Baaghi TV

Tag: وائٹ ہاؤس

  • روس اور یوکرین  بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ

    روس اور یوکرین بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ

    روس اور یوکرین نے امریکی مذاکرات کے بعد بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کےمطابق سعودی عرب میں روس کے ساتھ مذاکرات کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہ گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیے پُرعزم ہیں،امریکا اور یوکرین پائیدار اور دیرپا امن کے لیے کام جاری رکھیں گے، امریکا روس کی زرعی برآمدات کی بحالی میں مدد کرے گا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مستقل قیام امن کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش ہے، یہ معاہدہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو روکنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

    معاہدے کی تفصیلات:
    محفوظ نیویگیشن: تمام فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ بحیرہ اسود میں جہاز رانی کو محفوظ بنایا جائے گا۔طاقت کے استعمال کی ممانعت: کوئی بھی ملک یہاں طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔تجارتی جہازوں کا تحفظ: کمرشل بحری جہازوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔یوکرینی وزیر دفاع، روسٹم عمروف نے بھی تصدیق کی کہ "تمام فریقین نے ان نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔”

    واضح رہے کہ یہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب توانائی اور تجارتی راستوں کی سلامتی ایک بڑا عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

    سندھ پارلیمانی کمیٹی کی طلبا کو گریس مارکس دینے کی منظوری

    ایران نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا

  • امریکی سیکرٹ سروس نے وائٹ ہاؤس کے قریب مسلح شخص کو   گولی مار دی

    امریکی سیکرٹ سروس نے وائٹ ہاؤس کے قریب مسلح شخص کو گولی مار دی

    امریکا کی سیکرٹ سروس نے وائٹ ہاؤس کے قریب مسلح شخص کو گولی ماردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس نے اتوار کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب ایک "مسلح تصادم” کے بعد ایک نامعلوم شخص کو گولی مار دی۔سیکرٹ سروس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ” واشنگٹن ڈی سی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مسلح تصادم کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے ایک آدمی کو گولی مار دی۔”سیکرٹ سروس کے مطابق مشتبہ شخص کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

    اس واقعے میں سیکرٹ سروس کا کوئی ایجنٹ زخمی نہیں ہوا۔سیکرٹ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے کہا کہ ڈی سی پولیس ڈیپارٹمنٹ اس واقعے کی تحقیقات کرے گا، کیونکہ یہ ضلع کولمبیا میں طاقت کے استعمال کے واقعات کی ذمہ دار بنیادی ایجنسی ہے۔سیکریٹ سروس نے کہا، "یہ واقعہ میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے داخلی امور کے ڈویژن کی فورس انویسٹی گیشن ٹیم کے زیرِ تفتیش ہے، جو ضلع کولمبیا میں ہونے والی فائرنگ میں قانون نافذ کرنے والے تمام افسروں کے ملوث ہونے کی تحقیقات کر تی ہے۔”

    بھارتی براہموس میزائل کے پاکستان میں گرنے کے 3 سال مکمل

  • خفیہ دستاویزات کیس،ایف بی آئی نےقبضہ میں لیا سامان ٹرمپ کو واپس کردیا

    خفیہ دستاویزات کیس،ایف بی آئی نےقبضہ میں لیا سامان ٹرمپ کو واپس کردیا

    امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ ایف بی آئی نے 2021 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےغیر قانونی طور پر اپنی مار-اے-لاگو فلوریڈا اسٹیٹ میں لے جانے والے مواد کے بکس واپس کردیئے۔

    تفصیلات کے مطابق ٹرمپ کو عہدہ چھوڑنے کے بعد قومی دفاعی دستاویزات کو اپنے پاس رکھنے اور مبینہ طور پر وفاقی حکام سے چھپانے کی سازش کرنے کے مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو 2022 میں ان کی مار-اے-لاگو اسٹیٹ میں خفیہ نشانات والی 100 سے زائد دستاویزات ملی تھیں۔ FBI نے تلاشی کے دوران دیگر سرکاری دستاویزات بھی برآمد کی تھیں۔ان الزامات کو ٹرمپ کے الیکشن جیتنے کے بعد چھوڑ دیا گیا، محکمہ انصاف کی پالیسی ہے جس کے تحت کسی موجودہ صدر کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاتا۔

