Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • نواز شریف کو عمران کے علاوہ سب سے بات کرنی چاہئے. عطاء تارڑ

    نواز شریف کو عمران کے علاوہ سب سے بات کرنی چاہئے. عطاء تارڑ

    مسلم لیگ (نواز) کے رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو مائنس عمران خان سب سے بات کرنی چاہیئے کیونکہ ایک شخص نے اقتدار کی حوس میں پاکستان کے تعلقات کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچایا سائفر لہرا کے، سی پیک کو رول بیک کردیا، جس نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر آئسولیٹ کردیا، نو مئی کے جو حملے ہیں آپ کی تینوں بہنیں کور کمانڈر ہاؤس کے باہر کھڑی ہیں، آپ کا بھانجا وہاں پر وردی لٹکا کر تقریریں کر رہا ہے، ایک شخص جس نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے، جس نے نیوکلئیر اسٹیٹ کے ایک آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی میں ایک جھوٹ گھڑ کے ایک ملک کو للکارا ہے، میں نہیں سمجھتا اس سے بات کرنی چاہیے.

    جبکہ عطاء اللہ تارڑ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مائنس عمران خان سب سے بات کرنی چاہیے جبکہ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئیر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ آج جو پی ٹی آئی نے جو مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے وہ کئی لحاظ سے اہم ہے، پی ٹی آئی وہ جماعت ہے جس نے مولانا فضل الرحمان پر سب سے زیادہ تنقید کی ہے، اسی طرح ن لیگ اور دیگر کو بھی مثبت رویہ اپنانا چاہیے۔
    عمران خان کی ٹرائل روکنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردی
    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال
    پی ٹی آئی کا اعلیٰ سطحی وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پہنچ گیا
    پیٹرول مہنگا جبکہ ڈیزل سستا ہونے کی توقع مگر کیسے؟
    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ نقصان یہ ہورہا ہے کہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اگر اس سارے عمل (الیکشنز) سے باہر کی جارہی ہے تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

  • العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف  اپیلیں بحال

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال کردی ہیں، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا تا ہم بینچ نے خود فیصلہ نہیں سنایا، عدالتی عملے نے ن لیگی قانونی ٹیم کو آگاہ کیا کہ آپ کی اپیلیں بحال کر دی گئیں ہیں ، جس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے

    نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل خصوصی بینچ سماعت کر رہا ہے،سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وزیر اعظم شہباز شریف دیگر لیگی رہنماؤں کیساتھ کمرہ عدالت میں موجود ہیں،پراسیکیوٹر جنرل نیب احتشام قادر شاہ، نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز روسٹرم پر موجود ہیں،

    نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے پراسیکیوشن جنرل نیب کو کلئیر موقف کا کہا تھا ،پراسیکیوٹر جنرل نیب روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ریفرنس واپس لینے کی گنجائش صرف اس صورت میں ہے جب فیصلہ نہ سنایا گیا ہو، مجھے عدالت نے حکم دیا تھا کہ چیئرمین نیب سے درخواستوں پر رائے لی جائے، ہم نے تفصیل میں نواز شریف کی درخواستوں پر تبادلہ خیال کیا ہے، ہم نے دونوں اپیلوں کے حقائق اور قانون کا مطالعہ کیا ہے، پہلے ایون فیلڈ کیس سے متعلق بتانا چاہتا ہوں، اس اسٹیج پر ریفرنس قانونی طور پر واپس نہیں لے سکتے ، فرد جرم عائد ہونے سے پہلے یا بعد میں ریفرنسز واپس لئے جا سکتے ہیں سزا کے بعد نہیں،نواز شریف نے عدالت میں عبوری ریلیف مانگا گیا اور ہم نے اس سے اتفاق کیا، میڈیا پر ایسا تاثر گیا کہ جیسے نیب نے سرینڈر کر دیا، ایسا نہیں ہے،موجودہ صورتحال میں نواز شریف کے خلاف ریفرنسز واپس نہیں لے سکتے،ایون فیلڈ ریفرنس سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں دائر کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی بھی قائم کی گئی تھی،چیئرمین نیب کی منظوری سے ریفرنسز دائر کیے گئے تھے،احتساب عدالت نے کیسز پر فیصلہ سنایا تو اس کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں، ریفرنسز واپس لینے کی گنجائش ٹرائل کے دوران موجود تھی، پاکستان کے قانون کے مطابق اگر فیصلے کے خلاف اپیل ایڈمٹ ہو جائے تو کیس واپس نہیں ہو سکتا، اگر اپیل دائر ہو جائے تو اس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، عدم پیروی پر بھی خارج نہیں ہو سکتی، اگر ان اپیلوں کو بحال کریں گے تو پھر انہیں میرٹس پر دلائل سن کر فیصلہ کرنا ہو گا، پراسیکیوٹر کی ڈیوٹی ہے کہ وہ اعلی معیار کی پراسیکیوشن کرے،پراسیکیوٹر کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی شہادت ملزم کے حق میں جائے تو اسے بھی نا چھپائے،بطور پراسکیوٹر جنرل میں قانون کے مطابق چیئرمین نیب کو ایڈوائس دینے کا پابند ہوں پراسکیوٹرز نے ریاست کے مفاد کو دیکھنے کے ساتھ انصاف کی فراہمی بھی دیکھنی ہے،اعلی معیار کی پراسکیوشن کرنا پراسکیوٹر کی ڈیوٹی ہے ، پراسکیوٹر کی زمہ داری ہے کہ اگر کوئی شواہد ملزم کے حق میں تو اسے بھی نہ چھپائے،نواز شریف کی دو اپیلیں زیر سماعت تھیں، عدم پیروی پر خارج کی گئیں، اس عدالت نے آبزرو کیا تھا کہ جب اشتہاری سرینڈر کرے اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہو،ملزم قانون میں موجود تمام ریلیف کا حقدار ہوتا ہے اگر وہ قانون کی پاسداری کرے،چیئرمین نیب اور میں متفق ہوں کہ نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے پر اعتراض نہیں ،نیب کا جامع موقف ہے کہ نواز شریف کی اپیلیں بحال کی جائیں،نیب کو نواز شریف کی سزا کیخلاف اپیلیں بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے آپ کو کہا تھا کہ آپ اس متعلق مزید غور بھی کریں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ ججمنٹ کے حق میں دلائل دیں گے؟نیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہم اپیلیں بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے،اپیلیں بحال ہو گئیں تو پھر شواہد کا جائزہ لے کر عدالت میں موقف اختیار کریں گے، ہم دلائل دینگے، کچھ تحفظات ہیں، عدالت اپیلیں سنےتووہ عدالت کےسامنےرکھوں گا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپیلوں کے نتیجے میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی حمایت میں موقف دیں گے؟ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ابھی اپیلوں کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس سے بریت کے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا ہے،عدالت نے کہا نیب کو بارہا مواقع دیے گئے مگر تین مرتبہ وکلا کو تبدیل کیا گیا،عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نیب نواز شریف کا کردار بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا، عدالت نے کہا کہ نیب اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا ہے،عدالت نے قرار دیا کہ نواز شریف کے کردار کا جائزہ لیے بغیر باقی دو ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ ناممکن ہے،عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کردیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی نیب نہیں ہے ، جہاں تک گرل (مریم نواز) کا معاملہ ہے اس کا اس کیس میں کردار نہیں تھا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مریم نواز کا حوالہ دیتے ہوئے گرل کا لفظ استعمال کیا.

    اعظم نذیر تارڑ نے اپیلیں بحال کرنے سے متعلق اعلی عدالتوں کے فیصلے پڑھ کر سنا ئے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے 30 سالہ کیرئیر میں ایسا کوئی کیس نہیں کہ اشتہاری ملزم عدالت میں آ کر کھڑا ہوگیا ہو اور اسکا اسٹیٹس بحال نہ ہوا ہو،جب ملزم عدالت میں آجاتا ہے تو اس کے وارنٹ اسی وقت منسوخ کردیئے جاتے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپکو کیا خدشہ ہے، نیب نواز شریف کو گرفتار ہی نہیں کرنا چاہتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نیب کو نواز شریف کی اپیلیں بحال ہونے پر کوئی اعتراض نہیں؟نیب حکا م نے کہا کہ ہمیں اپیلیں بحال ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا آپ اپیل کنندہ نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اس متعلق میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہمیں گرفتاری نہیں چاہئے، پٹیشنر نے جس لمحے سرینڈر کیا اس نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ سے بطور عدالتی معاون پوچھ رہے ہیں کہ اپیل بحال ہوئی تو ضمانت کا سٹیٹس کیا ہو گا؟ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ آپ اپیل کنندہ سے دوبارہ ضمانتی مچلکے لے لیں،

    نواز شریف کی اپیلیں بحال ہوں گی یا نہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد نواز شریف کمرہ عدالت میں ہی بیٹھے رہے، نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف اور ن لیگی رہنماؤں، قانونی ٹیم سے مشاورت کرتے رہے، اس موقع پر صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ الیکشن کی تاریخ کا مطالبہ کریں گے ؟ نواز شریف نے عدالت کی طرف سے اشارہ کرکے جواب دیا کہ پہلے یہاں سے تو فری ہو جائیں ، صحافی نے سوال کیا کہ قوم کے مجرموں کاحساب ہو گا یا نہیں ؟ نواز شریف نے جواب نہیں دیا اور مسکرا دئیے ،صحافی نے سوال کیا کہ سویلین بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ؟ نواز شریف نے کہا کہ 1947 میں بھی سویلین بالادستی تھی تو ہم آزاد ہوئے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواستوں پر سماعت کا معاملہ،پولیس اور بی ڈی ایس نے کمرہ عدالت کی سکیورٹی کلیئر قرار دے دی،رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری پاسز کے حامل افراد کو کمرہ عدالت کے اندر داخل کردیا گیا،سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کمرہ عدالت پہنچ گئے،سابق وزیر قانون اور نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کمرہ عدالت میں پہنچ گئے،ن لیگی رہنما ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کمرہ عدالت میں پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کا معاملہ ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی نفری تعینات کر دی گئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر 1200 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیںَ,اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر اور احاطہ عدالت میں پولیس و ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں،ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات ہیں ، بغیر کارڈ ہائی کورٹ کے تیسرے فلور پر جانے کی اجازت نہیں ، عدالت کے باہر صرف پولیس اور رینجر اہلکار موجود ہیں ، رجسٹرار آفس نے کمرہ عدالت کے لئے 108 کارڈ جاری کیے نون لیگ کے لیے 54 کارڈ ، کورٹ رپورٹرز کو 30 کارڈ ، لا افسران ، لیگل ٹیم کے لیے 24 کارڈ جاری کئے گئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    دوسری جانب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کئی سیاسی رہنما آئے،چییرمین تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں ملک کی معیشت کا جنازہ نکال دیا، مجھے کسی وزارت کی کوئی خواہش نہیں ،ایک کینڈیڈیٹ کے طور پر انتخابات میں حصہ لوں گا، میرا یہ کہنا آن ریکارڈ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب نواز شریف کی منت ترلے کر کے لایا جائے گا،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے

    نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماوں سے مشاورتی ملاقات کی ہے

    ملاقات میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، اعظم نذیر تارڑ، خواجہ سعد رفیق شریک تھے،مریم اورنگزیب، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عطاء اللہ تارڑ بھی مشاورت میں شریک تھے،مشاورت میں نواز شریف کی قانونی ٹیم بھی شریک تھی،نواز شریف نے قانونی اور سیاسی امور پر رہنماوں سے مشاورت کی،قانونی ٹیم نے اجلاس میں کیسز کی صورتحال پر بریفنگ دی،نواز شریف کی قانونی ٹیم نے کیسز کا فیصلہ میرٹ پر لینے کی ہدایت کی،

    سابق وزیرعظم نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے ۔ نواز شریف نے پارٹی کو ملک بھر میں انتخابی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کر دی ،ن لیگ تمام صوبوں میں جلسے کرے گی ،نواز شریف خطاب کریں گے پنجاب میں نواز شریف اپنی انتخابی مہم کا آغاز قصور میں جلسے سے کریں گے، بلوچستان ،سندھ اور کے پی میں بھی جلسے کیے جائیں گے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کا معاملہ ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی نفری تعینات کر دی گئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر 1200 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیںَ,اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر اور احاطہ عدالت میں پولیس و ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں،ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات ہیں ، بغیر کارڈ ہائی کورٹ کے تیسرے فلور پر جانے کی اجازت نہیں ، عدالت کے باہر صرف پولیس اور رینجر اہلکار موجود ہیں ، رجسٹرار آفس نے کمرہ عدالت کے لئے 108 کارڈ جاری کیے نون لیگ کے لیے 54 کارڈ ، کورٹ رپورٹرز کو 30 کارڈ ، لا افسران ، لیگل ٹیم کے لیے 24 کارڈ جاری کئے گئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    میاں نواز شریف کا قافلہ منسٹر انکلیو پہنچ گیا،میاں نواز شریف قانونی ٹیم کے ساتھ مشاورت کریں گے،میاں نواز شریف کچھ دیر میں ہائیکورٹ پیش ہوں گے،قبل ازیں سابق وزیراعظم نوازشریف مری سے اسلام آباد پھلگراں ٹول پلازہ پہنچے تواسلام آباد پھلگراں ٹول پلازہ پر اسلام آباد پولیس اور اے ٹی ایس کے جوانوں نے نوازشریف کے قافلے کو سکواڈ کرلیا ،جیمر اور ٹریفک پولیس کی گاڑیاں بھی سابق وزیراعظم نوازشریف کے قافلہ میں شامل ہوگئیں

    سابق وزیراعظم نواز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے،مریم نواز، جنید صفدر، دیگر فیملی ممبران بھی نواز شریف کے ہمراہ موجود ہوں گے میاں نواز مری کے راستے ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئےاسلام آباد پہنچیں گے،میاں نواز شریف کی اسلام آباد روانگی کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں،سابق وزیراعظم مری جھنگا گلی سے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں،میاں نواز شریف کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے قبل منسٹر انکلیو جانے کا امکان ہے وہ سابق وزیراعظم منسٹر انکلیو میں اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ٹھہریں گے،نواز شریف منسٹر انکلیو میں قانونی ٹیم سے مشاورت کریں گے

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نواز شریف لاڈلے کے لیے ریلیف اور باقیوں کے لیے سختی،پرویز الہیٰ

    نواز شریف لاڈلے کے لیے ریلیف اور باقیوں کے لیے سختی،پرویز الہیٰ

    صدر تحریک انصاف، سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے عدالت پیشی کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اورشہباز شریف کے لیے ہی سارے ریلیف ہیں ،پانچ ماہ سے ہم ضمانت پر ہیں پھر بھی ہمیں تنگ کیا جا رہا ہے،اسپیشل انصاف کیا صرف شریفوں کے لیے ہے ؟انصاف تو وہ ہے جس کو عوام تسلیم کریں ،ہم نے ہمیشہ اداروں اور عدالتوں کا احترام کیا ہے،شریفوں نے ہمیشہ ججز کے خلاف باتیں کیں، یہ کہاں کا انصاف ہے ،نواز شریف لاڈلے کے لیے ریلیف اور باقیوں کے لیے سختی ہے ،نواز شریف ججز کے خلاف بولتے ہیں کیا جج وہ باتیں بھول گئے ہیں

    پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس،چودھری پرویزالٰہی کو ضلع کچہری میں پیش کردیاگیا، پرویز الہی بھرتیاں کیس کی سماعت ہوئی،پرویز الہی کے وکلانے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی، عدالت میں موقف اپنایا کہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے ،ہائیکورٹ کے حکم کا انتظار کیا جائے ، پرویز الہی کے مرکزی وکیل بھی ہائی کورٹ میں ہیں ،اینٹی کرہشن حکام کی جانب سے کیس کی سماعت شروع کرنے کی استدعا کی گئی، تفتیشی نے استدعا کی کہ عدالت ہمارے دلائل سن لے بعد میں پرویز الہی کے وکلا کو بھی سنا جا سکتا ہے ،مجسٹریٹ نے سماعت ملتوی کر دی

    ‏لاہور ضلع کچہری: شوگر ملز کو کوٹہ دینے کا معاملہ ،چوہدری پرویز الہی کے جسمانی ریمانڈ پر سماعت ہوئی،اینٹی کرپشن کی جانب سے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، وکیل عامر سعید راں نے کہا کہ پورے معاملے سے پرویز الہی کا کوئی تعلق نہیں ،ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے شوگر مل کا کوٹہ بڑھانے پر فیصلہ کیا ،مونس الہی مل کے پارٹنر ہیں اس میں پرویز الہی کا کیا قصور ہے ،بیٹا مل کا شٸیر ہولڈر ہو تو پرویز الہی پر ذمہ داری کس طرح بنتی ہے اینٹی کرپشن نے یہ بتایا ہی نہیں کہ اس پورے معاملے میں پرویز الہی نے کیا کردار ادا کیا ،اینٹی کرپشن یہ بتائے جسمانی ریمانڈ کس جرم کی تفتیش کے لیے مانگ رہی ہے ، یہ جسمانی ریمانڈ کا نہیں بلکہ ڈسچارج کا کیس بنتا ہے ،پرویز الہی کے وکلا اور اینٹی کرپشن کے وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی،عدالت نے شوگر ملز کوٹہ کیس میں جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر لاہور منتقل کیا گیا، ان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کا مقدمہ درج ہے، انہیں ایڈیشنل سیشن کے فیصلے کے مطابق لاہور لایا گیا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • ہمارے وزارت عظمیٰ کے  امیدوار نواز شریف ہی ہیں۔ اسحاق ڈار

    ہمارے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف ہی ہیں۔ اسحاق ڈار

    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ہمارے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف ہی ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ الیکشن جنوری سے آگے جائیں گے جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ نواز شریف کی واپسی سے متعلق عوام کے مثبت جذبات ہیں، سروے بھی ہوا جس میں 80 فیصد عوام نے نواز شریف کی واپسی کو خوش آئند کہا۔

