Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • نواز شریف کی قیادت میں  ترقی  کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف

    نواز شریف کی قیادت میں ترقی کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف

    مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہےکہ معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام لانا بہت ضروری ہے جسے لانا ہوگا جبکہ معاشی اور سیاسی استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہے جبکہ لاہور میں تاجروں سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاجر کی دکان چلے گی تو پاکستان چلےگا، معیشت مستحکم ہوگی تو ترقی اور خوشحالی آئےگی، وقت کی ضرورت ہے کہ ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام آئے اور ہر روز دھرنوں کی دھمکیاں سمیت نہ جانے کیا کیا زبان استعمال کی گئی تھی، معاشرے میں تقسیم در تقسیم کردی گئی، ملک کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تو تقسیم ختم کرنا ہوگی۔

    علاوہ ازیں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے ریاست بچانے کے لیے سیاست قربان کردی، 16 ماہ میں ریاست کو بچایا اور سیاست کی پروا نہیں کی، اگر ریاست نہ بچتی تو سب کی سیاست دفن ہو جانی تھی، ہم نے نوجوانوں کو ہنرمند بنانا ہے،کلاشنکوف نہیں لیپ ٹاپ دینا ہے، خوش حالی، معاشی انصاف اور غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو نواز شریف کا والہانہ استقبال کرنا ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ترقی وخوش حالی کاسفر 2018 سے شروع کرےگا، نواز شریف نے بیس بیس گھنٹے کے اندھیرے ختم کیے، سی پیک آیا اور تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، نواز شریف کی ترقی کا سفر ختم کیا گیا تو ملک میں اندھیرے اور تباہی ہوئی۔

  • 12 اکتوبر 1999 کا دن نہ ہوتا تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا،رانا ثناء اللہ

    12 اکتوبر 1999 کا دن نہ ہوتا تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا،رانا ثناء اللہ

    فیصل آباد: ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے مسلم لیگ ن کے ڈویژنل تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج تمام افراد کی یہاں موجودگی 21 اکتوبر کے ایونٹ کو کامیاب کرنے کا عزم ہے،

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ 25 سال پہلے 12 اکتوبر 1999 کا دن ایک سیاہ دن تھا،اس دن ایک غیر آئینی مارشل لا مسلط کیا گیا،12 اکتوبر 1999 کا دن نہ ہوتا تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا،12 اکتوبر کا دن نہ ہوتا تو ہم اس معاشی بدحالی کا شکار نہ ہوتے،16 ماہ میں سے 11 ماہ آئی ایم ایف کو مناتے گزرے، اس وقت کی حکومت اور وزیر اعظم نے یہ حرکت کی جس کا خمیازہ ہم نے بھگتا، آئی ایم ایف سے قسط جاری کرنے کا کہا تو جواب ملا آپ نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی، پاکستان کو ایک ایڈونچر سے گزارا گیا، ایک شخص جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ پہنچا مگر اپوزیشن سے بات تک نہ کی، اپوزیشن نے چئیرمین پی ٹی آئی کو بطور وزیر اعظم مل بیٹھنے کا کہا، شہباز شریف نے کہا تھا آپ جیسے بھی ہیں آئیں چارٹر آف اکانومی پر مل بیٹھیں ، اس شخص نے بات سننے کی بجائے گالیاں دیں اور کہا میں انکو نہیں چھوڑوں گا، دوسری جماعتوں کے پاس کوئی اور آپشن ہے تو بتایا جائے، نواز شریف ملک کیلئے امید بن کر آرہا ہے دیگر جماعتوں کو ساتھ دینا چاہئے.

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بطور سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لینے کا حامی ہوں، لیکن وہ جتھہ جس نے دفاعی تنصیبات کو نقصان پہنچایا اور شہدا کی بے حرمتی کی انہیں سزا بھگتنا ہو گی، کسی کو بد ترین جرم سے اسلئے بری نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے الیکشن لڑنا ہے.

