Baaghi TV

Tag: نیٹو

  • روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    ماسکو: روس بچ کے نہ جائے” نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے منسلک سرحد پر تعینات روسی فوجی دستے چھاونیوں میں واپس لوٹنے لگے تھے کہ نیٹو کےطرز عمل نے پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیٹو کے اس اعلان نے روس کو بہت پریشان کردیا ہے ، یہ بھی سُننے کو آرہا ہے کہ روس امریکہ اور نیٹو اتحاد سے محاذ آرائی کی سکت نہیں رکھتا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو اتحاد نے یوکرین سرحد کے قریب سلواکیہ میں فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے، فوجی مشقیں سلواکیہ کی یوکرین کے ساتھ مشرقی سرحد کے قریب ہوں گی، یہ مشقیں مارچ کے پہلے ہفتے میں کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق اتحاد میں شامل امریکا، جرمنی، پولینڈ سمیت سات ممالک سلواکیہ میں فوجی مشقیں کریں گے، ان مشقوں میں شرکت کے لئے امریکا کےدو ہزار فوجیوں کا دستہ اور سینکڑوں گاڑیاں جرمنی سے جمہوریہ چیک میں داخل ہوگئی ہیں۔

    ادھر سلواکیہ کے وزارتِ دفاع سلواکیہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا کہ فوجی مشقوں کا روس یوکرین تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز یوکرین تنازعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فوجی مشقیں اختتام پذیر ہونے کے بعد یوکرینی سرحد کے نزدیک تعینات روسی فوجیوں کو واپس چھاونیوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا کہ جب تک انہیں فوجیوں کی واپسی کا ثبوت نہیں مل جاتا وہ اس پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔گذشتہ روز اپنے بیان میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ صاف ظاہر ہے کہ روس یورپ میں جنگ نہیں چاہتا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ روس کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔

  • روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

    روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

    واشنگٹن :روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے خیال میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے ؛ اور انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں یا پھر شدید نتائج بھگتنےکے لیے تیار رہیں۔

    بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جارحیت سے کام لیتا ہے تو یہ اس کی مرضی پر منحصرہے، جب کہ ایسی لڑائی کا کوئی جواز یا مقصد موجود نہیں ہوگا”۔

    امریکی صدر نے کہا کہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ باتیں اشتعال دلانے کے لیے نہیں، بلکہ سچ کا ساتھ دینے کے لیے کہی جاتی ہیں، چونکہ بہتر عمل کی بنیاد سچ ہی پر ہوتی ہے۔ احتساب ضروری ہوتا ہے۔ اگر روس دنوں یا ہفتوں کے اندر یوکرین کو فتح کربھی لے تو انسانی جانوں کا شدید نقصان ہوگا، جب کہ حکمت عملی کی نوعیت کی اس غلطی کی روس کو شدید قیمت چکانی پڑے گی”۔

    صدر بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جارحیت سے کام لیتا ہے تو بین الاقوامی طور پر اس کی سخت مذمت سامنے آئے گی۔ دنیا یہ نہیں بھولے گی کہ روس نے بلا ضرورت ہلاکتوں اور تباہی سے کام لیا۔ یوکرین کو فتح کرنا خود اس کے لیے بدنما داغ ہوگا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار اس کا فیصلہ کُن جواب دیں گے”۔

    اس سے قبل، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ اوراس کے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے یورپ میں میزائلوں کی تنصیب اور عسکری مشقوں کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، اس سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کی سرحد پر تعینات اپنے کچھ فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔

    پوٹن نے یہ بات کریملن میں جرمن چانسلر اولاف شلز سے ملاقات کے بعد کہی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ مغرب سے بات کی جائے باوجودیکہ وہ روس کے اہم مطالبات مسترد کرتے رہے ہیں۔ روس نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ یوکرین اور دیگر سابق سویت ریاستوں کو نیٹو کا رکن نہ بنایا جائے اور روس کے قریب مشرقی یورپ میں تعینات مغربی ملکوں کی فوجوں کو واپس بلایا جائے۔

