Baaghi TV

Tag: وائٹ ہاؤس

  • گھناؤنے بکواس کام کیلئےمیری موسیقی کا استعمال بند کیا جائے،آریانا گرانڈے کی وائٹ ہاؤس کو سخت الفاظ میں تنبیہ

    گھناؤنے بکواس کام کیلئےمیری موسیقی کا استعمال بند کیا جائے،آریانا گرانڈے کی وائٹ ہاؤس کو سخت الفاظ میں تنبیہ

    امریکی پاپ اسٹار اور اداکارہ آریانا گرانڈے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کی تشہیر کے لیے ان کی موسیقی کا استعمال بند کرے۔

    وائٹ ہاؤس نے اسی ہفتے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں حکومت کی امیگریشن یعنی تارکین وطن سے متعلق پالیسی کو دکھایا گیا تھا اس ویڈیو میں سرکاری اہلکاروں کو لوگوں کو گرفتار کرتے اور ہتھکڑیاں لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور پس منظر میں آریانا گرانڈے کا 2024 کا مشہور گانا ”بائے“ چل رہا تھا۔

    آریانا گرانڈے نے وائٹ ہاؤس کی اس ویڈیو پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ براہ کرم میری موسیقی کو کبھی بھی اس وحشیانہ، غیر انسانی اور گھناؤنے بکواس کام کے لیے استعمال نہ کریں گلوکارہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم اب اس قانونی طریقے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے اس ویڈیو سے ان کا گانا جلد از جلد ہٹایا جا سکے۔

    hollywood

    دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے بھی آریانا گرانڈے کی تنقید کا سخت جواب دیا ہے وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبی گیل جیکسن نے گلوکارہ کو جواب دیتے ہوئے امریکی میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ہم یہ بات آخری بار کہہ رہے ہیں کہ اصل میں وحشیانہ، غیر انسانی اور گھناؤنے وہ مجرم غیر قانونی تارکین وطن ہیں جنہوں نے بے قصور امریکی شہریوں کو زخمی کیا اور ان کا قتل کیا،حکومت کی ترجیح ملکی سلامتی اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے-

    دو سری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض امیگریشن اقدامات انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو جنم دیتے ہیں۔

    آریانا گرانڈے، جو ایک مشہور گلوکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی اداکارہ بھی ہیں، طویل عرصے سے ٹرمپ انتظامیہ اور امیگریشن نافذ کرنے والے ادارے آئس کی پالیسیوں کی سخت مخالف رہی ہیں،ا نہوں نے رواں سال گولڈن گلوبز ایوارڈز کی تقریب میں بھی اس ادارے کے خلاف ایک پن پہن رکھی تھی اور وہ اکثر تارکین وطن کے حقوق کے حق میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں پچھلے سال بھی انہوں نے انسٹاگرام پر ٹرمپ کو ووٹ دینے والوں سے پوچھا تھا کہ کیا ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد ان کی زندگیوں میں کوئی بہتری آئی ہے؟

    واضح رہے کہ آریانا گرانڈےواحد فنکار نہیں ہیں جنہوں نے اس طرح اپنی موسیقی کے استعمال پر اعتراض اٹھایا ہو بلکہ ان کے علاوہ اولیویا روڈریگو، بلے ایلش اور سبرینا کارپینٹر جیسے کئی دوسرے بڑے گلوکاروں نے بھی موجودہ امریکی انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کی اس ویڈیو پر آریانا گرانڈے کا تبصرہ اب وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے اور ویڈیو کی آواز بھی بند کر دی گئی ہے، جس کے بعد گلوکارہ نے اس کمنٹ کے اسکرین شاٹس خود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔

  • وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو  ’’یسوع مسیح‘‘ کا اوتارسمجھتا تھا

    وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو ’’یسوع مسیح‘‘ کا اوتارسمجھتا تھا

    واشنگٹن ڈی سی میں واقع وائٹ ہاؤس کے باہر سیکرٹ سروس کے چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے میں 21 سالہ نوجوان کی شناخت منظر عام پر آ گئی ،حملہ آور کو نسائر بیسٹ کو حملہ آور کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ سے قبل یا دوران خود کو ’’حضرت عیسیٰ ‘‘ کا اوتار قرار دیا اور ذہنی طور پر غیر مستحکم سمجھا جا رہا تھاجبکہ وہ پہلے بھی وائٹ ہاؤس کے اطراف مشکوک سرگرمیوں اور غیر قانونی داخلے کی کوششوں کے باعث متعدد بار نشان دہی میں آ چکا تھا، جبکہ اسے پہلے بھی گرفتا ر کیا گیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال اسے دو مرتبہ حراست میں لیا گیا تھا، جن میں ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے اور ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے جیسے الزاما ت شامل تھے اس کے خلاف وائٹ ہاؤس کے قریب جانے پر عدالتی پابندی بھی عائد تھی، جس کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کی گئی واقعے کے دن سیکر ٹ سروس اہلکاروں نے اسے 17ویں اسٹریٹ نارتھ ویسٹ کے قریب مشکوک حالت میں دیکھا، جہاں اس نے اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک راہ گیر شدید زخمی ہوا۔

    جوابی کارروائی میں سیکرٹ سروس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو موقع پر ہی بے اثر کر دیا بعد ازاں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص  جوابی کارروائی میں ہلاک

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص جوابی کارروائی میں ہلاک

    امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے انتہائی سخت حفاظتی حصار کے قریب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس پر امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

    حکام کے مطابق ہفتے کی شام وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہاں موجود ایک راہ گیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔

    سیکرٹ سروس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ انتھونی گوگلیلمی نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے اور ایران کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے، تاہم وہ اس واقعے سے مکمل محفوظ رہے اور ان پر کوئی آنچ نہیں آئی۔

    یہ جھڑپ شام 6 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح 3 بجے) کے فوراً بعد اس وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس کے حفاظتی حصار کے قریب موجود ایک شخص نے ’اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔

    گوگلیلمی نے راہ گیر کی حالت کے بارے میں تفاصیل فراہم کیے بغیر بتایا کہ سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو نشانہ بنایا، جسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی فائرنگ کے دوران ایک راہ گیر کو بھی گولی لگی۔‘ واقعے میں سیکرٹ سروس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    متعدد امریکی میڈیا اداروں نے مشتبہ شخص کی شناخت ریاست میری لینڈ کے 21 سالہ نصیر بیسٹ کے نام سے کی ہے اور رپورٹ کیا ہے کہ نصیر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا اور ماضی میں بھی کئی بار سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ اس کا سامنا ہو چکا تھا۔

    واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر راستے سیل کر دیے، جبکہ نیشنل گارڈز کے اہلکاروں نے اے ایف پی کے رپورٹر کو واشنگٹن ڈاؤن ٹاؤن کے اس علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا فائرنگ کا یہ واقعہ 17 ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو این ڈبلیو کے قریب آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ سے متصل علاقے میں پیش آیا، یہ ایک بہت بڑا سرکاری کمپلیکس ہے جو وائٹ ہاؤس کی عمارت کے بالکل ساتھ واقع ہے۔

    یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکرٹ سروس کے مطابق، مشتبہ شخص بیگ میں ہتھیار چھپا کر سیکرٹ سروس کی سیکیورٹی چوکی کے قریب آیا اور سیکیورٹی بوتھ کے اندر موجود اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو شدید زخمی کر دیا، جو بعد میں مقامی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران 15 سے 30 راؤنڈ فائر کیے گئے۔ وائٹ ہاؤس کے شمالی لان (North Lawn) پر موجود صحافیوں نے بتایا کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے فائرنگ کی آوازیں سنیں، جس کے فوراً بعد سیکرٹ سروس کے عملے نے میڈیا نمائندوں کو عجلت میں عمارت کے اندر منتقل کر دیا اور پورے وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ یہ لاک ڈاؤن شام 7 بجے سے کچھ دیر پہلے ختم کیا گیا۔

    یہ سنسنی خیز واقعہ ایک انتہائی حساس وقت پر پیش آیا دنیا بھر کے میڈیا مینڈوبین وائٹ ہاؤس میں جمع تھے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے ساتھ ایک ممکنہ امن معاہدے یا تاریخی پیش رفت کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے میڈیا کی غیر معمولی موجودگی کی وجہ سے کئی صحافیوں نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد شام کے پرسکون ماحول میں گولیوں کی تھرتھراہٹ سے پھیلنے والی اس افراتفری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

    ابتدائی خدشات کے باوجود، حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی ذات کو کبھی بھی کوئی براہ راست سنگین خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق جب فائرنگ ہوئی تو صدر وائٹ ہاؤس کے اندر، ممکنہ طور پر اوول آفس (صدارتی دفتر) یا اس کے قریب موجود تھے۔ تاہم، اوول آفس پنسلوانیا ایونیو کی اس بیرونی حد سے کافی فاصلے پر واقع ہے جہاں یہ حملہ ہوا۔

    وائٹ ہاؤس سے قربت کی وجہ سے یہ علاقہ ایک بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ اس کے آس پاس ریسٹورنٹس، سووینئر شاپس، کیفے، دفتری عمارتیں اور آرٹ گیلری سمیت ثقافتی مراکز موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے سامنے واقع تاریخی پارک ’لافائیٹ اسکوائر‘ عام طور پر سیاحوں، مظاہرین، پولیس کے گشتی دستوں اور ٹیلی ویژن کروز سے بھرا رہتا ہے۔ اس ضلع میں عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول سیکرٹ سروس، ایف بی آئی (FBI) ایجنٹس، یونیفارم میں ملبوس پولیس افسران اور مختلف وفاقی سیکیورٹی یونٹس کی بھاری نفری تعینات رہتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا، تاہم ہفتے کی دیر رات تک تفتیش کاروں نے باضابطہ طور پر اس کی شناخت (میڈیا کے سامنے) ظاہر نہیں کی تھی اور نہ ہی حملے کا کوئی مقصد سامنے آسکا تھا۔

    واقعے کے بعد پولیس کی گاڑیاں، ایمبولینسز اور وفاقی ایجنٹس بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئے، فضا میں ہیلی کاپٹر چکر لگاتے رہے اور وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد سڑکوں کو عارضی طور پر سیل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کے خلاف سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی ، جس پر سیکریٹ سروس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، حملہ آور کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، اسے اہم عمارتوں میں غیر معمولی دلچسپی تھی، مستقبل میں صدور کیلئے انتہائی محفوظ اورمضبوط سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے، ہمارے ملک کی قومی سلامتی اس کا مطالبہ کرتی ہے-

  • وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے-

    لیویٹ نے اپنی بیٹی کی پیدائش کا اعلان کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے، ان کی نومولود بیٹی کا نام ویویانا (Viviana) رکھا گیا ہے جسے گھر میں پیار سے ’ویوی‘ کہا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کیرولین لیویٹ نے کہا کہ یکم مئی کو ان کی بیٹی نے خاندان میں خوشیوں کا اضافہ کیا بچی مکمل طور پر صحت مند اور تندرست ہے،ہم اس خوشی کے نئے مرحلے کو بھرپور انداز میں انجوائے کر رہے ہیں اور ہمارا بیٹا اپنی نئی بہن کے ساتھ خوشی سے ایڈجسٹ ہو رہا ہے،ہمارا گھر اس وقت محبت اور خوشیوں سے بھرپور ہے۔

    یہ کیرولین لیویٹ اور ان کے شوہر نکولس ریکیو کے ہاں دوسری اولاد ہے۔ ان کا پہلا بیٹا نکولس (عرف نکو) جولائی 2024 میں پیدا ہوا تھا،رپورٹس کے مطابق 28 سالہ کیرولین لیویٹ پہلی وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری ہیں جنہوں نے دوران عہدہ حمل اور زچگی کا تجربہ کیا وہ اس وقت زچگی کی چھٹی پر ہیں اور توقع ہے کہ رواں سال کے آخر میں دوبارہ صحافتی بریفنگز شروع کریں گی،ان کی آخری پریس بریفنگ 27 اپریل کو ہوئی تھی جس کے بعد وہ عارضی طور پر ذمہ داریوں سے الگ ہو گئی تھیں،اس دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے مختلف حکومتی عہدیدار باری باری میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں۔

  • وائٹ ہاؤس میں بہت فرسٹریشن ہے، ہر کوئی منتظر ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو،امریکی صحافی

    وائٹ ہاؤس میں بہت فرسٹریشن ہے، ہر کوئی منتظر ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو،امریکی صحافی

    امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے وابستہ اور وائٹ ہاؤس کوریج پر مامور امریکی صحافی کیٹلِن ڈورنبوس نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بہت فرسٹریشن ہے، ہر کوئی منتظر ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو، دونوں ممالک امریکا اور ایران اس بات کے لیے تیار ہیں کہ جنگ ختم ہو لیکن ہمیں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

    نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں کیٹلن نے کہاکہ وائٹ ہاؤس اس معاملے میں آگے بڑھ رہا ہے اور حال ہی میں امریکا نے نئے مشن کا اعلان کیا ہے جسے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا اس تنازعے سے تعلق تو نہیں لیکن اس کا فوکس آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر ہے، اُمید ہے ہم اس کے بارے میں کچھ پیش رفت دیکھیں گے اِس موقع پر یا مستقبل قریب میں مجھے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی کوئی توقع نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امن جلد قائم نہیں ہو گا بلکہ چیزیں مختلف طریقے سے ہوں گی جس طرح سے واقعات ارتقائی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

    مذاکرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یقیناً سب سے بڑی چیز جو مذاکراتی عمل نے حاصل کی ہے وہ جنگ بندی ہے اب ہم ایک دوسرے پر بمبار ی نہیں کررہے، ہم نسبتاً کسی حد تک امن قائم رکھے ہوئے ہیں، جنگ بندی پہلے ہی ہو چکی ہے اور صدر ٹرمپ دو ہفتے قبل کہہ چکے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے گی اور اِس کی کوئی آخری تاریخ نہیں لیکن جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔

    ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں امریکی عوام کی رائے کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرے لے عام آدمی کی بات کرنا خاصا مشکل ہے کیونکہ عام لوگوں کی رائے مختلف ہے کچھ لوگ جنگ کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ لوگ جنگ کے خلاف ہیں، جبکہ کچھ لوگ جنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پریشان ہے-

    کیٹلِن ڈورنبوس نے کہاکہ پاکستان بطور ثالث اب بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور یہ کردار کتنا مؤثر ہے یقیناً پاکستان کو اب بھی ایک بہت اہم کردار نبھانا ہے، پاکستان وہ ثالث ہے جو دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کررہا ہے امریکا اور ایران براہ راست تو بات چیت نہیں کررہے بلکہ پاکستان کے ذریعے بات چیت کررہے ہیں اور یہ کردار مستقبل میں جاری رہے گا، خاص طور پر ایسے حالات میں جب ہم ایک دوسرے پر بمباری نہیں کر رہے ہوں گے۔

    کیٹلِن ڈورنبوس نے کہاکہ میں نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران لوگوں کے کھلے بازو دیکھے، اچھی میزبانی کا تجربہ کیا، لوگوں کی فیاضی اور گرم جوشی دیکھی، اور یہ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان بین الاقوامی معاملات میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ پاکستانیوں کی اچھی فطرت ہے،’یہ بہت ہی خوشگوار تجربہ تھا اور میں نے ہر چیز کا لطف لیا خواہ وہ لوگوں کے ساتھ مِلنا جلنا ہو یا یہاں کی ثقافت کے بارے میں جاننا اور یہ میری توقعات سے کہیں بڑھ کے تجربہ تھا میرا خیال ہے میں جلد پاکستان واپس آؤں گی، غالباً چھٹیاں گزارنے، شاید اِسی سال آؤں کیونکہ میرا پہلا دورہ بہت شاندار رہا۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشکوک مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

    ’وائٹ ہاؤس‘ کے قریب فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک مشکوک مسلح شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

    امریکی خفیہ ادارے ’سیکرٹ سروس‘ نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے قریب تعینات اہلکاروں کا ایک مسلح اور مشکوک شخص سے سامنا ہوا جس نے اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں زخمی ہو گیا،اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

    سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بیرونی حصوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کی نشاندہی کی جو مشکوک لگ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے پاس اسلحہ ہے جب سیکرٹ سروس کے افسران اس شخص کے قریب پہنچے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے پیدل بھاگا اور اس نے اہلکاروں کی سمت میں گولی چلائی، اس کے بعد سیکرٹ سروس نے مشتبہ شخص پر جوابی فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    میتھو کوئن نے انکشاف کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ اس واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے اس علاقے سے گزرا تھا، تاہم ابھی تک ایسے کوئی اشار ے نہیں ملے کہ مشتبہ شخص کا ارادہ نائب صدر کے قافلے تک پہنچنا تھا اس واقعے کے دوران ایک کم عمر راہگیر بھی مشتبہ شخص کی گولی کا نشانہ بنا لیکن اسے کوئی جان لیوا چوٹ نہیں آئی اور اس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

    مشتبہ شخص وائٹ ہاؤس کی حدود کے اندر موجود نہیں تھا بلکہ باہر تھا، حملہ آور کا رخ صدر کی طرف تھا یا نہیں، اس وقت میں نہیں جانتا لیکن ہم جلد ہی اس کا پتہ لگا لیں گے مشتبہ شخص سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔

  • ٹرمپ کی موجودگی میں  فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں کارسپونڈنگ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حملہ آور کا ممکنہ ہدف امریکی صدر تھے۔

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے کہا ایسا لگتا ہے ملزم نے اکیلے کارروائی کی اور وہ ہوٹل میں ہی مقیم تھا اور حکومتی عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، پیر کو اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    امریکی میٖڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سال کے Cole Tomas Allen کے طور پر ہوئی، مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے کیلیفورنیا کےعلاقے ٹورینس میں گرفتارملزم کے گھر اور اطراف میں تحقیقات شروع کردی گئی۔

  • وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: حملہ آور کا چونکا دینے والا بیان

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: حملہ آور کا چونکا دینے والا بیان

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور کا چونکا دینے والا اعتراف سامنے آیاہے-

    وائٹ ہاؤس میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے نے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جہاں حملہ آور نے فائرنگ کے دوران تقریباً 8 گولیاں چلائیں، اس واقعے میں زخمی ہونے والا ایک پولیس اہلکار علاج کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہو گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ موجود نہیں تھا، جس نے سیکیورٹی اداروں کے لیے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہےایف بی آئی کی ٹیم نے مشتبہ شخص کے گھر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تلاشی کے لیے وارنٹ حاصل کرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق حملہ آور کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھامیڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش بیان دیا کہ اس کا اصل ہدف ڈونلڈ ٹرمپ تھے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی بڑی منصوبہ بندی کا حصہ تھا یا ایک انفرادی اقدام ہے۔

  • ٹرمپ پر حملہ: وائٹ ہاؤس ترجمان کی مذاق میں کی گئی پیش گوئی سچ ثابت

    ٹرمپ پر حملہ: وائٹ ہاؤس ترجمان کی مذاق میں کی گئی پیش گوئی سچ ثابت

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہونے والی تقریب میں فائرنگ کے واقعے سے چند گھنٹے قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس رات تقریب ‘تفریحی اور مزاحیہ’ ہوگی اور وہاں ‘شاٹس فائر ہوں گی’۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کی تقریب سے عین قبل کہا تھا کہ آج رات ہال میں شاٹس فائر ہوں گی اگرچہ ان کا اشارہ صدر ٹرمپ کی کاٹ دار اور تیکھی تقریر کی طرف تھا، لیکن تقریب کے دوران ہونے والے اصل حملے نے ان کے ان الفاظ کو ایک عجیب رنگ دے دیا ہے۔

    کیرولین لیوٹ نے امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ آج مقابلے کے لیے تیار ہیں اور ان کی تقریر روایتی ڈونلڈ ٹرمپ اسٹائل میں ہوگی، وہ مزاحیہ اور تفریح سے بھرپور ہوگی اور آج رات ہال میں کچھ گولیاں چلیں گی، اس لیے ہر کسی کو یہ دیکھنا چاہیے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ تقریر کس نے لکھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس کا کریڈٹ نہیں لے سکتی، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص انداز میں خود قلم اٹھاتے ہیں اور کاغذ پر اپنے خیالات لکھتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ تر ان کا اپنا کام ہےابھی تقریب جاری ہی تھی اور صدر ٹرمپ اسٹیج پر موجود تھے کہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے ہال کا سکون برباد کر دیا۔

    تقریب سے قبل لارا ٹرمپ نے بھی ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ صدر نے اپنی تقریر کے لیے مزاحیہ لکھاریوں کی مدد لی ہے اور وہ صحافیوں کو طنز کا نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ صدر تقریب میں بھرپور مزاح پیش کریں گے۔

    بعد ازاں ہوٹل کی لابی میں، جہاں وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر منعقد ہونا تھا، فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے تیزی اور بہادری سے کام کیا اور صورتحال پر قابو پا لیا۔ ابتدا میں انہوں نے تقریب جاری رکھنے کی تجویز دی تھی تاہم بعد میں سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی۔

    واقعے کے بعد واشنگٹن میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام نے فائرنگ کے محرکات اور حملہ آور کے پس منظر کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تفتیشی ادارے مختلف زاویوں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

  • ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے-

    وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر جہاں سے وہ میامی میں ایک مکسڈ مارشل آرٹس مقابلہ دیکھنے جا رہے تھےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، اور ہم ہر صورت میں کامیاب ہوں گے، ہم نے انہیں عسکری طور پر شکست دی ہے-چین کی جانب سے ایران کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی ممکنہ اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر بیجنگ نے ایسا کیا تو اسے ‘بڑے مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا-

    ادھر امریکا اور ایران کے درمیان نصف صدی کے دوران اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات پاکستان میں ہوئے، جن میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، ان مذاکرات کا مقصد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 6 ہفتوں پر مشتمل جنگ کا خاتمہ ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا میں جنگ بندی کوششوں کو سراہا،کہا کہ جے ڈی وینس نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔

    جنگ بندی کے نازک ماحول کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر رہی ہے۔