Baaghi TV

Tag: ناسا

  • چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے 50 سال قبل چاند سے زمین پر لائے گئے پتھروں کے آخری مجموعے کو آج قریباً 50 برس بعد کھول دیا گیا ہے پتھروں کو زمین پر لانے کے بعد فوراً ایک مکمل طور پر مہربند نلکیوں نما پیکنگ میں رکھا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 73001 نامی یہ زیر تحقیق نمونہ خلانوردوں، یوجین سرنن اور ہیریسن شمٹ نے دسمبر 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران جمع کیا تھا، جو اس پروگرام کا آخری نمونہ تھا۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس کی قیادت اپالو نیکسٹ جنریشن سیمپل اینالیسس پروگرام (ANGSA) کر رہی ہے، جو ایک سائنس ٹیم ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر آنے والے آرٹیمس مشن سے پہلے نمونے اور چاند کی سطح کے بارے میں مزید جاننا ہے۔

    ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے اپولو مشنز کے ذریعے زمین پر کُل 2,196 چٹانوں کے نمونے لائے گئے ہیں جس میں سے ایک نمونے کو اب کھولنا شروع کیا گیا ہے، جو آج سے 50 سال قبل اکٹھا کیا گیا ہے، یہ پتھر 35 سیںٹی میٹر لمبی اور 4 سینٹی میٹر چوڑی ٹیوب میں رکھا گیا تھا یہ پتھر چاند کی مشہور وادی ٹارس لیٹرو سے اٹھایا گیا تھا۔

    آثار، معدومیات اور چاند کے پتھروں کی تحقیق میں یہ چلن عام ہے کہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق سے گزارا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت عشروں قبل حقائق کےمقابلے میں قدرے تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس پتھر کے مطالعے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سےامکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ 73001 نامی جس نمونے کو کھولا جارہا ہے اس میں طیران پذیر مادے ار گیس یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    واشنگٹن میں ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا کہ اپالو لینڈنگ سائٹس پر چاند کے نمونوں کی ارضیاتی تاریخ اور ارتقاء کو سمجھنے سے ہمیں ان نمونوں کی تیاری میں مدد ملے گی جن کا سامنا آرٹیمس کے دوران ہو سکتا ہے آرٹیمس کا مقصد قطب جنوبی کے قریب سے ٹھنڈے اور مہر بند نمونے واپس لانا ہے۔ ان نمونوں کو جمع کرنے اور منتقل کرنے، ان کا تجزیہ کرنے، اور سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے انہیں زمین پر ذخیرہ کرنے کے لیے درکار آلات کو سمجھنے کا یہ ایک دلچسپ سیکھنے کا موقع ہے۔

    جب اپالو کے خلابازوں نے تقریباً 50 سال پہلے یہ نمونے واپس کیے تو NASA کے پاس ان میں سے کچھ کو نہ کھولے اور قدیم رکھنے کی دور اندیشی تھی۔

    ناسا ہیڈ کوارٹر میں پلینٹری سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر لوری گلیز نے کہاایجنسی جانتی تھی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرے گی اور سائنس دانوں کو مستقبل میں نئے سوالات کو حل کرنے کے لیے مواد کا نئے طریقوں سے مطالعہ کرنے کی اجازت دے گی،اے این جی ایس اے کا اقدام ان خاص طور پر ذخیرہ شدہ اور سیل شدہ نمونوں کی جانچ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آرتیمس چاند پر ناسا کا اگلا مشن ہے جبکہ ایجنسی 2025 تک چاند پر انسان بردار سواریاں بھیجنا چاہتی ہیں اس ضمن میں آرتیمس اول نامی خلائی جہاز اسی سال روانہ کیا جائے گا دیرینہ مطالبے کے بعد اب کانگریس نے اس منصوبے کے لیے رقم بھی جاری کردی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

  • مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے چند روز قبل جاری کی جس میں ایک چھوٹا سا پودا دکھائی دے رہا ہے جو بظاہر مٹی سے بنا ہے-

    باغی ٹی وی : اس تصویر کو مریخ پر موجود ’’کیوریوسٹی روور‘‘ نے اپنے طاقتور کیمرے کی مدد سے کھینچا ہے ناسا نے کیوریوسٹی نامی یہ خودکار گاڑی یعنی روور 2012 میں مریخ پر اتاری تھی اور تب سے آج تک یہ مریخ کے مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے وہاں کی ہزاروں تصویریں کھینچ کر زمین پر بھیج چکی ہے-

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی


    ناسا کے مطابق یہ تازہ ترین تصویر اس روور نے جمعہ 25 فروری 2022 کے روز بھیجی تھی جسے ایک ہی مقام کی مختلف زاویوں سے لی گئی آٹھ تصویروں کو یکجا کرکے تیار کیا گیا ہے۔

    کیوریوسٹی روور کے روبوٹ بازو پر نصب ’’مارس ہینڈ لینس امیجر‘‘ (MAHLI) نے پوزیشن بدل بدل کر اس جگہ کی چند تصویریں کھینچیں جنہیں اس کے خودکار امیج پروسیسر کی مدد سے وہیں پر یکجا کرکے حتمی تصویر میں تبدیل کیا گیا۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا


    ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر کو مریخ پر زندگی کا ثبوت ہر گز نہ سمجھا جائے بلکہ وہاں جاری مختلف قدرتی عوامل کے نتیجے میں (جن کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں) مریخ کی مٹی اور چھوٹے چھوٹے پتھروں نے آپس میں مل کر ایسی شکل اختیار کرلی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    قبل ازیں امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی تھی جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی ہے جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    فوٹو:ناسا
    واضح رہے کہ دس ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی، دنیا کی مہنگی ترین خلائی دوربین ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا اصل مشن ابھی شروع نہیں ہوا ہے بلکہ آزمائشی مرحلے میں اس کے 18 آئینوں کی سیدھ انتہائی احتیاط سے درست کی جارہی۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    اس بارے میں ناسا نے تصویر کے ساتھ ایک پریس ریلیز بھی جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر کھینچنے کا آغاز 2 فروری سے ہوا جبکہ اسے مکمل ہونے میں 25 گھنٹے لگ گئے۔

    فوٹو بشکریہ: ناسا
    ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ نے دُبّ اکبر (Ursa Major) کے مطلوبہ علاقے میں 156 مقامات کا مشاہدہ کیا اور تصویریں کھینچیں۔ یہ علاقہ زمین سے دکھائی دینے والے پورے چاند جتنا ہے اس دوران خلائی دوربین کے دس نیئر انفراریڈ کیمروں کی مدد سے اس علاقے کی 1,560 تصویریں کھینچی گئیں جنہیں بعد ازاں آپس میں جوڑ کر 2 ارب پکسل والی ایک بڑی تصویر تیار کی گئی۔

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

    فی الحال ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا ہر آئینہ جداگانہ طور پر کام کررہا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں یہ تمام آئینے ایک دوسرے کے ساتھ اس انداز سے ترتیب میں لائے جائیں گے کہ وہ ایک بہت بڑے آئینے کی طرح کام کرنے لگیں گے۔

    اس دوران ہر مرحلے میں جہاں آئینوں کی ’سیدھ‘ درست کی جائے گی، وہیں آزمائشی تصویریں زمینی مرکز تک نشر کرکے اس دوربین کے مواصلاتی نظام کو بھی جانچا جاتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا


    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…


    ناسا کے مطابق اس منصوبے میں حساس نوعیت کی سیکڑوں پیچیدگیاں ہیں جو شاید ہی کسی خلائی دوربین نے اس سے پہلے دیکھی ہوں گی۔ اسی لیے پورے مشن اور کمانڈ سسٹم کو نازک قرار دیا گیا تھا جیمزویب خلائی دوربین بیضوی مدار میں سورج کے گرد چکر لگائے گی جبکہ زمین سے اس کا اوسط فاصلہ تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر رہے گا۔ خلاء کے انتہائی تاریک ماحول میں زیریں سرخ (انفراریڈ) شعاعوں کے ذریعے یہ کائنات کے ان دور دراز مقامات کو بھی دیکھ سکے گی جو اس سے پہلے کسی دوربین نے نہیں دیکھے۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    یہ مقامات ہم سے تقریباً 13 ارب 70 کروڑ سال دور ہیں، یعنی ان سے آنے والی روشنی بھی اتنی ہی قدیم ہے یعںی خود کائنات۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کے اوّلین ستارے بھی آج سے 13 ارب 70 کروڑ پہلے وجود میں آئے ہوں گے لیکن اب تک کسی بھی دوربین سے انہیں دیکھا نہیں جاسکا۔ جیمس ویب خلائی دوربین ایسے ستاروں کو بھی دیکھ سکے گی۔

