ہیں، جن کی تصاویر ناسا کی جانب سے جاری کی گئی ہیں، ان دھماکوں کے باعث برقی مقناطیسی توانائی کی لہریں زمین کی طرف آئی ہیں-
    https://x.com/NASASun/status/1789389072093360135
    ناسا کے مطابق سورج کی جانب سے 10 مئی کی رات 9 بج 23 منٹ پر 2 طاقتور سولر فلئیرز جاری کی گئی ہیں جبکہ دوسری مرتبہ صبح 7 بج کر 44 منٹ پر 11 مئی کو ہوئی،جسے ناسا کی جانب سے ایکس 5 اعشاریہ 8 اور ایکش 1 اعشاریہ 5 کی کلاس فلئیرز میں شمار کیا گیا ہے۔
    https://x.com/NASASun/status/1789287437908271615
    آئرلینڈ کے میٹ آفس ائیران میٹ کی جانب سے تصاویر پوسٹ کی گئی تھیں، جس میں ڈبلن شہر اور شینن ائیرپورٹ پر یہ روشنیاں دیکھی گئی تھیں،میٹ آفس کے ترجمان اسٹیفن ڈکسن کا کہنا تھا کہ کم دورانیے کی راتوں کے باعث یہ روشنیاں کم وقت کے لیے ہی وقوع پذیر ہوں گی

    روس کا یوکرین پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ ،12 پاور گرڈز مکمل تباہ

    جبکہ جمعے کی رات کو اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، ویلز اور برطانیہ کے شمالی علاقوں میں دیکھی گئیں پیشگوئی کرتے ہوئے میٹ آفس نے بتایا کہ یہ صورتحال ہفتے کی رات تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ یہ کہاں کہاں نظر آئیں گی، تاہم نیشنل اوشینک اینڈ اٹماسفیریک ایڈمنسٹریشن (نووا) کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ پہلے چند کورونل ماس اجیکشنز ہمارے سیارے کی جانب گامزن ہیں۔

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

  • ناسا کا چاند پر ایڈوانس "ریلوے”  سسٹم بنانے کا منصوبہ

    ناسا کا چاند پر ایڈوانس "ریلوے” سسٹم بنانے کا منصوبہ

    واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند پر ایڈوانس "ریلوے” بنانے اور انسانوں اور سامان کو مریخ پر منتقل کرنے کے منصوبے کیلئے فنڈنگ شروع کر دی ۔

    باغی ٹی وی:عالمی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں ایجنسی کے خصوصی نمائندے اور ناسا اینویٹیو ایڈوانس کانسیپٹس (این آئی اے سی) پروگرام کے ایگزیکٹو جان نیلسن نے کہا کہ ناسا ایسے منصوبوں پر کام کرے گا جو سائنس فکشن جیسے تصورات ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ جلد ہی عمل میں لائے جائیں گے لیکن یہ ممکن ہے کہ کسی دن مستقبل میں یہ حقیقت کا روپ دھار لیں ان منصوبوں میں چاند پر جدید ریلوے کا نظام، مائع پر مبنی دوربین اور انسانوں اور سامان کو مریخ تک لے جانے کے لئے ٹرانزٹ سسٹم شامل ہیں یہ ان منصوبوں میں سے ہیں جن پر ناسا کا این آئی اے سی پروگرام تحقیق جاری رکھنے کے لئے فنڈز وصول کررہا ہے۔

    جان نیلسن نے کہا کہ کل چھ منصوبے ہیں جن میں سے ہر ایک این آئی اے سی کے ابتدائی مرحلے سے گزرچکا ہے اب دوسرے مرحلے میں یہ منصوبے مزید تحقیق کے لئے اگلے دو سال تک 600,000 ڈالرز جمع کریں گے، ہمارا این اآئی اے سی عملہ کچھ نہ کچھ حیران کن اور حوصلہ افزا آئیڈیا متعارف کراتا رہتا ہے اور یہ منصوبے یقینی طور پر ناسا کو مستقبل میں ممکنات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔

  • امریکی شہری کے گھر پر  گرنے والے خلائی کچرے کے بارے میں "ناسا”نے وضاحت دیدی

    امریکی شہری کے گھر پر گرنے والے خلائی کچرے کے بارے میں "ناسا”نے وضاحت دیدی

    فلوریڈا: امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک شہری کے گھر پر گزشتہ ماہ گرنے والی چیز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا ایک حصہ نکلی۔

    باغی ٹی وی : نیپلز میں 8 مارچ کو گھر کی چھت پر گرنے والی سلنڈر نما چیز تجزیے کے لیے کینیڈی اسپیس سینٹر، کیپ کینیورل لے جائی گئی خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے تصدیق کی ہے کہ فلوریڈا میں مکام پر گرنے والا آئٹم بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا حصہ تھا-

    کینیڈی اسپیس سینٹر نے بتایا کہ دھات کا بنا ہوا یہ آئٹم پرانی بیٹریز کو ٹھکانے لگانے کے لیے کارگو پیلیٹ سے جوڑنے والے سپورٹ سسٹم کا حصہ تھا اس پیلیٹ کو 2021 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے الگ کردیا گیا تھا، خیال تھا کہ یہ کرہ ارض کی فضا میں داخل ہونے ہی جل جائے گا تاہم اس میں سے یہ حصہ بچ گیادھات کے بنے ہوئے 10 سینٹی میٹر لمبے اور 4 سینٹی میٹر چوڑے اس پُرزے کا زن 700 گرام تھا، جب یہ پُرزہ گرا تب مکان کا مالک ایلیجیندرو آٹیرو تعطیلات کے لیے گیا ہوا تھا۔

    پاکستان اور سعودی وزرائے خزانہ کی امریکا میں ملاقات

    معذور لڑکی سے زیادتی ، باپ اور 2 بیٹے گرفتار

    پاکستان ایشیا اور عالمی سطح پر والی بال کا ایک مضبوط ملک ہے، کوچ …