Baaghi TV

Tag: نواز شریف

  • نوازشریف ستمبرمیں وطن واپس آکر انتخابی مہم چلائیں گے،سینیٹر مسلم لیگ ن

    نوازشریف ستمبرمیں وطن واپس آکر انتخابی مہم چلائیں گے،سینیٹر مسلم لیگ ن

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہےکہ پارلیمنٹ اپنی توہین کا خود احتساب نہیں کرسکتی تو کسی اور کا کیا کرے گی۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت جانے لگتی ہے تو اسے بہت سے بھولے کام یاد آجاتے ہیں، میں نے کہا تھا کہ بل میں برق رفتاری اچھی نہیں ہے، جلدی زیادہ بل آتے ہیں تو ان کے مسودے پر غور نہیں ہوتا، جو بل آئے ان کی ضرورت تھی، یہ (ن) لیگ کے بل نہیں تھے پی ڈی ایم کے بل تھے،ان لوگوں نے بل کی تیاریوں کے اجلاسوں میں شرکت کی ، بل پر دستخط کیے، میرا بل 14 ماہ سے گم ہے، یہ بل میری پراپرٹی تھی، اس حوالے سے 10 اگست کو اسپیکر کو خط لکھا لیکن ابھی تک کوئی رسپانس نہیں آیا۔

    پی سی بی نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے نئی ویڈیو جاری کر دی،عمران خان شامل

    انہوں نے کہا کہ نوازشریف ستمبرکے تیسرے ہفتے میں وطن آئیں گے اور انتخابی مہم چلائیں گے، نوازشریف چاہتے ہیں کہ الیکشن میں تاخیر نہیں ہونا چاہیے، نوازشریف سمجھتے ہیں اس سال الیکشن ہوجائیں گے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے معاملے پر گارنٹی مل چکی ہے،رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ نوازشریف کی عدالتوں سے بریت طے ہے اور اُن کے لیے زیرو رسک ہوچکا ہے جبکہ اس معاملے پر ہمیں گارنٹی بھی مل چکی ہے چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت سے ریلیف ملنا مشکل ہے جبکہ الیکشن کی تاریخ آگے جانے پر اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہے مئی 2022 میں الیکشن کا فیصلہ ہوچکا تھا اور وزیراعظم کی الوداعی تقریر بھی تیار تھی مگر چیئرمین پی ٹی آئی کی تقریر کے بعد حکمت عملی کو تبدیل کیا اور الیکشن نہ کرانے کا فیصلہ کیا۔