    دوسری جانب اس سے خلا کی وسعتوں میں دوردراز زمین نما سیاروں کی کھوج میں بھی آسانی ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ جیمز ویب ہمیں کائنات کا اولین نظارہ کراسکے گی اور ہم جان سکیں گے کہ اس وقت ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کی صورت کیا تھی۔21 فٹ کا دوربینی آئینہ دور دراز کائنات کی روشنی کو جمع کرسکے گا اور ہمیں قدیم کائنات کا نظارہ کرائے گا۔ خلا کا ماحول زمین آلودگی اور بادلوں وغیرہ سے پاک ہوتا ہے اور اسی لیے یہ دوربین ہمیں کائنات کا ان دیکھا نظارہ کراسکے گی۔


    خیال رہے کہ واضح رہے کہ انسانی تاریخ میں کسی دوربین میں لگائے گئے یہ سب سے بڑے آئینے بھی ہیں۔ 14 ممالک کے سائنسداں، انجینیئر اور سافٹ ویئر ڈیزائنر نے اس منصوبے پر 2004ء میں کام شروع کیا تھا لیکن بار بار یہ منصوبہ تکنیکی خامیوں، ٹیکنالوجی کی کمی اور وبا کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    جیمز ویب ناسا کے دوسرے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے ناسا کے قمری مشین میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ اس کے لیے بنیادی خدمات بھی انجام دیں جیمزویب کی حکمتِ عملی ایک عرصے تک ناسا کی ترقی کی ضامن رہی اور 27 مارچ 1992ء میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    واشنگٹن: خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں قابلِ قدر خدمات اور دریافتوں کے بعد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو آخرکار 2031 تک سمندر کی سمت پھینکا جائے گا-

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی ویب سائٹ گیجٹس کے مطابق کانگریس نے ناسا کے ماہرین سے کہا تھا کہ وہ اسٹیشن کے قابلِ عمل ہونے کے متعلق بتائیں اور یہ بھی کہ اس کا مستقبل کیا ہوسکتا ہےاس پر ناسا نے کانگریس کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کا مدار مزید نیچے یعنی نچلے ارضی مدار تک کھسکھا کر اسے نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے لیکن آخر کار طے پایا کہ نو برس بعد اس کا رخ زمین ہی ہوگا۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    ناسا نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے بعض حصے قابلِ مرمت ہیں لیکن آخرکار اسے ریٹائر کرنا ہی ہے منصوبے کے تحت اسے بحرالکاہل کے ایک مقام ’پوائنٹ نیمو‘ میں گرایا جائے گا جو ایک غیرآباد اور ویران خطہ بھی ہے۔

    ناسا نے کہا کہ پوائنٹ نیمو ایک ایسا علاقہ ہے جو آبادی سے بہت دور ہے اور یہاں 2001 میں روسی خلائی اسٹیشن میر کو بھی پھینکا گیا تھا۔ اس سے قبل بڑے بڑے سیٹلائٹ بھی اس رخ پر مدار بدر یعنی ڈی آربٹ کئے جاتے رہے ہیں اسے ماہریں خلائی اجسام اور سیٹلائٹ کا قبرستان بھی کہتے ہیں۔

    ناسا نے بتایا کہ منصوبے کے تحت 2030 تک اس کے معمول کے آپریشنز جاری رہیں گے جبکہ اسے بتدریج بند کرکے مکمل خاموش کردیا جائے گا اس کے بعد اسے مدار سے بے دخل کیا جائے گا جو کئی مراحل میں ممکن ہوسکے گا۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…

    1998 سے آئی ایس ایس خلا میں رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر کاٹ رہا ہے۔ اسے دنیا کے پانچ خلائی اداروں نے بنایا تھا اور 2000 سے یہاں انسانوں کی آمدورفت جاری ہے اس کی مشہور خردثقلی تجربہ گاہ میں 3000 سے زائد انوکھے اور دلچسپ تجربات کئے گئے جو زمینی ماحول میں ممکن نہ تھے۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

  • ٹونگامیں پھٹنےوالاآتش فشاں ایٹمی دھماکے سے زیادہ طاقتور ہے،ناسا

    ٹونگامیں پھٹنےوالاآتش فشاں ایٹمی دھماکے سے زیادہ طاقتور ہے،ناسا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ جزیرے ٹونگا میں پھٹنے والے آتش فشاں کا دھماکا ایٹمی بم سے بھی زیادہ طاقتور ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق رواں ماہ 15 جنوری کو پھٹنے والے آتش فشاں سے ہونے والے دھماکے نے ایٹمی دھماکے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ٹونگا آتش فشاں سے 84 فیصد آبادی متاثر ہوئی آتش فشاں کا ملبہ فضا میں 40 کلومیٹر تک اوپر گیا جبکہ اس دوران سمندر میں سونامی کی لہریں اٹھیں۔

    جاپان کےسمندر میں آتش فشاں پھٹ گیا،امریکا میں سونامی کا خطرہ

    رپورٹ کے مطابق اس دھماکے سے جتنی توانائی کا اخراج ہوا وہ پانچ سے 30 میگا ٹن دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے جتنا تھا، جس کی آوازیں 10 ہزار کلومیٹر دور تک سنی گئی، اندازے کے مطابق آتش فشاں جزیرے کا 65 کلومیٹر رقبہ ‘ختم’ کرچکا ہے جس کے بعد ٹونگا آتش فشاں کے دھماکہ کو ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے سو گُنا زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکا میں برفانی طوفان،متعدد ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ

    رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ رہائشیوں نے دھماکے کے بارے میں بتایا کہ اس سے ہمارے دماغ ہلا کر رکھ دیئے تھے 1945 میں ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم کو ’لٹل بوائے‘ کا نام دیا گیا تھا اس ایٹم بم کی طاقت 12 ہزار سے 15 ہزار ٹن بارود جتنی تھی۔ اس بم نے 13 مربع کلومیٹر تک کے علاقے کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔


    واضح رہے کہ جنو بی بحرالکاہل میں جزیرہ ریاست ٹونگا کے قریب زیرِ سمندر بڑا آتش فشاں پھٹنے کے لمحات کا منظر سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں بھی قید کیا گیا ٹونگا میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے سے خوفناک آوازیں پیدا ہوئیں جو 800 کلومیٹر دور فجی میں بھی سنی گئیں۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویرمیں 5 کلومیٹر چوڑا راکھ، بھاپ اور گیس کا شعلہ 20 کلومیٹر تک بڑھتے ہوئے دیکھا گیا سیٹیلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً 5 کلومیٹر چوڑے علاقے پر پھیلی راکھ کا غبار فضا میں 17 کلو میٹر تک بلند ہو رہا ہے جس کے بعد سونامی وارننگ جاری کر دی گئی۔

    ٹونگا میں سونامی سے ایک خاتون ہلاک

  • چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چین کے خلائی مشن چینگ نے چاند کی سطح پر پانی کے شواہد کو دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ان مالیکیولز کی زیادہ تر تعداد سولر ونڈ امپلانٹیشن کے دوران جمع ہوئی چینی خلائی مشن نے چاند پر پانی کے مالیکیولز یا ہائیڈروآکسل کو دریافت کیا ہے جو ایچ 2 او جیسا کیمیکل ہےماہرین نے تجزیہ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی فی ملین 120 حصوں سے کم ہے، جس کے مطابق چاند کی سطح زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ خشک ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    دہائیوں تک سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے، اس وجہ سے سورج کی سخت ریڈی ایشن کے باعث پانی کے مالیکیولز کو کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا-

    ناسا نے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ چاند کی سطح پر دریافت کیے جانے والےپانی کی مقدار کا موازنہ صحرائےاعظم صحارا سے کیا جائے تو اس صحرا میں سو گنا زیادہ مقدار میں پانی موجود ہے تاہم کم مقدار کے باوجود اس دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ چاند کی مشکل اور ہوا سے محروم سطح پر پانی کیسے بنا اور برقرار رہا۔

    1969 میں جب پہلی بار خلا باز چاند پر پہنچے تھے تو یہ مانا جاتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خشک ہے مگر گزشتہ 20 برسوں کے دوران مختلف مشنز میں چاند کے قطبی علاقوں میں تاریکی میں چھپے گڑھوں میں برف کی تصدیق ہوئی تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہےعالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

  • 10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا

    10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا

    واشنگٹن :10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا،اطلاعات ہیں کہ کرسمس کے موقع پر خلا میں جانےوالی 10 ارب ڈالر مالیت کی جیمز ویب اسپیس نے دو ہفتوں پرمحیط ڈیپلائمنٹ کا پیچیدہ مرحلہ عبور کرلیا ہے۔اوراب سائنسدانوں نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ کامیابیوں اور انقلاب کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے

    اس حوالے سے خلائی ادارے ناسا نے اپنی ٹوئٹ میں جیمز ویب کے خلائی میدان میں اہم سنگ میل طےکرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہ ’ کامیاب ڈیپلائمنٹ کے بعد جیمز ویب نے اپنا آخری شیشہ کھول دیا ہے جس سے 50 ڈیپلائمنٹس اور 178 پنز کی ریلیز کا مرحلہ طے ہوگیا ہے۔‘

    جیمز ویب اپنے سونے کے پانی چڑھے پھول کی پتیوں جیسے عظیم الجثہ شیشوں کے ساڑھے 6 میٹر طویل آخری شیشے کو مکمل طور پر کھول کر کائناتی تاریخ کے ہر مرحلے کو ریکارڈ کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہے۔

     

    ناسا کی اس ٹوئٹ کے بعد ریاست میری لینڈ میں قائم اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹی ٹیوٹ کے انجینئرز کی ٹیم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جیمز ویب میں اب تک لانچ ہونے والی سب سے بڑے اور حساس شیشے لگائے گئے ہیں جنہیں ’ گولڈن آئی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    جسامت میں بہت بڑی ہونے کی وجہ سے اس ٹیلی اسکوپ کو اوریگامی طرز پر راکٹ میں فٹ کیا گیا تھا، جب کہ سورج کی شعاعوں سے محفوظ رکھنے کے اس میں ایک حفاظتی شیلڈ دی گئی ہے جو کہ مستقل طور پر ٹیلی اسکوپ، سورج، چاند اور زمین کے درمیان حائل رہے گی۔

    10 ارب ڈالر مالیت کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین کی سطح سے لاکھوں میل دوری پر شمسی مدار میں گردش کرے گی۔ہبل ٹیلی اسکوپ سے زیادہ طاقت ور جیمز ویب 13 ارب 70 کروڑ سال قبل تشکیل پانے والے اولین ستاروں اور کہکشاؤں سے متعلق معلومات جمع کرے گی۔

    جیمز ویب اسپیس کو زمین سے 340 ملین میل دوری پر موجود خلائی دوربین ہبل کا پیش رو سمجھا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ جیمز ویب اسپیس کی تیاری 30 سال قبل شروع کی گئی تھی۔ اس وقت اس پراجیکٹ کے لیے ناسا نے 500 ملین ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا۔ جیمز ویب کو 2007 میں خلائی سفر پر روانہ کرنا تھا تاہم کچھ تیکنیکی خامیوں کی بنیاد پر اس کی لانچنگ ملتوی ہوتی رہی۔

    جیمز ویب کو 25 دسمبر 2021 کو فرنچ گیوآناخلائی مرکزسے راکٹ آریانے 5 کے ذریعے خلائی سفر پر روانہ کیا گیا تھا۔۔

  • خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    نیو جرسی: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے ایک نئے پروگرام کے تحت 24 مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کرلی ہیں –

    باغی ٹی وی :امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق ناسا نے جن 24 مذہبی رہنماؤں کی خدمات حاصل کیں ان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیشوا بھی شامل ہیں جب خلائی ایجنسیاں زمین سے باہر رہنے کے قابل سیاروں اور اجنبی زندگی کی تلاش کے لیے نئی دوربینیں، روور اور تحقیقات شروع کر رہی ہیں، ایک برطانوی پادری ناسا کی یہ سمجھنے میں مدد کر رہا ہے کہ کس طرح ماورائے زمین کی دریافت کائنات کو دیکھنے کے انداز کو بدل دے گی۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    ریو ڈاکٹر اینڈریو ڈیوسن، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک پادری اور ماہر الہیات، آکسفورڈ سے بائیو کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کے ڈگری ہولڈر، ان 24 ماہرینِ الہیات میں شامل ہیں جنہوں نے پرنسٹن میں سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری (CTI) میں ناسا کے زیر اہتمام پروگرام میں حصہ لیا۔ امریکہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ دنیا کے بڑے مذاہب اس خبر پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے کہ ہمارے علاوہ اور ہمارے جیسی اور بھی مخلوق ہے-

    رپورٹ کے مطابق قریباً ایک سال تک جاری رہنے والے اس پروگرام کا مقصد خلائی مخلوق سے رابطے کی صورت میں مذہبی نقطہ نگاہ کو جاننا، سمجھنا، اور اسے مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ترین ردِعمل کا تعین کرنا ہے۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    کائنات میں زمین جیسے سیاروں کے علاوہ وہاں پر انسان جیسی ذہین اور ترقی یافتہ مخلوق ملنے کے امکانات بہت روشن ہیں لیکن اب تک ایسی کسی ’خلائی مخلوق‘ سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    ہوسکتا ہے کہ آنے والے ہزاروں سال تک ہمیں خلائی مخلوق کا کوئی سراغ نہ ملے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران ہمیں اپنے جیسی کسی ذہین خلائی مخلوق کا پیغام موصول ہوجائے۔

    ایسی صورت میں ایک پوری نوعِ انسانی کی حیثیت سے ہمارا جامع ترین جواب کیا ہونا چاہیے جو ہماری علمی سطح کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد کا اظہار بھی کرے؟ اس منصوبے کا مقصد یہی تعین کرنا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    سال بھر جاری رہنے والے اس پروگرام کو ’فلکی حیاتیات کے سماجی مضمرات‘ کا عنوان دیا گیا ہے جو پرنسٹن یونیورسٹی، نیو جرسی کے ’مرکز برائے مذہبی تحقیق‘ (سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری) یا مختصراً ’سی ٹی آئی‘ میں منعقد کیا جارہا ہے۔

    امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ میں اس پروگرام کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کے بعد سے یہ چہ مگوئیاں بھی شروع ہوگئی ہیں کہ شاید ناسا نے خلائی مخلوق دریافت کرلی ہے یا اس کا رابطہ کسی ذہین خلائی مخلوق سے ہوگیا ہے تاہم اس بارے میں اب تک ناسا کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

  • ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر ناسا کی جانب سے بھیجے جانےبوالے جونو خلائی جہازنے مشتری اور نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند جینی میڈ کی آواز ریکارڈ کی ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق جو نو کی جانب سے بھیجی جانے والی یہ آوازیں عجیب و غریب ہیں مشتری ہویا اس کے عجیب و غریب چاند ہوں، انہیں ہمارے نظامِ شمسی کے حیرت انگیز اجسام میں شمار کیا جاتا ہےیہی وجہ ہے کہ ناسا نے 5 اگست 2011 کو جونو خلائی مشین زمین سے روانہ کیا اور وہ مشتری کی قطبی مدار میں جولائی 2016 تک پہنچ گیا تھا۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    اگرچہ اسے بطورِ خاص مشتری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن اس سال 7 جون کو یہ جینی میڈ کے بہت قریب پہنچا اور چاند کی مقناطیسی، برقی اور فضائی (میگنیٹواسفیئر) خصوصیات نوٹ کیں تاہم ایک مقام پر اس کا حساس مائیک کھولا گیا اور اس نے جینی میڈ کی بہت عجیب و غریب آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 7 جون کو 50 سیکنڈ پر مشتمل پراسرار صوتی ڈیٹا اس وقت ملا کہ جب خلائی جہاز(جونو) سیارہ ‘مشتری’ کے سب سے بڑے چاند(گانیمید) کے قریب پرواز کررہا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خلائی جہاز مشتری کی کھوج کے لیے ناسا کی جانب سے بھیجا گیا 34 واں مشن ہے جس نے گانیمید کی سطح سے 645 میل (1038 کلومیٹر ) دوری پر 41 ہزار 600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے پراسرار آوازیں ریکارڈ کی ہیں یہ پُر اسرار آواز ‘بیپس’ گاڑی کے ہارن جیسی آواز لگیں۔

    اسی طرح ‘بلوپس’ آواز کسی برقی آلے سے خارج ہونے والی لو پچ ساؤنڈ کی طرح تھی یہ تمام آوازیں مختلف فریکوئنسی پر مشتمل ہیں۔ گانیمید ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا اور واحد چاند ہے جس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    خلائی جہاز جونو کے پرنسپل انویسٹیگیٹر اسکاٹ بولٹن کا کہنا ہے کہ اگر اس آواز کو دھیان سے سنا جائے تو ریکارڈنگ کے وسط میں آپ کو اچانک بلند فریکوئنسی سنائی دے گی جو کہ گانیمید کے مقناطیسی کرہ میں کسی مختلف ریجن کے داخل ہونے کو ظاہر کرتی ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ ریکارڈنگ سن کر آپ خود کو جونو کے ساتھ سفر کرتا محسوس کریں گے آواز میں اچانک بلند اور کم فریکوئنسی کی آوازیں خارج ہوتی ہے یہ تبدیلی مقناطیسی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے تبدیل ہوتی رہی ہے جو صاف سنی جاسکتی ہے-

    تاہم سائنسدانوں نے کہا ہے ہم نے یہ ڈیٹا محض تفریح کے لیے جاری کیا ہے کیونکہ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ دیگر سیاروں کے چاند اور خود نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند کی اندرونی آواز کیسی سنائی دیتی ہیں۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

  • ناسا کے انجینئر کی زندگی پر مبنی سینما تاریخ کی خوفناک ترین فلم

    ناسا کے انجینئر کی زندگی پر مبنی سینما تاریخ کی خوفناک ترین فلم

    سینما تاریخ کی خوفناک ترین اور آج بھی رونگٹے کھڑے کردینے والی فلم "ایگزارسٹ” ناسا کے ایک انجینئر پر آئے دہشت اور اذیت ناک حالات پر مبنی ہے۔

    باغی ٹی وی : تاریخ میں رونالڈ ایڈوین ہنکلر کا نام بطور خلائی جہازوں کی تپش مزاحم ساخت کے دعویدارِ موجد کے طور پر درج ہے لیکن رونالڈ کی دوسری وجہِ شہرت دی ایگزارسٹ(The Exorcist) فلم ہے جو ان کے ساتھ کم عمری میں پیش آئے خوفناک سانحے پر مبنی ہے۔

    سلمان خان کا بجرنگی بھائی جان کا سیکوئل بنانے کا اعلان

    اس بارے میں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ کم عمری میں رونالڈ ایڈوین پر آسیب ہوا تھا اور یہ زندگی کا وہ حصہ تھا جس پر رونالڈ نے خود 40 سال تک خاموشی اختیار رکھی 40 سال تک ناسا میں کام کرنے کے دوران ان کو خدشہ رہا کہ کہیں ان کے ماضی کا یہ راز فاش نہ ہوجائے۔

    صبا قمر اور زاہد احمد کی فلم "گھبرانا نہیں ہے” کا ٹیزر جاری

    فلم کو جس کردار سے متاثر بتایا گیا اس کا نام رولینڈ ڈو اور روبن مینہم ظاہر کیا گیا جو کہ رونالڈ ایڈوین ہنکلر کے نام کی تبدیل شدہ شکل تھی اور اس جھوٹ کا سلسلہ دہائیوں تک جاری رہا رونالڈ کی زندگی کے اس پہلو سے صرف وہی لوگ واقف تھے جو ان پادریوں کے ساتھ رہے جنہوں نے رونالڈ پر سے آسیب کو رفع کیا تھا۔

    فواد خان اور صنم سعید بھارتی ویب سیریز میں ایک ساتھ نظر آئیں گے

    بھوت پریت کا موضوع ہالی ووڈ کی فلموں میں سن 1973 سے زور پکڑگیا جب مشہور فلم ’’ دی ایگزارسٹ‘‘ ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے بعد جادو اور بدروحوں پر مبنی ڈراؤنی فلموں کا سلسلہ شروع ہو گیا امریکہ میں ریلیز ہونے والی نئی فلم ’’ دی لاسٹ ایگزارسزم‘‘ یا The Last Exorcismکا کسی طور بھی تعلق سن 1973 میں ولیم فریڈکن کی کلاسیک میں شمار کی جانے والی فلم ’’ دی اگزارسٹ‘‘ سے نہیں ہے یہ پرانی فلم کا کوئی تسلسل یا اگلی قسط بھی نہیں ہے۔

    کبریٰ خان نے کینسر سے جنگ کیسے جیتی؟

    پرانی فلم کا موضوع ایک لڑکی کے گرد گھومتا تھا جس پر کسی روح یا بھوت کا قبضہ ہو جاتا ہے اور ایک عیسائی مبلغ اس لڑکی کے اندر حلول کرجانے والی بد روح کا مذہبی عقائد کی روشنی میں مقابلہ کرتا ہے اسی فلم کے بعد ’’ دی اومن‘‘ سیریز کی فلمیں بنائی گئی تھیں اس سلسلے کی پہلی فلم میں مارلن برانڈو نے کام کیا تھا یہ بھی اس موضوع کے حوالے سے ایک کامیاب سیریز تھی۔

    عمران عباس کی والدہ کے انتقال پر شوبز شخصیات کا اظہار افسوس