    واضح رہے کہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کہتے ہیں نوازشریف کی ایک دن میں 3 ضمانتیں کیسے ہوگئیں، مخالفین کو بتانا چاہتا ہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ایک دن میں 9 ضمانت ہوئی تھیں جبکہ سیاسی حلیف بھی نواز شریف کو گرفتار نہ کرنے پر اعتراض اٹھا رہے ہیں، 2007 میں بے نظیر بھٹو کو ٹرانزٹ اپیل کے بغیر ضمانت دی گئی تھی، سیاسی حلیف محترمہ کے 2007 کی ضمانت والے کیس کو بھی دیکھ لیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی ایس ایل کا 9 واں ایڈیشن 8 فروری سے 24 مارچ تک منعقد کرانے کا اعلان
    زلفی بخاری کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    بینکوں پر 8 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    تاہم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ کیس میں ثابت ہوچکا ہے کہ کیس غلط بنایا گیا تھا، ایون فیلڈ کیس میں مریم نواز اور صفدر کی بریت سے متعلق فیصلہ آچکا ہے اور نواز شریف کو کوئی غیرمعمولی ریلیف نہیں مل رہا، یہ معمول کی بات ہے، نواز شریف سے متعلق ذمہ داروں کے اعترافی بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں، نوازشریف کی تاحیات نااہلی پر بھی سوالیہ نشان ہے، نااہلی سے متعلق آئین خاموش تھا، پارلیمان نے قانون کی وضاحت کردی۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا نواز شریف کی صحت سے متعلق آئندہ پنجاب حکومت کے پاس جائیں گے، عدالت نے نواز شریف کو علاج کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا تھا، پنجاب میں بزدار کی حکومت تھی، ہم نے درخواست دی تو اسے مسترد کیا گیا، پنجاب حکومت کواب دوبارہ درخواست دی ہے تو نگراں حکومت نے منظور کی۔

  • نوازشریف کی کل  پیشی، اسلام آباد پولیس متحرک ہوگئی

    نوازشریف کی کل پیشی، اسلام آباد پولیس متحرک ہوگئی

    سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کی کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی جبکہ پیشی کے مدنظر سکیورٹی فل پروف بنانے کیلئے اسلام آباد پولیس متحرک ہوگئی ہے اور ڈی آئی جی سکیورٹی اویس احمد نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے.

    خیال رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف کی پیشی کے موقع پر بغیر چیکنگ تین سو سے زائد افراد کمرہ عدالت میں زبردستی داخل ہوئے تھے جبکہ ڈی آئی جی سکیورٹی نے چیف جسٹس کی عدالت کے انٹری پوائنٹس کا بھی جائزہ لیا جبکہ رجسٹرار آفس نے بھی نواز شریف کی پیشی کیلئے سکیورٹی سرکلر جاری کردیا اور سیکیورٹی سرکلرکے مطابق نواز شریف کیس کی سماعت کل 2:30 بجے مقرر ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    بینکوں پر 8 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    واضح رہے کہ کمرہ عدالت میں داخلے کیلئے خصوصی پاسز جاری ہونگے جس میں نواز شریف کی لیگل ٹیم کو 15 افراد کی اجازت ہوگی اور لاء افسران کو 10 پاسز جبکہ صحافیوں کو 30 پاسز جاری کیے جائیں گے علاوہ ازیں اسلام آباد پولیس کی جانب سے پولیس اور ایف سی کی اضافی نفری بھی ہائی کورٹ کے باہر تعینات کی جاہے گی

  • میاں صاحب اچھے برے دن آتے ہیں پھر آپ چیخیں مت مارنا،پیپلز پارٹی

    میاں صاحب اچھے برے دن آتے ہیں پھر آپ چیخیں مت مارنا،پیپلز پارٹی

    پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے قائم مقام صدر رانا فاروق سعید نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے قائد نواز شریف چار سال آرام کے بعد واپس آئے ہیں،ان کا شکریہ ادا کرتے ہے اور ویلکم کرتے ہے ،

    رانا فاروق سعید کا کہنا تھا کہ جس طرح سزا یافتہ مجرم کو پروٹول دیا گیا جس کی مثال نہیں ملتی ،وہ پہلے جیل جاتے خود کو سرینڈر کرتے تو عزت بڑھتی ،نواز شریف پروٹوکول سے ثابت کرنا چاہتے ہے کہ وہ وزیراعظم ہے،وہ نگران حکومت کو ختم کردے اور وزیر اعظم بن جائیں ،افسوس کی بات ہے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا لیکن آنے سے پہلے ہمیں بتایا نہیں گیا ،آپ کسی کے سہارے وزیراعظم بن جائیں گے لیکن عزت نہیں ہوگی،نواز شریف نے الیکشن کا اعلان کیے بغیر تقریر ختم کردی جو افسوس ناک ہے ، نواز شریف ہمیشہ سہاروں سے حکومت میں آئے ، عوام کے ووٹوں سے کبھی نہیں آئے،آپ کو لیول پلینگ فیلڈ مل گئی ، آپ کو سب کے لیے لیول پلینگ فیلڈ ملنی چاہیں میاں صاحب اچھے برے دن آتے ہیں پھر آپ چیخیں مت مارنا،

    رانا فاروق سعید کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو الیکشن سے دور کیا تو عوام نہیں مانے گی ،اقتدار میں سب نواز شریف کے چہیتے بیٹھے ہوئے ہیں،مریم نواز جو کہتی تھی وہ آج لفظ با لفظ پوری ہو رہی ہے،میاں صاحب آپ نےکہا بہت بڑا پلان لے کر آ رہا ہو لیکن آپ کے پاس وہی ٹیم ہے جو پہلے شہباز شریف تھے اب نواز شریف ہے ، وہی اسحاق ڈار ، احسن اقبال خواجہ آصف،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • پیپلز پارٹی سب کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتی ہے،نیئر بخاری

    پیپلز پارٹی سب کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتی ہے،نیئر بخاری

    پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے،

    پی پی رہنما نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ آزادانہ صاف شفاف انتخابات کے زریعے پارلیمانی جمہوری نظام قیام آئینی تقاضہ ہے،پاکستان پیپلز پارٹی حق حکمرانی اختیار دینے والے عوام الناس ہی مقتدرہ درجہ پر یقین رکھتی ہے،ملک مستحکم۔و مضبوط بنانا ہے تو آئین پر من و عن عمل کرنا ہوگا ،پیپلز پارٹی سب کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتی ہے ،لیول پلینگ فیلڈ نہ ملنے سے انتخابی نتائج سوالیہ نشان ہونگے،انتخابی نتائج تسلیم نہ ہوئے تو ملک میں آئینی بحران پیدا ہونے سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا ,

    نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ نگران حکومتیں اور اداروں کی جانب سے مخصوص سہولت کاری کا تاثر زبان زد عام ہے, نگران حکومت پنجاب کس حیثیت میں سزائیں معطل کر رہی ہے , وفاقی اور نگران حکومتیں مخصوص جماعت اور شخصیات کی سہولتکاری اقدامات سے باز رہیں ، کیا کسی ملزم کا لاونچ میں بائیو میٹرک کی سہولت غیر معمولی بات نہیں ہے،

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف

    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

  • العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    احتساب عدالت سے ضمانت مںظور ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    شہباز شریف ، خواجہ آصف سمیت دیگر ن لیگی رہنما بھی اسلام آبا د ہائیکورٹ پہنچ گئے، نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.حنیف عباسی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،نواز شریف کورٹ نمبر ایک میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے،سردار ایاز صادق ،ظفراللہ خان ، حافظ حفیظ الرحمان ،طارق فضل چوہدری ،امیر مقام،دانیال چوہدری،رانا تنویر،عطا تارڑ،سینیٹر افنان اللہ،حنا پرویز بٹ،مریم اورنگزیب ،خواجہ آصف ،اعظم نزیر تارڑ، محسن شاہنواز رانجھا کے ساتھ مسلم لیگ ن کے متعدد رہنما نواز شریف کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھے

    چار سال اشتہاری رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرنڈر کر دیا

    سماعت کا آغاز ہوا تواسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت شروع، یہ کیا ہے ؟،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دو درخواستیں ہیں اپیلیں بحال کرنے کی ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل سے مطمئن نہ ہوئے تو پھر ، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں مطمئن کرونگا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر ہم نیب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی روٹین کا معاملہ نہیں، آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ آپ عدالت سے غیر حاضر کیوں رہے؟ نواز شریف نے جسٹیفائی کرنا ہے کہ کیوں وہ اشتہاری ہوئے؟، وہ عدالت کیوں پیش نہیں ہوتے رہے

    نواز شریف کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر عدالت سے غیر حاضر نہیں ہوئے ، عدالت نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی، میڈیکل رپورٹس جمع کراتے رہے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اوررنگزیب نے نواز شریف کے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات واضح کردوں آپ نے قانون کے مطابق چلنا ہے، کیا ملزم اپنی مرضی سے وطن واپس آ کر اپیلیں بحال کرانے کا کہہ سکتا ہے؟، کیا عدالت اپیلیں بحال کرنے کی پابند ہے؟ اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی معمول کا معاملہ نہیں،اعظم نذیر تارڑ نے استدعا کی کہ یہ فرسٹ امپریشن کا کیس ہے، ہمارے حفاظتی ضمانت کے آرڈر میں کچھ روز کی توسیع کر دیں،پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت کے سامنے پیش ہوئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کے سامنے اقرارکیا کہ نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع پر ہمیں اعتراض نہیں ہے،ہم نے اپیلوں کی بحالی سے متعلق درخواستیں پڑھی ہیں، ہمیں ان درخواستوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے،اگر حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی جائے تو ہمیں اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کیسز میں 5 سال بعد واپس آیا ہوں، سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کیا یہ وہی نیب ہے .آپ کو پتہ ہے عام عوام کا کتنا وقت اس کیس میں لگا ؟،بڑا آسان ہے عدالت میں الزام لگایا جائے ،میں کنفیوژ ہوں کہ کیا یہ وہی نیب ہے؟،2 ہائیکورٹس کے ریٹائرڈ جج اور پوری ریاستی مشینری اس وقت متحرک تھی، اب وہی نیب پیش ہو کر کہہ رہی ہے کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ٹائم اور کیوں ضائع کرتے ہیں، کیا اب نیب یہ کہے گی کہ کرپٹ پریکٹسز کا الزام برقرار ہے، نوازشریف کو چھوڑ دیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب کہاں ہیں ؟،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ وہ ملک میں ہی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر عدالت ضمانت میں توسیع نہیں کرتی تو کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرے گا؟،جس طرح میں نے کہا میں اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں،چیئرمین نیب کے سامنے معاملہ رکھیں، کیوں عوام کا وقت دوبارہ ضائع کر رہے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اگر سمجھتا ہے کہ ریفرنسز غلط دائر ہوئے تو وہ واپس لے لے، اگر نیب نے ریفرنسز واپس لینے ہوں تو کیسے لئے جا سکتے ہیں؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہائے کیا زود پشیماں کا پشیماں ہونا، ایسا نہ کریں، نواز شریف پر بہت سے الزامات لگائے گئے، نواز شریف کو عدلیہ اور آئین سرخرو کرینگے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو بھی تاریخ مقرر کریں گے آپ چیئرمین نیب سے ہدایات لے کر آئیں، آئندہ سماعت پر آپ کلیئر پوزیشن لیں، یہ آپ کے ادارے کےلئے بھی ٹھیک نہیں ، ہمیں واضح بتا دیں تاکہ ہم فیصلہ دے کر کوئی اور کام کریں، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں جواب دیا ،جی سر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا اور کہا کہ ہم پھر پوچھ رہے ہیں کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتا ہے؟ ، کیا حفاظتی ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض ہے،پراسکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ہم گرفتار نہیں کرنا چاہتے، حفاظتی ضمانت میں توسیع پر بھی کوئی اعتراض نہیں،عدالت نے کہا کہ شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دوبارہ پوچھتے ہیں کیا آپ نوازشریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ نہیں، گرفتار نہیں کرنا چاہتے ،

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی، عدالت نے نیب سے جواب طلب کر لیا،نواز شریف کی سزا کیخلاف درخواستیں بحال کرنے کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا گیا،عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی،عدالت نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں جمعرات تک توسیع کردی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 2 دن کی توسیع کی گئی.جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں کو میرٹ پر دیکھیں گے.

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے کمرہ عدالت سے تمام وکلاء لیگی رہنما اور صحافیوں کو باہر نکال دیا گیا،کمرہ عدالت میں کی سیکورٹی کلیرنس کے بعد لوگوں کو دوبارہ اندر آنے کی اجازت دی جائے گی

    نواز شریف کے کیسز پر سماعت مسلم لیگ ن کے وکلا اور رہنماؤں کی وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاخیر کا شکار ہوئی، عدالتی عملے کی جانب سے کمرہ عدالت خالی کرانے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ جب تک کورٹ روم خالی نہیں کریں گے، بم ڈسپوزل سکواڈ سیکورٹی کلیئرنس نہیں کرے گا،صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک نےبھی وکلا سے کمرہ عدالت خالی کرنے کی اپیل کی،عطا تارڑ کی جانب سے بھی وکلا اور ن لیگ رہنماؤں کو سیکورٹی کلیئرنس کے لیے کورٹ روم خالی کرنے کی ہدایت کی گئی،نواز شریف کیس میں مخصوص وکلا اور تیس کورٹ رپورٹرز کو کورٹ روم داخلے کی اجازت ہے

    واضح رہے کہ نواز شریف احتساب عدالت پیشی کے بعد منسٹر انکلیوچلے گئے تھے، نواز شریف احتساب عدالت آئے بھی منسٹر انکلیو سے تھے، وہاں سے پھر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تو انکے ساتھ 18 گاڑیاں تھیں، نواز شریف کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ملی،
    nawaz

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشی کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے نواز شریف کو خصوصی سکیورٹی فراہم کی ہے نوازشریف کی سکیورٹی سکواڈ میں 3 سپیشل پولیس وینز شامل کی گئی ہیں،اے ٹی ایس اہلکاروں کا خصوصی دستہ بھی نواز شریف کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے.

    کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ؟ نواز شریف سے صحافی کا سوال، جواب نہ ملا،گارڈ کے صحافی کو دھکے
    نواز شریف کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر کوریج کرنے والے صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کرنے کی کوشش کی تو انہیں دھکے دیئے گئے، اس ضمن میں صحافی زبیر علی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوال پوچھا کہ کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ہے؟ جنرل باجوہ کا احتساب آپ کریں گے؟ میاں صاحب نے سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن ان کے گارڈز نے دھکے دیے موبائل چھننے کی کوشش کی

    صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ الیکشن میں حصہ لیں گے،جس کے جواب میں نواز شریف مسکرا دیے،صحافی نے سوال کیا کہ ملڑی کورٹس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے؟ نواز شریف نے ججز کی کرسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کورٹ آرہی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: میاں نواز شریف کا مرکزی گیٹ پر کارکنان کی جانب سے استقبال کیا گیا،کارکنان نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،کارکنان کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگائے گئے،کمرہ عدالت کے اندر شدید بد نظمی، وکلاء نے نواز شریف کو گھیر لیا،وکلاء دھکم پیل کرکے زبردستی کمرہ عدالت میں داخل ہوگئے، پولیس کی ایک نہ چلی،کمرہ عدالت کا ڈیکورم شدید متاثر، لیگی وکلاء کمرہ عدالت میں ہی سیلفیاں لینے لگ گئے،لیگی رہنماؤں، وکلاء اور کارکنان کے سامنے اسلام آباد پولیس بے بس ہو گئی.

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، آج 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • شریف برادران کی دکان بند،الیکشن میں لگ پتہ جائیگا، پرویز الہیٰ

    شریف برادران کی دکان بند،الیکشن میں لگ پتہ جائیگا، پرویز الہیٰ

    تحریک انصاف کے صدر، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 21 نومبر تک توسیع کر دی گئی.

    عدالت پیشی کے موقع پر پرویز الہیٰ نے میڈیا سےبات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو نیلسن گوال منڈیلا آیا ہے، یہ پہلے اپنے بھائی سے گیس، بجلی، پٹرول، بے روزگاری اور مہنگائی کا حساب لے، انہیں الیکشن میں پتہ چلے گا کہ عوام کس کے ساتھ ہے،انتخابات میں سب کو برابر موقع نہ ملا تو خدشات پیدا ہوں گے، ہم عدالتوں میں جائیں گے اور انصاف لے کر آئیں گے، لوگوں کی نوکریاں ختم ہو گئی ہیں اساتذہ کو بھی انہوں نے مارنا شروع کر دیا ہے جو یہ کر رہے ہیں اسکا حساب الیکشن میں دینا پڑے گا،سپریم کورٹ کا انتخابات کیس سے متعلق بنچ بننا ملک کیلئے بہتر ہے سپریم کورٹ کی وجہ سے انتخابات کی تاریخ آ جائے گی، الیکشن ان کو سب کے لئے یکساں موقع دینا ہو گا،

    پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ 5ماہ سے جیل کاٹ رہا ہوں، عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوا، اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، فوڈ پوائزنگ ہو گئی تھی، ہاتھ باندھ کر تو الیکشن نہیں ہوں گے، شریفوں کی انتخابات میں دھاندلی کرنا بھول ہے انتخابات میں دھاندلی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،عمران خان کی سیاسی شہرت میں اضافہ ہوا ہے شریف برادران کی دکان بند ہو چکی ہے

    چوہدری پرویز الٰہی آج عدالت پیشی کے دوران انتہائی پر اطمینان دیکھائی دئیے ،پرویز الہیٰ عدالت میں بیٹھ کر ٹیلی فون کالز بھی کرتے رہے، ایسا لگ رہا تھا جیسے پرویز الہیٰ اڈیالہ جیل کی بجائے گھر سے آئے ہوں

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو