وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نےکہا ہے کہ نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود مانیٹر کرتے رہے-
طلال چودھری نے پمز اسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود مانیٹر کرتے رہے جبکہ کنٹرول روم کو اطلاع ملنے کے 6 منٹ بعد تمام ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود تھیں ریسکیو آپریشن کے دوران 19 افراد کو بحفاظت نکالا گیا، جن میں 7 بچے، 10 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں، ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ افسران موقع پر پہنچے جبکہ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر اور آئی جی اسلام آباد بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی میتیں ان کے والدین کے حوالے کر دی گئی ہیں، واقعے کی ابتدائی ریسکیو رپورٹ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو بھجوا دی گئی ہے،وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سزا اور جزا کا عمل شروع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انکوائری میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے، اسپتال میں کتنے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا، فائر سیفٹی کے کیا انتظامات تھے اور ہسپتال میں کہاں کہاں خامیاں موجود تھیں ریسکیو آپریشن میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی، ریسکیو اہلکاروں نے لوگوں کو نکالنے کے لیے دیواریں اور شیشے توڑے جبکہ تین مقامات پر شیشے توڑ کر سیڑھیوں کے ذریعے لوگوں کو ریسکیو کیا گیا،نرسری ایک ایسا کمرہ ہوتا ہے جہاں پیدائش کے بعد انتہائی نگہداشت کے محتاج نومولود بچوں کو رکھا جاتا ہے، اس لیے واقعے کی سنگینی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