    یہ واضح نہیں تھا کہ آیا ٹرمپ کو دیے گئے بکس خفیہ دستاویزات پر مشتمل تھے۔ وائٹ ہاؤس نے باکس میں موجود مواد کے بارے میں وضاحت طلب کرنے والے پیغام کا جواب نہیں دیا۔ٹرمپ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے کہا کہ "ایف بی آئی صدر کو ان کی وہ چیزیں واپس دے رہا ہے جو غیر قانونی اور غیر قانونی چھاپوں کے دوران لی گئی تھی۔” "ہم آج ان ڈبوں کو اپنے قبضے میں لے رہے ہیں اور انہیں ایئر فورس ون پر لوڈ کر رہے ہیں۔”جمعے کے روز فلوریڈا کے لیے روانہ ہونے والی ٹرمپ کی فلائٹ میں بکسوں کو لوڈ کیا گیا تھا۔

    ٹرمپ نے ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ میں لکھا کہ بکسوں میں موجود مواد "کسی دن ٹرمپ کی صدارتی لائبریری کا حصہ ہوں گے۔””بالآخر انصاف جیت گیا۔ میں نے بالکل غلط نہیں کیا۔ یہ محض ایک سیاسی مخالف پر حملہ تھا جو ظاہر ہے کہ اچھا نہیں ہوا۔ ہمارے ملک میں اب انصاف بحال ہو جائے گا،‘‘ انہوں نے لکھا۔خفیہ دستاویزات کے معاملے میں ٹرمپ کے خلاف الزامات عائد کرنے والے خصوصی وکیل جیک اسمتھ نے ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد محکمہ انصاف سے استعفیٰ دے دیاتھا۔

    آسٹریلیا کو سیمی فائنل سے قبل بڑا دھچکا، اہم کھلاڑی انجرڈ

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل فروخت کیلئے پیش کر دیا

    دورہ نیوزی لینڈ میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا فیصلہ

    پاکستان:صنفی بنیاد پر تشدد، 2024 میں 36 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

  • خلیج میکسکیو کہنے پررپورٹر کو وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا

    خلیج میکسکیو کہنے پررپورٹر کو وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا

    عالمی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے رپورٹر کو ‘خلیج امریکا’ کا لفظ استعمال نہ کرنے پر وائٹ ہاؤس سے باہر نکال دیا گیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ اس کے رپورٹر ’ خلیج میکسیکو’ لفظ کا استعمال کرنا برقرار رکھے ہوئے تھے جس کی سزا کے طورپر انہیں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس ایونٹ میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔اے پی کی ایگزیکٹو ایڈیٹر، جولی پیس نے ایک بیان میں کہا: "ایک عالمی خبر رساں ادارے کے طور پر، ایسوسی ایٹڈ پریس ہر روز دنیا بھر میں اربوں لوگوں کو حقائق پر مبنی، غیر جانبدارانہ صحافت سے آگاہ کرتا ہے۔””آج ہمیں وائٹ ہاؤس کی طرف سے مطلع کیا گیا کہ اگر AP نے اپنے ایڈیٹوریل معیار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا رکھنے کے مطابق نہیں کیا، تو AP کو اوول آفس میں ہونے والی تقریب میں شرکت سے روک دیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ "یہ تشویشناک ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اے پی کو اس کی آزاد صحافت کی سزا دے گی۔ اوول آفس تک ہماری رسائی کو محدود کرنا نہ صرف عوام کی آزاد خبروں تک رسائی میں شدید رکاوٹ ہے بلکہ یہ پہلی ترمیم کی صریحاً خلاف ورزی کرتا ہے۔ فاؤنڈیشن برائے انفرادی حقوق اور اظہار (فائر) کے آرون ٹیر نے اس اقدام کو "آزادی صحافت پر ایک خطرناک حملہ” قرار دیا۔” وائٹ ہاؤس کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن (WHCA) نے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں اس فیصلے پر احتجاج کیا۔ڈبلیو ایچ سی اے کے صدر یوجین ڈینیئلز نے کہا، ’’ وائٹ ہاؤس یہ حکم نہیں دے سکتا کہ خبر رساں ادارے خبریں کس طرح رپورٹ کریں، اور نہ ہی اسے ورکنگ صحافیوں کو سزا دینا چاہیے ایک رپورٹر کو آج خبروں کی کوریج کے لیے کھلے سرکاری پروگرام سے روکنا ناقابل قبول ہے۔

    یادرہے اوول آفس میں صدر اور ایلون مسک کے ساتھ ایک سوال و جواب کا سیشن ہوا تھا جس میں مسک نے اپنے محکمہ DOGE کے بارے میں وضاحت پیش کی ۔ حلف برداری کے فوری بعد صدر ٹرمپ نے خلیج میکسیکو اور شمالی امریکہ کی بلند ترین چوٹی ڈینالی دونوں کا نام تبدیل کرنے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ جس کے مطابق، خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج آف امریکہ رکھ دیا جائے گا، اور ڈینالی کوماؤنٹ میک کینلے کے نام سے پکارا جائے گا – تاہم اے پی نے اپنے ایڈیٹوریل بورڈ کی تجزیئے کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا کہ خلیج امریکا کی جگہ اسے خلیج میکسیکو کے نام سے ہی لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ خلیج میکسیکو کا نام "400 سال سے زیادہ” سے برقرار ہے اور دوسرے ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو نام کی تبدیلی کو تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    تاہم ماؤنٹ میک کینلے کامعاملہ جدا ہے کیونکہ الاسکا مکمل طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا کاحصہ ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کانام بدلنے کا اختیارہے۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ڈبلیو ایچ سی اے اور اے پی کے بیانات پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ میکسیکو کی وزارت خارجہ نے بھی تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی اداروں سے ڈاؤن سائزنگ یعنی افرادی قوت میں کمی لانے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ اوول آفس میں صدارتی حکم نامے پر دستخط کے موقع پر صدر ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک بھی موجود تھے۔

    صدارتی حکم نامے کے مطابق وفاقی سرکاری اداروں سے چار ملازمین کی فراغت پر ایک سے زائد ملازم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایگزیکٹو آرڈر میں امیگریشن، قانون کے نفاذ اور عوامی تحفظ کے اداروں کو اس سے مستثنا قرار دیا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ کے مطابق سرکاری ادارے افرادی قوت کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبے کا آغاز کریں گے اور یہ ادارے اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ اس کے کن حصوں یا پوری ایجنسی کو ختم کیا جا سکتا ہے یا کن اداروں کو ضم کیا جا سکتا ہے کیوں کہ قانون کے مطابق ان کی ضرورت نہیں ہے۔انتظامیہ کی جانب سے وفاقی سرکاری ملازمین کو مالی فوائد کے بدلے میں مستعفی ہونے پر زور دیا جا رہا ہے۔ البتہ ایک جج کی جانب سے اس عمل کو روک دیا گیا ہے اور اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    سرکاری ملازمین کے حق میں ریلی

    ملازمت چھوڑنے کے پروگرام ‘بائے آؤٹ’ کے تحت قبل از وقت ملازمت سے مستعفی ہونے والے سرکاری ملازمین کو ستمبر تک کی ادائیگی کی جائے گی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 65 ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین اس پروگرام کے تحت مستعفی ہونے کی حامی بھر چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں منگل کو سرکاری ملازمین کے حق میں ریلی نکالی گئی۔

  • وائٹ ہاؤس نے تمام وفاقی گرانٹس ، قرضوں کی تقسیم روک دی

    وائٹ ہاؤس نے تمام وفاقی گرانٹس ، قرضوں کی تقسیم روک دی

    امریکہ میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے تمام وفاقی گرانٹس اور قرضوں کی تقسیم روک دی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے بجٹ آفس نے تمام وفاقی گرانٹس اور قرضوں کو روکنے کا حکم دیا ہے۔وائٹ ہاؤس آفس آف مینجمنٹ اور بجٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر میتھیو ویتھ نے میمورنڈم میں کہا کہ وفاقی ایجنسیوں "تمام وفاقی گرانٹس یا تقسیم سے متعلق تمام سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک دے۔اس کے علاوہ نئی گرانٹس کے اجراء کو بھی روک دیا گیا ہے۔میمو میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا ثر سوشل سیکیورٹی یا میڈیکیئر کے فوائد، اور "افراد کو براہ راست فراہم کردہ امداد” پر نہیں ہوگا۔

    وفاقی امداد پر پابندی شام 5 بجے سے نافذ العمل ہو گی۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی فنڈنگ ​​پر کنٹرول کے لیے تازہ ترین اقدام ہے۔میمو کے مطابق، بجٹ آفس "وفاقی ایجنسیوں کو کیس کی بنیاد پر نئے گرانٹس جاری کرنے یا دیگر اقدامات کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔میمو میں ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 10 فروری تک "کسی بھی پروگرام، پروجیکٹ یا سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات او ایم بی ( OMB )کو جمع کرائیں۔

  • ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

    ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نےنو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے یوکرین کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے-

    باغی ٹی وی : "دی گارڈین "کے مطابق انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائٹ ہاؤس جنوری میں صدر جو بائیڈن کے عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے یوکرین کو 6 ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے،آئندہ سال جنوری میں منتخب ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب ہوگی اور اس سے قبل وائٹ ہاؤس انتظامیہ یوکرین کو ممکنہ مضبوط ترین پوزیشن میں لانے کا امید رکھتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پت یوکرین کیلئے 9 بلین کی امداد باقی ہے وائٹ ہاؤس اب ان فنڈز کو جلد از جلد تعینات کرنے کے لیے کام کررہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یوکرین کے پاس روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہتھیار موجود ہوں، چاہے ٹرمپ امداد بھیجنے سے انکار کر دیں امریکا کے یوکرین کو مختص کردہ ہتھیار بھیجنے میں عام طور پر مہینوں لگتے ہیں، اس لیے آنے والے ہفتوں میں اعلان کردہ کسی بھی پیکج کے جنوری 2025 کے اختتام سے پہلے مکمل طور پر پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔

  • امریکا یہود دشمنی اور نفرت آمیز تقریروں کی مذمت جاری رکھے گا، جین بیئر

    امریکا یہود دشمنی اور نفرت آمیز تقریروں کی مذمت جاری رکھے گا، جین بیئر

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرین جین بیئر نے کہا ہے کہ جامعات میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہرے خلل کا باعث بن رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی سے کرین جین بیئر سے مظاہرین پر پولیس کے تشدد سے متعلق سوال پوچھے گئے سوال پر کہا کہ امریکا اپنے شہریوں کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جامعات میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہرے خلل کا باعث بن رہے ہیں، امریکی یونیورسٹیوں میں طلبا کا اسرائیل مخالف احتجاج بہت محدود پیمانے پر تھا اور صرف چند فیصد طلبا نے شرکت کی۔

    پریس سیکرٹری کرین جین بیئر نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اموات کی شرح کے خلاف نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے غصے سے آگاہ ہیں لیکن یہ مظاہرے پُرامن ہونے چاہیے، امریکا یہود دشمنی اور نفرت آمیز تقریروں کی مذمت جاری رکھے گا۔

    دوسری جانب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جامعات میں اسرائیل مخالف مظاہروں اور احتجاج کا کوئی جواز نہیں نیو یارک پولیس نے اچھا کیا کہ کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس پر چھاپے مارے اور گرفتاریاں کیں مجھے تو یہ سب دیکھ کر بہت مزا آیا۔

    اسکونسن ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی جامعات میں اسرائیل مخالف احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں کے ذمہ دار صدر بائیڈن ہیں اس حوالے سے پہلے سے تیاریاں کی جانی چاہیے تھیں تاکہ مظاہرین سے بروقت نمٹ لیا جاتا،نیو یارک کے پولیس افسران نے کمال کر دکھایا کہ کولمییا اور سٹی کالج نیو یارک میں 300 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرکے کیمپس خالی کروایا کسی بھی تعلیمی ادارے میں سیاسی بنیادوں پر مظاہروں اور احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں بائیڈن انتظامیہ کو اس صورتِ حال کا نوٹس لیتے ہوئے جامع حکمتِ عملی کے تحت احتجاج روکنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکا کی جامعات میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہروں میں شریک طلبا پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی، تشدد کا نشانہ بنایا اور 500 سے زائد کو حراست میں لے لیا تھا۔

  • وائٹ ہاؤس میں سالانہ افطار پارٹی، مسلمان شخصیات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    وائٹ ہاؤس میں سالانہ افطار پارٹی، مسلمان شخصیات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    واشنگٹن: غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے باعث مسلمانوں نے احتجاجاً رواں برس امریکی صدر کی جانب سے دی جانے والی افطار پارٹی ارو عید کی تقریبات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی مسلمانوں کی جانب سے صدر جو بائیڈن کی اسرائیل کی سپورٹ کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں منعقد افطار پارٹی اور عید کی تقریبات میں شرکت کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    امریکی اسلامک ریلیشنز کاؤنسل، گورمنٹ افئیرز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر رابرٹ مک کاؤ کا کہنا ہے کہ اگر دعوت نامہ آتا ہے، تو بڑے پیمانے پر سمجھا جائے گا کہ امریکی مسلم کمیونٹی کے لیڈرز اور آرگنائزیشن شرکت سے انکار کرے یہ فیصلہ دراصل ایڈمنسٹیرشن کی جانب سے مسلم کمیونٹی کے مطالبات کو پورا نہ کرنے کے باعث کیا گیا ہے امریکی کمیونٹی امریکی صدرکے غزہ میں جنگ بندی کرانے میں ناکامی پر غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے۔

    چیئر مین پی سی بی نے کھلاڑیوں کو ٹیم میں گروپ بندی سے خبردار کر …

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس میں رمضان المبارک کی مناسبت سے ماضی کے مقابلے میں چھوٹے پیمانے پر افطار ڈنر کی میزبانی کریں گے ایڈمنسٹریشن وائٹ ہاؤس میں رمضان کی تقریبات کم کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم پریس سیکریٹری کیرین جین کہتی ہیں کہ رمضان سے متعلق کسی قسم کی تقریبات کے حوالے سے اعلان نہیں کیا گیا ہے ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ اس وقت متعدد کمیونٹیز کے لیے یہ تکلیف دہ لمحہ ہے، امریکی صدر کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اس رمضان میں فلسطینی عوام کے مصائب بہت سے مسلمانوں کے ذہن کے سامنے ہوں گے۔

    02 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    بین اسٹوکس کا ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار ،ای سی بی نے …

  • امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد

    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد

    واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد کی گئی ہے جس کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کی رہائشگاہ وائٹ ہاؤس سے ان کی غیر موجودگی کےدوران برآمد ہونے والا سفید پاؤڈر کوکین نکلا وائٹ ہاؤس سے برآمد ہونے والے سفید پاؤڈر کے کوکین ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے، یہ کوکین سیکرٹ سروس ایجنٹس کو یسٹ ونگ کے علاقے سے مقامی وقت کے مطابق رات پونے نو بجے ملی ، اس جگہ تک عام افراد کی رسائی بھی ہوتی ہے۔

    کوکین برآمد ہونے کے بعد اس کے استعمال یا چھوڑ کر جانے کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں،واقعے کی اطلاع ملنے کے فوری بعد ایمرجنسی سروسز اہلکار بھی یہ پاؤڈر چیک کرنے پہنچے تھے ابتدائی ٹیسٹ کی رپورٹس سے یہ انکشاف سامنے آیا یہ کہ در حقیقت کوکین تھی جس وقت یہ پاؤڈر ملا اس وقت امریکی صدروائٹ ہاؤس میں موجود نہیں تھے۔

    بلاول بھٹو دورہ جاپان کے بعد نجی دورے پر امریکا پہنچ گئے

    صدرجو بائیڈٖن کی سیکیورٹی کی ذمے دار ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سفید پاؤڈرمزید جانچ کیلئے بھیجا گیا تھا۔ اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں سیکرٹ سروس کے ترجمان انتھونی گگلی لمی نے بی بی سی کو اپنے ایک بیان میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس کو مقامی وقت کے مطابق 8 بج کر 45 منٹ پر اس وقت بند کر دیا گیا جب سیکرٹ سروس کے افسران کو ویسٹ ونگ کے ورک ایریا سے سفید پاؤڈر ملا۔

    اس حوالے سے امریکی صدر جوبائیڈن سے میڈیا سے گفتگو کے دوران وائٹ ہاؤس میں کوکین کی موجودگی کے حوالے سے سوال کیا گیا۔ جوبائیڈن نے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور دیگر سوالات کا جواب دیتے رہے-

    اردوان نے قرآن پاک کی بے حرمتی کو اسلام پر بزدلانہ حملہ قرار دے …

    وائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ سے کوکین برآمد ہونے کے وقت صدر جو بائیڈن اور ان کا بیٹا ہنٹر بائیڈن کیمپ ڈیوڈ میں موجود تھے ویسٹ ونگ وائٹ ہاؤس کا ایک بڑا سطحی حصہ ہے جس میں امریکی صدر کے دفاتر سمیت اوول آفس موجود ہے۔

  • روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ روس حالیہ ہفتوں میں کیف پر حملہ کرنے اور یوکرین کی آبادی کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایرانی یو اے وی کا استعمال کر رہا ہے –

    باغی ٹی وی: روئٹرزکے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے سیکڑوں ایرانی ڈرون ملے ہیں امریکا کو روس کے اندر ایرانی یو اے وی تیار کرنے کے منصوبے پر تشویش ہےاورایسا لگتا ہے کہ روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے۔

    یوکرین روس تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتے،آئی ایم ایف سے رابطے میں ہیں،بلاول

    ترجمان وائٹ ہاؤس نے نئی خفیہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرون ایران میں بنائے گئے تھے، جنہیں بحیرہ کیسپین میں بھیجا گیا اور پھر روسی افواج نے یوکرین کے خلاف استعمال کیا ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ روس ایران کے ساتھ مل کر روس کے اندر سے ایرانی یو اے وی تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس معلومات ہیں کہ روس ایران سےڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ کی تعمیر کےلیے ضروری مواد حاصل کر رہا ہے جو اگلے سال کے اوائل میں مکمل طور پر فعال ہو سکتا ہے ہم روس کے الابوگا اسپیشل اکنامک زون میں اس یو اے وی مینو فیکچرنگ پلانٹ کے مجوزہ مقام کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر رہے ہیں۔

    صندل خٹک نے حریم شاہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی

    امریکہ اس سے قبل روس کو ڈرون سپلائی کرنے پر ایک دفاعی صنعت کار کے ایرانی ایگزیکٹوز پر پابندیاں لگا چکا ہے۔ ایران نے روس کو ڈرون بھیجنے کا اعتراف کیا ہے لیکن کہا ہے کہ وہ ماضی میں فروری میں روس کے حملے سے پہلے بھیجے گئے تھے۔

    دوسری طرف ماسکو نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین میں ایرانی ڈرون استعمال کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایران نے اگست سے اب تک کئی سو ڈرون روس کو منتقل کیے ہیں۔

    حکومت کا پیش کردہ وفاقی بجٹ عوام و تاجر دوست بجٹ ہے، نعیم میر کا …