Baaghi TV

Tag: وائٹ ہاؤس

  • صدر ٹرمپ کا 12 ملکوں کے شہریوں پر امریکی داخلے کی پابندی کا دفاع

    صدر ٹرمپ کا 12 ملکوں کے شہریوں پر امریکی داخلے کی پابندی کا دفاع

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر سے ملاقات کے موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں بُرے عناصر کا داخلہ روکنا چاہتے ہیں، کیونکہ بائیڈن انتظامیہ نے بعض خطرناک افراد کو ملک میں داخل ہونے دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسے افراد کو ایک ایک کر کے ملک سے نکال رہے ہیں اور جب تک تمام کو نکال نہیں دیتے، تب تک نہیں رکیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک میں ہزاروں قاتل موجود ہیں، اور ہم نہیں چاہتے کہ مزید خطرناک افراد داخل ہوں، "بُرا” کہہ کر میں بہت نرم لفظ استعمال کر رہا ہوں۔

    صدر ٹرمپ کے بڑے اقدامات کے تحت امریکی شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کئی ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ان پابندیوں کے تحت 12 ممالک کے شہریوں پر مکمل جبکہ 7 ممالک پر جزوی پابندیاں لگائی گئی ہیں، جب کہ ہارورڈ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کے ویزوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس، سائبر رسپانس ٹیم کی ٹک ٹاکرز و انفلوئنسرز کیلئے احتیاطی ایڈوائزری جاری

    معید پیرزادہ بھارتی زبان بولنے لگے، بلاول بھٹو اور ششی تھرور کا موازنہ—اصل ایجنڈا کیا ہے؟

    باجوڑ: ڈی ایچ او ڈاکٹر گوہر کے گھر کے قریب دھماکا، والد جاں بحق

  • امریکا نے چینی اشیاءپر ٹیرف  145 فیصد کردیا

    امریکا نے چینی اشیاءپر ٹیرف 145 فیصد کردیا

    امریکا نے چینی درآمدات پر ٹیر ف میں مزید 20 اضافہ کرتے ہوئے 145 فیصد کردیا۔

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نےبتایا ہے کہ چینی اشیا پر ٹیرف اب 145 فیصد ہوگیا ہے، یہ 125 فیصد نیا ٹیرف پہلے سے موجود 20 فیصد ٹیرف کے علاوہ ہے جس کے بعد مجموعی شرح 145 فیصد بن جاتی ہے۔امریکی صدر نے اس اقدام کے بعد کہا ہے کہ کل ایک مشکل دن تھاہمیشہ چیزوں کی منتقلی کا عمل خاصا مشکل ہوتا ہے، کل مارکیٹ میں تاریخ کا ایک بڑا دن تھا،جس طریقے سے ملک چل رہا ہے ہم اس سے بہت خوش ہیں۔ ہم کوشش کررہے ہیں دنیا ہمارے ساتھ منصفانہ سلوک کرے، ہمیں لگتا ہے ہم بہت اچھی حالت میں ہیں اور بہت اچھا کررہے ہیں۔

    دوسری جانب چین پر ٹیرف میں مزید اضافے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں پھر مندی کا راج ہے جبکہ گزشتہ روز مارکیٹ سنبھلنے پر سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔یاد رہے کہ گذشتہ روز ہی صدر ٹرمپ نے چین کے علاوہ باقی ممالک کے لیے نئے ٹیرف کو 90 روز کے لیے معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ ہی چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں مزید21 فیصد اضافہ کرکے 125 فیصد کردیا تھا۔

    صدربیلا روس کا نوازشریف اور وزیراعظم کے اعزاز میں عشائیہ

    کراچی میں ترقیاتی کام کرانا اولین ترجیح ہے، بیرسٹرمرتضیٰ وہاب

    کراچی میں ترقیاتی کام کرانا اولین ترجیح ہے، بیرسٹرمرتضیٰ وہاب

    منشیات فروشوں کیساتھ رابطے ، لیڈی سب انسپکٹر معطل

    امریکی اعلان کے بعد یورپی یونین نے ٹیرف موخر کردیا

  • وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کا مسلم کمیونٹی کیلیے افطار ڈنر

    وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کا مسلم کمیونٹی کیلیے افطار ڈنر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ افطار ڈنر کا اہتمام کیا،

    غیر ملکی میڈیا کے مطاق ٹرمپ نے رمضان کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے 2024 کے انتخابات میں مسلم کمیونٹی کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ شام بخیر اور اس خاص افطار ڈنر میں خوش آمدید۔ جیسے کہ ہم رمضان کے مقدس مہینے میں ہیں اور میں اپنے مسلمان دوستوں سے کہوں گا رمضان مبارک۔وائٹ ہاؤس کے اس تقریب میں مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں، سفارتکاروں اور حکومتی عہدیداروں نے شرکت کی۔

    ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ رمضان روحانی غور و فکر اور خود پر قابو پانے کا موسم ہے۔ اس مقدس مہینے کے دوران مسلمان دن کے آغاز سے شام تک روزہ رکھتے ہیں، اپنی عبادت اور خدا کی رضا پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ پھر دنیا بھر کے مسلمان ہر رات اپنے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ افطار کے ذریعے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور روزہ افطار کرتے ہیں۔ ہم سب دنیا بھر میں امن کی خواہش رکھتے ہیں۔

    پاکستان کرکٹ کے لیے برطانیہ سے بری خبر آ گئی

    فلسطین کے لیے مظاہرہ، امریکہ نے 300 طلبا کے ویزے منسوخ کردیے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ایڈز کے سدباب کیلئے فوری اقدامات کا حکم

    سندھ، ٹرک و ڈمپرز میں کیمرے ، ٹریکرز نصب کرنے کا حکم

  • روس اور یوکرین  بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ

    روس اور یوکرین بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ

    روس اور یوکرین نے امریکی مذاکرات کے بعد بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کےمطابق سعودی عرب میں روس کے ساتھ مذاکرات کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہ گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیے پُرعزم ہیں،امریکا اور یوکرین پائیدار اور دیرپا امن کے لیے کام جاری رکھیں گے، امریکا روس کی زرعی برآمدات کی بحالی میں مدد کرے گا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مستقل قیام امن کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش ہے، یہ معاہدہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو روکنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

    معاہدے کی تفصیلات:
    محفوظ نیویگیشن: تمام فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ بحیرہ اسود میں جہاز رانی کو محفوظ بنایا جائے گا۔طاقت کے استعمال کی ممانعت: کوئی بھی ملک یہاں طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔تجارتی جہازوں کا تحفظ: کمرشل بحری جہازوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔یوکرینی وزیر دفاع، روسٹم عمروف نے بھی تصدیق کی کہ "تمام فریقین نے ان نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔”

    واضح رہے کہ یہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب توانائی اور تجارتی راستوں کی سلامتی ایک بڑا عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

    سندھ پارلیمانی کمیٹی کی طلبا کو گریس مارکس دینے کی منظوری

    ایران نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا

  • امریکی سیکرٹ سروس نے وائٹ ہاؤس کے قریب مسلح شخص کو   گولی مار دی

    امریکی سیکرٹ سروس نے وائٹ ہاؤس کے قریب مسلح شخص کو گولی مار دی

    امریکا کی سیکرٹ سروس نے وائٹ ہاؤس کے قریب مسلح شخص کو گولی ماردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس نے اتوار کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب ایک "مسلح تصادم” کے بعد ایک نامعلوم شخص کو گولی مار دی۔سیکرٹ سروس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ” واشنگٹن ڈی سی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مسلح تصادم کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے ایک آدمی کو گولی مار دی۔”سیکرٹ سروس کے مطابق مشتبہ شخص کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

    اس واقعے میں سیکرٹ سروس کا کوئی ایجنٹ زخمی نہیں ہوا۔سیکرٹ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے کہا کہ ڈی سی پولیس ڈیپارٹمنٹ اس واقعے کی تحقیقات کرے گا، کیونکہ یہ ضلع کولمبیا میں طاقت کے استعمال کے واقعات کی ذمہ دار بنیادی ایجنسی ہے۔سیکریٹ سروس نے کہا، "یہ واقعہ میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے داخلی امور کے ڈویژن کی فورس انویسٹی گیشن ٹیم کے زیرِ تفتیش ہے، جو ضلع کولمبیا میں ہونے والی فائرنگ میں قانون نافذ کرنے والے تمام افسروں کے ملوث ہونے کی تحقیقات کر تی ہے۔”

    بھارتی براہموس میزائل کے پاکستان میں گرنے کے 3 سال مکمل

  • خفیہ دستاویزات کیس،ایف بی آئی نےقبضہ میں لیا سامان ٹرمپ کو واپس کردیا

    خفیہ دستاویزات کیس،ایف بی آئی نےقبضہ میں لیا سامان ٹرمپ کو واپس کردیا

    امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ ایف بی آئی نے 2021 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےغیر قانونی طور پر اپنی مار-اے-لاگو فلوریڈا اسٹیٹ میں لے جانے والے مواد کے بکس واپس کردیئے۔

    تفصیلات کے مطابق ٹرمپ کو عہدہ چھوڑنے کے بعد قومی دفاعی دستاویزات کو اپنے پاس رکھنے اور مبینہ طور پر وفاقی حکام سے چھپانے کی سازش کرنے کے مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو 2022 میں ان کی مار-اے-لاگو اسٹیٹ میں خفیہ نشانات والی 100 سے زائد دستاویزات ملی تھیں۔ FBI نے تلاشی کے دوران دیگر سرکاری دستاویزات بھی برآمد کی تھیں۔ان الزامات کو ٹرمپ کے الیکشن جیتنے کے بعد چھوڑ دیا گیا، محکمہ انصاف کی پالیسی ہے جس کے تحت کسی موجودہ صدر کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاتا۔

    یہ واضح نہیں تھا کہ آیا ٹرمپ کو دیے گئے بکس خفیہ دستاویزات پر مشتمل تھے۔ وائٹ ہاؤس نے باکس میں موجود مواد کے بارے میں وضاحت طلب کرنے والے پیغام کا جواب نہیں دیا۔ٹرمپ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے کہا کہ "ایف بی آئی صدر کو ان کی وہ چیزیں واپس دے رہا ہے جو غیر قانونی اور غیر قانونی چھاپوں کے دوران لی گئی تھی۔” "ہم آج ان ڈبوں کو اپنے قبضے میں لے رہے ہیں اور انہیں ایئر فورس ون پر لوڈ کر رہے ہیں۔”جمعے کے روز فلوریڈا کے لیے روانہ ہونے والی ٹرمپ کی فلائٹ میں بکسوں کو لوڈ کیا گیا تھا۔

    ٹرمپ نے ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ میں لکھا کہ بکسوں میں موجود مواد "کسی دن ٹرمپ کی صدارتی لائبریری کا حصہ ہوں گے۔””بالآخر انصاف جیت گیا۔ میں نے بالکل غلط نہیں کیا۔ یہ محض ایک سیاسی مخالف پر حملہ تھا جو ظاہر ہے کہ اچھا نہیں ہوا۔ ہمارے ملک میں اب انصاف بحال ہو جائے گا،‘‘ انہوں نے لکھا۔خفیہ دستاویزات کے معاملے میں ٹرمپ کے خلاف الزامات عائد کرنے والے خصوصی وکیل جیک اسمتھ نے ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد محکمہ انصاف سے استعفیٰ دے دیاتھا۔

    آسٹریلیا کو سیمی فائنل سے قبل بڑا دھچکا، اہم کھلاڑی انجرڈ

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل فروخت کیلئے پیش کر دیا

    دورہ نیوزی لینڈ میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا فیصلہ

    پاکستان:صنفی بنیاد پر تشدد، 2024 میں 36 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

  • خلیج میکسکیو کہنے پررپورٹر کو وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا

    خلیج میکسکیو کہنے پررپورٹر کو وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا

    عالمی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے رپورٹر کو ‘خلیج امریکا’ کا لفظ استعمال نہ کرنے پر وائٹ ہاؤس سے باہر نکال دیا گیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ اس کے رپورٹر ’ خلیج میکسیکو’ لفظ کا استعمال کرنا برقرار رکھے ہوئے تھے جس کی سزا کے طورپر انہیں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس ایونٹ میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔اے پی کی ایگزیکٹو ایڈیٹر، جولی پیس نے ایک بیان میں کہا: "ایک عالمی خبر رساں ادارے کے طور پر، ایسوسی ایٹڈ پریس ہر روز دنیا بھر میں اربوں لوگوں کو حقائق پر مبنی، غیر جانبدارانہ صحافت سے آگاہ کرتا ہے۔””آج ہمیں وائٹ ہاؤس کی طرف سے مطلع کیا گیا کہ اگر AP نے اپنے ایڈیٹوریل معیار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا رکھنے کے مطابق نہیں کیا، تو AP کو اوول آفس میں ہونے والی تقریب میں شرکت سے روک دیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ "یہ تشویشناک ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اے پی کو اس کی آزاد صحافت کی سزا دے گی۔ اوول آفس تک ہماری رسائی کو محدود کرنا نہ صرف عوام کی آزاد خبروں تک رسائی میں شدید رکاوٹ ہے بلکہ یہ پہلی ترمیم کی صریحاً خلاف ورزی کرتا ہے۔ فاؤنڈیشن برائے انفرادی حقوق اور اظہار (فائر) کے آرون ٹیر نے اس اقدام کو "آزادی صحافت پر ایک خطرناک حملہ” قرار دیا۔” وائٹ ہاؤس کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن (WHCA) نے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں اس فیصلے پر احتجاج کیا۔ڈبلیو ایچ سی اے کے صدر یوجین ڈینیئلز نے کہا، ’’ وائٹ ہاؤس یہ حکم نہیں دے سکتا کہ خبر رساں ادارے خبریں کس طرح رپورٹ کریں، اور نہ ہی اسے ورکنگ صحافیوں کو سزا دینا چاہیے ایک رپورٹر کو آج خبروں کی کوریج کے لیے کھلے سرکاری پروگرام سے روکنا ناقابل قبول ہے۔

    یادرہے اوول آفس میں صدر اور ایلون مسک کے ساتھ ایک سوال و جواب کا سیشن ہوا تھا جس میں مسک نے اپنے محکمہ DOGE کے بارے میں وضاحت پیش کی ۔ حلف برداری کے فوری بعد صدر ٹرمپ نے خلیج میکسیکو اور شمالی امریکہ کی بلند ترین چوٹی ڈینالی دونوں کا نام تبدیل کرنے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ جس کے مطابق، خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج آف امریکہ رکھ دیا جائے گا، اور ڈینالی کوماؤنٹ میک کینلے کے نام سے پکارا جائے گا – تاہم اے پی نے اپنے ایڈیٹوریل بورڈ کی تجزیئے کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا کہ خلیج امریکا کی جگہ اسے خلیج میکسیکو کے نام سے ہی لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ خلیج میکسیکو کا نام "400 سال سے زیادہ” سے برقرار ہے اور دوسرے ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو نام کی تبدیلی کو تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    تاہم ماؤنٹ میک کینلے کامعاملہ جدا ہے کیونکہ الاسکا مکمل طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا کاحصہ ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کانام بدلنے کا اختیارہے۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ڈبلیو ایچ سی اے اور اے پی کے بیانات پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ میکسیکو کی وزارت خارجہ نے بھی تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی اداروں سے ڈاؤن سائزنگ یعنی افرادی قوت میں کمی لانے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ اوول آفس میں صدارتی حکم نامے پر دستخط کے موقع پر صدر ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک بھی موجود تھے۔

    صدارتی حکم نامے کے مطابق وفاقی سرکاری اداروں سے چار ملازمین کی فراغت پر ایک سے زائد ملازم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایگزیکٹو آرڈر میں امیگریشن، قانون کے نفاذ اور عوامی تحفظ کے اداروں کو اس سے مستثنا قرار دیا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ کے مطابق سرکاری ادارے افرادی قوت کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبے کا آغاز کریں گے اور یہ ادارے اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ اس کے کن حصوں یا پوری ایجنسی کو ختم کیا جا سکتا ہے یا کن اداروں کو ضم کیا جا سکتا ہے کیوں کہ قانون کے مطابق ان کی ضرورت نہیں ہے۔انتظامیہ کی جانب سے وفاقی سرکاری ملازمین کو مالی فوائد کے بدلے میں مستعفی ہونے پر زور دیا جا رہا ہے۔ البتہ ایک جج کی جانب سے اس عمل کو روک دیا گیا ہے اور اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    سرکاری ملازمین کے حق میں ریلی

    ملازمت چھوڑنے کے پروگرام ‘بائے آؤٹ’ کے تحت قبل از وقت ملازمت سے مستعفی ہونے والے سرکاری ملازمین کو ستمبر تک کی ادائیگی کی جائے گی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 65 ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین اس پروگرام کے تحت مستعفی ہونے کی حامی بھر چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں منگل کو سرکاری ملازمین کے حق میں ریلی نکالی گئی۔

  • وائٹ ہاؤس نے تمام وفاقی گرانٹس ، قرضوں کی تقسیم روک دی

    وائٹ ہاؤس نے تمام وفاقی گرانٹس ، قرضوں کی تقسیم روک دی

    امریکہ میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے تمام وفاقی گرانٹس اور قرضوں کی تقسیم روک دی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے بجٹ آفس نے تمام وفاقی گرانٹس اور قرضوں کو روکنے کا حکم دیا ہے۔وائٹ ہاؤس آفس آف مینجمنٹ اور بجٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر میتھیو ویتھ نے میمورنڈم میں کہا کہ وفاقی ایجنسیوں "تمام وفاقی گرانٹس یا تقسیم سے متعلق تمام سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک دے۔اس کے علاوہ نئی گرانٹس کے اجراء کو بھی روک دیا گیا ہے۔میمو میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا ثر سوشل سیکیورٹی یا میڈیکیئر کے فوائد، اور "افراد کو براہ راست فراہم کردہ امداد” پر نہیں ہوگا۔

    وفاقی امداد پر پابندی شام 5 بجے سے نافذ العمل ہو گی۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی فنڈنگ ​​پر کنٹرول کے لیے تازہ ترین اقدام ہے۔میمو کے مطابق، بجٹ آفس "وفاقی ایجنسیوں کو کیس کی بنیاد پر نئے گرانٹس جاری کرنے یا دیگر اقدامات کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔میمو میں ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 10 فروری تک "کسی بھی پروگرام، پروجیکٹ یا سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات او ایم بی ( OMB )کو جمع کرائیں۔

  • ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

    ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نےنو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے یوکرین کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے-

    باغی ٹی وی : "دی گارڈین "کے مطابق انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائٹ ہاؤس جنوری میں صدر جو بائیڈن کے عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے یوکرین کو 6 ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے،آئندہ سال جنوری میں منتخب ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب ہوگی اور اس سے قبل وائٹ ہاؤس انتظامیہ یوکرین کو ممکنہ مضبوط ترین پوزیشن میں لانے کا امید رکھتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پت یوکرین کیلئے 9 بلین کی امداد باقی ہے وائٹ ہاؤس اب ان فنڈز کو جلد از جلد تعینات کرنے کے لیے کام کررہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یوکرین کے پاس روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہتھیار موجود ہوں، چاہے ٹرمپ امداد بھیجنے سے انکار کر دیں امریکا کے یوکرین کو مختص کردہ ہتھیار بھیجنے میں عام طور پر مہینوں لگتے ہیں، اس لیے آنے والے ہفتوں میں اعلان کردہ کسی بھی پیکج کے جنوری 2025 کے اختتام سے پہلے مکمل طور پر پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔

  • امریکا یہود دشمنی اور نفرت آمیز تقریروں کی مذمت جاری رکھے گا، جین بیئر

    امریکا یہود دشمنی اور نفرت آمیز تقریروں کی مذمت جاری رکھے گا، جین بیئر

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرین جین بیئر نے کہا ہے کہ جامعات میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہرے خلل کا باعث بن رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی سے کرین جین بیئر سے مظاہرین پر پولیس کے تشدد سے متعلق سوال پوچھے گئے سوال پر کہا کہ امریکا اپنے شہریوں کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جامعات میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہرے خلل کا باعث بن رہے ہیں، امریکی یونیورسٹیوں میں طلبا کا اسرائیل مخالف احتجاج بہت محدود پیمانے پر تھا اور صرف چند فیصد طلبا نے شرکت کی۔

    پریس سیکرٹری کرین جین بیئر نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اموات کی شرح کے خلاف نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے غصے سے آگاہ ہیں لیکن یہ مظاہرے پُرامن ہونے چاہیے، امریکا یہود دشمنی اور نفرت آمیز تقریروں کی مذمت جاری رکھے گا۔

    دوسری جانب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جامعات میں اسرائیل مخالف مظاہروں اور احتجاج کا کوئی جواز نہیں نیو یارک پولیس نے اچھا کیا کہ کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس پر چھاپے مارے اور گرفتاریاں کیں مجھے تو یہ سب دیکھ کر بہت مزا آیا۔

    اسکونسن ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی جامعات میں اسرائیل مخالف احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں کے ذمہ دار صدر بائیڈن ہیں اس حوالے سے پہلے سے تیاریاں کی جانی چاہیے تھیں تاکہ مظاہرین سے بروقت نمٹ لیا جاتا،نیو یارک کے پولیس افسران نے کمال کر دکھایا کہ کولمییا اور سٹی کالج نیو یارک میں 300 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرکے کیمپس خالی کروایا کسی بھی تعلیمی ادارے میں سیاسی بنیادوں پر مظاہروں اور احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں بائیڈن انتظامیہ کو اس صورتِ حال کا نوٹس لیتے ہوئے جامع حکمتِ عملی کے تحت احتجاج روکنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکا کی جامعات میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہروں میں شریک طلبا پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی، تشدد کا نشانہ بنایا اور 500 سے زائد کو حراست میں لے لیا تھا۔