Baaghi TV

Tag: نیب ترامیم

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،آپ نے اس موقع پر آکر کیوں بریت دائر کی،عدالت

    190 ملین پاؤنڈ کیس،آپ نے اس موقع پر آکر کیوں بریت دائر کی،عدالت

    190 ملین پاؤنڈ نیب کیس ،سابق وزیراعظم عمران خان اورانکی اہلیہ بشری بی بی کی بریت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ،نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے، وکیل عثمان ریاض گل عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے دلائل دینے والے وکلا کے علاؤہ روسٹرم پر موجود باقی وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کر دی،عمران خان کے وکیل ظہیر عباس نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل ظہیر عباس نے کہا کہ نیب نے دسمبر 2023 میں 8 ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیا ،27 فروری کو دو ملزمان عمران خان اور بشری بی بی پر چارج فریم ہوا ، وکیل ظہیر عباس نے بانی پی ٹی سے متعلق کیس کا چارج عدالت کے سامنے پڑھا,جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ جو ٹرسٹ ہے ابھی تو موجود نہیں آپریشن آف لا کے لحاظ سے ؟وہ تو اس کو رجسٹر نہیں کر رہے ؟وکیل ظہیر عباس نے کہا کہ ابھی یہی پر ہمارا کیس زیر التوا ہے ، امجد پرویز نے کہا کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ جب جگہ منتقل ہوئی تو ٹرسٹ موجود ہی نہیں تھا ، احتساب عدالت نے میرٹس کی بنیاد کر فیصلہ نہیں دیا ،

    عدالت نے کہا کہ پہلی بات یہ رقم بیرون ملک سے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی پھر کابینہ کا فیصلہ ہے دوسرا لینڈ منتقلی ہے ؟ وکیل ظہیر عباس نے کہا کہ جی بالکل اور اب نیب ترامیم کے بعد کابینہ کے فیصلے کو تحفظ حاصل ہے ، این سی اے کی جانب سے کیا فریزنگ آرڈر ڈی فریزنگ آرڈر سامنے نہیں ہے ابھی ان کی تفتیش بھی مکمل نہیں ، جب تک میرا ذاتی مفاد ثابت نا ہو کابینہ کے فیصلے کو نیب ترامیم سے تحفظ حاصل ہے ،عدالت نے نیب ترامیم دکھانے کی ہدایت کر دی،کابینہ فیصلے کو حاصل تحفظ کے حوالے سے وکیل ظہیر عباس نے نیب ترامیم عدالت کے پڑھیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ نے اس موقع پر آکر کیوں بریت دائر کی ، وکیل ظہیر عباس نے کہا کہ کیونکہ نیب ترامیم کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے جاری کیا ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب ترامیم بحال ہوئیں ، سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل ظہیر عباس نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں استدعا کی کہ سپریم کورٹ فیصلے کے تناظر میں نیب ترامیم کی بحالی کے بعد کابینہ فیصلے کو تحفظ حاصل ہے اس لیے اس بنیاد پر بریت کی درخواست منظور کی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی تک احتساب عدالت نے کوئی فائنڈنگ نہیں دی، اگر کوئی فائنڈنگ آئی ہوتی تو ہمارا اختیار تھا،وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں گواہیان پر جراح مکمل ہو گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ رٹ پٹیشن میں اختیار محدود ہوتا ہے ہم رٹ میں گواہ کے بیانات کو نہیں دیکھ سکتے، میرٹ پر احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں وجوہات نہیں دیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ احتساب عدالت کے فیصلے کی وجوہات ہمارے سامنے نہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ احتساب عدالت کے فیصلے کی فائنڈنگ نہیں آئی ، ہم احتساب عدالت کو کیس بھیج دیتے ہیں وہ اس کا فیصلہ کر دیتے ہیں وجوہات بھی دے دیں گے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کو عمران خان اور بشری بی بی کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی،

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا

    بائیس صفحات پر مشتمل اضافہ نوٹ جاری کر دیا گیا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اضافی نوٹ میں کہا کہ فیصلے سے متفق ہوں لیکن وجوہات کی توثیق پر خود کو قائل نہیں کر سکا، اکثریتی فیصلے میں اصل مدعے پر خاطر خواہ جواز فراہم نہیں کیا گیا، فیصلے میں سابق ججز کے حوالے سے غیر مناسب ریمارکس دیے گئے، عدالتی وقار کا تقاضا ہے کہ اختلاف تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جائے،تنقید کا محور فیصلے کے قانونی اصول ہوں نا کہ فیصلہ لکھنے والوں کی تضحیک کی جائے، تہذیب و عدالتی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کی اپنی الگ وجوہات تحریر کر رہا ہوں،

    واضح رہے کہ 6 ستمبر کو نیب ترامیم بارےسپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا تھا سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لی تھیں،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا،جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل تھے،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ثابت نہیں کر سکے کہ نیب ترامیم غیر آئینی ہیں، سپریم کورٹ نے نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 3 ماہ بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم بحال کر دیں، فیصلے میں کہا ہے کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ثابت نہیں کر سکا کہ نیب ترامیم آئین سے متصادم تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی،جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا،جسٹس حسن اظہر رضوی نے بھی اضافی نوٹ تحریر کیا ،زوہیر احمد اور زاہد عمران نے متاثرہ فریق کے طور پر انٹراکورٹ اپیلیں دائر کی تھیں

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں ،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں ،بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے تھے،وفاقی حکومت نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے،رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا یا تھاجس میں کہا تھا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی ،نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    سپریم کورٹ . نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو گئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سی گرین کلر کا لباس زیب تن کر رکھا ہے.جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں

    ‏اپیل کنندہ زہیر صدیقی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آگئے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی تحریری معروضات تیار کر لی ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ اپنی معروضات عدالت میں جمع کرا دیں، کیا آپ فیصلہ سپورٹ کر رہے ہیں؟ وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ مخدوم علی خان کے دلائل اپنا رہے ہیں؟وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا مؤقف وہی ہے لیکن دلائل میرے اپنے ہیں۔

    درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو نیب قانون کو کیوں تبدیل نہیں کیا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا نا کہ نیب قانون کو , نیب ترامیم اس لیے کی گئیں کیونکہ مخصوص سیاسی رہنما اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صرف سیاست دانوں کو نیب کے دائرہ اختیار میں کیوں رکھا گیا یہ سمجھ سے بالاتر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بتائیں کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں،نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب ترامیم کیس، نیب کی کاروائی کے لیے عوام کا اختیار کتنا ہے میری سمجھ کے مطابق تو کوئی بھی شہری شکایت درج کر سکتا ہے،یہ اختیار نیب کا ہے پتہ کرے کرپشن ہوئی یا نہیں؟

    آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے،چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ سمیت جن اداروں اور شخصیات پر نیب قانون لاگو نہیں ہوتا اس حوالے سے ترمیم نہیں کی گئی، پارلیمنٹ موجود تھی قانون سازی کر سکتے تھے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 1999 سے 2018 تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں حکومت میں رہیں، تمام عرصے میں کسی سیاسی جماعت نے نیب قوانین میں ایسی ترمیم نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں عدالت میں فریق نہیں،نیب ترامیم پی ٹی آئی نے چیلنج کی، انہی سے پوچھیں گے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چیلنج کی گئی نیب ترامیم مخصوص تناظر میں کی گئیں تھی، کرپشن عوام کے بنیادی حقوق متاثر کرتی ہے، عوام کا پیسہ لوٹا جانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیب قوانین کا اطلاق پبلک آفس ہولڈر پر ہوتا ہے، پبلک آفس ہولڈرز صرف سیاستدان نہیں ہوتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ نیب ارڈیننس کب آیا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ 1999 میں آیا تھا,چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نام لیں نا وہ کس کا دور تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مشرف کا دور تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے، پرویز مشرف نے تو کہا تھا نیب کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں کو سسٹم سے نکالنا ہے،بانی پی ٹی آئی کی درخواست میں بھی کچھ ایسا ہی تھا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہماری درخواست میں کسی سیاستدان کا نام نہیں لکھا گیا، بظاہر بانی پی ٹی آئی کی حکومت بھی صرف سیاستدانوں کا احتساب چاہتی تھی،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں ، کیا آپ کو نیب پر مکمل اعتماد ہے ، کیا آپ 90 دنوں میں نیب ریمانڈ سے مطمئن ہیں ، کیا آپ 500 ملین سے کم کرپشن پر بھی نیب کی کارروائی حامی ہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل دوں گا کہ اقلیتی رائے درست نہ تھی

    خواجہ حارث نے کہا کہ دبئی لیکس اور جعلی اکاؤنٹس ہمارے سامنے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏کیا ہم زخم ٹھیک کریں مگر وجہ نہ دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ جو دلائل دینا چاہتے ہیں وہ دیں ،باقی نوٹ کروا دیں ہم پڑھ لیں گے،آپ بتائیں آپ کو کتنا وقت درکار ہو گا،خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل میں تین گھنٹے سے زیادہ وقت لوں گا،