    بابر اعظم جتنا بڑا کھلاڑی ہے اتنا ہی بڑا کپتان بھی ہے،افتخار احمد

  • عمران کی بری حالت،بشری بی بی رو پڑی، لمبی جیل،ہاتھ سے پارٹی نکل گئی

    عمران کی بری حالت،بشری بی بی رو پڑی، لمبی جیل،ہاتھ سے پارٹی نکل گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں، کیا وہ گھر میں ہیں کہ انکو سب سہولیات دی جائیں، آصف زرداری سات سال جیل میں رہے، کسی سے ملنے، بات کرنے کی اجازت نہیں تھی، جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں، جن چیزوں کی عادت ہوتی ہے اور وہ نہ ملیں تو وہی جیل ہے، عمران خان جیل میں ہے، بشریٰ بی بی کے رونے کا سوال کوئی ٹونا، ٹوٹکا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سب کی خواہش ہے کہ نواز شریف آ جائے، لیکن نواز شریف ابھی تک ٹو مائینڈ پر ہیں، نواز شریف کی سائیکی کو سمجھنے کی ضرورت ہے،نواز شریف بہت زیادہ بیگم کلثوم نواز پر فیصلوں کے لئے ٹرسٹ کرتے تھے، وہ ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرتی تھیں، پہلے میان صاحب اپنے والد صاحب سے ایڈوائس لیتے تھے، اب میان صاحب اکیلے ہیں اور انکو لوگوں کی ایڈوائس پر اعتبار نہیں، جس دن انکو اعتبار ہوا، اس دن وہ آئیں گے، وہ ایک دن بھی جیل نہیں جانا چاہتے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اگر واپس نہیں آتے تو پھر الیکشن میں کیا ہو گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا، پٹرول کی قیمت بڑھ رہی ہے، جس کے بعد پی ڈی ایم کی کمر ٹوٹ گئی،یہ حلقوں میں مہنگائی کی وجہ سے نہیں جا سکتے،چیف جسٹس بندیال کو حقیقت کو سمجھنا اور دیکھنا چاہئے، الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنا ہے کہ الیکشن کب ہونے ہیں، یہ سپریم کورٹ نے طے نہیں کرنا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مستقبل جیل جیل،جیل جیل ہی ہے، عمران خان کوشش کر رہے ہیں کہ ڈیل ہو جائے اور دو سال کے لئے باہر چلے جائیں، کہہ رہے ہیں چھوڑ دیں تو اچھا بچہ بن جاؤں گا، آپکی مرضی کے مطابق زندگی جیوں گا، لیکن عمران خان اس سٹیج پر آ گئے کہ کسی کو انکی بات پر یقین نہیں، عمران خان کے ہاتھ سے پارٹی نکل گئی ہے

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • نواز شریف نے پارٹی کی سینئر قیادت کو لندن طلب کر لیا

    نواز شریف نے پارٹی کی سینئر قیادت کو لندن طلب کر لیا

    مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کا معاملہ ،مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت اور لیگل ٹیم کو لندن طلب کر لیا،

    مسلم لیگ ن کی لیگل ٹیم اور سینئر رہنما رواں ہفتے لندن روانہ ہوں گے،سابق وزیر اعظم شہباز شریف، مسلم لیگ ن کی لیگل ٹیم اور سابق وفاقی وزراء رواں ہفتے لندن روانہ ہوں گے،مسلم لیگ ن کے صدر پنجاب رانا ثناء اللہ ، اور اعظم نذیر تارڑ لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات کریں گے ، اس موقع پر اجلاس میں مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی،مسلم لیگ ن کے قائد کی وطن واپسی کے لیے قانونی امورپر تبادلہ خیال کیا جائے گا،

    واضح رہے کہ نواز شریف علاج کے لئے لندن گئے تھے مگر تاحال واپس نہ آئے، شہباز شریف نے ڈیڑھ سال حکومت کی، وزیراعظم رہے، مگر انکے دور اقتدار میں بھی نواز شریف واپس نہ آئے، اب نگران حکومت قیام میں آ چکی ہے، نواز شریف کی واپسی کے لئے راستے ہموار کئے جا رہے ہیں، نواز شریف ماہ ستمبر میں واپس آنا چاہتے ہیں تا ہم حتمی طور پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا،. نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں تاہم ن لیگی امید ہیں کہ نواز شریف الیکشن سے قبل واپس آ سکتے ہیں

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    نواز شریف کی پاکستان میں انٹری کیسی ہو گی پلان A پلانB تیار کرلیا گیا، نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی جائے گی، پلان A کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہو گی،
    وطن واپسی پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا،نواز شریف وطن واپسی پر اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے، مسلم لیگ ن کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ ہولڈرز اور عہدیدران بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گے،نواز شریف اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور کے لئے بڑی ریلی کی صورت میں روانہ ہوں گے،
    نواز شریف کی ریلی مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کا آغاز بھی ہو گا،نواز شریف جہلم، سرائے عالمگیر، لالہ موسی، گجرات، گوجرانوالا سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچیں گے،لاہور میں نواز شریف کا بھرپور استقبال کیا جائے گا،لاہور جلسے کو تاریخی بنانے کا ٹاسک حمزہ شہباز اور مریم نواز کے سپرد کیا گیا ہے،

    پلان B کے مطابق نواز شریف کی ممکنہ واپسی لاہور ایئرپورٹ پر ہو سکتی ہے،لاہور ایئرپورٹ پر نواز شریف کا استقبال کرنے کے بعد ریلی کی صورت میں داتا دربار لے جایا جائے گا،

