Baaghi TV

Tag: وائٹ ہاؤس

  • روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ روس حالیہ ہفتوں میں کیف پر حملہ کرنے اور یوکرین کی آبادی کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایرانی یو اے وی کا استعمال کر رہا ہے –

    باغی ٹی وی: روئٹرزکے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے سیکڑوں ایرانی ڈرون ملے ہیں امریکا کو روس کے اندر ایرانی یو اے وی تیار کرنے کے منصوبے پر تشویش ہےاورایسا لگتا ہے کہ روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے۔

    یوکرین روس تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتے،آئی ایم ایف سے رابطے میں ہیں،بلاول

    ترجمان وائٹ ہاؤس نے نئی خفیہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرون ایران میں بنائے گئے تھے، جنہیں بحیرہ کیسپین میں بھیجا گیا اور پھر روسی افواج نے یوکرین کے خلاف استعمال کیا ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ روس ایران کے ساتھ مل کر روس کے اندر سے ایرانی یو اے وی تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس معلومات ہیں کہ روس ایران سےڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ کی تعمیر کےلیے ضروری مواد حاصل کر رہا ہے جو اگلے سال کے اوائل میں مکمل طور پر فعال ہو سکتا ہے ہم روس کے الابوگا اسپیشل اکنامک زون میں اس یو اے وی مینو فیکچرنگ پلانٹ کے مجوزہ مقام کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر رہے ہیں۔

    صندل خٹک نے حریم شاہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی

    امریکہ اس سے قبل روس کو ڈرون سپلائی کرنے پر ایک دفاعی صنعت کار کے ایرانی ایگزیکٹوز پر پابندیاں لگا چکا ہے۔ ایران نے روس کو ڈرون بھیجنے کا اعتراف کیا ہے لیکن کہا ہے کہ وہ ماضی میں فروری میں روس کے حملے سے پہلے بھیجے گئے تھے۔

    دوسری طرف ماسکو نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین میں ایرانی ڈرون استعمال کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایران نے اگست سے اب تک کئی سو ڈرون روس کو منتقل کیے ہیں۔

    حکومت کا پیش کردہ وفاقی بجٹ عوام و تاجر دوست بجٹ ہے، نعیم میر کا …

  • اسامہ بن لادن آپریشن کے دن وائٹ ہاؤس کی خصوصی تصاویر پہلی بار منظر عام پر آگئیں

    اسامہ بن لادن آپریشن کے دن وائٹ ہاؤس کی خصوصی تصاویر پہلی بار منظر عام پر آگئیں

    واشنگٹن: کالعدم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف کیے جانے والے امریکی فوجی آپریشن کو اس وقت کے امریکی صدر بارک اوبامہ، نائب صدر جوبائیڈن اور سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن سمیت دیگر اوبامہ انتظامیہ کے اعلیٰ ترین حکام نے براہ راست دیکھا تھا جس کی مزید خصوصی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر آگئی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں موجود رہ کر امریکی فوجی کارروائی دیکھنے والوں میں اس وقت کے سیکریٹری دفاع باب گیٹس بھی شامل تھے۔ اسامہ بن لادن کیخلاف امریکی فوجی کارروائی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں کی گئی تھی۔


    امریکی حکام کی جانب سے دیکھی جانے والی کارروائی کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی گئی تھیں جن میں سے ایک تصویر باقاعدہ ریلیزہوئی تھی تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ فوجی کارروائی کو براہ راست امریکی قیادت کی جانب سے مانیٹر بھی کیا گیا۔

    امتحانات میں ناکامی پر 9 طلبہ کی نے خودکشی کر لی

    امریکہ کے مؤقر انگریزی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس وقت کھینچی گئیں مزید تصاویر کے حصول کے لیے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت درخواست دی جس کے جواب میں بارک اوبامہ کی صدارتی لائبریری سے مزید تصاویر حاصل کر کے شائع کردی ہیں۔


    واضح رہے کہ امریکی اخبار نے یکم مئی 2011 میں کیےجانے والے آپرشن کی تصویر اس وقت شائع کی ہیں جب دنیا ایک مرتبہ پھر یکم مئی منانے والی ہے۔

    مؤقر امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے شائع کی جانے والی تصاویر کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اس وقت کے امریکی صدر بارک اوبامہ اور ان کے نائب صدر ( جو اس وقت امریکی صدر ہیں) جو بائیڈن کے چہروں پر تناؤ واضح تھا۔

    اے آئی چیٹ بوٹس کسی انسان جتنے ہی اچھے استاد ثابت ہو سکتے ہیں،بل گیٹس

    وائٹ ہاؤس میں اس وقت کے سیکریٹری دفاع باب گیٹس بھی موجود تھے۔ تصاویر میں اس وقت کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور اوبامہ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے براہ راست امریکی فوجی سیل کی کارروائی دیکھی تھی۔

    شائع ہونے والی تصاویر میں اوبامہ کو سب کچھ غور سے دیکھتے اورسوالات پوچھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے اور جب یہ بات سامنے آئی کہ کارروائی کامیاب ہو گئی ہے تو گیٹس کا ہاتھ ہلاتے ہوئے بھی تصویر کھینچی گئی ہے،گیٹس نے اس کے بعد سابق امریکی صدور جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کو بتانے کے لیے فون کال بھی کی تھی۔

    امریکا میں ہیلی کاپٹرز کاخوفناک حادثہ، تمام ایوی ایشن یونٹس گراؤنڈ کردیئے گئے

    دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اوبامہ لائبریری کے جاری کردہ ورژن میں میز پر موجود ایک دستاویز دھندلا ہوا ہے۔ لائبریری نے 307 تصاویر کو دکھایا ان کے مواد کو ‘قومی سلامتی کی درجہ بندی کی معلومات’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

    لائبریری نے جو تصاویر جاری کیں وہ اوباما اور معاونین کے درمیان بات چیت کو ظاہر کرتی ہیں جن میں لیون پنیٹا، اس وقت کے سی آئی اے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ جیمز کلیپر، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر؛ ٹام ڈونیلون، قومی سلامتی کے مشیر؛ اور بل ڈیلی، وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف شامل تھے،2020 میں، اوباما نے اپنی یادداشت، A Promised Land میں چھاپے کے بارے میں ہونے والی بات چیت کو بیان کیا۔

    ٹیکساس میں شور سے روکنے پربچے سمیت 5 افراد قتل

    سابق نائب صدر کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے لیے ٹرمپ کو شکست دینے کے فوراً بعد جاری ہونے والی کتاب میں، اوباما نے بائیڈن کے بارے میں لکھا، "جو نے آپریشن کے خلاف وزن کیا۔”

    اوبامہ نے لکھا کہ جیسا کہ میں نے صدر کے طور پر کیے گئے ہر بڑے فیصلے میں سچ ثابت ہوا تھا، میں نے جو کی موجودہ مزاج پر قابو پانے اور سخت سوالات کرنے کی خواہش کی تعریف کی، اکثر مجھے وہ جگہ دینے کے مفاد میں جس کی مجھے اپنے اندرونی غور و فکر کے لیے ضرورت تھی۔

    بائیڈن واحد مشیر نہیں تھے اور واشنگٹن کے تجربہ کار چھاپے کے خلاف مشورہ دینے والے۔ اوباما نے لکھا کہ "وہ جانتے تھے کہ گیٹس کی طرح جو بھی ڈیزرٹ ون کے دوران واشنگٹن میں تھا۔

    سرکاری لائن سے تیل چرانے والے دو افراد مٹی میں دب کر ہلاک

    اپریل 1980 میں صدر جمی کارٹر کی طرف سے حکم دیا گیا، ڈیزرٹ ون ایران میں امریکی یرغمالیوں کو بچانے کی ایک کوشش تھی جو بری طرح غلط ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں آٹھ امریکی ہلاک ہوئے اور کارٹر کے دوبارہ انتخاب کی امیدوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اوباما اپنی دوبارہ انتخابی مہم سے ایک سال باہر تھے جب انہوں نے بن لادن کے خلاف آپریشن کا حکم دیا۔

  • امریکا پاکستان کی بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے،وائٹ ہاؤس

    امریکا پاکستان کی بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے،وائٹ ہاؤس

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے پشاور میں مسجد کے اندر خودکش دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: وائٹ ہاؤس کی نیشنل سکیورٹی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے اپنے بیان کہا کہ پشاور سے افسوس ناک اور دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے، نمازیوں پر حملہ ناقابل معافی عمل ہے دہشتگردی ناقابل دفاع ہے، نمازیوں کو نشانہ بنانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

    سعودی عرب اور اقوام متحدہ کی پشاور دھماکے کی شدید مذمت

    ایڈرین واٹسن نے مزید کہا کہ امریکا پاکستان کی بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔

    قبل ازیں امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونٹی بلنکن اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بھی پشاور خود کش حملے کی مذمت کی تھی امریکا نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی قبول نہیں کی جائے گی، امریکہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے شیخ رشید کوآخری موقع دے دیا

    انٹونی بلنکن نے کہا کہ پشاور کی ایک مسجد میں نمازیوں پر آج ایک خوفناک حملہ ہوا، جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ کسی بھی جگہ پر کسی بھی وجہ سے دہشت گردی ناقابلِ دفاع ہے۔ میں متاثرین کے اہل خانہ اور عزیزوں کے تئیں اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

    واضح رہے کہ پشاور میں پولیس لائنز کے اندرمسجد میں لوگ نماز ظہر ادا کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہوگیا، دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی جس سے مسجد کی چھت منہدم ہو گئی اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے مسجد کا ایک حصہ بھی شہید ہوگیا ہے، سکیورٹی حکام کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور مسجد کی پہلی صف میں موجود تھا مسجد میں خود کش دھماکے میں 100 افراد شہید اور 140 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔

    پشاور دھماکہ، امریکہ، ایران کی بھی مذمت،پاکستان بار کونسل کا سوگ کا اعلان

  • امریکی صدراپنے ہی باغ میں کھو گئے،وائٹ ہاؤس کا راستہ کدھر ہے؟گارڈز سے استفسار،ویڈیو وائرل

    امریکی صدراپنے ہی باغ میں کھو گئے،وائٹ ہاؤس کا راستہ کدھر ہے؟گارڈز سے استفسار،ویڈیو وائرل

    امریکی صدر بائیڈن کے بھلکڑ پن پر جاری ، جو بائیڈن وائٹ ہاؤس کے لان میں درخت لگانے کی مہم میں حصہ لینے کے بعد اپنا راستہ بھول گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی اخبار ’’دی ڈیلی میل‘‘ کے مطابق، پیر کی سہ پہر ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی تشویشناک فوٹیج میں صدر کو وائٹ ہاؤس کے گراؤنڈ کیپر کا اعزاز دیتے ہوئے تقریب سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا، لیکن وہ مختصراً رک گئے اور اپنی ٹیم سے پوچھتے ہوئے سنا گیا، ‘ہم کہاں جائیں؟’

    زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے


    بائیڈن کنفیوزہو کر ایک سمت بڑھنے لگے، پھر اچانک رک گئے اور گارڈز سے پوچھنے لگے کہ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔ جب ان کے گارڈز نے صحیح سمت کی طرف اشارہ کیا تو بائیڈن نے کہا کہ میں دوسری سمت جانا چا رہا تھا-

    گارڈز نے جواب میں تصدیق کی کہ وہ واقعی غلط سمت پر تھے آخر کار بائیڈن گارڈز کے بتائے راستے پر وائٹ ہاؤس کی طرف روانہ ہوگئے۔

    آپ نے دیکھا کہ مجھے کتنی آزادی ہے؟’ بائیڈن طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ سیکرٹ سروس کو واپس وہیں جانا جہاں وہ اسے جانا چاہتے تھے۔

    گزشتہ چند مہینوں میں صدر کا یہ عجیب ترین لمحہ ہے، جن میں سے کچھ نے ان کی صحت کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

    بھارتی نژاد رشی سوناک نے برطانوی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال لیا

    پیر کو سب سے حالیہ لمحے میں، بائیڈن اور خاتون اول جِل بائیڈن نے ابھی گراؤنڈ کیپر ڈیل ہینی اور وائٹ ہاؤس میں کام کرنے والے ان کے 50 سالوں کے اعزاز میں درخت لگانے کی تقریب ختم کی تھی۔

    70 سالہ ہینی، جو کہ وائٹ ہاؤس کے چیف گراؤنڈ کیپر ہیں، نے 10 صدور کو گراؤنڈ میں آتے جاتے دیکھا ہے۔ وہ نہ صرف ان خاندانوں کی دیکھ بھال کرتا ہے جو صدارتی رہائش گاہ پر رہتے ہیں، بلکہ اس نے ان کے بہت سے پالتو جانوروں کی بھی دیکھ بھال کی ہے۔

    تقریب کے سمیٹتے ہی، بائیڈن ایک سمت میں چلنے لگے لیکن رک گئے الجھن میں دکھائی دیئے کیونکہ سیکیورٹی نے اسے مخالف سمت میں جانے کا کہا انہوں نے تعمیل کی اور پھر کہا کہ وہ دوسری سمت جانا چاہتا ہے۔

    ان کے عملے نے انہیں یقین دلایا کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اس راستے پر جا سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ لیکن بائیڈن آخر کار مڑتے ہیں اور اپنے عملے کے پیچھے وائٹ ہاؤس کی طرف جاتا ہے۔

    بنگلہ دیش: سمندری طوفان کےٹکرانےسےمختلف حادثات میں 9 افراد ہلاک لاکھوں لوگ بےگھر

    ایک اور موقع پر، بائیڈن پِٹسبرگ، پنسلوانیا میں ایک تقریر کے بعد الجھن میں نظر آئے جہاں وہ پوڈیم سے اپنا راستہ تلاش کرنے سے قاصر ہوکر رہ گئے۔

    بائیڈن نے تقریباً ایک ہفتہ قبل پٹسبرگ میں پورے ملک میں تعمیر نو اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے متعلق تقریر کی تھی ۔ امریکی صدر نے اس جگہ سے ووٹروں سے خطاب کیا تھا جہاں لگ بھگ نو ماہ قبل ایک پل گرنے سے 10 افراد زخمی ہو چکے تھے

    تقریر کے اختتام پر بائیڈن سٹیج سے ہٹ کر سیڑھیوں سے دوسری طرف موڑ کاٹ گئے اور چند لمحوں تک الجھ کر ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ پھر سر ہلایا اور اونچی آواز میں کچھ کہا۔ پھر واپس مڑے اور جلدی سے باہر نکل گئے۔

    یاد رہے بائیڈن اس سال 80 برس کے ہو جائیں گے۔ وہ تاریخ کے سب سے معمر امریکی صدر ہیں۔ ان کے مخالفین ان کی زبان کی بار بار کی لغزش اور عمل کی غلطیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر مسلسل ذہنی زوال کا الزام لگاتے ہیں۔

    افریقی ملک یوگنڈا میں نابینا افراد کے سکول میں آتشزدگی،11 افراد ہلاک6 کی حالت نازک

  • پاکستانی سفیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات

    پاکستانی سفیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات

    امریکا میں پاکستان کے سفیرسردار مسعود خان نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدرجوبائیڈن نے پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا کہا کہ پاک امریکا تعلقات آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس بنیادیں قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔


    اس موقع پر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان سیکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافت سمیت تمام میدانوں میں امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

    پاکستانی سفیر نے روایتی فوٹو سیشن میں شرکت کی دیگر ممالک کے46 سے زائد سفیر بھی روایتی فوٹو سیشن میں موجود تھے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے ہر سفیر کے ساتھ الگ الگ تصویر بنوائی۔


    کورونا کے باعث کئی سفیر ایک سال سے صدر جوبائیڈن سے ملاقات کے منتظر تھے مسعود خان 25 مارچ کو واشنگٹن پہنچے تھے اور اپنی اسناد سفارتی چیف آف پروٹوکول کو دی تھیں جنہیں 19 اپریل 2022 کو باضابطہ طور پر قبول کرلیا گیا تھا۔

  • امریکی صدر کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں عید الفطر کی تقریب منعقد

    امریکی صدر کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں عید الفطر کی تقریب منعقد

    امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں عید الفطر کی تقریب منعقد کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق تقریب میں میں خاتون اوّل بھی شریک تھیں اور امریکا بھر سے مسلم رہنما بھی موجود تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے مسلم کمیونٹی کو عید کی مبار کباد دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کےدوران کیا گیا یہ وعدہ پورا کردیا کہ وائٹ ہاؤس میں عید کی تقریبات دوبارہ شروع کی جائیں گی۔

    ملک بھر میں عید الفطر مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ آج منائی جائے گی

    ان کا کہنا تھا کہ مسلمان رمضان میں 30 اور ہم 40 روزے رکھتے ہیں ،میں نے مسلسل 40 روزے رکھے جس میں میٹھا حتیٰ کہ آئس کریم تک نہیں کھائی رمضان میں کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب آنےکا موقع ملتا ہے، مذہب کی بنیاد پر کسی کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے مزید کہا کہ گزشتہ برس کوویڈ کی وجہ سے عید کی تقریب نہ ہو پائی، کووڈ کے دوران لاتعداد مسلم ہیلتھ ورکروں نے شانہ بشانہ کام کیا۔

    عید الفطر کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کا عوام کے نام پیغام

    اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس میں منعقد تقریب میں پاکستانی امریکن گلوکارہ عروج آفتاب بھی موجود تھیں عروج آفتاب نے شاعرانہ انداز میں اپنا پیغام دیا جس میں پانی کے گلاس کا ذکر کیا تھا امریکی صدر نے گریمی ایوارڈ یافتہ پاکستانی گلوکارہ کو اس دوران پانی کا گلاس پیش کردیا جس سے ہال میں قہقہے گونج اٹھے۔

  • وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟  … رضی طاہر

    وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟ … رضی طاہر

    وضاحت : کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو آئینہ دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئی کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور اعلانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں ظلم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان بھارتی موقف کی پسپائی ہے۔ جبکہ پاکستان کی بھارت کے خلاف مسلسل پانچویں فتح ہے۔

    1۔ پہلی فتح : بھارتی طیارے گرانا اور بزدلانہ کاروائی کا منہ توڑ جواب

    2۔ دوسری فتح : بھارتی فنڈنگ کے باوجود قبائلی علاقہ جات میں بھارت کے ہر ہتھکنڈے کو الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے شکست دینا، پی ٹی ایم کی ناکامی

    3۔ تیسری فتح : کلبھوشن کو عالمی عدالت سے رہائی نہ ملنا اور عالمی عدالت کا کلبھوشن کے دہشتگرد ہونے پر مہر ثبت کرنا

    4: چوتھی فتح : بلوچستان کو لے کر بھارتی پروپیگنڈے کا اپنی موت آپ مرنا اور بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد قرار دیئے جانا۔

    5۔ پانچویں فتح: امریکی صدر کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننا اور ثالثی کی پیشکش کرنا۔


    رضی طاہر