    روسی سربراہ نے کہا کہ ماسکو کی کوشش ہو گی کہ وہ نیٹو کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کرے، جب کہ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغرب کو چاہیے کہ ان کےمطالبات کی جانب توجہ مبذول کرے۔

    ا قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، اینتونیو گتیرس نے پیر کے دن یہ کہتے ہوئے کہ’سفارت کاری کا کوئی نعم البدل نہیں ہے”،روس، یوکرین اور مغربی ملکوں پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم اس قسم کی تباہ کن محاذ آرائی کے امکان کے کسی صورت میں متحمل نہیں ہو سکتے۔ عالمی ادارے کے سربراہ نے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ فریقوں سے رابطے میں رہیں گے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے حل تلاش کرنے کے حوالے سے اپنے دفتر کی خدمات کی پیش کش بھی کی۔

    منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ نےاپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ایک بیان میں محکمہ خارجہ کے ترجمان، ٹیڈ پرائس نے بتایا ہے کہ بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ یوکرین کے معاملے کےسفارت کاری کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیتا رہے گا، جس بحران کا باعث خود روس بنا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اس بات کا منتظر ہے کہ روس ان دستاویزات کا تحریری جواب دے جو گزشتہ ماہ امریکہ اور نیٹو کی جانب سے روس کے حوالے کی گئی تھیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ امریکہ کے اتحادی اور شراکت داروں سے رابطہ کرکے یورپی سیکیورٹی کے معاملے پر بات چیت کی جائے، جس کے لیے ٹھوس بنیادیں تجویز کی گئی تھیں۔

  • روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    ماسکو:روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے معاملے پرروس کوتنقید کا نشانہ بنانے پرروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی ہم منصب کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ منظراس قدر اہمیت اختیار کرگیا کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں‌

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مسئلے پربرطانوی تنقید سے ناراض روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ کچھ منٹوں کے بعد برطانوی وزیرخارجہ بھی کانفرنس ہال سے چلی گئی۔برطانوی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی وزیرخارجہ، دولت مشترکہ اورترقیاتی امورکی وزیرلزٹریس یوکرین کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے ماسکو پہنچی تھیں۔

    برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روس کوآگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پراسے پڑوسی کی سرحد عبور کرنے سے باز رہنا اورسرد جنگ جیسے رویے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے ماسکو کو خبردارکیا کہ وہ یوکرین کے مسئلے پردنیا کوبیوقوف بنانے کی کوششیں نہ کرے۔روسی وزیرخارجہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیرکے ساتھ ملاقات ایسی رہی جیسے کسی گونگے اوربہرے سے ملاقات کی جائے۔

    سرگئی لاروف کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی عہدیدارنے ماسکو کا دورہ ایسے کیا جیسے برطانوی سامراج میں حکام اپنے مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں روس کویوکرین سے متعلق ڈرانے اوردھمکیاں دینے سے باز رہیں۔

    دوسری طرف امریکہ اور نیٹو اتحادی اس وقت یوکرائن کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور بھر پور فوجی امداد دے رہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ ان اقدامات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ار اتحادی اس صورت حال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جنگ سے بچنے کے لیے روس کو ہی حکمت عملی کے تحت واپس جانا پڑے گا یا پھرٹکراو کے لیے تیار رہنا ہوگا

  • یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    بیجنگ :یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق چین اور روس نے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے، خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ساتھ نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کر دی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین اور روس کے صدور کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چین اور روس خارجہ پالیسی میں ایک دوسرےکی حمایت کریں گے کیونکہ کوئی بھی ملک دوسروں کی قیمت پر اپنی سلامتی کو بہتر نہیں کر سکتا، دونوں ممالک نے بیرونی مداخلت ناکام بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

    مشترکا اعلامیے میں چین اور روس کی جانب سے نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کی گئی ہے اور نیٹو سے سردجنگ کی سوچ سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    روس اور چین نے امریکا کے بائیولوجیکل وار فیئر پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معاملے پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین خلا میں ملٹرائزیشن روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس تصدیق کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے جبکہ چین نے روس کے مغربی ممالک سے سکیورٹی گارنٹی مطالبے کی حمایت کی ہے۔

    دوسری طرف امریکہ کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے جب چین نے امریکہ کی طرف سے یوکرین کے معاملے پر روس کوسمجھانے کی پیش کش کی مگر چین نے سمجھانے کی بجائے روس کی حمایت کا اعلان کردیا ، جس کی وجہ سے اب معاملات مزید پچیدہ نظرآتے ہیں‌

    بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ ان حالات میں امریکہ یوکرین کے معاملے پر پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہر صورت یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنا

  • روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    واشنگٹن:روس سے تنازع؛ امریکی صدر کا مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے مسئلے پر روس سے پیدا ہونے والے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیدیا۔

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی مشرقی یورپ میں تعیناتی کا حکم دیدیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی۔
    مشرقی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا۔

    اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔

    خیال رہے کہ روس کے مبینہ حملے اور جارحیت کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اس حوالے سے نیٹو افواج کی پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرائن پر حملے کو امریکا اور برطانیہ کا خطے میں مداخلت کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت جواز پیدا کر کے خطے پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    ماسکو:امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: اطلاعات کے مطابق یوکرین تنازع پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں پر روس کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اختیار کردہ موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں روس کے سفارت خانے نے منگل کو کہا ہے کہ یوکرین پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    روسی سفارتخانے کے اعلی افسر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کو سن کر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ واشنگٹن ہےجو تناؤ پیدا کرتا ہے۔

    توقع کی جارہی ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن منگل کو یوکرین تنازع پر ٹیلی فونک رابطہ قائم کریں گے۔

    حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کی وجہ امریکہ نے روس پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ عنقریب یوکرین پر حملہ کردے گا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بارہا پیوٹن کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ یوکرین پر حملہ کرتے ہیں تو بڑے پیمانے پر مغربی پابندیوں کے لئے تیار رہے۔

    واضح رہے روس نے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔ اس تناظر میں مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ وہ حملہ کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے بلنکن لاوروف کی بات چیت سے قبل، ماسکو نے یوکرین کے بارے میں اپنے موقف پر واشنگٹن کو ایک خط بھیجا تھا۔

  • روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

     

    لاہور:روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن ,یوکرائن کی سرحدوں پر اس وقت سخت دباو ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادی یوکرائن کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں تاکہ روس کی فوجی قوت کو کمزور کیا جاسکے ، ایسی صورت میں اگرنیٹو اور دیگر قوتیں میدان میں اتریں تو یہ جنگ عالمی جنگ کی شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے

     

    ان حالات میں جبکہ دونوں طرف سے سخت چپقلش پائی جارہی ہے ، دفاعی ماہرین نے روسی اور یوکرائنی افواج کے درمیان قوت کے تخمینے اور اندازے لگانے شروع کردئیے ہیں ، اس حوالے سے جو تازہ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق روس کی باقاعدہ افواج کی تعداد نو لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یوکرائن کی مسلح افواج کی تعداد دو لاکھ نو ہزار تک ہے

     

     

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ روس کو ریزور افواج کی صورت میں بیس لاکھ فوجیوں کی کمک حاصل ہوگی جبکہ یوکرائن کو صرف نو لاکھ فوجیوں کی مدد حاصل ہوگی

     

    دفاعی ماہرین کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق روس کے پاس آرٹلری کی تعداد 7571 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 2040 ہے

     

    روس کے پاس فوجی گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 12303 ہے ، ایسے ہی روس کےپاس 12420 ٹینکس ہیں جبکہ یوکرائن کےپاس یہ تعداد صرف 2596 ہے

     

    روس کے پاس جنگی ہیلی کاپٹرز کی تعداد 544 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد صرف 34 ہے ،روس کے پاس فائٹراٹیک ایئر کرافٹ کی تعداد 1511 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہی تعداد صرف 98 ہے ،

     

    روس کا سالانہ دفاعی بجٹ 61 ارب ڈالرز سے زائد ہے جبکہ یوکرائن کا دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالرز سے زائد ہے یوں اگردیکھا جائےتو روس کے مقابلے میں یوکرائن کی فوجی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے

     

    لیکن یہی طاقت اس صورت میں روس کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی نظرآتی ہے جب روس کی مخالف قوتیں امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادی یوکرائن کو بھاری اسلحہ دے رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یوکرائن اور روس کا ٹکراو ہو ہی جائے تاکہ روس کی فوجی قوت کو زنگ لگ جائے یا پھرروس کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے ، اس صورت میں پھرامریکہ کے سامنے چین ہی بڑی قوت رہ جائے گا اور چین سے نمٹا امریکہ اور اتحادیون کے لیے آسان ہوگا

  • روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    ماسکو: روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان،اطلاعات کے مطابق روس نے جنوبی کریمیا میں نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق روسی فوج کے ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ تقریباً 6000 فوجیوں اور کم از کم 60 لڑاکا طیاروں پر مشتمل لائیو فائر ڈرلز کے عنوان کے تحت فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا، یونٹ وسیع پیمانے پر کاموں کو سرانجام دینے کی مشق کریں گے۔

    مشقیں ہر قسم کی ہوا بازی، میزائل ڈویژن، بحری بیڑے اور کیسپین فلوٹیلا کے جہاز گروپوں پر مشتمل ہوں گی۔ مشقوں کو جنگی تیاریوں کو جانچنے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ جس کی وجہ کریمیا پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔

    روسی خبر رساں ایجنسیوں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    واضح رہے یہ مشقیں روس سے الحاق شدہ کریمیا اور جنوبی روستوف اور کراسنودار کے علاقوں میں ہوں گی۔ اس بابت بھی آگاہ نہیں کیا گیا ہے کہ اوپر بیان کی گئی مشقیں کب تک جاری رہیں گی۔

    یاد رہے مغرب روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے یوکرائن کی سرحد پر لگ بھگ100,000 فوجیوں کو جمع کر رکھا ہے۔ فوجیوں کی تشکیل نے سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔

  • امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    ماسکو:امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ ،اطلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادیوں نے روس کو سخت سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے ،

    ادھر روس نے امریکہ کی اس دھمکی جا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں

    دوسری طرف روس نے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی دھمکیوں‌ کو بھی مسترد کردیا ہے ،امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں،

    روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی۔

    روسی سفارت خانے کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کیپیٹل ہل پر روس مخالف پابندیوں کے ساتھ ساتھ روسی فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ذاتی پابندیاں متعارف کروانے کے مطالبات اشتعال انگیز اور ناامید ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلیٰ سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔

    مزید پڑھیں : روس امریکا مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم
    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    نیویارک:روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق نیٹو ممالک (مغربی عسکری اتحاد) نے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا ہے۔

    نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یوکرائن کی سرحد پر روس کی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    نیٹو کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق وزرائے خارجہ وڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات کریں گے۔

    وزرائے خارجہ یورپ کی سلامتی کے ساتھ ساتھ یوکرائن کی سرحد پر روس کی جانب سے فوجی اور ہتھیار جمع کرنے کے بعد پیدا ہونے والی بین الاقوامی کشیدگی پر بھی وسیع تناظر میں بات کریں گے۔

    اجلاس کے اختتام پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی صحافیوں کو بریفنگ بھی متوقع ہے۔

    نیٹو وزرائے خارجہ کا اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ 10 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے اجلاس سے قبل منعقد ہوگا۔

    اس کے علاوہ نیٹو روس کونسل کا اجلاس 12 جنوری کو متوقع ہے جس سے نیٹو اور روس کے درمیان طویل عرصے کے بعد رابطہ قائم ہوگا۔

    ان دو اجلاسوں کے علاوہ آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (OSCE) کا اجلاس 13 جنوری کو ہوگا۔ اِس تنظیم میں روس، یوکرائن، امریکا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

     

    نیٹو کے وزرائے خارجہ کی آخری ملاقات 30 نومبر کو لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ہوئی تھی اور نومبر سے روس کو دی جانے والی وارننگ دہرائی گئی تھی۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرائن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی، جارحیت کے نتائج سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کی شکل میں سامنے آئیں گے۔