  • مجھے کوئی شک نہیں کہ نئی بلندیوں سے ہمکنارہونا ہی پاکستان کا مقدرہے،شہباز شریف

    مجھے کوئی شک نہیں کہ نئی بلندیوں سے ہمکنارہونا ہی پاکستان کا مقدرہے،شہباز شریف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں میں آج 76 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے ، یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے تو وہیں سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے پیغامات کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اپنے قیام کے دِن ہی سے پاکستان کی کہانی مزاحمت اور جہد مسلسل کی رہی ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مشکلات اور مصائب کے پہاڑ عبور کرنے کے بعد گزشتہ 76 سال کے دوران ہم پے درپے مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔ بحران کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، پاکستان اُن میں سے ہمیشہ سرخرو ہوکر نکلا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چھہترویں یوم آزادی پر قوم کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے میں بابائے قوم حضرت قائداعظم ، لاکھوں شہیدوں اور آزادی کے ہیروز کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنا آپ پاکستان پر قربان کرکے خلوص، ایثار اور محبت کی لازوال مثال قائم کی۔ قائدکی مدبرانہ قیادت نے قیام پاکستان میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں میں ہم نے کئی مشکلات پر قابوپاکر سنگ ہائے میل عبور کئے ہیں لیکن ابھی کامرانی کی وہ منزل نہیں آئی جس کا پوری قوم کو شدت سے انتظار ہے۔ یک جہتی کے مظہر آج کے دِن کی طرح یہ جذبہ اور اتحاد ہمیں مادروطن کی تعمیر، ترقی اور معاشی خودانحصاری کاعظیم مقصد حاصل کرنے کے لئے بروئے کار لانا ہے جس کے ذریعے قوم ہر مشکل کو شکست دے سکتی ہے۔ تعمیر پاکستان کے لئے ہمیں قائد اعظم کے”کام، کام اور صرف کام“ کے سنہری راہنما اصول کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔و قت آگیا ہے کہ ہم گفتارکے بجائے عمل کی قوت بروئے کار لائیں۔ یہی ہماری کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ آئیں! تکمیل پاکستان کی کہانی لکھنے والوں میں ہم بھی شامل ہوجائیں ۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ نئی بلندیوں سے ہم کنار ہونا ہی پاکستان کا مقدرہے ،جشن آزادی مبارک

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    یوم آزادی کی مناسبت سے ریلیوں اور کیمپس کا انعقاد

     لیگ ن لاہور کے زیر اہتمام یوم آزادی کی تقریب منعقد 

  • نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،خواجہ آصف

    نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،خواجہ آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ شہباز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کے قافلے کو اپنی منزل تک پہنچایا-

    باغی ٹی وی:سیالکوٹ میں جشن آزادی کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا آج اگر ن لیگ متحرک ہوتی ہے تو وہ گزشتہ پانچ سال ثابت قدمی کا نتجہ ہے, آج سوا سال کی حکومت کے بعد پاکستان کی عوام کی عدالت میں پیش ہوئے، اس حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف رہے،پاکستان کی تاریخ میں اتنی مشکل وزارت عظمیٰ شاید کسی نے گزاری ہو، جس طرح شہبازشریف نے گزاری تمام پارٹیوں کو لے کر قافلے کو اپنی منزل تک پہنچایا،ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چار سال کا سارا گند صاف کیا لیکن ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،جو ڈالر آج تین سو کا ہے پانچ سو کا ہونا تھا، جو تباہی عمران کی کابینہ کر کے گئی شاید ہی پاکستان سلامت رہتا، ہم نے اسکی بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے ملک کو نکال کر سواسال مکمل کیا، آپ کو اسکے چار سال کے اتنے اسکینڈلز ملیں گے کہ انہوں نے گھٹیا سے گھٹیا حرکات دیکھنے کو ملیں گی، اس نے قانون کا ہاتھ اپنے گریبان تک آنے سے روکے رکھا، عدلیہ انکی آخری پناہ گاہ ہے، انشاللہ انصاف کا بول بالا ہوگا، جب نوازشریف واپس آئینگے گے تو اسکو ایسی عدلیہ کا سامنا کرنا پڑے جو اسے انصاف دے، آج عمران کے پاس ہائی کوٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا ہے، لیکن نواز شریف کے پاس کوئی دروازہ نہیں کھلا، پاکستان کی تاریخ میں بیٹی باپ کو جیل ملنے آئی تو اسے جیل سے گرفتار کیا گیا،