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • نواز شریف کی تصاویر والے پوسٹرپھاڑنے پر پولیس کا اساتذہ وطلبا پر لاٹھی چارج،فائرنگ،کئی گرفتار

    نواز شریف کی تصاویر والے پوسٹرپھاڑنے پر پولیس کا اساتذہ وطلبا پر لاٹھی چارج،فائرنگ،کئی گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف 21 اکتوبرکو پاکستان واپس آ رہے ہیں،نواز شریف لندن سے سعودی عرب پہنچے ہیں جہاں سے وہ یو اے ای آئیں گے اور 21 اکتوبر کو لاہور پہنچیں گے، لاہور میں مینار پاکستان پر نواز شریف جلسہ سے خطاب کریں گے

    نواز شریف کے بھر پور استقبال کی تیاریاں جاری ہیں، مریم نواز روزانہ کی بنیاد پر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ استقبال کی تیاریوں کے حوالہ سے اجلاس کر رہی ہیں، ن لیگ کی کوشش ہے کہ مینار پاکستان کو بھرا جائے،اورشاندار استقبال کیا جائے،پنجاب کےتمام اضلاع میں ن لیگ کی کارنر میٹنگز ہو رہی ہے،ضلعی و تحصیلی عہدیداران کو 21 اکتوبرکو مینار پاکستان بندے لانے کے لئے ٹاسک مل گیا ہے،

    وہیں پنجاب کے شہر فیصل آباد میں نواز شریف کے خلاف آج جمعرات کو سکول کے طلبا نے احتجاج کیا تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد طلبا کی دوڑیں لگ گئیں، ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں مصطفیٰ گجر نامی صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ اساتذہ پر ہوائی فائرنگ کی گئی اور طلبا کو گرفتارکیا گیا، نہتے طلبا پر فائرنگ کی گئی، ویڈیو میں طلبا کو بھاگتے دیکھا جا سکتاہے

    مصطفیٰ نامی صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد گورنمنٹ کالج سکول کے بچے احتجاج کر رہے ہیں اور ان پر ہوائی فائرنگ ہو رہی ہے لاٹھی چارج ہو رہی ہے اور ان کو گرفتار کیا جا رہا ہے وہ بچے نواز شریف کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اب نواز شریف بھی کوئی ادارہ ہے جن کی بیحرمتی ہو جائے گی

    باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں اساتذہ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کر رہے ہیں، اسی احتجاج کے دوران نواز شریف کے بینرز سامنے آئے تو احتجاج کے شرکا نے بینر پھاڑے، ان پر نواز شریف کی تصاویر لگی ہوئی تھیں،جس کے بعد پولیس نے اساتذہ و طلبا پر لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ کی،واقعہ سمندری روڈ پر پیش آیا،پولیس نے اساتذہ کو بھی گرفتار کیا ہے، پولیس نے خواتین اساتذہ کو بھی گرفتار کیا ہے،سکول کے ٹیچروں کا کہنا ہے سرکاری سکول پرائیویٹ نہ کریں بچوں کی پڑھائی میں اثر پڑے گا.پنجاب حکومت نے پنجاب کے کئی سکولوں کو پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اساتذہ نے پنجاب بھر میں احتجاج شروع کر رکھا ہے،

    فیصل آباد میں چوہدری صفدر مرکزی صدر پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن پنجاب سمیت درجنوں اساتذہ گرفتار کر لئے گئے ہیں،

    پنجاب کے شہر راولپنڈی میں بھی سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اساتذہ سڑکوں پر نکل آئے ،نجکاری کے خلاف اساتذہ نےسی ای او ایجوکیشن کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھا رکھے ہیں،مظاہرین کی جانب سے ظالمانہ اقدامات کے خلاف حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کسی صورت قابل قبول نہیں،پنجاب حکومت کو نجکاری فیصلہ واپس لینے کے لیے 9 اکتوبر تک ڈیڈ لائن دی تھی،سرکاری تعلیمی اداروں میں ہونے والی بندش کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہو گی،حکومت لیوانکیشمنٹ اور پینشن ترامیم کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے،

  • نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    جدہ:سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف وطن پاکستان واپسی کے لیے لندن سے سعودی عرب پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق نوازشریف ساتھیوں کے ہمراہ ہیتھرو ائیرپورٹ سے سعودی ائیرلائن کی پروازایس وی 116 سے جدہ پہنچےوہ بوئنگ 787 ڈریم لائنرمیں سوارتھےجدہ روانگی سے قبل لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد نے نوازشریف کو الوداع کہا۔

    لیگی ذرائع کے مطابق سعودی ائر لائن کی پرواز 4 ہزار 750 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرکے 5 گھنٹے 27 منٹ میں رات 12بجے جدہ انٹرنیشنل ائرپورٹ پہنچی جدہ پہنچنے پر ائرپورٹ پرنوازشریف کا والہانہ استقبال کیا گیا۔

    ملک میں مزید بارشوں اور برفباری کا امکان

    سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے نواز شریف 17 یا 18 اکتوبر کو دبئی پہنچیں گے اور وہاں 3 دن قیام کے بعد 21 اکتوبر کو لاہور کے لیے روانہ ہوں گے جبکہ ان کی دبئی میں بھی متعدد ملاقاتیں طے ہیں نوازشریف کے پاکستان آنے کے لیے دبئی سے اسپیشل طیارہ بُک کروا لیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق نواز شریف جس خصوصی پرواز سے پاکستان پہنچیں گے اسے ’امیدِ پاکستان‘ کا نام دیا جائے گا۔

    میانوالی: گاڑی نہر میں گرنے سے 7 افراد جاں بحق

    نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان جانے کے لیے دبئی سے لیگی کارکنوں اور صحافیوں کے ساتھ روانہ ہوں گے،یہ خصوصی پرواز دبئی سے اسلام آباد پہنچ کر آدھے گھنٹے بعد لاہور کے لیے اڑان بھرے گی۔

  • نواز شریف  نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا.  ماہر قانون کا دعویٰ

    نواز شریف نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا. ماہر قانون کا دعویٰ

    ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کے فیصلے کی اہم بات یہ ہے کہ آٹھ سات کی اکثریت سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ماضی میں جو آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت جو فیصلے ہوچکے ہیں، جن میں میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ بھی شامل ہے، ان فیصلوں کے خلاف اپیل نہیں ہوسکے گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ قانون بنایا تھا اس کے پیچھے یہی محرک تھا کہ ماضی میں جو فیصلے ہوئے ان کے خلاف اپیل کی جائے تاکہ میں نواز شریف اپنی نااہلی کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کرسکیں، لیکن وہ دروازہ آج بند ہوگیا۔

    واضح رہے کہ انہوں نے نظرثانی اور اپیل کے حق میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی ایک محدود اپیل ہوتی ہے جس میں آپ کو بتانا ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہوا ہے اس میں فاش غلطی کیا ہے اور سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج کے فیصلے کے بعد 184/3 کے فیصلے کے خلاف اپیل حق مل گیا ہے، آئندہ جو 184/3 کا فیصلہ ہوگا اس کے خلاف اپیل ہوسکے گی، اپیل میں آپ نئے سرے سے پورا کیس بحث کرسکتے ہیں، اس لیے اپیل ایک زیادہ مضبوط اور مستحکم علاج ہے، علاوہ ازیں اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ جمع کرائے جانے کے باوجود سویلینز کے ملٹری ٹرائل شروع ہونے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی اور حکم عدولی ہے، ہم نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے، سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا گیا ہے ان کے حکم کے باوجود ٹرائل شروع کردیا گیا ہے، اٹارنی جنرل کا بھی خط لکھا جارہا ہے کہ انہوں نے عدالت کے سامنے واضح بیان دیا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا، ان کے بیان کی بھی نفی کی جارہی ہے، ان پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بیان اور عدالت کے فیصلے کی حرمت کو قائم رکھیں۔

    واضح رہے کہ سینئیر ماہر قانون وسیم سجاد نے کہا کہ اس فیصلے کا سیاسی اثر یہ ہوگا کہ جو بھی 184/3 کے تحت لوگ نااہل ہوئے نمایاں طور پر نواز شریف اور جہانگیر ترین، ان کا خیال تھا کہ انہیں اپیل کا حق مل جائے گا، گو کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں مانا۔ لیکن اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کرکے یہ کہا تھا کہ تاحیات نااہلیت کی حتمی مدت پانچ سال ہوگی، جو قانون بن گیا ہے۔ تو جہاں تک قانون کا تعلق ہے نااہلیت پانچ سال بعد ختم ہوچکی ہے، اور انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین جب اپنے پیپرز فائل کریں گے تو ہوسکتا ہے اعتراض کیا جائے کہ یہ قانون غلط ہے اور آئین کے خلاف ہے تو یہ معاملہ دوبارہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں جائے گا کہ کیا الیکشن ایکٹ 2017 میں کی گئی ترمیم درست ہے یا نہیں، آئندہ یہ سوال اٹھے گا اور اس کے سیاسی اثرات ہوں گے۔

    علاوہ ازیں وسیم سجاد نے کہا کہ میرے خیال میں نواز شریف کی نااہلیت کا معاملہ ریٹرننگ افسر کے سامنے اٹھے گا اور اس کے پاس کوئی جواز نہیں ہوگا یہ کہنے کا کہ میں قانون کو نہیں مانتا، وہ تو کہے گا کہ نااہلیت 5 سال کی ہے، لیکن اس کو چیلنج کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک پیغام آتا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم ہے، اس فیصلے کا سیاق و سباق یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو آرٹیکل 191 کے تحت رول بنانے کی پاور دی گئی ہے، اسی آرٹیکل میں لکھا ہے ’This is subject to law‘ (یہ قانون کے تابع ہے)، تو سپریم کورٹ کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا لاء کا مطلب یہ ہے کہ جو رولز بن گئے ہیں اس میں مداخلت ہوسکتی ہے اور رائٹ آف اپیل یا تین ممبرز کا جو بینچ بنا ہے یہ ہوسکتا ہے، یا لاء کو ہم محدود کریں اور اس کو اتنا وسیع نہ کریں کہ یہ سپریم کورٹ کے پہلے سے بنے ہوئے رولز میں مداخلت کرسکے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟
    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری

    جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ سویلنز کا ٹرائل آرمی ایکٹ میں ترمیم کے تحت کیا جارہا ہے جس کو چیلنج کیا گیا ہے، اس ضمن میں اٹارنی جنرل نے بیان دیا تھا کہ ہم کوئی ٹرائل شروع نہیں کریں گے، تو بادی النظر میں یہ سپریم کورٹ کی توہین ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل شعیب شاہین نے بھی اپنئے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا تھا یہ قانون تو بہتر ہے لیکن اس میں دو چیزیں غلط ہیں، ایک تو یہ کہ اپیل کا حق جو آپ دے رہے ہیں اس کو آئینی ترمیم کے زریعے دے سکتے ہیں، اور دوسرا ہمارا سوال یہ تھا کہ ماضی کے فیصلوں پر اس کا اطلاق نہیں کرسکتے۔ تیسرا ہمیں اعتراض یہ تھا کہ اگر آپ نے تین ججز کی کانسٹیٹیوشنل بینچ بھی کرنی ہے تو وہ بھی آئین میں ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئین اور اداروں کی خالق پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ کے فیصلوں میں عوام کی مرضی شامل ہے کیونکہ اس میں عوام کے نمائندے شامل ہیں، اور عوام کا فیصلہ ہر ایک نے ماننا ہے، لیکن یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ کیا وہ اپنی ذاتیات سے بالاتر ہوکر واقعی عوام کی مرضی اور صدق دل کے ساتھ قانون سازی کرتے ہیں یا نہیں۔

  • کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    عدالت عظمیٰ نے تاریخی ججمنٹ دے دی ہے یہ کہنا ہے اینکر پرسن مبشر لقمان کا انہوں نے مزید کہا کہ آج جو تاریخی فیصلہ ہوا اس کے مطابق عدالت نے کہہ دیا ہے میاں نواز شریف کے پاس رائیٹ ٹو اپیل کا حق ختم ہوگیا ہے، علاوہ ازیں انہوں نےقانون کے ماہر حسن رضا پاشا سے سوال کیا کہ کیا اب نواز شریف الیکشن لڑ پائیں گے یا پھر وہ تاحیات جیل میں ہی رہیں گے؟


    نااہل ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسن رضا پاشا نے کہا کہ ترمیم ہوگئی ہے الیکشن ایکٹ میں جس کے تحت اب نااہلی کا دورانیہ پانچ سال ہے اس پر مبشر لقمان نے کہا کہ الیکشن ایکٹ تو ٹو تھرڈ کے حساب سے پاس نہیں ہوا کیا وہ عدالت عظمیٰ کی ججمنٹ کے اوپر لاگو ہوگا؟ اس پر وکیل نے کہا ارٹیکل 6، 1، 2 ایف میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہے نااہلی پانچ سال کیلئے ہوگی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
    علاوہ ازیں انہوں نے نواز شریف کے پاس حق ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں، جبکہ میاں نواز شریف کو جیل جانا پڑے گا کیونکہ وہ سزا کے دوران گئے تھے علاوہ ازیں اینکر پرسن نے کہا کہ لگتا ہے کہ نواز ڈیل کرکے آرہے جبکہ اگر عدالت انہیں یہ سہولت فراہم کردے کہ ہم ان کے گھر کو سب جیل قرار دے رہیں تو پھر ایسا تو عمران خان سمیت دوسرے لوگ جو قید ہیں‌کو بھی حق ملنا چاہئے.

    وکیل نے کہا کہ یہ پاکستان ہی ہے کہ سزایافتہ شخص کو باہر ملک بھیج دیا گیا اور آج وہ چار سال بعد واپس آنے کی اپنی مرضی سے تیاری کررہے ہیں جبکہ یہ عدلیہ پر بھی سوال ہے کہ وہ اب تک وہ واپس کیوں نہ آئے.

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ  فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا.  شہباز شریف

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف

    سابق وزیر اعظم اور نواز شریف کے بھائی شہبازشریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر دیے جانے والے فیصلے کا قائد نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس ( ٹوئٹر ) پر جاری کیے گئے پیغام میں مسلم لیگ نواز کے صدر شہبازشریف نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند قدم ہے۔


    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف خود سپریم کورٹ کے کام کو جمہوری بناتا ہے بلکہ پارلیمنٹ کا بھی احترام کرتا ہے جو پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ یہ بتانا ضروری ہے کہ قانونی ماہرین کے مطابق ماضی کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں سے متعلق زیر بحث مخصوص شق کا میاں نواز شریف پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

    دوسری جانب پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آگیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے باب میں عدالتِ عظمیٰ سے سیاسی امیدیں لگانے والے گروہ کے حصّے میں مایوسی آئی ہے، این آر اوز کی چھتری تلے سیاست کے خواب دیکھنے والے بھگوڑے مجرم کے لیے پاکستان واپسی کے اعلان سے پلٹنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔


    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے قانون کا گزشتہ ادوار پر نفاذ روک کر بھگوڑے مجرم کی نااہلیت اور سزا پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے، تاحیات نااہلی کی اطلاع پاکر پھر سے پلیٹ لیٹس میں حد درجہ گراوٹ کے امکانات ہیں جبکہ ترجمان پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے بعد صادق و امین عمران خان کے خلاف سازشوں کے امکانات بھی دم توڑ گئے، آج کے فیصلے کے بعد جعلی اور جھوٹے مقدمات چیئرمین عمران خان کو دیے گئے صداقت و امانت کے سرٹیفکیٹ پر کسی طور اثرانداز نہیں ہوسکتے، آج کے فیصلے کے بعد دستور کے آرٹیکل 189 کے تحت عدالتِ عالیہ بھی 3 سینئر ججوں پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے بینچز کی تشکیل اور مقدمات کی تقسیم کی پابند ہوگی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
    ترجمان نے یہ بھی کہا کہ آج کے فیصلے کے بعد بادی النظر میں ہائیکورٹ میں بھی مقدمات کو چیف جسٹس کے ہاں جمع کرنے کی بجائے دیگر ججز/ بینچز کو منتقل کرنا لازم ہوگا، آج کے اکثریتی فیصلے کے جامع تجزیے کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔

  • نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو  وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس فیصلہ بارے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ یہ درست سمت میں ایک قدم ہے، یہ فیصلہ پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے اہم ہے، پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے اور پارلیمان کے اس حق کو تسلیم کرنا خوش آئند بات ہے، جہاں تک تشریح کی بات ہے تو سپریم کورٹ بالادست ہے وہ تشریح کرے۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ بادی النظر میں دیکھا جائے تو اپیل کا حق نہ ہونا بہت بڑی ناانصافی ہے۔ سپریم کورٹ نے بہت سی چیزوں میں سمت کو درست کرنا ہے۔

    جبکہ ملک احمد خاں کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ میں تقسیم ایسے ہی چلتی رہتی ہے تو یہ بڑا نقصان ہے، سپریم کورٹ میں تقسیم سے نقصان ہوتا ہے، ماضی میں بینچ سے پتا چل جاتا تھا کہ فیصلہ کیا ہوگا، یہ ایک بڑا غلط تشخص تھا یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہئیں علاوہ ازیں ملک احمد خان نے کہا کہ نواز شریف صاحب کی 5 سال کی نااہلیت والی سزا کا تعین پارلیمان کرچکی ہے، سزا معطلی پر وکلاء دیکھیں گے کہ اس پر کوئی صورت ہوئی اور میاں صاحب کو ریلیف درکار ہوا اور ضرورت پوئی کہ نظر ثانی میں لے کر جائیں تو ضرور لے کر جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی

    علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی بالادستی کی توثیق کی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سارے ادارے اسی طرح اپنے اپنے کام کریں تو ملک ترقی کی طرف جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ون مین شو ختم ہوگیا ہے، اب فرمائشی پروگرام نہیں چل سکے گا۔ اب ایک مشترکہ سوچ بیٹھ کر فیصلہ کرے گی۔ جبکہ ایک سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو شاید وہ واپس نہیں آئیں گے اور یہ عدلیہ کیلئے بہت بڑا امتحان ہوگا۔ اگر عدالت کہتی ہے کہ پہلے وہ گرفتار ہوں، پھر ضمانت لیں اور پھر جلسہ ہوگا تو پھر 21 کو جلسہ تو نہیں ہوگا۔

  • نواز شریف سے ائیرپورٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

    نواز شریف سے ائیرپورٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

    پاکستان واپسی کیلئے ائیرپورٹ پر سابق وزیر اعظم نواز شریف سے پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی ملاقات ہوئی ہے جس میں اچھا سا بیانیہ دینے کا مشورہ دیا جارہا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو شریف فیملی کیطرف سے خود لیک کی گئی ہے، اس ویڈیو میں پاکستانی ہائی کمیشنر ڈاکٹر محمد فیصل پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آرہے ہیں .


    لیک ویڈیو کو سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ؛ "پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل نے سزا یافتہ شخص یعنی میاں نواز شریف کو الوداع کہنے کے لیے ایئرپورٹ پر چھوڑا جبکہ اب کیا کوئی جو اس ڈیل پر سوال کرسکےِ؟ انہوں نے مزید لکھا کہ وہ سزا یافتہ شخص کو ایک بیانیہ کے بارے میں بھی مشورہ دے رہے ہیں!
    https://.twitter.com/BaaghiTV/status/1712137757899034985
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی

    دوسری جانب بہت سارے باخبر صحافی دعویٰ کررہے ہیں میاں نواز شریف کسی ڈیل کے تحت وطن واپس آرہے ہیں لیکن ادھر مسلم لیگ نواز کا بیانیہ ہے کہ نواز شریف کسی کی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے، تاہم واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم نواز شریف جنرل فیض حمید کے احتساب کی بات کی تھی لیکن بعدازاں ان کی جماعت اس پر بھی صفایاں دیتی رہی کہ ان کا مقصد انتقام نہیں ہے.

  • عام انتخابات میں تاخیر ہونی چاہئے،مولانا فضل الرحمان کی شہبازشریف سے ملاقات

    عام انتخابات میں تاخیر ہونی چاہئے،مولانا فضل الرحمان کی شہبازشریف سے ملاقات

    لاہور:سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی ہے

    دونوں رہنماﺅں نے مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر مرکزی ترجمان جے یو آئی محمد اسلم غوری، احسن اقبال اور ایاز صادق موجود تھے،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا، اسرائیل فلسطین تنازع اور اس کے بعد کی عالمی صورتحال بھی زیربحث آئی،مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف کو عام انتخابات میں تاخیر کرنے کے اپنے مطالبے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا،

    نوازشریف کی وطن واپسی پاکستان کے لئے اچھی خبر ہے، مولانا فضل الرحمن
    ن لیگ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق دونوں قائدین نے مشاورت اور اشتراک عمل سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا،دونوں قائدین نے اتفاق کیا کہ بحرانوں کو مل کر ہی نمٹا جاسکتا ہے، شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 16 میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں آپ نے بھرپور تعاون کیا،تمام جماعتوں نے 16 ماہ میں سیاست کا نہیں صرف ریاست بچانے کا سوچا،پاکستان کو اتحاد، مشاورت اور اشتراک عمل ہی بحرانوں سے نکال سکتا ہے، قائد نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد سیاسی وجمہوری نظام مضبوط ہوگا،مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی وطن واپسی پاکستان کے لئے اچھی خبر ہے، سچ بے نقاب ہوچکا ہے کہ نوازشریف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،نوازشریف اور ان کے خاندان کو ناحق ستایا گیا، یہ تاریخ کا سیاہ اور افسوسناک باب رہے گا.نوازشریف نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کیا لیکن نوازشریف کو ہی سیاسی نظام سے باہر کردیاگیا، سیاسی رہنماﺅں کو ناحق چور ڈاکو کہنا سیاسی انجینئرنگ کا کھیل تھا،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سردی کی شدت کی وجہ سے ووٹنگ کی شرح کم ہو گی، اسلئے الیکشن جنوری میں نہیں ہونے چاہئے، ملکی حالات بھی ایسے بن چکے ہیں، آئے دن بم دھماکے اور پاکستان کی معیشت، سب کو مدنظر رکھ کر الیکشن کروائے جانے چاہئے،

    قبل از یں سربراہ میاں نواز شریف استقبالیہ کیمٹی سندھ بشیر میمن کا کہنا تھا کہ نواز شریف روزگار کی فراہمی کو بہتر کریں گے، پاکستان کی معیشت کو اپنی ڈگر پر لائیں گے، میں سربراہ ہوں پر محمد زبیر کی ہدایت پر کام کرتا ہوں،پاکستان کا مقدمہ ایک ہی ہے کہ ووٹ کو عزت دو، پانامہ کے بعد معیشت بدتر ہوگئی، میاں صاحب کے پاس ڈیلیور کرنے کی ایک میراث ہے، اُنہیں ایک بار پھر خدمات کرنے کا موقع ملے گا، ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف 21 اکتوبر کو۔پاکستاں آرہے ہیں، یہ پاکستان کیلئے بڑا پروگرام ہے ،میاں نواز شریف وکلا تحریک میں سب سے آگے تھے ،میاں نواز شریف کی وجہ سے معزول چیف جسٹس بحال ہوئے تھے ، میاں محمد نواز شریف کا آمد بہت اہمیت والا ہے ،آج یہاں بجلی نہیں ہے لیکن میان نواز شریف بجلی دیکر گئے تھے ،میاں محمد نواز شریف سمجھتا ہے کہ عام پاکستانی کے مسائل کیا ہیں، سندھ میں 15 سال سے ایک حکومت رہی ہے ،15 سال میں تو دنیا ہی بدل جاتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ میاں کے آمد میں سب سے پہلے وکلا ہوں،

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