    سپریم کورٹ،وفاقی حکومت کی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید
    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید کردی ،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے موقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں ،اضافی دستاویزات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں وکلا سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں،حکومت نے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا مؤقف بھی غلط ہےعمران خان نے سپریم کورٹ میں وکلاء تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے توعمران خان کے بیان اور حقیقت جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے،عمران خان کو جیل میں کتابیں، ایئر کولر، ٹی وی تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، عمران خان راہداری میں چہل قدمی کر سکتے ہیں، عمران خان کو ورزش کی بھی اجازت ہے

    شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا.چیف جسٹس
    خواجہ حارث نے کہا عمران خان کی درخواست پر ہائیکورٹ کے بجائے سپریم کورٹ آنے پر اعتراض نہیں بنتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کس نے دائر کی تھی؟خواجہ حارث نے جواب دیا ہائیکورٹ میں درخواست ہائیکورٹ بار نے دائر کی تھی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہمارے پاس ہائیکورٹ کا ریکارڈ آگیا ہے وہ پی ٹی آئی کے لوگ تھے، شعیب شاہین صاحب نے حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کی تھی، شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ حامد خان کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم درخواست جون 2022 میں دائر کر چکے تھے، ہائیکورٹ میں درخواست جولائی میں دائر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس لگنے سے پہلے ہائیکورٹ معاملہ پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کرچکی تھی،آپ سپریم کورٹ میں پہلی سماعت پر کہہ سکتے تھے کہ اب ہائیکورٹ میں کیس شروع ہو چکا ہے، ہائیکورٹ بار کے صدر سپریم کورٹ کو آکر کہہ سکتے تھے کیس ہائیکورٹ میں چلنے دیں یا میری درخواست بھی یہاں منگوا لیں، شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا،

    کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں،چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اگر غلط ہوں تو عدالت میں آکر نشاندہی کریں، اپنی سیاست اور آئینی معاملات کو علیحدہ علیحدہ رکھیں، اس رویے کی وجہ سے ہمارے نظام انصاف کی درجہ بندی نچلی سطح پر ہے،کیمرے پر تو سب تنقید کرتے ہیں، کھلی عدالت میں کوئی بات نہیں کرتا، کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں، باہر بات کرنا تو آسان ہے،انصاف نا صرف ہونا چاہئے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے، اگر میں نے غلطی کی تو مجھ پر انگلی اٹھائیں، دنیا کی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر اسی وجہ سے گراوٹ کا شکار ہے،اس طرح کے حکم امتناع سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، میری رائے ہے کہ قانون معطل نہیں ہوسکتا ،نیب ترامیم اتنا خطرناک تھا تو اسے معطل کردیتے، 53 سماعتوں تک ترامیم زندہ رہیں، پارلیمنٹ کے قانون کو معطل کرنا پارلیمنٹ کی توہین ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو معطل نہیں کیا جاسکتا،

    سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھی گئی جب عمران خان کے وکیل نیب ترامیم کی مخالفت میں دلائل دے رہے تھے تو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا آپکے موکل اتنے ہی ایماندار تھے تو ایمنسٹی کیوں لائی گئی؟جب چیف جسٹس پاکستان نے یہ سوال پوچھا اس وقت علیمہ خان کمرہ عدالت میں موجود تھیں

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے ذریعے اٹارنی جنرل کو نوٹس ہوا تھا، اٹارنی جنرل نے کیوں کوشش نہیں کی کہ کیس دوبارہ لگے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت موسم گرما کی تعطیلات شروع ہو چکی تھیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون بنا تو میں نے عدالت میں بیٹھنا ہی چھوڑ دیا تھا، اس وقت بحث چل رہی تھی کہ اختیار میرا ہے یا کسی اور کا ہے، باہر جا کر بڑے شیر بنتے ہیں لیکن سامنے آکر اس پر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے طاقتور ادارے تھے، بتائیں اس کیس کا کیا بنا؟خواجہ حارث نے کہا کہ طاقتور اداروں کی موجودگی کے باوجود اس کیس میں کچھ ثابت نہ ہو سکا، جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا خواجہ صاحب بتا دیں کون کونسی ترامیم کو چیلنج کیا گیا تھا، آپ نے سیکشن 9 فائیو اے میں ترامیم کو چیلنج کیا تھا، سیکشن 14 کے حذف کرنے کو چیلنج کیا تھا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ترامیم کالعدم ہو جاتی ہیں تو نقصان بانی پی ٹی آئی کو اپنے کیس میں ہو سکتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نیب قوانین کو بھگت رہے ہیں مگر چاہتے ہیں یہ کرپشن کے خلاف برقرار رہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نیب کے ادارے میں لوگ خود کرپشن کریں کون دیکھے گا ،اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کہ ادارے پر ادارہ تو نہیں بٹھایا جا سکتا ، چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی پر تو آپ کو بھروسہ کرنا ہوگا ۔