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب لوگوں نے مجھے گرفتار کروایا اس سے قبل بھی ان لوگوں کے والد نے مجھے گرفتار کروایا تھا،خواجہ آصف تو کہیں نہیں بھاگا، کہاں ہے آج پی ٹی آئی کی قیادت،اپنے گھروں کو لاوارث چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں،اور کچھ ایسے ہیں جنہوں نے چوتھی چوتھی پارٹی بدلی کوئی شرم کوئی حیا ہوتی ہےنو مئی کو کیا ہوا تھا یہاں سے جلوس لے کر کینٹ گئے تھے اور کہتے تھے خواجہ آصف کے گھر پر بھی حملہ کرنا ہے، عمران کے بہت چاہنے والے ہوں گے لیکن اسکے ساتھ کون کھڑا ہے بتا دیں، ایک دو چھاپہ کیا پڑا غائب ہوگئے ،ایک خاتون ہے ہمارے ضلع کی اسکو خود بھی یاد نہیں کہ اسنے کتنی پارٹیاں بدلیں، لیکن نواز شریف کیساتھ تمام لوگ کھڑے رہے نواز کی ثابت قدمی تھی کہ آج اسکا ورکر اسکے ساتھ کھڑا ہے، حمزہ سوا دو سال قید رہاپورا خاندان قید ہوگیا تھا،انکو تو ابھی دس دن ہوئے ہیں شکایت کرتا ہے کہ وہاں مچھر ہے کیا ننہال گئے ہو؟، آج 76 واں یوم آزادی ہے اللہ نے آج بھی ملک کو قائم رکھا ہے، نو مئی ایسا سانحہ ہے جو سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جو ہندوستان 75 سالوں میں نہ کر سکا وہ عمران خان نے کر دیا، اسکے وارے میں نہیں تھا اگر اسکی مرضی کا چیف نئیں آتا تو منصوبہ بنایا کہ ملک بھی نہیں رہے گا آج تک اس نے نو مئی کے واقع کی مزمت نہیں کی، اسکے ساتھی یا مفرور ہیں یا لوٹے ہوگئے ہیں، مجھے فخر ہے کہ میں ایسے قائد کا ورکر ہوں جو پہاڑ کی طرح ظلم کے سامنے کھڑا رہا،
    لوگ پوچھتے ہیں کہ نواز کب واپس آئے گا،آپ بتائیں کہ نواز واپس آئے تو اس موجودہ عدلیہ سے انصاف کی توقع ہو سکتی ہے، نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،ہم یہ نہیں کہتے کہ عدلیہ ہماری حمایت کرےعدلیہ انصاف کی ہمایت کرے، خواتین کے کہنے پر ہم پہ سیاست نہیں کریں گے، پارلیمان قانون کی ماں ہے،

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ 9 مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جو کچھ کیا اس کے بعد اس کے نتائج کی ذمے داری بھی چیئرمین پی ٹی آئی پر ہے۔

    نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    قبل ازیں سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے جبکہ خواجہ آصف نے میڈیا کو بتایا کہ ضرورت تھی کہ چھوٹے صوبوں کو حکمرانی میں حصہ دیا جائے اور نگران وزیراعظم کیلئے انوارالحق کا نام سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیا گیا ہے جبکہ انوار الحق کا نگران وزیراعظم بننا بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ انوارالحق کانام نگران وزیراعظم کیلئے سرفہرست تھا۔

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگلے مہینے ستمبر میں پاکستان آجائیں گے اور نوازشریف کو اختر مینگل کے تحفظات کو دورکرنا چاہئے کیونکہ ہمیں بلوچستان کےمسائل کا قومی حل تلاش کرنا چاہئے جبکہ ہمیں بلوچستان کے ناراض لوگوں کو بھی قومی دھارے میں لانا چاہئے اور اسی میں بہتری ہے۔

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

  • نگران  وزیراعظم  کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار،اختر مینگل نے نواز شریف کو خط لکھ دیا

    نگران وزیراعظم کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار،اختر مینگل نے نواز شریف کو خط لکھ دیا

    بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل نے نگران وزیراعظم کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کے درمیان نگراں وزیراعظم کی تقرری کے لیے ہونے والی مشاورت میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما انوار الحق کاکڑ کے نام پر اتفاق ہوا جس کے بعد صدر مملکت نے بھی ان کی تقرری کی سمری پر دستخط کر دیئے، انوار الحق کاکڑ کی بطور نگراں وزیراعظم تعیناتی پر جہاں ن لیگ، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی کی جانب خیر مقدم کیا گیا وہیں کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لینے سے بد اعتمادی بڑھے گی ، نگران وزیراعظم کے لیے ایسے شخص کی نامزدگی کی گئی جس سے ہمارے لیے سیاست کے دروازے بند کر دیئے گئے، آپ کے اس طرح کے فیصلوں نے ہمارے درمیان مزید دوریاں پیدا کر دیں میرا یہ خط 22 جولائی 2022 کےمیسج کا تسلسل ہے، جن مسائل کا ذکرمیں نے پہلےکیا تھا کاش اُن میں کمی آتی، آج بھی وہی بلوچستان ، وہی جبری گمشدگیاں ہیں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

    لال حویلی کے باہر تجاوزات کے خلاف آپریشن،شیخ رشید آگ بگولہ ہو گئے

    انہوں نے خط میں لکھا کہ اس کا الزام کسی پر ڈالنے کے بجائے ہم اپنی شومئی قسمت کو ہی ٹھہرائیں تو بہتر ہوگا،وہی بلوچستان، وہی جبری گمشدگیاں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسلے کے حل کی کوشش کی جارہی ہے، سیاست دانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے آس لگائی جارہی ہے یا اُن کی مشاورت سے مسئلے کا حل تلاش کیا جارہا ہے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں جنرل ایوب سے جنرل مشرف تک کے مظالم اچھی طرح یاد ہیں لیکن آپ کی جماعت مشرف اور باجوہ کی سازشوں اور غیر آئینی اقدامات کو اتنی جلدی فراموش کر گئی، اختر مینگل نے مردم شماری پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی جو تقریباً 2 کروڑ 24 لاکھ بنتی تھی اسے 73 لاکھ کم کر دیا گیا۔

    انہوں نے لکھا کہ انسانی حقوق کے برخلاف قانون سازیاں شاید ہم سے زیادہ مستقبل میں آپ حضرات کے ہی خلاف استعمال کیں جائیں گی کیونکہ ہم بلوچستان کے باسیوں کو روزِ اول سےانسان سمجھا ہی نہیں گیاسی پیک سے اہل بلوچستان کو کیا حاصل ہو، آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے، کتنے موٹروے، بجلی اور شمسی توانائی کےمنصوبے، میٹرو ٹرینوں اور بسوں سے لے کر صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے لے کر پینے کے پانی کے جو منصوبے اور سہولتیں مہیا کی گئی ہیں وہ دنیا کی ترقی کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔

    اوورسیز پاکستانی نے سمندر کی تہہ میں پاکستانی پرچم لہرا دیا

    انہوں نے لکھا کہ موجودہ دور میں گوادریونیورسٹی کےقیام بمقام لاہورکا بھی اعلان کیاگیاجو میں سمجھتا ہوں بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا، گوادر ائیرپورٹ کا نام بجائے کسی بلوچستان کی سیاسی یا سماجی شخصیت کے کسی ایسے شخص کے نام کردیا جس کے نام سے شاید ہی بلوچستان کے لوگ واقف ہوں گے،کسی بھی اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنا بداعتمادی ہی کو دوام بخشے گی، بڑے اور چھوٹے صوبوں کے درمیان نفرتوں کی مٹی سے بنائے گئے اُن میناروں کی اونچائی اور مضبوطی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی مستقبل میں آنے والی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون بنائے اور توڑے بھی جاتے ہیں لیکن اُس کے برعکس اہلِ بلوچستان کو اپنے پیاروں کے لیے آوز اٹھانا اور آنسو بہانا بھی خلافِ قانون ہے آپ کے گزشتہ 2 دورِ حکومت میں بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہم پچھلی بار کی طرح اس بار بھی یہ تصور اور خیال کر بیٹھے کہ شاید اُن تلخ تجربات کے بعد آپ کی جماعت کو اب احساس ہوگیا ہوگا لیکن آپ کی جماعت نے ہمیں پہلے بھی غلط ثابت کیا اور اب بھی،کاش کہ ہمیں مطالعہ پاکستان کی نصاب کی کتابوں میں گزشتہ 76 سالہ تاریخ پڑاھائی جاتی تو شاید ہم تاریخ سے سبق حاصل کرتے لیکن اب تو ہم اور آپ تاریخ کے سامنے صرف اور صرف جواب دے ہیں اور جواب دے رہے ہیں۔

    قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی …

  • پانامہ کیس فراڈ،نواز شریف الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، اسحاق ڈار

    پانامہ کیس فراڈ،نواز شریف الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، اسحاق ڈار

    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ کیس ایک فراڈ تھا،یہ عدالتی تاریخ کا حصہ ہے،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 27 جولائی کو نواز شریف نا اہلی کی پانچ سالہ سزا مکمل کر چکے،نواز شریف الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، 184/3میں کے تحت قانون سازی سے 30دن میں اپیل کا حق دیا گیا۔ یہ قانون نظر ثانی کے حوالے سے تھا،الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے نا اہلی کی مدت کا تعین کر دیا گیا ہے،معیشت ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو گی، شق 239کے تحت نگراں حکومت کو کچھ اختیارات دئیے گئے جو بھی حکومت آئے اسے تسلسل برقرار رکھنا ہو گا

    صحافی نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ کیا آپ نگران وزیراعظم بن رہے ہیں؟ جس کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میرا اس پر یقین ہے اللہ نے آپ سے جو کام لینا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا، میں نے چوتھی بار وزارت خزانہ کا عہدہ نہیں مانگا تھا اللہ نے 5 سال بعد اسی کرسی پر بٹھا دیا،

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • 30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،وزیراعظم

    30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ملی تومہنگائی بہت زیادہ تھی، ہم نے چیلنجز سے نمٹنا تھا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے مہنگائی کم کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کیں، کچھ کم بھی ہوئی،میں نے تنقید اور تعمیر کو ہمیشہ خوش آمدید کہا، میں نے کبھی کسی صحافی سے کوئی گلہ نہیں کیا،بہت جگہ ہوتا ہے کہ سپیشل برانچ خوش کرنے کیلئے رپورٹ بھیجتی ہے میں نے صحافیوں پر یقین کیا کیونکہ وہ آزاد رپورٹ دیتے ہیں ہمیں سخت فیصلے اور ایکشن لینے پڑے کیونکہ ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے کبھی کوئی وزیراعظم ایسے الوداع نہیں ہوا جیسے میں جا رہا ہوں سب سے مل کر جا رہا ہوں30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،فخر ہے میرے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تعلقات ہمیشہ اچھے رہے، کس دورمیں میرے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے، لیکن یہ بتائیں کہ مجھے کب اور کس موقع پر رعایت دی گئی؟ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کالعدم ہونے سے نواز شریف کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،نواز شریف کی نااہلی 5 سال پورے ہونے پر ختم ہوچکی ہے،معاشی صورتحال کی وجہ سے ہمارے ووٹ بینک میں کمی ہوئی،ہم نے سیاست خطرے میں ڈال کر ریاست بچائی، نواز شریف کے واپس آنے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی،آئندہ انتخابات "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے پر لڑیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 16 ماہ مشکل حالات میں حکومت چلائی، اس دوران ایک روپے کا اسیکنڈل ہمارے خلاف نہیں آیا،الیکشن ایکٹ کی ترمیم سےنوازشریف کی نااہلی ختم ہو چکی اور متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر اکثریت ملی تو وزیراعظم نواز شریف ہوں گے ان کی واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں، سرمایہ کاری کونسل بنائی، اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے وزیراعظم اس کے سربراہ اور آرمی چیف رکن ہیں، چاروں وزرائے اعلیٰ بھی اس کے اراکین ہیں

    کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

  • مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،اعظم نذیر تارڑ

    مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،اعظم نذیر تارڑ

    سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج فیصلہ آنے سے یہ تاثر جاتا ہے کہ پارلیمان کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھایا گیا ہے

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑکا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے کیس پر اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا قانون سازی کے بعد سب اب پانچ سال بعد سیاست کیلئے اہل ہو چکے ہیں ہ سیاست میں حصہ لینا بنیادی حق ہے ،نااہلی کی سزا پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی آئین میں طریقہ کار واضح ہے کہ اداروں نے کیسے چلنا ہے یہ قانون بار کونسلز اور بارایسوسی ایشنز کا پرانا مطالبہ تھا اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دینے کے فیصلے سے نواز شریف کے کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گاعدالت کا کام کیسز کا فیصلہ کرنا ہے اور لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے پارلیمان کے اختیار میں عدالت کی بار بار مداخلت اچھی روایت نہیں اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے۔ آئین کہتا ہے کہ آپ اپنی مرضی کا وکیل رکھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • نواز شریف ستمبر میں آ رہے ، جاوید لطیف کا دعویٰ

    نواز شریف ستمبر میں آ رہے ، جاوید لطیف کا دعویٰ

    مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج آوازیں آرہی ہیں کہ پندرہ ماہ میں جمہوریت کمزور ہوئی، کیا اس سے پہلے ملک میں جمہوریت تھی،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ 2017 میں تو یہ ایک پیج پہ تھے ، جتنا مال غنیمت سمیٹ سکتے تھے سمیٹ لیا ، لیکن 2017 میں ایک مرد قلندر نے نعرہ لگایا کہ ووٹ کو عزت دو، وہ تحریک اتنی زور پکڑ گئی کہ پیچ پھٹنے پر مجبور ہوا ، پھر جب پیج پھٹا تو پندرہ ماہ پہلے تبدیلی آئی،پھر کوشش کی کہ خارجہ امور اور ملکی حالات میں بہتری لاسکیں ،کوشش کی کہ 2017 کا پاکستان دوبارہ بنا سکیں،ہم نے کوشش کی لیکن ناکام رہے ،بگاڑ اتنا ہے کہ وہ نواز شریف کے بغیر ٹھیک نہیں ہوسکتا ،اداروں میں بیٹھے لوگوں، عوام اور سی پیک مخالف قوتوں کو بھی احساس ہوچکا ہے ، احساس ہوچکا ہے کہ 2017 کا پاکستان نواز شریف کے بغیر نہیں آسکتا،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں اب بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو بچانے کیلئے سرگرم ہیں،نواز شریف کو مائنس رکھنے کی خواہش پوری ہوئی تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، قبول نہیں کریں گے، کچھ لوگ غیر ملکی سازشوں کے آلہ کار بنے۔نواز شریف ستمبرکے وسط میں پاکستان آئیں گے ،ذوالفقار بھٹو اور نوازشریف کو مائنس کرنے والے عالمی قوتوں کے آلہ کار تھے چند قوتیں پاکستان کو ایٹمی طور پر مسخر کرنے والے کے خلاف ہوگئیں

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،