Baaghi TV

Tag: نیب ترامیم

  • نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 1947 سے آج تک کے قانون کے مطابق مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزار پر ہی ہوتا ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ عدالت پارلیمان کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو منظور کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت موجود ممبران کی عددی تعداد ہونی چاہئے، نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ممبران کی درست تعداد بتا دوں گا، آج تک کوئی قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوا کہ اسے اکثریتی ممبران نے منظور نہیں کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک سوال ہے، جذباتی نا ہوں، وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ ممبران پارلیمنٹ آئین کے مطابق فیصلے کرنے کا حلف لیتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام فیصلے ملکی سلامتی، ترقی و بہتری کے لیے کریں گے، کیا ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے برخلاف قانون سازی ممبران پارلیمنٹ کے حلف کی خلاف ورزی تصور ہوگی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی عدالت ممبران پارلیمنٹ کی نیت کا تعین نہیں کر سکتی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اور ممبران کے حلف میں بس یہی فرق ہے کہ ججز قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف لیتے ہیں، ججز ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے مطابق فیصلوں کا حلف نہیں لیتے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ججز آئین و قانون کے مطابق فیصلوں کے پابند ہیں،ممبران پارلیمنٹ کی منظور شدہ قانون سازی ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے حق میں ہی تصور ہوتی ہے، امریکی سپریم کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ مقننہ کے پاس احمقانہ قانون سازی کا ہر حق موجود ہے،امریکی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ جہنم بھی جائیں تو ان کی مدد کریں گے، کسی برے یا احمقانہ قانون سازی پر بھی عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا،کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • پارلیمان کو چھوڑکرسڑکوں پرفیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ سپریم کورٹ

    پارلیمان کو چھوڑکرسڑکوں پرفیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل سے دو سوالات پر وضاحت مانگ لی ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص کو لاکھوں عوام نے ووٹ دے کر رکن پارلیمنٹ منتخب کیاآپ نے دلائل میں کہا کہ رکن پارلیمنٹ عوامی اعتماد کا امانت دار ہے، منتخب رکن پارلیمان سے باہر نکل کر کہے کہ فیصلہ سڑکوں پر کروں گا تو کیا یہ جمہوریت ہے؟ اراکین پارلیمنٹ کا پارلیمان کو چھوڑ کر سڑکوں پر فیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟اگر ارکان پارلیمنٹ عوام کا اعتماد جیت کر آئے ہیں تو پارلیمان میں بیٹھیں

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف ایکسٹینشن کیس میں قانونی خلا کو پر کیا تھا،اسفند یار ولی کیس میں بھی سپریم کورٹ نے ترامیم کالعدم قرار دی تھیں،عدالت نے کہا کہ اسفند یار ولی کیس میں عدالت نے انسانی حقوق سے منافی ہونے پر قانون کالعدم قرار دیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کیس میں تو آپ کہہ رہے ہیں کہ جو مسنگ ہے اس کو شامل کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے جو شقیں نکالی گئیں ان سے قانون ہی غیر موثر ہو گیا،نیب ترامیم کے خلاف مقدمے میں نیب قانون اصل حالت میں بحال کرنے کا کہا گیا ، جسٹس منصور علی شاہ نےکہا کہ نیب کی جن شقوں میں ترمیم ہوئی وہ بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں بہت سے سقم بھی تھے نیب قانون میں کسی شخص کو محض الزام پر 90 روز کے لیے گرفتار کر لیا جاتا تھا، نیب ترامیم ملکی قانون میں پیش رفت ہیں، نیب قانون پر ترمیم سے پہلے بہت تنقید بھی ہوتی رہی ہے، وکیل نے کہا کہ نیب سمیت کسی بھی فوجداری مقدمے میں تحقیقات کے دوران گرفتاری کا حامی نہیں ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نیت جاننے کے لیے نیب ترامیم پر جو بحث ہوئی وہ دیکھنا ہو گی،وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث ہوئی ہی نہیں ہے، عدالت نے کہا کہ حکومتی وکیل کا موقف ہے کہ نیب ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہوئیں،وکیل نے کہا کہ نیب قانون میں کوئی ترامیم عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر نہیں ہوئیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا نیب ترامیم کے خلاف پبلک بھی کچھ کہہ رہی ہے؟پھر عدالت خود سے تعین کرے کہ نیب ترامیم سے عوام متاثر ہو رہی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درشن مسیح کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا تھا،کیا نیب ترامیم کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ درشن مسیح کیس میں این جی اوز نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خواہش ہے کہ کرپشن کے خلاف بھی این جی اوز بن جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب ترامیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیر التوا ہے بتائیں کہ نیب ترامیم کے خلاف کیس واپس ہائیکورٹ کیوں نہیں بھجوایا جا سکتا؟ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کل تک ملتوی کر دی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے، چیف جسٹس

    کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے کرپشن ایک بیماری ہے،کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے کرپشن سے معیشت بھی متاثر ہوتی ہے، عدالت کے سامنے سوال ہے کہ ہم کہاں لائن کھینچیں کہ بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے،کرپشن سے سختی سے نمٹنا چاہیے عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے تو ہمارے پاس اس کا بینچ مارک کیا ہو گا؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت روزانہ کی بنیاد پر بنیادی حقوق سے متصادم معاملات پر فیصلے کرتی ہے،کل کو ہمارے پاس ایک شہری کہے پاکستان میں کرپشن کا قانون نہیں ہم پارلیمنٹ کو کہہ دیں کہ ایک قانون بنا دیں،

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سوئس اکاونٹس کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا،وکیل کے دلائل

    سوئس اکاونٹس کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا،وکیل کے دلائل

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل نے اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور افریقی یونین کے انسداد کرپشن کنونشن کے حوالے عدالت میں دیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق کرپشن کے حوالے سے کچھ بینچ مارک ہیں جنہیں برقرار رکھنا ہے ،ابھی یو اے ای بھی منی لانڈرنگ کے کمزور قوانین کی وجہ سے گرے لسٹ میں ہے، آپ کیس میں بنیادی حقوق پر بات کریں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کرپشن سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں فئیر ٹرائل اور اور برابری کا حق بھی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوامی پیسے کے غلط استعمال سے بھی عوام کا اعتماد خراب ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی باتیں پارلیمنٹ کیلئے اچھی تقریر ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تو کوئی سننے کو تیار نہیں انہیں جو کرنا ہے وہ کرنا ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سننے کیلئے پارلیمنٹ میں ہونا بھی چاہیے، اگر آپ انتخابات جیتتے ہیں تو اپنی ترامیم لائیں،خواجہ حارث نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک کرپشن قوانین اور سزاوں کو سخت کرنے کا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کا خیال ہے جو چھوٹ گئے ان کو پکڑنا مشکل ہوگا، خواجہ حارث نے کہا کہ سوئس اکاونٹس کیس میں کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا، نیب ریفرنسز میں بھی اصلی دستاویزات نہ ہونے سے ملزمان بری ہوئے،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • پاکستان میں کرپشن کیخلاف قانون 1947 سے ہے،سپریم کورٹ

    پاکستان میں کرپشن کیخلاف قانون 1947 سے ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ جنسی حراسگی سمیت ہمارے کئی قوانین میں خامیاں موجود ہیں، کیا عدالت بین الاقوامی کنونشنز کے مطابق قانون سازی کی ہدایت کر سکتی ہے؟ اگر عدالت ہدایات دے بھی تو پارلیمان کس حد تک انکی پابند ہوگی؟ وکیل عمران خان خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ عدالت کئی مقدمات میں پارلیمان کو ہدایات جاری کر چکی ہے، عدالت نے کئی قوانین کی تشریح بین الاقوامی کنونشنز کے تناظر میں کی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کنونشن میں نجی افراد کی کرپشن کا بھی تذکرہ ہے،نجی شخصیات میں کنسلٹنٹ، سپلائر اور ٹھیکیدار بھی ہوسکتے ہیں، نجی افراد اور کمپنیاں حکومت کو غلط رپورٹس بھی دے سکتی ہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پنجاب بنک کیس میں بھی نجی افراد پر 9 ارب کی کرپشن کا الزام تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کسی دوسرے ملک نے عالمی کنونشن کے مطابق کرپشن قانون بنایا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے کرپشن قانون کا جائزہ نہیں لیا،عالمی کنونشن میں درج جرائم پاکستانی قانون میں شامل تھے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے کرپشن کیخلاف عالمی کنونشن 2003 میں جاری کیا، مثبت چیز یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن کیخلاف قانون 1947 سے ہے، کیس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی گئی

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو؟ جسٹس اعجازالاحسن

    کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو؟ جسٹس اعجازالاحسن

    نیب قانون میں ترامیم کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی ،پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مالی فائدہ ثابت کیے بغیر کسی فیصلے جو غلط نہیں کہا جا سکتا، بظاہر افسران کو عوامی عہدیداران کو فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی ،وکیل نے کہا کہ ایسے فیصلہ سازوں سے ہی ماضی میں 8 ارب روپے سے زائد ریکوری ہوئی،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ریکوری عوامی عہدیداران سے ہوئی تھی؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عوامی عہدیداروں کیلئے پیسے پکڑنے والوں سے ریکوری ہوئی تھی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر سرکاری فیصلے کا کسی نہ کسی طبقے کو فائدہ ہوتا ہی ہے، وکیل نے کہا کہ جب تک پہنچایا گیا فائدہ غیر قانونی نہ ہو تو کوئی قباحت نہیں مخصوص افسر کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے پر کارروائی نہ ہونا غلط ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی ریگولیٹری اتھارٹی اور سرکاری کمپنی پر نیب ہاتھ نہیں ڈال سکتا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئی ترامیم کے بعد نیب قانون سے بچ نکلنے پر دوسرے میں پھنس جائے گا، آپ کے دلائل سے ایسا لگتا ہے احتساب صرف نیب کر سکتا ہے، احتساب کیلئے دیگر ادارے بھی موجود ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کا جرم کسی دوسرے قانون میں نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم میں نجی افراد کو جرائم سے نکال دیا گیا ہے،آمدن سے زاہد اثاثہ جات پر اس وقت کارروائی ہوگی جب کرپشن ثابت ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے کہ ترامیم سے کئی جرائم کو ڈی کریمینلائز کردیا گیا ہے؟ ریمانڈ کتنا ہو ضمانت کیسے ہوگی ان ترامیم پر آپکا اعتراض نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اچھی ترامیم ہیں ان پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات سمیت نیب قانون سے جرائم نکالے گئے،کیا ان جرائم کیخلاف دوسرے قوانین موجود ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم سے کونسے جرائم نکال دئیے گئے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرائم کو ختم کردیا گیا ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون میں آمدن سے زاہد اثاثہ جات کاجرم آج بھی موجود ہے، کیا عدالت اب قانون کے ڈیزائن کا جائزہ بھی لے گی؟ عدالت پارلیمنٹ کیساتھ چالاکی کو کیسے منسوب کر سکتی ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں درست ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائے جاتے، اثاثوں کا آمدن سے محض زائد ہونا کافی نہیں، آمدن سے زاہد اثاثہ جات میں کرپشن یا بے ایمانی کا ہونا بھی ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی عدالت آکر کہیں کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پھانسی ہونی چاہیے،جرم ثابت کرنے کا بوجھ کس پر اور کتنا ہوگا، یہ بحث عدالت نہیں پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے،

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • دوہرا معیار،نیب ترامیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست اور فائدے بھی اٹھا رہی پی ٹی آئی

    دوہرا معیار،نیب ترامیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست اور فائدے بھی اٹھا رہی پی ٹی آئی

    دوہرا معیار،نیب ترامیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست اور فائدے بھی اٹھا رہی پی ٹی آئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب آرڈیننس میں نئی ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ جانے والی تحریک انصاف کے رہنما بھی نیب ترامیم کا فائدہ اٹھانے لگے،

    عمران خان کے انتہائی قریبی اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان کے خلاف دائر ریفرنس بھی نیب کو واپس بھجوا دیا گیا، سبطین خان کو نیب نے گرفتار بھی اس کیس میں کیا تھا، سبطین خان بھی نیب ترمیمی ایکٹ سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہوگئے ہیں

    چنیوٹ معدنی ذخائر کے غیر قانونی ٹھیکہ ریفرنس واپس کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا گیا، احتساب عدالت لاہورکے جج نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ ملزمان پر 50 کروڑروپے سے کم کی کرپشن کا الزام ہے ، ترمیمی ایکٹ کے تحت 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کیسز عدالتی دائرہ اختیار سے باہر ہیں نیب ترمیمی ایکٹ کے تحت عدالت اس ریفرنس پر مزید کارروائی نہیں کرسکتی ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس بھجوانے کا حکم دیا جاتا ہے،چیئرمین نیب متعلقہ فورم پر کارروائی کو آگے بڑھائیں تمام ملزمان ضمانتوں پر ہونگے اور متعلقہ فورم پر طلب کرنے پر پیش ہونگے

    سبطین خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2007 میں جب چوہدری برادران اقتدار میں تھے بطور وزیر چنیوٹ میں معدنی وسائل کا ٹھیکہ دیا اور اروبوں رپے کی کرپشن کی،

    واضح رہے کہ نیب نے سبطین خان کو گرفتار کیا تو انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا. صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان نے سیاست کا آغاز 90 کی دہائی میں کیا، وہ 1990 سے 93 سے پنجاب اسمبلی کے رکن رہے اور ساتھ میں صوبائی وزیر جیل خانہ جات بھی تھے، چوہدری برادران کی جب حکومت بنی تو وہ وزیر معدنیات بنے، گزشتہ الیکشن میں صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور الیکشن جیتے، تحریک انصاف نے انہیں صوبائی وزیر بنا یا تھا. گرفتاری پر استعفیٰ دیا ،ضمانت پر رہا ہوئے تو تحریک انصاف نے دوبارہ وزیر بنایا، پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی تو عمران خان سبطین خان سے ہی صلاح مشورے کرتے تھے، بعد ازاں پنجاب میں دوبارہ حکومت آئی تو سبطین خان کو پنجاب اسمبلی کا سپیکر بنا دیا گیا

    مخلوط حکومت بھی ساس بہو کی طرح ہی ہوتی ہے،سبطین خان

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبرکرائم کے ملزم پکڑنے کیلئے ہمارے پاس یہ چیز نہیں،ڈائریکٹر سائبر کرائمز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    پاکستان میں سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ،ہراسمنٹ کی کتنی شکایات ہوئیں درج؟

  • اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی اصل کیس باقی ہے، دیکھنا ہوگا کیا نیب قانون میں تبدیلی بنیادی حقوق سے متصادم ہے یا نہیں؟یہ بھی دیکھنا ہے نیب قانون سے درخواست گزار کے حقوق کیسے متاثر ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی دلیل ہے کہ نیب قانون سے کسی ملزم کا جرم قبول کرنا اب کوئی جرم ہی نہیں رہا،وکیل عمران خان خواجہ حارث نے کہا کہ اب درخواستیں دیے بغیر مقدمات واپس بھیجے جا رہے ہیں، پہلے سے پلی بارگین یا رضاکارانہ رقوم کی ادائیگی بھی واپس ہو جائے گی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں نیب قانون کی تبدیلی سے پہلے کیا پلی بارگین کی رقم اقساط میں ادا ہو رہی تھی، اب دیکھنا چاہتے ہیں کیا پلی بارگین یا رضاکارانہ رقوم کی واپسی پر اقساط ملتی رہیں یا ادائیگی نہیں ہوئی، وکیل نے کہا کہ اس کا جواب نیب کے پاس ہوگا،نیب کی 2019 میں پلی بارگین کی رقم اور ریکوری میں 6 ارب کا فرق ہے، سال 2020 میں 17.2 ارب کی پلی بارگین معاہدے ہوئے، 8.2 ارب ریکوری ہوسکے،ترمیم کے بعد تمام بقایا رقم نیب ریکور نہیں کر سکے گا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ترمیم سے پہلے نیب کو رقم ریکور ہو رہی تھی؟ کیا 2018 کے بقایاجات 2021 تک کلیئر ہوچکے تھے؟ ترامیم سے پہلے بھی لگتا ہے نیب ریکوری نہیں کر رہا تھا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب کو طے شدہ شیڈیول کے تحت اقساط مل رہی تھیں،نیب حکام اس حوالے سے بہتر تفصیلات دے سکتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم سے لگتا ہے جو ریکوری ہوگئی وہ رہے گی مزید نہیں ہوسکتی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پلی بارگین بقایا جات نہ دینے والوں کا ترمیم کے بعد ٹرائل ہوگا، ٹرائل میں ملزمان کو سزا بھی ہوسکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقدمہ 50 کروڑ سے کم کا ہوا تو ازخود خارج ہوجائے گا،احتساب عدالت نیب کا دائرہ اختیار ختم کردے تو پیسہ سرکار کے پاس کیسے رہے گا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ میں واپس جانے سے جرم کیسے ختم ہوگا؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم میں نیب کا اختیار 1985 سے ہی ختم کر دیا گیا ہے، نیب کا اختیار ختم ہوگیا تو ریکور شدہ رقم کیسے برقرار رہے گی،جرم کی نوعیت کوئی بھی ہو، ٹرائل کورٹس 50 کروڑ سے کم کا ہر کیس واپس بھیج رہی ہیں، دائرہ اختیار ماضی سے ختم ہونے پر پلی بارگین کا حکم بھی منسوخ ہوجائے گا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کا سیکشن 25 پلی بارگین کی قسط کی عدم ادائیگی سے متعلق ہے،وکیل عمران خان خواجہ حارث نے کہا کہ نئی ترامیم میں ملزم پلی بارگین کی رقم واپسی کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے، ایک شخص پلی بارگین کی قسطیں کیوں ادا کرے گا جب اسے معلوم ہے کہ وہ نئے قانون سے مستفید ہو سکتا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک آپ کیس کے بنیادی نکتے پر آئے ہی نہیں ہیں، ابھی آپ نے بتانا ہے کہ نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون کے سیکشن 9 اے فائیو میں ترمیم کے بعد ملزم سے نہیں پوچھا جا سکے کہ اثاثے کہاں سے بنائے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اب کسی کو غیر قانونی ذرائع سے بنائے گئے اثاثے نیب کو ثابت کرنا ہوں گے؟ نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کر دی گئی

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • ترمیم سے لگتا  49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    ترمیم سے لگتا 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    ترمیم سے لگتا 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    نیب نے 21 سال کے دوران ہونے والی پلی بارگین کی تفصیلات جمع کرا دیں ،وکیل نے کہا کہ ترمیم کے تحت دباو کا الزام لگنے پر پلی بارگین منسوخ ہوجائے گی،منسوخ ہونے پر پلی بارگین کے تحت جمع رقم واپس کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پلی بارگین منسوخ ہونے سے سزا کیساتھ جرم بھی ختم ہوجائے گا؟ وکیل نے کہا کہ ترمیم کی تحت جرم اور سزا دونوں ہی ختم ہوجائیں گے، عدالت نے کہا کہ پلی بارگین اعتراف جرم ہوتا ہے جس کی سزا میں عدالت پیسے واپس کرنے کی منظوری دیتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی سزا قانون سازی سے کیسے ختم ہوسکتی؟ صدر بھی رحم کی اپیل میں سزا معاف کر سکتے ہیں جرم ختم نہیں ہوتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پلی بارگین جرم کی بنیاد ہے وہ ختم ہو جائے تو جرم کیسے برقرار رہے گا؟ قاتل کا جرم ختم ہو سکتا ہے تو بدعنوانی کے ملزم کا کیوں نہیں، عدالت نے کہا کہ کرپشن 50 کروڑ روپے سے کم ہو تو پلی بارگین کیساتھ مقدمہ بھی ختم ہو جائے گا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم سے لگتا ہے 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط ہے، وکیل نے کہا کہ کابینہ اور دیگر فورمز کیساتھ وزرا اور معاونین خصوصی کو بھی استثنیٰ دیدیا گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ اٹھانے والا عام آدمی بھی نیب ریڈار پر آسکتا ہے؟ معاشرہ ایسا ہے کہ کاروباری افراد کو کئی جگہ رشوت دینا پڑتی ہے، کیا کاروباری افراد کو بزنس کرنے پر بھی سزا ملے گی؟ وکیل نے کہا کہ عوامی عہدیدار کی منی لانڈرنگ میں سہولت کاری کرنے والا نیب ریڈار پر آئے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب قوانین میں ترامیم عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نہیں کی گئیں؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی غلط تشریح کرکے نیب قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں،

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین کے ترامیم میں 500 ملین کا بینچ مارک بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے مقدمات عدالتوں سے واپس آئے ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں جواب دیا کہ عدالتوں سے 219 مقدمات واپس آچکے ہیں، اب تک تعداد 280 ہوگئی، اعداد و شمار مقدمے کے آغاز میں لیے گئے تھے، تمام مقدمات نیب کو واپس آرہے ہیں جنہیں کمیٹی دیکھے گی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں بھی ایسا ہی تھا نام اور رقم نہیں بتائی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں ایمنسٹی اسکیم بھی فراڈ ہے ؟ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے پیسے کو وائٹ کرنا تو بڑے عرصے سے چل رہا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ رہا ہے مگر کرپشن کی رقم کا ایشو مختلف ہوتا ہے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے رقم ڈکلئیر کرنے والوں کو کچھ نہ کہنا نہ پوچھنے کا لکھا گیا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس میں بھی رکشے والے اور ایسے لوگوں کے کھاتوں سے اربوں نکلے تھے، نئے قانون کے مطابق احتساب عدالت اور نیب نے ہاتھ کھڑے کر دے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ترامیم کو گزشتہ حکومت نے شروع کیا تھا باتوں سے باتیں نکل رہی ہیں، دو ماہ میں ان ترامیم کی ڈرافٹنگ کا کریڈٹ وزیر قانون کو جاتا ہے،وکیل نے کہا کہ کچھ کریڈٹ سابقہ حکومت کو بھی جاتا ہے جو خود اس عمل میں شامل رہی اور پھر چیلنج کر دیا،

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،سپریم کورٹ

    پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بنچ کا حصہ ہیں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ نے کسی ختم کیے گئے قانون کو بحال کرنے کا کبھی حکم دیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ 1990 میں واپس لیا گیا قانون بحال کرنے کا حکم دے چکی ہے،عوامی عہدیدار ہونا ایک مقدس ذمہ داری ہوتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع ہوتی ہے،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،

    نیب نے اٹارنی جنرل کے دلائل اپنانے کا تحریری موقف عدالت میں جمع کرا دیا ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین سے متعلق قانون میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، پلی بارگین کی قسط نہ دینے والے کو سہولت دی گئی ہے،پہلے پلی بارگین کی رقم نہ دینے والے کیخلاف کارروائی ہوتی تھی،ترمیم کے بعد قسط نہ دینے والی کی پلی بارگین ختم ہو جائے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا کیس 50 کروڑ روپےسے کم ہو تو ازخود کیس ختم ہوجائے گا،وکیل نے کہا کہ ترمیم کے تحت ملزم بری ہوکر جمع کرائی گئی پلی بارگین رقم واپس مانگ سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو ریاست کو اربوں روپے کی ادائیگی کرنا پڑے گی، گرفتاری کے دوران پلی بارگین کرنے والا دباو ثابت بھی کر سکتا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا دباو ڈال کر ملزم سے پیسے لینا درست ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین احتساب عدالت کی منظوری سے ہوتی ہے، اگر ملزم پر دبا و ہو تو عدالت کو آگاہ کر سکتا ہے، منتخب نمائندے حلقے میں کام نہ ہونے پر عدالت ہی آسکتے ہیں اسمبلی نہیں جاتے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عمران خان پر بھی عوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا تھا، عمران خان حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر اسمبلی کیسے اور کیوں چھوڑ آئے؟ نیب ترامیم پر تمام سوالات عمران خان اسمبلی میں بھی اٹھا سکتے تھے، وکیل نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت اکثریت سے قانون منظور کروا لیتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ نے اہم نکات بتائے ہیں، بنیادی انسانی حقوق اور ملزمان کی جانب سے قانون سازی اہم سوالات ہیں،کیس کی سماعت کل دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