    سپریم کورٹ،وقفے کے بعد سماعت،عمران خان ویڈیو لنک پر سکرین سے غائب
    سپریم کورٹ میں سماعت کا وقفہ ہوا، دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کی ویڈیو لنک پر تصویر نہیں آ رہی تھی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ٹیکنیکل اسٹاف کو اپنے پاس بلا کر وجہ دریافت کی،عدالتی عملے نے بتایا عمران خان کمرہ عدالت میں ہونے والی گفتگو سن سکتے ہیں مگر کوئی تکنیکی مسئلہ ہے جس کے باعث انکی ویڈیو نہیں آ رہی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فون کر کے پتہ کریں اور مسئلہ حل کریں .

    کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے ایک لسٹ جمع کرائی تھی،
    لسٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2019 میں اس وقت کی حکومت نے نیب ترامیم کی تھیں، آپ چاہتے ہیں اثاثوں کی سیکشن سے کرپشن کی شرط نکال دیں صرف آمدن اور اثاثوں میں فرق ہونا کافی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی وزیراعظم سے نہیں پوچھے گا یہ گھر کہاں سے لیا وہ کہے بھائی نے تحفہ دیا تو کیا ہوگا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ایسے میں اس کے بھائی سے پوچھا جائے گا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس طرح تو یہ گھومتا رہے گا, جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ بانی پی ٹی آئی کو بھی ڈرکونین قوانین سے ایکسپوز کر رہے ہیں،اگر کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایسے میں وکیل کے خلاف بھی کاروائی ہو سکتی ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو پوری فیملی کو پتہ ہوتا ہے ہمارے سربراہ کی آمدن کتنی ہے اور خرچہ کتنا کر رہا ہے کیا ایسے میں تمام فیملی کے خلاف کارروائی ہوگی، میں وکیلوں کو تھوڑا ریسکیو کر رہا ہوں، جسٹس جمال مندو خیل کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار نہیں تھا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اسفند یارولی کیس میں سپریم کورٹ نیب کی تمام شقوں کا جائزہ لے چکی ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر پی سی او نہ ہوتا تو شاید تب پورا نیب قوانین اڑا دیا جاتا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا برطانیہ میں نیب جیسا ادارہ ہے؟ نیب پر آپ کو اتنا اعتماد کیوں ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون اور اسے چلانے والوں میں فرق ہے،دوسرے خلیفہ سے ان کی چادر کا سوال پوچھا گیا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے خلیفہ سے جس نے پوچھا تھا وہ عام آدمی تھا،عام آدمی حکمرانوں سے آج بھی پوچھ سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عام آدمی تو بیچارہ کمزور ہوتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ عوام کی طاقت، ووٹر کی طاقت کو کمزور کیوں کہہ رہے ہیں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کو ترمیم کے بعد جرم کی تعریف سے ہی باہر کردیا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس منصور نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ کیسز دیگر فورمز پر جائیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایمنسٹی پارلیمنٹ نے نہیں دی تھی.وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے فوجداری پہلو ختم نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اربوں کی جائیداد کا غبن کرکے کروڑوں روپے کی واپسی کا اختیار بھی ایمنسٹی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی حکومت کی پالیسی ہے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے حکومت جو کام ختم کرسکتی ہے وہ کام پارلیمنٹ کیوں ختم نہیں کرسکتی.وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ رضاکارانہ رقم واپسی پر عملدرآمد سپریم کورٹ نے روک رکھاہے،رضاکارانہ رقم واپسی اور پلی بارگین کی رقم کا تعین چیئرمین نیب کرتاہے،بحریہ ٹاؤن کیس میں پلی بارگین ہوئی تھی یا رضاکارانہ رقم واپس ہوئی؟460ارب روپے کے عوض سپریم کورٹ نے ریفرنس ختم کر دیےتھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تمام مقدمات متعلقہ فورم پر چلے جائیں تو کیا کوئی اعتراض ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کالعدم کیے بغیر مقدمات منتقل نہیں ہوسکتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب کی 2023 کی ترامیم مقدمات منتقلی کے حوالے سے تھیں،سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران منتقلی سے متعلق نیب ترمیم کا جائزہ نہیں لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے موکل کو فائدہ ہو، خواجہ صاحب آپ کا ریکارڈ ہے کہ کیس 53 سماعتوں میں سنا گیا،وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی پروٹیکشن آف اکنامکس ایکٹ کے تحت ہوتی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا،ایک بات پر تو قوم کیلئے سب ساتھ بیٹھ جائیں،جوائنٹ سیشن میں نیب قانون کو دوبارہ ٹھیک کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو کسی نے منع نہیں کیاکہ نیب قوانین کو سخت یا نرم نہ کریں،کل کو پارلیمنٹ نیب قوانین کو سخت بھی کرسکتی ہے، ترامیم ختم کریں اور کل پارلیمنٹ نیب قانون ہی ختم کردےتوکیا ہوگا؟1999میں مارشل لاء نہ ہوتاتو نیب قانون کا وجود بھی نہ ہوتا.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 سے پہلے احتساب ایکٹ موجود تھا، احتساب ایکٹ کا مقصد بھی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا ہی تھا،

    خواجہ حارث نے جعلی اکاونٹس کیس کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جعلی اکاونٹس کیس کی اپیل ہمارے پاس آئے، کسی کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں، کیس پر بات نہ کریں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہئے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر مملکت نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی لیکن کوئی نہیں بیٹھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائنڈ نا کیجئے گا آپ کو نیب پر بہت اعتماد ہے،کیا اب نیب ٹھیک ہوگیا ہے ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں اب ٹھیک نہیں ہے نیب پہلے ٹھیک تھا،

    میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے، عمران خان
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ہمیں سن سکتے ہیں؟کیا آپ کیس سے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں، کیس سے متعلق ہی بات کیجئے گا، آپ جیل میں اپنے حالات سے متعلق گفتگو کرنے لگ جاتے ہیں.عمران خان نے کہا کہ "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے گزشتہ سماعت پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ، مجھے تکلیف ہوئی کہا گیا کہ میں غیر ذمہ دار سا کریکٹر ہوں اس لئے لائیو نشر نہیں کیا جائے گا "، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "عدالت اپنے فیصلے کی وضاحت نہیں کرتی، آپ نظر ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں” .آپ اپنے کیس پر رہیں،عمران خان نے کہا کہ میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیل کی مخالفت کرتاہوں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم ہوئیں تو میرا نقصان ہوگا،مجھے 14 سال کی قید ہوگئی کہ میں نے توشہ خانہ تحفےکی قیمت کم لگائی، پونے دو کروڑ روپے کی میری گھڑی تین ارب روپے میں دکھائی گئی،میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے.نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتےہیں کہ پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے یا نہیں؟عمران خان نے کہا کہ فارم 47 والے ترمیم نہیں کرسکتے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر اسی طرف جارہے جو کیسز زیر التوا ہیں .

    نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے.عمران خان
    جسٹس اطہرمن اللہ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرا نوٹ نہیں پڑھا شاید، نیب سے متعلق آپ کے بیان کے بعد کیا باقی رہ گیاہے،عمران خان آپ کا نیب پر کیا اعتبار رہےگا؟ عمران خان نے کہا کہ میرے ساتھ 5 روز میں نیب نے جو کیا اس کے بعد کیا اعتبار ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جیل میں جا کر تو مزید میچورٹی آئی ہے، عمران خان نے کہا کہ ستائیس سال قبل بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا،غریب ملکوں کے سات ہزار ارب ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں، اس کو روکنا ہوگا،میں اس وقت نیب کو بھگت رہا ہوں ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب ایسے ہی برقرار رہے گی ،عمران خان نے کہا کہ نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے ، جسٹس اطہر من اللہ نے بانی پی ٹی آئی کو چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کا معاملہ یاد کرا دیا،عمران خان نے کہا کہ میں جیل میں ہی ہوں ترمیم بحال ہونے سے میری آسانی تو ہو جائے گی ملک کا دیوالیہ ہو جائے گا .حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو تھرڈ امپائر تعینات کرتاہے،نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا.دبئی لیکس میں بھی نام آچکے، پیسے ملک سے باہر جارہے ،

    جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں.جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کررہی ہیں”.عمران خان نے کہا کہ میں ایسا کوئی خطرناک آدمی نہیں ہوں ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ "حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں،جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں”، عمران خان نے کہا کہ بھارت میں اروند کیجریوال کو آزاد کرکے، سزا معطل کرکے انتخابات لڑنے دیاگیا، مجھے 5 دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کردیا،

    ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں، آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں،عمران خان نے کہا کہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہواہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کچھ بھی ہوگیاتو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا،ہم آپ کی طرف دیکھ رہے، آپ ہماری طرف دیکھ رہے،ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے روک دیا اور کہا کہ سائفرکیس میں شائد اپیل ہمارے سامنے آئے.

    خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں.چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کیوں نیب بل کی مخالف نہیں کی؟عمران خان نے کہا کہ یہی وجہ بتانا چاہتاہوں کہ حالات ایسے بن گئے تھے، شرح نمو چھ عشاریہ دو پر تھی، حکومت سازش کے تحت گرا دی گئی، پارلیمنٹ جا کر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتاتھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں ،عمران خان نے کہا کہ ہم نے حکومت آنے کے بعد بلیک اکانومی کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے ایمنسٹی دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک کو بانی پی ٹی آئی کے سامنے کردیا اور کہا کہ یہ رکن پارلیمنٹ ہیں دشمن نہیں ، پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں ، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ، ہم سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے مگر آپ کو روک نہیں رہے ، ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق نائک صاحب آپ کی بھی ذمہ داری ہے، ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں .

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خان صاحب آپ سارا دن بہت تحمل سے بیٹھے،نیب نے ریکوڈک کیس میں 10 ارب ڈالر کی ریکوری کیسے لکھ دی، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ ہماری ان ڈائریکٹ ریکوری تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب پراسکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی غلط دستاویز دائر کرنے پر اپ کو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے، کدھر ہیں پراسیکیوٹر جنرل کیسے یہ غلط دستاویز پیش کیں، نیب کے یہ والے پراسیکیوٹر آئندہ اس عدالت میں نہ آئیں، چیف جسٹس ریکوڈک ریکوری کا کریڈٹ لینے پر نیب پر برہم ہو گئے. کہا کہ اپ سپریم کورٹ کو مذاق نہ سمجھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو ایسی رپورٹ لکھتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دلائل مکمل ہو گئے،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر آج کے کیس کی کارروائی مکمل ہو گئی،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف کیس، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا.سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک ہفتے میں کوئی فریق اگر کوئی دستاویزات جمع کروانا چاہتا ہے تو کروا دے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوا دیا.حکمنامہ میں کہا گیا کہ نیب کا 10 ارب ڈالر ریکوری کا کریڈٹ لینا سرپرائزنگ تھا.اداروں کی جانب سے ایسی غلط دستاویزات جمع نہیں ہونی چاہیے، چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل خود ریکوری اور بجٹ کی اصل رپورٹ پیش کریں، نیب کا گزشتہ 10 سال کا سالانہ بجٹ بھی دیکھنا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کے مطابق، وفاقی حکومت اس کیس میں اپیل دائر کر سکتی تھی،نیب کا آج جمع کرویا گیا جواب مسترد کرتے ہیں،

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

  • نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت 30 مئی کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    تحریری حکم نامے میں قرا ر دیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دی گئی، درخواست میں ایک جواز یہ پیش کیا گیاکہ دیگر کیسز کے مقابلے میں اس کیس کی عدالتی کارروائی براہ راست نشر نہ کرنا امتیازی سلوک ہے۔

    تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ کے پی حکومت کا جواز حقائق سے منافی ہے کیونکہ بہت کم مقدمات کی کارروائی براہ راست دکھائی گئی، کچھ مقدمات کی براہ راست نشریات دکھائی گئی لیکن بعد میں انصاف کی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نشریات روک دی گئی، خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست میں کوئی قانونی نقطہ بیان نہیں کیا گیا ہے، یہ نہیں بتایا گیا خیبر پختونخوا حکومت کے بنیادی حقوق سے کیسے انحراف کیا جا رہا ہے؟ لہٰذا براہِ راست نشریات دکھانے کی خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

    غیر مناسب رویے پر توہین عدالت کی سزا ،وفاقی سیکرٹری غیر مشروط …

    حکم میں مزید کہا گیا کہ 18 ستمبر 2023 کی فل کورٹ میٹنگ میں عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا، عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کے لیے میکانزم طے کرنے کے لیے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی، ججز کمیٹی نے 16 اکتوبر 2023 کی رپورٹ میں براہ راست اسٹریمنگ کے لیے قواعد بنانے کی تجویز دی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل کمیٹی تا حال لائیو اسٹریمنگ دکھانے کے قواعد طے نہ کر سکی، اب تک 40 مقدمات کی سماعت عدالتی کارروائی کو براہ راست دکھایا گیا۔

