Baaghi TV

Tag: وائٹ ہاؤس

  • ٹرمپ کی موجودگی میں  فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں کارسپونڈنگ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حملہ آور کا ممکنہ ہدف امریکی صدر تھے۔

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے کہا ایسا لگتا ہے ملزم نے اکیلے کارروائی کی اور وہ ہوٹل میں ہی مقیم تھا اور حکومتی عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، پیر کو اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    امریکی میٖڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سال کے Cole Tomas Allen کے طور پر ہوئی، مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے کیلیفورنیا کےعلاقے ٹورینس میں گرفتارملزم کے گھر اور اطراف میں تحقیقات شروع کردی گئی۔

  • وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: حملہ آور کا چونکا دینے والا بیان

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: حملہ آور کا چونکا دینے والا بیان

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور کا چونکا دینے والا اعتراف سامنے آیاہے-

    وائٹ ہاؤس میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے نے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جہاں حملہ آور نے فائرنگ کے دوران تقریباً 8 گولیاں چلائیں، اس واقعے میں زخمی ہونے والا ایک پولیس اہلکار علاج کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہو گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ موجود نہیں تھا، جس نے سیکیورٹی اداروں کے لیے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہےایف بی آئی کی ٹیم نے مشتبہ شخص کے گھر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تلاشی کے لیے وارنٹ حاصل کرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق حملہ آور کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھامیڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش بیان دیا کہ اس کا اصل ہدف ڈونلڈ ٹرمپ تھے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی بڑی منصوبہ بندی کا حصہ تھا یا ایک انفرادی اقدام ہے۔

  • ٹرمپ پر حملہ: وائٹ ہاؤس ترجمان کی مذاق میں کی گئی پیش گوئی سچ ثابت

    ٹرمپ پر حملہ: وائٹ ہاؤس ترجمان کی مذاق میں کی گئی پیش گوئی سچ ثابت

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہونے والی تقریب میں فائرنگ کے واقعے سے چند گھنٹے قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس رات تقریب ‘تفریحی اور مزاحیہ’ ہوگی اور وہاں ‘شاٹس فائر ہوں گی’۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کی تقریب سے عین قبل کہا تھا کہ آج رات ہال میں شاٹس فائر ہوں گی اگرچہ ان کا اشارہ صدر ٹرمپ کی کاٹ دار اور تیکھی تقریر کی طرف تھا، لیکن تقریب کے دوران ہونے والے اصل حملے نے ان کے ان الفاظ کو ایک عجیب رنگ دے دیا ہے۔

    کیرولین لیوٹ نے امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ آج مقابلے کے لیے تیار ہیں اور ان کی تقریر روایتی ڈونلڈ ٹرمپ اسٹائل میں ہوگی، وہ مزاحیہ اور تفریح سے بھرپور ہوگی اور آج رات ہال میں کچھ گولیاں چلیں گی، اس لیے ہر کسی کو یہ دیکھنا چاہیے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ تقریر کس نے لکھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس کا کریڈٹ نہیں لے سکتی، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص انداز میں خود قلم اٹھاتے ہیں اور کاغذ پر اپنے خیالات لکھتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ تر ان کا اپنا کام ہےابھی تقریب جاری ہی تھی اور صدر ٹرمپ اسٹیج پر موجود تھے کہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے ہال کا سکون برباد کر دیا۔

    تقریب سے قبل لارا ٹرمپ نے بھی ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ صدر نے اپنی تقریر کے لیے مزاحیہ لکھاریوں کی مدد لی ہے اور وہ صحافیوں کو طنز کا نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ صدر تقریب میں بھرپور مزاح پیش کریں گے۔

    بعد ازاں ہوٹل کی لابی میں، جہاں وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر منعقد ہونا تھا، فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے تیزی اور بہادری سے کام کیا اور صورتحال پر قابو پا لیا۔ ابتدا میں انہوں نے تقریب جاری رکھنے کی تجویز دی تھی تاہم بعد میں سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی۔

    واقعے کے بعد واشنگٹن میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام نے فائرنگ کے محرکات اور حملہ آور کے پس منظر کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تفتیشی ادارے مختلف زاویوں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

  • ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے-

    وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر جہاں سے وہ میامی میں ایک مکسڈ مارشل آرٹس مقابلہ دیکھنے جا رہے تھےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، اور ہم ہر صورت میں کامیاب ہوں گے، ہم نے انہیں عسکری طور پر شکست دی ہے-چین کی جانب سے ایران کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی ممکنہ اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر بیجنگ نے ایسا کیا تو اسے ‘بڑے مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا-

    ادھر امریکا اور ایران کے درمیان نصف صدی کے دوران اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات پاکستان میں ہوئے، جن میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، ان مذاکرات کا مقصد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 6 ہفتوں پر مشتمل جنگ کا خاتمہ ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا میں جنگ بندی کوششوں کو سراہا،کہا کہ جے ڈی وینس نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔

    جنگ بندی کے نازک ماحول کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر رہی ہے۔

  • اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان  سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ’’فیس ٹو فیس‘‘ بات چیت جاری ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات امریکا اور ایران کے درمیان برسوں بعد ہونے والی سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، اس وقت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر ’’فیس ٹو فیس‘‘ مذاکرات ہو رہے ہیں ،متعلقہ شعبوں کے تمام امریکی ماہرین اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ اضافی ماہرین واشنگٹن سے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایران امریکا کے درمیان مذاکرات جاری ہیں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جب کہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں، سینئر مشیران میں ڈاکٹر اینڈریو بیکر اور مائیکل وینس بھی وفد کا حصہ ہیں جو مختلف شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

  • وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے قبل واشنگٹن نے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا تھا تاکہ تہران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران معاہد ے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی انتظامیہ پس پردہ جنگ بندی کے لیے سرگرم تھی امریکا کئی ہفتوں سے پاکستان سے رابطے میں تھا اور اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کم ہو۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، اور بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ ملک ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیا بی حاصل کی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتکاری نے اہم پیشرفت ممکن بنائی یہ سفارتی کوششیں اس وقت کامیاب ہوئیں جب منگل کی رات امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا، جسے خطے میں کشیدگی کم کر نے کی بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    منگل کو ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے ساتھ ہی،عاصم منیر نے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف سمیت اعلیٰ امریکی حکام کو کال کرنے کا سلسلہ شروع کیا امریکہ اور پاکستان کا خیال تھا کہ اگر ایران ایک مسلم اکثریتی پڑوسی ریاست کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے جس نے تنازعہ کے دوران اپنی غیرجانبداری پر زور دیا تھا تو ایران امریکہ کی حمایت یافتہ پیشکش کو قبول کر سکتا ہے۔

    منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے دو ہفتے کی تجویز کو سوشل میڈیا پر عام کیا شہباز شریف، جنہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کی پہل قرار دیا، غلطی سے اپنی پوسٹ کے اوپری حصے میں ایک موضوع کی لکیر شامل کر دی: "مسودہ — پاکستانی وزیر اعظم کا پیغام X پر”-

    رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دی تھیں، جن میں تہذیب تباہ کرنے جیسے بیانات بھی شامل تھے تاہم پس پردہ وہ جنگ بندی کے خواہاں تھے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے حق میں تھے، جب انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی-

    ٹرمپ کی جانب سے آبنائے کو کھولنے کے لیے اپنا پہلا الٹی میٹم جاری کرنے کے فوراً بعد عاصم منیر اور دیگر سینئر پاکستانی حکام نے ایرانی سیاسی اور عسکر ی شخصیات اور وائٹ ہاؤس کے درمیان پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔

    انہوں نے اسلام آباد کو امن سربراہی اجلاس کے مقام کے طور پر پیش کیا، امریکہ کی طرف سے تیار کردہ 15 نکاتی تجویز اور پھر ایران کے پانچ اور 10 نکاتی ردعمل کا اشتراک کیا، اور 45 دن سے لے کر دو ہفتوں تک جنگ بندی کے آپشنز اٹھائے، دو علاقائی سفارت کاروں نے بتایا کہ دونوں فریق اپنے مطالبا ت میں بہت دور رہے، لیکن ایران، وقت گزرنے کے ساتھ، یورینیم کے اپنے ذخیرے کو کمزور کرنے اور اسے قبول کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہو گیا-

    کئی ہفتوں کی امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد، عراقچی اور تہران میں دیگر سیاسی رہنما اصولی طور پر ہرمز کے لیے عارضی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے تھے، لیکن پاکستان کی زیر قیادت بیک چینل سے واقف دو لوگوں کے مطابق، وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور سے حتمی منظوری حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے-

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بظاہر سخت بیانات کے باوجود سفارتی سطح پر جنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں جاری تھیں، جن میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا۔

  • ٹرمپ کے  آسیان اجلاس میں شرکت کا امکان

    ٹرمپ کے آسیان اجلاس میں شرکت کا امکان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ ملائیشیا میں ہونے والے آسیان اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں، جو 26 سے 28 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

    پولیٹیکو کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ملائیشیا سے کہا ہے کہ آسیان اجلاس میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے کی تقریب کی صدارت صدر ٹرمپ کو دی جائے، جبکہ اس موقع پر چینی حکام کو دور رکھا جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ملائشین حکام سے یہ بھی کہا کہ امن معاہدے کا سارا کریڈٹ صدر ٹرمپ کو ملنا چاہیے، کیونکہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے امن مذاکرات میں چین کا کوئی کردار نہیں تھا اور یہ مکمل طور پر ٹرمپ کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔

    دنیا بھر میں رواں سال کا پہلا سپر مون، دلکش مناظر نے سب کو مسحور کر دیا

    فزکس کا نوبیل انعام تین امریکی سائنسدانوں کے نام

    ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی مسترد

    اسرائیلی جارحیت کے 2 سال ، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 92 فیصد مکانات ملبے کا ڈھیر

  • ایچ-1 بی ویزا فیس میں ڈاکٹرز کو استثنیٰ دینے پر غور

    ایچ-1 بی ویزا فیس میں ڈاکٹرز کو استثنیٰ دینے پر غور

    وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ نئی ایچ-1 بی ویزا فیس سے ڈاکٹروں کو استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔

    بلومبرگ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر راجرز نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ڈاکٹرز بھی ان افراد میں شامل ہوں گے جنہیں اس فیس سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔واضح رہے کہ چند روز قبل وائٹ ہاؤس نے ایچ-1 بی ویزوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس میں ’قومی مفاد‘ کی بنیاد پر کیس ٹو کیس استثنیٰ دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

    دوسری جانب سان فرانسسکو ایئرپورٹ پر دبئی جانے والی ایمریٹس کی پرواز میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اعلان سنتے ہی بھارت جانے والے کئی مسافروں نے خوف کے باعث طیارہ چھوڑ دیا کہ اگر واپس آنا پڑا تو بھاری رقم کیسے ادا کریں گے۔ اس ہنگامے کے باعث پرواز تین گھنٹے تاخیر کا شکار ہوگئی۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ مسافر جہاز کے اندر کھڑے گھبراہٹ کے عالم میں فون پر خبریں دیکھ رہے تھے اور ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے کہ پرواز ہوگی یا نہیں۔

    محض الفاظ نہیں، عملی اقدامات سے خواتین کو بااختیار بنانا ہوگا،اسحاق ڈار
    اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات،امریکا کا آئی سی سی پر مکمل پابندیوں کا امکان

    ٹیکس نادہندگان کی مخبری پر انعامی رقم 15 کروڑ کرنے کی سفارش

    لاکھوں قانونی مہاجرین کو واپس بھیج کر £230 بلین بچائیں گے، نائجل فراج

  • صدر ٹرمپ کی زیلنسکی سے ملاقات، سہ فریقی مذاکرات کی پیشکش

    صدر ٹرمپ کی زیلنسکی سے ملاقات، سہ فریقی مذاکرات کی پیشکش

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں جنگ سب کے لیے بہتر انداز میں ختم ہو، اور ان کے خیال میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس پہنچنے پر صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین میں جنگ روکنے کا اچھا موقع ہے، ہم یوکرین کے عوام کی خوشحالی چاہتے ہیں۔ اگر معاملات درست رہے تو یوکرین اور روسی صدور کے ساتھ سہ فریقی میٹنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں چاہتے کہ جنگ وقتی طور پر رُکے اور پھر چند سال بعد دوبارہ شروع ہو۔یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے سفارتی راستے کی حمایت کرتے ہیں اور سب کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

    یاد رہے کہ صدر ٹرمپ روس۔یوکرین جنگ ختم کرانے کے مشن پر ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے الاسکا میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کی تھی اور آج زیلنسکی سے ملاقات سے قبل جنگ بندی کی شرائط سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔

    کراچی میں میں بارش کا امکان، وزیراعلیٰ سندھ کا ہنگامی اجلاس

    سیالکوٹ میں واسا کو واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 48 ٹن امدادی سامان پشاور پہنچا دیا

    خیبرپختونخوا: سیلاب سے 83 سرکاری اسکول تباہ، سیکڑوں جزوی متاثر

  • آرمینیا اور آذربائیجان آج  امن معاہدے پر دستخط کریں گے

    آرمینیا اور آذربائیجان آج امن معاہدے پر دستخط کریں گے

    آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط آج وائٹ ہاؤس میں ہوں گے، جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق یہ معاہدہ صرف دونوں ممالک کے درمیان نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں خطے نے ہمیشہ زیادہ سلامتی اور خوشحالی کا تجربہ کیا ہے، اور موجودہ معاہدہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امن معاہدے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ دونوں ممالک کے ساتھ توانائی، ٹیکنالوجی، اقتصادی تعاون، سرحدی سلامتی، بنیادی ڈھانچے اور تجارت سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کریں گے۔

    یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تنازعے کے خاتمے اور علاقائی ترقی کے نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سعودی عرب نے غزہ پر قابض ہونے کے منصوبے کو مسترد کر دیا

    ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ

    جرمنی کا اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی سے انکار، غزہ پالیسی پر کڑی تنقید

    مودی ،پیوٹن رابطہ، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق