Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • نواز شریف  نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا.  ماہر قانون کا دعویٰ

    نواز شریف نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا. ماہر قانون کا دعویٰ

    ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کے فیصلے کی اہم بات یہ ہے کہ آٹھ سات کی اکثریت سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ماضی میں جو آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت جو فیصلے ہوچکے ہیں، جن میں میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ بھی شامل ہے، ان فیصلوں کے خلاف اپیل نہیں ہوسکے گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ قانون بنایا تھا اس کے پیچھے یہی محرک تھا کہ ماضی میں جو فیصلے ہوئے ان کے خلاف اپیل کی جائے تاکہ میں نواز شریف اپنی نااہلی کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کرسکیں، لیکن وہ دروازہ آج بند ہوگیا۔

    واضح رہے کہ انہوں نے نظرثانی اور اپیل کے حق میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی ایک محدود اپیل ہوتی ہے جس میں آپ کو بتانا ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہوا ہے اس میں فاش غلطی کیا ہے اور سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج کے فیصلے کے بعد 184/3 کے فیصلے کے خلاف اپیل حق مل گیا ہے، آئندہ جو 184/3 کا فیصلہ ہوگا اس کے خلاف اپیل ہوسکے گی، اپیل میں آپ نئے سرے سے پورا کیس بحث کرسکتے ہیں، اس لیے اپیل ایک زیادہ مضبوط اور مستحکم علاج ہے، علاوہ ازیں اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ جمع کرائے جانے کے باوجود سویلینز کے ملٹری ٹرائل شروع ہونے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی اور حکم عدولی ہے، ہم نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے، سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا گیا ہے ان کے حکم کے باوجود ٹرائل شروع کردیا گیا ہے، اٹارنی جنرل کا بھی خط لکھا جارہا ہے کہ انہوں نے عدالت کے سامنے واضح بیان دیا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا، ان کے بیان کی بھی نفی کی جارہی ہے، ان پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بیان اور عدالت کے فیصلے کی حرمت کو قائم رکھیں۔

    واضح رہے کہ سینئیر ماہر قانون وسیم سجاد نے کہا کہ اس فیصلے کا سیاسی اثر یہ ہوگا کہ جو بھی 184/3 کے تحت لوگ نااہل ہوئے نمایاں طور پر نواز شریف اور جہانگیر ترین، ان کا خیال تھا کہ انہیں اپیل کا حق مل جائے گا، گو کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں مانا۔ لیکن اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کرکے یہ کہا تھا کہ تاحیات نااہلیت کی حتمی مدت پانچ سال ہوگی، جو قانون بن گیا ہے۔ تو جہاں تک قانون کا تعلق ہے نااہلیت پانچ سال بعد ختم ہوچکی ہے، اور انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین جب اپنے پیپرز فائل کریں گے تو ہوسکتا ہے اعتراض کیا جائے کہ یہ قانون غلط ہے اور آئین کے خلاف ہے تو یہ معاملہ دوبارہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں جائے گا کہ کیا الیکشن ایکٹ 2017 میں کی گئی ترمیم درست ہے یا نہیں، آئندہ یہ سوال اٹھے گا اور اس کے سیاسی اثرات ہوں گے۔

    علاوہ ازیں وسیم سجاد نے کہا کہ میرے خیال میں نواز شریف کی نااہلیت کا معاملہ ریٹرننگ افسر کے سامنے اٹھے گا اور اس کے پاس کوئی جواز نہیں ہوگا یہ کہنے کا کہ میں قانون کو نہیں مانتا، وہ تو کہے گا کہ نااہلیت 5 سال کی ہے، لیکن اس کو چیلنج کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک پیغام آتا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم ہے، اس فیصلے کا سیاق و سباق یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو آرٹیکل 191 کے تحت رول بنانے کی پاور دی گئی ہے، اسی آرٹیکل میں لکھا ہے ’This is subject to law‘ (یہ قانون کے تابع ہے)، تو سپریم کورٹ کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا لاء کا مطلب یہ ہے کہ جو رولز بن گئے ہیں اس میں مداخلت ہوسکتی ہے اور رائٹ آف اپیل یا تین ممبرز کا جو بینچ بنا ہے یہ ہوسکتا ہے، یا لاء کو ہم محدود کریں اور اس کو اتنا وسیع نہ کریں کہ یہ سپریم کورٹ کے پہلے سے بنے ہوئے رولز میں مداخلت کرسکے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟
    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری

    جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ سویلنز کا ٹرائل آرمی ایکٹ میں ترمیم کے تحت کیا جارہا ہے جس کو چیلنج کیا گیا ہے، اس ضمن میں اٹارنی جنرل نے بیان دیا تھا کہ ہم کوئی ٹرائل شروع نہیں کریں گے، تو بادی النظر میں یہ سپریم کورٹ کی توہین ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل شعیب شاہین نے بھی اپنئے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا تھا یہ قانون تو بہتر ہے لیکن اس میں دو چیزیں غلط ہیں، ایک تو یہ کہ اپیل کا حق جو آپ دے رہے ہیں اس کو آئینی ترمیم کے زریعے دے سکتے ہیں، اور دوسرا ہمارا سوال یہ تھا کہ ماضی کے فیصلوں پر اس کا اطلاق نہیں کرسکتے۔ تیسرا ہمیں اعتراض یہ تھا کہ اگر آپ نے تین ججز کی کانسٹیٹیوشنل بینچ بھی کرنی ہے تو وہ بھی آئین میں ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئین اور اداروں کی خالق پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ کے فیصلوں میں عوام کی مرضی شامل ہے کیونکہ اس میں عوام کے نمائندے شامل ہیں، اور عوام کا فیصلہ ہر ایک نے ماننا ہے، لیکن یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ کیا وہ اپنی ذاتیات سے بالاتر ہوکر واقعی عوام کی مرضی اور صدق دل کے ساتھ قانون سازی کرتے ہیں یا نہیں۔

  • کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    عدالت عظمیٰ نے تاریخی ججمنٹ دے دی ہے یہ کہنا ہے اینکر پرسن مبشر لقمان کا انہوں نے مزید کہا کہ آج جو تاریخی فیصلہ ہوا اس کے مطابق عدالت نے کہہ دیا ہے میاں نواز شریف کے پاس رائیٹ ٹو اپیل کا حق ختم ہوگیا ہے، علاوہ ازیں انہوں نےقانون کے ماہر حسن رضا پاشا سے سوال کیا کہ کیا اب نواز شریف الیکشن لڑ پائیں گے یا پھر وہ تاحیات جیل میں ہی رہیں گے؟


    نااہل ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسن رضا پاشا نے کہا کہ ترمیم ہوگئی ہے الیکشن ایکٹ میں جس کے تحت اب نااہلی کا دورانیہ پانچ سال ہے اس پر مبشر لقمان نے کہا کہ الیکشن ایکٹ تو ٹو تھرڈ کے حساب سے پاس نہیں ہوا کیا وہ عدالت عظمیٰ کی ججمنٹ کے اوپر لاگو ہوگا؟ اس پر وکیل نے کہا ارٹیکل 6، 1، 2 ایف میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہے نااہلی پانچ سال کیلئے ہوگی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
    علاوہ ازیں انہوں نے نواز شریف کے پاس حق ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں، جبکہ میاں نواز شریف کو جیل جانا پڑے گا کیونکہ وہ سزا کے دوران گئے تھے علاوہ ازیں اینکر پرسن نے کہا کہ لگتا ہے کہ نواز ڈیل کرکے آرہے جبکہ اگر عدالت انہیں یہ سہولت فراہم کردے کہ ہم ان کے گھر کو سب جیل قرار دے رہیں تو پھر ایسا تو عمران خان سمیت دوسرے لوگ جو قید ہیں‌کو بھی حق ملنا چاہئے.

    وکیل نے کہا کہ یہ پاکستان ہی ہے کہ سزایافتہ شخص کو باہر ملک بھیج دیا گیا اور آج وہ چار سال بعد واپس آنے کی اپنی مرضی سے تیاری کررہے ہیں جبکہ یہ عدلیہ پر بھی سوال ہے کہ وہ اب تک وہ واپس کیوں نہ آئے.

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ  فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا.  شہباز شریف

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف

    سابق وزیر اعظم اور نواز شریف کے بھائی شہبازشریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر دیے جانے والے فیصلے کا قائد نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس ( ٹوئٹر ) پر جاری کیے گئے پیغام میں مسلم لیگ نواز کے صدر شہبازشریف نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند قدم ہے۔


    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف خود سپریم کورٹ کے کام کو جمہوری بناتا ہے بلکہ پارلیمنٹ کا بھی احترام کرتا ہے جو پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ یہ بتانا ضروری ہے کہ قانونی ماہرین کے مطابق ماضی کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں سے متعلق زیر بحث مخصوص شق کا میاں نواز شریف پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

    دوسری جانب پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آگیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے باب میں عدالتِ عظمیٰ سے سیاسی امیدیں لگانے والے گروہ کے حصّے میں مایوسی آئی ہے، این آر اوز کی چھتری تلے سیاست کے خواب دیکھنے والے بھگوڑے مجرم کے لیے پاکستان واپسی کے اعلان سے پلٹنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔


    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے قانون کا گزشتہ ادوار پر نفاذ روک کر بھگوڑے مجرم کی نااہلیت اور سزا پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے، تاحیات نااہلی کی اطلاع پاکر پھر سے پلیٹ لیٹس میں حد درجہ گراوٹ کے امکانات ہیں جبکہ ترجمان پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے بعد صادق و امین عمران خان کے خلاف سازشوں کے امکانات بھی دم توڑ گئے، آج کے فیصلے کے بعد جعلی اور جھوٹے مقدمات چیئرمین عمران خان کو دیے گئے صداقت و امانت کے سرٹیفکیٹ پر کسی طور اثرانداز نہیں ہوسکتے، آج کے فیصلے کے بعد دستور کے آرٹیکل 189 کے تحت عدالتِ عالیہ بھی 3 سینئر ججوں پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے بینچز کی تشکیل اور مقدمات کی تقسیم کی پابند ہوگی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
    ترجمان نے یہ بھی کہا کہ آج کے فیصلے کے بعد بادی النظر میں ہائیکورٹ میں بھی مقدمات کو چیف جسٹس کے ہاں جمع کرنے کی بجائے دیگر ججز/ بینچز کو منتقل کرنا لازم ہوگا، آج کے اکثریتی فیصلے کے جامع تجزیے کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔

  • نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو  وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس فیصلہ بارے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ یہ درست سمت میں ایک قدم ہے، یہ فیصلہ پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے اہم ہے، پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے اور پارلیمان کے اس حق کو تسلیم کرنا خوش آئند بات ہے، جہاں تک تشریح کی بات ہے تو سپریم کورٹ بالادست ہے وہ تشریح کرے۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ بادی النظر میں دیکھا جائے تو اپیل کا حق نہ ہونا بہت بڑی ناانصافی ہے۔ سپریم کورٹ نے بہت سی چیزوں میں سمت کو درست کرنا ہے۔

    جبکہ ملک احمد خاں کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ میں تقسیم ایسے ہی چلتی رہتی ہے تو یہ بڑا نقصان ہے، سپریم کورٹ میں تقسیم سے نقصان ہوتا ہے، ماضی میں بینچ سے پتا چل جاتا تھا کہ فیصلہ کیا ہوگا، یہ ایک بڑا غلط تشخص تھا یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہئیں علاوہ ازیں ملک احمد خان نے کہا کہ نواز شریف صاحب کی 5 سال کی نااہلیت والی سزا کا تعین پارلیمان کرچکی ہے، سزا معطلی پر وکلاء دیکھیں گے کہ اس پر کوئی صورت ہوئی اور میاں صاحب کو ریلیف درکار ہوا اور ضرورت پوئی کہ نظر ثانی میں لے کر جائیں تو ضرور لے کر جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی

    علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی بالادستی کی توثیق کی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سارے ادارے اسی طرح اپنے اپنے کام کریں تو ملک ترقی کی طرف جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ون مین شو ختم ہوگیا ہے، اب فرمائشی پروگرام نہیں چل سکے گا۔ اب ایک مشترکہ سوچ بیٹھ کر فیصلہ کرے گی۔ جبکہ ایک سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو شاید وہ واپس نہیں آئیں گے اور یہ عدلیہ کیلئے بہت بڑا امتحان ہوگا۔ اگر عدالت کہتی ہے کہ پہلے وہ گرفتار ہوں، پھر ضمانت لیں اور پھر جلسہ ہوگا تو پھر 21 کو جلسہ تو نہیں ہوگا۔

  • نواز شریف سے ائیرپورٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

    نواز شریف سے ائیرپورٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

    پاکستان واپسی کیلئے ائیرپورٹ پر سابق وزیر اعظم نواز شریف سے پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی ملاقات ہوئی ہے جس میں اچھا سا بیانیہ دینے کا مشورہ دیا جارہا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو شریف فیملی کیطرف سے خود لیک کی گئی ہے، اس ویڈیو میں پاکستانی ہائی کمیشنر ڈاکٹر محمد فیصل پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آرہے ہیں .


    لیک ویڈیو کو سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ؛ "پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل نے سزا یافتہ شخص یعنی میاں نواز شریف کو الوداع کہنے کے لیے ایئرپورٹ پر چھوڑا جبکہ اب کیا کوئی جو اس ڈیل پر سوال کرسکےِ؟ انہوں نے مزید لکھا کہ وہ سزا یافتہ شخص کو ایک بیانیہ کے بارے میں بھی مشورہ دے رہے ہیں!
    https://.twitter.com/BaaghiTV/status/1712137757899034985
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی

    دوسری جانب بہت سارے باخبر صحافی دعویٰ کررہے ہیں میاں نواز شریف کسی ڈیل کے تحت وطن واپس آرہے ہیں لیکن ادھر مسلم لیگ نواز کا بیانیہ ہے کہ نواز شریف کسی کی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے، تاہم واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم نواز شریف جنرل فیض حمید کے احتساب کی بات کی تھی لیکن بعدازاں ان کی جماعت اس پر بھی صفایاں دیتی رہی کہ ان کا مقصد انتقام نہیں ہے.

  • عام انتخابات میں تاخیر ہونی چاہئے،مولانا فضل الرحمان کی شہبازشریف سے ملاقات

    عام انتخابات میں تاخیر ہونی چاہئے،مولانا فضل الرحمان کی شہبازشریف سے ملاقات

    لاہور:سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی ہے

    دونوں رہنماﺅں نے مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر مرکزی ترجمان جے یو آئی محمد اسلم غوری، احسن اقبال اور ایاز صادق موجود تھے،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا، اسرائیل فلسطین تنازع اور اس کے بعد کی عالمی صورتحال بھی زیربحث آئی،مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف کو عام انتخابات میں تاخیر کرنے کے اپنے مطالبے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا،

    نوازشریف کی وطن واپسی پاکستان کے لئے اچھی خبر ہے، مولانا فضل الرحمن
    ن لیگ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق دونوں قائدین نے مشاورت اور اشتراک عمل سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا،دونوں قائدین نے اتفاق کیا کہ بحرانوں کو مل کر ہی نمٹا جاسکتا ہے، شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 16 میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں آپ نے بھرپور تعاون کیا،تمام جماعتوں نے 16 ماہ میں سیاست کا نہیں صرف ریاست بچانے کا سوچا،پاکستان کو اتحاد، مشاورت اور اشتراک عمل ہی بحرانوں سے نکال سکتا ہے، قائد نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد سیاسی وجمہوری نظام مضبوط ہوگا،مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی وطن واپسی پاکستان کے لئے اچھی خبر ہے، سچ بے نقاب ہوچکا ہے کہ نوازشریف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،نوازشریف اور ان کے خاندان کو ناحق ستایا گیا، یہ تاریخ کا سیاہ اور افسوسناک باب رہے گا.نوازشریف نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کیا لیکن نوازشریف کو ہی سیاسی نظام سے باہر کردیاگیا، سیاسی رہنماﺅں کو ناحق چور ڈاکو کہنا سیاسی انجینئرنگ کا کھیل تھا،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سردی کی شدت کی وجہ سے ووٹنگ کی شرح کم ہو گی، اسلئے الیکشن جنوری میں نہیں ہونے چاہئے، ملکی حالات بھی ایسے بن چکے ہیں، آئے دن بم دھماکے اور پاکستان کی معیشت، سب کو مدنظر رکھ کر الیکشن کروائے جانے چاہئے،

    قبل از یں سربراہ میاں نواز شریف استقبالیہ کیمٹی سندھ بشیر میمن کا کہنا تھا کہ نواز شریف روزگار کی فراہمی کو بہتر کریں گے، پاکستان کی معیشت کو اپنی ڈگر پر لائیں گے، میں سربراہ ہوں پر محمد زبیر کی ہدایت پر کام کرتا ہوں،پاکستان کا مقدمہ ایک ہی ہے کہ ووٹ کو عزت دو، پانامہ کے بعد معیشت بدتر ہوگئی، میاں صاحب کے پاس ڈیلیور کرنے کی ایک میراث ہے، اُنہیں ایک بار پھر خدمات کرنے کا موقع ملے گا، ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف 21 اکتوبر کو۔پاکستاں آرہے ہیں، یہ پاکستان کیلئے بڑا پروگرام ہے ،میاں نواز شریف وکلا تحریک میں سب سے آگے تھے ،میاں نواز شریف کی وجہ سے معزول چیف جسٹس بحال ہوئے تھے ، میاں محمد نواز شریف کا آمد بہت اہمیت والا ہے ،آج یہاں بجلی نہیں ہے لیکن میان نواز شریف بجلی دیکر گئے تھے ،میاں محمد نواز شریف سمجھتا ہے کہ عام پاکستانی کے مسائل کیا ہیں، سندھ میں 15 سال سے ایک حکومت رہی ہے ،15 سال میں تو دنیا ہی بدل جاتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ میاں کے آمد میں سب سے پہلے وکلا ہوں،

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • نواز شریف کے استقبال کا قائل نہیں ہوں۔ خاقان عباسی

    نواز شریف کے استقبال کا قائل نہیں ہوں۔ خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر بات کرنی چاہئے۔ عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری کو مل کر بیٹھنا چاہئے، فضل الرحمان اور چیف جسٹس بیٹھیں، یہ سب بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ آگے کیسے چلنا ہے۔ ان چھ لوگوں کو ساتھ بیٹھ کر مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا اور ان کا آئینی کردار ہو نہ ہو یہ اثر انداز تو ہوتے ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’آج سارے ناکام، ہوچکے ہیں، آج سیاستدان بھی ناکام ہیں ، جو ججز نے کیا وہ بھی آپ کے سامنے ہے، مجموعی طور پر ایک نظام کی ناکامی ہے، آج بیٹھ کر اس نظام کے اندر راستہ ڈھونڈیں کہ ہم سب مل کر ملک کے حالات کو کیسے درست کریں گے۔

    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ آئین جیسے کہتا ویسے الیکشن کرانا ضروری ہیں، مگر الیکشن مسائل کا حل نہیں نکال پائیں گے کیونکہ گزشتہ 3 سال میں ہر سیاسی جماعت اقتدار میں رہ چکی ہے، یہ سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل حل نہیں کرسکیں، مستقبل میں یہ جماعتیں کیسے مسائل حل کریں گی، موجودہ سیاسی جماعتیں مسائل حل کریں یہ ممکن ہی نہیں ہے، مسائل حل کرنا سیاستدانوں کا کام ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے 35 سال پرانا تعلق ہے، لندن جاتا ہوں تو ان سے ملاقات ہوتی ہے، موجودہ حالات میں نواز شریف کا اہم کردار ہے، میں نے ان کو تجویز دی ہے کہ ’اس سال انہیں قومی سطح کی سیاست میں 40 سال ہوجائیں گے، تو ان کو کوئی حل ڈھونڈنا چاہیے‘۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات
    اسٹینڈرڈ چارٹرڈاور کراچی یونائٹیڈ کے تحت یوتھ فٹ بال لیگ، چھٹے ایڈیشن کا آغاز
    کوئلے کی کان میں دھماکہ؛ 11 مزدور زخمی
    ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان
    شیخ رشید کی بازیابی کیلئے مزید آٹھ دن کا وقت مل گیا
    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز
    کیا پاکستان ورلڈکپ میں نئی تاریخ رقم کر پائے گا؟
    ورلڈکپ: پاکستان کو جیت کیلئے345 رنز کا ہدف
    خاقان عباسی نے مزید کہا کہ نواز شریف کو ہمیشہ مثبت سیاست کرتے دیکھا ہے۔ سیاست دانوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور سیاست دشمنی بن گئی ہے، تفریق سے ملک نہیں چلے گا جبکہ نواز شریف کے استقبال کا قائل نہیں ہوں۔

  • نواز شریف  واپسی؛ چارٹرڈ بُک

    نواز شریف واپسی؛ چارٹرڈ بُک

    دبئی سے پاکستان واپسی سفر کیلئے مسلم لیگ (نواز) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے سفر کیلئے چارٹرڈ طیارہ بُک کرا لیا گیا ہے جکہ ذرائع کے مطابق پرواز کو امیدِ پاکستان کا نام دے گی اور اس خصوصی پرواز میں 150 مسافروں کی گنجائش ہے جبکہ وطن واپسی پر لیگی کارکنان اور لندن کے صحافی 21 اکتوبر کو نواز شریف کے ساتھ روانہ ہوں گے اور یہ خصوصی پرواز دبئی سے لاہور روانہ ہوگی اور اسلام آباد میں آدھا گھنٹہ رکے گی۔

    واضح رہے کہ نواز شریف عمرے کی ادائیگی کیلئے کل لندن سے سعودی عرب جانے کیلئے روانہ ہوں گے اور وہاں ایک ہفتہ قیام کریں گے، سعودی عرب میں ان کی متعدد ملاقاتیں طے ہیں اور نواز شریف دبئی میں تین روزہ قیام کے بعد 21 اکتوبر پاکستان کیلئے روانہ ہوں گے، دبئی میں بھی نواز شریف کی دبئی میں بھی متعدد ملاقاتیں طے ہیں۔ دوسری جانب ممتاز حیدر کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی حفاظتی ضمانت 16 اکتوبر کو دائر کی جائے گی ،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جائے گی ،نواز شریف کی جانب سے قانونی ٹیم کو حفاظتی ضمانت دائر کرنے کی اجازت دے دئیے گئی ہے ،نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں حفاظتی ضمانت دائر کی جائیں گئی
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    شیخ رشید کی بازیابی کیلئے مزید آٹھ دن کا وقت مل گیا
    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز
    کیا پاکستان ورلڈکپ میں نئی تاریخ رقم کر پائے گا؟
    ورلڈکپ: پاکستان کو جیت کیلئے345 رنز کا ہدف
    ممتاز حیدر کے مطابق نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیزیہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی ،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا.اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی ضمانت دائر کی جائیں گئیں ،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے ،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گی

  • نواز شریف کی وطن واپسی،قانونی ٹیم کی حکمت عملی تیار

    نواز شریف کی وطن واپسی،قانونی ٹیم کی حکمت عملی تیار

    نواز شریف کی وطن واپسی، قانونی ٹیم نے حکمت عملی تیار کرلی

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی حفاظتی ضمانت 16 اکتوبر کو دائر کی جائے گی ،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جائے گی ،نواز شریف کی جانب سے قانونی ٹیم کو حفاظتی ضمانت دائر کرنے کی اجازت دے دئیے گئی ہے ،نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں حفاظتی ضمانت دائر کی جائیں گئی

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیزیہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی ،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا.اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی ضمانت دائر کی جائیں گئیں ،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے ،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گی

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام اباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • میں  لیڈر نوازشریف کو مانتا ہوں،  شہباز اور مریم نواز  کو نہیں. شاہد خاقان عباسی

    میں لیڈر نوازشریف کو مانتا ہوں، شہباز اور مریم نواز کو نہیں. شاہد خاقان عباسی

    مسلم لیگ (نواز) کے سینیئر رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میرا لیڈر نوازشریف ہے، شہبازشریف اور مریم نواز نہیں ہے جبکہ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ ن لیگ میں شامل ہوں، بتا دیا ہے اور ان حالات میں الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اقتدار دیکھ چکی ہیں، عدم اعتماد کے بعد ہمیں حکومت نہیں بنانی چاہیےتھی۔

    جبکہ ان کا کہنا تھاکہ میرا لیڈر نوازشریف ہے، شہبازشریف اور مریم نواز نہیں، سیاسی جماعت کی جگہ موجود ہے لیکن وہ بعد کی بات ہے اور شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ میں ٹرتھ کمیشن کا قائل ہوں، اگر کبھی بنا تو سب سے پہلے میں خود پیش ہوجاؤں گا، ہم نے اپنی تاریخ کو مسخ کردیا ہے، ہمیں اقتدار کی جنگ اور کرسیوں کی لالچ سے پیچھے ہٹنا پڑےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگراں وزیراطلاعات سے روسی سفیر کی ملاقات؛ معیشت، تعلیم، ثقافت زیر بحث
    اسرائیل سے بھاگنے والوں کا ائیرپورٹ پر رش
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی
    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ حلقےکے لوگ فیصلہ کریں گے کہ استقبال کیلئےجانا ہے یا نہیں، پارٹی کی ذمہ داری تھی کہ نوازشریف سے جو نا انصافی ہوئی اسے درست کرتی ہے اور خیال رہے کہ گزشتہ دنوں شاہد خاقان عباسی نے لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