Baaghi TV

Tag: نیٹو

  • روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

    روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

    برسلز:روس فی الفور یوکرین پر حملے روک دے:نیٹو کی گیدڑ بھپکیاں،اطلاعات کے مطابق برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں جنرل سیکریٹری نے یوکرین میں روس کو فوری حملے روکنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔دوسری طرف روس نے نیٹو کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں پرسخت جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے

    برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اجلاس میں تمام نیٹو اتحادی ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یوکرین کی زمینی اور فضائی حدود میں نیٹو افواج داخل نہیں ہوں گی۔

    سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کا کہنا ہےکہ یوکرین میں روسی حملے میں اس سے بھی بدتر گے اور ہم اسے اس کی قیمت ادا کرائیں گے۔اسٹولٹن برگ نے یہ بات بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں کہی۔

    روس کے صدر ولادیمیرپیوٹن سے یوکرین میں فی الفور جنگ فوری طور پر بند کرنے اور غیر مشروط طور پر یوکرین سے اپنی تمام افواج واپس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹولٹن برگ نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں یوکرین میں وسیع پیمانے کی ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ہے۔

    اسٹولٹن برگ نے کہا کہ اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین کی سرزمین یا یوکرین کی فضائی حدود پر نیٹو کی کوئی فوج نہیں ہونی چاہیے۔یہ بتاتے ہوئے کہ نیٹو سفارتی راستے کھلے رکھنے کے لیے اپنا مؤقف برقرار رکھتا ہے، اسٹولٹن برگ نے یوکرین کے تنازع میں نیٹو کی مداخلت پر یورپ میں وسیع پیمانے پر جنگ کے امکان کی طرف توجہ مبذول کرائی۔

    یہ بتاتے ہوئے کہ آنے والے دنوں میں یوکرین کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، اسٹولٹن برگ نے پیوٹن سے سفارتی ذرائع کا سہارا لینے کا مطالبہ کیا۔
    اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو اتحادیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جنگ کو یوکرین سے آگے بڑھنے سے روکیں۔

    اسٹولٹنبرگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین میں کوئی نو فلائی زون نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی فوجی بھیجے جائیں گے۔جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کریں گے؟ کے جواب میں کہا کہ”نیٹو یوکرین کو مختلف قسم کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔

    یہ علم ہے کہ اتحادی ممالک ٹینک شکن ہتھیار اور فضائی دفاعی میزائل فراہم کرتے ہیں، البتہ میں مزید تفصیل میں نہیں جا سکتا۔”

  • رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    کیف :جلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے روس کیخلاف لڑنےکیلئے آنیوالے غیرملکیوں پر سے ویزا پابندی اٹھالی،یوکرین نے روس کے خلاف لڑنےکے لیے یوکرین آنے والے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کردی۔

    خیال رہےکہ یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شمولیت اختیار کرلیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے حکم نامے کے تحت عارضی طور پر ویزا پابندی اٹھالی ہے ، اس طرح روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کی جدوجہد میں عملی شرکت کے خواہشمند افراد باآسانی یوکرین داخل ہوسکیں گے۔

    یوکرین کی جانب سے یہ سہولت روسی شہریوں کے لیے نہیں ہے اور انہیں حکم نامے میں جارح ملک کے شہری قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کو یوکرین میں داخلے کے لیے اپنا عسکری پس منظر بتانا ہوگا، اس کے علاوہ انہیں اپنا دفاعی فوجی سازوسامان لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے اپنے شہریوں کو یوکرین میں روسی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے بننے والی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ڈنمارک کےشہری روس سے لڑنےکے لیے عالمی بریگیڈ کا حصہ بن سکتے ہیں، یہ آزادی کا معاملہ ہےکوئی بھی اپنی پسند سےفیصلہ کرسکتا ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ آزادی ڈنمارک میں رہنےوالے تمام یوکرینی شہریوں کے ساتھ ساتھ ایسے غیریوکرینی باشندوں کے لیے بھی ہےجو روس کےخلاف جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہتے ہیں۔

  • پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    واشنگٹن: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی نیوکلیئر فورسز کو تیار رہنے کی ہدایت پر نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں روسی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا روس کے انرجی سیکٹر پر پابندی عائد کرنے پر غور کررہا ہے۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات کھل گئیں

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھومیس گرین فیلڈ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے ایک پروگرام میں کہا کہ پیوٹن کے اقدامات نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے یوکرین اور روس کے مابین مذاکرات کا امریکا خیر مقدم کرتا ہے تاہم روس کا اپنی نیک نیتی کو ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔

    دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹنبرگ نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ روس کی جانب سے یہ اقدام خطرے کا حامل ہے اور پیوٹن کا یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

    یوکرین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پیوٹن کا نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ کرنا دراصل مذاکرات سے قبل کیف کو پریشر میں لانا ہے لیکن کیف دباؤ میں آنے والا نہیں۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک کی جوہری فورسز کو مغربی جارحانہ بیانات کے پیشِ نظر تیار رہنے کے حکم دے دیا ہےنیویارک پوسٹ کے مطابق پیوٹن کی جانب سے روسی نیوکلیئر فورسز کو دی گئی یہ ہدایت روس کے جوہری ہتھیاروں کی لانچنگ کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی مذکورہ بالا ہدایت سے خدشہ ہے کہ روس اور یوکرین کا تنازع ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
    اعلیٰ روسی حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران پوٹن نے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ جنرل اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ جوہری فورسز کا جنگی ذمہ داریوں کے مخصوص نظام میں اندراج کریں۔

    پیوٹن نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ریمارکس میں کہا کہ مغربی ممالک نہ صرف اقتصادی میدان میں ہمارے ملک کے خلاف غیر دوستانہ اقدامات کر رہے ہیں بلکہ نیٹو کے سرکردہ اراکین کے اعلیٰ حکام نے ہمارے ملک کے بارے میں جارحانہ بیانات دیے ہیں۔

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

  • امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    واشنگٹن :امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان،اطلاعات کے مطابق جوں جوں روسی افواج یوکرین کے اندراپنی فتوحات جاری رکھے ہوئےہیں ایسے ایسے امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادیوں کی نیندیں بھی حرام ہوگئی ہیں ، جہاں ایک طرف یوکرین کو جنگ میں جھونکنے والا امریکہ کئی دنوں سے زبانی مدد کا وعدہ کررہا تھا ، وہاں اب امریکہ نے عملی طور پرجنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ،

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ابھی تھوڑی دیر پہلے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے پریس اسٹاف کے ذریعے ایک میمو جاری کیا جس میں انہوں نے کانگریس سے 350 ملین ڈالر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ فوجی امداد بہت ضروری اور فی الفور ملنی چاہیے ۔امریکی صدر کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پورے مشرقی یورپی ملک میں رات بھر جاری افراتفری کے درمیان وہ یوکرین کو فوری فوجی مدد فراہم کرنے کے خیال پر قائم ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعہ کی رات کچھ اس سے پہلے کچھ ایسے بھی فیصلے کیئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیڈن نے تنازعہ میں مداخلت کا فیصلہ کیا لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ وہ یوکرین کے ملک کو کس قسم کی فوجی امداد فراہم کرے گا۔ یہ وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع ہونے والا پورا میمو ہے: "آئین اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قوانین کے تحت صدر کے طور پر مجھے حاصل کردہ اختیار کی طرف سے،

    یاد رہے کہ پہلے تو جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ریاستہائے متحدہ کے فوجی دستے یوکرین کے ملک میں داخل نہیں ہوں گے۔ تاہم رات بھر کی صورتحال اس کے ہاتھ کو مختلف قسم کی فوجی امداد کی پیشکش پر مجبور کر رہی ہےاور یہ امکان ہے کہ امریکی فوج یوکرین کے صدر اور وزیراعظم کی زندگیوں کو بچانے کےلیے کوئی نہ کوئی آپریشن کریں‌، لیکن دوسری طرف امریکہ کو روس کی طرف سے سخت ردعمل کا بھی ڈر ہے،

    یاد رہے کہ کانگریس یوکرین کو فوجی سازوسامان، مواصلاتی آلات اور دوسری قسم کی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری رقم فراہم کر سکتی ہے جس کی یوکرین کو بطور ملک روس کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ضرورت ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ولادیمیر پوٹن اس حملے کے خلاف یہ واضح کارروائی کیسے کریں گے جو وہ مسلسل دو دن سے کر رہے ہیں۔

  • یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    میونخ:یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس نے امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادیوں کو جوہری جنگی مشقیں شروع کرکے ایک وارننگ دی ہے تو دوسری طرف امریکہ ، نیٹو اور دیگر اتحادی بھی مقابلے کے لیے تیار نظرآتےہیں ، ادھر اسی اثنا میں جرمنی میں جاری میونخ سکیورٹی کانفرنس میں امریکا اور نیٹو اتحادیوں نے روس کو اشتعال انگیزی کاذمہ دار قرار دے دیا، غیر معمولی پابندیوں کی دھمکی بھی دے ڈالی، چین نے روس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ماسکو کے خدشات کو دور کرنے پر زور دیا۔

    جرمنی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس جاری، یوکرین کا معاملہ زیر بحث آیا تو یوکرین کے صدر کا کہنا تھا کہ کیف ماسکو کے خلاف یورپ کی ڈھال ہے،یوکرین نے8 سال سے دنیا کی بڑی فوج کو روک رکھا ہے، روس کے ہرقسم کے اقدام کے لئے بھرپور تیار ہیں۔

    نیٹو کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ روس مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کی کمی چاہتا ہے مگر اس اشتعال انگیزی سے نیٹو افواج کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ حملے کی صورت میں صرف معاشی پابندیاں ہی نہیں لگیں گی بلکہ نیٹو کے مشرقی دفاع کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

    چینی وزیر خارجہ نے امریکا اور یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا، میونخ کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب میں کہا کہ امریکا اور مغربی ممالک روس کے خدشات کا احترام کریں، کیا نیٹو کے مشرق کی جانب پھیلاؤ سے یورپ میں امن قائم ہو جائے گا۔

    یوکرین کو مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا کام کرنا چاہیے، محاذ کا نہیں میونخ سیکورٹی کانفرنس کی سائڈ لائنز میں جی سیون کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہوا۔

    یوکرین کی مشرقی چیک پوسٹ پر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی شیلنگ کے بعدحالات مزید کشیدہ ہوگئے، درجنوں راکٹ یوکرینی وزیر داخلہ کے فرنٹ لائن کے دورے کے دوران سو میٹر کی حدود میں گرے۔ روس نے جوہری جنگی مشقوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا، روسی فضائیہ نے جنگی طیاروں سے ہائپر سانک کروز میزائل ہدف پر داغے، وزارت دفاع نے بیلسٹک میزائل بھی فائر کرنے کی ویڈیو جاری کردی۔

    جرمنی اور فرانس نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا کہہ دیا، جرمن ایئر لائن لفتھانسا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اوڈیسا کے لئے پروازیں منسوخ کر دیں۔

  • روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    ماسکو: روس بچ کے نہ جائے” نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے منسلک سرحد پر تعینات روسی فوجی دستے چھاونیوں میں واپس لوٹنے لگے تھے کہ نیٹو کےطرز عمل نے پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیٹو کے اس اعلان نے روس کو بہت پریشان کردیا ہے ، یہ بھی سُننے کو آرہا ہے کہ روس امریکہ اور نیٹو اتحاد سے محاذ آرائی کی سکت نہیں رکھتا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو اتحاد نے یوکرین سرحد کے قریب سلواکیہ میں فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے، فوجی مشقیں سلواکیہ کی یوکرین کے ساتھ مشرقی سرحد کے قریب ہوں گی، یہ مشقیں مارچ کے پہلے ہفتے میں کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق اتحاد میں شامل امریکا، جرمنی، پولینڈ سمیت سات ممالک سلواکیہ میں فوجی مشقیں کریں گے، ان مشقوں میں شرکت کے لئے امریکا کےدو ہزار فوجیوں کا دستہ اور سینکڑوں گاڑیاں جرمنی سے جمہوریہ چیک میں داخل ہوگئی ہیں۔

    ادھر سلواکیہ کے وزارتِ دفاع سلواکیہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا کہ فوجی مشقوں کا روس یوکرین تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز یوکرین تنازعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فوجی مشقیں اختتام پذیر ہونے کے بعد یوکرینی سرحد کے نزدیک تعینات روسی فوجیوں کو واپس چھاونیوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا کہ جب تک انہیں فوجیوں کی واپسی کا ثبوت نہیں مل جاتا وہ اس پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔گذشتہ روز اپنے بیان میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ صاف ظاہر ہے کہ روس یورپ میں جنگ نہیں چاہتا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ روس کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔

  • روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

    روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

    واشنگٹن :روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے خیال میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے ؛ اور انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں یا پھر شدید نتائج بھگتنےکے لیے تیار رہیں۔

    بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جارحیت سے کام لیتا ہے تو یہ اس کی مرضی پر منحصرہے، جب کہ ایسی لڑائی کا کوئی جواز یا مقصد موجود نہیں ہوگا”۔

    امریکی صدر نے کہا کہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ باتیں اشتعال دلانے کے لیے نہیں، بلکہ سچ کا ساتھ دینے کے لیے کہی جاتی ہیں، چونکہ بہتر عمل کی بنیاد سچ ہی پر ہوتی ہے۔ احتساب ضروری ہوتا ہے۔ اگر روس دنوں یا ہفتوں کے اندر یوکرین کو فتح کربھی لے تو انسانی جانوں کا شدید نقصان ہوگا، جب کہ حکمت عملی کی نوعیت کی اس غلطی کی روس کو شدید قیمت چکانی پڑے گی”۔

    صدر بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جارحیت سے کام لیتا ہے تو بین الاقوامی طور پر اس کی سخت مذمت سامنے آئے گی۔ دنیا یہ نہیں بھولے گی کہ روس نے بلا ضرورت ہلاکتوں اور تباہی سے کام لیا۔ یوکرین کو فتح کرنا خود اس کے لیے بدنما داغ ہوگا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار اس کا فیصلہ کُن جواب دیں گے”۔

    اس سے قبل، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ اوراس کے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے یورپ میں میزائلوں کی تنصیب اور عسکری مشقوں کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، اس سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کی سرحد پر تعینات اپنے کچھ فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔

    پوٹن نے یہ بات کریملن میں جرمن چانسلر اولاف شلز سے ملاقات کے بعد کہی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ مغرب سے بات کی جائے باوجودیکہ وہ روس کے اہم مطالبات مسترد کرتے رہے ہیں۔ روس نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ یوکرین اور دیگر سابق سویت ریاستوں کو نیٹو کا رکن نہ بنایا جائے اور روس کے قریب مشرقی یورپ میں تعینات مغربی ملکوں کی فوجوں کو واپس بلایا جائے۔

    روسی سربراہ نے کہا کہ ماسکو کی کوشش ہو گی کہ وہ نیٹو کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کرے، جب کہ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغرب کو چاہیے کہ ان کےمطالبات کی جانب توجہ مبذول کرے۔

    ا قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، اینتونیو گتیرس نے پیر کے دن یہ کہتے ہوئے کہ’سفارت کاری کا کوئی نعم البدل نہیں ہے”،روس، یوکرین اور مغربی ملکوں پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم اس قسم کی تباہ کن محاذ آرائی کے امکان کے کسی صورت میں متحمل نہیں ہو سکتے۔ عالمی ادارے کے سربراہ نے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ فریقوں سے رابطے میں رہیں گے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے حل تلاش کرنے کے حوالے سے اپنے دفتر کی خدمات کی پیش کش بھی کی۔

    منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ نےاپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ایک بیان میں محکمہ خارجہ کے ترجمان، ٹیڈ پرائس نے بتایا ہے کہ بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ یوکرین کے معاملے کےسفارت کاری کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیتا رہے گا، جس بحران کا باعث خود روس بنا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اس بات کا منتظر ہے کہ روس ان دستاویزات کا تحریری جواب دے جو گزشتہ ماہ امریکہ اور نیٹو کی جانب سے روس کے حوالے کی گئی تھیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ امریکہ کے اتحادی اور شراکت داروں سے رابطہ کرکے یورپی سیکیورٹی کے معاملے پر بات چیت کی جائے، جس کے لیے ٹھوس بنیادیں تجویز کی گئی تھیں۔

  • روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    ماسکو:روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے معاملے پرروس کوتنقید کا نشانہ بنانے پرروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی ہم منصب کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ منظراس قدر اہمیت اختیار کرگیا کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں‌

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مسئلے پربرطانوی تنقید سے ناراض روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ کچھ منٹوں کے بعد برطانوی وزیرخارجہ بھی کانفرنس ہال سے چلی گئی۔برطانوی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی وزیرخارجہ، دولت مشترکہ اورترقیاتی امورکی وزیرلزٹریس یوکرین کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے ماسکو پہنچی تھیں۔

    برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روس کوآگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پراسے پڑوسی کی سرحد عبور کرنے سے باز رہنا اورسرد جنگ جیسے رویے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے ماسکو کو خبردارکیا کہ وہ یوکرین کے مسئلے پردنیا کوبیوقوف بنانے کی کوششیں نہ کرے۔روسی وزیرخارجہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیرکے ساتھ ملاقات ایسی رہی جیسے کسی گونگے اوربہرے سے ملاقات کی جائے۔

    سرگئی لاروف کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی عہدیدارنے ماسکو کا دورہ ایسے کیا جیسے برطانوی سامراج میں حکام اپنے مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں روس کویوکرین سے متعلق ڈرانے اوردھمکیاں دینے سے باز رہیں۔

    دوسری طرف امریکہ اور نیٹو اتحادی اس وقت یوکرائن کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور بھر پور فوجی امداد دے رہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ ان اقدامات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ار اتحادی اس صورت حال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جنگ سے بچنے کے لیے روس کو ہی حکمت عملی کے تحت واپس جانا پڑے گا یا پھرٹکراو کے لیے تیار رہنا ہوگا

  • یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    بیجنگ :یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق چین اور روس نے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے، خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ساتھ نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کر دی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین اور روس کے صدور کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چین اور روس خارجہ پالیسی میں ایک دوسرےکی حمایت کریں گے کیونکہ کوئی بھی ملک دوسروں کی قیمت پر اپنی سلامتی کو بہتر نہیں کر سکتا، دونوں ممالک نے بیرونی مداخلت ناکام بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

    مشترکا اعلامیے میں چین اور روس کی جانب سے نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کی گئی ہے اور نیٹو سے سردجنگ کی سوچ سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    روس اور چین نے امریکا کے بائیولوجیکل وار فیئر پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معاملے پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین خلا میں ملٹرائزیشن روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس تصدیق کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے جبکہ چین نے روس کے مغربی ممالک سے سکیورٹی گارنٹی مطالبے کی حمایت کی ہے۔

    دوسری طرف امریکہ کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے جب چین نے امریکہ کی طرف سے یوکرین کے معاملے پر روس کوسمجھانے کی پیش کش کی مگر چین نے سمجھانے کی بجائے روس کی حمایت کا اعلان کردیا ، جس کی وجہ سے اب معاملات مزید پچیدہ نظرآتے ہیں‌

    بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ ان حالات میں امریکہ یوکرین کے معاملے پر پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہر صورت یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنا

  • روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    واشنگٹن:روس سے تنازع؛ امریکی صدر کا مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے مسئلے پر روس سے پیدا ہونے والے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیدیا۔

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی مشرقی یورپ میں تعیناتی کا حکم دیدیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی۔
    مشرقی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا۔

    اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔

    خیال رہے کہ روس کے مبینہ حملے اور جارحیت کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اس حوالے سے نیٹو افواج کی پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرائن پر حملے کو امریکا اور برطانیہ کا خطے میں مداخلت کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت جواز پیدا کر کے خطے پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