    تحریری حکم کے مطابق لائیو عدالتی کارروائی کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا، بانی پی ٹی آئی نیب ترمیم کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں کبھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے، نیب ترامیم کیس میں بانی پی ٹی آئی نے خواجہ حارث کی خدمات بطور وکیل حاصل کیں، بانی پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں کے پی کے حکومت کو فریق نہیں بنایا۔

    الیکشن ٹربیونل میں ریٹائرڈ ججوں کی تقرری کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2023 کے نیب ترامیم فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر ہوئیں، انٹرا کورٹ اپیلوں پر بانی پی ٹی آئی کو جیل میں نوٹس بھیجا گیا، بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی کی درخواست پر انہیں ویڈیو لنک کی سہولت کی اجازت دی گئی، بانی پی ٹی آئی نے وکلا سے ملاقات کی اجازت مانگی جو عدالت کی جانب سے دے دی گئی، اگرچہ بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی اب وکلا کریں گے لیکن اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کی سہولت موجود رہے گی، عوام نے نیب ترامیم کے کیس کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، جب ایک سیاسی جماعت کا سربراہ کہے اس کو سنا جائے تو اس بات کو امکان ہوتا ہے، عدالتی کارروائی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، ان وجوہات پر عدالت لائیو اسٹریمنگ کی درخواست کو مسترد کرتی ہے۔

    01 جون تاریخ کے آئینے میں

    تحریری حکم میں قرار دیا گیا کہ اس مقدمے میں لائیو اسٹریمنگ کی درخواست ناقابل سماعت اور میرٹ پر نہیں ہے، نیب ترامیم مرکزی کیس کی 53 سماعتیں ہوئی، 53سماعتوں میں بانی پی ٹی آئی ایک مرتبہ بھی سپریم کورٹ پیش نہیں ہوئے، 53 عدالتی سماعتوں میں بانی پی ٹی آئی نے عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات کی درخواست کی نہیں کی، نہ ہی کے پی حکومت نے کبھی عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست کی، کے پی حکومت اس کیس میں فریق ہی نہیں ہے۔

    ایک کروڑ روپے تاوان کیلئے تاجراغوا،دو پولیس اہلکار اور ایک ریلوے ملازم گرفتار

    تحریری حکم کے مطابق سیاسی جماعت کا وہ سربراہ جو وکیل بھی نہ ہو اگر وہ کہے اسے سنا جائے تو اس سے یہ قوی امکان پیدا ہوتا ہے کہ عدالتی کارروائی سیاسی مقاصد اور پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال ہو سکتی ہے، ہمارے خدشات اس وقت درست ثابت ہوئے جب بانی پی ٹی آئی نے 30 مئی کو عام انتخابات کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور دیگر ایسے مقدمات کا ذکر کیا جو اس وقت ہمارے سامنے سماعت کیلئے مقرر ہی نہیں تھے، وہ فریق جو ہمارے سامنے ہی نہیں ان کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا امکان ہے۔

  • سپریم کورٹ، نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کیلئے  درخواست دائر

    سپریم کورٹ، نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کیلئے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    درخواست نیب ترامیم کیس میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سید کوثر علی شاہ کی جانب سے دائر کی،درخواست میں کے پی حکومت کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ عوامی مفاد کے مقدمات کی سماعت بنچ ون سے لائیو سٹریم کی جاتی ہیں، نیب ترامیم کیس کی اپیلوں کی سماعت لائیو سٹریم نہیں کی گئی،نیب ترامیم کیس کی لائیو سٹریمنگ نہ ہونا امتیازی سلوک ہے،خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب ترامیم کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا جائے۔

    واضح رہے کہ نیب ترامیم کیس کی گزشتہ سماعت میں عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعہ پیش ہوئے تھے،تاہم کیس کو یوٹیوب پر لائیو نشر نہیں کیا گیا تھا،دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے عدالتی کارروائی لائیو نہ ہونے کا نکتہ اٹھا یا تھا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی کاروائی براہ راست نشر نہیں ہو رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایڈوکیٹ جنرل کے پی کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی تھی.

  • نیب ترامیم کیس،عمران خان وکیل سے ہدایات لینا چاہیں تو موقع دیں،سپریم کورٹ

    نیب ترامیم کیس،عمران خان وکیل سے ہدایات لینا چاہیں تو موقع دیں،سپریم کورٹ

    نیب ترامیم کیس میں سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کیا ہے جس میں عدالت نے کہا ہے کہ عمران خان اس کیس میں وکیل کو ہدایات دینا چاہیں یا مشاورت کرنا چاہیں تو جیل سپرنٹینڈنٹ انتظامات کریں

    سپریم کورٹ نے نیب نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاقی حکومت اور دیگر کی اپیلوں کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 31 اکتوبر کو سماعت کی تھی

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اپیل کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹس کو ٹرائل جاری رکھنے لیکن فیصلہ کرنے سے روک دیا گیا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فل کورٹ کی تفصیلی وجوہات جاری ہونے کے بعد اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ جاری

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا 27صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ عدلیہ قانون سازی کا اس وقت جائزہ لے سکتی ہے جب وہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو، قانون سازوں کے مفاد کو سامنے رکھ کر جانچنا پارلیمنٹ اور جمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے،سپریم کورٹ نے 15 ستمبر کو نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا،2ایک کی اکثریت سے فیصلہ جاری کیاگیا تھا،اداروں کے درمیان توازن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب احترام کا باہمی تعلق قائم ہو، پارلیمانی نظام حکومت میں عدلیہ کو ایگزیکٹو یا مقننہ کے مخالف کے طور پر نہیں دیکھا جاتا،عدلیہ کو اس وقت تک تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک آئینی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو، نیب ترامیم کے حوالے درخواست گزار کے بنیادی حقوق کا موقف غیر یقینی ہیں،درخواست گزار کاموقف تسلیم کیا گیا تو پارلیمان کیلئے کسی بھی موضوع پر قانون سازی مشکل ہوگی

    اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پارلیمان کی جانب سے بنائے گئے قوانین بالاخر کسی نہ کسی انداز میں بنیادی حقوق تک پہنچتے ہیں ،درخواست گزار نیب ترامیم کو عوامی مفاد کے برعکس ثابت کرنے میں ناکام رہا ،درخواست آئین کے آرٹیکل 8(2) کے مد نظر درخواست کو میرٹس لیس ہونے کی وجہ سے خارج کرتا ہوں،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ،وفاقی حکومت نے اپیل واپس لے کر مہلت مانگ لی

    نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ،وفاقی حکومت نے اپیل واپس لے کر مہلت مانگ لی

    نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف نگران وفاقی حکومت کی جانب سے اپیل دائر کرنے کا معاملہ،اپیل کی درخواست دائر کرنے کے بعد واپس لے لی گئی

    وفاقی حکومت نے بذریعہ اٹارنی عدالت عظمی نے اپیل دائر کرنے کیلئے مہلت مانگ لی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اپیل دائر کرنے کے لیے 15 روز کا وقت دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے کچھ مزید گراؤنڈز شامل کی جارہی ہیں،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے سے اپیل کا حق مل گیا،

    وفاقی حکومت نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف وکیل مخدوم علی خان کے ذریعے اپیل تیار کررہی ہے،سابق چیف جسٹس بندیال نے دو ایک کے تناسب سے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا ،نیب ترامیم کے خلاف 15 ستمبر کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا

    قبل ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ھے کہ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ھے۔ سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب ترامیم کو بحال کرے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمان کے اختیارات پر تجاوز کے مترادف ہے۔ اپیل میں فیڈریشن، نیب اور چیئرمین پی ٹی آئی کو فریق بنایا گیاہے،وفاق نے اپنی اپیل میں نیب ترامیم کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار اور ترامیم کو بحال کرنے کی استدعا کی ہے

    قبل ازیں نیب ترامیم فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کی گئی تھی،ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عبد الجبار کیطرف سے نظر ثانی دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں سنے بغیر نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ دیا،نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے میرے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن عدالت کو بھجوادیا، نیب ترامیم کیخلاف درخواست میں کسی بنیادی حقوق خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی، نیب ترامیم کیخلاف درخواست آرٹیکل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تھی،سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف 15 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے،

    نیب آرڈیننس ترمیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع 

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج

    سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج

    سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج کر دیا گیا

    نیب ترامیم فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کردی گئی،ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عبد الجبار کیطرف سے نظر ثانی دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں سنے بغیر نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ دیا،نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے میرے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن عدالت کو بھجوادیا، نیب ترامیم کیخلاف درخواست میں کسی بنیادی حقوق خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی، نیب ترامیم کیخلاف درخواست آرٹیکل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تھی،سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف 15 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی نیب ترامیم کیس کا حکم نامہ چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،وزارت قانون نے نیب ترامیم پرجاری سپریم کورٹ کا فیصلہ نظرثانی کے لیے فٹ قرار دے دیا ،وزارت قانون نے نیب ترامیم فیصلے کے خلاف درخواست تیار کرلی،نگران حکومت کی حتمی منظوری کے بعد نیب ترامیم فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جائے گی

    نیب آرڈیننس ترمیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع 

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں