Baaghi TV

Tag: ناسا

  • جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی  نشاندہی

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی کی ہے-

    باغی ٹی وی : جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے۔

    اس عمل کو "سُپر نووا” کہتے ہیں ناسا ماہرین کے مطابق "سُپر نووا” کے نام سے جانا جانے والا یہ عمل وہ موقع ہوتا ہے جب کسی ستارے میں ایندھن ختم ہوجاتا ہے اس کے سبب دباؤ کم ہوجاتا ہےجس کی وجہ سے اجرامِ فلکی ہمارے سورج کی نسبت پانچ گُنا زیادہ پھیل جاتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہےاس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں ٹن ملبہ اور ذرّات کا اخراج ہوتا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹیٹیوٹ کے مائیک انگیسر کا کہنا تھا کہ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نئے ختم ہوتے ستاروں کو ڈھونڈنے یا ان کی نشاندہی کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر پہلا قدم رکھنے والے امریکی خلاء باز نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرِن کے چاند پر قدموں کے نشان کی زبردست ویڈیو جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : ناسا میں جاری کی گئی ویڈیو میں دونوں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی چاند پر حیران کن طور پر واضح ہے۔


    ناسا نےبدھ کے روز چاند کے عالمی دن پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا آج اپولو کے چاند پر اترنے کی سالگرہ ہے جب انسانوں نے پہلی بار کسی دوسری سطح پر قدم رکھا تھا لُونر ریکونائسینس آربِٹر سے بنائی جانے والی ویڈیو میں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان دِکھائی دیتے ہیں جو ابھی تک وہاں موجود ہیں ۔


    ناسا نے لکھا کہ اپولو 11 سب سے زیادہ جانا جانے والا مشن ہے لیکن اس سے قبل بھیجے جانے والے مشنز نے اس مشن کےلیے راہ ہموار کی جن میں روور اور سرویئر جیسے روبوٹِک مشنز سمیت اپولو 8، 9 اور10 کے عملے کے ساتھ بھیجے جانےوالے مشنز شامل ہیں،جن میں چاند کے مدار میں داخلے ہونے اور اس سے خارج ہونے کی آزمائش کی گئی تھی۔


    یہ آربِٹر2009 سےچاند کامطالعہ کر رہا ہے اور ایجنسی کے دیگر مشنز کی نسبت بہت زیادہ،1.4 پِیٹا بائیٹ حجم کا، ڈیٹا زمین پر بھیج چکا ہے کچھ اندازوں کے مطابق ایک پِیٹا بائیٹ 500 ارب معیاری پرنٹڈ صفحات کے برابر ہوتا ہے۔

  • ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن  روانہ کیلئے تیار

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی :"اسپیس ڈاٹ کام” کی رپورٹ کے مطابق اس نئے مشن کی پہلی آزامائشی پرواز 29 اگست کو لانچ ہو گی آر ٹیمس-1 چاند کی تسخیر کےاس نئے خلائی مشن کی پہلی پرواز ہو گی، ناسا چاند پر مکمل تحقیق کے بعد اس پر بسیرا کا خواہش مند ہے۔

    ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے مطابق دیوہیکل خلائی لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کے لیے ممکنہ لانچ کی تاریخوں کی پہلی ونڈو 29 اگست، 2 ستمبر اور 5 ستمبرہے۔

    آرٹیمس-1 چار سے چھے ہفتوں تک جاری رہنے والے مشن میں چاند پر سفر کرنے کوتیارہے۔ یہ خلابازوں کے لیے کسی بھی جہاز سے زیادہ طویل سفرہوگا اوربغیررکے کیا جائے گا۔یہ مشن خلا میں تجربات کے لیے کیوب سیٹس نامی متعدد چھوٹے سیارچے بھی نصب کرے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مقصد قمری خلائی صورت حال میں اورین کی حرارتی ڈھال کی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھنا ہے۔

    اس مشن کا دوسرامقصد راکٹ اورعملہ کے کیپسول کی پروازکی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے، آرٹیمس-2 عملہ کے ساتھ پہلا تجربہ ہوگا، یہ مشن چاند کے گرد پرواز کرے گا لیکن اس پر اترے گا نہیں جبکہ آرٹیمس-3 مشن میں پہلی خاتون اور پہلا رنگ دار شخص چاند کے جنوبی قطب کو چھوئیں گے۔

    ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری نے عبوری لانچ کی تاریخوں کے بارے میں کہا کہ "یہ ایجنسی کا عہد نہیں ہے۔” NASA لانچ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مزید پختہ عزم کا اعلان کرے گا، انہوں نے کہا، جب ایجنسی آرٹیمیس 1 اسٹیک، بشمول SLS اور راکٹ کے اوپر سوار اورین کیپسول کی اپنی معیاری پرواز کی تیاری کا جائزہ مکمل کر لے گی۔

    تاہم، اگست کے آخر اور ستمبر کے اوائل میں عبوری تاریخیں وہی ہیں جو "ٹیم کام کر رہی ہے، اور اس کے لیے ایک منصوبہ ہے،” فری نے مزید کہا۔ "لیکن ہمارے پاس بہت سارے کام باقی ہیں جو ہمیں کرنا ہوں گے، اور شاید اس سے سیکھیں گے-

  • خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری

    خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری

    کیلی فورنیا :امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری کر دی ہے۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کا منصوبہ مشترکہ طور پر امریکہ، یورپ اور کینیڈا نے تیار کیا ہے جس میں دس ارب ڈالر کی رقم خرچ کی گئی ہے۔ گذشتہ برس دسمبر میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو خلا میں روانہ کیا گیا جس کے بعد خلا میں کائنات کے نئے اسرار سے پردہ اٹھائے جانے کی امیدیں کی جانے لگی تھیں۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنسی منصوبہ قرار دیا گیا ہے جس کی مدد سے حاصل ہونے والی پہلی رنگین تصویر جاری کی جا چکی ہے۔ اس تصویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کائنات کا اب تک کا سب سے گہرا اور تفصیلی انفراریڈ نظارہ پیش کرتی ہے جس میں کہکشاؤں کی ایسی روشنی دکھائی دیتی ہے جس نے اربوں سال کی مسافت طے کی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن بھی یہ تصویر وائٹ ہاوس میں ایک بریفنگ کے دوران دیکھ چکے ہیں۔ یہ تصویر مذکورہ ٹیلسکوپ سے لی گئیں پانچ تصاویر میں سے ایک ہے جس کی رونمائی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے کی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس موقع پر کہا کہ ’اب ہم وہ ممکنات دیکھ سکتے ہیں جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے، ہم ان مقامات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں آج تک کسی نے رسائی حاصل نہیں کی۔‘

    یہ ٹیلسکوپ گذشتہ برس پچیس دسمبر کو لانچ کیا کیا گیا اور اسے مشہور ہبل ٹیلی سکوپ کا جانشین قرار دیا گیا ہے۔

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے جرمن اخبار”بلڈ: کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ چین کےمون مشن کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بیجنگ چاندپرقبضہ کرکے دنیا پراپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے،

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے دلیل دی کہ چینی خلائی تحقیق ہر ایک کی فکر ہونی چاہیے کیونکہ ایک دن بیجنگ مبینہ طور پر چاند پر اترے گا اور کہے گا کہ "اب یہ ہمارا ہے اور تم دور رہو”۔

    ناسا کے سربراہ اور سابق امریکی سیاست دان نے دعویٰ کیا کہ چینی مون مشن "فوجی” ہوں گے، اور یہ کہ بیجنگ اپنے چاند کے اڈے کو دوسرے ممالک کے مصنوعی سیاروں کو مار گرانے کے لیے استعمال کرے گا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    جہاں نیلسن نے چاند پر متعدد آلات بھیجنے کے بعد خلائی تحقیق میں چین کی مجموعی پیشرفت کی تعریف کی، اس نے فوری طور پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے پیشرفت کو کم کرنے کی کوشش کی کہ یہ ٹیکنالوجی بیجنگ نے مبینہ طور پر دوسرے ممالک سے "چوری” کی ہے۔

    ناسا کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ذہن میں کن ممالک کی ٹیکنالوجی چوری کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی دعوے کی پشت پناہی کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    دوسری طرف چین نے کہا ہے کہ وہ 2025 تک نہ صرف خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس سلسلے میں روس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 2035 تک وہاں قدم جمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کے بھی اسی طرح کے منصوبے ہیں، جن میں قمری اڈے اور زمین کے سیٹلائٹ کے گرد چکر لگانے والا خلائی اسٹیشن دونوں کا قیام شامل ہے۔ مؤخر الذکر کو ایندھن بھرنے اور خلائی جہاز کو مریخ کی طرف بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ناسا کے کراس ہیئرز میں ایک اور منزل ہے۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ظاہری طور پر نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین نے فوجی مقاصد کے لیے قمری سٹیشن کے استعمال کی بات کی ہے، حالانکہ بعض امریکی فوجی منصوبے یہ بتاتے ہیں کہ خلا میں جنگی کوششیں بین الاقوامی معاہدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

  • ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    واشنگٹن: ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی نیئر انفرا ریڈ تصویر کھینچی ہے اس تصویر میں ٹیلی اسکوپ نے معمول سے آٹھ گُنا زیادہ آسمان کے حصے کو عکس بند کیا ہے جس سے ماہرین فلکیات کے لیے نئے دروازے کھولنے کی مدد ملے گی جو جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے لیے ممکنہ اہداف تلاش کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یہ تصویر جو ایک تکنیک کا مظہر ہے، مستقبل میں سائنس دانوں کو دور دراز موجود کہکشاؤں کی تشکیل اور ساخت کو بہتر سمجھنے میں مدد دے گی اور اس کے ساتھ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے لیے نئے اہداف کا تعین کیا جائے گا۔

    یہ تصویر 3D-DASH نامی پروجیکٹ کا نتیجہ ہے اور اسے ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کے وائیڈ فیلڈ کیمرہ 3 (WFC3) نے ہبل کے ایڈوانسڈ کیمرے برائے سروے کے اضافی آرکائیو ڈیٹا کے ساتھ حاصل کیا تھا۔ یہ آسمان کے 1.35 مربع ڈگری پر پھیلا ہوا ہے، جو تقریباً چھ مکمل چاندوں کے برابر ہے، اور اس میں ہزاروں کہکشائیں ہیں۔ اس کا مقصد مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر دوربینوں کے ذریعے مزید مطالعہ کے لائق کہکشاؤں کی شناخت کرنا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ہبل ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کھینچی گئی یہ تصویرMikulski Archive for Space Telescopes سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔ یہ تصویر انتہائی بڑی ہے اور اس کا سائز 19 گِیگا بائیٹس ہے۔

    ٹورنٹو یونیورسٹی کے ڈنلپ انسٹی ٹیوٹ برائے فلکیات اور فلکی طبیعیات کے ماہر فلکیات اور نئی کہکشاؤں کے رہنما لامیا مولا نے کہا،کہ میں دیو ہیکل کہکشاؤں کے بارے میں متجسس ہوں، جو کائنات میں سب سے زیادہ وسیع ہیں جو کہ دوسری کہکشاؤں کے انضمام سے بنتی ہیں۔”-یک بیان میں کہا. "ان کے ڈھانچے کیسے بڑھے، اور کس چیز نے ان کی شکل میں تبدیلیاں لائیں؟ موجودہ تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے ان انتہائی نایاب واقعات کا مطالعہ کرنا مشکل تھا، جس نے اس بڑے سروے کے ڈیزائن کو متحرک کیا۔

    عام طور پر، اتنی بڑی تصویر بنانے کے لیے ہبل کو 2,000 گھنٹے کا مشاہدہ کرنا پڑتا تھا، لیکن مولا کی ٹیم نے ڈرفٹ اینڈ شفٹ (DASH) نامی ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا، جو ایک سے زیادہ شاٹس لیتی ہے اور انہیں ایک ساتھ جوڑ دیتی ہے، جس سے انفرادی تصاویر کو آٹھ گنا بڑی جمع کیا جاتا ہے۔ WFC3 کے عام فیلڈ آف ویو (0.04 x 0.04 ڈگری) سے۔ مزید برآں، ہر بار جب یہ زمین کا چکر لگاتا ہے تو ایک تصویر لینے کے بجائے، ہبل DASH تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آٹھ تصاویر لے سکتا ہے مجموعی طور پر 1,256 انفرادی WFC3 شاٹس کے ساتھ، اس نے پورے موزیک کو مکمل کرنے میں صرف 250 گھنٹے کا مشاہدہ کیا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    تصویر میں زیادہ تر کہکشائیں انفراریڈ روشنی کے دھبوں کے طور پر نظر آتی ہیں۔ سب سے زیادہ دور نظر آتے ہیں جیسا کہ وہ تقریباً 10 بلین سال پہلے موجود تھے، اور ان کے اندر موجود شاندار ستاروں کی شکل والے خطوں کی روشنی کو کائنات کی وسعت سے قریب اورکت طول موجوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آپ ان کہکشاؤں کو 3D-Dash امیج ایکسپلورر سے تصویر کے آن لائن انٹرایکٹو ورژن میں مزید تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔

    بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے ہبل ٹیلی اسکوپ کو استعمال کرتے ہوئے آسمان کے کوسموس فیلڈ نامی خطے کی پہلی تصویر لی۔

    کوسموس فیلڈ آسمان کا وہ علاقہ ہے جو زمین سے دیکھے جانے والے سیکسٹنٹ نامی ستاروں کی جھرمٹ سے دو ڈگری کے زاویے پر موجود ہے اس علاقے کا انتخاب ماہرینِ فلکیات نے اس لیے کیا تاکہ دور دراز موجود، کہکشاؤں سے ماورا خلا کو صاف شفاف دیکھا جاسکے کوموس فیلڈ میں لاکھوں کہکشائیں دیکھی جاسکتی ہیں جن میں سے کچھ 12 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

  • کائنات نقطہ آغاز کی طرف گامزن،حیران کُن معلومات سامنےآگئیں

    کائنات نقطہ آغاز کی طرف گامزن،حیران کُن معلومات سامنےآگئیں

    سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ہونے والے بگ بینگ کے بعد سے پھیل رہی ہے لیکن اسپیس اور ٹائم کے معکوس پھیلاؤ کی وجہ سے اس میں تیزی سے “قابل ذکر” تبدیلی آسکتی ہے اور یہ بڑے سکڑاؤ کی طرف بڑھ رہی ہے جو شاید ایک نیا بگ بینگ ثابت ہو۔

    اس سے پہلے کہ آپ اپنا سامان باندھنا شروع کریں اور نئی کائنات میں منتقل ہونے کے طریقوں کے بارے میں سوچیں، جان لیں کہ جب سائنس دان ان چیزوں کی پیمائش کرتے ہیں تو وہ اسے لاکھوں سالوں کے پیمانے پر کرتے ہیں۔

    سائنسی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق، “کائنات میں توسیع کا خاتمہ حیران کن طور پر جلد ہی ہو سکتا ہے۔”لیکن جلد ہی کا مطلب ہے “اگلے 65 ملین سالوں کے اندر”۔

    محقق پال اسٹین ہارڈ نے لائیو سائنس کو بتایا کہ “65 ملین سال پہلے ہی چکژولب سیارچہ زمین سے ٹکرایا تھا اور روئے زمین پر ڈائنوسارز کے خاتمے کا باعث بنا تھا۔”ان کا کہنا ہے کہ “کائناتی پیمانے پر، 65 ملین سال نمایاں طور پر مختصر ہیں۔”

    سٹین ہارڈ اور ساتھی محققین آندرے کوسمین اور اینا ایجاس کے مقالے کا کہنا ہے کہ ایک بار جب توسیع ختم ہو جائے گی تو کائنات دوبارہ سکڑنا شروع کر دے گی، اور اس میں موجود تمام مادے اور توانائی ایک چھوٹے حجم میں قید ہو جائیں گے۔

    مقالے میں مزید بتایا گیا کہ ہر ستارہ جو ہم رات کے آسمان میں دیکھ سکتے ہیں وہ ایک عظیم بلیک ہول سے ٹکرا جائے گا جس کا افق اربوں نوری سال پر محیط ہے۔

    یہ سب کب ہوگا، اور اگر یہ بالکل ہوگا بھی تو اس کا انحصار اس قوت کی پیمائش پر ہے جسے سائنس دان صرف مدھم انداز میں سمجھتے ہیں۔

    ڈارک انرجی ایک پراسرار قوت کو دیا جانے والا نام ہے جو کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کو کم کرنے کی بجائے وقت کے ساتھ ساتھ تیز تر کر رہی ہے۔

    لیکن نیو جرسی میں پرنسٹن یونیورسٹی میں پرنسٹن سینٹر فار تھیوریٹیکل سائنس کے ڈائریکٹر سٹین ہارڈ کے مطابق، ڈارک انرجی وہ قوت نہیں ہے جس پر سائنس دانوں نے کبھی یقین کیا تھا بلکہ ایک حقیقی مادہ ہے جسے وہ “Quintessence” کہتے ہیں۔

    یہ مادہ زوال پذیر ہوسکتا ہے، کائنات کے پھیلاؤ کے لیے دباؤ کو کمزور کر سکتا ہے اور کشش ثقل کو راستہ دے سکتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے ناقابل یقین حد تک گھنے، اور ناممکن طور پر گرم یکسانیت کی طرف لے جائے گا۔

    کچھ نظریات پیش گوئی کرتے ہیں کہ کائنات کے سکڑنے کے ساتھ ہی وقت پیچھے کی طرف بھاگنا شروع کر سکتا ہے۔

    اگرچہ اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ پیش گوئیاں، جیسا کہ سائنس دانوں کی ایک ٹوٹتی ہوئی کائنات کی پیش گوئی، ممکن ہے کہ بنی نوع انسان کے ڈائنوسار کے راستے پر جانے کے کافی عرصے بعد خالصتاً نظریاتی رہیں۔

  • ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی  ویڈیو جاری کردی

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے مریخ پر سورج گرہن کی مختصر ویڈیو جاری کردی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے مریخ پر سورج گرہن کی جاری کی گئی ویڈیو صرف 49 سیکنڈ کی ہے ور یہ مریخ سے دیکھے جانے والے سورج گرہن کی سب سے پہلی ویڈیو بھی ہے۔


    ناسا کے مطابق مریخ پر بھیجے گئے ’’پرسرویرینس روور‘‘ نے یہ ایچ ڈی ویڈیو 2 اپریل 2022 کے روز اپنے طاقتور ’’ماسٹ کیم زی کیمرا سسٹم‘‘ سے بنائی تھی، جس میں مریخ کے چاند ’’فوبوس‘‘ کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ناسا کے مطابق زمین پر سورج گرہن کے دوران چاند تقریباً مکمل طور پر سورج کو چھپا لیتا ہے اور دن میں بھی رات جیسا منظر ہوجاتا ہے اس کے برعکس، ناسا کی ویڈیو میں مریخی چاند فوبوس کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے ضرور دیکھا جاسکتا ہے لیکن وہ سورج کا معمولی حصہ اپنے پیچھے چھپا سکا ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ فوبوس، ہماری زمین کے چاند سے 157 گنا چھوٹا، یعنی صرف 22 کلومیٹر چوڑا ہے اتنی کم جسامت کی وجہ سے وہ سورج کا چھوٹا سا حصہ ہی اپنے پیچھے چھپا سکتا ہے جبکہ مریخ کا دوسرا چاند ’’ڈیموس‘‘ اس سے بھی چھوٹا ہے، جس کی چوڑائی محض 13 کلومیٹر ہے یہ دونوں چاند ہی بڑے پتھروں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    زمین کا چاند ان دونوں کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑا ہے جس کا قطر 3475 کلومیٹر ہے۔

    واضح رہے کہ ناسا کا ’’پرسرویرینس روور‘‘ اس وقت مریخ پر ایک وسیع گڑھے ’’جزیرو‘‘ میں ایک ایسے مقام پر موجود ہے جہاں سے ارد گرد کے قریبی اور دور دراز کا نظارہ دیکھا جاسکتا ہے پرسرویرینس نے مریخ پر سورج گرہن کا منظر بھی یہیں سے فلم بند کیا ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین نے ستارے پر فوکس کر کے تصویر حاصل کر لی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ تصاویر دس لاکھ میل یعنی 16 لاکھ کلومیٹر کی دوری سے بھیجی گئی ہیں، جن میں دور کہکشاں کا ایک روشن ستارہ سورج کی طرح چمکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے آزمائشی طور پر ایک ستارے کو فوکس کیا تھا اور تصویر کا معیار اُن کی امیدوں سے بھی کہیں زیادہ ہےتاہم ناسا کا کہنا ہے کہ دوربین کو مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال قرار دینے سے پہلے اب بھی بہت کام باقی ہے۔


    ناسا کی خلائی دوربین نے جس ستارے کی تصویر زمین پر بھیجی ہے، وہ اس سے ایک سو گنا زیادہ واضح اور روشن ہے جتنا کہ زمین سے ایک انسانی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے جس ستارے کی تصویر بھیجی گئی ہے وہ زمین سے دو ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    ناسا نے یہ دور بین دسمبر کے آخر میں ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی تھی، جسے دس لاکھ میل کی دوری پر ایک ایسے مقام پر نصب کیا جانا تھا جہاں سے ان کہکشاؤں کے بارے میں تصویری معلومات حاصل کی جا سکیں، جن کے متعلق زمین سےجاننا ممکن نہیں ہے تحقیق کا مقصد کائنات کی تخلیق کے راز سے پردہ اٹھانا ہے اور یہ جاننا ہے کہ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی۔ وہ کتنی وسیع ہے اور اس کی انتہا کیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ ناسا نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی کھینچی گئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی جن میں جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین