Baaghi TV

Tag: نیب ترامیم

  • نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے،شہباز شریف

    نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے،شہباز شریف

    لندن: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے کہا ہے کہ نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے-

    باغی ٹی وی: شہباز شریف نے کہا ہے کہ نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے، ایک ڈکٹیٹر کے قانون کو بحال کیا گیا چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے حواریوں کو این آر او دینے کے لیے دو بار نیب قانون تبدیل کیا سپریم کورٹ کے نیب ترمیم فیصلے پر بات کرتے ہوئے صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ متنازع فیصلے آئے ہیں، پارلیمنٹ کے پاس کردہ قانون کو مسترد کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پوچھنا چاہتا ہوں صدارتی آرڈیننس کے وقت جسٹس عمرعطا کہاں تھے،بے بنیاد جھوٹے مقدمات میں نوازشریف کے خلاف فیصلے ہوئے،صدر ن لیگ نے راجہ ریاض کے پارٹی میں شمولیت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینئر سیاستدان کی ن لیگ میں شمولیت سے پارٹی کو تقویت ملےگی۔

    راجہ ریاض نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کرلی

    واضح رہے کہ لندن میں راجہ ریاض نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور راجہ ریاض نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی اس سے قبل راجہ ریاض کا کہنا تھاکہ ملاقات میں سیاسی گفتگو ہوگی، نوازشریف کی واپسی اورالیکشن بھی موضوع ہوں گے آئندہ چنددنوں میں اہم فیصلے ہوں گے، میں نے 15 فروری انتخابات کی تاریخ دی ہے، اس سے ہفتہ پہلے یا بعد میں ہوں گے نواز شریف کا زبردست استقبال ہوگا، ان کا اپنا ووٹ بینک ہے، مسلم لیگ پرانی جماعت ہے، اس کے فالوورز گہرائی تک ہیں، ن لیگ کو انتخابات سے بھاگنا ہوتا تو نوازشریف واپس نہ جارہے ہوتے، جوفیصلہ ہوگا بتاکر جاؤں گا۔

    سیاسی جماعت کا عوام کو پیٹرول 165 فی لیٹر فراہم کرنے کا اعلان

  • سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا،فیصلہ کثرت رائے سے دیا گیا ،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے متعلق مختصر فیصلہ سنایا ،فیصلہ دو، ایک سے آیا ہے ،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے عمران خان کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔جب کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اختلاف کیا ،

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    بے نامی کی تعریف سے متعلق نیب ترمیم بھی کالعدم قرار دے دی گئی،آمدن سے زائد اثاثوں کی تعریف تبدیل کرنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی گئی،سپریم کورٹ نے مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ نیب پر ڈالنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ میں 53 سماعتیں ہوئیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پانچ ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے تھا کہ اہم کیس ہے، ریٹائرمنٹ سے قبل فیصلہ کروں گا

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،آصف زرداری،نوازشریف،یوسف رضا گیلانی کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس بحال
    سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سیاستدانوں کے خلاف بند ہونے والے مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس واپس بحال ہو گیا ہے ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی ریفرنس کیس بحال ہو گیا ہے، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور ریفرنس بھی بحال ہو گیا ہے

    اسلام آباد سے صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے سابق صدر آصف زرداری ، سابق وزرا اعظم نواشریف ، شاہد خاقان عباسی ، یوسف رضا گیلانی ، شہباز شریف ، راجہ پرویز اشرف ، شوکت عزیز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور دیگر کے مقدمات دوبارہ کھل جائینگے ۔

    عدالتی فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ آج پوری قوم کو مبارک ہو.عمران خان نے یہ پٹیشن فائل کی تھی پی ڈی ایم نے آتے ہی پہلے کام اپنے آپ کو این آر او دینے کا کیا تھا ،اپنے اپنے ریفرنسز اور کیسز کو بند کرنے کے لیے یہ ترامیم لائی گئی تھیں آرٹیکل 9، 14 اور 19 اے کی خلاف ورزی تھی ،سپریم کورٹ کے فیصلہ میں سیکشن 5 میں بے نامی دار کی اصل حیثیت کو بحال کر دیا گیا ہے سیکشن 9 بڑا اہم ہے جس کے سب سیکشن 5 میں آمدن سے زائد اثاثوں کی اصل شکل کو بحال کر دیا گیا یے ان کی جانب سے کوشش کی گئی تھی کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہ بنے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں، چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ نے حارث دلائل دیئے،خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ ترامیم کے بعد بہت سے زیر التواء مقدمات کو واپس کردیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ان ترامیم میں کوئی ایسی شق ہے جس کے تحت مقدس مقامات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں ؟ان ترامیم کے بعد نیب کا بہت سا کام ختم ہوگیا، خواجہ حارث نے کہا کہ پہلے تحقیقات ہوں گئیں جن کے جائزہ کے بعد مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واپس ہونے والے فورمز کا مستقبل بارے کسی کو معلوم نہیں ،نہیں معلوم کہ یہ مقدمات دوسرے فورمز پر بھی جائیں گے ؟ کیا نیب کے پاس مقدمات دوسرے فورمز کو بھجنے کا کوئی اختیار ہے ؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد ان مقدمات کو ڈیل کرنے کا اختیار نیب کے پاس نہیں، مقدمات دوسرے اداروں کو بھجوانے کا بھی کوئی قانونی اختیار نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے دفتر میں قتل ہوگا تومعاملہ متعلقہ فورم پر جائے گا، مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوانے کیلئے قانون کی ضرورت نہیں، جو مقدمات بن چکے وہ کسی فورم پر تو جائیں گے، دوسرے فورمز کو مقدمات بھجوانے کا اختیار نہیں مل رہا اس بارے ضرور پوچھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مجموعی طور پر 52 ویں سماعت کی، اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے دلائل کیلئے اٹارنی جنرل کی درخواست پر آج کا دن مقرر کیا تھا

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عدالت میں کہا کہ تحریری گزارشات عدالت کو جمع کروا دی ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی ہے؟ نیب نے مئی تک واپس ہونے والے ریفرنسز کی وجوہات بتائی ہیں،ریفرنس واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس جانب ہے،مئی تک کن شخصیات کے ریفرنس واپس ہوئے سب ریکاڑد پر آ چکا ہے، نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی دوسری جون میں آئی، مئی سے پہلے واپس ہونے والے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہی موجود ہیں، نیب کی جانب سے ان سوالات کے جواب کون دے گا؟

    سپیشل پراسیکیوٹر ستار اعوان نے عدالت میں کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کہاں ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہے، ان کی جانب سے تحریری دلائل دینگے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو پہلے بتا دیا جاتا توریگولر بنچ لگا لیتے، نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی تک نیب مقدمات واپس ہونے سے تمام افراد گھر ہی گئے ہیں یہ بھی کہا گیا کہ نیب ترامیم وہی ہیں جن کی تجویز پی ٹی آئی دور حکومت میں دی گئی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے کنڈ کٹ سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن بنیادی انسانی حقوق سے ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ کہا گیا نیب ترامیم سے میں ذاتی طور پر فائدہ اٹھا چکا ہوں، اگر میں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانا ہوتا تو اسی قانون کیخلاف نہ کھڑا ہوتا، چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، ترامیم کے تحت دفاع آسان ہے لیکن نیب کو بتا دیا ہے کہ فائدہ نہیں اٹھائیں گے،نیب کو جمع کرایا گیا بیان بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیرالتواء تحقیقات اور انکوائریاں ترامیم کے بعد سردخانے کی نظر ہوچکی ہیں، تحقیقات منتقلی کا مکینزم بننے تک عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بھی 62 ون ایف کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے، منتخب نمائندے اپنے اختیارات بطور امین استعمال کرتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی افسران کو نیب قانون سے استثنی دیا گیا ہے، وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ فوجی افسران کے حوالے سے ترمیم چیلنج نہیں کی، فوجی افسران کیخلاف آرمی ایکٹ میں کرپشن پر سزائیں موجود ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزائیں تو سول افسران اور عوامی عہدیداروں کیخلاف بھی موجود ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ سول سروس قانون میں صرف محکمانہ کارروائی ہے کرپشن پر فوجداری سزا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کرپٹ آرمی افسر کا عوام سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا؟ آرمی افسر فوج کے علاوہ کسی ادارے کا سربراہ ہو تو نیب قانون کی زد میں آتا ہے، اعلی عدلیہ کے ججز کو نیب قانون میں استثنی نہیں ہے،آرٹیکل 209 کے تحت صرف جج برطرف ہوسکتا ہے ریکوری ممکن نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج برطرف ہو جائے تو نیب کو کارروئی کرنی چاہیے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب رپورٹ کے مطابق کراچی میں 36 اور لاہور میں 21 ریفرنس زیر التوا ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ ان ریفرنسز کے تفصیل یےجو ترمیم سے متاثر نہیں ہوئے جن کا ٹرائل چل رہا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی طارق اعوان ہیں ان کے کیسز 8 سال سے چل رہے ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ غیر قانونی الائمنٹ کے کیسز تھے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پشاور میں تو کچھ باقی نہیں بچا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے اس وقت ان کیسز کا ہے جو نہیں چل رہے ،جو مقدمات واپس ہوئے وہ ابھی تک نیب کے پاس پڑے ہیں؟ نیب پراسیکوٹرنے کہا کہ جی وہ ہمارے ہاس ہی ہیں سال 2022 میں 386 ریفرنس ہمیں واپس ہوئے

    عمران خان کی درخواست پر نیب ترامیم پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ۔ کر لیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ جلد سنایا جائے گا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، بینچ کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس منصورعلی شاہ شامل ہیں ،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج نیب ترامیم کیس ختم کرنا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ پیر کو وہ کچھ وقت لیں گے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پیر تک وقت نہیں تحریری طور پر دلائل دے دیں ہم دیکھ لیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اجازت ہو تو وفاقی وکیل مخدوم علی خان سےایک بات پوچھوں کل ہم نے ترمیمی قانون میں ایک اور چیز دیکھی ایم ایل اے کے تحت حاصل شواہد کی حیثیت ختم کردی گئی اب نیب کو خود وہاں سروسز لینا ہوں گی جومہنگی پڑیں گی ایم ایل اے کے علاوہ بھی بیرون ملک سےجائیدادوں کی رپورٹ آئی ہے قانون میں تو اس ذریعے سے حاصل شواہد قابل قبول ہی نہیں نیب نے ترامیم کے بعد ریفرنسز واپس ہونے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آرکا بیرون ملک سے حاصل کردہ ریکارڈ قابل قبول شواہد کے طور پر نہیں پیش کیا جا سکتا کیا آئین پاکستان میں شکایت کنندہ کے حقوق درج ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ آئین میں صرف ملزم کے حقوق اورفیئرٹرائل کے بارے میں درج ہے آئین پاکستان شکایت کنندہ کے حقوق کی بات نہیں کرتا کل یہاں کہا گیا کہ نیب تحقیقات پراربوں روپے لگے اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی نیب مقدمات میں سزا کی شرح 50 فیصد سے کم تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم میں بھی سزا کی شرح 70 فیصد سے کم ہے ان میں سے بھی کئی مقدمات اوپرجا کر آپس میں طے ہوجاتے ہیں ہم یہ ڈیٹا دیکھ رہے ہوتےہیں جو تشویش کی بات ہے قتل کے مقدمات میں 30 سے 40 فیصد لوگوں کو انصاف نہیں ملتا جبکہ ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ کئی متاثرین عدالتوں میں ملزمان کوشناخت کرنے سے انکارکردیتے ہیں متاثرین کویقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ ملزمان کی شناخت کے بعد محفوظ رہیں گے یا نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد بین الاقوامی قانونی تعاون کے ذریعے ملنے والے شواہد قابل قبول نہیں رہے،وکیل نے کہا کہ ایف بی آرکو بیرون ممالک سے اثاثوں کی تفصیلات موصول ہوجاتی ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو ملنے والی معلومات بطور ثبوت استعمال نہیں ہو سکتیں ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ملزم سے برآمد ہونے والا مواد بھی نیب نے ہی ثابت کرنا ہوتا ہے بیرون ملک سے لائے گئے شواہد بھی ثابت کرنا نیب کی ہی ذمہ داری ہے، عدالتیں شواہد کو قانونی طورپر دیکھ کرہی فیصلہ کرتی ہیں،سوئس عدالتوں نے آصف زرداری کیخلاف اپنے ملک کے شواہد تسلیم نہیں کیے تھے، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوئس مقدمات تو زائد المعیاد ہونے کی وجہ سے ختم ہوئے تھے عدم شواہد پر نہیں ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے سوئس حکام سے معاونت کس قانون کے تحت مانگی تھی کوئی نہیں جانتا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب پر دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک سے باہمی قانونی تعاون کے ذریعے شواہد لیے جاتے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بیرون ممالک سے حاصل کردہ شواہد کی کیا قانونی حیثیت ہے؟وکیل نے بتایا کہ بیرون ملک شواہد کے دفترخارجہ کے ذریعے تصدیق کا ایک پورا عمل ہوتا ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ پاکستان کے قانون میں بیرون ملک سے قانونی معاونت کی گنجائش کتنی ہے؟ خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ پاکستانی قانون میں بیرون ملک سے حاصل قانونی معاونت کی زیادہ اہمیت نہیں رکھی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مئی2023 سے پہلے نیب ریفرنسز کا واپس ہونا سنجیدہ معاملہ ہے ہمارے پاس نیب ریفرنس واپس ہونے سے متعلق تفصیلات پرمبنی فہرست ہے بات یہ ہے کہ ہم نے آج کیس ختم کرنا ہے ہمارے پاس جمعہ کی وجہ سے آج ساڑھے 12 بجے تک کا وقت ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو ساڑھے 12 بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی معافی کی طرح نیب سے معافیاں دی جا رہی ہیں بدنیت لوگوں کے ہاتھ میں اتھارٹی دی جاتی رہی ملک میں کئی لوگوں کے پاس منشیات اور دیگر منفی ذرائع سے حاصل کردہ داغدار پیسہ ہے جس کے تحفظ کی خاطر سسٹم میں مخصوص لوگوں کو بچا لیا جاتا ہے ، ریاست کی ذمہ داری ہے منصفانہ و فیئر معاشرہ قائم کرے ریاست نے یقینی بنانا ہے مجرمان آزاد نہ گھومیں آج صورتحال یہ ہو گئی کہ معاشی مواقع چھیننے پر شہری ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں معیشت کے شعبے کو سیاسی طاقتوروں کیلئے مختص کر دیا گیا بنیادی حقوق کے براہ راست تعلق کا سوال اٹھا رہے ہیں لوگ اپنے نمائندے کسی مقصد سے منتخب کرتے ہیں جو آئین میں درج ہے دنیا بھر میں آمدن سے زائد اثاثوں کے اصولوں کا استعمال کم کیا جاتا ہے ماضی میں نیب قانون کا غلط استعمال کیا جاتا رہا قانون سازی کے ذریعے سرکاری افسران کو نیب سے تحفظ فراہم کیا جاتا رہا آڈیٹر جنرل اہم آئینی ادارہ ہےمضبوط آڈیٹر جنرل آفس صوبوں کے اکاؤنٹس کو دیکھ سکتا ہےنیب ترامیم سے براہ راست بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی نیب ترامیم سے بالواسطہ حقوق متاثر ہونے کا پہلو ضرور ہے، برا طرز یا مجرمانہ معاشرہ ہو گا تو لوگ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ نے نیب ترایم کیخلاف چیئرمین پی ٹی ائی کی درخواست کی سماعت ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی،

    دوسری جانب نیب ترامیم سے رواں سال فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ہیں، رواں سال30 اگست تک12ریفرنس نیب عدالتوں سے منتقل ہوئے، سابق صدر آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی،خورشید انور جمالی، منظور قادر ،انور مجید،حسین لوائی،مرادعلی شاہ کے کیس نیب کے دائرہ کار سے نکل گئے،رواں سال مجموعی طور پر 22 مقدمات احتساب عدالتوں سے واپس ہوئے،ترامیم کی روشنی میں 25 مقدمات دیگر فورمز کو منتقل کر دیے گئے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: نیب ترامیم کیخلاف چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل ہیں، سماعت کا آغاز ہوتے ہی سرکاری وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گٸے،حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کردیا،وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کے آغاز میں حمیدالرحمٰن چوہدری کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حمید الرحمٰن مشرقی پاکستان کے سیاست دان تھے جنہوں نے اپنے ٹرائل کی کہانی لکھی، انہیں اس بات پرسزا دی گئی تھی کہ پبلک آفس سے پرائیویٹ کال کیوں کی؟ مغربی پاکستان سے تفتیشی افسران اورجج لے کرجاتے تھے۔ یہی وہ حالات تھے جومشرقی اورمغربی پاکستان کوآمنے سامنے لائے۔ آئین قانون سازوں کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ آج ایسے قوانین کونہ پنپنے دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس ہمارے لیے ایجوکیشنل بھی ہے

    مخدوم علی خان نے ججز کو تین مختلف ملکی و غیرملکی کتابیں مطالعہ کیلئے پیش کر دیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نیب ترمیمی کیس ہمارے علم میں کافی اضافے کا باعث بنے گا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت نے ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر دلائل دینے کا کہا تھا، احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہی ماضی سے کیا جاتا رہا ہے،سال 1996 میں احتساب آرڈیننس آیا اطلاق 1985 سے کیا گیا،1997 میں دو احتساب آرڈیننس آئے انکا اطلاق بھی 1985 سے ہوا، نیب قانون 1999 میں بنا اس کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا، چیلنج کی گئی 2022 کی دونوں ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے کیا گیا، پی ٹی آئی دور میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا تھا،

    مخدوم علی خان نے آئین کے آرٹیکل 12 کا حوالہ دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب ترامیم اور ان کا ماضی سے اطلاق غیر آئینی نہیں ،بے نامی دار کے کیس میں معاملہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہوتا ہے اب کہا گیا ہے آپ پہلے ثابت کریں کہ وہ اثاثے کرپشن سے بنائے ،یہ ایک نئی چیز سامنے آئی ،اب نئے قانون کے مطابق بے نامی جائیداد رکھنا مسئلہ نہیں ،اب مسئلہ اس رقم کا بن گیا ہے کہ وہ کرپشن سے آئی یا نہیں ایسا کرنا ہے تو پھر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کو جرم کی کیٹگری سے نکال دیں ،یہ احتساب کی تو ریڑھ کی ہڈی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب نے لوگوں کے لاکرز توڑے گھروں میں گھسے اور پھر ملا بھی کچھ نہیں ،مخدوم علی خان کی جانب سے جسٹس منصور شاہ کے لکھے خورشید شاہ کیس میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا،اورکہا گیا کہ فیصلے میں عدالت نے کہا تھا پراپرٹی کسی کے قبضے میں ہے اور اس کا منافع کون لے رہا ہے دونوں چیزوں کا تعین ضروری ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آمدن سے زائد اثاثوں پر پہلے ثابت کیا جائے وہ کرپشن سے بنے ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پراسیکیوشن اگر الزام لگا رہی ہے تو اس کے پاس ثبوت ہونا لازمی ہے ہر بے نامی ٹرانزیکشن یا پراپرٹی کرپشن نہیں ہوتی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذرائع آمدن ملزم نے نہیں بتائے تو جرم ثابت نہیں ہو گا ، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ نیب ترمیم سے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے
    .وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری گزارش یہی ہے کہ بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ اب آمدن سے زائد اثاثے رکھنا کوئی سیریس جرم رہ نہیں گیا ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت آخری دو جرائم پر بھی ختم کی جا چکی ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ مجرموں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے مختلف ادوار میں جرائم سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ اپنایا جا سکتا ہےن

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق پچاسویں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں ، دوران سماعت اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب گڈ ٹو سی یو ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے عدالت کے دو منٹ چاہیے ،میرے حوالے سے خبر میں کہا گیا کہ میں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں خامیوں کو تسلیم کیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو عدالتی حکم کا حصہ ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے متعلقہ حکم پڑھنا چاہتا ہوں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مجھ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں غلطیوں کا اعتراف منسوب کیا گیا، آٹھ جون کے عدالتی حکم کے مطابق میں نے کہا تھا دو قوانین کو ہم آہنگ کرنا ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور ریویو ایکٹ کی دو شقیں ایک جیسی تھیں، ریویو ایکٹ کیس پر سماعت شروع ہوئی تو پارلیمان نے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریویو ایکٹ کیس پر عدالتی فیصلہ اگست کے دوسرے ہفتے میں آیا ہے، قانون میں ترمیم نہ کرنے کی یہ دلیل قابل قبول نہیں، پارلیمان قانون سازی میں کافی مصروف رہی، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل شاید پارلیمان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں چیف جسٹس کو ربڑسٹیمپ بنایا گیا، میڈیا میں کیا رپورٹ ہوا اس حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں نے کہا تھا پریکٹس اینڈ پروسیجراور ریویو ایکٹ اوورلیپ کرتے ہیں، میرے سامنے اخبار ہے جس میں مجھ سے منسوب بات چھپی ہے، خبر کے مطابق مجھ سے منسوب کیا گیا میں نے نقائص تسلیم کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی انگریزی اخبارات میں خبر رپورٹر کے نام سے شائع کیوں نہیں کی جا رہی، معلوم نہیں کیا یہ کوئی سنسر شپ کا نیا طریقہ آیا ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے تو تسلیم کیا قوانین میں مطابقت نہیں، جو قانون سازی کی گئی اس سے چیف جسٹس پاکستان کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا گیا، اٹارنی جنرل صاحب ہم آپ کی وضاحت کو تسلیم کرتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان ریویو ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی منتظر تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کی ہر بات مانیں گے مگر یہ بات تسلیم نہیں کریں گے، کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،

    نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا چیف جسٹس نے فہرستیں طلب کر لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم کے بعد کتنے کیسز عدالتوں سے واپس ہوئے فہرست فراہم کی جائے، ایک فہرست نیب جمع کرا چکا ہے لیکن اسے مزید اپڈیٹ کر کے دوبارہ جمع کرائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ نئے نیب قانون میں کون سی ایسی پرانی شقیں ہیں جنہیں ختم نہیں کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے نیب قانون میں کئی اچھی چیزیں بھی ہیں،نیب قانون کی وجہ سے کئی لوگوں نے بغیر جرم جیلیں کاٹیں، ہم نے دیکھنا ہے کہ نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا، نیب ترامیم سے کئی جرائم کو ختم کیا گیا کچھ کی حیثیت تبدیل کی گئی،نیب ترامیم سے کچھ جرائم کو ثابت کرنا ہی انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے، کم سے کم حد پچاس کروڑ کرنے سے کئی مقدمات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر کیے گئے، نیب ایک ہی ملزم پر کئی مقدمات بنا لیتا ہے جن میں سینکڑوں گواہان ہوتے ہیں،سیکڑوں گواہان کی وجہ سے نیب مقدمہ کئی کئی سال چلتے رہتے ہیں،اصل چیز کرپشن کے پیسے کی ریکوری ہے، ریکوری نہ بھی ہو تو کم از کم ذمہ دار کی نشاندہی اور سزا ضروری ہے،یہ درست ہے کہ نیب قانون میں کئی خامیاں ہیں اور اس کا اطلاق بھی درست انداز میں نہیں کیا گیا

    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس میں اب تک انچاس سماعتیں کرچکی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم حکومت کی نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جون کے بعد مخدوم علی خان سے ملے ہیں،ہم نے درخواست گزار سمیت دیگر وکلا کی تحریری معروضات دیکھی ہیں،اس کیس میں بہت وقت لگ چکا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد مختلف درخواستیں دائرہوئی ہیں،

    چیف جسٹس نے پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ سے متعلق گزشتہ عدالتی حکمنامے پڑھنا شروع کردیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی وکیل مخدوم خان کا مدعا ہم سمجھ چکے ہیں، مخدوم صاحب توآج کل سب کے بارے میں ہی بڑے تنقیدی ہوگئے ہیں،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ میں خامیاں ہیں، اٹارنی جنرل نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق یکم جون کومطلع کیا،اٹارنی جنرل نے جون میں کہا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو اسمبلی دیکھے گی، اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا،نہیں معلوم کہ موجودہ حکومت کا اس قانون سے متعلق موقف کیا ہے، کیا معطل شدہ قانون کو اتنی اہمیت دی جائے کہ اس کی وجہ سے تمام کیسز التوا کا شکار ہوں؟ اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ اٹارنی جنرل اپنی پوزیشن کے دفاع کیلئے یہاں موجود نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مبشرحسن کیس کے فیصلے میں وجوہات دی گئی ہیں،آٹھ ممبرز بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں سن سکتے،اگرآپ کوکوئی اعتراض ہے تونئی درخواست دائرکرکے آجائیں، کیا سپریم کورٹ اپنا کام بند کر دے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ اعتزازاحسن کیس میں کسی قانون سازی کوکالعدم نہیں قراردیا گیا، اعتزازاحسن کیس میں کہا گیا کہ قانون سازی غیرموثررہے گی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے یکم اورآٹھ جون کا فیصلہ اس لیے پڑھ کرسنایا ، تاکہ حکومت نے خودتسلیم کیا ناقص قانون سازی کی گئی، عدالتی حکم سے معطل شدہ قانون سازی کےتحت کاروائی متاثرتونہیں کی جا سکتی، خواجہ حارث نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اس وقت ان فیلڈ نہیں معطل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو قانونی نکات اُٹھائے گئے انھیں ہم سمجھ رہے ہیں، موجودہ کیس میں حکومت پاکستان نے خود اس کیس کو التواء میں ڈالنے کی استدعا کی،ہم یہاں آئین اور قانون کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں، کیس سننے کے لیے ہم میں سے ایک ممبر کو بیرون مُلک سے واپس آنا پڑا، میری ذاتی رائے یہ ہے اس کیس کو چلایا جائے، 2023 والی نیب ترامیم تو مخص ایک ریفائن کرنے کی کوشش تھی اصل نیب ترامیم تو 2022 میں آئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ 2023 والی ترامیم سے متعلق بھول جائیں، چھٹیاں چل رہی ہیں ہم صرف اس کیس کے لیے واپس آئے ہیں، آپ اپنے دلائل کو 2022 والی ترمیم تک محدود رکھیں، لگتا ہے یہ کیس ای او بی آئی بنتا جارہا ہے جو ختم نہیں ہونا، ای او بی آئی کیس میں چھ چیف جسٹس گزارے تھے،

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ 8 رکنی بنچ نےقانون سازی پرحکم امتناع دے رکھا ہے، میں نے اپنے نوٹ میں آٹھ رکنی بنچ کے اسٹے آرڈرپراعتراض نہیں کیا میرا سوال صرف اتنا ہے کیا یہ کیس اسی بنچ کوسننا چاہیے یا فل کورٹ تشکیل دینا چاہیے یہ نیٹ فلیکس سیزن تھری بن گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس مقدمے کا 2022 کی ترامیم کے حوالے سے فیصلہ کر دیتے ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023ء میں چھوٹی ترامیم ہوئی جیسا کہ مقدمہ منتقلی کے حوالے سے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں صرف بتائیں کہ 2022ء والی ترامیم میں کیا کیا شامل ہوا تاکہ کیس کو ختم کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023 والی ترامیم سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ترمیمی درخواست دائر نہیں کی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں ان کی درستگی کروا دوں گا عدالتی حکمنامے میں موجود ہے کہ میں نے 2023 والی ترامیم کا معاملہ اُٹھایا، عدالت نے مجھے متفرق درخواست دائر کر کے اور کاپی مخالف فریق کو دینے کا کہا اور یہ میں کر چُکا ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم سے کچھ لوگون کو استثنی مل گیا، خواجہ حارث کہہ رہے ہیں کہ بے نامی کا تصور بدل دیا گیا ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ 200 سال پہلے برطانیہ میں سات سو جرائم پر سزائے موت تھی، قوانین میں ترامیم سے ان سزاوں کو نرم کیا گیا،جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ بنیادی حقوق سے متعلق قانون ساز ترامیم کرسکتے ہیں، مخدوم علی کی جانب سے عدالت کے سامنے خلافت عثمانیہ اسلامی قوانین اور تاریخی کتب کے حوالے دئے گئے ،مخدوم علی خان نے کہا کہ ہاشم کمالی کی ایک کتاب کا حوالہ بھی پیش کروں گا ،جسٹس منصور شاہ نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ آپ نے یہ کتاب سم شاپنگ سے خریدی یا کہیں سے منگوائی تھی ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ برسوں پہلے میں نے یہ کتاب ایمازون سے منگوائی تھی ،جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ میں ایمازون پر اس کتاب کو ڈھونڈ لوں گا ،مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے قانون بھی سلطان بناتا تھا اور قاضی کی تعنیاتی بھی سلطان کرتا تھا اب ویسا سلطنت والا تصور موجود نہیں قانون ساز پر اعتبار کرنا چاہئے

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ،نیب ترامیم کیس، جسٹس منصور علی شاہ نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی تجویز دے دی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس

    سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، لیگی رہنما جاوید لطیف کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب اپیل پر سماعت ہوئی

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ملزم کو گرفتاری سے پہلے مطلع کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جاوید لطیف کا مقدمہ انکوائری کی سطح پر تھا جس میں گرفتاری نہیں ہوسکتی، نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ تین جولائی 2023 کی ترمیم کے بعد انکوائری کے دوران بھی گرفتاری ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جولائی میں ہونے والی نیب ترمیم مشکوک ہے، تین جولائی کو کی گئی نیب ترامیم عدالتی فیصلوں کے متصادم ہیں،سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟ نیب قانون 2001 تک ڈریکونین تھا، نیب قانون میں ریمانڈ کا دورانیہ کم کرنے اور ضمانت دینے کی ترامیم اچھی ہیں،

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کی تشریح عدالتی فیصلوں اور آئین کے تناظر میں ہی ہوسکتی ہے، عدالت نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی ،عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم تین جولائی کی ترمیم سے پہلے کا ہے، پراسیکیوٹر رضوان ستّی نے کہا کہ نیب ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیا گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوڑیں جی ان باتوں کو، چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری 

    نیب لاہور کی کاروائی، مونس الہی کے لیے مشکلات مزید بڑھنے لگیں

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہوگیا تو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہوگیا تو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا !

    جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری نوٹ میں کہا کہ ہم 19 جولائی 2022 سے نیب ترامیم کے خلاف کیس سن رہے ہیں،
    16 مارچ کو کیس کی 46 ویں سماعت کے بعد پارلیمنٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے سیکشن 3 کے مطابق 184(3) کے مقدمات کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بینچ تشکیل دے گی، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے سیکشن 4 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات کی سماعت کم از کم پانچ رکنی لارجر بینچ کرے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہونے کے بعد میں ترامیم کی گزشتہ سماعت 16 مئی کو ہوئی،16 مئی کی سماعت سے قبل میں نے کیس سننے سے متعلق چیف جسٹس پاکستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، 16 مئی کو کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، میری رائے تھی کہ نیب ترامیم کیس کی مزید سماعت پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے فیصلے کے بعد کی جائے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس کا فیصلہ کیے بغیر نیب ترامیم کیس سماعت کے لیے مقرر کیا گیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری نوٹ میں کہا کہ نیب ترامیم کیس سمیت پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون تمام زیر التوا مقدمات پر بھی لاگو ہوتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ آٹھ رکنی لارجر بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر حکم امتناع جاری کر رکھا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے خلاف حکم امتناع عبوری حکم ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو آئینی طور پر درست یا غلط قرار دیئے جانے کا یکساں امکان ہے، اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو درست قرار دیا جاتا ہے تو قانون سپریم کورٹ کے فیصلے کی تاریخ کی بجائے اپنی نافذ کی گئی تاریخ سے لاگو ہوگا،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون درست قرار دیا گیا تو نیب ترامیم کے خلاف کیس کا فیصلہ قانون کی نظر میں کالعدم قرار پائے گا، قانون درست قرار پایا تو اس کا اطلاق نفاذ کی تاریخ سے ہوگا نہ کہ عدالتئ فیصلے کے دن سے، پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی قرار پایا تو نیب کیس سننے والا بنچ غیر قانونی تصور ہوگا، میری رائے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر فیصلے تک 184/3 کے مقدمات نہ سنے جائیں،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

  • نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل تھے،

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز سامنے آئی، جسٹس منصور علی شاہ نے معاملہ میں فل کورٹ بنانے کی ابزرویشن دے دی۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق کیس میں 22 جون کو میں نے نوٹ لکھا تھا ،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے آنے کے کے بعد اس کیس کو فل کورٹ کو سننا چاہیے ،آج بھی چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ نیب ترامیم کیس کو فل کورٹ سنےابھی تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ نہیں ہوا ،اگر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہو جاتا تو معاملہ مختلف ہوتا ،پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے سیکشن 3 اور چار کی موجودگی میں فل کورٹ یہ کیس سن سکتا ہے، 

    جسٹس منصور نے کیس کی سماعت سے معذرت نہیں کی، سماعت جاری ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث خرابی صحت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہو سکے ،خواجہ حارث کی جانب سے وکیل ڈاکٹر یاسر عمان عدالت میں پیش ہوئے وکیل ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کی عدم حاضری کی وجہ سے معذرت خواہ ہیں،

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ درخواست ابھی پری میچور ہے، میں اگلے مہینے ریٹائر ہو رہا ہوں، مجھے اس مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے یہ بہت اہم مقدمہ ہے، جسٹس منصورعلی شاہ نے حکومتی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیمی ایکٹ کی موجودگی میں آپ کی کیا رائے ہے کہ موجودہ بینچ کو سننا چاہئے یا نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تیاری کر کے آئیں ہم اس مقدمے کی سماعت کا شیڈول بنائیں گے، خواجہ حارث کے معاون نے اپنے موکل کیطرف سے جواب جمع کرایا ہے،وفاقی حکومت جواب پر اپنا موقف دے داچھی چیز ہے بینچ کے خیالات میں تنوع ہیں،مخدوم صاحب وفاقی حکومت کے وکیل ہے، آپ کو 26 سماعتیں دلائل کیلئے دیں،اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے، نئے جواب پر اگر مزید دلائل دینا ہے تو موقع دینے کو تیار ہیں،کیس کی سماعت 28 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ کرینگے ، میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا، اہم معاملہ ہے اور اسکی طویل عرصے سے سماعت بھی ہو رہی ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے نکتے پر عدالت میں کوئی بحث ہی نہیں ہوئی،

    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار